Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Monday, January 11, 2021

آگ خون اور آنسو



کوئٹہ پہنچ کر سرائے میں سامان رکھنے کے بعد پہلا کام یہ ہوتا کہ میثم کو فون کرتا۔ وہ ایک سرکاری دفتر میں ملازم تھا اور میرا دوست ! یاد نہیں یہ دوستی کب آغاز ہوئی اور کیسے ۔ بس دوستی ہونے کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ فارسی بولنے والوں میں سے تھا۔ مزدوری کا وقت ختم ہوتا ، اس کا ، اور میرا بھی ، تو ہم دونوں نکل پڑتے۔ علمدار روڈ ہماری جولانگاہ ہوتی! طول طویل علمدار روڈ ! پہلے کسی ریستوران میں افغان کھانا کھاتے! قہوہ پیتے ! پیالہ در پیالہ ! پھر کتاب فروشوں کا رُخ کرتے ! اب تو معلوم نہیں ان کا کیا بنا ، مگر جن دنوں کی بات ہورہی ہے ، انُ دنوں علمدار روڈ پر کتابوں کی بہت سی دکانیں تھیں۔ بڑی بڑی دکانیں ! کتابوں سے چھلکتی! یہ لوگ ایران اور افغانستان سے بھی کتابیں درآمد کیا کرتے۔ کئی کتابیں علمدار روڈ سے خریدیں جن کی دستیابی پاکستان میں کہیں اور ممکن نہ تھی۔ مثلا” منوچہر دامغانی کا دیوان ، نظامی کا کلیاتِ خمسہ ، عراقی اور ثنائی کے دواوین! ایسا بھی ہؤا کہ مطلوبہ کتاب نہ میسر آئی تو کتاب فروش نے خصوصی طور پر در آمد کر کے مہیا کی ۔
علمدار روڈ ، ہزارہ قبیلے کا مسکن ہے۔ ہزارہ ، اصلا” وسطی افغانستان سے ہیں۔افغانستان میں صوبے کو ولایت کہا جاتا ہے۔ چارپانچ وسطی ولایتیں ، جہاں فارسی بولنے والے ہزارہ کی اکثریت ہے، ہزارہ جات کہلاتی ہیں۔ اہم ترین ولایت بامیان ہے۔ پھر اس کے جنوب میں واقع دائے کنڈی اور جنوب مغرب میں واقع غور ہیں۔ غزنی، وردک اور کچھ دوسرے صوبوں میں بھی ہزارہ کی پاکٹس موجود ہیں۔ الجزیرہ نے مچھ کے سانحہ پر جو رپورٹنگ کی ہے اس کی رُو سے مقتولین میں دائے کنڈی کے ہزارہ بھی شامل ہیں۔دائے کنڈی بہت دشوار گذار، کوہستانی اور غریب صوبہ ہے۔ اس کے مکین تلاش رزق میں مسلسل نقل مکانی کرتے رہتے ہیں ۔
انیسویں صدی کے اوائل میں، یعنی پہلی برٹش افغان جنگ (1839) سے پہلے، افغانستان سے آئے ہوئے ہزارہ برٹش انڈیا میں موجود تھے۔ سرکار کی تعمیراتی کمپنیوں یہ لوگ مزدوری کرتے تھے۔ برطانوی ہند کی فوج میں بھی ملازمت کرتے رہے مگر بڑی تعداد میں ہزارہ ، افغانستان سے امیر عبدالرحمان کے دور میں ہجرت کر کے کوئٹہ آباد ہوئے ۔عبد الرحمان ، جسے ڈریکولا امیر بھی کہا جاتا ہے، انتہائی سخت گیر اور بے رحم تھا۔ اس نے ہزارہ کی نسل کُشی کی کوشش کی، ہزاروں کو قندھار اور کابل کے بازاروں میں غلام کے طور پر بیچ دیا گیا۔ بہت سے ہزارہ کوئٹہ اور کچھ مشہد چلے گئے ۔ بیسویں صدی شروع ہوئی تو امیر عبد الرحمان کا بیٹا حبیب اللہ سریر آرائے تخت ہؤا۔ اس کی پالیسی ہزارہ کے حوالے سے بہتر تھی مگر عدم اعتماد کا بیج بویا جا چکا تھا۔ مجموعی طور پر ہزارہ کے ساتھ امتیازی سلوک ہی جاری رہا۔ 1945-46 میں ظاہر شاہ نے کچھ ٹیکس صرف ہزارہ پر لگا دیے ۔ اس سے بغاوت پھوٹ پڑی ۔ بغاوت کچل دی گئی مگر ٹیکس بھی ہٹانے پڑے۔

{

دو واقعات 1979 میں ایسے رونما ہوئے جنہوں نے مشرق وسطیٰ اور پاکستان کا سارا سیاسی اور فکری لینڈ سکیپ بدل کر رکھ دیا۔ ہر ملک ، ہر گروہ اور ہر مکتب فکر ان دو واقعات سے متاثر ہؤا۔ کوئی منفی طور پر کوئی مثبت انداز میں ۔پہلا واقعہ افغانستان پر سوویت یونین کا حملہ تھا۔ اس معاملے میں پاکستان یوں ملوث ہؤا اور الجھا کہ آج تک عواقب بھگت رہا ہے ۔ اگر معاملہ صرف مجاہدین کی مدد اور فنڈز کی تقسیم تک رہتا تو کوئی مضائقہ نہ تھا مگر جنرل ضیاءالحق نے پورے ملک کو داؤ پر لگا دیا۔ ملک کے ویزا سسٹم کو پاؤں تلے روند ڈالا گیا۔ مغربی سرحد ، عملا” کالعدم ہو گئی۔ پوری دنیا کے عسکریت پسندوں کے لیے پاکستان کی سرزمین ہیڈ کوارٹر بن گئی۔ ہزاروں غیرملکی جنگجو ، اسلحہ سمیت، ملک میں آباد ہو گئے۔ راکٹ تک بازاروں میں عام بکنے لگے۔ منشیات کی ریل پیل ہو گئی۔ سارا ملک مہاجرین کے قدموں میں ڈھیر کر دیا گیا۔ ایران کی پالیسی کے بر عکس، مہاجر، پاکستان کےاطراف و اکناف میں پھیل گئے۔ تجارت، ٹرانسپورٹ ، رئیل اسٹیٹ، ہر شعبے پر ان کا قبضہ ہو گیا۔ مقامی تاجروں کے قتل کی خبریں اب بھی آتی رہتی ہیں ۔ اس سارے قضیے میں مسلکی عدم توازن نے ملک میں فرقہ واریت کی ایسی بنیاد رکھی کہ مستقل دراڑیں پڑ گئیں ۔جو ملک اس معاملے میں مرکزی کردار ادا کر رہا تھا اس کی پالیسی بھی مسلک کے گرد ہی گھوم رہی تھی۔ یہاں تک کہ مجاہدین کے ایک لیڈر کو اپنا نام عبد الرسول سے بدل کر عبدالرب رسول رکھنا پڑا کیونکہ مسئلہ فنڈز کے حصول کا تھا۔ اس مسلک کے نام لیوا، بالخصوص وہ جو حکومت سے تعاون میں آگے آگے تھے ، مضبوط ہوتے گئے۔ یوں ملک میں مسلکی حوالے سے عدم توازن پیدا ہو تا گیا۔

{

دوسرا واقعہ انقلاب ایران کا تھا۔ ایران کے انقلاب نے رضاشاہ پہلوی کے غرور کی گردن مروڑ کر رکھ دی مگر انقلاب برآمد کرنے کا عندیہ دے کر مسلمان ملکوں میں اضطراب بھی پیدا کر دیا۔ اس کا اثر پاکستان پر بھی پڑا۔ پھر اس کا رد عمل ظاہر ہؤا۔ فریقین ایک دوسرے کے مقابلے میں خم ٹھونک کر کھڑے ہو گئے۔ پھر ان فریقوں کی مسلح تنظیمیں وجود میں آگئیں ۔دونوں طرف کے علما نشانہ بنے۔ ہزارہ کمیونٹی بھی اس کی لپیٹ میں آئی ۔ یہ سب کچھ 1979 کے بعد شروع ہؤا اور ہماری بدقسمتی کہ ابھی تک یہ آگ بجھائی نہیں جا سکی۔ سریاب روڈ کوئٹہ پر ایک درجن پولیس کے کیڈٹ جو ہزارہ تھے، بھُون دیے گئے۔ میکانکی روڈ پر نماز جمعہ کے دوران پچپن ہزارہ حملے کا نشانہ بنے۔ دس محرم کے دن لیاقت بازار میں ساٹھ عزادار وں کو شہید کر دیا گیا۔ ستمبر 2010 میں بم پھٹا اور 73 ہزارہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ ایک طویل فہرست ہے۔ خون کی ایک لکیر ہے جو دور تک چلی گئی ہے۔ لہو کے دھبے ، پچھلے تو کیا دھُلتے ، ان میں مسلسل اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

{
مذہب جو انسانیت کی حفاظت اور بقا کا ضامن تھا ، ہمارے ہاں ہلاکت کا حوالہ بن گیا ہے ۔ ایسی ایسی باتیں مذہب کے نام پر بتائی جا رہی ہیں جو چودہ سو سال سے کسی نے کہیں نہ سنیں۔ ملایشیا میں غیر مسلموں کو اللہ کا لفظ استعمال کرنے سے منع کر دیا گیا۔ بنگلہ دیش میں فتویٰ دیا گیا کہ مساجد سے کرسیاں ہٹا دو۔سابق صدر خاتمی نے کسی خاتون سے ہاتھ ملا لیا تو ایران میں آسمان سر پر اٹھا لیا گیا۔ ہمارے ہاں کہا جانے لگا ہے کہ اللہ کو خدا نہ کہو۔ گویاچودہ صدیوں کے اسلامی لٹریچر کو دریا برد کر دیا جائے۔ ہر معاملے میں اشتعال ، ہر بات پر منفی طرز فکر اور منفی ہی طرز عمل !جھگڑے ہی جھگڑے! اختلافات کو دبانے کے بجائے ہوا دی جاتی ہے۔ مذہب جو سلامتی کا نشان تھا، نفرت کا استعارہ بنا دیا گیاہے۔ یو ٹیوب پر واعظین، ذاکرین اور مناظرین جو حشر برپا کر رہے ہیں اس پر پابندی نہ لگائی گئی تو یہ آگ پھیلتی ہی رہے گی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اگر کوئی واعظ، کوئی ذاکر، اتحاد کی بات کرتا ہے ، اختلافات کے بجائے اُن پہلؤوں پر زور دیتا ہے جو مشترک ہیں، محبت کی تلقین کرتا ہے تو اُس کا اپنا مکتب فکر ہی پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے پڑ جاتا ہے ۔ یہ صرف شیعہ سنی کا مسئلہ نہیں ، ہر مسلک کے اندر بھی ، مخالفتیں، سب و شتم اور دشمنیاں پیدا کی جا رہی ہیں؎
اے خاصۂ خاصان رسل ! وقت دعا ہے
امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے
………………………………………

No comments:

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com