Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Saturday, July 02, 2016

بُدھو میاں

’’فہرست کے مطابق محمود اچکزئی وزیر اعظم کے خصوصی مشیر ہیں۔ ان کے بھائی محمد خان اچکزئی بلوچستان کے گورنر ہیں۔ بھائی حمید خان اچکزئی ایم پی اے ہیں۔ بھائی مجید خان اچکزئی بھی ایم پی اے ہیں۔ بیوی کی بھابھی بھی ایم پی اے ہیں۔ بیوی کی بہن نسیمہ حفیظ ایم این اے ہیں(ان تمام منتخب رشتہ داروں میں شاید ہی کسی نے ایک ہزار سے زیادہ ووٹ لیے ہوں۔) برادر نسبتی منیجر کوئٹہ ایئر پورٹ تعینات ہیں۔ دوسرا برادر نسبتی حسن منظور ڈی آئی جی موٹر وے پولیس ہے۔ بیوی کا بھتیجا سالار خان بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز میں لیکچرر ہے اور اسی یونیورسٹی میں بیوی کا کزن قاضی جلال رجسٹرار کی سیٹ پر براجمان ہے‘‘۔
یہ اقتباس نذیر ناجی صاحب کے کالم سے ہے جو چند دن پہلے شائع ہوا ہے۔ ویسے سوشل میڈیا پر جو فہرستیں محمود خان اچکزئی کے متعلقین کی گردش کر رہی ہیں وہ اس فہرست سے طویل تر ہیں جو ناجی صاحب نے بہت محتاط ہو کر پیش کی ہے۔ یہ سارے متعلقین اس ریاست سے حلوہ کھا رہے ہیں جسے پاکستان کہتے ہیں اور جس کا ایک صوبہ۔۔۔ جی ہاں پورے کا پورا صوبہ محمود خان اچکزئی نے افغانستان کو عطا کر دیا ہے۔
تیمور نے حافظ شیرازی کو بلا کر شکوہ کیا تھا کہ جس سمر قند کو میں نے خوں ریز جنگوں کے بعد دنیا بھر کے کاریگروں اور ہنر مندوں کو بلا کر بنایا سنوارا اسے تم اپنے محبوب کے ایک خال پر قربان کیے جا رہے ہو۔ اشارہ حافظ کے اس مشہور زمانہ شعر کی طرف تھا  ؎
اگر آن ترکِ شیرازی بدست آرد دلِ مارا
بہ خالِ ہندئوش بخشم سمرقند و بخارا را
حافظ نے اُسی حاضر جوابی کا مظاہرہ کیا جس کا صدیوں بعد غالب نے کیا تھا۔ غالب نے انگریز حاکم کو کہا تھا آدھا مسلمان ہوں۔ شراب پیتا ہوں‘ سؤر نہیں کھاتا۔ حافظ نے تیمور کو جواب دیا کہ جہاں پناہ اپنی غلط بخشیوں کی وجہ سے تو اس حال کو پہنچا ہوں! کاش آج بھی کوئی حکمران اچکزئی کی غلط بخشی کا نوٹس لیتا۔
یہ شخص‘ محمود خان اچکزئی‘ اگر حکومت کا اتحادی نہ ہوتا تو مرفوع القلم ہوتا اور اس قسم کی یاوہ گوئی پر توجہ دینے کی قطعاً ضرورت نہ ہوتی۔ مگر اپنے پورے خاندان کیا‘ پورے قبیلے کو ریاست پاکستان کے دستر خوان پر بٹھانے والے اس ’’محب وطن‘‘ کی یاوہ گوئی پر گرفت کرنا اس لیے ضروری ہے کہ وہ مسلم لیگ نون کا اتحادی ہے۔ تعجب اس بات پر ہے کہ تادمِ تحریر‘ مسلم لیگ نون یا حکومت کے کسی اہم یا غیر اہم ترجمان نے اچکزئی کی مذمت نہیں کی۔ ظفر علی خان نے کہا تھا  ؎
بدھو میاں بھی حضرتِ گاندھی کے ساتھ ہیں
اک مشتِ خاک ہیں مگر آندھی کے ساتھ ہیں
اچکزئی حکومت کا ایک اہم اور نمایاں اتحادی ہے اس لیے جب تک حکومت اعلانِ برأت نہیں کرتی اچکزئی کا بیان حکومتی ایوانوں پر منڈلاتا رہے گا۔
کوئی محب وطن سیاست دان‘ جتنا بھی حکومت کا مخالف کیوں نہ ہو‘ کسی دوسرے ملک میں جا کر‘ یا کسی دوسرے ملک کے اخبار یا ٹیلی ویژن کے ذریعے‘ ایسا بیان نہیں جاری کرتا جس سے وطن کی یا حکومت کی تنقیص کا پہلو نکلے۔ مگر اچکزئی کی دیدہ دلیری دیکھیے کہ افغانستان کے اخبار کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ خیبر پختونخوا افغانوں کا ہے! آج ہر پاکستانی پوچھ رہا ہے کہ کیا خیبر پختونخوا کا صوبہ محمود خان اچکزئی کو آبائو اجداد کی طرف سے وراثت میں منتقل ہوا ہے جو اس طرح بانٹتا پھرتا ہے؟ اس پس منظر میں ایک معروف ٹیلی ویژن چینل کا وہ پروگرام یاد کیجیے جس میں محمود خان اچکزئی اور افغان بریگیڈیئر رازق اچکزئی کے باہمی تعلق کو ایکسپوز کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ بریگیڈیئر رازق پاکستان دشمنی کے لیے مشہور ہے!
شیخِ حرم کے بارے میں اقبال نے کہا تھا   ؎
یہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیمِ بوذر و دلقِ اویس و چادرِ زہرا
مگر محمود اچکزئی تو شیخِ حرم سے بھی دو ہاتھ آگے نکلا جو چادر اوڑھنے کا ڈرامہ کر کے وطن کی چادر بیچنے نکل کھڑا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام وہی ہیں جنہوں نے ریفرنڈم میں ووٹ پاکستان کے حق میں ڈال کر اچکزئی کے نظریاتی بزرگوں کو عبرتناک شکست دی تھی۔ اس شکست کا زخم دشمن ابھی تک چاٹ رہا ہے اور انتہائی یاس میں وطن کے ٹکڑے کر کے دوسروں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے مگر ہمیشہ کی طرح اب بھی عبرت ناک شکست ہی دشمن کا مقدر بنے گی!
عذر گنہ بدتراز گنہ‘ موصوف نے وضاحت یہ کی ہے کہ افغان اخبار نے بیان تروڑ مروڑ کر شائع کیا ہے اور یہ کہ کہا یہ تھا کہ خیبر پختونخوا‘ تاریخی طور پر افغانستان کا حصہ رہا ہے۔ اس قبیل کے کرداروں کا یہ پرانا وتیرہ ہے کہ ایک ملک میں ایک بیان دیتے ہیں اور دوسرے ملک میں دوسرا۔ بہرحال اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اس کردار نے یہی کہا تھا جس کا دعویٰ کر رہا ہے تو یہ بات بھی غلط ہے۔ تاریخی طور پر تو افغانستان پورے کا پورا مغل سلطنت کا حصہ رہا ہے۔ بابر سے لے کر اورنگزیب تک کابل پر حکومت مغلوں کی تھی جن کا وارث پاکستان ہے! اچکزئی کو اقبال کا شعر اس موقع پر یاد دلانا مناسب رہے گا جو انہوں نے فلسطین پر یہودی ملکیت کے جواب میں کہا تھا  ؎
ہے خاکِ فلسطین پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیںکیوں اہلِ عرب کا
کیا افغان چیتھڑے کو‘ جس میں اچکزئی کا بیان چھپا ہے‘ اچکزئی یہ بتانے کی ہمت کرے گا کہ افغانستان سینکڑوں سال برِّصغیر کی مسلم حکومت کا حصہ رہا ہے؟
پھر لہجہ ملاحظہ کیجیے: ’’افغان مہاجرین کو ہراساں نہیں کرنے دوں گا‘‘! افغان مہاجرین کو ہراساں کیا جاتا تو ان کی تین نسلیں پاکستان میں جوان نہ ہوتیں! پھر یہ شخص ہوتا کون ہے اس لہجے میں بات کرنے والا؟ کیا یہ خیبر پختونخوا کا دادا بنا ہوا ہے جو دادا گیری کے لہجے میں بات کر رہا ہے؟
اچکزئی کا مسئلہ یہ ہے کہ فائدے ریاست پاکستان سے اٹھانے ہیں اور وفاداری کا پیمان کسی دوسری ریاست سے باندھا ہوا ہے! وہ جو محاورہ ہے جس تھالی میںکھانا اسی میں چھید کرنا‘ اس کی عملی تفسیر اس شخص نے پیش کر دی ہے!
پس نوشت: ہم نے ان صفحات پر کبھی کسی کے لیے واحد غائب کا صیغہ استعمال نہیں کیا، آج مجبوراً کرنا پڑا ہے، اس لیے کہ جو شخص تقدیسِ وطن کو خاک میں ملانے کی کوشش کرے گا یہ قلم اس کے لیے ادب کا صیغہ استعمال کرنے سے منکر ہے اور منکر رہے گا۔

No comments:

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com