Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Wednesday, October 18, 2017

خوراک کا عالمی دن


یہ واشنگٹن کا ایک ریستوران تھا گاہک آجارہے تھے -کچھ کھانے میں مصروف تھے،ایک کونے میں پاکستان سے آئے ہوئے اعلیٰ سطح کے وفد کو عشائیہ دیا جارہا تھا ،عشائیہ کیا تھا؟پہلے سب کو ایک ایک پلیٹ میں سلاد پیش کیا گیا ،اس کے بعد مچھلی،اصل کھانا یہی تھا ، آخر می میٹھا تھا ، ہر مہمان کو اختیار تھا کہ چاکلیٹ لے یا پنیر کا کیک،
آپ کا کیا خیا ل ہے،واشنگٹن سے وفد آئے تو پاکستان میں اس کا عشائیہ اسی طرح کا ہوگا؟
ہم میں سے اکثر کو معلوم ہے کہ فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن (ایف اے وا)اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ ہے، جو عالمی خوراک سے متعلق ہے۔ 1979میں ایف اے او نے فیصلہ کیا کہ سولہ اکتوبر کا دن عالمی یومِ خوراک کے طور پر منایا جائے گا ۔ہر سال اندازہ لگایا جاتا ہے کہ زیادہ ضرورت کس پہلو کی ہے، اس خاص پہلو کو سامنے رکھ کر اس سال کا مرکزی خیال یا موضوع چنا جاتا ہے۔پھر اس کی تشہیر کی جاتی ہے ،اور اس سال کا عالمی یوم خوراک اسی حوالے سے منایا جاتا ہے،
کچھ برسوں کے موضوعات یا مرکزی خیال دیکھیے۔۔۔
2001،غربت کم کرنے کے لیے بھوک کم کیجئے!
2002،پانی،خوراک کا ذریعہ پانی ہے!
2003،بھوک کا مقابلہ عالمی اتحاد سے!
2005،ذراعت کی ترقی کے لیے بین الثقافتی مکالمہ!
2007،خؤراک ہر شخص کا بنیادی حق ہے!
2016،آب و ہوا بدل رہی ہے،ذراعت بھی بدلو!
2017،ہجرت کا مستقبل بدلو،دیہات کو ترقی دو تاکہ لوگ شہر کا رخ نہ کریں ۔
پوری دنیا میں خوراک کا ضیاع عام ہے،مگر جس طرح خوراک مسلم ملکوں میں ضائع کی جاتی ہے،اسکی مثال غیر مسلم ملکوں میں شایدہی ملے۔
مسلمان ملکوں کے بادشاہ بیرون ملک دوروں پر جاتے ہیں تو جہاز سےاترنے کے لیے سونے کی سیڑھیاں ساتھ ہوتی ہیں،پندرہ پندرہ پھیروں میں جہاز سامان پہنچاتے ہیں ،پورے پورے ساحل ،پورے پورے ہوٹل بک کرائے جاتے ہیں ،خوراک کا انتظام بھی اسی سے قیاس کیجئے!۔
یہ لوگ کتنا کھانا پکواتے ہیں ،تصور سے ہی ماورا ہے،جدہ میں ایک بار مشاعرہ میں شرکت کی،عمرہ کے بعد مدینہ منورہ لے جائے گئے،چائے پینے کے لیے ایک ہوٹل میں داخل ہوئے،ایک میز کے گرد فرش پر چاول ہی چاول تھے،بتایا گیا کہ ابھی کچھ مقامی حضرات کھانا تناول فرما کر نکلے ہیں ،ایک اور ملک کے بارے میں ایک صاحب نے آنکھوں دیکھا حال بتایا کہ وہاں روٹیوں کی ایک قسم اتنی پتلی ہے کہ جیسے کاغذ، اسے وہا ں کے لوگ ہاتھ پونچھنے کے لیے بھی استعمال کرجاتے ہیں ،اور ہاتھ پونچھ کر ٹشو پیپر کی طرح پھینک بھی دیتے ہیں ،
فارسی میں کہا جاتا ہے،خورد ن برائے زیستن است ، نہ زیستن برائے خوردن،
خؤراک کا مقصد زندہ رہنا ہے، نہ یہ کہ زندگی کا مقصد بس کھاتے رہنا ہے ۔
کون بھول سکتا ہےکہ عمران کے دھرنے کے وقت جب نواز شریف گہرے پانیوں میں تھے تو مدد کے لیے آواز لگائی،یا آصف زرداری !
چنانچہ آصف زرداری پہنچے،74 اقسا م کے کھانے ان کئ دعوت میں حاضر کیے گئے۔
جس قوم کے رہنماؤں کی ذہنی سطح یہ ہوگی،اس قوم کی پستی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ،کراچی میں دھماکہ ہوا ،کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ۔اس دوپہر کو میاں نواز شریف ظہرانے میں مدعو تھے، (جہاں تک یاد پڑتا ہے یہ ظہرانہ کراچی چیمبر آف کامرس کی طرف سے تھا )اس موقع پر میا ں صاحب نے ظہرانہ کمزور ہونے کی شکایت کی!
رمضان کے مہینے میں مسلم دنیا میں اربوں کھربوں ٹن کھانا ضائع ہوتا ہے،افطار کا اہتمام اس طرح کیا جاتا ہے،جیسے یہ زندگی کا آخری افطار ہے، کسی کی شرافت اور انسانیت کا اندازہ لگانا ہو تو شادی کی دعوت پر اس کا رویہ دیکھیے،بڑے بڑے شرفا کو نشست ایسی جگہ سنبھالتے دیکھا ہے جہاں سے کھانا قریب پڑے، گویا باقاعدہ مورچہ بندی کی جاتی ہے ، پھر کھانے کے اعلان پر جس طرح میمنہ اور میسرہ آگے بڑھتے ہیں ،جس حرص کے ساتھ پلیٹیں بھری جاتی ہیں ، کہنیاں ماری جاتی ہیں ،کھانا جس وحشت اور جنون کے ساتھ کھایا جاتا ہے،یہ سب کچھ دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ صدیوں کی بھوک ہے،نہ جانے پسلیوں سے او رآنکھوں سے کیسے نکلے گی،
ہم نے زندگی کا مقصد کھانا پینا قرار دیا ۔
دوسرو ں نے عمل سے ثابت کیا کہ نہیں ،کھانا پینا صرف اتنا ہی کافی ہے کہ انسان زندہ رہے، ریستورانوں میں گوشت جس مقدار میں کھایا جاتا ہے اس سے بیماریاں نہیں بڑھیں گی تو کیا ہوگا ؟۔۔۔پوچھیے سبزی میں کیا ہے؟۔۔۔ہر بار ،ہر جگہ ایک ہی جواب ملے گا"مکس سبزی"۔(اس میں آلو مٹر ہوتے ہیں )۔دال کا پوچھیے تو ماش کی دال ملے گی۔کسی ریستوران میں کریلے ،کدو،ٹینڈے،بھنڈی توری،شلجم،کچالو یا دوسری سبزیاں نہیں ملیں گی۔
اندازہ لگائیے ذوق کی اڑان کا !
تکے بوٹی،چرغہ،کڑاہی،بالٹی،ٹکاٹک،نہاری،پائے،ہریسہ،ستم بالائے ستم یہ کہ پیزا جو اٹلی سے چلا تھا ،اور نہائیت معصوم تھا ۔ یہاں پہنچ کر گوشت کی لپیٹ میں آگیا۔پورے پورے تکے پیزے کے اندر سے نکلتے ہیں ،اور تو اور نوڈلز میں گوشت پڑنا شروع ہوگیا،چینیوں نے نوڈلز ایجاد کیے،صدیوں کھائے،کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ان میں گوشت پڑے گا ،۔ ہماری ایک رشتے کی بھابھی نے گاؤں سے آئے ہوئے سونبے جیسے سرسوں کے ساگ میں مرغی کا گوشت ڈال کر نیا ریکارڈ قائم کیا ۔سفاکی اور بربریت کا اندازہ لگائیے کہ اچار تک میں گوشت پڑنے لگا ہے۔
آسمان کو چھوتی اس طلب کو پورا کرنے کے لیے گدھے،کتے اور کوے بروئے کار لائے جارہے ہیں ،دارالحکومت کے ضلعی ہیلتھ آفیسر نے گزشتہ ہفتے سینیٹ کی کمیٹی کو بتایا کہ چوٹی کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں مردہ جانوروں کا گوشت پکایا اور کھلایا جارہا ہے ،قصاب کی دکان پر آؤ بھگت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو پورا پورا بکرا خریدتے ہیں ،ایک دو کلو والو ں کے ساتھ قصاب وہی سلوک کرتا ہے ،جو انگریز افسر مقامی نوکروں کے ساتھ کرتے تھے۔
اس بے انتہا گوشت خؤری کا نتیجہ یہ ہے کہ جسم پر چربی کی تہیں چڑھ گئ ہیں ۔مگر دماغ لاغر ہوگئے ہیں ۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ختم ہورہی ہیں ۔ریستورانوں کی تعداد میں لامتناہی اضافہ ہورہا ہے ،کتابوں کی دکانیں ختم ہورہی ہیں ،لائبریریوں کا وجود عنقا ہورہا ہے۔
اب دوسری انتہا دیکھیے ،پندرہ ہزار ماہانہ کمانے والے ڈرائیور یا باورچی یا گھریلو ملازم کے گھر میں گوشت کتنی بار پک سکتا ہے ؟۔۔۔۔ٹی وی پر ایک عورت کا انٹر ویو سننے کا اتفاق ہوا ،اس کا ایک ہی بیٹا کماؤ تھا ،چند برس پہلے کی بات ہے تنخواہ اس کی دس ہزار روپے تھی،عورت کا کہنا تھا کہ صرف عید تہوار کے دن ہی گھر میں بڑا گوشت پکتا ہے ،عید الاضحیٰ آتی ہے تو ایسے مفلوک الحال گھروں میں کچھ دن دستر خوان پر گوشت نظر آتا ہے،سینکڑوں ہزاروں گاؤں ایسے ہیں ،جہاں قصاب کی دکان نہیں ہے ،بیمار گائے یا بھینس ذبح کرنی پڑے تو گوشت میسر آتا ہے،مرغیاں ،انڈے شہروں سے آنے والے بیوپاری لے جاتے ہیں ،ایک زمانہ تھا کہ کسان کی جیب میں چند سکے ہوتے تھے ،اس کے بعد بجلی آئی پھر موبائل فون آگیا،اب گیس بھی آرہی ہے،یہ سب وہ سہولتیں ہیں جو کسان کی کیش کو کھا جاتی ہیں ،گوشت کیسے لے سکتا ہے،جو کسر رہ جاتی ہے وہ بچوں کی شادیوں پر پوری ہوجاتی ہے۔
کھانوں کا کلچر عہدِ زوال سے شروع ہوا،مغلوں کو زوال آیا تو سلطنت کا کاروبار انگریزوں کے ہاتھ میں چلا گیا،دہلی تھا ،یا لکھنو یا حیدرآباد،ہر دربار میں انگریز ریزیڈنٹ تعینات تھا ،جو اصل حکمران تھا ،ظلِ الٰہی کے پاس فراغت ہی فراغت تھی۔چنانچہ توجہ دستر خوان پر مرکوز ہوگئی۔حد یہ ہے کہ ان بادشاہوں اور نوابوں کے درمیان چپقلش کی وجہ باورچی بنتے تھے ۔ماش کی دال پکانے والا باورچی ،نظام سے ہتھیانے کے لیے اودھ کے بادشاہ کو کئی پاپڑ بیلنے پڑے ،نواب واحد علی شاہ کے خاصےمیں جو پلاؤ ہوتا تھا ،بتیس سیر گوشت کی یخنی سے تیار ہوتا تھا ۔ناشتے میں ہر روز دو سیر دیسی گھی،(اس وقت صرف دیسی گھی ہوتا تھا)خرچ ہوتا تھا،دستر خوان پر نئی نئی اختراعات برؤئے کار لائی جاتی تھیں ،ایک نواب صاحب نے اپنے حریف کو کھانے پر بلایا ،مہمان نے کوفتے کھائے تو وہ مٹھائی نکلی،کباب چکھا تو وہ مٹھائی تھی،یہ صناعی اس لیے دکھائی گئی کہ حریف کو زچ کیا جاسکے،عروج کے زمانے میں شیر شاہ سوری اور بابر، تیمور کو کھانا کھانے کا وقت ہی مشکل سے ملتا تھا ،کہتے ہیں بہت سی جنگیں مسلمانوں نے روزہ رکھ کر لڑیں ،
کچھ سر پھرے ہوں جو اس ضمن میں تحریک چلائیں ،مہمان ایک ہو یا بہت سوں کی ضیافت ہو،ایک ڈش ہو،ایک سالن،روٹی ،زیادہ سے زیادہ ساتھ چاول اور سلاد،
شادیوں پر ون ڈش کی کوشش کی گئی مگر مہم کامیاب نہ ہوئی ،احساس کمتری ہڈیوں میں اور ہڈیوں کے اندر گودے میں بھرا ہے،عزت اور بڑائ پکوانوں کی تعداد پر منحصر ہے!


1 comment:

Anonymous said...

excellent column

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com