Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Tuesday, March 26, 2019

سوہنی دھرتی اللہ رکھے


 

‎وہ بچپن تھا جب صحن ایک تھا۔ بہت بڑا صحن، سب اس میں مل کر کھیلتے۔ گرمیوں میں ڈیوڑھی ٹھنڈی لگتی اور جاڑوں میں اندر کا نیم تاریک کمرہ گرم ہوتا۔ بڑے اس میں گھنٹوں بیٹھتے۔ بچے اندر جاتے تو انہیں دکھائی کچھ نہ دیتا۔ فوراً باہر نکل آتے۔ 

‎پھر صحن تقسیم ہوگیا۔ درمیان میں دیوار اٹھا دی گئی۔ اب یہ دو گھر الگ الگ ہو گئے مگر جن کا بچپن بڑے صحن میں گزرا تھا، وہ چشم تصور سے اسی معدوم صحن کو دیکھتے۔ انہی برآمدوں، اسی ڈیڑھی اور اس نیم تاریک بڑے کمرے کو یاد کرتے رہتے۔

‎متحدہ پاکستان کی دو ثقافتی علامتیں تھیں۔ شبنم اور شہناز بیگم جو مشرقی اور مغربی پاکستان کا مشترکہ سرمایہ تھیں۔ ان میں سے شہناز بیگم د نیا سے کوچ کر گئی ہیں۔ تین دن پہلے دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔ مغربی پاکستان سے شہرت پانے والی شہناز بیگم ڈھاکہ میں دفن ہوئیں جس کی شہرت بحر بے کراں تھی، اسے ایک جوئے کم آب تک محدود کر دیا گیا۔ عروج تھا، پاکستان کی نامور گلوکارہ تھیں۔ دفن ہوئیں توبنگلہ دیش کی فنکارہ تھیں۔ پہلے صحن ایک تھا۔ بہت بڑا صحن، پھر دیوار اٹھی، وہ دیوار کے اس طرف رہ گئیں، ہم اس طرف، مگر ہماری نسل کے لوگ کبھی نہ مان سکے کہ وہ صرف بنگلہ دیش کی تھیں، ہم تو آنکھیں بند کرتے، پرانے صحن کا سوچتے ہیں۔ اسی میں چلتے پھرتے ہیں، اسی میں کھیلتے ہیں۔ 

‎ان کی وفات پر جب بنگلہ دیشی میڈیا نے ان کا سوانحی خاکہ چھاپا یا نشر کیا ہو گا تو کیا ان دو معرکہ آرا گیتوں کا ذکر بھی اس میں مثال ہو گا جنہوں نے شہناز بیگم کو شہرت کی چوٹی پر پہنچایا تھا؟ سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد … اور …جیوے جیوے پاکستان، امکان اس کا بہت کم ہے۔ غالباً پاکستان کا حوالہ ہی غائب ہو گیا ہوگا۔ حسینہ واجد کے بنگلہ دیش کو ہر اس اثاثے سے نفرت ہے جو مشترکہ ہے۔ حیرت ہے کہ شہناز بیگم کے خلاف حسینہ واجد کی حکومت نے مقدمہ کیوں نہ دائر کیا؟ شاید کسی نے توجہ نہ دلائی وگرنہ پاکستان کے گیت گانے پر فرد جرم عاید کی جاسکتی تھی۔ 

‎شبنم ابھی حیات ہیں۔ تقریباً ایک برس پہلے پاکستان آئیں، لاہور میں یادوں کا ایک سمندر تھا جس میں وہ ڈوب کر 
‎روئیں۔ پرانے ساتھیوں سے ملیں، پاکستانی ٹی وی چینلوں کے پروگراموں میں شرکت کی، جوان کی فلمیں دیکھ کر جوان اور پھر بوڑھے ہوئے تھے، ان کی آنکھیں شبنم کو ٹی وی سکرین پر دیکھ کر ٹھنڈی ہوئیں۔ حیرت ہے کہ حسینہ واجد نے ابھی تک شبنم کو اس جرم میں قید نہیں کیا کہ متحدہ پاکستان میں وہ اردو کی لاتعداد فلموں میں ہیروئن کیوں بنیں؟ 

‎شہناز بیگم نے ’’سوہنی دھرتی اللہ رکھے‘‘ اور ’’جیوے جیوے پاکستان گائے‘‘ تو ان کی آواز ایک زرفشاں پرچم کی طرح افق تا افق لہرانے لگی۔ پھر یہ پرچم وقت پر چھا گیا۔ وقت اس آواز کے ساتھ ان گیتوں کے ہم آہنگ ہوا۔ یہ گیت امر ہیں۔ حسینہ واجد کا اقتدار عارضی ہے مگر یہ گیت ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ شہناز بیگم کی آواز ہمیشہ پاکستان کے ساتھ ہوگی۔ پاکستان کی ہر نئی نسل یہ گیت گائے گی۔ پاکستان ہمیشہ جیوے گا، سوہنی دھرتی کو اللہ قدم قدم آباد رکھے گا۔ شہناز بیگم ہماری ثقافتی تاریخ کا مستقل باب رہیں گی۔ ایک صفحے کے چند حروف تو کھرچے جا سکتے ہیں مگر پورا صفحہ، پورا باب کیسے ختم کیا جا سکتا ہے 

‎مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہمارا جغرافیائی اور سیاسی نقصان تو ہے ہی، جو ثقافتی خسارہ ہوا ہے، اس کا حساب کتاب یہاں کون کرتا؟ مشرقی پاکستان ایسا لینڈ سکیپ تھا جس کا ذکر اب کتابوں ہی میں پڑھا جایا کرے گا۔ کبھی یہ لینڈ سکیپ ہمارا اپنا تھا، ایک مربع انچ بھی ہریالی سے محروم نہ تھا۔ میلوں تک ساتھ چلتے بانس کے گھنے جنگل، ناریل، آم، املی، لیچی، کھجور، کیلے اور کٹھل کے درخت، ان درختوں کے بیچ میں تالاب، تالابوں کے اندر جاتی اینٹوں کی سیڑھیاں، تالاب کے گرد، درختوں پر بیٹھے ہوئے پرندے، صبح صبح اشنان کر کے واپس آتے دھوتی پوش ہندو۔ حد نگاہ تک دھان کے کھیت، انناس کے پودے، سلہٹ کے قرب و جوار میں چائے کے باغات ،حضرت شاہ جلال ؒ یمنی کا شہرہ آفاق مزار، رانگامتی اور کپتائی کی جھیلیں، کاکس بازار میں آباد خوبصورت قبائلی، بوری گنگا اور میگھنا کے بپھرتے دریا، ان کے سینوں پر چلتی فیریاں، کشتیوں میں پیدا ہونے والے، انہی میں زندگیاں گزار دینے والے مانجھی، فردوسی بیگم کے لمبی تان اڑاتے لوک گیت۔ اس لینڈ سکیپ کا کوئی ایک پہلو ہو تو ماتم کیا جائے، یہاں تو پوری دنیا تھی، ساری ہی چلی گئی ؎ 

‎عصا در دست ہوں اس دن سے بینائی نہیں ہے 

‎ستارہ ہاتھ میں آیا تھا، میں نے کھو دیا تھا 

‎شہناز بیگم اس مشترکہ لینڈ سکیپ کا حصہ تھیں اور یوں ہمارے قومی اثاثے کا جزو۔ ہم انہیں یاد رکھیں گے، اس لیے کہ تاریخ بدلی جا سکتی ہے نہ ختم کی جا سکتی ہے۔ 

‎پس تحریر۔ کل کے روزنامہ 92 نیوز میں جناب سجاد میر نے سود کے ضمن میں برمحل سوالات اٹھائے ہیں یہ کہہ کر کہ ’’معاملہ سود سے انکار کا نہیں، اس کی تعریف اور اس کے تعین کا ہے۔‘‘ انہوں نے دریا کو کوزے میں بند کیا ہے، یہ کالم نگار ان کی توجہ اور علماء معاشیات کی توجہ محمد اکرم خان کی معرکہ آراء تصنیف What is wrong with Islamic Economics کی طرف مبذول کرنا چاہتا ہے۔ دس سال کی تحقیق کے بعد لکھی گئی اس کتاب نے دنیا بھر کے ثقہ ماہرین معاشیات کو چونکا دیا ہے۔ ایڈورڈ ایلگر پبلشنگ برطانیہ سے شائع ہونے والی اس کتاب کے تراجم ترکی اور انڈونیشیا کی بھاشا میں ہو چکے ہیں عربی ترجمہ اس وقت مصر اور لبنان کی بک شاپس میں آ چکا ہے۔ یہ کتاب تحقیق کے بین الاقوامی مسلمہ اصولوں کے مطابق لکھی گئی ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جس ملک میں مدرسہ سے فارغ التحصیل ہونے والا طالب علم بینک میں ’’مفتی‘‘ کے عہدے پر لگ جاتا ہے اور اسے اکنامکس کی عالمی تحقیق کے ابجد سے بھی واقفیت نہیں ہوتی، اس ملک میں اکرم خان کے نام سے کون آشنا ہوگا، کچھ عرصہ پہلے انڈونیشیا میں اور 2018ء میں ترکی میں ’’اسلامی اقتصادیات‘‘ کے موضوع پر جو بین الاقوامی کانفرنسیں ہوئیں اور جن میں عالم اسلام اور عالم مغرب کے نمایاں معیشت دان شریک ہوئے، ان دونوں کانفرنسوں میں کلیدی خطاب جناب اکرم خان کا تھا۔ سجاد میر صاحب نے درست کہا ہے کہ یہ مسائل اخباری کالموں میں جذبات برانگیختہ کر کے حل نہیں کئے جاسکتے، ان کے لیے خالص علمی اور تحقیقی رویہ بروئے کار لانا پڑے گا۔

Sunday, March 24, 2019

زمیں سے معشوق لیں گے چاند آسماں سے لیں گے

 








سچ کہا تھا منیر نیازی نے کہ شاعر ہی تصورات پیش کرتے ہیں‘ جنہیں دوسرے عملی شکلوں میں ڈھالتے ہیں۔ یہاں تک کہ چاند پر پہنچنے کا آئیڈیا بھی سائنسدانوں کو شاعروں ہی نے دیا۔ 


چالیس سال بنی اسرائیل صحرا میں بھٹکتے پھرے۔ کبھی نخلستانوں کی تلاش میں‘ کبھی سرابوں کے پیچھے‘ بہتر برس ہو گئے ہیں پاکستانی قوم کو بھٹکتے ہوئے‘ کبھی سیٹو کے قافلے کا حصہ بنے‘ کبھی سینٹو کی گرد راہ‘ ایوب خان کے عہد میں آر سی ڈی کا ڈول ڈالا گیا جو کسی نہ کسی شکل میں آج بھی موجود ہے مگر کوئی تیر نہ مارا گیا۔ کوئی پہاڑ آر سی ڈی (موجودہ 

ECO)


 نے نہ کھودا ؎ 


سر ہو سکی نہ ان کی مدد سے کوئی مہم 


دیوار دل پہ عشق کے نقشے لگے ہوئے 


سارک بنا اور بھارت کی کم ظرفی نے اسے ترقی کا زینہ نہ بننے دیا۔ 


غالب نے گمراہی کا جو تصور پیش کیا‘ ہم اسے عملی جامہ پہنانے پر تلے ہیں ؎


 چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک راہرو کے ساتھ 


پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں 


کبھی مہاتیر کا ملائیشیا ہمارا آئیڈیل بنتا ہے‘ کبھی ہم سنگاپور کے لی کوآن یو کے پیچھے چلتے ہیں۔ مگر پہنچتے کہیں بھی نہیں۔ سعدی ہمارے بارے میں کہہ گئے تھے ؎


 ترسم نہ رسی بہ کعبہ ای اعرابی 


کیں رہ کہ تو می روی بہ ترکستان است 


دعویٰ کعبہ کی طرف جانے کا اور راستہ وسط ایشیا کا۔ 


کل اسلام آباد میں مہاتیر محمد نے جو ٹیکس فری صنعتکاری کی بات کی وہ کون سسی راکٹ سائنس ہے جس کا کسی کو پتہ نہ ہو مگر بیرونی سرمایہ کاروں کا تو ذکر ہی کیا‘ ابھی تک خود پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے کوئی موثر صنعتی زون نہیں بن سکا۔ تین عشرے ایک صنعت کار خاندان اس ملک پر حکومت کرتا رہا۔ صنعت کاروں کی طرح نہیں جاگیرداروں کی طرح کہ کسی کا بھلا نہ ہو۔ پاکستان ان کا پنجاب تک محدود تھا اور پنجاب ان کا رائے ونڈ سے چل کرلاہور تک ختم ہو جاتا تھا۔ کیا مشکل تھی ان کے لیے اگر پنجاب کے بجائے پورے ملک پر توجہ دیتے؟ مناسب مقام پر صنعتی شہر بساتے۔ دہشت گردی کے خطرے سے اسے محفوظ رکھتے۔ شاہراہوں کا اس کے گرد جال بچھاتے۔ 


مہاتیر اور لی جیسے لیڈروں کے بھی دوہی کان تھے اور دو ہی ٹانگیں مگر فرق یہ ہے کہ ان کے معدے جہنم کے سائز کے نہ تھے کہ کبھی نہ بھرتے۔ 


اور اب ہماری آئیڈیل نیوزی لینڈ کی وزیراعظم ہے۔ شرم نہیں آتی ہمیں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی تعریف کرتے ہوئے۔ ایک بے بضاعت اقلیت کے لیے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیا۔ آبادی کے ایک فیصد مسلمانوں کی دلجوئی کے لیے پوری قوم نے خاموشی اور احترام سے جمعہ کی اذان سنی۔ جس گن کنٹرول کے لیے امریکہ دو سو سالوں سے سسک رہا ہے‘ زخم زخم ہورہا ہے ‘اس گن کنٹرول کو یہ خاتون وزیراعظم چند دنوں میں قانون کا حصہ بنا رہی ہے


 اور ہمارے منہ نہیں تھک رہے خاتون وزیراعظم کی ستائش کرتے ہوئے۔ حالت یہ ہے کہ صرف سندہ کا ایک ضلع گھوٹکی کافی ہے ہماے منہ پر زناٹے کا تھپڑ مارنے کیلئے۔ آئے دن کوئی غیر مسلم لڑکی اسلام ’’قبول‘‘ کرتی ہے۔ مسلح جلوس اسے عدالت تک لاتے ہیں۔ جج اسکے بے یارومددگار ماں باپ کے خلاف فیصلہ کرتے ہیں تو وکیلوں کے جتھے جج کو مبارک دیتے ہیں۔ پورے پاکستان کو معلوم ہے کہ درگاہوں کا علاقہ کچھ ٹھیکیداروں نے علاقہ غیر بنا رکھا ہے۔ کبھی کوئی مرد‘ کوئی بوڑھی‘ کوئی بڈھا مسلمان نہیں ہوتا۔ ہوتی ہے تو ہمیشہ نوجوان دوشیزہ۔ جس کی فوراً شادی کردی جاتی ہے۔ کوئی ہے جو قومی اسمبلی میں سوال پوچھے کہ صرف گھوٹکی ضلع سے گزشتہ ایک یا دو عشروں میں کتنے غیر مسلم ملک چھوڑ کر گئے ہیں؟


 کیا نیوزی لینڈ کی یونیورسٹیوں پر سیاسی پارٹیوں کی ذیلی جماعتوں کے قبضے ہیں؟ کیا وہاں اساتذہ کو زدوکوب کیا جاتا ہے؟ کیا کتاب میلوں کی آڑ میں فسطائیت کے علم لہرائے جاتے ہیں؟ 


ہم تو اگلے ہزار سال میں نیوزی لینڈ نہیں بن سکتے۔ دارالحکومت کے عین وسط میں راتوں رات سرکاری زمینوں پر قبضے کرکے مدرسے بنالیے جاتے ہیں۔ خطیب جو سرکار کا ملازم ہے‘ سرکاری خزانے سے مشاہرہ پاتا ہے‘ وفات پاتا ہے تو مسجد خاندان کی جاگیر بن جاتی ہے۔ راولپنڈی کے ایک ثقہ عالم دین نے بتایا کہ متین علما نے راتوں رات قبضے کرنے سے منع کیا تھا۔ فوج کے خلاف فتوے جاری ہوتے ہیں۔ داعش کو دعوت عام دی جاتی ہے۔ ماں باپ کی اجازت تودور کی بات ہے‘ ان کے علم کے بغیر طالبات کی شادیاں کردی جاتی ہیں۔ آسمان سے پتھر برستے ہیں نہ زمین دھنستی ہے۔ 


فرقہ واریت اور تکفیر کے مکروہ درخت کو زہریلا پانی دے دے کر اتنا تناور کردیا گیا ہے کہ غیر مسلم تو کیا‘ اختلاف کرنے والے مسلمانوں کو خنجروں کے وار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ 


نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم حدیث نبویؐ سناتی ہے۔ حجاب کر کے آتی ہے۔ دوسری غیر مسلم عورتیں بھی سر ڈھانک کر مسجدوں میں آتی ہیں۔ پوری قوم اذان سنتی ہے۔ اخبارات اپنا پہلا صفحہ مسلمانوں کی نذر کردیتے ہیں اور اس طرز عمل کی تعریف وہ ملک کر رہا ہے جس کا وزیراعظم غیر مسلم پاکستانیوں کی مذہبی تقریب میں چند گھنٹے بھی گزارے تو ہر طرف آگ لگ جاتی ہے۔ اس وقت نوازشریف وزیراعظم تھے۔ 2015ء میں انہوں نے دیوالی کے تہوار میں شرکت کی اور اپنے آپ کو پاکستان کے تمام گروہوں‘ تمام برادریوں کا وزیراعظم کہا۔ آن کی آن میں فتوے جاری ہو گئے‘ تیروں کی بوچھاڑ کردی گئی۔ شریفوں کے دستر خوان پر رات دن راتب کھانے والے اور ان کی وساطت سے روزگار حاصل کرنے والے مہر بہ لب ہو گئے۔ اس کالم نگار نے نقار خانے میں طوطی کا کردار ادا کرتے ہوئے وزیراعظم کے اقدام کا دفاع کیا ؎ 


کامل اس فرقہ زہاد سے اٹھا نہ کوئی 


کچھ ہوئے تو یہی رندان قدح خوار ہوئے


 آپا کشور ناہید نے نصیحت کی ہے کہ یہ کالم نگار بچوں کو تنبیہ کرے مگر قضیہ نہ بنائے۔ دل میں آپا کا بہت احترام ہے۔ ماہ نو کی ایڈیٹر تھیں تو ڈانٹ کر بلکہ مارکٹ کر جدید فارسی نظموں کے تراجم کرائے۔ ماہ نو کا وہ سنہری دور تھا۔ پھر کبھی ایسا نہ ہوا۔ پورے دارالحکومت میں دو ہی تو ٹھکانے ہیں آزاد منش انسانوں کے۔ افتخار عارف کا تکیہ ہے یا کشور ناہید کا (بقول امریکی انگریزی کے) جوائنٹ! سفر درپیش تھا۔ ایک تو آپا نے فیئر ویل نہیں دیا۔ اوپر سے میٹھی میٹھی کھٹی کھٹی ڈانٹ بھی پلا دی۔ حالانکہ ’’بچوں‘‘ کو صرف یہ کہا تھا کہ پلے کارڈز میں سے کچھ ایسے تھے کہ خاندان کے ساتھ بیٹھ کرنہیں دیکھے جاسکتے تھے۔ اسی تحریر میں اس بیوہ کا بھی ذکر تھا جو ٹیکسلا کے کھنڈرات میں انگریزی ’’سیکھ‘‘ کر بچوں کا پیٹ پال رہی ہے اور اس ضعیف چپڑاسن کا بھی جو بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا رہی ہے۔ ویسے آپا ہمیشہ ان عورتوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں جو مردوں کی دنیا میں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ امید ہے کہ وہ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کی بھی حوصلہ افزائی کریں گی۔ 


پوری دنیا خاتون وزیراعظم کی تعریف میں رطب اللسان ہے مگر نمایاں ترین خراج تحسین نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں پیش کیا۔ 

America deserves a Leader as good as jacinda arderan. 


کا عنوان دے کر اداریہ نویس آخری سطر میں لکھتا ہے: 


’’یہ جو ظلم ہوا ہے اس کے بعد عالمی لیڈروں کو متحد ہو جانا چاہیے تاکہ وہ نسل پرستی کی مذمت کرسکیں‘ جو ظلم کانشانہ بنے ہیں ان کا درد بانٹ سکیں اور نفرت کرنے والوں سے ان کے ہتھیار چھین سکیں اور عالمی رہنمائوں کو یہ راستہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے دکھایا ہے۔‘‘ 


نیوزی لینڈ تاریخ کا بے بس حصہ نہیں بنا۔ کرہ ارض کے کنارے پر واقع اس چھوٹے سے ملک نے اپنی تاریخ الگ بنائی ہے اور ایسی بنائی ہے کہ خود تاریخ اس پر ناز کرے گی ؎ 


الگ بنائیںگے ہم یہاں کائنات اپنی 


زمیں سے معشوق لیں گے چاند آسماں سے لیں گے 



Thursday, March 21, 2019

اور کچھ نہیں تو ساحل کی قدر ہی کر لو



کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بے گھر انسان پر کیا گزرتی ہے! 


سعدیؔ کے پاس جوتے نہیں تھے۔ سفرکر رہے تھے شاکی اورنالاں ! راستے میں دیکھا کہ ایک مسافر کا پائوں ہی نہیں تھا! شکر بجا لائے کہ پائوں تو سلامت ہیں! 


باپ گھر بناتا ہے: پیسہ پیسہ جوڑ کر! جوانی اور بڑھاپے کی ہڈیوں کا سفوف‘ گارے میں مکس ہوتا ہے تب مالِ حلال سے مکان بنتا ہے۔ پھر بیٹے‘ بیٹیاں‘ پوتے ‘ نواسے‘ اس میں نقص نکالتے ہیں! یہ کمرہ فلاں جگہ ہوتا تو بہتر ہوتا۔ یہ برآمدہ مناسب نہیں! باپ خاموشی سے سنتا ہے! دل میں ہنستا ہے۔ جماعت اسلامی کے فراموش شدہ شاعر نعیم صدیقی نے کہا تھا ؎ 


یہ لاالہ خوانیاں جائے نماز پر!! 

سُولی پہ چڑھ کے نغمہ یہ گاتے تو جانتے


 کہ تم کبھی بنائو گے تو معلوم ہو جائے گا کہ سو میں بیس کتنے ہوتے ہیں اور آٹے دال کا بھائو کیا ہوتا ہے! 


وطن بھی مکان کی طرح ہے! وہ شخص جس کے پھیپھڑے تپ دق سے مسموم ہو چکے تھے۔ ایک پہاڑ کی طرح ڈٹا رہا۔ کانگرس اور برٹش حکومت اس کی استقامت کے سامنے عاجز آ گئے۔ وطن ظہور پذیر ہوا پھر ایک دن خاموشی سے اس نے بیماری کے سامنے ہتھیار ڈالے اور دنیا سے رخصت ہو گیا! اب سپوت‘ سارے نہیں‘ مگر کچھ‘ کپوت بنے پھرتے ہیں! کیوں بنایا؟غلط بنایا! 


حیرت ہوتی ہے ڈاکٹر مبارک علی جیسے دانش وروں پر۔ پاکستان ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ تقسیم ان کے نزدیک غلط تھی۔ پھر بھی پاکستان میں بیٹھے ہیں! ارے بھئی! بھارت سے آنے کی کیا ضرورت تھی! منطق تو یہی پوچھتی ہے کہ اگر غلط بنا تھا تو آپ یہاں کیوں مکین ہیں؟ مسلمان تارکین وطن جب میزبان ملکوں میں جا کر شریعہ لا مانگتے ہیں تو انہیں یہی تو کہا جاتا ہے کہ آپ کو دعوت نامہ دیکر یہاں بلایا تو نہیں تھا! کیوں آ گئے؟ 


چشمِ تصور سے نیوزی لینڈ کے حادثے کو دیکھیے! جو زندہ ہیں‘ وہاں کس ذہنی حالت میں رہ رہے ہوں گے؟ان سے پوچھیے‘ وطن کتنی بڑی نعمت ہے! 


وطن!!جہاں آپ سے کوئی پاسپورٹ نہیں مانگتا! جہاں آپ کی زبان سب سمجھتے ہیں! جہاں آپ کا رنگ کروڑوں ہم وطنوں کے رنگ جیسا ہے۔ آپ ہجوم میں الگ نہیں لگتے! آپ توجہ کا مرکز نہیں بنتے۔ آپ سے یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ کہاں سے آئے ہیں؟ پیچھے سے کہاں کے ہیں؟ باپ کی پیدائش کہاں ہوئی تھی؟آپ اپنے گائوں جاتے ہیں یا پرانے شہر کی گلیوں کو پلٹتے ہیں۔ ہر شخص جانتا ہے آپ کا باپ کون تھا؟ دادا کون تھا؟ قصبے کی ایک ایک اینٹ کی تاریخ سب کو معلوم ہوتی ہے!


 ’’کس محلے کے ہو؟‘‘


 ’’اچھا!تم فلاں کے پوتے تو نہیں؟‘‘


 ’’کس گائوں سے ہو؟‘‘


 ’’اچھا‘ تمہارے نانا کا نام یہ تھا؟‘‘ 


آپ کی جڑیں آپ کی مٹی میں ہیں۔ آپ کا تنا مضبوط ہے۔ آپ کی شاخیں سبز اور پتے سرسبز ہیں! 


تارکین وطن کے بیٹے جو پیدا ہی امریکہ برطانیہ ناروے اور آسٹریلیا میں ہوئے۔ وہ تو گملوں میں اُگے درخت ہیں! جتنے بھی بڑے ہوجائیں‘ تنا مضبوط نہیں ہو سکتا! رنگ سے جان نہیں چھوٹتی! مذہب کو کمبل سمجھ کر پھینکنا بھی چاہیں توکمبل نہیں چھوٹتا! بوسنیا اورکسووو کے مسلمان کون سے باعمل مسلمان تھے؟ کسی نے نہ پوچھا کہ مسلک کیا ہے؟ کس امام کو مانتے ہو، نماز ہاتھ چھوڑ کر پڑھتے ہو یا باندھ کر! بکروں کی طرح لٹا کر ذبح کئے گئے۔ نصرانی عورتوں نے قیدی مردوں کے پیٹ ٹوٹی ہوئی بوتلوں کے نوکیلے ٹکڑوں سے پھاڑے! 


اس بھارتی مسلمان کا جواب کبھی نہیں بھولتا جس سے آسٹریلیا کی ایک مسجدمیں پوچھا کہ بھارت میں مسلمانوں کا مجموعی احوال کیسا ہے! کہا‘ اچھا ہے‘ پھر آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور اضافہ کیا کہ…’’اقلیت میں ہیں!‘‘ یہ ایک چھوٹا سا فقرہ۔ اقلیت میں ہیں۔ کئی کتابوں پر بھاری ہے! بھارتی مسلمان سے پوچھیے پاکستان کی کیا قدروقیمت ہے! صرف یوپی کا وزیر اعلیٰ ہی کافی ہے یہ باور کرانے کے لئے کہ پاکستان کتنی بڑی نعمت ہے!فیض صاحب کی بیٹی کو اور آپا کشور ناہید کو ویزے نہ دیے۔ نہیں دیکھا کہ روشن خیال ہیں! بس پاکستانی اور مسلمان ہونا کافی تھا!! 


تارکین وطن کو ملزم یا مجرم نہیں گردانا جا سکتا! جب سے انسان کی تخلیق ہوئی ہے‘ ہجرت اس کے ساتھ ساتھ ہے! آدم نے جنت سے ہجرت کی! موسیٰ علیہ السلام نے مصر چھوڑا۔ سرکار ﷺ نے مکہ کوخیر باد کہا اور یوں خیر باد کہا کہ فتح مکہ کے بعد بھی اہل مدینہ کو نہ چھوڑا۔ کرۂ ارض کی تاریخ ہجر اور ہجرتوں سے اٹی پڑی ہے! چینی کہاں کہاں نہیں گئے۔ امریکہ کے مغربی ساحلوں سے لے کر انڈونیشیا اور ملائشیا تک! آج کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کی دوسری سرکاری زبان ہی پنجابی ہے! کینیڈا کا وزیر دفاع سکھ ہے۔ 


مسلمان تارکین وطن کو مطعون کرنا قرین انصاف نہیں! وہ طعن و تشنیع کے نہیں‘ ہمدردی کے مستحق ہیں۔ دعائوں کے محتاج ہیں! ہاں یہ بات اپنی جگہ پتھر پر لکیر ہے کہ وطن کا کوئی نعم البدل نہیں! اپنی مٹی کہیں اور نہیں مل سکتی! سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ آپ دوسروں سے الگ نہ دکھائی دیں! آپ اُن لاکھوں کروڑوں میں سے ایک ہوں جو آپ جیسے ہیں! آپ کو اقلیت کوئی نہ کہے! 


اپنا گریبان کتنا نزدیک ہوتا ہے مگر جھانکتے وقت کتنا دور لگتا ہے! سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے کہا تھا کسی کی ماں بیٹی دیکھی تو اپنی ماں بیٹی یاد آئی پھر غالب کا شعر پڑھا اور یوں اطلاق کیا کہ سننے والے عش عش کر اٹھے ؎ 


ہم نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ 

سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا! 


جنہیں ہم پاکستان میں اقلیت کہتے ہیں‘ ان سے معاملات کرتے وقت ان پاکستانیوں اور مسلمانوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے جو نیوزی لینڈ میں ہیں‘ اور ان دوسرے ملکوں میں جہاں کے پاسپورٹ ان کی جیبوں میں ہیں مگر یہ پاسپورٹ انہیں دوسرے مکینوں کے ہم رنگ اور ہم مذہب کرنے سے قاصر ہیں! 


ہمیں سوچنا ہو گا کہ سندھ میں ہمیشہ نوجوان ہندو لڑکی ہی کیوں اسلام’’قبول‘‘ کرتی ہے؟ مرد اور بوڑھی عورتیں کیوں نہیں مسلمان ہوتیں؟مغربی ملکوں میں مسلمان‘ عملاً اقلیتیں ہیں مگر کم از کم سرکاری طور پر انہیں اقلیت نہیں قرار دیا جاتا! ہم جب فخر سے کہتے ہیں کہ برطانیہ کا وزیر داخلہ یا لندن کا میئر پاکستانی نژاد اور مسلمان ہے تو کیا ہم غیر مسلموں کو اپنے وطن میں ایسے مناصب دینے کے لئے برضا و رغبت آمادہ ہیں؟ 


وطن میں بیٹھ کر۔وطن کی قدر ہوتی ہے نہ غریب الوطنی کا درد سمجھ میں آتا ہے! حافظ شیرازی کا شعر اس سیاق و سباق میں حرف آخر ہے ؎


 شبِ تاریک و بیمِ موج و گردابی چنین حائل 

کجا دانند حالِ ماسبک سارانِ ساحل ہا 


رات کالی ہے! لہروں کا خوف دامن گیر ہے! سامنے بھنور ہے! وہ جو ساحلوں پر بیٹھے موج مستی کر رہے ہیں انہیں ہمارے حال کا کیا اندازہ!! 


ساحل پر بیٹھے والو! اور کچھ نہیں تو ساحل کی قدر ہی کر لو۔ 


    

Sunday, March 17, 2019

نیوزی لینڈ میں دہشت گردی۔ ایک زاویہ اور بھی ہے



’’کئی برسوں سے سن رہا تھا اور پڑھ رہا تھا کہ فرانس پر وہ لوگ ’’حملہ آور‘‘ ہورہے ہیں جو سفید فام نہیں ہیں۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ مبالغہ آرائی ہے اور اس کا مقصد سیاسی سکور حاصل کرنا ہے مگر فرانس جا کر دیکھا تو یہ سب کچھ نہ صرف سچ نکلا بلکہ یوں محسوس ہوا کہ اصل سے بھی کم ہے۔‘‘ 

نیوزی لینڈ کی دو مسجدوں پر وحشیانہ حملہ کرنے والے دہشت گرد نے ٹوئٹر پر اپنا ’’منشور‘‘ نشر کیا ہے۔ مندرجہ بالا سطور اسی منشور کا حصہ ہیں۔ 

کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس منشور کا عنوان اس نے کیا رکھا ہے اور یہ عنوان کہاں سے لیا ہے؟ 

اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں ایک بار پھر فرانس جانا پڑے گا۔ 

ریناڈکیمو 1946ء میں پیدا ہوا۔ حصول تعلیم کے لیے برطانیہ اور امریکہ گیا۔ ادب کی طرف رجحان تھا مگر شروع ہی سے متنازعہ ہوگیا۔ اس کا موقف تھا کہ فرانس میں ادب کا تذکرہ ہو تو ترجیح یہودی النسل ادیبوں کو دی جاتی ہے۔ کھلم کھلا ہم جنس پرست بھی تھا۔ اس موضوع پر کتاب بھی لکھی۔ 2014ء میں ایک فرانسیسی عدالت نے اسے چار ہزار یورو جرمانے کی سزا سنائی۔ جرم یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں کو غنڈہ کہا تھا اور الزام لگایا تھا کہ یہ فرانس کو ’’فتح‘‘ کر نا چاہتے ہیں۔ 

مکروہ ترین کار نامہ ریناڈ کیمو کا ’’غیرمعمولی تبدیلی‘‘ کے نظریے کا فروغ ہے۔ اگرچہ یہ نظریہ پورے یورپ میں پنپ رہا ہے مگر ریناڈ کیمو نے اسے سب سے زیادہ مشتہر کیا۔ ’’غیرمعمولی تبدیلی۔‘‘ انگریزی میں

‏ The Great Replacement 

سے مراد یہ ہے کہ عرب‘ بربر اور دیگر مسلمان فرانس آ کر فرانسیسی سرزمین پر قبضہ کر رہے ہیں اور سفید فاموں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش ہورہی ہے۔ 2012ء میں ریناڈ کیمو نے ’’غیر معمولی تبدیلی‘‘ ہی کے عنوان سے باقاعدہ ایک کتاب تصنیف کی۔ اس کا لب لباب یہ ہے کہ ایک نسل کے بعد سفید فام اکثریت اقلیت میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس نے اس خوف کو پھیلانے کی کوشش کی کہ یورپی کلچر اور یورپی شناخت کو دوسرے ملکوں سے آ کربس جانے والے لوگ ختم کردیں گے۔ ان میں اکثریت عرب اور افریقی مسلمانوں کی ہے۔ 

نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کرنے والا اٹھائیس سالہ آسٹریلوی سفید فام ہیرلیسن ٹارانٹ‘ اسی فرانسیسی نسل پرست ریناڈ کیمو سے متاثر ہے۔ اس نے سوشل میڈیا پر جو 84 صفحات کا منشور پیش کیا ہے اس کا عنوان ’’غیرمعمولی تبدیلی‘‘ یعنی Great Replacement ہی رکھا ہے۔ وہ تارکین وطن کو حملہ آور قرار دیتا ہے۔ جب وہ فرانس کے 
ایک قصبے میں ٹھہرتا ہے تو ان ’’حملہ آوروں‘‘ کو دیکھ کر اس کا خون کھولنے لگتا ہے۔ یہ کیفیت اسی کی زبانی سنیے۔ 

’’میں پارکنگ میں بیٹھا‘ کرائے پر لی ہوئی کار سے دیکھ رہا تھا۔ شاپنگ سنٹروں کے دروازوں سے ’’حملہ آوروں‘‘ کی بڑی تعداد نکل رہی تھی۔ ہر فرانسیسی عورت اور مرد کے مقابلے میں حملہ آوروں کی تعداد دو گنا تھی۔ بہت ہو چکی۔ میں غصے سے بھناتا ہوا نکلا۔ اس لعنت زدہ قصبے میں میں مزید نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ میں اگلے قصبے کی طرف روانہ ہوگیا۔‘‘ اپنے منشور میں آگے چل کر ہیرلیسن ٹارانٹ لکھتا ہے: ’’کیوں کوئی کچھ نہیں کرتا؟ خود میں ایکشن کیوں نہ لوں؟‘‘

 ریناڈ کیمو جیسے آگ اگلنے والے اور نفرت کا زہر پھیلانے والے لوگ اس تحریک کو خوب زور و شور سے پھیلا رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی دہشت گردی کے بعد جب میڈیا نے ریناڈ کیمو سے پوچھا کہ کیا اسے اس بات پر اعتراض ہے کہ اس کے ’’غیرمعمولی تبدیلی‘‘ کے نظریے کو کیا رنگ دیا جا رہا ہے اور انتہائی دائیں بازو اس کی تشریح کس طرح کر رہا ہے؟ تو کیمو کا واضح جواب تھا کہ ہرگز نہیں۔ یعنی اسے اس دہشت گردی‘ اس بربریت اور اس قتل عام پر کوئی اعتراض نہیں۔ ریناڈ کیمو کے بقول اسے امید ہے کہ جوابی انقلاب ضرور آئے گا۔ اس کا خیال ہے کہ افریقی‘ ایشیائی‘ عرب اور بربر‘ فرانس کو اپنی کالونی بنا رہے ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اس رجحان کی بازی الٹ جائے۔ 

جذبات سے ہٹ کر مسلم دانشوروں کو سفید فاموں کی اس تحریک کے اسباب پر غور کرنا ہوگا۔ امریکہ‘ کینیڈا اور آسٹریلیا بڑے ممالک ہیں۔ وہاں تارکین وطن نمایاں نہیں نظر آتے۔ اس کے برعکس یورپ چھوٹے چھوٹے ملکوں کا مجموعہ ہے۔ نیدرلینڈ‘ بلجیم‘ لگزمبرگ جیسے ملک ہمارے ایک ایک صوبے سے بھی چھوٹے ہیں۔ جگہ کم ہے‘ تارکین وطن کی تعداد‘ سفید فاموں کو زیادہ لگتی ہے۔ اسلام دشمنی کو بھی نسل پرستی کے پردے میں چھپایا جارہا ہے۔ 

تاریخ کا پہیہ الٹا چل پڑا ہے۔ یورپی طاقتوں نے افریقہ اور ایشیا کے ملکوں کو اپنا غلام بنایا۔ انہیں چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم در تقسیم کرتے رہے۔ خون چوستے رہے۔ نچوڑتے رہے۔ صرف ایک مثال سے واضح ہو جائے گا کہ استعما رنے کس طرح کھاتے پیتے ایشیائی اور افریقی ملکوں کی معیشت کو تباہ کیا۔ اورنگ زیب کا آخری عہد مغلوں کے زوال کا آغاز تھا۔ اُسی عہد زوال میں بھی برصغیر کی پیداوار‘ کل دنیا کی پیداوار کا 23 فیصد حصہ تھی۔ انگریز 1947ء میں گئے تو یہ 23 فیصد حصہ تین فیصد تک نیچے آ گیا تھا۔ 

تاریخ کی ستم ظریفی کہیے یا انتقام اب انہی ایشیائی اور افریقی ملکوں سے تارکین وطن اپنے سابق آقائوں کے Home Countries میں آن بسے ہیں۔ احساس جرم کسی کسی وقت ان سفید فاموں کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے جسے وہ الٹے سیدھے خود ساختہ دلائل سے قتل کرتے ہیں۔ مثلاً ریناڈ کیمو کا یہ قول دیکھئے: 

’’اب افریقی جس طرح یورپ میں آ رہے ہیں‘ یہ ’’استعمار‘‘ اُس استعمار سے بیس گنا زیادہ اہم اور نمایاں ہے جو یورپ نے افریقہ میں قائم کیا تھا۔‘‘ 

یہاں ایک سوال اور بھی ہے جو مسلمانوں کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔ پچپن مسلمان ملکوں میں ایک مسلمان ملک بھی ایسا نہیں جہاں مسلمان ہجرت کر کے اس طرح آباد ہو سکیں جس طرح وہ کینیڈا‘ امریکہ‘ یورپ‘ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں آباد ہورہے ہیں۔ صومالیہ سے لے کر افغانستان تک شام سے لے کر لبنان تک جہاں بھی جنگ کی تباہی پھیلی‘ مہاجرین نکلے اور مغربی ملکوں میں جا بسے۔ ان ملکوں نے انہیں پناہ دی‘ شہریت دی‘ ملازمتیں دیں‘ رہائش گاہیں دیں۔ 2015ء میں جب شام سے لاکھوں مہاجرین جرمنی پہنچے تو جرمن چانسلر انجیلا مارکل نے دائیں بازو کی مخالفت کے باوجود انہیں قبول کیا۔ یہی وقت تھا جب سوشل میڈیا پر شام کے مہاجرین نے واضح طور پر لکھا:’’ہم اپنے بچوں کو بتائیں گے کہ مکہ اور مدینہ کے مقدس شہر نزدیک تر تھے مگر پناہ ہمیں جرمنی نے دی۔‘‘ 

مسلمان اہل دانش کو سوچنا ہو گا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہم مغرب کے محتاج تو تھے ہی‘ اب ہم رہائش کے لیے‘ ملازمتوں کے لیے اور شہریت کے لیے بھی ان ملکوں کے محتاج ہیں۔ اس قدر محتاج کہ میزبان ملک اس خوف میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ تارکین وطن کی تعداد اصل باشندوں کی نسبت زیادہ نہ ہو جائے۔ اس خوف ہی کو بنیاد بنا کر ٹرمپ نے سفید فاموں کو اپنا ووٹر بنایا۔ نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کرنے والے ہیرلیسن ٹارانٹ نے اپنی پسندیدہ شخصیات میں ٹرمپ کا نام بھی لکھا ہے۔ 

جو سوال زیادہ غور و فکر کا متقاضی ہے‘ یہ ہے کہ ’’کیا تارکین وطن کا مستقبل ان ملکوں میں محفوظ ہے؟

Saturday, March 16, 2019

خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں

 




کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں اس روئے زمین پر سب سے زیادہ حیرت انگیز انسان ہوں؟ سب سے زیادہ عجیب و غریب۔ میرا چیلنج ہے کہ مجھے کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ کوئی اندازہ نہیں کرسکتا کہ میرا اگلا اقدام کیا ہوگا؟ میں کس طرف مڑوں گا؟ میری پالیسی کیا ہے؟ میرا مستقبل کا روڈ میپ کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا میرے دشمن کون ہیں، میرے دوست کون ہیں؟ 


میں رات دن حرام کھاتا ہوں، تجارت میں، زراعت میں، دفتر میں، کارخانے میں، کم تولتا ہوں، کم ماپتا ہوں، خوراک کے نام پر زہر بیچتا ہوں، دوائوں کے نام پر موت فروخت کرتا ہوں، دفتر دیر سے جا کر، چھٹی سے پہلے چھٹی کر کے، سائلین کو اذیت پہنچا کر، اپنی تنخواہ کو حرام مال میں ڈھالتا ہوں، ٹیکس چراتا ہوں، ممبر ہوں تو اسمبلی میں نہیں جاتا۔ وزیر ہوں تو تنخواہ تیس دن کی لیتا ہوں، دفتر ہفتے میں ایک دن جاتا ہوں، اس مسلسل حرام خوری کے باوجود دنیا حیران ہے کہ بیرون ملک جائوں تو حلال گوشت کے لیے تلاش بسیار کرتا ہوں۔ نہ ملے تو تڑپتا ہوں، میرے اس دوغلے پن کا سبب کوئی سائنس دان، کوئی ماہر نفسیات آج تک نہ جان سکا۔ 


میرے پاس ملبوسات کے انبار ہیں۔ ڈنر سوٹ، ڈنر جیکٹس، سردیوں کے لیے بہترین کوٹ، ہیرس ٹویڈ، جوتے فرنگی، نکٹائیاں ریشمی، شام کی سیر کے لیے بہترین ٹریک سوٹ، گالف کھیلنے کے لیے خصوصی جوتے، چلتے ہوئے جن پر چمڑے کا پھول ناچتا ہے۔ مگر مسجد خدا کے حضور حاضر ہوتا ہوں تو کبھی دھوتی میں، کبھی گندے پاجامے میں کبھی سرکنڈوں سے بنی ہوئی سوراخوں والی ٹوپی میں جس کے اندر میل کی کئی تہیں اوپر نیچے جمی ہوئی ہیں۔ 


بچوں کے نکاح میں سادگی سے کرتا ہوں۔ وہ بھی مسجد میں، پھر یہ سادگی رنگ بدل لیتی ہے۔ مہندی، برات اور ولیمے میں فی کس کھانے کا خرچ پانچ چھ ہزار سے کم نہیں ہوتا۔ میں نے اپنے گھر سے قالینیں اٹھوا دیں، کہیں ماربل لگوایا ہے اور کہیں خوبصورت ٹائلیں۔ تازہ ترین نظریہ یہ ہے کہ قالینیں ٹنوں کے حساب سے گرد اپنے اندر چھپا لیتی ہیں۔ جبکہ ماربل یا ٹائلوں کا فرش آپ اکثر و بیشتر دھو سکتے ہیں مگر خدا کے گھروں میں نام نہاد قالینی صفیں اسی طرح بچھی ہیں۔ گیلے پیروں کے ساتھ نمازی ان پر چلتے ہیں۔ مشکل سے خشک ہوتی ہیں۔ دھول سے اٹی ہیں۔ سجدہ کرتا ہوں تو سیلن کی، گرد کی بو دماغ تک جاتی ہے مگر مجھے یہ توفیق نہیں کہ اپنے گھر کی طرح خدا کے گھر سے بھی قالینی صفیں جو مجسم کثافت ہیں ہٹالوں۔ 


میں بڑے بڑے سپر سٹوروں میں جاتا ہوں۔ ٹرالیاں بھر کر سودا سلف خریدتا ہوں۔ بھائو تائو کرتا ہوں نہ تکرار۔ کائونٹر پر بیٹھا کیشیئر جو مانگتا ہے چوں تک کیے بغیر چپ چاپ فرماں برداری کے ساتھ ادا کر دیتا ہوں۔ پھر جب وہ رسید دیتا ہے تو منہ ٹیڑھا کر کے اسے تھینک یو کہتا ہوں مگر جب دو درجن کیلے یا ایک درجن مالٹے کسی ریڑھی والے سے خریدتا ہوں تو میری سوداگری کی رگ جاگ اٹھتی ہے۔ ریڑھی والے بوڑھے سے، دام کم کراتا ہوں اور فخر سے بیوی کو آ کر بتاتا ہوں کہ اتنے دام کم کرائے۔ 


حرمت رسولؐ پر میں کٹ مرتا ہوں لیکن حکم رسولؐ کی میں رات دن مخالفت کرتا ہوں۔ رسولؐ کا حکم تھا کہ ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور مسلمان عورت پر فرض ہے۔‘‘ میں مسلمان عورت کو تعلیم حاصل نہیں کرنے دیتا کہ اس نے کون سی نوکری کرنی ہے۔ رسولؐ کو بیٹیاں عزیز تھیں، مجھے ان میں نحوست نظر آتی ہے۔ بیٹی جنم دینے والی ماں کو ہسپتال کے بستر ہی پر طلاق دے دیتا ہوں اور اس مسلمان معاشرے میں کوئی میرا بال تک بیکا نہیں کرسکتا۔ رسولؐ کا فرمان تھا کہ آپؐ کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ نماز میں اکٹھی پڑھتا ہوں یعنی ہفتہ وار یا تین سو ساٹھی یعنی عید کی یا کاٹھی، یعنی جس نماز کے ساتھ میت کی چارپائی ہو۔ رسولؐ کو عورتیں اور خوشبو عزیز تھیں۔ عورت کو میں ناقص العقل کہتا ہوں۔ ٹیڑھی پسلی کی پیداوار، خوشبو کا یہ حال ہے کہ میرے قریب سے گزریں تو بدبو کے بھبکے اٹھتے محسوس ہوتے ہیں۔ مسجد جائوں تو منہ سے پیاز اور لہسن کی بو آتی ہے اور سر کے بالوں سے کڑوے تیل کے بخارات اٹھ اٹھ کر نمازیوں کے نتھنوں میں گھستے ہیں۔ رسولؐ کا فرمان ہے کہ جو وعدہ نہیں پورا کرتا، اس کا ایمان ہی نہیں۔ میں عہد شکنی میں دنیا بھر میں اول آ رہا ہوں۔ کوئی شکوہ کرے تو داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے ڈھٹائی سے فلسفہ بیان کرتا ہوں کہ ’’میں نے وعدہ نہیں کیا تھا، بس ایک بات کی تھی۔‘‘ رسولؐ نے بتا دیا تھا کہ ہندوئوں کے حقوق صرف اس صورت میں معاف ہوں گے جب متاثرہ بندہ خود معاف کرے گا مگر میں یہ 

Disinformation 

زور و شور سے پھیلا رہا ہوں کہ حج پر جائو گے تو سارے گناہ دھل جائیں گے۔ یعنی یتیموں کا مال کھائو، رشوت لو اور دو، ملاوٹ کرو، جھوٹ بول کر نفع زیادہ کمائو، نقص والا مال بیچو اور گاہک کو ہوا تک نہ لگنے دو، سائلوں کو دفتروں کے چکر لگوا لگوا کر ذلیل و خوار اور رسوا و ہلاک کرو۔ ماں باپ کی گستاخی کرو، ان کی خدمت کرو نہ ادب، قطع رحمی خوب خوب کرو اور دن رات کرو۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد حج کر آئو۔ یوں ہو جائو گے جیسے دودھ سے دھلے ہو۔ 



عجیب و غریب ہونے کی وجوہ اور بھی ہیں۔ میں سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیچھے ہوں۔ گزشتہ پانچ سو برس کے دوران میں نے کچھ ایجاد نہیں کیا۔ ناخواندگی عروج پر ہے، تو ہم پرستی اور ضعیف الاعتقادی میں اپنی مثال آپ ہوں۔ پھر بھی اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ دنیا بھر میں میرا مقام بلند ترین ہے۔ پوری دنیا مجھ سے حسد کرتی ہے۔ اس روئے زمین پر رہنے والا ہر شخص میرے خلاف سازشیں کررہا ہے۔ میں کسی صورت اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے آمادہ نہیں۔ اپنی منجی کے نیچے ڈانگ پھیرتے ہوئے مجھے موت پڑتی ہے۔ مجھ میں کوئی عیب ہے نہ کمزوری۔ میں اپنے آپ کو اخلاقی برتری کے اس مقام پر متمکن سمجھتا ہوں جہاں پہنچنے کا کوئی تصور تک نہیں کرسکتا۔ 


میں ساری دنیا میں چیختا روتا بلکتا پھرتا ہوں کہ کشمیریوں کے ساتھ یہ ہوگیا، روہنگیا تباہ ہو گئے، فلسطینی دربدر ہو گئے، افغان برباد ہو گئے، جبکہ میرے بادشاہ کہیں جائیں تو چالیس چالیس کارٹن زاد سفر کے ساتھ لے جاتے ہیں۔ جہاز سے اترنے کے لیے برقی سیڑھی، خالص سونے سے بنی ہوئی ساتھ ساتھ سفر کرتی ہے۔ محلات کی کنجیاں ٹونٹیاں تالے، سونے کے ہیں۔ اڑتے جہازوں میں بنی ہوئی خواب گاہوں اور مہمان خانوں پر پرستان رشک کرتے ہیں۔ جکارتہ سے لے کر اسلام آباد اور کراچی تک کے اور کویت سے لے کررباط تک کے حکمرانوں اور امرا کی جائیدادیں اور بینک بیلنس مغربی ملکوں میں رکھے ہیں۔ ہے کوئی دنیا میں میرے جیسا؟ جون ایلیا نے میرے لیے ہی تو کہا تھا ؎ 


تو مرا حوصلہ تو دیکھ، داد تو دے کہ اب مجھے

 شوق کمال بھی نہیں! خوف زوال بھی نہیں 


غارت روز و شب تو دیکھ وقت کا یہ غضب تو دیکھ

 کل تو نڈھال بھی تھا میں، آج نڈھال بھی نہیں



 پہلے ہمارے ذہن میں حسن کی اک مثال تھی 

اب تو ہمارے ذہن میں کوئی مثال بھی نہیں 


میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس 

خود کو تباہ کرلیا اور ملال بھی نہیں 








Thursday, March 14, 2019

ہرن کی حفاظت کے لیے تیندووں کا جلوس





ضمیر جعفری عین ہماری نبض پر انگلی رکھتے تھے۔ ایسا مزاح جس میں آنسو چھپے تھے۔ آبادی بم کے بارے میں متنبہ کیا 


شوق  سے نور نظر، لخت جگر پیدا کرو 

ظالمو تھوڑ سی گندم بھی مگر پیدا کرو 


مغرب نے جن صفات کو بروئے کار لا کر ترقی کی، وہ ہمیں نہیں راس آتیں۔ ضمیر جعفری نے کہا بھگو کر لگائی ہے 


؎ 


نہ بینائی پسند آئی نہ دانائی پسند آئی 

مجھے سب جرمنی میں ایک نکٹائی پسند آئی 


عورت میں صرف خوبصورتی کا پہلو تلاش کیا جائے تو جو صورت حال بنتی ہے اس پر کہتے ہیں ؎ 


اپنی روٹی خود پکا مسٹر کہ اب بیوی کے ساتھ

 حسن آ جاتا ہے، حسن انتظام آتا نہیں


 ہر روز بزرگوں کی خدمت میں حاضری دینے کے بجائے ٹیلی فون پر ہی نصف ملاقات ہو جاتی ہے ؎ 


فون پر باتیں ملاقاتوں میں حائل ہو گئیں

 اب سلام آتا ہے، خود عبدالسلام آتا نہیں 


جن دنوں یہ کالم نگار کالج میں لیکچرر تھا، ان دنوں کا قصہ ہے! ایک طالب علم کا والد نائب قاصد تھا۔ (ان دنوں چپڑاسی کی اصطلاح مروج تھی۔) مقابلے کے امتحان میں افسر لگ گیا۔ ٹریننگ اکیڈمی میں والد کو نہ آنے دیا۔ گھر والوں کو یہ بتا رکھا تھا کہ کسی ملاقاتی کو اندر آنے کی اجازت نہیں۔ ضمیر جعفری اس پر نوحہ خوانی کرتے ہیں ؎ 


وہ بی اے ہے۔ مگر بی اے کی خو آتی نہیں اس کو 

ابھی ماں باپ کے کپڑوں سے بو آتی نہیں اس کو 


آج ضمیر جعفری کیوں یاد آ رہے ہیں؟ خواتین کا جو عالمی دن منایا گیا ہے۔ وہ بھی عجب تماشا ہے۔ فادرز ڈے، مدر زڈے اور اب خواتین کا دن! ایک اقبال ڈے بھی منایا جاتا ہے۔ اقبال کی تعلیمات تو دور کی بات ہے، اقبال کی تصانیف کے نام سے بھی نئی نسل کی بھاری اکثریت نابلد ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ اقبال ڈے کے بعد سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے 


 بپا ہم سال میں اک مجلس اقبال کرتے ہیں

 پھر اس کے بعد جو کرتے ہیں وہ قوال کرتے ہیں 


خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جو جو پلے کارڈ لہرائے گئے ان پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ ان میں سے اکثر پلے کارڈز پر جو کچھ درج تھا وہ گھر میں ماں بیٹی یا بہن کے سامنے نہیں دہرایا  جا سکتا۔ اس طرز عمل کے علم برداروں سے یہ پوچھا جانا چاہیے کہ جو بیوائیں اپنی زندگی کی مشعل کو دونوں طرف سے جلا کر دن پورے کر رہی ہیں اور بچوں کو پال رہی ہیں کبھی ان کی خبر لی؟ کتنوں کی جہیز تیار کرنے میں مدد کی؟ کتنوں کے مقدمے لڑے؟ کتنی بے سہارا لڑکیوں کو تعلیم دلائی؟ پوپلے منہ والی کتنی بڑھیائوں کے منہ میں نوالے ڈالے؟ کتنی خمیدہ کمر ضعیفوں کی پیٹھ کے پیچھے بیٹھ کر تکیہ بنے؟ کتنوں کے گھروں کے باہر، رات کے اندھیرے میں آٹے کا بیگ، چینی کی تھیلی یا گھی کا ڈبہ رکھ کر فوراً واپس چلے گئے تاکہ بیوہ کا یتیم بچہ ہر روز احسان کے بوجھ تلے دبا سلام نہ کرتا پھرے؟ 


کبھی ٹیکسلا کے کھنڈرات جائیں تو وہاں نوٹ کیجیے کہ سیاحوں کو بریف کرنے کے لیے مرد گائیڈوں میں ایک عورت بھی دکھائی دیتی ہے۔ اس کا میاں جو یہاں گائیڈ تھا، مر گیا۔ خواتین کا عالمی دن منانے والوں نے اسے کیا پوچھنا تھا، چھ بچے تھے۔ دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے۔ باہمت خاتون نے جو ان پڑھ تھی، کمر ہمت باندھ لی۔ اس نے انگریزی کے فقروں کے فقرے یاد کرلیے اور اب اچھی خاصی انگریزی میں سیاحوں کی رہنمائی کرتی ہے۔ 


یہ کالم نگار ایک ایسی عمر رسیدہ عورت کو جانتا ہے جو ایک پرائیویٹ سکول سسٹم میں نائب قاصدہ کی ملازمت کر رہی ہے۔ میاں جہاد پر گیا۔ سالہا سال گزر گئے۔ واپس نہ آیا۔ شہید ہو گیا ہوگا یا قید۔ جنہوں نے جہاں پر بھیجا تھا، انہوں نے خبر گیری کی نہ پرواہ۔ خواتین کے عالمی دن پر جلوس نکالنے والوں، پلے کارڈز اٹھانے والوں اور اٹھانے والیوں کو کیا خبر کہ یہ مفلوک الحال، قلاش، بے آسرا، بڑھیا کس طرح اپنی بیٹیوں کو پڑھا رہی ہے؟ کن مراحل سے گزر رہی ہے؟ فیسیں، کتابوں کے اخراجات، جملہ ضروریات، کس طرح پوری کر رہی ہے؟ 


ستارے کاٹتی ہوں راستہ بناتی ہوں 

مجھے ہی علم ہے جس طرح صبح کرتی ہوں 


ایک بیٹی ڈاکٹر بن رہی ہے۔ دو یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ 


یہ جلوس، یہ پلے کارڈز، یہ نکاح کے خلاف تقریریں، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ عورتوں کی فلاح کے لیے ہے تو وہ خود احمق ہے یا دوسروں کو پرلے درجے کا گائودی گردانتا ہے۔ یہ مفادات کا سلسلہ ہے، ڈوریاں کہیں اور سے ہل رہی ہیں۔ یہ کٹھ پتلیاں ہیں جو نچائی جا رہی ہیں۔ یہ کٹھ پتلیاں کبھی نہیں مطالبہ کریں گی کہ عورتوں کو وراثت میں حق دو جو اسلام نے ان کے لیے مقرر کیا ہے۔ یہ کٹھ پتلیاں کبھی نہیں احتجاج کریں گی کہ بیٹی کی ولادت پر بیوی کو مارنے، طلاق دینے اور گھر سے نکالنے والے کو سزا دی جائے۔ اس لیے کہ یہی تو وہ فلاح ہے جو عورت کو پاکستان میں مطلوب ہے۔ 


اسی پاکستان میں لاکھوں کروڑوں عورتیں پو پھٹے اٹھتی ہیں۔ مویشیوں کو چارہ ڈالتی ہیں۔ پورے گھر کی صفائی کرتی ہیں۔ دہی بلوتی ہیں، پھر کھیتوں میں کام کرتی ہیں، گندم کاٹتی ہیں، مونگ پھلی نکالتی ہیں۔ کسان شوہروں کے شانہ بشانہ شام ڈھلے تک مشقت کرتی ہیں۔ گھر پلٹ کر کھانا پکاتی ہیں۔ سسر اور ساس کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ زندگی کے میدان میں وہ اس قدر مصروف عمل ہیں کہ انہیں ان چونچلوں کی، ان بے ہودگیوں کی،ان جلوسوں کی، ان پلے کارڈز کی اور نکاح کے خلاف ان بیانات کی ضرورت ہے نہ ان کے پاس اتنا وقت ہے۔ 


نسوانیت کے لیے باعث فخر وہ عورتیں ہیں جو دوسروں کے گھروں میں نوکرانیاں بن کر اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہیں۔ کھانا پکاتی ہیں، برتن مانجھتی ہیں، کپڑے دھوتی ہیں، فرش صاف کرتی ہیں، ان میں سے اکثر کے میان نکھٹو ہیں، عادی نشہ باز یا وار داتیے۔ 


اس ملک کی ننانوے فیصد عورتوں کاان جلوسوں سے کوئی تعلق نہیں، یہ کالم نگار ایک گائوں سے تعلق کھتا ہے، ہم گائوں کے لوگوں سے زیادہ عورتوں کے حقوق کا کس کو پتہ ہے؟ کوئی مدعی ہے توسامنے آئے۔ یہ ایک فیصد سے بھی کم۔ بہت کم‘ عورتیں جن کے میک اپ کا خرچ، جن کے ہیئر ڈریسنگ کے اخراجات، جن کے ملبوسات کی اکنامکس، ننانوے فیصد کے مجموعی خرچ سے بھی شاید کچھ زیادہ ہو، انہیں کیا علم کہ زندگی کیا ہے؟ عورت پر کیا گزر رہی ہے؟ یہ فیشن زدہ کلاس وہی ہے جس کی عورتیں خود دوسری بیویاں بنتی ہیں۔ یہی تو ہیں جو بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا وقت آئے تو اپنا تھوکا چاٹ لیتی ہیں۔ یہی وہ عورتیں ہیں جو خادمائوں پر ستم ڈھاتی ہیں اور کم سن بچیوں کو پیٹ بھر کھانا تک نہیں دیتیں۔ 


تیندوے جلوس نکال رہے تھے اور نعرہ کیا تھا؟ ہرن کی حفاظت! 






Sunday, March 10, 2019

پنڈی گھیب سے لاہور - لاہور سے دہلی



‎ماسٹر جگت سنگھ1885ء میں کیمبل پور(اٹک) کے قصبے پنڈی گھیب میں پیدا ہوئے۔1902ء میں راولپنڈی سے ہائی سکول پاس کیا۔ پہلے پرائمری سکول گولڑہ اور پھر میونسپل بورڈ ہائی سکول جہلم میں مدرس رہے۔ مزید تعلیم کے شوق میں سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے ایس وی کا امتحان پاس کیا۔ واپس پنڈی گھیب آئے اور وہاں خالصہ سکول کے نام سے تعلیمی ادارہ قائم کیا۔ خود بھی اس میں پڑھاتے رہے۔1905ء میں پنڈی گھیب ہی سے خالص تعلیمی مقاصد کے لئے ایک ماہانہ رسالہ ’’رہنمائے تعلیم‘‘ جاری کیا۔ 

‎ماسٹر جگت سنگھ کے اپنے الفاظ میں۔

‎ ’’32اس کے صفحات ہوتے تھے۔ میں خود ہی اس کے مضمون لکھتا۔ مسودہ خود ہی راولپنڈی لے جاتا کسی کاتب کی منت سماجت کر کے لکھواتا۔ بازار جا کر خود ہی کاغذ لاتا۔ پھر مطبع والوں کی خوشامد کر کے پاس کھڑا ہو کر چھپواتا۔ چھپے ہوئے فرمے سر پر اٹھا کر پنڈی گھیب لاتا۔ خود ہی انہیں فولڈ کرتا۔ خود پیکٹ بناتا۔ ٹکٹ لگا کر ڈاکخانے لاتا یعنی ایڈیٹر بھی میں تھا منیجر بھی میں تھا اور چپڑاسی بھی‘‘ 

‎خالص تعلیمی مزاج کا یہ رسالہ ڈسٹرکٹ انسپکٹرآف سکولز میر عبدالواحد کی سرپرستی میں شائع ہوتا۔ بچوں کا اس میں ایک خصوصی گوشہ ’’گلدستۂ اطفال‘‘ کے نام سے تھا۔ کرنل محمد خان کی بارہ برس کی عمر میں پہلی کہانی’’بلی اور ’’چوہا‘‘’’رہنمائے تعلیم‘‘ ہی میں شائع ہوئی۔ 

‎دو سال یعنی 1905ء سے 1907ء تک رسالہ ’’رہنمائے تعلیم‘‘ پنڈی گھیب سے شائع ہوتا رہا۔1907ء میں ماسٹر جگت سنگھ لاہور آ گئے تو رسالہ بھی ساتھ ہی لے آئے۔ یہاں مخالفین نے الزام لگایا کہ سرکاری ملازم ہو کر ذاتی پرچہ نکال رہا ہے جو غیر قانونی ہے مولانا حالی کے فرزند خواجہ سجادحسین پنجاب میں انسپکٹر تعلیمات تھے۔ انہوں نے اجازت لے دی۔ کچھ اور بااثر افراد نے بھی تعاون کیا۔ رسالہ پنجاب کے تمام سکولوں میں جانے لگا۔ اشاعت ہزاروں تک گئی۔ 

‎بڑے بڑے مشہور لوگ اعزازی حیثیت میں ایڈیٹر کے طور پر ماسٹر جگت سنگھ کے رسالے سے وابستہ رہے۔ ان میں جوش ملسیانی اور شیخ محمد اسماعیل پانی پتی بھی تھے۔1931ء میں ماسٹر صاحب نے ’’رہنمائے تعلیم‘‘ کا جوبلی نمبر نکالا۔ اس کے صفحات 738تھے۔ پچیس سال تک اس کی ضخامت کا ریکارڈ قائم رہا یہاں تک کہ ’’نقوش‘‘ نے بڑے بڑے نمبر نکالنے شروع کئے۔ بعد میں ماسٹر صاحب نے افسانہ نمبر ریڈ کراس نمبر‘ تاجپوشی نمبر اور دیگر نمبر بہت شان سے نکالے۔ ریڈ کراس نمبر پر انگریزی سرکاری نے انہیں ’’سردار صاحب‘‘ کا خطاب دیا۔ 

‎سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور میں 31برس تک تدریسی فرائض سرانجام دینے کے بعد 1938ء میں سردار صاحب سبکدوش ہو گئے۔ اب ’’رہنمائے تعلیم‘‘ کی مسلسل اشاعت ان کی زندگی کا واحد مقصد تھا۔ اب انہوں نے اس میں ادبی مضامین شائع کرنے کا فیصلہ کیا اس کے ساتھ ہی انہیں برصغیر کے نامور ادیبوں کا قلمی تعاون حاصل ہو گیا۔ مذہبی تنگ نظری کا یہاں شائبہ تک نہ تھا۔ حسن نظامی‘ پریم چند‘ حکیم یوسف حسن‘ اسماعیل پانی پتی‘ ریاض خیر آبادی‘ جلیل مانک پوری‘ نوح ناروی ‘ جگر مراد آبادی‘ تلوک چند محروم‘ عرش ملسیانی اور صوفی تبسم جیسے مشاہیر اس رسالے میں لکھتے رہے۔ 

‎ماسٹر جگت سنگھ نے لاہور میں اپنا مکان بنا لیا تھا۔ پھر ہندوستان تقسیم ہو گیا۔ ماسٹر صاحب ہجرت کر کے دہلی چلے گئے۔ ’’رہنمائے تعلیم‘‘ کو دل سے لگا کر ساتھ لے گئے۔ اس کی اشاعت دہلی سے جاری رہی! یوں پنڈی گھیب ضلع اٹک سے نکلنے والا رسالہ لاہور سے ہوتا ہوا دہلی جا پہنچا۔ جہاں نوح ناروی جیسے معروف شاعر‘ جو داغ دہلی کے شاگرد تھے، ’’رہنمائے تعلیم‘‘ کی سرپرستی کرتے رہے۔

‎ماسٹر جگت سنگھ 1962ء میں اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے فرزند ہربھجن سنگھ تھاپڑ نے رسالہ جاری رکھنے کا عزم کیا اور جاری کیا۔ شیخ اسماعیل پانی پتی لکھتے ہیں:

‎ ’’1930ء میں رسالہ ’’رہنمائے تعلیم‘‘ لاہور سے میرا ادرات کا تعلق قائم ہوا جو آج تک چونتیس برس ہو چکے ہیں قائم ہے۔ یہ رسالہ آج کل میری ادارت میں دہلی سے نکل رہا ہے۔ رسالہ کے مالک اور بانی سردار صاحب ماسٹر جگت سنگھ فوت ہو چکے ہیں اب ان کے لائق فرزند سردار ہربھجن سنگھ تھاپڑ یہ رسالہ نکال رہے ہیں میری ادارت میں رسالہ ہذا کے بعض خاص نمبر بڑی شان سے شائع ہوئے ہیں‘‘ 

‎ہربھجن سنگھ تھاپڑ 1920ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ آنرز ان پنجابی(فارسی رسم الخط میں) پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیا۔ انہیں ادبی علمی اور صحافتی خدمات پر بھارت کی حکومت اور علمی اداروں نے کئی انعامات سے نوازا۔ہربھجن سنگھ نے رسالے کے کئی نمبر شائع کئے ان میں نوح ناروی نمبر‘ مبشر علی صدیقی نمبر ماسٹر جگت سنگھ نمبر اوربیدل بیکاری نمیر بہت مشہور ہوئے۔2005ء میں انہوں نے رسالے کا’’صدی نمبر‘‘ نکالا اور طویل العمر ہونے کا رسالے نے ریکارڈ قائم کیا۔ 

‎ہر بھجن سنگھ کی وفات پر ان کے وارثوں نے رسالہ بند کرنے کا فیصلہ کیا مگر شمع کچھ اور باہمت ہاتھوں نے سنبھال لی۔ 2007ء سے ابونعمان ’’رہنمائے تعلیم جدید‘‘ کے نام سے رسالے کی اشاعت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 

‎بدقسمتی یہ ہوئی کہ جرائد کی تاریخ اور تذکروں میں اس رسالے کا نام جس طرح آنا چاہیے تھا نہ آ سکا۔ بھارت میں مولانا امداد صابری نے اردو صحافت کی تاریخ کئی جلدوں میں لکھی۔ انہوں نے رہنمائے تعلیم کو 1906ء کے رسالوں میں شمار کیا۔ جو غلط ہے۔ پرچے کا آغاز 1905ء میں پنڈی گھیب سے ہوا تھا۔ پھر امام مرتضیٰ نقوی ’’اردو ادب میں سکھوں کا حصہ‘‘ کے عنوان سے اپنی تحقیق منظر عام پر لائے۔ انہوں نے بھی سال اشاعت غلط لکھا یعنی 1907ء دیگر تذکروں میں پرچے کا ذکر ہی مفقود ہے۔ 

‎اکادمی ادبیات پاکستان نے انور سدید کو جرائد کی تاریخ لکھنے پر مامور کیا۔ ان کی تحقیق کا نام’’پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ‘‘ہے۔ انہوں نے اپنے کام کو بارہ ابواب میں تقسیم کیا اور آغاز سے لے کر 1988ء تک کے عرصہ کو موضوع بنایا۔ مگر بدقسمتی سے یہ رسالہ جو لاہور سے 1907ء سے لے کر 1947ء تک مسلسل چالیس برس باقاعدگی سے شائع ہوتارہا ۔ ان کی نگاہوں سے اوجھل رہا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری لائبریریوں میں اس رسالے کی مکمل فائل کہیں نہیں! 

‎جنوری 2014ء میں دہلی میں ایک تقریب ابونعمان کے اعزاز میں منعقد ہوئی۔ اس میں رہنمائے تعلیم کا بھر پور تذکرہ ہوا۔ اسی سال 9نومبر کو یوم اقبال کے حوالے سے ’’عالمی اردو آرگنائزنگ کمیٹی نئی دہلی نے کچھ دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا۔ ماہر اقبالیات پروفیسر عبدالحق نے صدارت کی۔ اس موقع پر عالمی یوم اردو کی مناسبت سے ماہنامہ ’’رہنمائے تعلیم جدید‘‘ نے خصوصی شمارہ بابائے اردو عبدالحق نمبر شائع کیا۔ 

‎کیا ’’رہنمائے تعلیم‘‘ کو قدیم ترین جریدہ سمجھا جا سکتا ہے جو پنجاب کے مغربی علاقے سے آغاز ہوا؟ اس پر محققین کو کام کرنا چاہیے۔ اس پرچے کی مکمل فائل کم از کم مقتدرہ قومی زبان اور اکادمی ادبیات پاکستان کے کتب خانوں میں ضرور ہونی چاہیے۔ پھر یہ تحقیق کرنے والوں کا کام ہے کہ اس کے ایک صدی سے زیادہ عرصہ پر پھیلے ہوئے ذخائر سے لعل و جواہر نکالیں‘ ترتیب دیں اور اردو ادب کے شائقین کو پیش کریں۔ 

‎اس تحریر کے لئے نوجوان محقق اور ادیب ارشد سیماب ملک کے طویل تحقیقی مضمون’’اردو جریدہ نگاری اور‘‘ ’’رہنمائے تعلیم‘‘ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ یہ مضمون ماہنامہ ذوق میں چھپا ہے۔ ارشد سیماب ملک اٹک میں بیٹھ کر‘ اپنے بے حد محدود وسائل کے ساتھ بھر پور ادبی اور تحقیقی خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ اٹک کے حوالے سے اس نے ان ادیبوں اور شاعروں کے بھی احوال قلم بند کئے ہیں جو تقسیم کے وقت سرحد پار چلے گئے۔ ادب اور تحقیق کا کوئی علاقہ ہوتا ہے نہ مسلک! غالب اور اقبال بھارت میں بھی مقبول ہیں۔ پریم چند اور رتن ناتھ سرشار کو پاکستان میں بھی پڑھایا جاتا ہے۔ اردو کے لئے جس نے بھی کام کیا ہے اور جو بھی کام کرے گا‘ اس کا نام اردو کی تاریخ میں ضرور آئے گا!
 

powered by worldwanders.com