کیا روس اب بھی آہنی پردے کے پیچھے ہے؟
طارق حیات ملک میرے گرائیں ہیں۔ ان کا گاؤں ڈُھرنال‘ میرے گاؤں جھنڈیال کے بالکل ساتھ واقع ہے۔ لیکن میری اور طارق حیات ملک صاحب کی مماثلت یہاں پر ختم ہو جاتی ہے۔ آگے دو مختلف دنیائیں ہیں۔ میں ملازمت پیشہ! قرطاس وقلم کا مزدور! ملک صاحب نے فوج کی افسری چھوڑی اور کاروبار کی طرف آ گئے۔ اس وقت ماشاء اللہ ان کا کاروبار پاکستان سے روس تک‘ روس سے وسط ایشیا تک اور وسط ایشیا سے چین تک پھیلا ہوا ہے۔ ملک کو زرمبادلہ کما کر دینے والوں میں ان کا نام نمایاں ہے۔ ساتھ ہی وہ خدمت خلق بھی کر رہے ہیں۔ ان کی سیاحتی کمپنی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کو مختلف ملکوں کی سیر کراتے ہیں (اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں)۔ اب کے وہ گروپ لے کر روس جا رہے تھے۔ بہت دنیا دیکھی ہے‘ روس نہیں دیکھا تھا۔ ایک تو روس دیکھنے کا شوق‘ اوپر سے دوستِ دیرینہ‘ سابق وفاقی سیکرٹری جناب احمد محمود زاہد صاحب کی ترغیب اور ''تبلیغ‘‘ کہ ایک بار اس گروپ کو بھی آزما دیکھو۔ چنانچہ میں بھی اس قافلے کے ساتھ ہو لیا۔ حالانکہ حالت اپنی‘ اپنے ہی اس شعر کی تصویر ...