مکھڈی حلوہ اور صدر ٹرمپ کی صاف گوئی
آج کل میں جہاں رہ رہا ہوں‘ وہ جگہ اُس مشہور ہوٹل سے بہت قریب ہے جہاں حساس نوعیت کے مذاکرات ہوتے رہے اور جہاں غیرملکی مہمان قیام پذیر رہے۔ اسی وجہ سے وفاقی دارالحکومت کے اندرونی راستے بھی بند رہے۔
اسی ضمن میں صدر ٹرمپ کی بھی آمد آمد تھی۔ میں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ کچھ ذمہ داری ہماری بھی ہے۔ انہوں نے سوالیہ آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا کہ ہم ہوٹل کے نزدیک رہتے ہیں۔ یعنی صدر ٹرمپ آئیں گے تو ہمارے پڑوسی ہوں گے۔ ہمیں ان کی دعوت کرنی چاہیے۔اس پر اہلیہ نے فوراً یاد دلایا کہ کچھ دن پہلے انہوں نے دوست خواتین کی دعوت کی تھی تو میں نے کہا تھا کہ گرانی ہوشربا ہو چکی ہے اس لیے ان آئے روز کی دعوتوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اس پر بیگم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ ٹھیک ہے پھر آپ کے سابق‘ فائل زدہ رفقائے کار اور نیم بے ہوش شاعر دوست بھی نہیں آئیں گے جو مسلسل نازل ہوتے رہتے ہیں اور اٹھنے کا نام نہیں لیتے۔ اب بھی بیگم نے اسی حکم نامے بلکہ معاہدے کا ذکر کیا مگر میں نے انہیں سمجھایا کہ یہ قومی معاملہ ہے اور ملک کی عزت کا سوال ہے۔ صدر ٹرمپ پڑوس میں آکر رہیں اور ہم انہیں کھانے پر نہ بلائیں تو یہ نہ صرف مہمان نوازی کے اصولوں کے خلاف ہو گا بلکہ پورے پاکستان کی عزت پر حرف آئے گا۔ یہ ایک ایسی دلیل تھی جس کے سامنے بیگم نے ہتھیار ڈال دیے۔
اب یہ طے کرنا تھا کہ دعوت کا مینو کیا ہو۔ خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا۔ سب افرادِ خانہ نے اپنی اپنی رائے دی۔ میری نواسی زینب اور پوتیاں زہرا اور زرین غصے میں تھیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر بہت مظالم ڈھائے ہیں اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ دال چاول کے مستحق ہیں۔ بہت زیادہ رونق دسترخوان پر لگانی ہے تو مکئی کی روٹی اور ساگ بھی پیش کر دیں۔ مگر میرے نواسوں قاسم اور رستم اور پوتوں حمزہ اور تیمور نے لڑکیوں کو سمجھایا کہ گھر آئے ہوئے مہمان کی توقیر اور خاطر تواضع ہماری تہذیب کا لازمی جزو ہے اس لیے کھانے میں کم از کم مرغِ مسلّم‘ بکرے کی رانیں‘ اونٹ کی نہاری اور دنبے کا پلاؤ ضرور ہو۔ ساتھ کستوری بوٹی‘ ریشمی کباب اور نرگسی کوفتے بھی ہونے چاہئیں۔ میں خاموشی سے سب کی تجاویز سنتا رہا۔ آخر میں مَیں نے صرف اتنا کہا کہ حتمی فیصلہ بچوں کی بڑی امی کریں گی تاہم مکھڈی حلوہ لازم ہے کیونکہ یہ ہمارے علاقے کی شناخت ہے۔ ہمارے ہاں کوئی دعوت مکھڈی حلوے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ اور کیا بات ہے مکھڈی حلوے کی! میٹھے پکوانوں کا سردار!! ہمارے عساکر کے جوان جب مشقیں کرتے ہیں اور سنگلاخ زمینوں اور چٹیل میدانوں میں دس دس پندرہ پندرہ میل دوڑتے ہیں تو کون سی خوراک ان کی جسمانی قوت کو بحال کرتی ہے؟؟ مکھڈی حلوہ اور دیسی چُوچہ!! مکھڈی حلوہ اٹک اور میانوالی کے اضلاع میں ہر جگہ بنیادی غذا (Staple Food) کے طور پر پکایا جاتا ہے۔ یہ تلہ گنگ میں بھی روزمرہ کی خوراک کا حصہ ہے! (آہ! تلہ گنگ! جسے عوام سے پوچھے بغیر ضلع اٹک سے کاٹ کر کہیں اور جوڑ دیا گیا اورخدا خدا کر کے اب ضلع بن گیا ہے مگر ڈپٹی کمشنر سے محروم ہے)! تاہم ہر شے کا ایک مرکز یا گڑھ ہوتا ہے۔ جس طرح پلاؤ کا گڑھ بخارا‘ سمر قند اور تاشقند ہیں‘ اور جس طرح نہاری کا گڑھ دلّی ہے اور جس طرح رس گلے کے لیے ڈھاکہ کی نواحی بستی گھوڑا سال معروف ہے اور جس طرح میٹھے دہی کے لیے بوگرا (بنگلہ دیش) مشہور ہے اور جس طرح مشہور ترکی پکوان ''اسکندر کباب‘‘ کے لیے بورصہ کا شہر جانا پہچانا ہے اسی طرح بہترین مکھڈی حلوے کے لیے پنڈی گھیب مشہور ہے۔ بیٹی کی شادی پر میں نے خصوصی طور پر پنڈی گھیب ہی سے حلوہ منگوایا تھا جو بہت ''ہِٹ‘‘ ہوا تھا۔ بہر طور مینو کا فیصلہ ہو گیا۔ دعوت کی تیاری پورے زور شور سے ہونے لگی۔ ہمارے ہاں بڑی بڑی دعوتوں میں کھانا پکانے والے کو ''پکوتا‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس عظیم الشان دعوت کے لیے پنڈی گھیب ہی سے ایک ماہر پکوتے کا بندو بست کیا گیا۔ ہر روز کئی بار ہم معلوم کرنے کی کوشش کرتے کہ صدر ٹرمپ تشریف لا چکے ہیں یا نہیں؟ وہی حال تھا کہ بقول نصرت فتح علی خان: آ جا تینوں اکھیاں اُڈیک دیاں! مگر صدر ٹرمپ نے نہیں آنا تھا‘ نہ آئے۔ ساری تیاریاں دھری رہ گئیں۔ سودا سلف منگوانے پر خاصی رقم لگی تھی۔ یوں امریکہ کے صدر کی وجہ سے ہمیں مالی نقصان پہنچا۔
خواتین‘ خاص طور پر پاکستانی خواتین دُھن کی پکی ہوتی ہیں۔ اپنی ہٹ پر قائم رہتی ہیں۔ بیگم نے فیصلہ کیا کہ ٹیلیفون کر کے صدر ٹرمپ کو بتائیں گی کہ دعوت کرنا تھی مگر آپ تشریف ہی نہ لائے۔ منع کیا مگر پاکستانی شوہروں کی سنتا کون ہے۔ اللہ جانے بیگم صاحبہ نے صدر ٹرمپ کا ذاتی موبائل فون نمبر کیسے معلوم کیا مگر کر لیا۔ صدر صاحب لائن پر آئے۔ بیگم نے بتایا کہ جناب عالی!! آپ کی دعوت کرنا تھی اور ایسے ایسے پکوان کھلانے تھے کہ مذاکرات کے لیے آپ کی طاقت اور حوصلہ دو چند ہو جانا تھا۔ صدر ٹرمپ بہر طور ایک کائیاں سیاستدان ہیں۔ کہنے لگے ''آپ پاکستانی مطلب کے بغیر دعوت کہاں کرتے ہیں۔ پہلے بھی ایک امریکی صدر کو ایک پاکستانی نے کہا تھا کہ اس کے بیٹے کو تحصیلدار لگوائے۔ آپ کام بتائیے‘‘۔ اب حاشا و کلا ہم تو یہ دعوت خالصتاً فی سبیل اللہ کر رہے تھے مگر صدر صاحب نے کام کا پوچھا تو بیگم صاحبہ کو اپنی دُکھتی رگ یاد آئی۔ کہنے لگیں: عالی جناب صدر ٹرمپ! ہمارے وزیراعظم سے کہیے کہ ہم پاکستانیوں کے سر پر سے بجلی پیدا کرنے والے نجی مافیا کا بھاری بوجھ ہٹالیں۔ صدر ٹرمپ نے قہقہہ لگایا۔ کہنے لگے: خاتون! آپ اپنے وزیراعظم اور ان کے رفقا کو شاید جانتی نہیں۔ یہ لوگ بہت نرم دل ہیں۔ صلہ رحمی ان کی گھٹی میں پڑی ہے۔ اپنے طبقے کا‘ اپنی کلاس کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں (IPPs) کے مالکان ان کی اپنی کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ عوام کی حیثیت ان کے مقابلے میں گھاس کے تنکے جتنی بھی نہیں! جبھی تو کپیسٹی کا پھندا عوام کے گلے میں ڈالا گیا ہے۔ یعنی اگر نجی کارخانہ سو یونٹ بجلی پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو حکومت اسے پورے سو یونٹ کی قیمت ادا کرے گی اگرچہ وہ سو سے کم یونٹ پیدا کر رہا ہے۔ جو کارخانے صفر یونٹ یعنی کچھ بھی نہیں پیدا کر رہے انہیں بھی کپیسٹی کے حساب سے ادائیگیاں ہو رہی ہیں اور وہ بھی ڈالروں میں!! اس لیے خاتون! بھول جائیے کہ بجلی کبھی سستی ہو گی۔ یہ آئی پی پیز آپ کا خون چوس کر آپ کو اَدھ مویا کر دیں گے۔ میں‘ صدر ٹرمپ‘ یوں بھی صاف گوئی کے لیے بدنام ہوں۔ وقتی طور پر تو پچیس کلو واٹ سے کم سولر لگانے والوں سے لائسنس فیس ہٹا دی گئی ہے مگر یاد رکھیے! آخرِ کار آپ کو نہ صرف سولر پر ٹیکس دینا پڑے گا بلکہ پانی‘ ہوا‘ چاندنی اور درختوں کی چھاؤں پر بھی ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ تمہارے کانوں میں پرندوں کے چہچہانے کی آواز پڑے گی تو اس کی بھی قیمت ادا کرو گے۔ پھولوں کی خوشبو سونگھنے پر بھی ٹیکس لگے گا۔ منہ دھونے اور کنگھی کرنے پر بھی ٹیکس لگے گا۔ پاکستان پر امرا کی حکومت ہے۔ بالائی طبقے کو صرف اپنی دولت کی حفاظت کرنی ہے اور اس میں بہر طور اضافہ کرنا ہے۔ اس لیے معزز خاتون! میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ بظاہر لگتا ہے کہ پاکستان میں میری بڑی اتھارٹی ہے۔ یہ بات اتنی غلط بھی نہیں! مگر اپنی کلاس پھر اپنی کلاس ہوتی ہے۔ اور ہاں! مکھڈی حلوہ بنانے کی ترکیب مجھے وٹس ایپ کر دیجیے۔ میلانیا سے کہتا ہوں کہ پکا دے!!
اسی ضمن میں صدر ٹرمپ کی بھی آمد آمد تھی۔ میں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ کچھ ذمہ داری ہماری بھی ہے۔ انہوں نے سوالیہ آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا کہ ہم ہوٹل کے نزدیک رہتے ہیں۔ یعنی صدر ٹرمپ آئیں گے تو ہمارے پڑوسی ہوں گے۔ ہمیں ان کی دعوت کرنی چاہیے۔اس پر اہلیہ نے فوراً یاد دلایا کہ کچھ دن پہلے انہوں نے دوست خواتین کی دعوت کی تھی تو میں نے کہا تھا کہ گرانی ہوشربا ہو چکی ہے اس لیے ان آئے روز کی دعوتوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اس پر بیگم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ ٹھیک ہے پھر آپ کے سابق‘ فائل زدہ رفقائے کار اور نیم بے ہوش شاعر دوست بھی نہیں آئیں گے جو مسلسل نازل ہوتے رہتے ہیں اور اٹھنے کا نام نہیں لیتے۔ اب بھی بیگم نے اسی حکم نامے بلکہ معاہدے کا ذکر کیا مگر میں نے انہیں سمجھایا کہ یہ قومی معاملہ ہے اور ملک کی عزت کا سوال ہے۔ صدر ٹرمپ پڑوس میں آکر رہیں اور ہم انہیں کھانے پر نہ بلائیں تو یہ نہ صرف مہمان نوازی کے اصولوں کے خلاف ہو گا بلکہ پورے پاکستان کی عزت پر حرف آئے گا۔ یہ ایک ایسی دلیل تھی جس کے سامنے بیگم نے ہتھیار ڈال دیے۔
اب یہ طے کرنا تھا کہ دعوت کا مینو کیا ہو۔ خصوصی اجلاس منعقد کیا گیا۔ سب افرادِ خانہ نے اپنی اپنی رائے دی۔ میری نواسی زینب اور پوتیاں زہرا اور زرین غصے میں تھیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر بہت مظالم ڈھائے ہیں اس لیے وہ زیادہ سے زیادہ دال چاول کے مستحق ہیں۔ بہت زیادہ رونق دسترخوان پر لگانی ہے تو مکئی کی روٹی اور ساگ بھی پیش کر دیں۔ مگر میرے نواسوں قاسم اور رستم اور پوتوں حمزہ اور تیمور نے لڑکیوں کو سمجھایا کہ گھر آئے ہوئے مہمان کی توقیر اور خاطر تواضع ہماری تہذیب کا لازمی جزو ہے اس لیے کھانے میں کم از کم مرغِ مسلّم‘ بکرے کی رانیں‘ اونٹ کی نہاری اور دنبے کا پلاؤ ضرور ہو۔ ساتھ کستوری بوٹی‘ ریشمی کباب اور نرگسی کوفتے بھی ہونے چاہئیں۔ میں خاموشی سے سب کی تجاویز سنتا رہا۔ آخر میں مَیں نے صرف اتنا کہا کہ حتمی فیصلہ بچوں کی بڑی امی کریں گی تاہم مکھڈی حلوہ لازم ہے کیونکہ یہ ہمارے علاقے کی شناخت ہے۔ ہمارے ہاں کوئی دعوت مکھڈی حلوے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ اور کیا بات ہے مکھڈی حلوے کی! میٹھے پکوانوں کا سردار!! ہمارے عساکر کے جوان جب مشقیں کرتے ہیں اور سنگلاخ زمینوں اور چٹیل میدانوں میں دس دس پندرہ پندرہ میل دوڑتے ہیں تو کون سی خوراک ان کی جسمانی قوت کو بحال کرتی ہے؟؟ مکھڈی حلوہ اور دیسی چُوچہ!! مکھڈی حلوہ اٹک اور میانوالی کے اضلاع میں ہر جگہ بنیادی غذا (Staple Food) کے طور پر پکایا جاتا ہے۔ یہ تلہ گنگ میں بھی روزمرہ کی خوراک کا حصہ ہے! (آہ! تلہ گنگ! جسے عوام سے پوچھے بغیر ضلع اٹک سے کاٹ کر کہیں اور جوڑ دیا گیا اورخدا خدا کر کے اب ضلع بن گیا ہے مگر ڈپٹی کمشنر سے محروم ہے)! تاہم ہر شے کا ایک مرکز یا گڑھ ہوتا ہے۔ جس طرح پلاؤ کا گڑھ بخارا‘ سمر قند اور تاشقند ہیں‘ اور جس طرح نہاری کا گڑھ دلّی ہے اور جس طرح رس گلے کے لیے ڈھاکہ کی نواحی بستی گھوڑا سال معروف ہے اور جس طرح میٹھے دہی کے لیے بوگرا (بنگلہ دیش) مشہور ہے اور جس طرح مشہور ترکی پکوان ''اسکندر کباب‘‘ کے لیے بورصہ کا شہر جانا پہچانا ہے اسی طرح بہترین مکھڈی حلوے کے لیے پنڈی گھیب مشہور ہے۔ بیٹی کی شادی پر میں نے خصوصی طور پر پنڈی گھیب ہی سے حلوہ منگوایا تھا جو بہت ''ہِٹ‘‘ ہوا تھا۔ بہر طور مینو کا فیصلہ ہو گیا۔ دعوت کی تیاری پورے زور شور سے ہونے لگی۔ ہمارے ہاں بڑی بڑی دعوتوں میں کھانا پکانے والے کو ''پکوتا‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس عظیم الشان دعوت کے لیے پنڈی گھیب ہی سے ایک ماہر پکوتے کا بندو بست کیا گیا۔ ہر روز کئی بار ہم معلوم کرنے کی کوشش کرتے کہ صدر ٹرمپ تشریف لا چکے ہیں یا نہیں؟ وہی حال تھا کہ بقول نصرت فتح علی خان: آ جا تینوں اکھیاں اُڈیک دیاں! مگر صدر ٹرمپ نے نہیں آنا تھا‘ نہ آئے۔ ساری تیاریاں دھری رہ گئیں۔ سودا سلف منگوانے پر خاصی رقم لگی تھی۔ یوں امریکہ کے صدر کی وجہ سے ہمیں مالی نقصان پہنچا۔
خواتین‘ خاص طور پر پاکستانی خواتین دُھن کی پکی ہوتی ہیں۔ اپنی ہٹ پر قائم رہتی ہیں۔ بیگم نے فیصلہ کیا کہ ٹیلیفون کر کے صدر ٹرمپ کو بتائیں گی کہ دعوت کرنا تھی مگر آپ تشریف ہی نہ لائے۔ منع کیا مگر پاکستانی شوہروں کی سنتا کون ہے۔ اللہ جانے بیگم صاحبہ نے صدر ٹرمپ کا ذاتی موبائل فون نمبر کیسے معلوم کیا مگر کر لیا۔ صدر صاحب لائن پر آئے۔ بیگم نے بتایا کہ جناب عالی!! آپ کی دعوت کرنا تھی اور ایسے ایسے پکوان کھلانے تھے کہ مذاکرات کے لیے آپ کی طاقت اور حوصلہ دو چند ہو جانا تھا۔ صدر ٹرمپ بہر طور ایک کائیاں سیاستدان ہیں۔ کہنے لگے ''آپ پاکستانی مطلب کے بغیر دعوت کہاں کرتے ہیں۔ پہلے بھی ایک امریکی صدر کو ایک پاکستانی نے کہا تھا کہ اس کے بیٹے کو تحصیلدار لگوائے۔ آپ کام بتائیے‘‘۔ اب حاشا و کلا ہم تو یہ دعوت خالصتاً فی سبیل اللہ کر رہے تھے مگر صدر صاحب نے کام کا پوچھا تو بیگم صاحبہ کو اپنی دُکھتی رگ یاد آئی۔ کہنے لگیں: عالی جناب صدر ٹرمپ! ہمارے وزیراعظم سے کہیے کہ ہم پاکستانیوں کے سر پر سے بجلی پیدا کرنے والے نجی مافیا کا بھاری بوجھ ہٹالیں۔ صدر ٹرمپ نے قہقہہ لگایا۔ کہنے لگے: خاتون! آپ اپنے وزیراعظم اور ان کے رفقا کو شاید جانتی نہیں۔ یہ لوگ بہت نرم دل ہیں۔ صلہ رحمی ان کی گھٹی میں پڑی ہے۔ اپنے طبقے کا‘ اپنی کلاس کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں (IPPs) کے مالکان ان کی اپنی کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ عوام کی حیثیت ان کے مقابلے میں گھاس کے تنکے جتنی بھی نہیں! جبھی تو کپیسٹی کا پھندا عوام کے گلے میں ڈالا گیا ہے۔ یعنی اگر نجی کارخانہ سو یونٹ بجلی پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو حکومت اسے پورے سو یونٹ کی قیمت ادا کرے گی اگرچہ وہ سو سے کم یونٹ پیدا کر رہا ہے۔ جو کارخانے صفر یونٹ یعنی کچھ بھی نہیں پیدا کر رہے انہیں بھی کپیسٹی کے حساب سے ادائیگیاں ہو رہی ہیں اور وہ بھی ڈالروں میں!! اس لیے خاتون! بھول جائیے کہ بجلی کبھی سستی ہو گی۔ یہ آئی پی پیز آپ کا خون چوس کر آپ کو اَدھ مویا کر دیں گے۔ میں‘ صدر ٹرمپ‘ یوں بھی صاف گوئی کے لیے بدنام ہوں۔ وقتی طور پر تو پچیس کلو واٹ سے کم سولر لگانے والوں سے لائسنس فیس ہٹا دی گئی ہے مگر یاد رکھیے! آخرِ کار آپ کو نہ صرف سولر پر ٹیکس دینا پڑے گا بلکہ پانی‘ ہوا‘ چاندنی اور درختوں کی چھاؤں پر بھی ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ تمہارے کانوں میں پرندوں کے چہچہانے کی آواز پڑے گی تو اس کی بھی قیمت ادا کرو گے۔ پھولوں کی خوشبو سونگھنے پر بھی ٹیکس لگے گا۔ منہ دھونے اور کنگھی کرنے پر بھی ٹیکس لگے گا۔ پاکستان پر امرا کی حکومت ہے۔ بالائی طبقے کو صرف اپنی دولت کی حفاظت کرنی ہے اور اس میں بہر طور اضافہ کرنا ہے۔ اس لیے معزز خاتون! میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔ بظاہر لگتا ہے کہ پاکستان میں میری بڑی اتھارٹی ہے۔ یہ بات اتنی غلط بھی نہیں! مگر اپنی کلاس پھر اپنی کلاس ہوتی ہے۔ اور ہاں! مکھڈی حلوہ بنانے کی ترکیب مجھے وٹس ایپ کر دیجیے۔ میلانیا سے کہتا ہوں کہ پکا دے!!