Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Saturday, November 16, 2019

قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے


‎اقبال نے کہا تھا ؎ 

‎کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق 
‎نے اَبلہ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند 

‎تاریخ کی ستم ظریفی بے رحم ہے۔ آج یہ ملک دو پاٹوں کے درمیان پس رہا ہے۔ ابلہانِ مسجد اور فرزندان تہذیب کے درمیان! 

‎عمران خان کے دھرنے میں تہذیب کے فرزند یعنی مسٹر حضرات دھوکا کھا گئے ہم جیسے لکھاری بھی اس رَو میں بہہ گئے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اندازہ نہ لگا سکے کہ پچاس لاکھ ملازمتیں اور لاکھوں مکان بننے کا امکان ہے نہ آئی ایم ایف کے چنگل سے رہائی پانے کی امید! 

‎مولانا کے دھرنے میں شامل اہل مذہب کو احتراماً ہم ابلہان مسجد نہیں کہتے مگر یہ طبقہ بھی بے نقاب ہو گیا۔ دھرنے کے نتائج پر ان دنوں خوب بحث ہو رہی ہے ۔ کیا کھویا کیا پایا کی فہرست بن رہی ہے۔ مگر ایک طویل المیعاد نقصان مولانا اپنی پوری کلاس کو پہنچا گئے۔ ایسا نقصان جس کا شاید انہیں ادراک بھی نہ ہو مگر ملک کے سمجھدار اور سنجیدہ لوگوں نے اس حقیقت کو اپنی برہنہ آنکھ سے دیکھ لیا کہ دھرنے میں شریک ‘ کیا مدارس کے طلبہ اور کیا مدارس کے اساتذہ ‘ محض اور محض مقلد ہیں! سیاسی حرکیات سے مکمل نابلد! سماجی اور اقتصادی اشاروں 
(indicators)
‎سے مکمل ناواقف! 

‎دھرنے میں شامل ان حضرات کے انٹرویو خوب خوب وائرل ہوئے۔ مثلاً یہ کہ عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے۔ پوچھا گیا آپ کو کیسے معلوم ہوا‘ جواب تھا ہمارے قائد نے ہمیں ایسا بتایا ہے اور ہمیں اس پر اعتماد ہے‘ یا انٹرویو دینے ہی سے منع کر دیا گیا۔ 

‎یہی حضرات کل مسجدوں کے خطیب اور امام بنیں گے۔ بغیر تحقیق کیسے دوسروں کو یہودی ‘ یہودیوں کا ایجنٹ کہنا‘ کافر قرار دینا‘ شروع ہی سے مزاج کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ پھر جب یہ ہزاروں کے مجمع کو جمعہ کے خطبے دیتے ہیں۔ بڑے بڑے جلسوں میں وعظ کرتے ہیں تو یہی روش قائم رہتی ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عوام کو جذبات کے دریا میں بہانا‘ مشتعل کرنا اور تکفیر کے فتوے لگانا کیوں عام ہے! پھر تعجب ہی کیا ہے اگر کسی آتش فشاں مولوی کا وعظ سن کر کوئی جذباتی نوجوان اُٹھے اور جسے بھی یہودی یا یہودیوں کا ایجنٹ سمجھتا ہے یا اپنی دانست میں پیغمبرؐ یا صحابہؓ یا اہل بیت کا گستاخ گردانتا ہے‘ اسے قتل کر دے! کیونکہ معلومات کی اساس یہ ہے کہ ’’ہمارے قائد نے ہمیں ایسا بتایا ہے‘‘ 

‎ایک روایت آج کل مشہور ہو رہی ہے کہ جج نے مصری صدر انور السادات کے قاتل سے پوچھا کہ تونے سادات کو کیوں قتل کیا؟ قاتل نے جواب دیا اس لئے کہ وہ سیکولر تھا۔ جج نے پوچھا سیکولر کیا ہوتا ہے‘ جواب دیا مجھے نہیں معلوم! مصری ادیب نجیب محفوظ پر قاتلانہ حملہ کرنے والے سے پوچھا گیا کہ کیوں حملہ کیا تو جواب تھا کہ اس نے فلاں کتاب لکھی ہے۔ پوچھا گیا کیا تم نے کتاب پڑھی ہے؟جواب تھا نہیں! 

‎یہ ایک مائنڈ سیٹ ہے جو مذہبی طبقات میں عام ہے۔ اسی کا شاخسانہ ہے کہ اکابر کی غلطی نہیں نکالی جا سکتی! آج تک متحارب مذہبی گروہ اپنے اپنے اکابر کی عبارتوں کا دفاع کر رہے ہیں۔ اتنی ہمت نہیں کہ غلطی کو غلطی تسلیم کریں یا اتنا ہی کہہ دیں کہ یہ ان کا نکتہ نظر تھا۔ ضروری نہیں کہ ان کا ہر معتقد اس سے اتفاق کرے! 

‎اسی مائنڈ سیٹ کا شاخسانہ ہے کہ مذہبی جلسوں‘ تقاریب اور مواعظ کے دوران سوال جواب کا تصور عنقا ہے۔ حضرت جو کچھ فرما دیں‘ اس کے بارے میں سوال نہیں کیا جا سکتا! حوالہ نہیں پوچھا جا سکتا! دلیل نہیں مانگی جا سکتی! اگر واعظ نے فرما دیا کہ اتنے سال حور کے قدموں میں چلتے رہیں گے یا اسی فٹ کی حور ہو گی تو یا تو مان لیجیے یا شبہ ہے تو دل ہی میں رکھیے ؎ 

‎دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام 
‎کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے

‎ دھرنے سے ایک اور بات واضح ہو گئی کہ مذہبی حلقے‘ جس فرقے سے بھی ہوں دشنام طرازی کو برا نہیں سمجھتے۔ اس سے پہلے ایک اور مسلک‘ سٹیج سے گالیوں کے دریا بہانے کے لئے مشہور ہو چکا ہے - اب یہ دوسرے مسلک کے لوگ اس حوالے سے بے نقاب ہوئے ہیں۔ سٹیج سے گالیاں نکالی گئیں اور جو علماء کرام وہاں‘ دائیں بائیں‘ موجود تھے وہ لطف اندوز ہوتے رہے۔ ہنستے رہے‘ مزے اٹھاتے رہے! 

‎جن مولانا صاحب نے گالیاںں دیں  ان کی کچھ ایسی ویڈیو کلپس وائرل ہوئی ہیں جن میں وہ کلام پاک سامنے کھول کر تقریر کر رہے ہیں مگر جو باتیں کر رہے ہیں‘ جو مثالیں اور تشبیہات دے رہے ہیں وہ ہمارا اخبار تو کیا‘ کوئی اخبار بھی نقل کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا نہ ہی ایسی تقریر فیملی کے ساتھ بیٹھ کر سنی جا سکتی ہے! 

‎ہمارے ہاں جو جمہوریت رائج ہے اس کی اصلیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک طرف جاگیرداری نظام ہے۔ بڑی بڑی زمینداریاں ہیں۔ مزارع‘ ہاری اور ان کے خاندان اسے ہی ووٹ ڈالتے ہیں جس کے لئے چودھری یا چودھرائن حکم دے۔ ایک عزیزہ جو ملکانی ہیں بتا رہی تھیں کہ عورتیں حویلی میں جمع ہوتی ہیں اور پوچھتی ہیں کہ جی!ٹھپہ کس نشان پر لگانا ہے؟ انہیں بتایا جاتا ہے اور پھر وہ بار بار دہراتی ہیں کہ کہاں لگانا ہے! دوسری طرف ہمارے مدارس کے طلبہ اور اساتذہ کی اکثریت ہے جو اپنے اپنے قائد ‘ اپنے اپنے مسلک‘ اپنے اپنے شیخ‘ اپنے اپنے حضرت صاحب کے حکم پر بلاچون و چرا عمل کرتے ہیں اور ووٹ ڈالتے ہیں۔ 

‎ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مذہبی قائد وہی ہو گا جو اپنے عہد کے تقاضوں سے باخبر ہو گا اور اپنے عصر کے حقائق سے روشناس! مگر ہمارے مذہبی قائدین وکی کو جمائمہ کا کزن قرار دے کر اپنی بھی تضحیک کراتے ہیں اور اپنے جیسے دوسروں کی بھی ع 

‎آپ بھی شرمسار ہو‘ مجھ کو بھی شرمسار 

‎شاید اسی لئے علامہ کو کہنا پڑا ؎ 

‎قوم کیا چیز ہے‘ قوموں کی امامت کیا ہے 
‎اس کو کیا سمجھیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام 

‎اس میں کیا شک ہے کہ دھرنا منظم تھا‘ کوئی ہنگامہ‘ کوئی توڑ پھوڑ ‘ کوئی تخریبی کارروائی نہیں ہوئی۔ مولانا نے اپنی قیادت ثابت کر دی۔ ابتدا کے چند دن حکومت پر گراں گزرے۔ مولانا کا لہجہ اور الٹی میٹم دینے کا انداز‘ بارعب تھا اور خوف زدہ کر دینے والا! پھر انہوں نے دانش مندی سے کام لیتے ہوئے‘ اسے سمیٹ بھی دیا اور عمران خان صاحب کے دھرنے کی طرح بے جا طوالت سے گریز کیا۔ یہ کالم نگار اسے مولانا کی شکست نہیں عقل مندی قرار دے گا کہ بند گلی میں اپنے آپ کو مقید کر کے بھی انہوں نے واپسی کی راہ نکال لی! 

‎یہ ساری باتیں درست ہیں مگر ذہنوں میں مدارس کے طلبہ کے حوالے سے جو نقش بیٹھا ہے وہ ہرگز صحت مند اور قابل رشک نہیں! ہم نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ مولانا مودودی عصر کے بعد کسی جگہ سوال جواب کا سیشن کرتے تھے۔ یہی پریکٹس جاوید غامدی صاحب کی بھی ہے۔ ہمارے قابل احترام علماء کرام کی اکثریت ان دونوں صاحبان کے خیالات اور آرا سے متفق نہیں۔ مگر ان کی خدمت میں ہم‘ مودبانہ‘ گزارش کریں گے کہ صرف وعظ کے بجائے سوال جواب کے سیشن بھی منعقد کریں۔ یہ دروازہ مدارس کے اندر بھی کھولنا چاہیے اور باہر بھی ! تاکہ طلبہ اور معتقدین بھی‘ اپنے اپنے شبہات اور سوالات کے جوابات پا کر مذہبی معاملات میں اطمینان قلب حاصل کر سکیں اور اندھی تقلید کا رویہ کم ہو سکے!

Thursday, November 14, 2019

قائد اعظمؒ کے دفاع میں ایک کتاب


.
’’قائد اعظم کا پاکستان بنانے کا فیصلہ درست تھا۔ قائد اعظم کی بھارت پر اعتبار نہ کرنے والی بات آج درست ثابت ہو رہی ہے۔ قائد اعظم نے ٹھیک کہا تھا بھارت پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا‘‘ یہ الفاظ کسی مسلم لیگی کے ہیں نہ کسی پاکستانی کے! یہ اعتراف مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے مارچ2019ء میں کیا ہے! 
.
وقت جوں جوں اپنی پرتیں اتارے گا‘ قائد اعظم کی صداقت کا نقش تاریخ کے صفحے پر زیادہ سے زیادہ گہرا ہوتا جائے گا۔ جہلم کے پرانے لوگ بتاتے ہیں کہ تقسیم سے پہلے جہلم کے پورے بازار میں صرف ایک مسلمان کی دکان تھی۔ پورا علاقہ ہندو دکانداروں کے تصرف میں تھا۔ خواندگی سکھوں اور ہندوئوں میں زیادہ تھی۔ راولپنڈی میں جو عمارت آج وزارت دفاع کا ہیڈ کوارٹر ہے اسے قیام پاکستان سے پہلے سے’’کلکتہ دفتر‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس لئے کہ یہاں دفاعی حسابات کا ہیڈ آفس تھا اور اکثریت اس میں کلکتہ (بنگال) کے ہندو بابوئوں کی تھی۔ یہ تو ان علاقوں کی حالت تھی جہاں مسلمان اکثریت میں تھے۔ تقسیم سے پہلے معاشی اور معاشرتی میدان میں مسلمان ہندوئوں کے مقابلے میں کہاں کھڑے تھے؟ اس کا اندازہ آج کے نوجوان کو نہیں ہو سکتا۔ اس کی پیدائش ہی پاکستان میں ہوئی ہے۔ اس نے اپنے بڑوں کو ہندو ساہوکاروں سے قرض مانگتے دیکھا نہ ہندو جاگیرداروں کے کھیتوں میں ہل چلاتے۔ اسے کیا معلوم کہ ایک مسلمان اپنے بچے کی ملازمت کے لئے ہندو بابوئوں کے سامنے کیسے اپنی عزت نفس تار تار کرتا تھا۔ ہاں! اگر وہ متحدہ عرب امارات جائے تو دیکھے گا کہ کس طرح ہندو دوسرے ہندو کی سرپرستی کر کے مسلمان خاص طور پر پاکستانی کو ہزیمت سے دوچارکرتا ہے۔ 
.
ایک تھیوری یہ ہے کہ غیر منقسم ہندوستان میں مسلمان ایک بڑی طاقت ہوتے مگر اس تھیوری کے علم بردار یہ بھول جاتے ہیں کہ ون مین ون ووٹ کی قوت متحدہ ہندوستان میں بھی مسلمانوں کو اقلیت ہی کا درجہ دیتی۔ قائد اعظم کی مخالفت آج کے پاکستان میں دوگروہ کر رہے ہیں اور دونوں انتہا پسند ہیں۔ ایک وہ جن کا مذہب کے ساتھ کوئی علاقہ نہیں اور متحدہ ہندوستان کے رومان کے اسیر ہیں۔ ان میں سے اکثر بھارت یاترا کرتے رہتے ہیں۔ یہ اپنی دانست میں بارڈر کی ’’مدہم‘‘ لکیر کو کالعدم گردانتے ہیں۔ دوسرا گروہ اہل مذہب کا ہے جن کے تعلیمی اداروں میں قائد اعظم کا نام لینا جرم ہے۔ تحریک پاکستان کی تاریخ سے اکثر مدارس کے طلبہ کو ہر ممکن حد تک ناواقف رکھا جاتا ہے۔ قائد اعظم کا ذکر کرنا بھی پڑے تو بیگانگی کے بے مہر لمس کے ساتھ جناح صاحب کہہ کر خانہ پری کر دی جاتی ہے۔ 
.
وقت کی غیر جانبدار چکی نے دونوں انتہا پسندوں کے موقف کو پیس کر رکھ دیا۔ پہلے گروہ کو اس وقت شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ جب سلیمہ ہاشمی جیسے روشن خیال پاکستانیوں کو بھی بھارت نے ویزا نہ دیا۔ میاں نواز شریف کو تو توفیق نہ ہوئی مگر آصف علی زرداری نے بلوچوں کو صاف صاف کہا کہ بھارت میں گائے کاٹو گے تو مارے جائو گے۔ جب سے آر ایس ایس کے سیاسی چہرے بی جے پی کو اقتدار ملا ہے‘ ’’بارڈر مخالف‘‘ پاکستانیوں کے لئے مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے کہ گئو ماتا کے نام پر مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش رہ سکیں۔ رہا مذہبی گروہ تو قدرت کی لاٹھی بے آواز ہے۔ زبان سے مانیں نہ مانیں مگر نہاں خانۂ دل میں جانتے ہیں کہ بھارت میں مدارس کی چھتوں پر ترنگا لہرانا لازم ٹھہرا ہے۔
.
14اگست ‘23مارچ اور 25دسمبر کو تعطیل نہ کرنے والے پاکستانی مدارس کو معلوم ہے کہ یوپی کے وزیر اعلیٰ ادتیا ناتھ نے مدارس کو رکھشا بندھن‘ دیوالی‘ دسہرہ اور دوسرے تہواروں کے دن چھٹی کرنے کا حکم دیا ہے اور اسلامی تعطیلات کم کرنے کا کہا ہے۔ اقلیتوں کے وزیر لکشمی نرائن چوہدری کے حکم سے مدارس یوم آزادی منانے اور ثبوت میں تقریب کی ویڈیو بھیجنے کے پابند ہیں۔ جونیر وزیر بلدیو اولکھ نے واضح کیا ہے کہ حکم عدولی کرنے والے مدارس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ یہ ایک طویل کہانی ہے۔ آج پاکستان ایک آزاد ملک ہے جو اقوام متحدہ کارکن ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک میں اس کے سفارت خانے کام کر رہے ہیں۔ 
.
آج پاکستانی نوجوانوں کو مسلح افواج‘ سول سروس‘ بینکاری ‘ آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اقتصادی استحکام کی طرف رواں دواں ہے۔ یہ وہ انعامات ہیں جن کا بھارتی مسلمان سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس کا کریڈٹ اگر قائد اعظم اور ان کی جدوجہد کو نہ دیا جائے تو کسے دیا جائے؟ ہاں کچھ لوگوں کے بارے میں شیخ سعدی فرما گئے ہیں کہ ؎ گر نہ بیند بروزشپرہ چشم چشمۂ آفتاب راچہ گناہ چمگادڑ کی آنکھ دن کو کچھ دیکھنے سے قاصر ہے تو اس میں سورج کا کیا قصور! یہ بہر طور طے ہے کہ وقت قائد اعظم کی صداقت و عظمت جریدۂ عالم پر ثبت کرتا جائیگا۔ 
.
یہ تمہید اس لئے باندھی گئی کہ عماد بزدار کی نئی تالیف ’’ملزم جناح حاضر ہو‘‘ آج کے پاکستان کی ایک بنیادی ضرورت پورا کر رہی ہے۔ عماد نے جذبات سے بلند ہو کر ٹھوس حوالہ جات کی مدد سے ثابت کیا ہے کہ مسلمانوں کو دیوار سے لگایا گیا اور اس حد تک زچ اور مجبور کیا گیا کہ پاکستان کے مطالبے کے سوا اور کوئی چارہ نہ رہا۔ قائد اعظم نے ہندو مسلم اتحاد کے لئے کوشش کی اور اس میں ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ ساتھ رہنا ممکن نہیں۔ عماد یہی منطقی اور زمانی ترتیب بروئے کار لایا ہے۔ اس نے پاکستانی مسلمانوں کا رُخ اصل قائد اعظم کی طرف پھیرا ہے۔ یہ ایک خالص تحقیقی کتاب ہے۔ اس میں نعرے ہیں نہ جذبات ۔حقائق کو مذہبی لبادہ پہنانے کی کوشش کی گئی نہ مذہب سے بزور دور دھکیلنے کی! 
.
اب یہ عماد بزدار جیسے درد دل رکھنے والے دوسرے پاکستانیوں کا کام ہے کہ ان خطوط پر مزید کام کریں۔ پاکستان کی حقانیت کو واضح تر کرنے کے لئے محنت کریں اور ایسی تصانیف کا ایک پورا سلسلہ سامنے لائیں تاکہ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق روشن دن کی طرح سب کے سامنے آ جائے! قائد اعظم کا ذکر جب بھی کیا جائے گا‘ گاندھی کا کردار ایک Corollaryکے طور پر ضرور راستے میں پڑے گا۔ بقول مجید امجد ؎ جو تم ہو برق نشیمن تو میں نشیمن برق الجھ پڑے ہیں ہمارے نصیب کیا کہنا اگر ایک لفظ میں گاندھی کی شخصیت کو بند کرنے کا کہا جائے تو میں انہیں’’مجموعہ اضداد‘‘ کہوں گا۔ پاکستان کو اس کا حصہ دلوانے کے لئے ان کا مرن برت اور پھر قتل یقینا سچ ہے مگر یہ آدھا سچ ہے۔ پورا سچ جاننے کے لئے گاندھی کی زندگی کے تمامCurrentsاور Under Currentsکو جانچنے کی ضرورت ہے ۔گاندھی ایک معمہ تھے۔ ایک Enigmaاور اس معمہ کو قائد اعظم نے سمجھا اور حل کیا۔ عماد نے اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
.
 رہا کتاب کا باب جو ولی خان کی کتاب کے حوالے سے ہے تو میرے ناقص علم کے مطابق یہ ولی خان کے الزامات کا پہلا باقاعدہ اور باضابطہ جواب ہے۔ مختلف حضرات نے اپنی کتابوں میں ان الزامات کا رد پیش کیا ہے۔ کچھ نے محض ذکر کیا ہے مگر بالاستیعاب‘تمام جزئیات کا احاطہ کرتے ہوئے‘ اس معاملے کو عماد ہی نے سلجھانے کی کوشش کی ہے۔ آخری اور ضروری گزارش یہ ہے کہ مصنف نے مکمل غیر جانبداری کے ساتھ ٹھوس حوالہ جات کی مدد سے اپنا نکتہ نظر پیش کیاہے۔ قارئین بھی اس کا مطالعہ کرتے ہوئے ہیجان سے بچیں اور شور مندی کے بجائے ہوش مندی بروئے کار لائیں۔(عماد بزدارکی تصنیف ’’ملزم جناح حاضر ہو‘‘ کے تعارفیہ کے طور پر لکھا گیا)
.
محترم اظہار الحق صاحب کا آج کالم

Tuesday, November 12, 2019

یہ ملک فارغ ہو جائے؟؟؟؟


ہاں!آپ کہہ سکتے ہیں ملک کو فارغ کرو! اس لئے کہ آپ کی اس ملک کے ساتھ جذباتیقلبیآبائیخونی وابستگی نہیں ہے! آپ کے اکابر نے اس ملک کی مخالفت کی تھی! آپ کے والد محترم نے فرمایا تھا کہ وہ یہ ملک بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے۔ آپ نے آج تک تحریک پاکستان کی حمایت میں ایک لفظ نہیں ارشاد فرمایا


ہاں! آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک کو فارغ کرو! مگر جن کے ماں باپ ان کی آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے۔ جن کے بچے بھالوں پر اچھالے گئے۔ جن کی خواتین کی عصمتیں لوٹی گئیں۔ جن کے گھر بارجائیدادیں باغات کھیت وہیں رہ گئےجو بیل گاڑیوں پر اور لاشوں سے اٹی ٹرینوں پر اور پیدلاپنے آپ کو گھسیٹتےپاکستان میں پہنچے وہ پاکستان کو فارغ کیسے کر سکتے ہیں


آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک کو فارغ کرو۔ مگر وہ لیاقت علی خان جو گولی کھا کر شہید ہوا۔ جس کی جیب سے چند سکوں کے سوا کچھ نہ نکلا جس کی بیوہ کے پاس اپنا مکان تک نہ تھا۔ وہ لیاقت علی خان اس ملک کو کیسے فارغ کر سکتا تھا! میرے منہ میں خاک! آپ اس ملک کو فارغ کرنے کا کہہ سکتے ہیں مگر وہ قائد اعظم جس نے کروڑوں کے محلات چھوڑے۔ ایک دھیلا بھی نہ کلیم کیا۔ جس نے بسترمرگ پر لیٹ کر بھی باورچی واپس بھجوا دیے۔ جو بیت المال سے اپنی ذات پر پانی تک خرچ نہ کرتا تھا۔ جس نے بیمار پھیپھڑوں کے ساتھ اس ملک کو ہندو عفریت سے نجات دلوائی۔ وہ قائد اعظماس ملک کو فارغ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا


آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک کو فارغ کرو! آپ اس حقارت کو گواہ بنا کر ایسا کہہ سکتے ہیں جو ایسا کہتے وقت آپ کے چہرے پر صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ اس لئے کہ آپ نے اس ملک سے جس کے بنانے کے گناہ میں آپ کے بزرگ شامل نہ تھے۔ خوب خوب فائدہ اٹھایا۔ امیر المومنین حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے فرمایا تھا جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچوآپ سالہا سالوفاقی وزیر کی مراعات اس ملک سے وصول کرتے رہے۔ اس ملک کے سرکاری محل میں برسوں ٹھاٹھ سے رہتے رہے۔ آپ کا بھائی کہاں سے چلا اور مقابلے کا امتحان دیے بغیر پاس کئے بغیراس ملک میں ڈپٹی کمشنر بن گیا۔ آپ کے سارے بھائی اس ملک سے فائدے پر فائدہ اٹھاتے رہے۔ اس ملک نے آپ کو کیا نہیں دیا۔ آپ کا فرزند بھی اسی ملک کی پارلیمنٹ کا ممبر ہے۔ 

ہاں آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک کو فارغ کرو


آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک کو فارغ کرو اس لئے کہ آپ کی خدمت میں ایک نہیں کئی متبادل حاضر ہیں۔ آپ نے بھارت جا کر کہا تھا کہ ایک گول میز کانفرنس بلا کر پاک بھارت سرحد ختم کی جا سکتی ہے، آپ کو بھارت بھی خوش آمدید کہے گا۔آپ کے دست راست محمود اچکزئی ہیں۔ جن کے تعلقات افغانستان سے سب کو معلوم ہیں اور جس کی تفصیلات انٹرنیٹ پر کئی حوالوں سے موجود ہیں۔ آپ کو افغانستان میں بھی سرآنکھوں پر بٹھایا جائے گا مگر حضور والا! ہماری تو پاکستان کے علاوہ کہیں اور جائے پناہ نہیں! ہمارے لئے تو پاکستان ہی سب کچھ ہے ! ہمارا تو اوڑھنا بھی پاکستان ہے اور بچھونا بھی پاکستان ہے۔ ہم تو اس پاکستان کی ہواچاندنی اور دھوپ کے احسان مند ہیں۔ ہمارے لئے تو اس پاکستان کی مٹی مقدس ہے! ہم تو یہ کہنے سے پہلے کہ ۔ اس ملک کو فارغ کرو۔ ’’زمین میں گڑجانا پسند کریں گے۔ ہمارا تو اس ملک کے علاوہ کوئی سہارا ہے نہ آسرا۔ ہمارے تو جسم کا ایک ایک روأںایک ایک مسامہماری تو انگلیوں کی ایک ایک پورہماری ہڈیاںہماری ہڈیوں کے اندر پڑا ہوا گوداہمارے خون کا ایک ایک ذرہ ہماری رگیںہماری وریدیںاس ملک پر قربان؟ آج ہم اس ملک کی وجہ سے دنیا میں سر اٹھا کر چل سکتے ہیں! ہم کسی مودیکسی جسونت سنگھ کسی ادیتا ناتھ کسی پراگیا ٹھاکر کے محتاج نہیںہمیں گائے فروخت کرنے کی وجہ سے کوئی قتل نہیں کر سکتا! گوشت کھانے کی وجہ سے ہمارا گھر کوئی نہیں جلا سکتا۔ ہمارے چہرے نہ بگڑ جائیں اگر خدانخواستہ ہم کہیں کہ فارغ کرو اس ملک کو؟ 


ہمیں معلوم ہے احسان جعفری کے ساتھ گجرات میں کیا ہوا تھا۔ پہلے اس کے بازو کاٹے گئے۔ پھر ٹانگیںپھر سر! پھر اس کا گھر جلایا گیا۔ پھر وہ سب مسلمان شہید کر دیے گئے جو اس کے گھر میں پناہ لئے ہوئے تھے۔ احسان جعفریآسمانوں سے ہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ پاکستان تمہارے لئے جنت ہے!تم خوش بخت ہو! ہم نہیں کہہ سکتے کہ پاکستان کو فارغ کرو!ہمیں معلوم ہے فاروق عبداللہ جیسے کٹر بھارتی نے تسلیم کر لیا ہے کہ قائد اعظم نے درست کہا تھا۔ 


آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک کو فارغ کرو۔ اس لئے کہ آپ نے آج تک نہیں تسلیم کیا کہ قائد اعظم نے ہندو ذہنیت کے بارے میں جو کچھ کہا تھا۔ آج ہر نیا دن ہر گزرتا لمحہ اسے زیادہ بڑا سچ ثابت کر رہاہے۔ 


آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس ملک کو فارغ کرو۔ اس لئے کہ آپ کی جمعیت علماء ہند کے (جس میں آپ کے اکابر شامل تھے اور جس نے کانگرس کی حمایت کی تھی) سربراہ مولانا محمود مدنی نے یہ کہتے وقت کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔یہ بھی فخر سے بتایا ہے کہ ان کی جماعت (جمعیت علماء ہند )نے ماضی میں بھی بھارت ہی کا ساتھ دیا تھا!! 


ہاں!آپ کہہ سکتے ہیں کہ فارغ کرو اس ملک کو ۔ اس لئے کہ اس عورت نے بھی کہہ دیا تھا کہ بچے کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دو جو عدالت میں گئی تھی یہ دعویٰ لے کر بچہ اس کا ہے۔دوسری عورت مدعی تھی کہ بچہ ان کا ہے۔ جج سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اصل ماں کون ہے اور جعلی ماں کون!پھر جج نے فیصلہ کیا کہ بچے کو کاٹ کر دونوں کو آدھا آدھا دے دو۔ اس پر جعلی ماں فوراً مان گئی اور اصل ماں تڑپ اٹھی کہ سارا بچہ جھوٹی دعویدار کو دے دو مگر میرے لعل کو دو ٹکڑے نہ کرو! ہاں! آپ بھی اس ملک کے ایسے ہی دعویدار ہیں! آپ ایک نشست سے کیا محروم ہوئے کہ ملک ہی کو فارغ کرنا چاہتے ہیں! خدا کے لئے ایسا نہ کہیے! آپ نے جو لینا ہے لے لیجیے۔ نشستیںوزارتیںکمیٹیوں کی صدارتیںسرکاری محلاتاپوزیشن لیڈریڈپٹی کمشنری سب کچھ لے لیجیے مگر خدا کے لئے اس ملک کی سلامتی کے درپے نہ ہوں! اس ملک کو فارغ کرنے کی بات نہ کیجیے۔ 


تُف ہے ریٹنگ کے بھوکے ان اینکروں پر اور تجزیہ کاروں پر جو یہ فقرہ ہنس ہنس کر دہرا رہے تھے۔ دھرتی کے یہ ناخلف بیٹے جنہیں یہ ماں دودھ نہیں بخشے گی۔ خاک چاٹیں گے۔ دھول کھائیں گے۔ خائب اور خاسر ہوں گے! اس ملک کو پہلے جس نے بھی نقصان پہنچایاتختہ دار پر لٹکایا اپنے ہی حواریوں کے ہاتھوں قتل ہوا۔ آئندہ بھی اس ملک کی حفاظت کرنے والا اس کے دشمنوں کو غارت کرے گا! یہ ملک فارغ نہیں ہو گا ہاں جو چاہتے ہیں کہ یہ فارغ ہو جائے۔ بہت جلد اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ ٭٭٭٭ 



Sunday, November 10, 2019

…صلی اللہ علیہ وسلم


 

ابھی آپ نے اس تحریر کا پہلا فقرہ ہی پڑھا ہے۔ ان چند لمحوں میں کتنے افراد نے صلی اللہ علیہ وسلّم کہا ہو گا؟ لاکھوں کروڑوں نے! 

کاس وقت دنیا کے مختلف خطوں میں ہزاروں لاکھوں اذانیں ہو رہی ہوں گی! کہیں صبح کی‘ کہیں ظہر کی کہیں عصر کی!کہیں غروب آفتاب کے بعد مغرب کی اذان ہو رہی ہو گی۔ کہیں عشا کی نماز کھڑی ہوئی ہو گی اور تکبیر کہہ رہے ہوں گے! یہ سب اشہدان محمد الرسول اللہ کہہ رہے ہیں! کیا تاریخ انسانی میں ایسی کوئی مثال اور بھی ہے؟ کیا کسی اور ہستی پر چوبیس گھنٹوں میں ہر لمحہ ‘ ہر گھڑی‘ ہر ثانیہ‘ درود بھیجا جاتا ہے؟ کیا کسی اور انسان‘ جن‘ یا فرشتے کا ذکر اس طرح مسلسل کیا جاتا ہے؟ 

اب آنکھیں بند کر کے ایک اور تصور کیجیے۔ اس وقت‘ عین اس لمحے‘ جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہیں‘ کتنے لوگ مسجد نبوی میں حاضری دے رہے ہوں گے!کتنے روضہ اقدس کے سامنے‘ جالیوں کے آگے‘ دست بستہ‘ سر جھکائے کھڑے ہیں! کیا کوئی لمحہ ایسا ہے جس میں وہاں زائرین نہ کھڑے ہوں! سوچیے کہ اس وقت مسجد نبوی کے ہر دروازے سے کتنے لوگ‘ کتنے مرد‘ کتنی عورتیں‘ اندر داخل ہو رہی ہیں! ہر ملک سے ہر قوم سے‘ ہر رنگ کے‘ ہر زبان بولنے والے! 

پھر یہ تصور کیجیے کہ اس وقت کتنے قافلے شہرِ نبیؐ کی طرف رواں ہوں گے؟ انڈونیشیا سے‘ فجی سے‘ جاپان سے‘ امریکہ سے‘ افریقہ سے‘ یورپ کے ملکوں سے‘ جنوبی ایشیا سے‘ وسط ایشیا سے‘ خود مشرق وسطیٰ سے! کتنی پروازیں مدینتہ النبی کی طرف جا رہی ہوں گی! کوئی شخص جہاز کی طرف روانہ ہے۔ کوئی سوار ہو رہا ہے! کوئی بیٹھا ہوا ہے اور فضا میں محو سفر ہے! کتنے لاکھ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف بسوں کاروں ویگنوں ٹرینوں میں جا رہے ہیں! کتنے اس وقت اس شہر کے مقدس کوچوں میں محوِ خرام ہیں! یہ بھی سوچیے کہ کتنے قافلے وہاں سے ہو کر‘ واپس اپنے اپنے وطن جا رہے ہیں اور ہر دل میں ایک ہی خواہش ہے کہ پھر کب آنا ہو گا! حافظ ظہور نے کہا تھا ؎ 

طیبہ جائوںاور آئوں‘ پھر جائوں 
عمر کٹ جائے آنے جانے میں 

کیا ایسا کوئی شہر اس روئے زمین پر اور بھی ہے؟ 

اب آنکھیں بند کر کے تصور کیجیے کہ چودہ صدیوں میں کتنے کروڑ‘ کتنے ارب‘ کتنے کھرب ہا کھرب لوگ اس شہر کی طرف عازم سفر ہوئے! گھوڑوں پر‘ اونٹوں پر‘ بحری جہازوں میں! پیدل! کیا یہ سفر کبھی رکا؟ نہیں! پیغمبر اقدسؐ کے وصال سے لے کر آج تک یہ سرگرمی رات دن جاری ہے! جب تک قیامت نہیں آتی‘ جب تک دنیا قائم ہے،خلق خدا شہرِ نبیؐ کی سمت سفر کرتی رہے گی! الگ الگ یا قافلوں کی صورت میں! کئی کئی دن وہاں رکنے کے لئے یا حاضری لگا کر واپس آنے کے لئے! یہ نام فضائوں میں‘ زمین کے ہر گوشے میں! ہر ملک میں‘ ہر وقت گونجتا رہے گا! کہیں لوگ سونے لگے ہیں اور سونے سے پہلے محمد الرسول اللہ کہہ رہے ہیں۔ کہیں سو کر اٹھے ہیں‘ اٹھ کر کلمہ پڑھتے ہیں اور رسالت پر ایمان تازہ کر رہے ہیں! کہیں کوئی پڑھ رہا ہے‘ کہیں کوئی پڑھا رہا ہے! تلاوت میں اذان میں‘ تکبیر میں‘ نماز میں! 

کوئی بچہ پیدا ہوا ہے تو محمدؐ کا نام نامی اس کے کان میں ڈالا جا رہا ہے۔ کہیں کوئی دنیا سے رخصت ہو رہا ہے تو رسالت کا اقرار کر رہا ہے۔ اس کے پاس جتنے افراد موجود ہیں رسالت کی گواہی دے رہے ہیں! اس وقت اس لمحے جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہیں۔ کتنے بچے اپنی اپنی ماں کے بطن سے رخصت ہو کر دنیا میں وارد ہوئے ہیں۔ ان میںسے کروڑوں کا نام محمد پر رکھا جا رہا ہے کوئی مصطفی ہے‘ کوئی ان میں مجتبیٰ ہے۔ کوئی احمد ہے۔ پیدا ہونے والی لڑکی ہے تو اس کا نام اس مقدس ہستی کی والدہ ماجدہ پر یا آپ کی دختر نیک اختر کے نام پر یا آپ کی بیویوں کے نام پر رکھا جا رہا ہے! کیا اور کوئی ہستی ایسی ہے جس کے نام پر اتنے لوگوں کے نام ہیں؟ ماضی میں تھے؟ اور مستقبل میں ہوں گے؟ 

پیغمبروں کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا معجزوں کا زمانہ چلا گیا۔ مگر غور کیجیے‘ ایک معجزہ آپ کی ذات گرامی کے حوالے سے دن رات ہمارے سامنے برپا ہو رہا ہے اور ہم اس پر غور نہیں کرتے! آپ پر جو کتاب اتری کتنے افراد کے سینوںمیں محفوظ ہے؟ کیا دنیا میں کوئی کتاب ایسی اور ہے جسے لاکھوں کروڑوں افراد حفظ کرتے ہوں؟ پھر ہر سال رمضان میں اسے دہراتے ہوں؟ اور یہ دہرانا کیسا دہرانا ہے؟ ایک ایک لفظ‘ ایک ایک حرکت ‘ ایک ایک زبر‘ ایک ایک زیر‘ ایک ایک پیش کی صحت یقینی بنائی جاتی ہے۔سننے والے‘ ساکت گھنٹوں کھڑے ہو کر سنتے ہیں۔ 

پھر اس معجزے کا ایک اور کمال دیکھیے‘ ایک شخص نیوزی لینڈ کی مسجد میں جو سورہ‘جو آیت مبارکہ تلاوت کر رہا ہے‘ ایک اور شخص اس سے ہزاروں میل دور‘ سوڈان میں یا مراکش میں یا لندن میں‘ یا بحر اوقیانوس کے پار‘ امریکہ کے کسی دور افتادہ شہر میں‘ وہی سورہ ‘ وہی آیت پڑھتا ہے اور کہیں بھی اس میں ذرہ بھر تبدیلی نہیں رونما ہوتی! ایک شوشے کی تبدیلی بھی ممکن نہیں! کیا کسی اور کتاب کے ساتھ ایسا ہوا ہے؟ یا ہو سکتا ہے؟ 

پوری انسانی تاریخ میں آپؐ کے علاوہ بھی کوئی ہوا ہے یا ہے یا ہو گا جس کے ماننے والے یہ دعویٰ کریں کہ وہ انہیں اپنے ماں باپ سے زیادہ عزیز ہے! ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کو آپ پر‘ آپ کی حرمت پر قربان کرنے کو تیار ہے۔ اولاد کا تو ذکر ہی کیا! کیا اس سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے؟ پونے دو ارب‘ یا اس سے ذرا زیادہ مسلمان اس وقت دنیا میں سانس لے رہے ہیں! آج اگر حرمتِ رسول ؐ کو کوئی چیلنج درپیش ہو تو ان میں سے ہر مسلمان آپ کے نام پر کٹ مرنے کو تیار ہے! امیر ہے یا غریب ‘ گورا ہے یا کالا یا گندمی‘ قلاش ہے یا ارب پتی‘ افریقی ہے یا ایشیائی یا کسی اور خطے کا‘ گستاخی رسول کو برداشت کرنا اس کے لئے ناممکن ہے! گنہگار سے گنہگار مسلمان‘ بے عمل سے بے عمل مسلمان‘ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو‘ شان اقدس پر گرد کا ایک ذرہ برداشت نہیں کر سکتا! کیا کسی اور ہستی کو آج تک یہ امتیاز نصیب ہوا ہے! 

جب تک یہ دنیا قائم ہے‘ یہ نام سرافرز و سربلند رہے گا! یہ ہونٹوں سے پکارا جاتا رہے گا۔ دلوں میں زندہ رہے گا! پھر کل جب حشر کی چلچلاتی کڑکتی دھوپ‘ انسانوں پرکوڑوں کی طرح برسے گی‘ صرف آپ کے نام کا سایہ پناہ گاہ ہو گا! وہ سب جو آج تک پیدا ہوئے اور وہ جو قیامت تک پیدا ہوں گے‘ اس نام پر درود و سلام پڑھتے رہیں گے۔

Saturday, November 09, 2019

پھر اس کے بعد جو کرتے ہیں وہ قوال کرتے ہیں



وہ آفاقی اور لازوال پیغام کے ذریعے ملت کو کہکشائوں سے بلند اوجِ ثریا کے مقامِ آشنائی کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم امت کی سربلندی اور آبائو اجداد کے تفاخر کی صورت بیان کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی نوجوان جماعت نئے نظام کی تعمیر و ترقی کے لئے نئی روح پھونک دے۔‘‘ 

یہ ’’آسان‘‘ اور ’’مختصر‘‘جملہ اقبال کے بارے میں اس کتاب سے لیا گیا ہے جو ہمارے ہاں مہنگے انگریزی سکولوں میں رائج ہے اور جو’’کیمبرج بورڈ 2021ء کے لئے جدید سلیبس کے عین مطابق ہے‘‘ کیمبرج بورڈ کی (اگر کوئی ہے تو) دلچسپی اگر اردو سلیبس میں سنجیدگی کے ساتھ ہوتی تو وہ اردو کے ماہر اور تجربہ کار اساتذہ کی کمیٹی بناتا اور ان کی رہنمائی میں ایک ایسی کتاب مرتب کراتا جو ان تمام سکولوں کے لئے لازمی ہوتی جو کیمبرج سسٹم کے ساتھ ملحق ہیں۔ جو کتاب ہمیں دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے اس میں اقبال کی ایک مشکل نظم شامل کی گئی ہے جس میں فارسی کا بھی شعر ہے جو یوں لکھا گیا ہے ؎ 

چہ باید مرد را طبع بلندے مشرب نابے 
دل گرمے نگاہ پاک بینے جان بیتابے 

جو اس طرح لکھا جانا چاہیے تھا ؎ 

چہ باید مرد راہ طبع بلندی‘ مشرب نابی 
دل گرمی‘ نگاہ پاک بینی‘ جان بیتابی 

اقبال کا تعارف جو اس کتاب میں موجود ہے اس میں ان کے حالات زندگی کی طرف ہلکا سا اشارہ بھی نہیں! ان کی تصانیف کے نام بھی مفقود ہیں۔ 

یہ ایک مثال ہے اس سلوک کی جو اقبال کے ساتھ اس ملک میں روا رکھا جا رہا ہے۔ اقبال کے طفیل اداروں کے ادارے قائم ہیں۔ فنڈنگ ہو رہی ہے۔ خاندانوں کے خاندان پل رہے ہیں کچھ نے ان اداروں کی نظامت سنبھالی تو سب سے زیادہ تشہیر اپنی اور اپنی تصانیف کی کی۔ کچھ نے تو عملی صوفی ہونے کا  کا بھی بزبان خود اعلان کیا۔ مگر اقبال کا کلام کسی منظم سنجیدہ کوشش سے محروم ہی رہا۔ اقبال ڈے منانے کا فیشن بھی خوب ہے۔ اس دن تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔ نشستیں ہوتی ہیں۔ جلسے کئے جاتے ہیں۔ اقبال کے تصور خودی پر لمبے‘ خواب آور مقالے پڑھے جاتے 
ہیں، اقبال کے شاہین پر تقریریں ہوتی ہیں۔ مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اقبال کو پڑھا کیسے جائے!ضمیر جعفری نے کہا تھا ؎ 

بپا ہم سال میں اک مجلس اقبال کرتے ہیں 
پھر اس کے بعد جو کرتے ہیں وہ قوال کرتے ہیں 

اور یہ بھی کہ ؎ 

حضرت اقبال کا شاہیں تو کب کا اڑ چکا 
اب کوئی اپنا مقامی جانور پیدا کرو 

ستر برس ہو گئے اس ملک کو وجود میں آئے ہوئے۔ ابھی تک علامہ اقبال کی مستند قابل اعتماد‘ سوانح حیات نہیں لکھی یا لکھوائی گئی۔ یہی سلوک قائد اعظم کے ساتھ کیا گیا۔ سرحد پار بھارت میں گاندھی اور نہرو تو خیر پہلی صف کے رہنما تھے۔ پٹیل تک کی سوانح حیات موجود ہے۔ کون سا طبقہ ہے جس نے اقبال سے فائدہ نہیں اٹھایا؟ گویا ؎ 

مرے لاشے کے ٹکڑے دفن کرنا سو مزاروں میں
 بنے گا کوئی تو تیغِ ستم کی یادگاروں میں 

جو پیر پرستی کے مخالف تھے ‘ انہیں یہ قطعہ راس آیا ؎ 

گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن 
ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی

 جو بزرگوں کی تقدیس و کرامات کے قائل ہیں انہوں نے یہ شعر ڈھونڈ نکالا ؎ 

تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند 
اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی 

مُلا کے مخالفن کی تو چاندی ہی ہو گئی ع 

دینِ مُلا فی سبیل اللہ فساد 

اور ؎ 

میں جانتا ہوں انجام اس کا /جس معرکے میں ملا ہوں غازی 

اور یہ بھی کہ ؎ 

مُلا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت 
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد

 مد مقابل جو کھڑے تھے انہوں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا ؎ 

افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج 
ملا کو اس کے کوہ د امن سے نکال دو 

اشتراکیت کے ہم نوائوں کو اقبال کے ہاں سے گویا خزانہ مل گیا ؎ 

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں 
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات 

اور یہ بھی کہ ؎ 

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی 
اس کھیت کے ہر گوشہ گندم کو جلا دو 

کمیونزم کے مخالفین کو بھی کچھ نہ کچھ مل ہی گیا ؎ 

تری کتابوں میں اے حکیم معاش رکھا ہی کیا ہے آخر 
خطوط خمدار کی نمائش ‘ مریز و کجدار کی نمائش 

مگر اقبال نے ان سب سے دامن بچایا اور اپنے آپ کو الگ مقام دیا۔ کبھی اعلان کیا ؎ 

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق/
نے ابلہِ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند/

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش/
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند 

کبھی بتایا کہ ؎ 

نہ میں اعجمی نہ ہندی نہ عراقی و حجازی/
کہ خودی سے میں نے سیکھی دو جہاں سے بے نیازی 

کبھی سیدِ کونین سے انصاف کی بھیک مانگتے ہیں ؎

 من ای میرِ امم! داد از تو خواہم/
مرا یاران غزل خوانی شمر دند

 کہ اے امتوں کے سردار! آپ سے انصاف چاہتا ہوں! یاروں نے مجھے (محض) غزل گو سمجھا۔ کبھی سمجھانے کی کوشش کی کہ ؎ 

نہ بینی خیر از آن مردِ فرودست/
کہ برمن تہمتِ شعرو و سخن بست/

بکوئی دلبران کاری ندارم/
دل زاری غم یاری ندارم

 کہ مجھ پر شعرو سخن کی تہمت باندھنے والے، کم رتبہ شخص سے اچھی امید نہ رکھو۔ معشوقوں کے کوچے میں میرا کیا کام!غم یار ہے میرے پاس نہ دلِ زار! 

کلام اقبال ایک سمندر ہے اور ہم اس کے کنارے پر بیٹھے ہیں۔ اقبال کی فارسی کی تصانیف کو تو چھوڑ ہی دیجیے۔ جاوید نامہ۔ پیام مشرق۔زبور عجم ارمغان حجاز اسرار و رموز‘ پس چہ باید کرد‘ مسافر تو یوں بھی ہماری دسترس سے باہر ہیں۔المیہ یہ ہے کہ جو تصانیف علامہ کی اردو میں ہیں ان سے بھی ہم محروم ہیں۔ ذرا نوجوان نسل کے کسی نمائندے سے تصانیف کے عنوانات ہی پوچھ کر دیکھ لیجیے۔ اکثریت خلا میں جھانکنے لگے گی یا منہ کھول کر آپ کی شکل دیکھے گی۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو تعطیلات میں بچوں کو کلام اقبال پڑھاتے ہیں؟ سنا ہے تاجکستان میں کلام اقبال ٹی وی پر سبقاً سبقاً پڑھایا جاتا ہے۔ ہم تو آج تک کلیات اقبال اس معیار کی شائع تک نہیں کر سکے جس معیار کی ایرانیوں نے شائع کی ہے! کبھی کبھی انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اقبال جیسے بطلِ جلیل کے، اقبال جیسے نابغہ کے ہم مستحق بھی تھے یا نہیں؟
 

powered by worldwanders.com