Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Monday, July 25, 2016

شُکر

عمر رسیدہ شخص کے سامنے سے ٹرے اٹھاتے وقت پوچھا: ’’آپ کو کچھ اور چاہیے‘‘ کہنے لگا: ’’نہیں! اللہ کا شکر ہے جس نے پیٹ بھر کرکھانا دیا اور کیا چاہیے! پینے کے لیے ٹھنڈا پانی عطا کیا! سانس آ جا رہی ہے! الحمد للہ!‘‘
ہم صحن میں بیٹھے تھے۔ سہ پہر تھی، مگربادل چھائے تھے۔ درجہ حرارت جو ایک دن پہلے اڑتیس تھا، تیس کے لگ بھگ ہو گیا تھا۔ ہوا کے جھونکے جسم کو پرسکون اور ذہن کو شاداب کر رہے تھے۔ عمر رسیدہ شخص نے آسمان کو دیکھا اور جیسے اپنے آپ سے کہنے لگا: ’’کیا بادل تان  دیے ہیں تُو نے ہمارے سروں پر! اور کیا خوشگوار ہوا کے جھونکے فرحت بخش رہے ہیں ہمارے جسموں کو! تیرا شکر ادا کرنے کے لیے لفظ ہی نہیں ملتے۔ واہ پروردگار! تیرے کام انوکھے ہیں! رات بھر ایئرکنڈیشنرکی ہوا میں سونے والے صبح اٹھتے ہیں تو تھکے تھکے ہوتے ہیں۔ چہرے زرد اور بعض کی ٹانگوں میں درد! اور وہ جو چھت پر یا صحن میں سوتے ہیں، رات کو اس خنکی سے لطف اندوز ہوتے ہیں جو آسمان سے براہ راست نازل ہوتی ہے۔ چادر اوڑھنا پڑتی ہے۔ صبح تازہ دم ہوتے ہیں۔ واہ پروردگار! کیا توازن ہے تیرے مدبر الامر ہونے میں! جو سیب کھانے کی استطاعت نہیں رکھتے، انہیں بیر مہیا کیے ہیں جن کی کیمیائی تشکیل وہی ہے جو سیب کی ہے! جن کے پاس پلازے محلات اور کارخانے نہیں ہیں، وہ کئی جسمانی بیماریوں سے دور ہیں، جو تھوڑا کھاتے ہیں مگر اکل حلال پر انحصار کرتے ہیں، ان کی اولاد فرمانبردار ہے۔ جو وارثوںکے لیے کچھ نہیں چھوڑ کر جاتے، ان کے بیٹے اور بیٹیاں ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کرتی ہیں، یاد رکھتی ہیں اور جو کچھ بھی ہیں، اس کا کریڈٹ فخر سے ماں باپ کو دیتی ہیں۔ جو بہت کچھ چھوڑ کرجاتے ہیں، ان کی بیٹیاں بیٹے ایک دوسرے کو عدالتوں میں گھسیٹتے پھرتے ہیں، بات چیت کے روادار نہیں! اور کیڑے نکالتے ہیں کہ باپ نے یہ تو کیا مگر وہ نہیں کیا، اپنے کانوں سے سنا ایک شخص اپنے مرے ہوئے باپ کے بارے میں اظہار افسوس کر رہا تھا کہ آہ! بے وقوف نے پلاٹ چھوڑا مگر یہ نہ سوچا کہ بیٹا تعمیر کیسے کرے گا!‘‘
پانی کا گلاس عمر رسیدہ شخص نے ہاتھ میں تھمایا۔ پوچھا: ’’گھر میں مٹی کا پیالہ نہیں ہے؟‘‘ جواب دیا ’’نہیں بزرگو! اب کون رکھتا ہے گھروں میں مٹی کے برتن!‘‘ مگر اس نے عجیب بات کی:’’ تو پھر سڑکوں کے کنارے مٹی کے برتن فروخت کرنے والے کیوں بیٹھے ہیں؟‘‘ پھر وہ خود کلامی کی طرف لوٹ گیا: ’’کیا خوشبو آتی ہے مٹی کے پیالے میں پانی پینے سے! اور مٹی کے برتنوں میں کھانا کھانے سے! افسوس! لاکھوں روپے کے ڈنر سیٹ میں کھا کر، شکر ادا کرتے ہیں نہ صحت پاتے ہیں۔ ایک پلیٹ بھی ٹوٹ جائے تو ملازم کی شامت آ جاتی ہے۔ زندگی میں افسوس کا زہر گھل جاتا ہے۔ مگر مٹی کے برتن!  ؎
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچھا ہے!
اس نے پانی پیا! اورپی کر پھر شکر ادا کیا! ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا، پودے ہلنے لگے، دیوار کے اس طرف کھڑے درخت کے پتے اوپر نیچے ہونے لگے جیسے دھوپ ہو اور چھائوں بن رہے ہوں! اس نے آسمان کی طرف دیکھا، بدلیاں چھائی ہوئی تھیں۔ اس کے منہ سے بے اختیار ’’سبحان اللہ‘‘ نکلا! یوں محسوس ہوا جیسے وہ اس خنک ہوا کے ایک ایک جھکورے کی قدر و قیمت سے آگاہ تھا! اسے معلوم تھا کہ اس سے پورا پورا لطف اندوز کیسے ہونا ہے! جیسے یہ موسم پروردگار نے اسی کے لیے اتارا تھا۔ اسی لئے وہ مسلسل پروردگار کو رسید دے رہا تھا۔ یوں لگتا تھا شکر کا لفظ اس کی زبان سے نہیں، اس کے دل سے، اس کی جان سے، اس کی روح سے نکلتا ہے اور پھر براہ راست فضا میں پھیل جاتا ہے!
اچانک اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں: ’’اخبار میں لکھتے ہو؟‘‘ ، جواب کا انتظار کیے بغیر اس نے بات جاری رکھی۔ سیاست پر لکھتے ہو اور اقتصادیات پر اور ادب پر اور سماجیات پر!! زہر پھیلاتے ہو! مایوسی کا پرچار کرتے ہو، حکمرانوں کی اور سیاست دانوں کی برائیاں کرتے ہو! کبھی شکر کی بھی تلقین کی ہے؟ کبھی پڑھنے والوں کو نعمتیں بھی گنوائی ہیں؟ آہ! تم لکھنے والے! تم اپنے وجود پر اترنے والی نعمتوں کا شکر نہیں ادا کرتے، اپنے اردگرد نازل ہونے والی برکات کی رسید نہیں دیتے ، تم قوم کو کیا بتائو گے کہ اس پر رب کریم کے کس قدر احسانات ہیں!
یہ ایک احسان ہی کتنا بڑا ہے کہ تمہاری ہر دکان اور ہر مکان میں پتھر کے اور مٹی کے اور لکڑی کے بُت نہیں پڑے ہوئے کہ ہرصبح ان کے آگے ماتھا ٹیکو! خوش قسمت ہیں وہ جو کسی قبر پر سجدہ ریز نہیں ہوتے۔ کسی سانپ، کسی گائے، کسی بندر، کسی ہاتھی کو برتر نہیں جانتے۔ اپنے جیسے کسی انسان کے سامنے نہیں جھکتے، کسی کو مافوق الفطرت طاقتوں کا منبع نہیں مانتے، کسی سے پیٹھ پر مار نہیں کھاتے۔ کسی کو ہاتھ دکھا کر، فال نکلوا کر، مستقبل کا حال نہیں پوچھتے، اولاد کے لیے اور صحت کے لیے اور ترقی کے لیے اور دولت کے لیے اور بیرون ملک سفر کے لیے اور دشمن سے نجات کے لیے کسی کو بندر کا خون اور الو کا سر اور کالے بکرے کا کلیجہ اور سرخ مرغ کی کلغی نہیں پیش کرتے اور شکستہ خستہ قبروں میں کاغذ کے وہ ٹکڑے نہیں دفن کرتے جن کے بارے میں انہیں اتنا بھی علم نہیں کہ آخران پر کیا لکھا ہے! روشن بخت والے ہیں اور چمکتے ستارے ہیں ان کی کھلی پیشانیوں پر جو کسی لمبے سبز چولے والے کو اور گلے میں منکوں کا ہار پہننے والے کو اور تھری پیس سوٹ پہن کر گھومنے والی کرسی پر اکڑ کر بیٹھنے والے اپنے جیسے انسان کو نفع نقصان کا مالک نہیں سمجھتے اور جو سچ ہو منہ پر کہتے ہیں!
اپنی حکومتوں اور اپنے سیاست دانوں اور اپنے عساکرکی برائیاں کرنے والو! شکر ادا کرو!! خدا کا شکر ادا کرو، جس نے تمہیں اپنا الگ ملک دیا ورنہ تمہارے بارے میں اب بھی تاثر وہی پھیلایا جاتا ہے کہ مُسلے حساب کتاب میں کمزور ہیں! یہ ملک نہ ہوتا تو تمہاری نسلیں اسی طرح نچلے درجے کی دکانداری کر رہی ہوتیں جو آج دکن اور یو پی کے مسلمان کر رہے ہیں؟ یو اے ای میں دیکھو! وہی ماحول ہے جو تقسیم سے پہلے متحدہ ہندوستان میں تھا۔ پاکستانیوں کو ملازمت حاصل کرنے کے لیے عرب مالکوں کے علاوہ ہندو منیجروں کی سربفلک دیوار بھی سر کرنا ہوتی ہے جو کبھی سر ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی!
شکر ادا کرو کہ تمہارا ملک شام کی طرح نہیں یا عراق کی طرح نہیں یا یمن نہیں! جہاں حفاظت کرنے والی فوجیں ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہیں۔ عوام کا گلا کاٹتی ہیں اور ایک دوسرے کوفتح کرتی ہیں یا شکست دیتی ہیں! تمہارا ملک اس پڑوسی ملک کی طرح تنگ دل اور متعصب نہیں جہاں دوسرے مسلک والے کو مسجد تعمیرکرنے کی اجازت نہیں اور شرق اوسط کے ان ملکوں کی طرح نہیں جہاں سنگدلی اور وحشت اتنی زیادہ ہے کہ معصوم بچوں کو دوڑتے ہوئے اونٹوں سے گرتا دیکھ کر تالیاں بجائی جاتی ہیں اور تکبر سے مسلمان بھائیوں کو رفیق یا مسکین کہہ کر تذلیل کی جاتی ہے۔ مگر جب مشکل آن پڑے تو ان کی افواج کو مدد کے لیے پکارا جاتا ہے! 
لیکن شکر اپنی ذات سے آغاز ہوتا ہے۔ اپنے اردگرد سے شروع ہوتا ہے۔ شکر کا دائرہ، اس کے بعد پھیلتا ہے۔ بچے نارمل اور صحت مند ہیں تو شکر ادا کرو۔ آنکھیں، ہاتھ پائوں، دل، جگر درست کام کر رہے ہیں تو شکر ادا کرو۔ مصنوعی گھٹنے اچھی قسم کے تیرہ لاکھ میں لگتے ہیں۔ جگر، گردے، دل کی پیوند کاری لاکھوں کے خرچ کے علاوہ کبھی کامیاب ٹھہرتی ہے کبھی نہیں! وہ شخص جو سامنے ویل چیئر پر بیٹھا ہے، اس کی جگہ تم بھی ہوسکتے تھے۔ تمہاری سونگھنے کی حس سلامت ہے۔ پھولوں سے لطف اندوز ہوسکتے ہو۔ ذائقہ چکھ سکتے ہو۔ ہاتھ پائوں کی انگلیاں جوڑوں والی جگہ سے موڑ سکتے ہو۔ ریڑھ کی ہڈی درست حال میں ہے۔ یادداشت صحیح کام کر رہی ہے۔ رات کو نیند آتی ہے۔ دن کو بھوک لگتی ہے۔ ابر آلود مطلع دیکھ سکتے ہو۔ گوشت کا ٹکرا جسے زبان کہتے ہو، تالو سے لگتا ہے تو واپس آ سکتا ہے۔ لفظ دماغ میں بنتا ہے تو منہ سے ادا بھی ہو جاتا ہے۔
شکرِ نعمت ہائی اُو۔۔۔ چندانکہ نعمت ہائی اُو
عُذرِ تقصیراتِ ما۔۔۔ چندانکہ تقصیراتِ ما
شکر ادا کرو! ہر دم شکر ادا کرو!

1 comment:

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com