Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, June 13, 2024

قراردادِ مقاصد کی بیلنس شیٹ


گھمسان کی جنگ ہے۔ کشتوں کے پشتے لگ رہے ہیں۔ موضوع‘ بنیادی طور پر‘ قرادادِ مقاصد ہے۔ جناب وجاہت مسعود‘ جناب مجیب الرحمان شامی اور جناب خورشید ندیم میدان میں نبرد آزما ہیں۔ تینوں اصحاب علم و ادب‘ صحافت اور خطابت میں یکتائے روزگار ہیں۔ تینوں اردو لکھتے ہیں تواپنے اپنے انداز میں‘روشنیاں بکھیرتے جاتے ہیں! ان کے دیے ہوئے مصرع پر گرہ لگانا کم از کم مجھ جیسے نیم خواندہ کے بس کی بات نہیں۔ پھر بھی کچھ معروضات ایسی ہیں جو پیش ہونا چاہتی ہیں۔ میری مثال اُس شخص کی سی ہے جس کے تین بھائی عالم فاضل تھے اور وہ اَن پڑھ تھا۔ اس کا نام فتح محمد تھا۔ اَن پڑھ ہونے کی وجہ سے ''پھتّا‘‘ کہلواتا تھا۔ کسی شمار قطار میں نہ تھا۔ مگر بھائی تو تھا؛ چنانچہ جب بھائیوں کو گِنا جاتا تھا تو اس کا نام بھی ضرور ہوتا تھا۔ اس سے محاورہ ایجاد ہوا کہ ''پھَتّا وِچ بھراواں گَتّا‘‘۔ گَتّا ہماری لہندی پنجابی میں ''گننا‘‘ کا فعل مجہول ہے۔ یعنی پھَتا بھی بھائیوں میں گِنا جاتا ہے۔
قراردادِ مقاصد کو پچھتر سال ہو چکے ہیں۔ آج کے با شعور پاکستانی نوجوان کو اس سے غرض نہیں کہ قرارداد مقاصد غلط تھی یا صحیح ! پیش کرنی چاہیے تھی یا نہیں! پاس ہونی چاہیے تھی یا نہیں! اسے تو حتمی نتیجے 

( End result)

 میں دلچسپی ہے۔ وہ تو 

Finished product

 کو دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کا سوال یہ ہے کہ قراردادِ مقاصد سے ہمیں حاصل کیا ہوا؟ بہت سے دیگر قوانین اور آئینی شقوں کی طرح یہ قرارداد بھی صرف پاکستان ہی نے اپنائی۔ پچپن دیگر مسلم ممالک کو اس کی ضرورت نہ پیش آئی۔ ہم نے قرار دادِ مقاصد بھی پاس کر لی۔ اسے آئین کا جزو بھی بنا لیا۔ مذہب کی روایتی تعبیر بھی ہمارے پیش منظر پر چھائی ہوئی ہے۔ نام کے ساتھ بھی اسلامی جمہوریہ لگا ہے‘ مدارس کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ مسجدیں بھی آباد ہیں۔ ہم میں سے اکثریت کا ظاہر بھی روایتی اسلام کے مطابق ہے! کیا اس سب کچھ کے بعد ہم ایک مثالی اسلامی ملک یا معاشرہ بن سکے؟ کیا دنیا میں ہماری دیانتداری کی مثالیں دی جاتی ہیں؟ حالت یہ ہے کہ ہم پر اعتبار کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ پورنو گرافی سے لطف اندوز ہونے میں ہمارا‘ ایک سروے کی رُو سے‘ پہلا نمبر ہے! ایک کے بعد دوسری ریاست ہمارے شہریوں کے ویزے بند کرتی پھرتی ہے۔ کوئی ایسی خیانت نہیں جو ہم نے روا نہ رکھی ہو۔ ایفائے عہد‘ صدقِ مقال‘ اکلِ حلال کچھ بھی ہمارے پاس نہیں! ریڑھی والے سے لے کر ٹاپ تک ہم دروغ گوئی میں طاق ہیں! جہاں معصوم بچوں کو خالص دودھ نہ ملے اور دوائیاں جعلی ہوں‘ جہاں قدم قدم پر رشوت دے کر زندگی گزارنا پڑے وہاں آپ ایک قرارداد نہیں‘ سو قراردادوں کو آئین کا حصہ بنا دیں‘ قراردادیں قابلِ فخر نہیں ہوں گی! یہ درست ہے کہ قراردادِ مقاصد اس صورت حال کی ذمہ دار نہیں لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ وہ ہمیں اس صورت حال سے بچا بھی نہ سکی۔ قرار دادِ مقاصد کا ہمیں کوئی فائدہ نہ ہوا۔ مثالی مسلم ملک بننے کے لیے یہ قرارداد نہیں‘ کچھ اور اقدامات کی ضرورت تھی جو ریاست اٹھا سکی نہ کوئی حکومت! آج ہم دنیا میں اسلام کے حوالے سے نہیں‘ دہشت گردی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں! ہماری شہرت بدنامی سے عبارت ہے۔ ہمار ی آستین پر سیالکوٹ میں مارے جانے والے سری لنکن کا خون لگا ہے۔ جڑانوالہ اور سرگودھا تو ہماری انتہاپسندی کی صرف دو مثالیں ہیں‘ ورنہ سچ یہ ہے کہ بیسیوں بار بین الاقوامی میڈیا میں سفاک خونریزی اور بربریت ہماری شناخت بن چکی ہے! (اس پر بھی غور فرما لیجیے کہ ملک کے کن طبقات نے ان واقعات کی مذمت نہیں کی؟) ہم تو یہی کہتے ہیں کہ اس میں قراردادِ مقاصد کا کوئی عمل دخل نہیں مگر قراردادِ مقاصد کی موجودگی میں یہ صورت حال ذہنوں میں سوالات اٹھاتی ہے۔ زبانوں کو سیا جا سکتا ہے‘ ذہنوں کو نہیں!!
آج کا طالب علم پوچھتا ہے کہ قراردادِ مقاصد قائداعظم کی وفات کے بعد ہی کیوں لائی گئی؟ ہم مسخ شدہ تاریخ کو اپنی خواہش کے رنگ کا کرتا پہنا کر پچھتر برسوں سے گلی گلی پھرا رہے ہیں! تاریخ کی نصابی کتابوں میں جوگندر ناتھ منڈل کا نام کیوں نہیں لکھا جا رہا؟ ہم آج کی نسل کو کیوں نہیں بتاتے کہ تقسیم سے پہلے 1946ء کی عبوری حکومت میں جوگندر ناتھ منڈل مسلم لیگ کی نمائندگی کر رہے تھے؟ آج کے پاکستانیوں کو کیوں نہیں بتایا جاتا کہ اسمبلی کے جس اوّلین اجلاس میں قائداعظم نے ملک کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا‘ اس اجلاس کی صدارت جوگندر ناتھ منڈل نے کی تھی جو ملک کے پہلے وزیر قانون تھے۔ اُس طویل استعفے کو ہماری تاریخ کی کتابوں سے کیوں غائب کیا گیا ہے جو جوگندر ناتھ منڈل نے وزیراعظم کو پیش کیا تھا؟ پیر علی محمد راشدی کی تصنیف ''رودادِ چمن‘‘ جوگندر ناتھ منڈل سے‘ قائداعظم کی وفات کے بعد روا رکھے گئے شرمناک سلوک کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ ایک طرف قائد کو ان پر اتنا اعتماد تھا کہ پہلے اجلاس کی صدارت ان سے کرائی‘ دوسری طرف ان کی وفات کے بعد اُن سے وہ سلوک روا رکھا گیا جس کی وجہ سے وہ واپس کلکتہ چلے گئے اور باقی عمر بھارتی ہندوؤں کے طعنے سنتے رہے۔ یہ ایک فرد کی داستان نہیں۔ یہ ایک خاص مائنڈ سیٹ کا آغاز تھا جس نے پاکستان کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس کا آغاز جوگندر ناتھ منڈل جیسی شخصیات کو رَد کرنے سے ہوا۔ آج یہ مائنڈ سیٹ اپنے نقطۂ عروج پر ہے جس کی جھلک بار بار دکھائی دیتی ہے۔ کبھی سیالکوٹ میں‘ کبھی جڑانوالہ اور سرگودھا میں! کبھی خوشاب کی تحصیل قائد آباد میں‘ جہاں بینک کا گارڈ بینک کے منیجر کو گولی سے مار دیتا ہے اور پورا شہر گارڈ کے اعزاز میں جلوس نکالتا ہے! ایسے بے شمار واقعات ہیں جن کے سرسری ذکر سے بھی کالم کی تنگ دامانی عاجز ہے! یہ تناور درخت اُس بیج کا نتیجہ ہے جو قائد کی وفات کے بعد بویا گیا تھا! بقول سعدی ؎
سرِ چشمہ شایَد گرفتن بہ بیل
چو پُر شد نشاید گذشتن بہ پیل
ابتدا میں پانی کے چشمے کو ایک بیلچے سے بھی بند کیا جا سکتا ہے مگر جب پانی سے بھر جائے تو ہاتھی پر سوار ہو کر بھی نہیں گزرا جائے گا۔
یہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے دو مسلمان پروفیسر ہیں جنہوں نے 2010ء سے ایک انڈیکس سسٹم شروع کیا جس سے وہ دنیا کے مسلمان اور غیر مسلم ممالک کو قرآن اور حیات پاک (ﷺ) کی کسوٹی پر ماپتے ہیں کہ کون کون سی حکومتیں ریاست کے قرآنی اصولوں پر چل رہی ہیں! یہ کسوٹی چار بڑے عوامل پر مشتمل ہے۔ 1: قرآن و سنت کے معاشی اصول۔ 2: قرآن و سنت کے قانون اور گورننس کے اصول۔ 3: قرآن و سنت کی رُو سے انسانی اور سیاسی حقوق۔ 4: قرآن و سنت کی رُو سے بین الاقوامی تعلقات۔ 2010ء سے لے کر 2022ء تک کوئی مسلمان ملک پہلے چالیس ملکوں میں نہیں آ سکا۔ 2022ء کے 

Islamicity Index 

کی رُو سے ڈنمارک پہلے نمبر پر ہے جہاں اسلامی تعلیمات‘ اقدار اور ادارے دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے پہلے مسلسل چھ سال تک نیوزی لینڈ ٹاپ کرتا رہا۔ اس کے بعد نیدرلینڈز‘ سویڈن‘ سوئٹزرلینڈ‘ ناروے‘ آئس لینڈ اور آئرلینڈ کا نمبر آتا ہے۔ یو اے ای کا نمبر 48 ہے۔ انڈو نیشیا کا 62‘ سعودی عرب کا 90‘ اور پاکستان کا 136 ہے۔ یہ جو کروڑوں مسلمان مغربی ملکوں کو ہجرت کر گئے ہیں اور جو کروڑوں جانے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں‘ ان کا دماغ خراب نہیں کہ وطن چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ یہاں فریقین قرار دادِ مقاصد میں الجھے ہوئے ہیں۔ اور کروڑوں مسلمان‘ انصاف اور مساوی مواقع کے حصول میں اُن ملکوں کو جا رہے ہیں جہاں کسی قرارداد کا جھگڑا نہیں۔ ع
سخن شناس نہ ای جان من! خطا این جاست

Monday, June 10, 2024

ایک اہم ملاقات کی تفصیل


بڑے بڑے لوگوں سے ملاقات کا وقت لیا ہے۔ کبھی کوئی خاص دقت پیش نہیں آئی۔ وزیروں سے‘ سفیروں سے‘ امیروں سے‘ بادشاہوں سے! زیادہ سے زیادہ یہ ہوا کہ دو تین دن انتظار کرنا پڑا۔ مگر ایک شخصیت ایسی تھی جس سے اپائنٹمنٹ لینے کی کوشش میں چھکے چھوٹ گئے۔ پہلے تو سراغ ہی نہیں مل رہا تھا کہ کس سے رابطہ کیا جائے۔ ہر شے پُراسرار تھی۔ شخصیت بہت بڑی مگر آہنی پردوں کے پیچھے! کئی صحافی دوستوں سے مدد مانگی۔ کوشش انہوں نے بہت کی مگر تھک ہار کر اظہارِ عجز کر دیا۔
پھر مجھے یہ محاورہ یاد آگیا کہ ''پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی‘‘۔ ایک پرانا بے تکلف دوست پولیس میں ملازم تھا۔ اس سے اظہارِ مدعا کیا۔ پہلے تو اس نے ٹال مٹول سے کام لیا مگر میں نے جب پرانی دوستی کا واسطہ دیا تو کہنے لگا یار! معاملہ بہت خطرناک ہے۔ کسی کو معلوم ہو گیا کہ شیدے ڈاکو کا نمبر میں نے دیا ہے تو میری شامت آ جائے گی۔ اس پر مجھے غصہ آگیا۔ میں نے کہا: کیا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات ہے کہ پولیس کی خاموشی یعنی ''نیم رضا‘‘ کے بغیر کوئی ڈاکا نہیں پڑ سکتا؟ پھر میں نے اسے آنکھوں دیکھا واقعہ سنایا۔ یہ 2012ء یا 2013ء کی بات ہے۔ میں اسلام آباد کی سب سے زیادہ پُراسرار نواحی آبادی میں قیام پذیر تھا۔ اس مشہور و معروف آبادی کا نام بتانے کی ضرورت نہیں‘ جو لوگ وفاقی دار الحکومت اور اس کے حدود اربعہ سے واقف ہیں وہ اس آبادی کو بخوبی جانتے ہیں۔ دو گھر چھوڑ کر نسیم صاحب (یہ اصل نام نہیں)رہتے تھے۔ ان سے گھریلو تعلقات تھے۔ بہت شریف اور بھلے مانس آدمی تھے۔ ان کی بیگم صاحبہ اور وہ ہمارے پورے کنبے سے محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔ ایک رات ان کے گھر میں ایک گاڑی کھڑی تھی جو ان کی اپنی نہیں تھی‘ کسی دوست کی تھی۔ صبح اٹھے تو غائب تھی۔ متعلقہ تھانے والے آئے‘ روٹین کی کارروائی ہوئی۔ پھر بات آئی گئی ہو گئی۔ نسیم صاحب کو بھی معلوم تھا کہ ان تلوں سے تیل نکلنے کا امکان صفر سے بھی کم ہے؛ چنانچہ چپ ہو رہے۔ وہ خاموش طبع انسان تھے۔ کسی سے اس نقصان کا انہوں نے ذکر ہی نہ کیا۔ ہم چونکہ قریبی دوستوں میں سے تھے اس لیے ہم سانحے سے آگاہ تھے۔ چند ماہ کے بعد انہیں ایک فون کال موصول ہوئی کہ گاڑی واپس لینی ہے تو علاقہ غیر میں فلاں مقام پر آ کر لے جائیے۔ انہوں نے فون کرنے والے سے پوچھا کہ تم کون ہو اور میرا نمبر تمہیں کس نے دیا ہے؟ فون کرنے والے نے کہا کہ زیادہ باتیں نہ کرو‘ گاڑی لینی ہے تو آجاؤ۔ نسیم صاحب سے غلطی یہ ہوئی کہ کسی سے مشورہ کیا نہ بتایا۔ ایک پٹھان دوست کو ساتھ لیا اور جو جگہ علاقہ غیر میں بتائی گئی تھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں ان دونوں (نسیم صاحب اور ان کے پٹھان دوست) کو اغوا کر لیا گیا۔ ایک خراب‘ ویران گھر میں زنجیروں سے باندھ دیا گیا۔ بالٹی کے جس پانی سے منہ ہاتھ دھوتے تھے‘ وہی پیتے بھی تھے۔ کئی کروڑ کا تاوان مانگا گیا۔ قصہ کوتاہ دونوں ساٹھ‘ ساٹھ لاکھ دے کر چھوٹے۔ اب سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ فون کرنے والوں اور اغوا کرنے والوں کو کیسے علم ہوا کہ نسیم صاحب کی گاڑی چوری ہوئی تھی اور یہ ان کا فون نمبر ہے۔ عقل والوں کے لیے اس میں سبق اور نشانیاں ہیں!
میری لعن طعن سے تنگ آکر پُلسیے دوست نے آخر کار شیدے ڈاکو کا نمبر دے دیا۔ یہ نمبر شیدے کا اپنا نہیں تھا‘ اس کے کسی چمچے کا تھا جو یوں سمجھیے اس کا پی اے یا سٹاف تھا۔ بہر طور اسی کی زبانی وقت اور جگہ کا تعین کیا گیا۔ مقام ایک سیون سٹار ہوٹل کی لابی تھی اور وقت دوپہر کا مقرر ہوا۔ دوپہر کا سن کر مجھے عجیب سا لگا۔ میرے ذہن میں تھا کہ ڈاکو رات کے وقت کو ترجیح دے گا۔ میں لابی میں جا کر انتظار کرنے لگا۔ میں ایک ایسے شخص کی توقع کر رہا تھا جس نے بڑی بڑی مونچھیں رکھی ہوں گی‘ پگڑی سے آدھا چہرا چھپایا ہوا ہو گا۔ بہت دیر کے بعد ایک صاحب میری میز پر تشریف لائے اور آہستگی سے کہا 

Sheeda here 

!میرے تو اسے دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے۔ یہ ایک کلین شیوڈ‘ وجیہ نوجوان تھا۔ اچھا خاصا خوش شکل۔ خشک بالوں میں سلیقے سے کنگھی کی گئی تھی۔ اس نے جو پولو پہنی ہوئی تھی اس پر ''باس‘‘ لکھا ہوا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس برانڈ کی پولو بُشرٹ نو‘ دس ہزار روپے سے کم نہ تھی۔ بہترین کوالٹی کی جینز کے نیچے اس کے پاؤں میں کلارک کے جوتے نظر آرہے تھے! وہ فصیح و بلیغ انگریزی میں گفتگو کر رہا تھا۔ مشروب کا پوچھا تو اس نے ''لاتے‘‘ کافی کا بتایا!!
کہنے لگا: سوالات کیجیے۔ لہجہ مہذب اور شائستہ تھا۔ میرا پہلا سوال تھا کہ اتنا پڑھ لکھ کر ڈاکے مارنے کا کام؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی! شیدے نے جھاگ والی لاتے کافی کا گھونٹ بھرا اور ہنسا! کہنے لگا: بے شمار دوسرے ڈاکو بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ان پر کوئی معترض نہیں ہوتا! مجھ پر کیوں؟ میں نے حیرت سے پوچھا کہ کون سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکو؟ وہ ایک بار پھر ہنسا۔ کہنے لگا: تحصیلوں اور کچہریوں میں جو رشوت سارا دن لی جاتی ہے کیا وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد تک نہیں پہنچتی؟ کیا یہ ڈاکے نہیں؟ ترقیاتی اداروں میں کیا اَن پڑھ لوگ بیٹھے ہیں؟ کسی ڈی سی‘ کسی پٹواری‘ کسی تحصیلدار‘ کسی کمشنر‘ کسی ایس پی کا ماہانہ خرچ معلوم کر لیجیے۔ پھر اس خرچ کا موازنہ اس کی ماہانہ تنخواہ سے کیجیے۔ میری جواب طلبی اس کے بعد کیجیے۔ میں نے کہا: دیکھو شیدے! تم جن کے گھروں سے کیش‘ گاڑیاں‘ زیورات اور ایل ای ڈی اٹھاتے ہو اور گھر والوں کو رسیوں سے باندھ کر انہیں لوٹتے ہو‘ وہ سب مجبور اور مظلوم لوگ ہیں۔ کیا ان پر تمہیں رحم نہیں آتا؟ شیدا پھر ہنسا! کہنے لگا: کالم نگار صاحب یا تو آپ خود بے وقوف ہیں یا مجھے بے وقوف سمجھ رہے ہیں! جو زمین یا جائیداد کے انتقال کے لیے یا مکان کا نقشہ منظور کرانے کے لیے یا زرعی زمین کی گرداوری کے لیے یا گیس‘ بجلی کے کنکشن کے لیے اپنی خون پسینے کی کمائی معزز ڈاکوؤں کو پیش کرتے ہیں کیا وہ مجبور اور مظلوم نہیں؟ وہ بھی زنجیروں سے بندھے ہیں۔ صرف تمہیں وہ زنجیریں نظر نہیں آتیں! اور ہاں! تم میری خوش لباسی پر حیران ہوئے تھے۔ جو ڈاکٹر گردوں کا کاروبار کر رہے ہیں اور ضرورت کے بغیر دلوں میں سٹنٹ ڈال رہے ہیں اور سٹنٹ بھی جعلی ڈال رہے ہیں اور جو فزیشن سرجن سے بھی ''کَٹ‘‘ لیتے ہیں اور لیبارٹری والوں سے بھی‘ کیا وہ سوٹڈ بوٹڈ نہیں؟ کیا ان کی قمیضیں اور نکٹائیاں اعلیٰ برانڈز کی نہیں؟ اور کیا وہ بھی ڈاکو نہیں؟ 
شیدے نے کافی کا لمبا گھونٹ بھرا۔ پھر مجھ سے پوچھا: کیا تم بچے ہو؟ یا اندھے اور بہرے ہو؟ کیا تم نہیں جانتے کن کن کے گھروں میں‘ ملک کے اندر اور ملک سے باہر‘ کرنسی نوٹ گننے کی مشینیں موجود ہیں؟ مجھے معلوم ہے تم ایک ڈر پوک کالم نگار ہو۔ تم مجھے ڈاکو ثابت کرو گے مگر جو مجھ سے بڑے ڈاکو ہیں‘ ان کا نام کبھی نہیں لوگے! اورہاں! تم تو شاعر بھی ہو! کیا اقبال کی وہ نظم تم نے نہیں پڑھی جس کا عنوان ہے ''مسولینی اپنے مغربی اور مشرقی حریفوں سے‘‘۔ پھر شیدے نے اس نظم کی پہلی سطر سنائی: کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جرم؟
شیدے نے مجھے کافی کا بل نہیں دینے دیا۔ ایک درد ناک مسکراہٹ کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے اس نے کہا ''خدا کا شکر ہے میں ان ڈاکوؤں میں سے نہیں جو قومی خزانے پر ڈاکے ڈالتے ہیں‘‘۔

Thursday, June 06, 2024

صرف پی ڈبلیو ڈی کا خاتمہ کیوں؟؟


وزیراعظم نے حکم دیا ہے کہ پی ڈبلیو ڈی کے محکمے کو ختم کر دیا جائے۔ وجہ؟ کرپشن اور نااہلی!یہ ایک درست فیصلہ ہے! مگر سوال یہ ہے کہ صرف پی ڈبلیو ڈی ہی کیوں؟ وہ جو پنجابی میں کہتے ہیں ''جیہڑا بھنّو‘ اوہی لال اے‘‘۔ اگر کسی محکمے کو ختم کرنے کا سبب کرپشن اور نااہلی ہے تو پھر:تمام شہر ہے دو چار دس کی بات نہیں!
کچھ سال پہلے لاہور کی کسی عدالت نے کہا تھا کہ ایل ڈی اے کرپٹ ترین محکمہ ہے۔ اس پر اس کالم نگار نے سی ڈی اے کو غیرت دلائی تھی کہ جاؤ اور شکایت کرو کہ کرپٹ ترین ہونے کا اعزا ز تو تمہارا ہے۔ ایل ڈی اے بھی ہو گا مگر دوسرے نمبر پر! دو ہفتے پہلے ہمارے ایک دوست نے مکان خریدا۔ مکان بہت پرانا تھا۔ 50‘ 60 سال پہلے کا بنا ہوا۔ اس کی دیکھ بھال بھی نہیں کی گئی تھی۔ معمار نے فیصلہ سنایا کہ اسے منہدم کرنا ہو گا۔ منہدم کرنے والی پارٹیوں کو بلایا گیا۔ سب نے ایک ہی بات بتائی کہ انہدام کیلئے سی ڈی اے سے این او سی لینا ہو گا اور اس کیلئے 50ہزار روپے ''ریٹ‘‘ ہے!! کہنے کو تو سی ڈی اے نے ''وَن ونڈو آپریشن‘‘ بنایا ہے مگر اس طریقِ کوہکن میں بھی حیلے پرویزی ہی ہیں! اگر کام 50ہزار روپے رشوت دے کر ہی کرانا ہے تو پھر ایک ڈائریکٹر لیول کا افسر ادارے کو چلانے کیلئے کافی ہے۔ اور کچھ نہیں تو چیئرمین سی ڈی اے کے ارد گرد پرسنل افسروں اور سٹاف کا جو تہ در تہ حصار ہے اسی میں کمی کر دیجیے۔
اور اس ''وزارتِ مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی‘‘ کی کیا منطق ہے؟ مذہبی امور کا حکومت سے کیا تعلق ہے؟ کون سے مذہبی امور؟ مساجد تو نجی شعبے میں ہیں اور موروثی حساب سے چل رہی ہیں۔ یہ اور بات کہ ملائیشیا‘ مصر‘ سعودی عرب‘ کویت‘ یو اے ای اور ترکیہ میں مساجد ریاست کی تحویل میں ہیں! اس وزارت کا سائز چھوٹا کیجیے اور اسکا نام وزارتِ حج رکھیے۔ رہی بین المذاہب ہم آہنگی تو وہ آئے دن ظاہر ہو ہی رہی ہے۔ سیالکوٹ میں جو کچھ ہوا اس کی خبر شاید بین المذاہب ہم آہنگی کی وزارت کو نہیں موصول ہوئی۔ سرگودھا میں جس نذیر مسیح پر تشدد کیا گیا تھا وہ نو روز کے علاج اور اذیت کے بعد وفات پا گیا ہے۔ انصاف کیجیے! کیا بین المذاہب ہم آہنگی کی وزارت اس پر طلائی تمغے کی حقدار نہیں ہے؟؟ خدا کا خوف کیجیے اور یہ ڈھکوسلے بند کیجیے۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پر جو ملازمین پَل رہے ہیں انہیں فارغ کیجیے۔ کسے دھوکا دے رہے ہیں آپ؟ شاید اپنے آپ کو! دنیا کو تو ساری حقیقت معلوم ہے!!وزارتِ تعلیم کا کیا جواز ہے؟ کیا ہماری اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے وی آئی پی اور وزیر‘ تعلیم کی بنیاد پر اس مقام پر پہنچے ہیں؟ کیا ہمارے بڑے بڑے عظیم المرتبت پراپرٹی ٹائیکون‘ جو ہر حکومت‘ ہر حکمران اور ہر سیاستدان کی آنکھوں کے تارے ہیں‘ جو بڑی بڑی عالیشان پیغام رسانیاں کرتے ہیں اور وچولن کا کام کرتے ہیں‘ کیا تعلیم کی بنیاد پر اس بے مثال اور فلک بوس مقام پر پہنچے ہیں؟ تکلف مت کیجیے۔ وزارتِ تعلیم بند کر دیجیے۔ ہمیں تعلیم کی ضرورت نہیں! یوں بھی جوصحیح معنوں میں تعلیم حاصل کرتا ہے‘ ملک چھوڑ جاتا ہے۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ یورپ اور امریکہ کو ڈاکٹر‘ سائنسدان اور پروفیسر سپلائی کرتے رہیں۔ ہمیں ان کی ضرورت نہیں تو اس سیاپے کا فائدہ؟
اور یہ منسٹری آف ہیومن رائٹس! یعنی انسانی حقوق کی وزارت! اول تو یہاں ''انسانی‘‘ کا لفظ زائد ہے! کون سے انسان اور کون سے حقوق؟ میرا سب سے پہلا انسانی حق یہ ہے کہ میری جان اور میرا مال محفوظ رہے۔ اگر اس کیلئے مجھے دوسرے مکینوں کے ساتھ مل کر گلی کیلئے چوکیدار بھی خود رکھنا ہے‘ الارم سسٹم بھی خود لگوانا ہے‘ کیمرے بھی خود نصب کرانے ہیں تو ریاست میرے انسانی حقوق کیلئے کیا کر رہی ہے! آپ کا کیا خیال ہے کہ ملک میں ڈاکوں‘ چوریوں‘ اغوا اور قتل و غارت کی جو مقدار اور رفتار ہے‘ اس کے پیشِ نظر کیا تھانوں کی ضرورت ہے؟ ان پر کروڑوں اربوں کے اخراجات کی کیا منطق ہے؟ ریلوے سکڑ کر پہاڑ سے چوہا بن چکی ہے۔ کاش اسمبلی میں کوئی پوچھے کہ کتنی لائنیں اور کتنے ریلوے سٹیشن بیکار پڑے ہیں۔ وزیر آباد سے پہلے ریل سیالکوٹ جاتی تھی اب نہیں جاتی۔ نارووال شکر گڑھ ریلوے ٹریک 22سال سے ویران پڑا ہے۔ پورے ملک میں ایسے سینکڑوں ٹریک ہوں گے۔ اتنی بڑی وزارت اور اتنا بڑا ریلوے ہیڈ کوارٹر! بجٹ کا زیادہ حصہ ریلوے کے ملازم ہی تناول فرما جاتے ہیں! ریٹائرڈ ملازمین بھی مفت سفر کرتے ہیں۔ وزارت کے بجائے ایک چھوٹا سا سیل اس تخفیف شدہ‘ ننھی منی ریلوے کیلئے کافی ہے جسے وزارتِ مواصلات کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایک وزارت صنعت اور پیداوار کی بھی ہے۔ صنعت میں تو رسوائے زمانہ سٹیل مل شامل ہو گی۔ اس سے زیادہ کامیاب اور نفع آور انڈسٹری کیا ہو سکتی ہے؟ رہی پیداوار تو وہ سمجھ سے باہر ہے۔ نہ جانے کون سی‘ کس شے کی پیداوار ہے! یوٹیلیٹی سٹورز اس وزارت کے تحت ہیں۔ کیا یہ صنعت اور پیداوار کا حصہ ہے؟ یہ تو دکانداری ہے۔ آپ مال خرید کر بیچتے ہیں۔ اس کا صنعت سے کیا تعلق؟
جہاں چند وزارتوں اور محکموں کو ختم کرنا ضروری ہے وہاں کچھ نئی وزارتوں کا قیام بھی وقت کی ضرورت ہے۔ ایک نئی وزارت جو فوراً قائم ہونی چاہیے ''وزارتِ معلوماتِ رشوت‘‘ ہے۔ اس کا کام عوام کو آگاہ کرنا ہو گا کہ فلاں محکمے میں فلاں کام کے لیے رشوت کا کیا ریٹ ہے۔ مثلاً یہ کہ فلاں ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں پرانے مکان کے انہدام کی اجازت لینے کیلئے اتنے ہزار روپے دینے ہوتے ہیں۔ گیس کے کنکشن کیلئے کیا ریٹ ہے۔ زمین کی گرداوری کیلئے کتنی رقم دینی ہے۔ مکان یا زرعی زمین کے انتقال کیلئے نذرانہ کتنا ہو گا۔ ایک اور وزارت ''قتل بذریعہ ٹریفک‘‘ کے نام سے قائم ہونی چاہیے۔ یہ وزارت اس قتل و غارت کے اعداد و شمار شائع کیا کرے گی جو شاہراہوں پر ہو رہے ہیں۔ یہ بھی بتائے گی کہ ماہانہ کتنے انسان ڈمپروں اور ٹریکٹر ٹرالیوں کے نیچے کچلے جا رہے ہیں۔ اور یہ کہ ڈمپروں اور ٹریکٹر ٹرالیوں کے ڈرائیور بربریت میں درندوں سے کتنے آگے ہیں اور یہ کہ یہ قاتل سزا سے مستثنیٰ ہیں۔ وزارت یہ بھی بتائے گی کہ کتنے قاتلوں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیںتھے۔ ٹرکوں‘ بسوں اور ویگنوں کے حوالے سے بھی قتل کے اعداد و شمار بتائے جائیں گے۔ ایک اور وزارت جس کا قیام بہت ضروری ہے ''پروٹوکول اخراجات‘‘ کی وزارت ہے۔ یہ وزارت بتائے گی کہ صدر‘ وزیراعظم‘ گورنروں‘ چیف منسٹروں‘ وفاقی اور صوبائی وزیروں‘ اسمبلیوں کے ممبروں کے پروٹوکول پر ہر ماہ کتنا روپیہ خرچ ہوتا ہے؟ حکمرانوں کے گھروں اور دفاتر پر اٹھنے والے ماہانہ اخراجات سے بھی عوام کو یہی وزارت آگاہ کرے گی۔ ایک اور وزارت ''اینٹی سرمایہ کاری‘‘ ہو گی۔ اس کا کام سرمایہ کاری کی مخالفت اور حوصلہ شکنی کرنا ہو گا۔ یہ تجویز کرے گی کہ جائیداد اور پلاٹوں کی خریدو فروخت کو کیسے مزید ناممکن بنایا جائے اور صنعتکاروں کو ملک سے بھگایا کیسے جائے۔
پس نوشت: ایک اور سفید چمڑی والی سفارتکار نے ٹریفک سگنل توڑا۔ موٹر سائیکل پر چڑھ دوڑی۔ موٹر سائیکل پر سوار پاکستانی پولیس کا کانسٹیبل زخمی ہو گیا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ کئی واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں۔ ہم چونکہ ذہنی غلامی میں طاق ہیں اس لیے سفید فاموں کو پورا حق حاصل ہے کہ ہمیں زخمی کریں یا ماردیں! انگریزی حکومت میں مقامی انسان کو ہلاک کرنے پر سفید فام قاتل کو دو روپے جرمانہ کی سزا ہوتی تھی۔ اب شاید اتنی بھی نہیں! ہمارے لیے ہر قاتل ریمنڈ ڈیوس ہی ہے۔ کس کی ہمت ہے کہ انہیں سزا دے!

Tuesday, June 04, 2024

۱۹۷۱ کا بکھیڑا اور رئیل اسٹیٹ کی تباہی



   ۱۹۷۱ کا سانحہ پاکستان میں ایسا ہاتھی بن چکا ہے جو اندھوں میں گھِر گیا تھا۔ ہر اندھا اپنے ''علم‘‘ کے مطابق بتا رہا تھا کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔ جو اندھا ہاتھی کی ٹانگ کو ٹٹول رہا تھا اس کے رائے تھی کہ ہاتھی ستون کی شکل کا ہوتا ہے۔ جو ہاتھی کے کانوں کو چھو رہا تھا‘ اس کے نزدیک ہاتھی بڑے سائز کے دستی پنکھے کی طرح تھا۔ جس کے ہاتھ میں سونڈ تھی وہ کہتا تھا کہ ہاتھی پائپ کی طرح ہوتا ہے۔
سقوطِ ڈھاکہ کا سانحہ کلامِ اقبال بن کر رہ گیا ہے۔ اقبال کے پورے کلام کو‘ پوری آئیڈیالوجی کو‘ پورے نظام کو نہ پڑھا جاتا ہے نہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مولوی اپنے مطلب کے اشعار نکال لیتا ہے۔ کامریڈ وہ اشعار پیش کرتا ہے جو اسے راس آتے ہیں۔ 1971ء کے حادثے سے بھی سب اپنے اپنے مطلب کے اجزا اخذ کرتے ہیں۔ کچھ بنگالیوں کو مجرم ثابت کرتے ہیں‘ کچھ بھارت کو‘ کچھ پاکستان کی طویل آمریت کو۔ کچھ سارا الزام یحییٰ خان پر لگاتے ہیں اور کچھ جنرل نیازی پر ملبہ ڈالتے ہیں جوڈراپ سین کے وقت وہاں موجود تھا۔
اس فکری انتشار کی وجہ بدنیتی کم ہے اور جہالت زیادہ! جہالت سے ہماری مراد ناخواندگی نہیں! اس سے مراد مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی مکمل تاریخ سے ناواقفیت ہے! ہر سانحے اور ہر واقعہ کی پشت پر دو قسم کے اسباب ہوتے ہیں۔ اصل اسباب! اور فوری اسباب! اصل اسباب مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے 24 برسوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ٹویٹ کرنے والوں اور اس پر اعتراض کرنے والوں میں سے کتنے اس تاریخ سے واقف ہیں جو 24 برسوں پر محیط ہے؟ کم! شاید بہت کم! یحییٰ خان‘ بھٹو‘ شیخ مجیب الرحمن‘ جنرل نیازی‘ مکتی باہنی اور 25 مارچ کا ایکشن‘ ان سب کا تعلق اصل اسباب سے نہیں بلکہ فوری اسباب سے تھا! 1970ء کے الیکشن سے پہلے بھی صاف نظر آرہا تھا کہ دونوں حصوں کا اکٹھا رہنا نا ممکنات میں سے تھا۔ آج کے پاکستان کے ایک الیکشن کو اور اس کے عواقب کو 1971ء کے واقعہ سے تشبیہ دینا ایک لایعنی تسہیل 
(over simplification) 
سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ درست ہے کہ مشرقی پاکستان سے زیادتیاں اور ناانصافیاں ہوئیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسمبلی کے اجلاس کو غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کرنا حماقت تھی۔ مگر شیخ مجیب الرحمن مدبر اور سٹیٹس مین ہوتے تو قتل و غارت کو روکتے‘ آئینی جدو جہد کرتے۔مکتی باہنی اور بھارتی مداخلت جیسے سہارے نہ ڈھونڈتے۔
1971ء کی مثال اس لیے بھی غلط ہے کہ اس سانحہ سے پہلے ملک پر 13 سال تک آمریت کا دور دورہ رہا جبکہ 2024ء کے الیکشن سے پہلے‘ نام نہاد سہی‘ جمہوری حکومتوں کا دور رہا ہے۔ اس جمہوری عہد میں تقریباً چار سال عمران خان کی اپنی حکومت بھی رہی ہے۔ یہ بات سب مانتے ہیں کہ چار برسوں کی یہ حکومت عسکری ستونوں پر قائم رہی۔ تحریک انصاف خود بھی انکار نہیں کر سکتی کہ اسمبلیوں میں حاضری سے لے کر بِل پاس کروانے تک کے لیے ''مدد‘‘ طلب کی جاتی تھی۔ یہ بھی بتایا جاتا رہا کہ 'پس پردہ‘ کون اسمبلی چلاتا رہا۔
آج ہر شخص پوچھ رہا ہے کہ سیاست میں اور سیاسی حکومتوں میں مداخلت کا خاتمہ کس طرح ہو گا؟ اس کا جواب بچہ بھی جانتا ہے۔ایک فاتر العقل انسان بھی اس کا حل بتا سکتا ہے۔ جب آپ کے قلب کے دستے رات کے اندھیروں میں جا جا کر ملاقاتیں کریں گے اور مدد طلب کریں گے تو طاقت آپ کے ہاتھ میں کس طرح آسکتی ہے؟ جس دن سارے سیاستدان‘ سو فیصد سیاستدان‘ فیصلہ کریں گے اور عہد کریں گے کہ وہ خارجی مدد طلب کریں گے نہ کوئی خارجی حکم مانیں گے تو اُس دن اصل طاقت ان کے ہاتھوں میں ہو گی۔ ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک آمرانہ حکومتوں کو خود سیاستدانوں نے مضبوط کیا۔ ایک سیاستدان ہی تھا جس نے ایوب خان کو امیر المومنین بننے کا مشورہ دیا۔ ضیا الحق کی مجلسِ شوریٰ میں جو لوگ شامل تھے وہ آج بھی آپ کو نمایاں پوزیشنوں پرنظر آئیں گے۔ کوئی عسکری حکمران دکھاوے کی جمہوری حکومت کے بغیر نہیں چل سکتا اور یہ دکھاوے کی جمہوری حکومتیں سیاستدانوں کی مدد کے بغیر نہیں بن سکتیں۔ ظفر اللہ جمالی اور چودھری شجاعت حسین وزیراعظم بننے سے انکار کر دیتے! فتح جنگ کے حلقے سے شوکت عزیز کو کیا سیاستدانوں نے نہیں منتخب کرایا! کیا وہ ایک سیاستدان نہیں تھا جو ببانگِ دہل کہتاپھرتا تھا کہ دس بار وردی میں کامیاب کراؤں گا؟ بھٹو کو پھانسی دلوانے میں ایک سیاسی مذہبی پارٹی کے سربراہ نے کلیدی کردار نہیں ادا کیا تھا؟ مسلم لیگ(ن) کے دو اہم ستون رات کے اندھیرے میں کس کو جا جا کر ملتے تھے؟ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں! کتنی شرمناک حقیقت ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے ایوب خان کو خوش کرنے کے لیے مادرِ ملت فاطمہ جناح کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ دشنام طرازی بھی کرتے رہے۔ 2013ء سے لے کر 2022ء تک خود عمران خان کن طاقتوں کے ہاتھ میں کھیلتے رہے؟ اس دوران ''مداخلت‘‘ انہیں فائدہ پہنچا رہی تھی اس لیے مداخلت نظر ہی نہ آئی۔
آج تحریک انصاف کہتی ہے کہ مذاکرات اس سے کریں گے جس کے ہاتھ میں طاقت ہے! کیا اس مؤقف سے تحریک انصاف غیر سیاسی طاقتوں کو مزید طاقتور نہیں کر رہی؟ آج اگر عمران خان کڑوا گھونٹ بھر کر یہ اعلان کر دیں کہ غیرسیاسی طاقتوں کا کوئی رول نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ملک سیاستدانوں نے بنایا تھا اور سیاستدان ہی چلائیں گے اور یہ کہ وہ صرف سیاستدانوں ہی سے بات کریں گے! تو وہ ایک نئی تاریخ بنائیں گے اور ایک ایسے پروسیس کا آغاز کریں گے جو حقیقی جمہوریت پر منتج ہو گا۔ مگر اس کام کے لیے اخلاقی جرأت چاہیے۔ ضد اور منتقم مزاجی نہیں!!



‎پس نوشت ——۔ بچی کھچی رئیل اسٹیٹ کی تباہی——-


 

‎اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے میں ہمارا جواب نہیں۔ جائدادیں بیچنے اور خریدنے والے ملکی پالیسیوں سے زچ ہو کر دبئی کا رخ کر چکے ہیں۔ کارخانے لگانے والے بنگلہ دیش‘ ویتنام اور ملائیشیا جا چکے ہیں۔ تازہ خبر یہ ہے کہ رہے سہے سرمایہ کاروں کا گلا گھونٹنے کے لیے بان کی کھردری‘ موٹی رسیاں بُنی جا رہی ہیں۔ حکومت رئیل اسٹیٹ بیچنے اور خریدنے والوں پر لگا ہوا ٹیکس مزید بڑھانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ مرے کو مارے شاہ مدار! صنعت و حرفت تو پہلے ہی تباہ ہو چکی۔ مُڑ جڑ کر رئیل اسٹیٹ ہی بچی تھی سرمایہ کاری کے لیے اور روپے کی گردش کے لیے‘ اس کے سامنے بھی ''عقل مند‘‘ نوکر شاہی بند باندھ رہی ہے۔ کاروبار ٹھپ ہوکر رہ جائے گا۔ کسی غریب اور مڈل کلاسیے کے لیے تو پلاٹ خرید نا اور اپنی چھت بنانا پہلے ہی انتہائی مشکل ہے۔ ٹیکسوں کے بڑھنے سے اَپر کلاس کے لیے بھی رئیل اسٹیٹ میں کاروبار کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ حکومتوں کا کام کاروبار کو آسان کرنا ہے مگر ہماری حکومتیں کاروبار کو قتل کرنے کی ماہر ہیں۔ نیت یہ ہے کہ ٹیکس بڑھا کر خزانے کو بھرا جائے۔ ارے بھائی اتنا زیادہ ٹیکس بیچنے اور خریدنے والے پر لگائیں گے تو بیچے گا کون اور خریدے گا کون اور خزانے میں کیا جائے گا؟ عقل مند تاجر منافع کم رکھتا ہے تاکہ گاہکوں کی تعداد میں اضافہ ہو۔ آپ رئیل اسٹیٹ پر ٹیکس کم کیجیے۔ اس کی خرید و فروخت کو عذاب مت بنائیے۔ جائیداد زیادہ بکے گی اور زیادہ خریدی جائے گی تو ٹیکس سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔ کاش عقل کو بازار سے خریدا جا سکتا

Monday, June 03, 2024

یہ مزا ہر ایک کی قسمت میں کہاں


ہم کئی دن اس کے پاس‘ اس کے گھر میں رہے۔ جس دن واپس آنا تھا میری طبیعت میں صبح سے عجیب اضطراب تھا۔ میں نے اور بیگم نے کوشش کی کہ اس سے چھپ کر گاڑی میں بیٹھیں۔ مگر جیسے ہی گاڑی سٹارٹ ہوئی وہ ننگے پاؤں بھاگتا باہر آیا۔ جب دیکھا کہ نانا نانو دونوں گاڑی میں سوار ہیں تو پوری قوت سے‘ جتنی اس کے ننھے جسم میں تھی‘ رونا چیخنا شروع کر دیا۔ پھر اس نے دونوں ہاتھ میری طرف کئے۔ مجھ سے نہ رہا گیا۔ اسے گاڑی کے اندر گود میں بٹھا لیا۔ پھر ڈرائیور سے کہا کہ ایک دو گلیوں کے چکر لگاؤ۔ گاڑی چلی اور اس نے خوشی سے گود میں ہلنا اور جھومنا شروع کر دیا۔ تین چار گلیوں سے ہو کر واپس پہنچے۔ اب اس کی ماں نے اسے گاڑی سے اتارنا چاہا۔ پہلے تو رستم نے مدافعت کی۔ پھر رویا اور خوب رویا۔ گاڑی کے دروازے بند ہوئے تو اس کے رونے کی آواز مدہم سنائی دینے لگی۔
مجھے اعتراف ہے کہ میں اپنے 
Grand children
کے حوالے سے بہت حساس اور جذباتی ہوں۔ (معاف کیجیے گا‘ گرینڈ چلڈرن کا لفظ مجبوراً لکھا ہے۔ اس کا اردو متبادل لمبا ہے۔ یعنی پوتے پوتیاں‘ نواسے نواسیاں! اسی طرح گرینڈ پیرنٹس کا اردو متبادل نانا نانی‘ دادا دادی ہو گا۔ گرینڈ چلڈرن کو گرینڈ کڈز بھی کہا جاتا ہے) دوستوں کا خیال ہے کہ گرینڈ چلڈرن پر جتنا میں نے لکھا ہے‘ کسی نے نہیں لکھا۔ مجھ پر ان کی جدائی شاق گزرتی ہے۔ پاس ہوں تو سارا وقت میرے ساتھ ہی گزارتے ہیں۔ ذرا سے بڑے ہو جائیں تو سوتے بھی میرے پاس ہیں۔ سب اکٹھے ہوں تو ساتھ سونے کے لیے باریاں مقرر ہوتی ہیں۔ دو بچے ساتھ سوئیں تو میں درمیان میں ہوتا ہوں۔ ایک کہتی ہے منہ اس کی طرف کروں۔ دوسرا کہتا ہے اس کی طرف۔ اس کا ایک ہی حل ہوتا ہے کہ میں منہ چھت کی طرف کروں۔ پچھلے اٹھارہ برسوں میں جتنی طبع زاد کہانیاں ان بچوں کو سنائی ہیں‘ لکھتا تو کئی کتابیں ہو چکی ہوتیں۔ حال ہی میں بچوں کا جو ناول (ٹِکلو کے کارنامے) بک کارنر جہلم والوں نے چھاپا ہے‘ ان کہانیوں کا عشرِ عشیر بھی نہیں! بچوں کی جدائی میں جتنا سلگا ہوں اور ان کے چھوڑے ہوئے کھلونوں کو جس طرح سنبھال کر رکھا ہے اور ان کی کھینچی ہوئی لکیروں والے کاغذوں کو جس طرح فریم کرایا ہے‘ شاید ہی کسی اور نے اس طرح کیا ہو۔ میرے ایک دوست اپنے پوتوں کے آنے کو پسند نہیں کرتے کہ اُن کے بقول شور مچاتے ہیں۔ میں نے حیرت کا اظہار کیا تو فرمایا ''ہر شخص تمہاری طرح جذباتی نہیں ہوتا‘‘۔ یہ رویہ شاید مجھے وراثت میں ملا ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی گیا تو والد گرامی مرحوم کے دل پر اثر ہوا۔ اپنے بچے سفر پر نکلے اور بیٹیوں کی شادیاں ہوئیں تو ہفتوں چارپائی کے ساتھ لگا رہا۔ چھوٹی بیٹی کی رخصتی پر جب کالم (روزنامہ دنیا‘ 9 فروری 2015ء) لکھا‘ افتخار عارف تب ملک سے باہر تھے۔ کسی کو پیغام بھیجا کہ بھئی اظہار کی خبر لو‘ اس کی طبیعت بہت خراب لگ رہی ہے۔
پولو میچ دیکھنے کی لت مجھے بھی ہے اور اب یہ خبط سوا دو سالہ رستم کو بھی لاحق ہو چکا ہے۔ ادھر شام ہوئی‘ ادھر اس نے گھولے گھولے (گھوڑے گھوڑے) کا وِرد شروع کر دیا۔ پھر میری انگلی پکڑ کر گاڑی کے پاس لاتا ہے۔ جیسے ہی ہم پولو گراؤنڈ کے قریب پہنچتے ہیں‘ یہ گھوڑوں کی تلاش میں نظریں دوڑانے لگتا ہے۔ جیسے ہی گھوڑے نظر آتے ہیں ''گھولے‘‘ کا نعرہ لگاتا ہے۔ میچ کے دوران غور سے گھوڑوں کو دیکھتا رہتا ہے۔ بال کا بھی اسے معلوم ہوتا ہے کہ اب کہاں ہے۔ کبھی کبھی جب دونوں ٹیمیں اس جگہ کے قریب آکر کھیلنے لگتی ہیں‘ جہاں ہم بیٹھے ہوتے ہیں تو گھوڑوں کو نزدیک دیکھ کر بہت سنجیدہ ہو جاتا ہے اور گیم کو زیادہ غور سے دیکھتا ہے۔ پیدل چلنا اس کا محبوب مشغلہ ہے۔ کھیل کے میدان کی باؤنڈری کے ساتھ ساتھ چلتا جائے گا۔ ادھر گارڈ پریشان ہو رہا ہوتا ہے کہ یہ باؤنڈری کراس کر کے میدان کے اندر نہ چلا جائے۔ مگر نہیں جاتا۔ میں واپس لا کر اپنے پاس بٹھاتا ہوں۔ غروبِ آفتاب کے تھوڑی دیر بعد میچ ختم ہوتا ہے۔ تب اس طرف ہاتھ کا اشارہ کر کے کہتا ہے ''چلے گئے‘‘۔ اب کھیل کا پورا میدان اس کی جولانگاہ بن جاتا ہے۔ وہ دوڑنا شروع کرتا ہے۔ کبھی کسی کوے کے پیچھے۔ کبھی کسی دوسرے پرندے کے پیچھے۔ دوڑنے بھاگنے کا شوق جی بھر کے پورا کرتا ہے۔ جدھر کا رُخ کرتا ہے‘ نانا اسی طرف پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہے۔ بھاگ بھاگ کر جب تھک جاتا ہے تو پاس آکر دونوں بازو اوپر اٹھاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے اٹھا لیجیے۔ اب ہم پولو کے ریستوران میں جا بیٹھتے ہیں۔ یہاں کی ڈرل اسے یاد ہے۔ پہلے پانی‘ پھر تازہ بنے ہوئے چپس! مشکل مرحلہ تب آتا ہے جب گھر واپس جانے کا وقت ہوتا ہے۔ گھر واپس جانا اس کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ بس چلے تو رات پوری یہیں گزار دے۔ 
صبح کے ناشتے میں میرا مستقل پارٹنر ہے۔ ماں بیچاری پتا نہیں کیا کیا چیزیں بناتی ہے اس کے ناشتے کے لیے۔ ماں باپ دونوں یہ چیزیں لیے اس کے پیچھے پیچھے چلتے کھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر جیسے ہی میرے سامنے چائے اور رس دیکھتا ہے‘ بھاگا چلا آتا ہے۔ دائیں ہاتھ سے رس چائے میں ڈبو کر کھاتا ہے اور ساتھ ہی بائیں ہاتھ میں دو تین رس پکڑ لیتا ہے۔ رس ڈبو کر جب کھاتا ہے تو چائے کے قطرے‘ ظاہر ہے اس کی قمیض پر گرتے ہیں۔ کل اس کی ماں شور مچا رہی تھی کہ اس نے اپنی قمیضوں کا ستیا ناس کر دیا ہے۔ میں نے ہنس کر کہا: کوئی بات نہیں‘ اور لے لیں گے۔ اس پر اس نے وہی عالم گیر فقرہ دہرایا جو مشرق و مغرب میں مائیں گرینڈ پیرنٹس کو کہتی ہیں کہ آپ اسے خراب
 (Spoil) 
کر رہے ہیں! اس پر ہمیشہ مجھے کینیڈا کی وہ بوڑھی عورت یاد آتی ہے جس نے کہا تھا کہ ہاں! ہم 
Spoil 
کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے کیونکہ ہم پیرنٹس نہیں ہیں‘ گرینڈ پیرنٹس ہیں۔
کئی سال پہلے کی بات ہے۔ ہماری پہلی گرینڈ چائلڈ زینب تین چار سال کی تھی۔ اس وقت چھوٹی بیٹی (رستم کی ماں) کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ زینب نے کرسی پر رنگین پنسلوں سے بھری ڈبی رکھی ہوئی تھی۔ وہاں سے ایک پنسل اٹھاتی‘ سامنے جا کر دیوار پر لکیریں کھینچتی۔ پھر واپس آکر وہ پنسل رکھتی‘ دوسری اٹھاتی‘ پھر اس سے جا کر دیوار پر لکیریں کھینچتی۔ ہم دونوں میاں بیوی دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے تھے‘ بیٹی خون کے گھونٹ پی رہی تھی۔ کہنے لگی: امی ابو آپ دیکھ رہے ہیں یہ دیوار کا ستیا ناس کر رہی ہے اور آپ خوش ہو رہے ہیں! ہم نے بیک آواز کہا کہ کوئی بات نہیں‘ یوں بھی دیوار پر سفیدی تو کرانی ہی ہے۔ یہ سن کر اسے اور بھی غصہ آیا مگر تلملانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ اب زینب بڑی ہو کر پڑھائی میں پھنس گئی ہے۔ اب ہم رستم کو 
Spoil
کر رہے ہیں اور لطف اندوز ہو رہے ہیں! میں لکھتے وقت ایک بڑی ڈِش پنسلوں‘ بال پنوں اور فاؤنٹین پنوں سے بھری ہوئی میز پر رکھتا ہوں۔ کسی کو اجازت نہیں کہ اس میں سے کچھ اٹھائے۔ مگر رستم آتا ہے تو یہ ڈش اس کا کھلونا بن جاتی ہے۔ سارے قلم زمین پر انڈیلے گا۔ پھر ڈش میں ڈالے گا۔ پھر مختلف کمروں اور کونوں میں انہیں پھیلائے گا۔ کوئی منع کرے کہ ابو کے قلم رکھ دو۔ تو ابو ہنس کر کہتے ہیں کھیلنے دو۔ اس کے جانے کے بعد گھر کے کمروں اور مختلف جگہوں سے قلم اکٹھے کرتا ہوں تو اس مشقت کا بھی اپنا مزا ہے۔ مگر یہ مزا ہر ایک کی قسمت میں نہیں! کچھ ابھی نانا دادا بنے نہیں‘ اور کچھ جو بنے ہیں اپنی افتادِ طبع کے اسیر ہیں!!

 

powered by worldwanders.com