Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, June 27, 2024

زیادہ خطرناک دہشت گردی

سیالکوٹ‘ جڑانوالہ‘ سرگودھا اور اب سوات میں جو کچھ ہوا اس سے ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ اس عفریت کے خاتمے کے لیے ریاست سے امید رکھنا سادہ لوحی ہے اور کم عقلی!! ریاست نے آج تک اس ضمن میں کوئی اقدام نہیں کیا! یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ کیا ریاست بے بس ہے؟ یا ریاست اس سلسلے میں کچھ کرنا ہی نہیں چاہتی؟ ان سوالوں کا جواب ہمیں خود ہی تلاش کرنا ہو گا۔ آئیے! تلاش کرتے ہیں! اس تلاش سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہم جب ریاست کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس میں حکومت‘ عدلیہ‘ پارلیمان‘ مقتدرہ‘ بیورو کریسی‘ سب اعضا شامل ہیں۔

ایسے واقعات کے سد باب کے لیے مؤثر ترین عمل عبرتناک سزا ہوتی ہے۔ آج تک کسی بھی ایسے سفاک قتل کے مجرم کو سزا نہیں دی گئی۔ سری لنکن شہری والے واقعہ کی سزا سنائی گئی‘ دی نہیں گئی۔ سزا سنانے اور سزا دینے میں فرق ہے۔ اگر کسی بھی ایسے وحشیانہ قتل کی سزا دی گئی ہے تو ریاست کا فرض تھا کہ اس کی تشہیر کرتی۔ اس سے پہلے سیالکوٹ ہی میں دو بھائیوں منیب اور مغیث کو ہجوم نے بے دردی سے ہلاک کر دیا تھا۔ ان کے قاتلوں کو کیا سزا ملی؟ بینک کے منیجر کو جس گارڈ نے گولی ماری تھی کیا اسے سزا ملی؟ کسی کو کچھ معلوم ہے تو ہمیں بھی بتائے۔ آج کے دور میں جب تصاویر‘ آوازیں‘ وڈیو کلپس‘ وَٹس ایپ‘ سب اوزار میسر اور عام ہیں تو ہجوم میں سے اصل مجرموں کو پِن پوائنٹ کرنا ہر گز ناممکن نہیں! یہ معلوم کرنا کہ کس کس نے گھسیٹا تھا‘ کس نے پٹرول چھڑکا تھا‘ کس نے آگ لگائی تھی‘ مشکل نہیں۔ چونکہ آج تک کسی مجرم کو سزا نہیں دی گئی خاص کر مثالی اور عبرتناک سزا‘ تو مطلب واضح ہے کہ ریاست ایسا کرنا چاہتی ہی نہیں! اس عفریت کے استیصال میں اسے کوئی دلچسپی نہیں۔ یا پھر ریاست عوام کو اعتماد میں لے کہ رکاوٹیں کیا کیا ہیں؟ اور مانع کیا کیا ہے؟؟
یہ تو سزا کا معاملہ ہے۔ پیشگی اقدامات میں سے بھی کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ عام طور پر لوگوں کو اکٹھا کرنے اور مشتعل کرنے کے لیے مساجد کے لاؤڈ سپیکر استعمال کیے جاتے ہیں۔ جیسے ہی افواہ پھیلتی ہے لاؤڈ سپیکروں سے اعلانات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ مسجد کے نام سے اعلانات کے اعتبار میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ریاست کے لیے اس استعمال پر مؤثر پابندی لگانا چنداں مشکل نہیں۔ ریاست کو طے کرنا چاہیے کہ مسجد کے لاؤڈ سپیکر کی چابی کس کے پاس ہو گی یا لاؤڈ سپیکر کا انچارج کون ہو گا؟ خطیب یا امام یا مؤذن؟ یا مسجد کمیٹی کا صدر یا مسجد کمیٹی کا سیکرٹری؟ یہ طے کرنے کے بعد اگر لاؤڈ سپیکر ایسے کسی موقع پر استعمال ہو تو انچارج کو پکڑنا اور عبرت ناک سزا دینا مشکل نہیں! اس پہلو کی طرف پہلے بھی توجہ دلائی گئی تھی۔ مگر ریاست کو کوئی پروا نہیں کہ ایسا آسان قدم ہی اٹھا لے۔ اگر یہ اقدام کیا جائے تو علما کرام سمیت کوئی بھی اس اقدام کی مخالفت نہیں کرے گا۔ تاہم ریاست چاہتی ہی نہیں تو کیا ہو سکتا ہے! سوات کے حوالے سے دو متضاد خبریں ہیں۔ ایک کی رو سے لاؤڈ سپیکر استعمال کیے گئے۔ دوسری خبر کے مطابق‘ نہیں استعمال کیے گئے۔ بہر طور اس خبر کی تردید نہیں کی گئی کہ ایک گاڑی پر لاؤڈ سپیکر نصب کیے گئے اور یوں گاڑی کی مدد سے شہر بھر میں اشتعال پھیلایا گیا۔ گاڑی کا نمبر معلوم کرنا‘ گاڑی اور اس کے مالک اور اعلان کرنے والوں کا کھوج لگانا مشکل نہیں۔ لیکن نیت ہی نہ ہو تو اور بات ہے۔ 
ان واقعات کو روکنے کے لیے مقننہ میں قانون سازی لازم ہے۔ ایسا قانون پاس کیا جائے جو پولیس کو بے قابو ہجوم پر گولی چلانے کی اجازت دے۔ یہ اجازت صرف پاؤں پر گولی چلانے کی بھی ہو سکتی ہے۔ یقینا ایسے قانون کی مخالفت کی جائے گی۔ مگر دو ہی آپشن ہیں۔ پولیس بے قابو اور مشتعل ہجوم کے سامنے بے بس ہو کر ہتھیار ڈالتی رہے یا راہِ فرار اختیار کرتی رہے اور ہجوم انسانوں کو کچلتا رہے اور کچل کر نذرِ آتش کرتا رہے یا پولیس کو اختیار دیا جائے کہ اس بر بریت کو ہمیشہ کے لیے روکنے کی خاطر گولی چلائے۔ گولی چلانے کا فعل مجسٹریٹ کی اجازت سے بھی مشروط ہو سکتا ہے۔ گمانِ غالب یہ ہے کہ اس انتہائی قدم کی ضرورت ایک دو بار ہی پڑے گی! مگر مقننہ میں ایسا کوئی بل پیش نہیں کیا جائے گا! پورے معاملے میں ہی سنجیدگی‘ قوتِ ارادی اور عزم و استقلال کا فقدان ہے! اگر کسی سر پھرے نے ایسا بل پیش کر بھی دیا تو اس کا انجام اس بل سے مختلف نہیں ہو گا جو کچھ سال پہلے ''غیرت قتل‘‘ پر پیش کیا گیا تھا!! 
جو کچھ سیالکوٹ‘ جڑانوالہ‘ سرگودھا اور سوات میں ہوا اور اس سے پہلے اَن گنت جگہوں پر ہو چکا‘ بدترین قسم کی دہشت گردی ہے! جن افراد کو عرفِ عام میں ہم دہشت گرد کہتے ہیں‘ انہیں ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہماری ریاست کو ان کے خفیہ ٹھکانے بھی‘ کم و بیش‘ معلوم ہیں۔ ان کا طریقِ واردات بھی معلوم ہے۔ ان سے نمٹنے کے لیے ہماری ریاست نے کئی بار آپریشن کیے۔ کبھی آپریشن ضربِ عضب‘ کبھی ردالفساد اور اب عزمِ استحکام! مگر افسوس! جو دہشت گردی زیادہ خطرناک ہے اس کے خلاف کوئی آپریشن نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی آپریشن کے آثار ہیں!
اب جب یہ بات پختہ ہو چکی کہ ریاست ان واقعات کو ختم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی‘ نہ ہی مستقبل میں اس کا اس حوالے سے کوئی ارادہ ہے نہ منصوبہ بندی! تو پھر کیا کیا جائے؟ کیا اسے مقدر سمجھ کر قبول کر لیا جائے؟ ایسا کرنا خود کشی کے مترادف ہو گا اس لیے کہ ایسا واقعہ‘ خدا نخواستہ‘ کل ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ آپ بس میں بیٹھے ہیں۔ آپ کی نشست کے بالکل ساتھ‘ نیچے‘ کسی کو کاغذ کا کوئی ٹکڑا نظر آتا ہے جس پر عربی میں کچھ لکھا ہے۔ اگر وہ شور مچا دے کہ یہ مقدس کاغذ ہے اور آپ نے اسے پھاڑ کر‘ نیچے پھینک کر اس کی توہین کی ہے تو آپ کے بچنے کا امکان صفر سے کم ہو گا کیونکہ آپ کو بس سے اترنے کوئی نہیں دے گا! اچھرہ میں عبا والی لڑکی کے ساتھ تقریباً یہی ہوا تھا۔ اس کی عبا پر عربی رسم الخط میں ''حلوہ‘‘ لکھا ہوا تھا۔ پڑھی لکھی عالم فاضل قوم نے اسے مقدس لفظ سمجھا۔ خاتون خوش قسمتی سے بچ گئی۔ یوں کہیے قدرت نے اسے نئی زندگی دی ورنہ اس کی زندگی اور موت کے درمیان صرف بال برابر فاصلہ رہ گیا تھا۔ کسی جگہ‘ کسی وقت‘ کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ آپ اشیائے خورو نوش میں ملاوٹ کرنے والے کسی حاجی صاحب کو شرم دلاتے ہیں کہ متشرع چہرے کے ساتھ غلط کام کر رہے ہو تو متشرع کا لفظ آپ کے لیے مصیبت بن سکتا ہے۔ حاجی صاحب اگر چلا کر کہیں کہ آپ نے شریعت کی توہین کی ہے تو آن کی آن میں ہجوم جمع ہو کر آپ کی جان کو آسکتا ہے۔ تو پھر کیا حل ہے؟ کیا کچھ لوگوں کا ایک گروہ اقوام متحدہ سے یا کسی دوست ملک سے سفارش کرائے؟ کیا عجب ہماری ریاست اقوام متحدہ یا کسی دوست ملک کی بات مان لے اور اس عذاب سے نمٹنے میں سنجیدہ ہو جائے! 
ہم میں سے ہر شخص کو اپنی جگہ یہ احتیاط ضرور کرنی چاہیے کہ کسی سے بھی مذہب یا مسلک پر بحث نہ کریں۔ عام گفتگو میں بھی مذہبی الفاظ اور اصطلاحات کے استعمال سے پرہیز کریں! مکمل پرہیز!! مذہبی شعائر‘ عبادات‘ عقائد پر کبھی بات نہ کریں! اپنے بچوں کو‘ احباب اور اعزہ کو بھی سمجھائیں کہ ہر ممکن احتیاط کریں!! شعلہ بھڑکنے میں دیر نہیں لگتی!!!

Tuesday, June 25, 2024

مشتری ہُشیار باش!!

حکومت اور ریاست‘ دونوں کی ترجیحات میں عوام نہیں نظر آتے۔ اس لیے پاکستان میں ہر شعبہ‘ خواہ سرکاری ہے یا نجی‘ عوام کو دھوکا دیتا ہے۔ عوام کا استحصال کرتا ہے۔ عوام سے جھوٹ بولتا ہے اور عوام کو اذیت دیتا ہے۔ مستثنیات یقینا ہیں مگر کم! بہت کم! مریضوں کو ڈاکٹروں سے شکایات ہیں۔ ڈاکٹروں کو حکومت سے اور ہسپتالوں سے! والدین کو سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے۔ ڈرائیوروں کو ٹریفک پولیس سے۔ اسی سے باقی شعبوں کا بھی قیاس کر لیجیے۔ ریاست اور حکومت کا اولین فریضہ عوام کے حقوق کا خیال رکھنا ہے مگر ایسا نہیں ہو رہا۔ اسی لیے غیرملکی کمپنیاں بھی پاکستانی عوام کو پریشان کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں! ایک بار ایک عزیز بیرونِ ملک سے آ رہے تھے۔ عید قریب تھی۔ ان کی پرواز نے پشاور اترنا تھا۔ میں انہیں لینے گیا۔ یہ مشرقِ وسطیٰ کی دو معروف ایئر لائنوں میں سے ایک کا جہاز تھا۔ میرے عزیز آگئے مگر سامان ابو ظہبی رہ گیا۔ بتایا گیا کہ کسی اگلی فلائٹ میں آئے گا۔ اس پرواز میں پشاور کی نواحی بستیوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے مسافر تھے جو اپنے اعزہ کے لیے عید کے تحائف لے کر آئے تھے۔ یہ تحائف اب عید کے بعد پہنچنے تھے۔ کب؟ یہ بھی معلوم نہ تھا۔ میں نے معاملے کو کریدا۔ ایئر پورٹ کے متعلقہ افراد سے معلومات لیں۔ انکشاف یہ ہوا کہ یہ اس ایئر لائن کا معمول ہے۔ چھوٹا جہاز بھیجتے ہیں۔ سامان وہیں رکھ لیتے ہیں‘ جو بعد میں آتا ہے۔ ایئر پورٹ والوں نے اپنی سی کوشش کی کہ وہ ایسا نہ کیا کریں‘ مگر یہ ہائی لیول کا کام تھا اور ہائی لیول والوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ عوام کتنی اذیت میں ہیں۔ نہیں معلوم اب بھی کے پی والوں کے ساتھ یہ ایئر لائن یہی سلوک کر رہی ہے یا صورتحال بدل چکی ہے۔ 

سب سے زیادہ استحصال خواتین کا ہو رہا ہے۔ خاص کر تین شعبوں میں‘ اور تینوں شعبے نجی سیکٹر کے ہیں۔ کورونا آیا تو ساتھ ہی آن لائن کاروبار بھی چل پڑا۔ یہ وقت کی ضرورت تھی۔ مگر آہستہ آہستہ کاروباری طبقے نے اس میں بھی وہی بددیانتی اور بدنیتی شروع کر دی جو ہمارا طرۂ امتیاز ہے اور جس کی وجہ سے ہم دنیا بھر میں ''مشہور‘‘ ہیں! موجودہ صورتحال یہ ہے کہ خواتین کی کثیر تعداد سودا آن لائن منگوا رہی ہے۔ ان میں ملبوسات‘ بیڈ شیٹس(پلنگ پوش)‘ گدیوں کے غلاف‘ رضائیوں کے غلاف‘ صوفوں کے کوَر‘ کچن کی اشیا وغیرہ خاص طور پر شامل ہیں! محتاط اندازہ بھی لگایا جائے تو کم از کم 50 فیصد آرڈرز کی تعمیل غلط ہوتی ہے۔ کبھی رنگ غلط بھیجا جاتا ہے۔ کبھی ماپ میں فاش غلطی ہوتی ہے۔ کبھی شے نامکمل بھیجی جاتی ہے اور کبھی نقص والی۔ اکثر و بیشتر خواتین کو اس حوالے سے روتے پیٹتے دیکھا ہے۔ باز مگر وہ نہیں آتیں۔ اپنے لمبے چوڑے وسیع و عریض خاندان میں خواتین کو یہی سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ آن لائن خریداری سے پرہیز کریں۔ مگر خواتین‘ اپنی رشتہ دار اور دوست خواتین کی دیکھا دیکھی اس جال میں بار بار پھنستی ہیں۔ پارسل پر پارسل آتے ہیں۔ پارسل پہنچانے کی انڈسٹری الگ لاکھوں میں کھیل رہی ہے۔ اذیت کی انتہا یہ ہے کہ اکثر کمپنیاں اپنا فون نمبر دیتی ہیں نہ ایڈریس۔ وَٹس ایپ نمبر دے بھی دیں تو جواب ندارد! خواتین کُڑھنے اور بددعائیں دینے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتیں۔ پاکستان کے تاجر اور کمپنیاں اس کاروباری دیانت سے صدیوں دور ہیں جو ترقی یافتہ ملکوں میں پائی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں کاروبار کم ہے اور ٹھگی زیادہ۔ بہتر یہی ہے کہ خواتین بازار جا کر شے دیکھ بھال کر خریدیں اور اس آن لائن فریب کاری سے بچنے کی کوشش کریں! جو تاجر ٹیکس چراتے ہیں‘ حکومت کو بلیک میل کرتے ہیں‘ دن کو دکانیں بند رکھ کر اور راتوں کو کھول کر ملک کی توانائی کو ضائع کر رہے ہیں‘ احساس سے عاری ہیں‘ وہ گھروں میں بیٹھی خواتین کو کیوں نہ دھوکا دیں! یہ تو آسان شکار ہے! 
دوسرا شعبہ جو خواتین کا استحصال کر رہا ہے‘ شادی بیاہ کے ملبوسات کا ہے۔ یہ کام سو فیصد خواتین کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ مردوں کے پاس اس کے لیے وقت ہے نہ انہیں اس کام کے اَسرار و رموز سے آگاہی ہے۔ وہ صرف رقم کا بندو بست کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا گورکھ دھندا ہے جسے خواتین ہی سنبھال سکتی ہیں۔ اس میں ہزار باریکیاں ہیں اور نزاکتیں! کشیدہ کاری‘ زردوزی‘ گلکاری‘ کروشیا‘ سوزن کاری‘ سلما ستارہ‘ گوٹا کناری‘ جھالر‘ مقیش اور نہ جانے اور کتنی اقسام در اقسام ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں وہ جھوٹے‘ وعدہ خلاف اور بے حس ہیں۔ خواتین کو جو تاریخ دیتے ہیں اس پر کام اَسی نوے فیصد حالتوں میں تیار نہیں ہوتا۔ یہ فون پر کبھی نہیں بتائیں گے کہ مقررہ تاریخ پر کام تیار نہیں اس لیے آپ نہ آئیے۔ خواتین پھیروں پر پھیرے ڈالتی ہیں۔ اوپر سے ان کے ہزار اور کام! شادی نزدیک ہونے کی وجہ سے ٹینشن اور مالی مسائل کی وجہ سے ذہنی دباؤ!! کئی برس پہلے جب میری بڑی بیٹی کی شادی تھی تو ایک دن بیگم نے تھک ہار کر‘ پریشان ہو کر بتایا کہ لہنگا اور کچھ اور ملبوسات جس ذات شریف کو دیے ہیں وہ کئی چکر لگوا چکا ہے۔ ایڈوانس میں رقم بھی لے چکا ہے اور اب تاریخ پر تاریخ دیے جا رہا ہے۔ میں ان کے ساتھ گیا۔ یہ ایک حاجی صاحب تھے۔ وسیع و عریض دکان‘ درجنوں کاریگر۔ بہت سے گاہک! تاہم شرافت سے عاری! شائستگی سے بات کی مگر انہوں نے کوئی خاص لفٹ نہ دی۔ اس پر میرے اندر چھپا ہوا دیہاتی باہر آگیا۔ بلند آواز میں کہا کہ حاجی ہو‘ چہرے پر سنتِ رسول ہے مگر جھوٹ بولتے ہو اور خواتین کو ایذا دیتے ہو۔ اس پر منت کر کے کہنے لگا: آہستہ بولیے‘ میرے گاہک سن لیں گے تو کیا کہیں گے! جواب دیا کہ انہی کو تو تمہاری اصلیت بتانی ہے۔ قصہ مختصر‘ راہِ راست پر آگیا۔ منتیں کرکے خاموش کرایا اور وعدہ کیا کہ ملبوسات خود بھجوا دے گا۔ آتے ہوئے اسے دس روپے دیے اور کہا کہ اگر تاریخ میں ردو بدل ہوا تو فون کر دینا۔ یہ فون کال کی قیمت ہے کیونکہ غریب تم بہت ہو! فون کال سے ہلاکت کا اندیشہ ہے۔ ملبوسات اس نے پہنچا دیے مگر بد مزگی الگ ہوئی اور وقت کا ضیاع الگ!! 
تیسرا شعبہ ان ڈاکٹروں اور لیڈی ڈاکٹروں کا ہے جو سکن ( جلد) سپیشلسٹ ہیں۔ آج کل خواتین میں جلد کی بیماریاں عام ہیں۔ اس کی متعدد وجوہ ہیں جن میں سے ایک کئی قسم کے کیمیکلز کا استعمال ہے۔ بچے جنم دینے کے بعد بھی چہرے پر داغ دھبے پڑ جاتے ہیں۔ خواتین اپنے آپ کو خوبصورت بھی رکھنا چاہتی ہیں جو ان کا حق ہے۔ اس سارے بکھیڑے میں جلد کے ڈاکٹروں کے ہاتھ میں کروڑوں اربوں کی انڈسٹری آ گئی ہے۔ لیزر کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ کلینک میں‘ جسے مذبح کہنا چاہیے‘ خواتین کے لیے ڈھنگ کی بیٹھنے کی جگہ نہ کوئی سسٹم نہ باعزت برتاؤ! کئی کئی گھنٹے انتظار کرایا جاتا ہے۔ نام نہاد علاج کو خوب طول دیا جاتا ہے۔ خواتین اس چکر میں آجاتی ہیں تو پھر اس سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ ڈاکٹر ٹیکس دیتے ہیں نہ دستاویزات مکمل کرتے ہیں۔ اکثر فیس کی رسید تک نہیں دیتے‘ مگر نئے زمانے کے نئے تقاضے ہیں۔ میک اَپ کی انڈسٹری کھربوں کی ہے اور جلد کے امراض اس کا تتمہ ہیں۔ خواتین کو یہی کہا جا سکتا ہے کہ ''مشتری! ہُشیار باش!‘‘۔

Monday, June 24, 2024

اونٹنی


اونٹنی صرف اونٹنی نہیں‘ ایک علامت ہے۔تب بھی علامت تھی۔ آج بھی علامت ہے۔ تب بھی لوگوں نے پروا نہ کی۔ آج بھی لوگ اٹکھیلیاں کر رہے ہیں۔ تب بھی خدا کا خوف عنقا تھا۔ آج بھی وہی صورت حال ہے۔ 
پہلے معجزے کا مطالبہ کیا۔پہاڑ پھٹا۔ اس میں سے اونٹنی نکلی۔ حکم ہوا ایک دن تالاب ( یا چشمے) سے اونٹنی پانی پیے گی۔ اور ایک دن سب لوگ۔ یہ پابندی لوگوں کو پسند نہ آئی۔ خدا کی اس نشانی کو انہوں نے ہلاک کر دیا۔ پھر ان پر عذاب اُترا! ایسا عذاب کہ آج تک ان کی بستیاں نشانِ عبرت ہیں!
یہ جو اونٹنی کی ٹانگ اب‘ اس ملک میں‘ کاٹی گئی ہے‘ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ اصل مجرم کو‘ مبینہ طور پر‘ بچایا جا رہا ہے کیونکہ اس کا تعلق طاقتور طبقات سے ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ وہ‘ مبینہ طور پر ایک سیاسی جتھے سے بھی جُڑا ہوا ہے۔ جس معاشرے میں طاقتور مجرموں کو چھوڑ دیا جاتا ہے‘ اس معاشرے پر عذاب اُترتا ہے۔ عذاب صرف یہی نہیں کہ زلزلہ آئے یا چنگھاڑ سنائی دے‘ یا طوفان آکر مجرموں کو ہلاک کردے اور وہ اوندھے پڑے ہوں جیسے کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں‘ یا ان پر مینڈکوں کی یا جوؤں اور مچھروں کی یا خون کی بارش ہو یا ان کے چہرے مسخ ہو کر جانوروں کی شباہت اختیار کر لیں !! عذاب کی اور بھی صورتیں ہیں جنہیں یہ معاشرہ بھگت رہا ہے۔ عذاب کی سب سے بڑی صورت تو یہی ہے کہ اس بھوکی‘ ننگی‘ قلاش‘ ادھ موئی قوم پر کھرب پتی حکمرانی کریں‘ جن کے نزدیک عام آدمی کے وجود کی حیثیت کیڑے مکوڑوں سے بھی کم ہو۔ جن کے مکان‘ بازار‘ ہسپتال‘ تعلیمی ادارے‘ سب کچھ الگ ہو‘ جو ملک سے باہر زیادہ رہتے ہوں اور ملک کے اندر کم۔ جن کے بچے پیدائش سے پہلے ہی ارب پتی ہو جائیں۔اب آپ پوچھیں گے کہ جو طبقہ طاقتور مجرموں کو چھوڑتا ہے یا چھڑاتا ہے‘ وہ تو عیش و عشرت میں زندگی گزار رہا ہے اور عذاب پوری قوم پر اُترے‘ یہ کیسا عذاب ہے۔ تو جناب ! عذاب پوری قوم پر اس لیے اُتر تا ہے کہ قوم مجرموں کے چھوٹ جانے پر خاموش رہتی ہے۔ جو قوم افواہ کی بنیاد پر آئے دن اکٹھی ہو جائے اور بغیر ثبوت کے‘ یا بغیر قانونی کارروائی کے‘ کسی کو زندہ جلادے اور کسی کو گھسیٹ گھسیٹ کر ماردے‘ وہ قوم طاقتور مجرموں کو چھوڑ دینے پر بھیڑ بکریوں کا گَلّہ بن جائے اور چوں کی آواز بھی نہ نکالے‘ اُس قوم کے صرف مجرموں پر نہیں بلکہ پوری قوم پر عذاب اترتا ہے۔وہ مقدس اونٹنی جو پہاڑ سے نکلی تھی‘ اُسے ہلاک کرنے والے افراد چند ہی تھے مگر عذاب سب پر اترا تھا اس لیے کہ وہ جرم دیکھتے رہے اور خاموش رہے۔
کیا یہ عذاب نہیں کہ ہمارے پاسپورٹ اور ہماری کرنسی کی کرۂ ارض پر رمق برابر عزت بھی نہیں۔ دنیا میں ہماری تلاشیاں لی جاتی ہیں۔ہمیں ایئر پورٹوں پر پہروں روکا جاتا ہے۔ ہمیں بھکاری سمجھا جاتا ہے۔ کوئی ہمیں مسکین کہتا ہے کوئی فراڈ! ہمیں ویزے نہیں ملتے۔ ہمارے ہوائی جہازوں پر پابندی ہے۔ چار پانچ ایئر لائنوں کے سوا ہمارے ملک میں کوئی جہاز نہیں آتا۔ہماری عدلیہ کی رینکنگ ہر گز لائقِ عزت نہیں۔افغانستان کے اقتصادی اشاریے ہم سے اوپر ہیں۔ ہمیں عراق اور صومالیہ کی صف میں شمار کیا جاتا ہے۔ بھارت نے کشمیر کی آئینی حیثیت کی خاک تک اُڑا دی ہم چوں تک نہ کر سکے۔ ہم کشکول بردار ہیں۔ چند دن ہی کی بات ہے‘ آئی ایم ایف یہ بھی طے کرے گا کہ ہم نے دوپہر کوکیا پکانا ہے اور شام کو کیا کھاناہے۔اگر یہ سب کچھ عذاب نہیں تو کیا انعام ہے؟
جن ملکوں نے ترقی کی ہے‘ اور جن ملکوں کی دنیا میں عزت ہے اور ایک مقام ہے‘ ان میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں طاقتور مجرم کوچھوڑ دیا جاتا ہے! شاید ایک بھی ایسا ملک نہیں!
سنگا پورکی امریکہ کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے؟ جب ایک امریکی لڑکے کو سنگاپور میں بید مارے جانے تھے تو امریکہ نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔امریکی صدر نے سنگاپور کے صدر کو فون کیا۔ تمام سفارتی اور سیاسی داؤ آزمائے گئے مگر سنگاپور کی حکومت نے مجرم چھوڑنے سے انکار کر دیا۔سنگاپور کے صدر نے بید چھ کے بجائے چار کر دیے مگر سزا معاف نہ کی۔ لڑکے کو ٹکٹکی سے باندھا گیا۔ بید مارے گئے۔ ہماری طرح نہیں کہ ریمنڈ ڈیوس کو پلیٹ میں رکھ کر امریکہ بہادر کو پیش کر دیا۔ آئے دن اسلام آباد میں مغربی ملکوں کے سفارت کار ٹریفک قوانین کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں۔ کتنے ہی پاکستانی زخمی ہو چکے ہیں مگر چالان تک کرنے کی ہمت نہیں۔ امریکہ میں تو خود امریکی صدر کے لیے کوئی استثنیٰ نہیں۔ صدر کلنٹن کو کٹہرے میں کھڑا کیاگیا۔ مقدمے کی کارروائی پوری دنیا نے دیکھی اور سُنی!یہ انصاف‘ یہ طاقتور اور کمزور کے ساتھ یکساں سلوک‘ یہی ان ملکوں کی عزت اور ترقی کا راز ہے۔ کفر ہے مگر ظلم نہیں! ہم رات دن سنتے اور سناتے ہیں‘ پڑھتے اور پڑھاتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت علی مرتضیؓ نے فرمایا :کفر کی حکومت چل سکتی ہے ظلم کی نہیں اور پھر ہم رات دن ظلم کرتے ہیں! ظلم ہوتا دیکھتے ہیں!ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اونٹنی تو اونٹنی ہے۔کوئٹہ میں جب ریاستی اہلکار کو دن دہاڑے ایک گردن بلند نے گاڑی کے نیچے کچل دیا تو وہ عدالتوں کے باہر دو انگلیوں سے فتح کے نشان بناتا اور دکھاتا رہا۔ کبھی دنیا میں ایسا ہوا ہے ؟ اس کا بال تک بیکا نہیں ہوا۔ آپ بندہ قتل کر دیجیے‘ اگر آپ جتوئی ہیں یا کانجو ہیں یا آپ کے نام کے ساتھ طاقت کا اور کجکلاہی کا اور رعونت کا کوئی اور سابقہ یا لاحقہ لگا ہے تو آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہاں گواہ موم کے ہیں! قانون بڑوں کے ڈرائنگ روموں میں قالین کی صورت بچھا ہے جس پر یہ بڑے جوتوں سمیت چلتے ہیں۔کوتوال کی حیثیت کنیز سے زیادہ نہیں! انصاف کا نظام ایک آوارہ لطیفے جتنی عزت سے بھی محروم ہے! غریب جیل میں مر جاتا ہے۔ مرنے کے بعد نظامِ انصاف اعلان کرتا ہے کہ جیل میں مر جانے والا بے گناہ تھا!مصر کے گورنر حضرت عمرو بن عاصؓ کے بیٹے نے ایک شہری کو مارا اور مارتے وقت کہا: میں بڑوں کی اولاد ہوں۔ گورنر نے شہری کو قید کر دیا تاکہ شکایت نہ کر سکے۔وہ قید سے چھوٹا تو سیدھا مدینہ پہنچا اور مقدمہ دائر کر دیا۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ نے گورنر اور ان کے بیٹے کو طلب کر لیا۔ مصر اور مدینہ کا درمیانی فاصلہ ذہن میں لائیے اور اُس زمانے کی سواریاں بھی۔ پہنچے تو مدعی کو حکم ہوا کہ کوڑا پکڑو اور مارنے والے کو مارو۔ وہ مارتا جاتا تھا اور آپ کہتے جاتے تھے: اسے مارو‘ یہ بڑوں کی اولاد ہے۔ مار چکا تو حکم ہوا کہ اب گورنر کو مارو کہ باپ کے اقتدار کے گھمنڈ ہی میں تو بیٹے نے ظلم کیا تھا۔ یہ اور بات کہ مدعی نے کہا کہ وہ بدلہ لے چکا ہے اس لیے گورنر کو نہیں مارے گا! جبلہ بن ایہم والا واقعہ بھی تاریخ کا حصہ ہے !!
اونٹنی کامالک آج کمزور ہے۔ مجرم طاقتور ہے۔ مگر معاملہ سخت خطرناک ہے۔ اسے سرسری طور پر لینا بہت بڑی غلطی ہے۔ بظاہر اس اونٹنی کا اُس اونٹنی سے کوئی تعلق نہیں جو پہاڑ سے نکلی تھی۔مگر اس اونٹنی نے واضح کر دیا ہے کہ ہمارے نظامِ انصاف میں نظام ہے نہ انصاف ! یہ وارننگ ہے۔
یہ اہلِ ثروت تھے‘ غیب کو مانتے نہیں تھے
عذاب سے پیشتر انہیں اونٹنی ملی تھی!!

Thursday, June 20, 2024

دشت اور گَلّہ بانی

پبلک ڈیلنگ والے ایک بہت بڑے ادارے میں کام پڑ گیا۔ کسی دوسرے شہر کے ایک بے سہارا شخص کا کام تھا۔ ایک دوست نے اس کی ذمہ داری سونپ دی۔ اس کے بعد کی داستان دلخراش ہے‘ دلدوز ہے اور دلگیر! 
یہ ایک نیا زمانہ ہے۔ ایسا زمانہ کہ اس کا مثیل اس سے پہلے‘ ہزاروں لاکھوں سال میں نہیں آیا۔ یہ زمانہ ایک لفظ‘ صرف ایک لفظ‘ کے گرد گھومتا ہے۔ ایسا لفظ جس نے دنیا کا جسم‘ دنیا کی روح‘ دنیا کا دل‘ دنیا کا مزاج‘ دنیا کی شان‘ سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس سے پہلے دنیا ایک جوہڑ تھی۔ اب ایک سمندر ہے۔ اس سے پہلے دنیا ٹکڑوں پر مشتمل تھی۔ اب ایک اکائی ہے۔ اس سے پہلے دنیا ایک چیستان تھی۔ اب ایک کھلی کتاب ہے۔ یہ لفظ جس نے سب کچھ کایا کلپ کر کے رکھ دیا ہے ''انفارمیشن‘‘ ہے۔ اب کوئی جھونپڑی میں‘ آلتی پالتی مار کر‘ فرشِ خاک پر بیٹھا ہے یا محل میں مسندِ زرّیں پر‘ امریکہ میں بیٹھا ہے یا افریقہ میں‘ انفارمیشن‘ ہر معاملے کی‘ ہر موضوع پر‘ اس کی مٹھی میں ہے۔ اندازہ لگائیے‘ ایک زمانہ تھا کہ کراچی سے چھپنے والا روزنامہ اسلام آباد میں شام کو اور ڈھاکہ میں دوسرے دن ملتا تھا۔ اب آپ نے ایک بٹن دبانا ہے اور واشنگٹن اور نیویارک سے لے کر کلکتہ تک کے اخبارات آپ کے سامنے دست بستہ کھڑے ہیں! اب دنیا بھر میں‘ ہر ملک کے ہر ادارے نے‘ ہر محکمے نے‘ ہر وزارت نے‘ ہر کارپوریشن نے اپنے سارے ضابطے اور طریقے اور معلومات اپنی ویب سائٹ پر ڈال رکھی ہیں۔ فون نمبر موجود ہیں۔ ای میل ایڈریس سامنے ہیں۔ پروسیجر وضاحت سے بیان کر دیے گئے ہیں۔ کون سے منصب دار نے کون سا کام کرنا ہے۔ کچھ ہفتے پیشتر‘ سکاٹ لینڈ کے ایک دور افتادہ قریے میں کام پڑ گیا۔ یہ قصبہ ایک خاص قسم کی پارچہ سازی کرتا ہے۔ دیے گئے ایڈریس پر ای میل کی۔ اگلی صبح‘ ابھی سورج نے کرنوں کو تقویت نہیں دی تھی کہ جواب آ گیا اور دو ہفتوں میں نمونے!
اس صورتحال میں کسی کا جائز کام کرانا کیا مشکل ہے۔ اور وہ بھی اتنے بڑے‘ باوقار‘ باحیثیت اور معتبر ادارے میں!! اس اطمینان بخش ذہنی حالت کے ساتھ ادارے کی ویب سائٹ کھولی۔ تمام متعلقہ عہدوں اور حلقوں کے رابطہ نمبر دیے ہوئے تھے۔ دل خوش ہو گیا۔ الحمدللہ پاکستان بھی دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چل رہا ہے۔ اس تشفّی آمیز حالت میں متعلقہ افسر کا نمبر ڈائل کیا۔ گھنٹی جاتی رہی۔ سوچا تھوڑی دیر کیلئے کہیں گئے ہوں گے‘ ابھی آ جائیں گے۔ وقفے وقفے سے شام چھٹی کے وقت تک نمبر ملاتا رہا۔ فون اٹینڈ نہ ہوا۔ دوسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔ اب ان کے نائب کا نمبر ملانا شروع کیا۔ وہ بھی نہ اٹھایا گیا۔ سہ پہر کو نائب کے نائب کا نمبر ملانا شروع کیا۔ وہاں بھی خاموشی تھی! مکمل خاموشی!! صبح کو سورج ابھرا تو اس کی شعاؤں میں نئی امید کی روشنی تھی۔ اب ایک اور ذمہ دار منصب کے سامنے دیا ہوا نمبر ملانا شروع کیا۔ یہ عمل کئی بار دہرایا گیا۔ جواب ندارد۔ اب ایک ہی راستہ بچا تھا کہ ادارے کے سربراہ کی توجہ اس صورتحال کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی جائے۔ جدوجہد کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ سربراہ کے میر منشی‘ سربراہ تک پہنچنے کی سیڑھی تھے۔ یہی اداروں کی 
Hierarchy 
ہوتی ہے جو ناگزیر بھی ہے۔ مگر یہاں یہ مسئلہ ہوا کہ میر منشی بھی رسائی سے بالا تھے۔ دو دن ان سے بات کرنے کی کوشش جاری رہی مگر بقول ذوق:
یاں لب پہ لاکھ لاکھ سخن اضطراب میں
واں ایک خامشی تری سب کے جواب میں
ادارے کا ٹیلی فون ایکسچینج بھی کام نہیں کر رہا تھا۔ آخر مرتا کیا نہ کرتا۔ بادل نخواستہ ترکیب نمبر چھ آزمانا پڑی۔ تب جا کر سربراہ سے بات ہو سکی۔ بہت ادب کے ساتھ عرض گزاری کی اور جو تجربے ہوئے‘ بیان کیے۔ دست بستہ یہ درخواست بھی کہ اپنے ادارے کے نمبر کبھی خود بھی آزمائیے کہ بہترین فیڈ بیک یہی ہے۔
اب مقطع میں سخن گسترانہ بات یہ آ پڑی کہ اسی ادارے میں دو قریبی دوست بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ انہیں صورتحال معلوم ہوئی تو انہوں نے شکوہ کیا کہ جو بھی کام تھا‘ انہیں کیوں نہ بتایا۔ بلکہ اچھی خاصی کلاس لی اور خوب ٹِکا کر لی کہ اتنے پاپڑ بیلنے کے بجائے انہیں کہتے کہ‘ بقول ان کے‘ وہ وہاں کس لیے بیٹھے ہیں۔ اب کوئی دوست آپ کی کلاس لے‘ اور آپ ہی کے کام کے ضمن میں‘ تو‘ اصلاً یہ آپ کی خوش بختی ہوتی ہے۔ اس کلاس لینے میں دلسوزی ہوتی ہے اور محبت! جب توبیخ کرنے والا اور فہمائش کرنے والا کوئی نہ رہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا خیر اندیش کوئی نہیں رہا۔ میری بڑی بہن جب بھی سرزنش کرتی ہیں تو خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ماں باپ تو چلے گئے‘ خوش بختی ہے کہ یہ تو موجود ہیں۔ سایہ سلامت رہے۔ جب دوسرے آپ کے گھٹنے چھوکر ملیں اور آپ کسی کے گھٹنے نہ چھو سکیں تو سمجھ جائیے کہ یہ شگون اچھا نہیں!
مگر اَحِبّا کو کون سمجھائے کہ دوستوں کو کبھی ایسی تکلیف نہیں دی جو ان کے منصب اور ان کے مقام سے فروتر ہو۔ ایسا کام کہنا جو ان کی حیثیت سے ہم آہنگ نہ ہو‘ گناہ بے لذت والا معاملہ ہے۔ توپ سے تتلی مارنا بدذوقی ہے۔ یوں بھی اپنا اصول یہ ہے کہ ؎
ہزاروں ہیں کبھی تعداد کم ہونے نہیں دی
کہ ہم نے دوستوں کو آزمایا ہی نہیں ہے
( بقلم خود) 
بچپن میں جب عربی پڑھانے کی (ناکام؟) کوشش کی جا رہی تھی تو ایک دعا بھی پڑھائی گئی تھی جو آج تک یادداشت پر کَندہ ہے۔ یا رَبِّ لا تَضطَرَّنی الیٰ امتحانِ اَصدِقائی لِاَنَّ اَنَا لا اُرِیدُ اَنْ اَفْقَدَ واحِداً مِنْہُم۔ اے اللہ! مجھے میرے دوستوں کا امتحان لینے پر مجبور نہ کیجیو کیونکہ میں اُن میں سے کسی کو بھی کھونا نہیں چاہتا!
بات قومی مسئلے سے ذاتی حکایت کی طرف مُڑ گئی۔ یہ ایک ادارے کا حال نہیں‘ اس سے پورے ملک کے تمام شعبوں کا قیاس کیجیے۔ زخم اتنے ہیں کہ روئی کم پڑ جائے گی۔ آئی ٹی‘ جس نے باقی دنیا کو خودکار کر دیا ہے‘ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ دوسرے ملک انسانی رابطے
 (Human Contact)
 سے جان چھڑا رہے ہیں‘ فون سے یا ای میل سے یا ویب سائٹ سے کام ہو رہے ہیں۔ ہم ہر کام کے لیے کسی نہ کسی افسر‘ کسی نہ کسی اہلکار‘ کسی نہ کسی انسانی رابطے کے محتاج ہیں۔ سفارش کا کلچر اسی لیے ختم نہیں ہو رہا۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جو خدا تک بھی براہِ راست نہیں پہنچنا چاہتے۔ وہ لاکھ کہے ''ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہیں‘‘ ہم پھر بھی سیڑھی کی تلاش میں رہتے ہیں! تفصیل ان سیڑھیوں کی ہم سب جانتے ہیں!
اب یہی سوچا ہے کہ کسی کا کام خود کو سونپا ہی نہ جائے۔ بندہ کب تک ٹھوکریں کھاتا رہے اور طمانچے سہتا رہے۔ موسم آئیں گے‘ موسم جائیں گے۔ رُتیں بدلتی رہیں گی! مگر اس باغ کی حالت یہی رہے گی۔ یہاں پھول پژمردہ اور نہریں خشک ہی رہیں گی۔ بہار وخزاں‘ یہاں‘ سب یکساں ہیں! یہاں شاخوں پر بوم ہی نظر آئیں گے اور روِشوں پر چہل قدمی کرتے اُود بلاؤ! نصف صدی پہلے جب منیر نیازی نے کہا تھا کہ ع حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ! تو وہ صورتحال تو غنیمت تھی۔ اب تو حرکت مکمل جمود میں بدل چکی ہے اور سفر خیال و خواب ہو چکا۔ اب تو پوری قوم گُل محمد بن چکی ہے جو جنبش کا نام ہی نہیں لے رہی! ہم جیسوں کیلئے ایک ہی راہِ فرار ہے۔ دشت اور گلّہ بانی!!

Thursday, June 13, 2024

قراردادِ مقاصد کی بیلنس شیٹ


گھمسان کی جنگ ہے۔ کشتوں کے پشتے لگ رہے ہیں۔ موضوع‘ بنیادی طور پر‘ قرادادِ مقاصد ہے۔ جناب وجاہت مسعود‘ جناب مجیب الرحمان شامی اور جناب خورشید ندیم میدان میں نبرد آزما ہیں۔ تینوں اصحاب علم و ادب‘ صحافت اور خطابت میں یکتائے روزگار ہیں۔ تینوں اردو لکھتے ہیں تواپنے اپنے انداز میں‘روشنیاں بکھیرتے جاتے ہیں! ان کے دیے ہوئے مصرع پر گرہ لگانا کم از کم مجھ جیسے نیم خواندہ کے بس کی بات نہیں۔ پھر بھی کچھ معروضات ایسی ہیں جو پیش ہونا چاہتی ہیں۔ میری مثال اُس شخص کی سی ہے جس کے تین بھائی عالم فاضل تھے اور وہ اَن پڑھ تھا۔ اس کا نام فتح محمد تھا۔ اَن پڑھ ہونے کی وجہ سے ''پھتّا‘‘ کہلواتا تھا۔ کسی شمار قطار میں نہ تھا۔ مگر بھائی تو تھا؛ چنانچہ جب بھائیوں کو گِنا جاتا تھا تو اس کا نام بھی ضرور ہوتا تھا۔ اس سے محاورہ ایجاد ہوا کہ ''پھَتّا وِچ بھراواں گَتّا‘‘۔ گَتّا ہماری لہندی پنجابی میں ''گننا‘‘ کا فعل مجہول ہے۔ یعنی پھَتا بھی بھائیوں میں گِنا جاتا ہے۔
قراردادِ مقاصد کو پچھتر سال ہو چکے ہیں۔ آج کے با شعور پاکستانی نوجوان کو اس سے غرض نہیں کہ قرارداد مقاصد غلط تھی یا صحیح ! پیش کرنی چاہیے تھی یا نہیں! پاس ہونی چاہیے تھی یا نہیں! اسے تو حتمی نتیجے 

( End result)

 میں دلچسپی ہے۔ وہ تو 

Finished product

 کو دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کا سوال یہ ہے کہ قراردادِ مقاصد سے ہمیں حاصل کیا ہوا؟ بہت سے دیگر قوانین اور آئینی شقوں کی طرح یہ قرارداد بھی صرف پاکستان ہی نے اپنائی۔ پچپن دیگر مسلم ممالک کو اس کی ضرورت نہ پیش آئی۔ ہم نے قرار دادِ مقاصد بھی پاس کر لی۔ اسے آئین کا جزو بھی بنا لیا۔ مذہب کی روایتی تعبیر بھی ہمارے پیش منظر پر چھائی ہوئی ہے۔ نام کے ساتھ بھی اسلامی جمہوریہ لگا ہے‘ مدارس کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ مسجدیں بھی آباد ہیں۔ ہم میں سے اکثریت کا ظاہر بھی روایتی اسلام کے مطابق ہے! کیا اس سب کچھ کے بعد ہم ایک مثالی اسلامی ملک یا معاشرہ بن سکے؟ کیا دنیا میں ہماری دیانتداری کی مثالیں دی جاتی ہیں؟ حالت یہ ہے کہ ہم پر اعتبار کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ پورنو گرافی سے لطف اندوز ہونے میں ہمارا‘ ایک سروے کی رُو سے‘ پہلا نمبر ہے! ایک کے بعد دوسری ریاست ہمارے شہریوں کے ویزے بند کرتی پھرتی ہے۔ کوئی ایسی خیانت نہیں جو ہم نے روا نہ رکھی ہو۔ ایفائے عہد‘ صدقِ مقال‘ اکلِ حلال کچھ بھی ہمارے پاس نہیں! ریڑھی والے سے لے کر ٹاپ تک ہم دروغ گوئی میں طاق ہیں! جہاں معصوم بچوں کو خالص دودھ نہ ملے اور دوائیاں جعلی ہوں‘ جہاں قدم قدم پر رشوت دے کر زندگی گزارنا پڑے وہاں آپ ایک قرارداد نہیں‘ سو قراردادوں کو آئین کا حصہ بنا دیں‘ قراردادیں قابلِ فخر نہیں ہوں گی! یہ درست ہے کہ قراردادِ مقاصد اس صورت حال کی ذمہ دار نہیں لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ وہ ہمیں اس صورت حال سے بچا بھی نہ سکی۔ قرار دادِ مقاصد کا ہمیں کوئی فائدہ نہ ہوا۔ مثالی مسلم ملک بننے کے لیے یہ قرارداد نہیں‘ کچھ اور اقدامات کی ضرورت تھی جو ریاست اٹھا سکی نہ کوئی حکومت! آج ہم دنیا میں اسلام کے حوالے سے نہیں‘ دہشت گردی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں! ہماری شہرت بدنامی سے عبارت ہے۔ ہمار ی آستین پر سیالکوٹ میں مارے جانے والے سری لنکن کا خون لگا ہے۔ جڑانوالہ اور سرگودھا تو ہماری انتہاپسندی کی صرف دو مثالیں ہیں‘ ورنہ سچ یہ ہے کہ بیسیوں بار بین الاقوامی میڈیا میں سفاک خونریزی اور بربریت ہماری شناخت بن چکی ہے! (اس پر بھی غور فرما لیجیے کہ ملک کے کن طبقات نے ان واقعات کی مذمت نہیں کی؟) ہم تو یہی کہتے ہیں کہ اس میں قراردادِ مقاصد کا کوئی عمل دخل نہیں مگر قراردادِ مقاصد کی موجودگی میں یہ صورت حال ذہنوں میں سوالات اٹھاتی ہے۔ زبانوں کو سیا جا سکتا ہے‘ ذہنوں کو نہیں!!
آج کا طالب علم پوچھتا ہے کہ قراردادِ مقاصد قائداعظم کی وفات کے بعد ہی کیوں لائی گئی؟ ہم مسخ شدہ تاریخ کو اپنی خواہش کے رنگ کا کرتا پہنا کر پچھتر برسوں سے گلی گلی پھرا رہے ہیں! تاریخ کی نصابی کتابوں میں جوگندر ناتھ منڈل کا نام کیوں نہیں لکھا جا رہا؟ ہم آج کی نسل کو کیوں نہیں بتاتے کہ تقسیم سے پہلے 1946ء کی عبوری حکومت میں جوگندر ناتھ منڈل مسلم لیگ کی نمائندگی کر رہے تھے؟ آج کے پاکستانیوں کو کیوں نہیں بتایا جاتا کہ اسمبلی کے جس اوّلین اجلاس میں قائداعظم نے ملک کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اٹھایا تھا‘ اس اجلاس کی صدارت جوگندر ناتھ منڈل نے کی تھی جو ملک کے پہلے وزیر قانون تھے۔ اُس طویل استعفے کو ہماری تاریخ کی کتابوں سے کیوں غائب کیا گیا ہے جو جوگندر ناتھ منڈل نے وزیراعظم کو پیش کیا تھا؟ پیر علی محمد راشدی کی تصنیف ''رودادِ چمن‘‘ جوگندر ناتھ منڈل سے‘ قائداعظم کی وفات کے بعد روا رکھے گئے شرمناک سلوک کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ ایک طرف قائد کو ان پر اتنا اعتماد تھا کہ پہلے اجلاس کی صدارت ان سے کرائی‘ دوسری طرف ان کی وفات کے بعد اُن سے وہ سلوک روا رکھا گیا جس کی وجہ سے وہ واپس کلکتہ چلے گئے اور باقی عمر بھارتی ہندوؤں کے طعنے سنتے رہے۔ یہ ایک فرد کی داستان نہیں۔ یہ ایک خاص مائنڈ سیٹ کا آغاز تھا جس نے پاکستان کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس کا آغاز جوگندر ناتھ منڈل جیسی شخصیات کو رَد کرنے سے ہوا۔ آج یہ مائنڈ سیٹ اپنے نقطۂ عروج پر ہے جس کی جھلک بار بار دکھائی دیتی ہے۔ کبھی سیالکوٹ میں‘ کبھی جڑانوالہ اور سرگودھا میں! کبھی خوشاب کی تحصیل قائد آباد میں‘ جہاں بینک کا گارڈ بینک کے منیجر کو گولی سے مار دیتا ہے اور پورا شہر گارڈ کے اعزاز میں جلوس نکالتا ہے! ایسے بے شمار واقعات ہیں جن کے سرسری ذکر سے بھی کالم کی تنگ دامانی عاجز ہے! یہ تناور درخت اُس بیج کا نتیجہ ہے جو قائد کی وفات کے بعد بویا گیا تھا! بقول سعدی ؎
سرِ چشمہ شایَد گرفتن بہ بیل
چو پُر شد نشاید گذشتن بہ پیل
ابتدا میں پانی کے چشمے کو ایک بیلچے سے بھی بند کیا جا سکتا ہے مگر جب پانی سے بھر جائے تو ہاتھی پر سوار ہو کر بھی نہیں گزرا جائے گا۔
یہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے دو مسلمان پروفیسر ہیں جنہوں نے 2010ء سے ایک انڈیکس سسٹم شروع کیا جس سے وہ دنیا کے مسلمان اور غیر مسلم ممالک کو قرآن اور حیات پاک (ﷺ) کی کسوٹی پر ماپتے ہیں کہ کون کون سی حکومتیں ریاست کے قرآنی اصولوں پر چل رہی ہیں! یہ کسوٹی چار بڑے عوامل پر مشتمل ہے۔ 1: قرآن و سنت کے معاشی اصول۔ 2: قرآن و سنت کے قانون اور گورننس کے اصول۔ 3: قرآن و سنت کی رُو سے انسانی اور سیاسی حقوق۔ 4: قرآن و سنت کی رُو سے بین الاقوامی تعلقات۔ 2010ء سے لے کر 2022ء تک کوئی مسلمان ملک پہلے چالیس ملکوں میں نہیں آ سکا۔ 2022ء کے 

Islamicity Index 

کی رُو سے ڈنمارک پہلے نمبر پر ہے جہاں اسلامی تعلیمات‘ اقدار اور ادارے دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے پہلے مسلسل چھ سال تک نیوزی لینڈ ٹاپ کرتا رہا۔ اس کے بعد نیدرلینڈز‘ سویڈن‘ سوئٹزرلینڈ‘ ناروے‘ آئس لینڈ اور آئرلینڈ کا نمبر آتا ہے۔ یو اے ای کا نمبر 48 ہے۔ انڈو نیشیا کا 62‘ سعودی عرب کا 90‘ اور پاکستان کا 136 ہے۔ یہ جو کروڑوں مسلمان مغربی ملکوں کو ہجرت کر گئے ہیں اور جو کروڑوں جانے کے لیے قطار میں کھڑے ہیں‘ ان کا دماغ خراب نہیں کہ وطن چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ یہاں فریقین قرار دادِ مقاصد میں الجھے ہوئے ہیں۔ اور کروڑوں مسلمان‘ انصاف اور مساوی مواقع کے حصول میں اُن ملکوں کو جا رہے ہیں جہاں کسی قرارداد کا جھگڑا نہیں۔ ع
سخن شناس نہ ای جان من! خطا این جاست

Monday, June 10, 2024

ایک اہم ملاقات کی تفصیل


بڑے بڑے لوگوں سے ملاقات کا وقت لیا ہے۔ کبھی کوئی خاص دقت پیش نہیں آئی۔ وزیروں سے‘ سفیروں سے‘ امیروں سے‘ بادشاہوں سے! زیادہ سے زیادہ یہ ہوا کہ دو تین دن انتظار کرنا پڑا۔ مگر ایک شخصیت ایسی تھی جس سے اپائنٹمنٹ لینے کی کوشش میں چھکے چھوٹ گئے۔ پہلے تو سراغ ہی نہیں مل رہا تھا کہ کس سے رابطہ کیا جائے۔ ہر شے پُراسرار تھی۔ شخصیت بہت بڑی مگر آہنی پردوں کے پیچھے! کئی صحافی دوستوں سے مدد مانگی۔ کوشش انہوں نے بہت کی مگر تھک ہار کر اظہارِ عجز کر دیا۔
پھر مجھے یہ محاورہ یاد آگیا کہ ''پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی‘‘۔ ایک پرانا بے تکلف دوست پولیس میں ملازم تھا۔ اس سے اظہارِ مدعا کیا۔ پہلے تو اس نے ٹال مٹول سے کام لیا مگر میں نے جب پرانی دوستی کا واسطہ دیا تو کہنے لگا یار! معاملہ بہت خطرناک ہے۔ کسی کو معلوم ہو گیا کہ شیدے ڈاکو کا نمبر میں نے دیا ہے تو میری شامت آ جائے گی۔ اس پر مجھے غصہ آگیا۔ میں نے کہا: کیا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات ہے کہ پولیس کی خاموشی یعنی ''نیم رضا‘‘ کے بغیر کوئی ڈاکا نہیں پڑ سکتا؟ پھر میں نے اسے آنکھوں دیکھا واقعہ سنایا۔ یہ 2012ء یا 2013ء کی بات ہے۔ میں اسلام آباد کی سب سے زیادہ پُراسرار نواحی آبادی میں قیام پذیر تھا۔ اس مشہور و معروف آبادی کا نام بتانے کی ضرورت نہیں‘ جو لوگ وفاقی دار الحکومت اور اس کے حدود اربعہ سے واقف ہیں وہ اس آبادی کو بخوبی جانتے ہیں۔ دو گھر چھوڑ کر نسیم صاحب (یہ اصل نام نہیں)رہتے تھے۔ ان سے گھریلو تعلقات تھے۔ بہت شریف اور بھلے مانس آدمی تھے۔ ان کی بیگم صاحبہ اور وہ ہمارے پورے کنبے سے محبت اور شفقت سے پیش آتے تھے۔ ایک رات ان کے گھر میں ایک گاڑی کھڑی تھی جو ان کی اپنی نہیں تھی‘ کسی دوست کی تھی۔ صبح اٹھے تو غائب تھی۔ متعلقہ تھانے والے آئے‘ روٹین کی کارروائی ہوئی۔ پھر بات آئی گئی ہو گئی۔ نسیم صاحب کو بھی معلوم تھا کہ ان تلوں سے تیل نکلنے کا امکان صفر سے بھی کم ہے؛ چنانچہ چپ ہو رہے۔ وہ خاموش طبع انسان تھے۔ کسی سے اس نقصان کا انہوں نے ذکر ہی نہ کیا۔ ہم چونکہ قریبی دوستوں میں سے تھے اس لیے ہم سانحے سے آگاہ تھے۔ چند ماہ کے بعد انہیں ایک فون کال موصول ہوئی کہ گاڑی واپس لینی ہے تو علاقہ غیر میں فلاں مقام پر آ کر لے جائیے۔ انہوں نے فون کرنے والے سے پوچھا کہ تم کون ہو اور میرا نمبر تمہیں کس نے دیا ہے؟ فون کرنے والے نے کہا کہ زیادہ باتیں نہ کرو‘ گاڑی لینی ہے تو آجاؤ۔ نسیم صاحب سے غلطی یہ ہوئی کہ کسی سے مشورہ کیا نہ بتایا۔ ایک پٹھان دوست کو ساتھ لیا اور جو جگہ علاقہ غیر میں بتائی گئی تھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں ان دونوں (نسیم صاحب اور ان کے پٹھان دوست) کو اغوا کر لیا گیا۔ ایک خراب‘ ویران گھر میں زنجیروں سے باندھ دیا گیا۔ بالٹی کے جس پانی سے منہ ہاتھ دھوتے تھے‘ وہی پیتے بھی تھے۔ کئی کروڑ کا تاوان مانگا گیا۔ قصہ کوتاہ دونوں ساٹھ‘ ساٹھ لاکھ دے کر چھوٹے۔ اب سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ فون کرنے والوں اور اغوا کرنے والوں کو کیسے علم ہوا کہ نسیم صاحب کی گاڑی چوری ہوئی تھی اور یہ ان کا فون نمبر ہے۔ عقل والوں کے لیے اس میں سبق اور نشانیاں ہیں!
میری لعن طعن سے تنگ آکر پُلسیے دوست نے آخر کار شیدے ڈاکو کا نمبر دے دیا۔ یہ نمبر شیدے کا اپنا نہیں تھا‘ اس کے کسی چمچے کا تھا جو یوں سمجھیے اس کا پی اے یا سٹاف تھا۔ بہر طور اسی کی زبانی وقت اور جگہ کا تعین کیا گیا۔ مقام ایک سیون سٹار ہوٹل کی لابی تھی اور وقت دوپہر کا مقرر ہوا۔ دوپہر کا سن کر مجھے عجیب سا لگا۔ میرے ذہن میں تھا کہ ڈاکو رات کے وقت کو ترجیح دے گا۔ میں لابی میں جا کر انتظار کرنے لگا۔ میں ایک ایسے شخص کی توقع کر رہا تھا جس نے بڑی بڑی مونچھیں رکھی ہوں گی‘ پگڑی سے آدھا چہرا چھپایا ہوا ہو گا۔ بہت دیر کے بعد ایک صاحب میری میز پر تشریف لائے اور آہستگی سے کہا 

Sheeda here 

!میرے تو اسے دیکھ کر اوسان خطا ہو گئے۔ یہ ایک کلین شیوڈ‘ وجیہ نوجوان تھا۔ اچھا خاصا خوش شکل۔ خشک بالوں میں سلیقے سے کنگھی کی گئی تھی۔ اس نے جو پولو پہنی ہوئی تھی اس پر ''باس‘‘ لکھا ہوا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس برانڈ کی پولو بُشرٹ نو‘ دس ہزار روپے سے کم نہ تھی۔ بہترین کوالٹی کی جینز کے نیچے اس کے پاؤں میں کلارک کے جوتے نظر آرہے تھے! وہ فصیح و بلیغ انگریزی میں گفتگو کر رہا تھا۔ مشروب کا پوچھا تو اس نے ''لاتے‘‘ کافی کا بتایا!!
کہنے لگا: سوالات کیجیے۔ لہجہ مہذب اور شائستہ تھا۔ میرا پہلا سوال تھا کہ اتنا پڑھ لکھ کر ڈاکے مارنے کا کام؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی! شیدے نے جھاگ والی لاتے کافی کا گھونٹ بھرا اور ہنسا! کہنے لگا: بے شمار دوسرے ڈاکو بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ان پر کوئی معترض نہیں ہوتا! مجھ پر کیوں؟ میں نے حیرت سے پوچھا کہ کون سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکو؟ وہ ایک بار پھر ہنسا۔ کہنے لگا: تحصیلوں اور کچہریوں میں جو رشوت سارا دن لی جاتی ہے کیا وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد تک نہیں پہنچتی؟ کیا یہ ڈاکے نہیں؟ ترقیاتی اداروں میں کیا اَن پڑھ لوگ بیٹھے ہیں؟ کسی ڈی سی‘ کسی پٹواری‘ کسی تحصیلدار‘ کسی کمشنر‘ کسی ایس پی کا ماہانہ خرچ معلوم کر لیجیے۔ پھر اس خرچ کا موازنہ اس کی ماہانہ تنخواہ سے کیجیے۔ میری جواب طلبی اس کے بعد کیجیے۔ میں نے کہا: دیکھو شیدے! تم جن کے گھروں سے کیش‘ گاڑیاں‘ زیورات اور ایل ای ڈی اٹھاتے ہو اور گھر والوں کو رسیوں سے باندھ کر انہیں لوٹتے ہو‘ وہ سب مجبور اور مظلوم لوگ ہیں۔ کیا ان پر تمہیں رحم نہیں آتا؟ شیدا پھر ہنسا! کہنے لگا: کالم نگار صاحب یا تو آپ خود بے وقوف ہیں یا مجھے بے وقوف سمجھ رہے ہیں! جو زمین یا جائیداد کے انتقال کے لیے یا مکان کا نقشہ منظور کرانے کے لیے یا زرعی زمین کی گرداوری کے لیے یا گیس‘ بجلی کے کنکشن کے لیے اپنی خون پسینے کی کمائی معزز ڈاکوؤں کو پیش کرتے ہیں کیا وہ مجبور اور مظلوم نہیں؟ وہ بھی زنجیروں سے بندھے ہیں۔ صرف تمہیں وہ زنجیریں نظر نہیں آتیں! اور ہاں! تم میری خوش لباسی پر حیران ہوئے تھے۔ جو ڈاکٹر گردوں کا کاروبار کر رہے ہیں اور ضرورت کے بغیر دلوں میں سٹنٹ ڈال رہے ہیں اور سٹنٹ بھی جعلی ڈال رہے ہیں اور جو فزیشن سرجن سے بھی ''کَٹ‘‘ لیتے ہیں اور لیبارٹری والوں سے بھی‘ کیا وہ سوٹڈ بوٹڈ نہیں؟ کیا ان کی قمیضیں اور نکٹائیاں اعلیٰ برانڈز کی نہیں؟ اور کیا وہ بھی ڈاکو نہیں؟ 
شیدے نے کافی کا لمبا گھونٹ بھرا۔ پھر مجھ سے پوچھا: کیا تم بچے ہو؟ یا اندھے اور بہرے ہو؟ کیا تم نہیں جانتے کن کن کے گھروں میں‘ ملک کے اندر اور ملک سے باہر‘ کرنسی نوٹ گننے کی مشینیں موجود ہیں؟ مجھے معلوم ہے تم ایک ڈر پوک کالم نگار ہو۔ تم مجھے ڈاکو ثابت کرو گے مگر جو مجھ سے بڑے ڈاکو ہیں‘ ان کا نام کبھی نہیں لوگے! اورہاں! تم تو شاعر بھی ہو! کیا اقبال کی وہ نظم تم نے نہیں پڑھی جس کا عنوان ہے ''مسولینی اپنے مغربی اور مشرقی حریفوں سے‘‘۔ پھر شیدے نے اس نظم کی پہلی سطر سنائی: کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جرم؟
شیدے نے مجھے کافی کا بل نہیں دینے دیا۔ ایک درد ناک مسکراہٹ کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے اس نے کہا ''خدا کا شکر ہے میں ان ڈاکوؤں میں سے نہیں جو قومی خزانے پر ڈاکے ڈالتے ہیں‘‘۔

Thursday, June 06, 2024

صرف پی ڈبلیو ڈی کا خاتمہ کیوں؟؟


وزیراعظم نے حکم دیا ہے کہ پی ڈبلیو ڈی کے محکمے کو ختم کر دیا جائے۔ وجہ؟ کرپشن اور نااہلی!یہ ایک درست فیصلہ ہے! مگر سوال یہ ہے کہ صرف پی ڈبلیو ڈی ہی کیوں؟ وہ جو پنجابی میں کہتے ہیں ''جیہڑا بھنّو‘ اوہی لال اے‘‘۔ اگر کسی محکمے کو ختم کرنے کا سبب کرپشن اور نااہلی ہے تو پھر:تمام شہر ہے دو چار دس کی بات نہیں!
کچھ سال پہلے لاہور کی کسی عدالت نے کہا تھا کہ ایل ڈی اے کرپٹ ترین محکمہ ہے۔ اس پر اس کالم نگار نے سی ڈی اے کو غیرت دلائی تھی کہ جاؤ اور شکایت کرو کہ کرپٹ ترین ہونے کا اعزا ز تو تمہارا ہے۔ ایل ڈی اے بھی ہو گا مگر دوسرے نمبر پر! دو ہفتے پہلے ہمارے ایک دوست نے مکان خریدا۔ مکان بہت پرانا تھا۔ 50‘ 60 سال پہلے کا بنا ہوا۔ اس کی دیکھ بھال بھی نہیں کی گئی تھی۔ معمار نے فیصلہ سنایا کہ اسے منہدم کرنا ہو گا۔ منہدم کرنے والی پارٹیوں کو بلایا گیا۔ سب نے ایک ہی بات بتائی کہ انہدام کیلئے سی ڈی اے سے این او سی لینا ہو گا اور اس کیلئے 50ہزار روپے ''ریٹ‘‘ ہے!! کہنے کو تو سی ڈی اے نے ''وَن ونڈو آپریشن‘‘ بنایا ہے مگر اس طریقِ کوہکن میں بھی حیلے پرویزی ہی ہیں! اگر کام 50ہزار روپے رشوت دے کر ہی کرانا ہے تو پھر ایک ڈائریکٹر لیول کا افسر ادارے کو چلانے کیلئے کافی ہے۔ اور کچھ نہیں تو چیئرمین سی ڈی اے کے ارد گرد پرسنل افسروں اور سٹاف کا جو تہ در تہ حصار ہے اسی میں کمی کر دیجیے۔
اور اس ''وزارتِ مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی‘‘ کی کیا منطق ہے؟ مذہبی امور کا حکومت سے کیا تعلق ہے؟ کون سے مذہبی امور؟ مساجد تو نجی شعبے میں ہیں اور موروثی حساب سے چل رہی ہیں۔ یہ اور بات کہ ملائیشیا‘ مصر‘ سعودی عرب‘ کویت‘ یو اے ای اور ترکیہ میں مساجد ریاست کی تحویل میں ہیں! اس وزارت کا سائز چھوٹا کیجیے اور اسکا نام وزارتِ حج رکھیے۔ رہی بین المذاہب ہم آہنگی تو وہ آئے دن ظاہر ہو ہی رہی ہے۔ سیالکوٹ میں جو کچھ ہوا اس کی خبر شاید بین المذاہب ہم آہنگی کی وزارت کو نہیں موصول ہوئی۔ سرگودھا میں جس نذیر مسیح پر تشدد کیا گیا تھا وہ نو روز کے علاج اور اذیت کے بعد وفات پا گیا ہے۔ انصاف کیجیے! کیا بین المذاہب ہم آہنگی کی وزارت اس پر طلائی تمغے کی حقدار نہیں ہے؟؟ خدا کا خوف کیجیے اور یہ ڈھکوسلے بند کیجیے۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے نام پر جو ملازمین پَل رہے ہیں انہیں فارغ کیجیے۔ کسے دھوکا دے رہے ہیں آپ؟ شاید اپنے آپ کو! دنیا کو تو ساری حقیقت معلوم ہے!!وزارتِ تعلیم کا کیا جواز ہے؟ کیا ہماری اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے وی آئی پی اور وزیر‘ تعلیم کی بنیاد پر اس مقام پر پہنچے ہیں؟ کیا ہمارے بڑے بڑے عظیم المرتبت پراپرٹی ٹائیکون‘ جو ہر حکومت‘ ہر حکمران اور ہر سیاستدان کی آنکھوں کے تارے ہیں‘ جو بڑی بڑی عالیشان پیغام رسانیاں کرتے ہیں اور وچولن کا کام کرتے ہیں‘ کیا تعلیم کی بنیاد پر اس بے مثال اور فلک بوس مقام پر پہنچے ہیں؟ تکلف مت کیجیے۔ وزارتِ تعلیم بند کر دیجیے۔ ہمیں تعلیم کی ضرورت نہیں! یوں بھی جوصحیح معنوں میں تعلیم حاصل کرتا ہے‘ ملک چھوڑ جاتا ہے۔ ہمیں کیا ضرورت ہے کہ یورپ اور امریکہ کو ڈاکٹر‘ سائنسدان اور پروفیسر سپلائی کرتے رہیں۔ ہمیں ان کی ضرورت نہیں تو اس سیاپے کا فائدہ؟
اور یہ منسٹری آف ہیومن رائٹس! یعنی انسانی حقوق کی وزارت! اول تو یہاں ''انسانی‘‘ کا لفظ زائد ہے! کون سے انسان اور کون سے حقوق؟ میرا سب سے پہلا انسانی حق یہ ہے کہ میری جان اور میرا مال محفوظ رہے۔ اگر اس کیلئے مجھے دوسرے مکینوں کے ساتھ مل کر گلی کیلئے چوکیدار بھی خود رکھنا ہے‘ الارم سسٹم بھی خود لگوانا ہے‘ کیمرے بھی خود نصب کرانے ہیں تو ریاست میرے انسانی حقوق کیلئے کیا کر رہی ہے! آپ کا کیا خیال ہے کہ ملک میں ڈاکوں‘ چوریوں‘ اغوا اور قتل و غارت کی جو مقدار اور رفتار ہے‘ اس کے پیشِ نظر کیا تھانوں کی ضرورت ہے؟ ان پر کروڑوں اربوں کے اخراجات کی کیا منطق ہے؟ ریلوے سکڑ کر پہاڑ سے چوہا بن چکی ہے۔ کاش اسمبلی میں کوئی پوچھے کہ کتنی لائنیں اور کتنے ریلوے سٹیشن بیکار پڑے ہیں۔ وزیر آباد سے پہلے ریل سیالکوٹ جاتی تھی اب نہیں جاتی۔ نارووال شکر گڑھ ریلوے ٹریک 22سال سے ویران پڑا ہے۔ پورے ملک میں ایسے سینکڑوں ٹریک ہوں گے۔ اتنی بڑی وزارت اور اتنا بڑا ریلوے ہیڈ کوارٹر! بجٹ کا زیادہ حصہ ریلوے کے ملازم ہی تناول فرما جاتے ہیں! ریٹائرڈ ملازمین بھی مفت سفر کرتے ہیں۔ وزارت کے بجائے ایک چھوٹا سا سیل اس تخفیف شدہ‘ ننھی منی ریلوے کیلئے کافی ہے جسے وزارتِ مواصلات کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایک وزارت صنعت اور پیداوار کی بھی ہے۔ صنعت میں تو رسوائے زمانہ سٹیل مل شامل ہو گی۔ اس سے زیادہ کامیاب اور نفع آور انڈسٹری کیا ہو سکتی ہے؟ رہی پیداوار تو وہ سمجھ سے باہر ہے۔ نہ جانے کون سی‘ کس شے کی پیداوار ہے! یوٹیلیٹی سٹورز اس وزارت کے تحت ہیں۔ کیا یہ صنعت اور پیداوار کا حصہ ہے؟ یہ تو دکانداری ہے۔ آپ مال خرید کر بیچتے ہیں۔ اس کا صنعت سے کیا تعلق؟
جہاں چند وزارتوں اور محکموں کو ختم کرنا ضروری ہے وہاں کچھ نئی وزارتوں کا قیام بھی وقت کی ضرورت ہے۔ ایک نئی وزارت جو فوراً قائم ہونی چاہیے ''وزارتِ معلوماتِ رشوت‘‘ ہے۔ اس کا کام عوام کو آگاہ کرنا ہو گا کہ فلاں محکمے میں فلاں کام کے لیے رشوت کا کیا ریٹ ہے۔ مثلاً یہ کہ فلاں ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں پرانے مکان کے انہدام کی اجازت لینے کیلئے اتنے ہزار روپے دینے ہوتے ہیں۔ گیس کے کنکشن کیلئے کیا ریٹ ہے۔ زمین کی گرداوری کیلئے کتنی رقم دینی ہے۔ مکان یا زرعی زمین کے انتقال کیلئے نذرانہ کتنا ہو گا۔ ایک اور وزارت ''قتل بذریعہ ٹریفک‘‘ کے نام سے قائم ہونی چاہیے۔ یہ وزارت اس قتل و غارت کے اعداد و شمار شائع کیا کرے گی جو شاہراہوں پر ہو رہے ہیں۔ یہ بھی بتائے گی کہ ماہانہ کتنے انسان ڈمپروں اور ٹریکٹر ٹرالیوں کے نیچے کچلے جا رہے ہیں۔ اور یہ کہ ڈمپروں اور ٹریکٹر ٹرالیوں کے ڈرائیور بربریت میں درندوں سے کتنے آگے ہیں اور یہ کہ یہ قاتل سزا سے مستثنیٰ ہیں۔ وزارت یہ بھی بتائے گی کہ کتنے قاتلوں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیںتھے۔ ٹرکوں‘ بسوں اور ویگنوں کے حوالے سے بھی قتل کے اعداد و شمار بتائے جائیں گے۔ ایک اور وزارت جس کا قیام بہت ضروری ہے ''پروٹوکول اخراجات‘‘ کی وزارت ہے۔ یہ وزارت بتائے گی کہ صدر‘ وزیراعظم‘ گورنروں‘ چیف منسٹروں‘ وفاقی اور صوبائی وزیروں‘ اسمبلیوں کے ممبروں کے پروٹوکول پر ہر ماہ کتنا روپیہ خرچ ہوتا ہے؟ حکمرانوں کے گھروں اور دفاتر پر اٹھنے والے ماہانہ اخراجات سے بھی عوام کو یہی وزارت آگاہ کرے گی۔ ایک اور وزارت ''اینٹی سرمایہ کاری‘‘ ہو گی۔ اس کا کام سرمایہ کاری کی مخالفت اور حوصلہ شکنی کرنا ہو گا۔ یہ تجویز کرے گی کہ جائیداد اور پلاٹوں کی خریدو فروخت کو کیسے مزید ناممکن بنایا جائے اور صنعتکاروں کو ملک سے بھگایا کیسے جائے۔
پس نوشت: ایک اور سفید چمڑی والی سفارتکار نے ٹریفک سگنل توڑا۔ موٹر سائیکل پر چڑھ دوڑی۔ موٹر سائیکل پر سوار پاکستانی پولیس کا کانسٹیبل زخمی ہو گیا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ کئی واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں۔ ہم چونکہ ذہنی غلامی میں طاق ہیں اس لیے سفید فاموں کو پورا حق حاصل ہے کہ ہمیں زخمی کریں یا ماردیں! انگریزی حکومت میں مقامی انسان کو ہلاک کرنے پر سفید فام قاتل کو دو روپے جرمانہ کی سزا ہوتی تھی۔ اب شاید اتنی بھی نہیں! ہمارے لیے ہر قاتل ریمنڈ ڈیوس ہی ہے۔ کس کی ہمت ہے کہ انہیں سزا دے!

Tuesday, June 04, 2024

۱۹۷۱ کا بکھیڑا اور رئیل اسٹیٹ کی تباہی



   ۱۹۷۱ کا سانحہ پاکستان میں ایسا ہاتھی بن چکا ہے جو اندھوں میں گھِر گیا تھا۔ ہر اندھا اپنے ''علم‘‘ کے مطابق بتا رہا تھا کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔ جو اندھا ہاتھی کی ٹانگ کو ٹٹول رہا تھا اس کے رائے تھی کہ ہاتھی ستون کی شکل کا ہوتا ہے۔ جو ہاتھی کے کانوں کو چھو رہا تھا‘ اس کے نزدیک ہاتھی بڑے سائز کے دستی پنکھے کی طرح تھا۔ جس کے ہاتھ میں سونڈ تھی وہ کہتا تھا کہ ہاتھی پائپ کی طرح ہوتا ہے۔
سقوطِ ڈھاکہ کا سانحہ کلامِ اقبال بن کر رہ گیا ہے۔ اقبال کے پورے کلام کو‘ پوری آئیڈیالوجی کو‘ پورے نظام کو نہ پڑھا جاتا ہے نہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مولوی اپنے مطلب کے اشعار نکال لیتا ہے۔ کامریڈ وہ اشعار پیش کرتا ہے جو اسے راس آتے ہیں۔ 1971ء کے حادثے سے بھی سب اپنے اپنے مطلب کے اجزا اخذ کرتے ہیں۔ کچھ بنگالیوں کو مجرم ثابت کرتے ہیں‘ کچھ بھارت کو‘ کچھ پاکستان کی طویل آمریت کو۔ کچھ سارا الزام یحییٰ خان پر لگاتے ہیں اور کچھ جنرل نیازی پر ملبہ ڈالتے ہیں جوڈراپ سین کے وقت وہاں موجود تھا۔
اس فکری انتشار کی وجہ بدنیتی کم ہے اور جہالت زیادہ! جہالت سے ہماری مراد ناخواندگی نہیں! اس سے مراد مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی مکمل تاریخ سے ناواقفیت ہے! ہر سانحے اور ہر واقعہ کی پشت پر دو قسم کے اسباب ہوتے ہیں۔ اصل اسباب! اور فوری اسباب! اصل اسباب مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے 24 برسوں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ٹویٹ کرنے والوں اور اس پر اعتراض کرنے والوں میں سے کتنے اس تاریخ سے واقف ہیں جو 24 برسوں پر محیط ہے؟ کم! شاید بہت کم! یحییٰ خان‘ بھٹو‘ شیخ مجیب الرحمن‘ جنرل نیازی‘ مکتی باہنی اور 25 مارچ کا ایکشن‘ ان سب کا تعلق اصل اسباب سے نہیں بلکہ فوری اسباب سے تھا! 1970ء کے الیکشن سے پہلے بھی صاف نظر آرہا تھا کہ دونوں حصوں کا اکٹھا رہنا نا ممکنات میں سے تھا۔ آج کے پاکستان کے ایک الیکشن کو اور اس کے عواقب کو 1971ء کے واقعہ سے تشبیہ دینا ایک لایعنی تسہیل 
(over simplification) 
سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ درست ہے کہ مشرقی پاکستان سے زیادتیاں اور ناانصافیاں ہوئیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسمبلی کے اجلاس کو غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کرنا حماقت تھی۔ مگر شیخ مجیب الرحمن مدبر اور سٹیٹس مین ہوتے تو قتل و غارت کو روکتے‘ آئینی جدو جہد کرتے۔مکتی باہنی اور بھارتی مداخلت جیسے سہارے نہ ڈھونڈتے۔
1971ء کی مثال اس لیے بھی غلط ہے کہ اس سانحہ سے پہلے ملک پر 13 سال تک آمریت کا دور دورہ رہا جبکہ 2024ء کے الیکشن سے پہلے‘ نام نہاد سہی‘ جمہوری حکومتوں کا دور رہا ہے۔ اس جمہوری عہد میں تقریباً چار سال عمران خان کی اپنی حکومت بھی رہی ہے۔ یہ بات سب مانتے ہیں کہ چار برسوں کی یہ حکومت عسکری ستونوں پر قائم رہی۔ تحریک انصاف خود بھی انکار نہیں کر سکتی کہ اسمبلیوں میں حاضری سے لے کر بِل پاس کروانے تک کے لیے ''مدد‘‘ طلب کی جاتی تھی۔ یہ بھی بتایا جاتا رہا کہ 'پس پردہ‘ کون اسمبلی چلاتا رہا۔
آج ہر شخص پوچھ رہا ہے کہ سیاست میں اور سیاسی حکومتوں میں مداخلت کا خاتمہ کس طرح ہو گا؟ اس کا جواب بچہ بھی جانتا ہے۔ایک فاتر العقل انسان بھی اس کا حل بتا سکتا ہے۔ جب آپ کے قلب کے دستے رات کے اندھیروں میں جا جا کر ملاقاتیں کریں گے اور مدد طلب کریں گے تو طاقت آپ کے ہاتھ میں کس طرح آسکتی ہے؟ جس دن سارے سیاستدان‘ سو فیصد سیاستدان‘ فیصلہ کریں گے اور عہد کریں گے کہ وہ خارجی مدد طلب کریں گے نہ کوئی خارجی حکم مانیں گے تو اُس دن اصل طاقت ان کے ہاتھوں میں ہو گی۔ ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک آمرانہ حکومتوں کو خود سیاستدانوں نے مضبوط کیا۔ ایک سیاستدان ہی تھا جس نے ایوب خان کو امیر المومنین بننے کا مشورہ دیا۔ ضیا الحق کی مجلسِ شوریٰ میں جو لوگ شامل تھے وہ آج بھی آپ کو نمایاں پوزیشنوں پرنظر آئیں گے۔ کوئی عسکری حکمران دکھاوے کی جمہوری حکومت کے بغیر نہیں چل سکتا اور یہ دکھاوے کی جمہوری حکومتیں سیاستدانوں کی مدد کے بغیر نہیں بن سکتیں۔ ظفر اللہ جمالی اور چودھری شجاعت حسین وزیراعظم بننے سے انکار کر دیتے! فتح جنگ کے حلقے سے شوکت عزیز کو کیا سیاستدانوں نے نہیں منتخب کرایا! کیا وہ ایک سیاستدان نہیں تھا جو ببانگِ دہل کہتاپھرتا تھا کہ دس بار وردی میں کامیاب کراؤں گا؟ بھٹو کو پھانسی دلوانے میں ایک سیاسی مذہبی پارٹی کے سربراہ نے کلیدی کردار نہیں ادا کیا تھا؟ مسلم لیگ(ن) کے دو اہم ستون رات کے اندھیرے میں کس کو جا جا کر ملتے تھے؟ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں! کتنی شرمناک حقیقت ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے ایوب خان کو خوش کرنے کے لیے مادرِ ملت فاطمہ جناح کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ دشنام طرازی بھی کرتے رہے۔ 2013ء سے لے کر 2022ء تک خود عمران خان کن طاقتوں کے ہاتھ میں کھیلتے رہے؟ اس دوران ''مداخلت‘‘ انہیں فائدہ پہنچا رہی تھی اس لیے مداخلت نظر ہی نہ آئی۔
آج تحریک انصاف کہتی ہے کہ مذاکرات اس سے کریں گے جس کے ہاتھ میں طاقت ہے! کیا اس مؤقف سے تحریک انصاف غیر سیاسی طاقتوں کو مزید طاقتور نہیں کر رہی؟ آج اگر عمران خان کڑوا گھونٹ بھر کر یہ اعلان کر دیں کہ غیرسیاسی طاقتوں کا کوئی رول نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ملک سیاستدانوں نے بنایا تھا اور سیاستدان ہی چلائیں گے اور یہ کہ وہ صرف سیاستدانوں ہی سے بات کریں گے! تو وہ ایک نئی تاریخ بنائیں گے اور ایک ایسے پروسیس کا آغاز کریں گے جو حقیقی جمہوریت پر منتج ہو گا۔ مگر اس کام کے لیے اخلاقی جرأت چاہیے۔ ضد اور منتقم مزاجی نہیں!!



‎پس نوشت ——۔ بچی کھچی رئیل اسٹیٹ کی تباہی——-


 

‎اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے میں ہمارا جواب نہیں۔ جائدادیں بیچنے اور خریدنے والے ملکی پالیسیوں سے زچ ہو کر دبئی کا رخ کر چکے ہیں۔ کارخانے لگانے والے بنگلہ دیش‘ ویتنام اور ملائیشیا جا چکے ہیں۔ تازہ خبر یہ ہے کہ رہے سہے سرمایہ کاروں کا گلا گھونٹنے کے لیے بان کی کھردری‘ موٹی رسیاں بُنی جا رہی ہیں۔ حکومت رئیل اسٹیٹ بیچنے اور خریدنے والوں پر لگا ہوا ٹیکس مزید بڑھانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ مرے کو مارے شاہ مدار! صنعت و حرفت تو پہلے ہی تباہ ہو چکی۔ مُڑ جڑ کر رئیل اسٹیٹ ہی بچی تھی سرمایہ کاری کے لیے اور روپے کی گردش کے لیے‘ اس کے سامنے بھی ''عقل مند‘‘ نوکر شاہی بند باندھ رہی ہے۔ کاروبار ٹھپ ہوکر رہ جائے گا۔ کسی غریب اور مڈل کلاسیے کے لیے تو پلاٹ خرید نا اور اپنی چھت بنانا پہلے ہی انتہائی مشکل ہے۔ ٹیکسوں کے بڑھنے سے اَپر کلاس کے لیے بھی رئیل اسٹیٹ میں کاروبار کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ حکومتوں کا کام کاروبار کو آسان کرنا ہے مگر ہماری حکومتیں کاروبار کو قتل کرنے کی ماہر ہیں۔ نیت یہ ہے کہ ٹیکس بڑھا کر خزانے کو بھرا جائے۔ ارے بھائی اتنا زیادہ ٹیکس بیچنے اور خریدنے والے پر لگائیں گے تو بیچے گا کون اور خریدے گا کون اور خزانے میں کیا جائے گا؟ عقل مند تاجر منافع کم رکھتا ہے تاکہ گاہکوں کی تعداد میں اضافہ ہو۔ آپ رئیل اسٹیٹ پر ٹیکس کم کیجیے۔ اس کی خرید و فروخت کو عذاب مت بنائیے۔ جائیداد زیادہ بکے گی اور زیادہ خریدی جائے گی تو ٹیکس سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔ کاش عقل کو بازار سے خریدا جا سکتا

Monday, June 03, 2024

یہ مزا ہر ایک کی قسمت میں کہاں


ہم کئی دن اس کے پاس‘ اس کے گھر میں رہے۔ جس دن واپس آنا تھا میری طبیعت میں صبح سے عجیب اضطراب تھا۔ میں نے اور بیگم نے کوشش کی کہ اس سے چھپ کر گاڑی میں بیٹھیں۔ مگر جیسے ہی گاڑی سٹارٹ ہوئی وہ ننگے پاؤں بھاگتا باہر آیا۔ جب دیکھا کہ نانا نانو دونوں گاڑی میں سوار ہیں تو پوری قوت سے‘ جتنی اس کے ننھے جسم میں تھی‘ رونا چیخنا شروع کر دیا۔ پھر اس نے دونوں ہاتھ میری طرف کئے۔ مجھ سے نہ رہا گیا۔ اسے گاڑی کے اندر گود میں بٹھا لیا۔ پھر ڈرائیور سے کہا کہ ایک دو گلیوں کے چکر لگاؤ۔ گاڑی چلی اور اس نے خوشی سے گود میں ہلنا اور جھومنا شروع کر دیا۔ تین چار گلیوں سے ہو کر واپس پہنچے۔ اب اس کی ماں نے اسے گاڑی سے اتارنا چاہا۔ پہلے تو رستم نے مدافعت کی۔ پھر رویا اور خوب رویا۔ گاڑی کے دروازے بند ہوئے تو اس کے رونے کی آواز مدہم سنائی دینے لگی۔
مجھے اعتراف ہے کہ میں اپنے 
Grand children
کے حوالے سے بہت حساس اور جذباتی ہوں۔ (معاف کیجیے گا‘ گرینڈ چلڈرن کا لفظ مجبوراً لکھا ہے۔ اس کا اردو متبادل لمبا ہے۔ یعنی پوتے پوتیاں‘ نواسے نواسیاں! اسی طرح گرینڈ پیرنٹس کا اردو متبادل نانا نانی‘ دادا دادی ہو گا۔ گرینڈ چلڈرن کو گرینڈ کڈز بھی کہا جاتا ہے) دوستوں کا خیال ہے کہ گرینڈ چلڈرن پر جتنا میں نے لکھا ہے‘ کسی نے نہیں لکھا۔ مجھ پر ان کی جدائی شاق گزرتی ہے۔ پاس ہوں تو سارا وقت میرے ساتھ ہی گزارتے ہیں۔ ذرا سے بڑے ہو جائیں تو سوتے بھی میرے پاس ہیں۔ سب اکٹھے ہوں تو ساتھ سونے کے لیے باریاں مقرر ہوتی ہیں۔ دو بچے ساتھ سوئیں تو میں درمیان میں ہوتا ہوں۔ ایک کہتی ہے منہ اس کی طرف کروں۔ دوسرا کہتا ہے اس کی طرف۔ اس کا ایک ہی حل ہوتا ہے کہ میں منہ چھت کی طرف کروں۔ پچھلے اٹھارہ برسوں میں جتنی طبع زاد کہانیاں ان بچوں کو سنائی ہیں‘ لکھتا تو کئی کتابیں ہو چکی ہوتیں۔ حال ہی میں بچوں کا جو ناول (ٹِکلو کے کارنامے) بک کارنر جہلم والوں نے چھاپا ہے‘ ان کہانیوں کا عشرِ عشیر بھی نہیں! بچوں کی جدائی میں جتنا سلگا ہوں اور ان کے چھوڑے ہوئے کھلونوں کو جس طرح سنبھال کر رکھا ہے اور ان کی کھینچی ہوئی لکیروں والے کاغذوں کو جس طرح فریم کرایا ہے‘ شاید ہی کسی اور نے اس طرح کیا ہو۔ میرے ایک دوست اپنے پوتوں کے آنے کو پسند نہیں کرتے کہ اُن کے بقول شور مچاتے ہیں۔ میں نے حیرت کا اظہار کیا تو فرمایا ''ہر شخص تمہاری طرح جذباتی نہیں ہوتا‘‘۔ یہ رویہ شاید مجھے وراثت میں ملا ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی گیا تو والد گرامی مرحوم کے دل پر اثر ہوا۔ اپنے بچے سفر پر نکلے اور بیٹیوں کی شادیاں ہوئیں تو ہفتوں چارپائی کے ساتھ لگا رہا۔ چھوٹی بیٹی کی رخصتی پر جب کالم (روزنامہ دنیا‘ 9 فروری 2015ء) لکھا‘ افتخار عارف تب ملک سے باہر تھے۔ کسی کو پیغام بھیجا کہ بھئی اظہار کی خبر لو‘ اس کی طبیعت بہت خراب لگ رہی ہے۔
پولو میچ دیکھنے کی لت مجھے بھی ہے اور اب یہ خبط سوا دو سالہ رستم کو بھی لاحق ہو چکا ہے۔ ادھر شام ہوئی‘ ادھر اس نے گھولے گھولے (گھوڑے گھوڑے) کا وِرد شروع کر دیا۔ پھر میری انگلی پکڑ کر گاڑی کے پاس لاتا ہے۔ جیسے ہی ہم پولو گراؤنڈ کے قریب پہنچتے ہیں‘ یہ گھوڑوں کی تلاش میں نظریں دوڑانے لگتا ہے۔ جیسے ہی گھوڑے نظر آتے ہیں ''گھولے‘‘ کا نعرہ لگاتا ہے۔ میچ کے دوران غور سے گھوڑوں کو دیکھتا رہتا ہے۔ بال کا بھی اسے معلوم ہوتا ہے کہ اب کہاں ہے۔ کبھی کبھی جب دونوں ٹیمیں اس جگہ کے قریب آکر کھیلنے لگتی ہیں‘ جہاں ہم بیٹھے ہوتے ہیں تو گھوڑوں کو نزدیک دیکھ کر بہت سنجیدہ ہو جاتا ہے اور گیم کو زیادہ غور سے دیکھتا ہے۔ پیدل چلنا اس کا محبوب مشغلہ ہے۔ کھیل کے میدان کی باؤنڈری کے ساتھ ساتھ چلتا جائے گا۔ ادھر گارڈ پریشان ہو رہا ہوتا ہے کہ یہ باؤنڈری کراس کر کے میدان کے اندر نہ چلا جائے۔ مگر نہیں جاتا۔ میں واپس لا کر اپنے پاس بٹھاتا ہوں۔ غروبِ آفتاب کے تھوڑی دیر بعد میچ ختم ہوتا ہے۔ تب اس طرف ہاتھ کا اشارہ کر کے کہتا ہے ''چلے گئے‘‘۔ اب کھیل کا پورا میدان اس کی جولانگاہ بن جاتا ہے۔ وہ دوڑنا شروع کرتا ہے۔ کبھی کسی کوے کے پیچھے۔ کبھی کسی دوسرے پرندے کے پیچھے۔ دوڑنے بھاگنے کا شوق جی بھر کے پورا کرتا ہے۔ جدھر کا رُخ کرتا ہے‘ نانا اسی طرف پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہے۔ بھاگ بھاگ کر جب تھک جاتا ہے تو پاس آکر دونوں بازو اوپر اٹھاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے اٹھا لیجیے۔ اب ہم پولو کے ریستوران میں جا بیٹھتے ہیں۔ یہاں کی ڈرل اسے یاد ہے۔ پہلے پانی‘ پھر تازہ بنے ہوئے چپس! مشکل مرحلہ تب آتا ہے جب گھر واپس جانے کا وقت ہوتا ہے۔ گھر واپس جانا اس کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ بس چلے تو رات پوری یہیں گزار دے۔ 
صبح کے ناشتے میں میرا مستقل پارٹنر ہے۔ ماں بیچاری پتا نہیں کیا کیا چیزیں بناتی ہے اس کے ناشتے کے لیے۔ ماں باپ دونوں یہ چیزیں لیے اس کے پیچھے پیچھے چلتے کھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر جیسے ہی میرے سامنے چائے اور رس دیکھتا ہے‘ بھاگا چلا آتا ہے۔ دائیں ہاتھ سے رس چائے میں ڈبو کر کھاتا ہے اور ساتھ ہی بائیں ہاتھ میں دو تین رس پکڑ لیتا ہے۔ رس ڈبو کر جب کھاتا ہے تو چائے کے قطرے‘ ظاہر ہے اس کی قمیض پر گرتے ہیں۔ کل اس کی ماں شور مچا رہی تھی کہ اس نے اپنی قمیضوں کا ستیا ناس کر دیا ہے۔ میں نے ہنس کر کہا: کوئی بات نہیں‘ اور لے لیں گے۔ اس پر اس نے وہی عالم گیر فقرہ دہرایا جو مشرق و مغرب میں مائیں گرینڈ پیرنٹس کو کہتی ہیں کہ آپ اسے خراب
 (Spoil) 
کر رہے ہیں! اس پر ہمیشہ مجھے کینیڈا کی وہ بوڑھی عورت یاد آتی ہے جس نے کہا تھا کہ ہاں! ہم 
Spoil 
کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے کیونکہ ہم پیرنٹس نہیں ہیں‘ گرینڈ پیرنٹس ہیں۔
کئی سال پہلے کی بات ہے۔ ہماری پہلی گرینڈ چائلڈ زینب تین چار سال کی تھی۔ اس وقت چھوٹی بیٹی (رستم کی ماں) کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ زینب نے کرسی پر رنگین پنسلوں سے بھری ڈبی رکھی ہوئی تھی۔ وہاں سے ایک پنسل اٹھاتی‘ سامنے جا کر دیوار پر لکیریں کھینچتی۔ پھر واپس آکر وہ پنسل رکھتی‘ دوسری اٹھاتی‘ پھر اس سے جا کر دیوار پر لکیریں کھینچتی۔ ہم دونوں میاں بیوی دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے تھے‘ بیٹی خون کے گھونٹ پی رہی تھی۔ کہنے لگی: امی ابو آپ دیکھ رہے ہیں یہ دیوار کا ستیا ناس کر رہی ہے اور آپ خوش ہو رہے ہیں! ہم نے بیک آواز کہا کہ کوئی بات نہیں‘ یوں بھی دیوار پر سفیدی تو کرانی ہی ہے۔ یہ سن کر اسے اور بھی غصہ آیا مگر تلملانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ اب زینب بڑی ہو کر پڑھائی میں پھنس گئی ہے۔ اب ہم رستم کو 
Spoil
کر رہے ہیں اور لطف اندوز ہو رہے ہیں! میں لکھتے وقت ایک بڑی ڈِش پنسلوں‘ بال پنوں اور فاؤنٹین پنوں سے بھری ہوئی میز پر رکھتا ہوں۔ کسی کو اجازت نہیں کہ اس میں سے کچھ اٹھائے۔ مگر رستم آتا ہے تو یہ ڈش اس کا کھلونا بن جاتی ہے۔ سارے قلم زمین پر انڈیلے گا۔ پھر ڈش میں ڈالے گا۔ پھر مختلف کمروں اور کونوں میں انہیں پھیلائے گا۔ کوئی منع کرے کہ ابو کے قلم رکھ دو۔ تو ابو ہنس کر کہتے ہیں کھیلنے دو۔ اس کے جانے کے بعد گھر کے کمروں اور مختلف جگہوں سے قلم اکٹھے کرتا ہوں تو اس مشقت کا بھی اپنا مزا ہے۔ مگر یہ مزا ہر ایک کی قسمت میں نہیں! کچھ ابھی نانا دادا بنے نہیں‘ اور کچھ جو بنے ہیں اپنی افتادِ طبع کے اسیر ہیں!!

 

powered by worldwanders.com