کیا ہم واقعی دیانت دار ہیں؟
دکاندار بہت نیک تھا۔
کسی سے ایک پیسہ بھی ناجائز نہ لیتا۔ سامان‘ سو فیصد درست تولتا۔ منافع جائز رکھتا۔ اس زمانے میں نقد روپیہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ گندم‘ خاص طور پر دیہات میں‘ روپیہ کے قائم مقام سمجھی جاتی تھی۔ خریدار گندم دکاندار کو دیتے اور اس کے بدلے میں سودا سلف حاصل کرتے۔ زیادہ سودا لینا ہوتا تو زیادہ گندم لائی جاتی۔ دکاندار گندم کو تولتا اور اپنے سٹاک میں ڈال دیتا۔ آج کے بچوں نے تو دو پلڑوں والا ترازو بھی نہیں دیکھا۔ قصہ مختصر‘ یہ نیک اور دیانتدار دکاندار دنیا سے رخصت ہو گیا۔ کچھ دنوں بعد کسی کے خواب میں آیا۔ خواب والے نے پوچھا ''سناؤ کیسی گزری؟ تم تو دیانتدار تھے۔ فوراً کامیابی کا پروانہ مل گیا ہو گا‘‘۔ دکاندار نے کہا ''نہیں! بھئی! کیا پوچھتے ہو! ! یہاں تو رپَھڑ پڑ گیا‘‘۔ پوچھا: کیا رپھڑ؟ کہنے لگا: وہ گندم جو میں خریدار سے لے کر تولتا تھا‘ اُس میں سے کچھ دانے تولتے وقت ترازو کے پلڑوں سے زمین پر گر جاتے تھے۔ وہ میں غیر ارادی طور پر صفائی وغیرہ کرتے ہوئے‘ اپنی گندم میں ملا دیتا تھا۔ بس اس کی پوچھ گچھ ہو رہی ہے کہ وہ تو خریدار کے دانے تھے‘ تم اپنے سٹاک میں ڈالتے رہے۔
یہ ایک روایت ہے جو ہم نے بزرگوں سے سنی! خدا ہی کو معلوم ہے کہ کتنی سچی ہے۔ ہو سکتا ہے سمجھانے کے لیے کسی بزرگ نے کہانی ڈالی ہو۔ اگر ایسا ہے تو مسئلہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ ''ذرہ بھر‘‘ کے لیے کلام پاک میں مثقال کا لفظ برتا گیا ہے۔ ذرہ بھر نیکی بھی سامنے آ جائے گی اور ذرہ بھر برائی بھی چُھپ نہیں سکے گی۔ ہم جن گناہوں کو بہت چھوٹا سمجھتے ہیں‘ وہ چھوٹے ہوں‘ تو بھی بہت سے چھوٹے گناہ مل کر انبار کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ چھوٹے گناہوں کو بے ضرر سمجھ کر کرتے چلے جائیں تو جھجھک ختم ہو جاتی ہے۔ یہ موضوع اس لیے چھیڑنا پڑا کہ چند روز پہلے ایک عزیز نے کسی صاحب کو کتاب دی کہ فلاں کو پوسٹ کر دو۔ وہ صاحب سرکاری دفتر میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کتاب دفتر کی طرف سے یعنی سرکاری کھاتے میں پوسٹ کی۔ وہ ایسا کرنے کے مجاز نہ تھے۔ تین چارسو یا چار پانچ سو روپے جو اس کام پر خرچ ہوئے‘ سرکار کے تھے۔ حساب کتاب کے دن اسے معمولی فرو گزاشت سمجھتے ہوئے معاف بھی کیا جا سکتا ہے اور یہ معمولی رقم رپھڑ بھی ڈال سکتی ہے۔ آپ سرکاری ادارے میں کام کر رہے ہیں یا نجی شعبے میں‘ آپ کو ذاتی کام اور ادارے کے کام میں فرق روا رکھنا ہو گا۔ یہاں تک کہ ذاتی کام کے لیے آپ اصولی طور پر ادارے کا لفافہ‘کاغذ اور روشنائی بھی استعمال نہیں کر سکتے۔ اصول کی بات کی جائے تو ادارے کا وقت بھی آپ ذاتی کام کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ ہمارے ایک دوست باہر جانے کے شوق میں چلے گئے۔ جس کمپنی میں وہاں کام ملا‘ وہاں ایک دن اخبار پڑھتے ہوئے پائے گئے۔ انہیں تنبیہ کی گئی کہ اخبار کا مطالعہ آپ کا ذاتی کام ہے۔ یہ ذاتی کام آپ دفتری اوقات میں نہیں کر سکتے۔ ایک صاحب کو فارغ کر دیا گیا کیونکہ وہ ڈیوٹی کے دوران ڈرامہ دیکھ رہے تھے۔ ہم ایک معمولی فائدے کے لیے اپنی عاقبت کو مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ آپ نے ذاتی کاغذ فوٹو کاپی کرانا ہے۔ پانچ دس روپے خرچ کیجیے اور بازار سے کرائیے۔ یہ ساری احتیاطیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو جائز ناجائز اور حرام حلال کا خیال رکھتے ہیں۔ وہ حضرات جو اپنے ادارے کے لاکھوں کروڑوں جیب میں ڈال رہے ہیں ان سے گزارش ہے کہ ہماری باتوں کو مجذوب کی بڑ قرار دے کر ایک طرف پھینک دیں۔
ہم مسلمان اگر دیانت سے کام لیتے ہیں تو آخرت کی جواب دہی کے خوف سے۔ داد دیجیے ان لوگوں کو جن کا آخرت پر یقین نہیں مگر غلط کام نہیں کرتے۔ داد ان معززین کو بھی دینی چاہیے جو آخرت پر یقین کا دعویٰ کرتے ہیں مگر فریب کاری ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ہمارے حاجی صاحب شے بیچتے وقت شے کا نقص نہیں بتاتے حالانکہ انہیں معلوم ہے ایسا کرنے والوں پر فرشتے کیا بھیجتے ہیں۔ دوسری طرف غیر مسلم ملکوں میں دکاندار جھوٹ نہیں بولتا۔ خریدا ہوا مال واپس بھی کر لیتا ہے اور مال بیچتے وقت مال کا نقص بھی بتا دیتا ہے۔ گاہک کے جانے کے بعد اگر اسے معلوم ہو جائے کہ اس کے ذمہ گاہک کی کچھ رقم رہتی ہے تو گاہک کو رقم پہنچا کر دم لے گا۔
قائداعظم دیانت کے حوالے سے ہر پاکستانی کا آئیڈیل ہونے چاہئیں۔ ان کے مخالفین بھی ہزار کوشش کے باوجود ان پر خیانت اور جھوٹ کا الزام ثابت نہیں کر سکے۔ وکیل کے طور پر ان کی پیشہ ورانہ زندگی دیانت کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ مقدمے کو کبھی طوالت کی نذر نہ ہونے دیا۔ پہلی پیشی پر مقدمہ جیت جاتے تو باقی رقم واپس کر دیتے۔ راجستھان کے دو ہندو گروہ ایک دوسرے کے مخالف تھے۔ ایک گروہ نے قائداعظم کو وکیل کرنا چاہا اور دو لاکھ (1930ء کی دہائی کے دو لاکھ) روپے فیس کی پیشکش کی۔ قائداعظم نے معذرت کر لی کیونکہ اسی دن انہوں نے لیجسلیٹو اسمبلی میں تقریر کرنا تھی۔ پاکستان بننے کے بعد کا واقعہ ہے‘ کابینہ کا اجلاس تھا یا کوئی اور میٹنگ۔ چائے کے انتظامات کا پو چھا گیا تو آپ نے منع کر دیا اور کہا کہ اجلاس میں شرکت کرنے والے گھر سے چائے پی کر آیا کریں۔ اور بھی کئی واقعات ہیں جن سے قائداعظم کی سچائی‘ دیانت اور اصول پسندی‘ کسی شک وشبہ کے بغیر ثابت ہوتی ہے۔ یہاں وہ سوال اٹھتا ہے جو ہم پاکستانیوں کے لیے بہت اہم ہے۔ کیا قائداعظم کے بعد کے حکمران بھی دیانت دار ہیں؟ کیا یہ حضرات ذاتی اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں یا سرکاری خزانے سے ؟ ہم سب اس سوال کا جواب جانتے ہیں اور جواب بے حد افسوسناک ہے۔ مشہور مقولہ ہے کہ عوام اپنے حکمرانوں کے طرزِ عمل کو اپناتے ہیں۔ جو کھلواڑ قومی خزانے کے ساتھ تقریباً ہر حکومت کا بالائی حصہ کھیلتا چلا آ رہا ہے‘ ٹھیک اسی کی تقلید حکومت کے نچلے درجے کے اہلکار اور افسران بھی کر رہے ہیں۔ کروڑوں اربوں کا مالک ہونے کے باوجود اپنی والدہ کی دیکھ بھال کے لیے سرکاری نرس کو مامور کیا جائے تو اندازہ لگا ئیے کہ نیچے کیا ہوتا ہو گا۔ سعدی نے کہا ہے:
اگر ز باغِ رعیت ملَک خورد سیبی
بر آورند غلامان او درخت از بیخ
اگر حکمران رعایا کے باغ سے ایک سیب کھائے گا تو اس کے ماتحت درخت کو جڑ سے ہی اکھاڑ لائیں گے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے بیت المال کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیش نظر عام شہری سے دیانت کی توقع کرنا ایک غیر منطقی عمل ہے۔ آخرت کی جواب دہی کا احساس ایک الگ مسئلہ ہے۔ اگر ہمارے حکمران اور دیگر اَپر کلاس سرکاری عمائدین مغربی جمہوری ملکوں کے حکمرانوں کی دیانت اور سادہ معیارِ زندگی کو‘ دنیاوی اعتبار سے ہی سامنے رکھیں تو شاید ملک کی تقدیر بدل جائے۔
پس نوشت: ایک خبر بلاتبصرہ۔ سپریم جوڈیشیل کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے خلاف دائر شکایت خارج کر دی۔ سپریم جوڈیشیل کونسل نے 22 جون کو ہونے والے اپنے اجلاس میں شکایت کا جائزہ لینے کے بعد اسے مسترد کرنے کا فیصلہ کیا۔ شکایت کنندہ کو باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا۔شکایت میں الزام عائد کیا گیاتھا کہ انہوں نے ایک ٹریفک حادثہ کیس میں جاں بحق خواتین کے اہل خانہ پر دباؤ ڈالنے اور اپنے اثر ورسوخ کے استعمال کی کوشش کی۔ تاہم سپریم جوڈیشیل کونسل نے شکایت کا جائزہ لینے کے بعد اسے خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔ (روزنامہ دنیا، 28 جون 2026ء)
کسی سے ایک پیسہ بھی ناجائز نہ لیتا۔ سامان‘ سو فیصد درست تولتا۔ منافع جائز رکھتا۔ اس زمانے میں نقد روپیہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ گندم‘ خاص طور پر دیہات میں‘ روپیہ کے قائم مقام سمجھی جاتی تھی۔ خریدار گندم دکاندار کو دیتے اور اس کے بدلے میں سودا سلف حاصل کرتے۔ زیادہ سودا لینا ہوتا تو زیادہ گندم لائی جاتی۔ دکاندار گندم کو تولتا اور اپنے سٹاک میں ڈال دیتا۔ آج کے بچوں نے تو دو پلڑوں والا ترازو بھی نہیں دیکھا۔ قصہ مختصر‘ یہ نیک اور دیانتدار دکاندار دنیا سے رخصت ہو گیا۔ کچھ دنوں بعد کسی کے خواب میں آیا۔ خواب والے نے پوچھا ''سناؤ کیسی گزری؟ تم تو دیانتدار تھے۔ فوراً کامیابی کا پروانہ مل گیا ہو گا‘‘۔ دکاندار نے کہا ''نہیں! بھئی! کیا پوچھتے ہو! ! یہاں تو رپَھڑ پڑ گیا‘‘۔ پوچھا: کیا رپھڑ؟ کہنے لگا: وہ گندم جو میں خریدار سے لے کر تولتا تھا‘ اُس میں سے کچھ دانے تولتے وقت ترازو کے پلڑوں سے زمین پر گر جاتے تھے۔ وہ میں غیر ارادی طور پر صفائی وغیرہ کرتے ہوئے‘ اپنی گندم میں ملا دیتا تھا۔ بس اس کی پوچھ گچھ ہو رہی ہے کہ وہ تو خریدار کے دانے تھے‘ تم اپنے سٹاک میں ڈالتے رہے۔
یہ ایک روایت ہے جو ہم نے بزرگوں سے سنی! خدا ہی کو معلوم ہے کہ کتنی سچی ہے۔ ہو سکتا ہے سمجھانے کے لیے کسی بزرگ نے کہانی ڈالی ہو۔ اگر ایسا ہے تو مسئلہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔ ''ذرہ بھر‘‘ کے لیے کلام پاک میں مثقال کا لفظ برتا گیا ہے۔ ذرہ بھر نیکی بھی سامنے آ جائے گی اور ذرہ بھر برائی بھی چُھپ نہیں سکے گی۔ ہم جن گناہوں کو بہت چھوٹا سمجھتے ہیں‘ وہ چھوٹے ہوں‘ تو بھی بہت سے چھوٹے گناہ مل کر انبار کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ چھوٹے گناہوں کو بے ضرر سمجھ کر کرتے چلے جائیں تو جھجھک ختم ہو جاتی ہے۔ یہ موضوع اس لیے چھیڑنا پڑا کہ چند روز پہلے ایک عزیز نے کسی صاحب کو کتاب دی کہ فلاں کو پوسٹ کر دو۔ وہ صاحب سرکاری دفتر میں کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کتاب دفتر کی طرف سے یعنی سرکاری کھاتے میں پوسٹ کی۔ وہ ایسا کرنے کے مجاز نہ تھے۔ تین چارسو یا چار پانچ سو روپے جو اس کام پر خرچ ہوئے‘ سرکار کے تھے۔ حساب کتاب کے دن اسے معمولی فرو گزاشت سمجھتے ہوئے معاف بھی کیا جا سکتا ہے اور یہ معمولی رقم رپھڑ بھی ڈال سکتی ہے۔ آپ سرکاری ادارے میں کام کر رہے ہیں یا نجی شعبے میں‘ آپ کو ذاتی کام اور ادارے کے کام میں فرق روا رکھنا ہو گا۔ یہاں تک کہ ذاتی کام کے لیے آپ اصولی طور پر ادارے کا لفافہ‘کاغذ اور روشنائی بھی استعمال نہیں کر سکتے۔ اصول کی بات کی جائے تو ادارے کا وقت بھی آپ ذاتی کام کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ ہمارے ایک دوست باہر جانے کے شوق میں چلے گئے۔ جس کمپنی میں وہاں کام ملا‘ وہاں ایک دن اخبار پڑھتے ہوئے پائے گئے۔ انہیں تنبیہ کی گئی کہ اخبار کا مطالعہ آپ کا ذاتی کام ہے۔ یہ ذاتی کام آپ دفتری اوقات میں نہیں کر سکتے۔ ایک صاحب کو فارغ کر دیا گیا کیونکہ وہ ڈیوٹی کے دوران ڈرامہ دیکھ رہے تھے۔ ہم ایک معمولی فائدے کے لیے اپنی عاقبت کو مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ آپ نے ذاتی کاغذ فوٹو کاپی کرانا ہے۔ پانچ دس روپے خرچ کیجیے اور بازار سے کرائیے۔ یہ ساری احتیاطیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو جائز ناجائز اور حرام حلال کا خیال رکھتے ہیں۔ وہ حضرات جو اپنے ادارے کے لاکھوں کروڑوں جیب میں ڈال رہے ہیں ان سے گزارش ہے کہ ہماری باتوں کو مجذوب کی بڑ قرار دے کر ایک طرف پھینک دیں۔
ہم مسلمان اگر دیانت سے کام لیتے ہیں تو آخرت کی جواب دہی کے خوف سے۔ داد دیجیے ان لوگوں کو جن کا آخرت پر یقین نہیں مگر غلط کام نہیں کرتے۔ داد ان معززین کو بھی دینی چاہیے جو آخرت پر یقین کا دعویٰ کرتے ہیں مگر فریب کاری ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ہمارے حاجی صاحب شے بیچتے وقت شے کا نقص نہیں بتاتے حالانکہ انہیں معلوم ہے ایسا کرنے والوں پر فرشتے کیا بھیجتے ہیں۔ دوسری طرف غیر مسلم ملکوں میں دکاندار جھوٹ نہیں بولتا۔ خریدا ہوا مال واپس بھی کر لیتا ہے اور مال بیچتے وقت مال کا نقص بھی بتا دیتا ہے۔ گاہک کے جانے کے بعد اگر اسے معلوم ہو جائے کہ اس کے ذمہ گاہک کی کچھ رقم رہتی ہے تو گاہک کو رقم پہنچا کر دم لے گا۔
قائداعظم دیانت کے حوالے سے ہر پاکستانی کا آئیڈیل ہونے چاہئیں۔ ان کے مخالفین بھی ہزار کوشش کے باوجود ان پر خیانت اور جھوٹ کا الزام ثابت نہیں کر سکے۔ وکیل کے طور پر ان کی پیشہ ورانہ زندگی دیانت کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ مقدمے کو کبھی طوالت کی نذر نہ ہونے دیا۔ پہلی پیشی پر مقدمہ جیت جاتے تو باقی رقم واپس کر دیتے۔ راجستھان کے دو ہندو گروہ ایک دوسرے کے مخالف تھے۔ ایک گروہ نے قائداعظم کو وکیل کرنا چاہا اور دو لاکھ (1930ء کی دہائی کے دو لاکھ) روپے فیس کی پیشکش کی۔ قائداعظم نے معذرت کر لی کیونکہ اسی دن انہوں نے لیجسلیٹو اسمبلی میں تقریر کرنا تھی۔ پاکستان بننے کے بعد کا واقعہ ہے‘ کابینہ کا اجلاس تھا یا کوئی اور میٹنگ۔ چائے کے انتظامات کا پو چھا گیا تو آپ نے منع کر دیا اور کہا کہ اجلاس میں شرکت کرنے والے گھر سے چائے پی کر آیا کریں۔ اور بھی کئی واقعات ہیں جن سے قائداعظم کی سچائی‘ دیانت اور اصول پسندی‘ کسی شک وشبہ کے بغیر ثابت ہوتی ہے۔ یہاں وہ سوال اٹھتا ہے جو ہم پاکستانیوں کے لیے بہت اہم ہے۔ کیا قائداعظم کے بعد کے حکمران بھی دیانت دار ہیں؟ کیا یہ حضرات ذاتی اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں یا سرکاری خزانے سے ؟ ہم سب اس سوال کا جواب جانتے ہیں اور جواب بے حد افسوسناک ہے۔ مشہور مقولہ ہے کہ عوام اپنے حکمرانوں کے طرزِ عمل کو اپناتے ہیں۔ جو کھلواڑ قومی خزانے کے ساتھ تقریباً ہر حکومت کا بالائی حصہ کھیلتا چلا آ رہا ہے‘ ٹھیک اسی کی تقلید حکومت کے نچلے درجے کے اہلکار اور افسران بھی کر رہے ہیں۔ کروڑوں اربوں کا مالک ہونے کے باوجود اپنی والدہ کی دیکھ بھال کے لیے سرکاری نرس کو مامور کیا جائے تو اندازہ لگا ئیے کہ نیچے کیا ہوتا ہو گا۔ سعدی نے کہا ہے:
اگر ز باغِ رعیت ملَک خورد سیبی
بر آورند غلامان او درخت از بیخ
اگر حکمران رعایا کے باغ سے ایک سیب کھائے گا تو اس کے ماتحت درخت کو جڑ سے ہی اکھاڑ لائیں گے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے بیت المال کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیش نظر عام شہری سے دیانت کی توقع کرنا ایک غیر منطقی عمل ہے۔ آخرت کی جواب دہی کا احساس ایک الگ مسئلہ ہے۔ اگر ہمارے حکمران اور دیگر اَپر کلاس سرکاری عمائدین مغربی جمہوری ملکوں کے حکمرانوں کی دیانت اور سادہ معیارِ زندگی کو‘ دنیاوی اعتبار سے ہی سامنے رکھیں تو شاید ملک کی تقدیر بدل جائے۔
پس نوشت: ایک خبر بلاتبصرہ۔ سپریم جوڈیشیل کونسل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے خلاف دائر شکایت خارج کر دی۔ سپریم جوڈیشیل کونسل نے 22 جون کو ہونے والے اپنے اجلاس میں شکایت کا جائزہ لینے کے بعد اسے مسترد کرنے کا فیصلہ کیا۔ شکایت کنندہ کو باقاعدہ آگاہ کر دیا گیا۔شکایت میں الزام عائد کیا گیاتھا کہ انہوں نے ایک ٹریفک حادثہ کیس میں جاں بحق خواتین کے اہل خانہ پر دباؤ ڈالنے اور اپنے اثر ورسوخ کے استعمال کی کوشش کی۔ تاہم سپریم جوڈیشیل کونسل نے شکایت کا جائزہ لینے کے بعد اسے خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔ (روزنامہ دنیا، 28 جون 2026ء)