Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Friday, March 14, 2025

بطور قوم ہم حریص کیوں ہیں؟

اگر آپ بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کو باڑے میں بند کر دیں اور کئی دن بھوکا رکھیں۔ پھر باڑے سے کچھ دور‘ ان کے لیے گھاس‘ چارہ وغیرہ رکھ دیں۔ پھر باڑے کا گیٹ کھول دیں تو مجھے یقین ہے کہ بھوکی بھیڑ بکریاں دوڑ کر کھانے پر حملہ نہیں کریں گی۔ وہ آرام سے چل کر جائیں گی۔ کیا عجب ان کے چل کر جانے میں متانت بھی ہو!
کل پرسوں وفاقی دار الحکومت (غالباً فیصل مسجد) میں عوامی افطار کا بندوبست تھا۔ اس کی وڈیو دیکھ کر تعجب تو نہیں ہوا‘ دُکھ ضرور ہوا۔ ہجوم دوڑ رہا تھا۔ ہجوم بھاگ رہا تھا۔ ہجوم ایک دوسرے کو دھکے دے رہا تھا۔ ہجوم شور مچا رہا تھا۔ قیامت کا منظر تھا۔ یوں لگتا تھا ان لوگوں نے مہینوں کچھ نہیں کھایا۔ یہ بھکاری نہیں تھے۔ یہ مزدور نہیں تھے نہ مدرسوں کے طالب علم تھے نہ کسی یتیم خانے کے بچے تھے۔ یہ قلاش بھی نہیں تھے۔ ان میں سے اکثر نے شلوار قمیضوں پر کوٹ پہنے ہوئے تھے۔ یہ معاشرے کے عام لوگ تھے۔ زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ زیریں کلاس سے تعلق رکھنے والے ہوں گے۔ تو کیا مڈل کلاس اور اَپر کلاس کے لوگ ایسا نہیں کرتے! کیا آپ نے مڈل کلاس اور اَپر کلاس کی پاکستانی شادیوں کے کھانے نہیں دیکھے؟ بہترین پوشاکیں پہنے یہ کھاتے پیتے لوگ کھانے پر کس طرح ٹوٹتے ہیں! انتہا یہ ہے کہ یہ نام نہاد شرفا شادی ہال میں بیٹھتے وقت جنگی حکمت عملی اپناتے ہیں۔ ایک صاحب کو کہتے سنا کہ ''یہاں بیٹھتے ہیں۔ کھانا یہاں سے نزدیک پڑے گا‘‘۔ اعلان تو یہ ہوتا ہے کہ کھانا کُھل گیا مگر اصل میں کھانا نہیں‘ بندے کھول دیے جاتے ہیں! پھر جس طرح یہ ازلی بھوکے پلیٹیں بھرتے ہیں‘ خدا کی پناہ! شرم آتی ہے لالچ کے اس مظاہرے پر! اور یہ جو شادیوں پر اور دیگر تقریبات پر پکوانوں کی بھرمار ہوتی ہے اور کئی کئی طرح کے کھانوں کے بے ہنگم ڈھیر پکوائے جاتے ہیں‘ یہ بھی احساسِ کمتری کا اظہار ہے! تہذیب کا تقاضا تو یہ ہے کہ اعتدال سے کام لیا جائے۔ پکواتے وقت بھی اور کھاتے وقت بھی! مگر وہ جو کسی نے کہا ہے کہ صدیوں کی بھوک ہے! جاتے جاتے جائے گی! تو درست ہی کہا ہے!
2021ء کی بات ہے۔ فیصل آباد میں پاکستان انجینئرز کونسل کا الیکشن تھا۔ اس موقع پر عشائیے کا بندوبست بھی تھا۔ کھانا کھلنے سے پہلے یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ مہندسینِ کرام پلیٹیں لے کر ڈشوں کے سر پر کھڑے تھے۔ جیسے ہی کھانا کھلا‘ تاتاریوں کی طرح ٹوٹ پڑے۔ چمچوں کو کسی نے پوچھا ہی نہیں۔ ڈشوں سے ڈائریکٹ پلیٹیں بھری گئیں! یہ قتل عام کا منظر تھا۔ بس اتنا سا فرق تھا کہ کھوپڑیوں کے مینار نہیں تھے! جس کسی نے اس منظر سے عبرت پکڑنی ہو‘ انٹرنیٹ پر جائے اور یہ لکھ کر دیکھ لے 

engineers attack on dinner at Faisalabad۔


خدا کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے مرحوم حکیم سعید صاحب کو‘ انہوں نے بڑے شہروں میں شامِ ہمدرد کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ یہ ہماری طالب علمی کا زمانہ تھا۔شامِ ہمدرد میں اُس عہد کے بڑے بڑے سکالرز‘ دانشور‘ معیشت دان‘ مورخ‘ صحافی اور قانون دان آکر لیکچر دیتے تھے۔ لیکچر کے بعد چائے ہوتی تھی۔ ساتھ کچھ کھانے کو بھی ہوتا تھا۔ اچکنوں‘ پتلونوں اور سوٹوں کا رواج تھا۔ یہ تو بہت بعد کی بات ہے جب جنرل ضیا الحق نے قوم کی ناؤ کو بھنور میں دھکیل کر قومی لباس رائج کیا۔ ان کے زمانے میں نوکر شاہی صبح دفتر آکر واسکٹ کو ایک کونے میں لٹکا دیتی تھی اور کہتی تھی ''وہ لٹکی ہے نوکری‘‘۔ تب واسکٹ کی طرح نماز بھی دفتروں میں لازم قرار دی گئی تھی۔ خدا ہی کو معلوم ہے کتنے حکومتی عہدیدار وضو کر کے پڑھتے تھے۔ ہمارے ایک سینئر افسر تھے‘ بہت فربہ! ہم نے ان سے پوچھا: سر! آپ نماز نہیں پڑھتے! کہنے لگے: یار اس تن وتوش کے ساتھ کیسے پڑھوں۔ ہِل تو سکتا نہیں! بس جسمانی معذوری سمجھو! شامِ ہمدرد کی بات ہو رہی تھی۔ چائے پر اچکنیں‘ سوٹ اور نکٹائیاں جس طرح ٹوٹ پڑتی تھیں‘ لگتا تھا ان کی زندگی کی یہ آخری چائے اور آخری بسکٹ ہے! شیخ سعدی نے کہا تھا:
خوردن برایِ زیستن و ذکر کردن است
تو معتقد کہ زیستن از بہرِ خوردن است
کھانا اس لیے کھاتے ہیں کہ زندہ رہیں اور خدا کو یاد کریں! مگر تمہارا اعتقاد یہ ہے کہ زندگی کا مقصد صرف کھانا ہے! پھر فرماتے ہیں:
چو کم خوردن طبیعت شد کسی را؍ چو سختی پیشش آید‘ سھل گیرد
وگر تن پرور است اندر فراخی؍ چو تنگی بیند‘ از سختی بمیرد
اگر کسی کو کم کھانے کی عادت پڑ گئی ہے تو اس کا فائدہ یہ ہے کہ مصیبت کے وقت اسے مشکل نہیں پیش آئے گی۔ اور اگر خوشحالی میں کوئی زیادہ کھاتا ہے تو حالات خراب ہونے پر مر جائے گا۔
اکثر وبیشتر اخبارات میں خبر چھپتی ہے کہ فلاں سیاسی جماعت کے کارکن‘ جلسے کے بعد‘ کھانے پر ٹوٹ پڑے اور تقریب بدنظمی کا شکار ہو گئی۔ ایسا مظاہرہ کم وبیش تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے کیا ہے۔ آخر ہمارے ساتھ بحیثیتِ قوم مسئلہ کیا ہے؟ اس پر کوئی ریسرچ‘ کوئی تحقیق نہیں ہوئی۔ سوشیالوجسٹ حضرات اور ماہرین نفسیات کو اس پر کام کرنا چاہیے۔ یہ بھوک ہماری پسلیوں سے کیوں نہیں نکلتی؟ ہمیں سیر چشمی کی نعمت کب نصیب ہو گی؟ ہم ہڑپ کرنے کے بجائے آرام سے کیوں نہیں کھاتے؟ کہیں بھی کھانے کی مقدار کم نہیں ہوتی! ہر شخص کے لیے کھانا میسر ہوتا ہے۔ پھر بھی ہم چھینا جھپٹی کرتے ہیں جیسے حملہ نہ کیا تو محروم رہ جائیں گے۔ اس نفسیاتی خوف اور عدم اطمینان کا مظاہرہ ہمارے حکمران بھی کرتے آئے ہیں! بالخصوص آزادی کے پہلے تیس پینتیس برس کے بعد والے زمانوں میں!!! سرکاری خزانے پر بالکل اسی طرح ہاتھ صاف کیے گئے جیسے ہم عوام کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں! کسی نے سیلاب زدگان کے لیے ہار دیا تو وہ دبا لیا۔ کسی نے گاڑی دی تو توشہ خانے میں رکھنے کے بجائے یا سرکاری ملکیت میں دینے کے بجائے گھر لے گئے جیسے زندگی میں پہلے گاڑی دیکھی ہی نہ تھی۔ جنرل مشرف مرحوم کے پاس کس چیز کی کمی تھی کہ ایک بادشاہ کے سامنے جھولی پھیلا دی! اتنے بڑے بڑے چمکدار اور زبردست عہدوں پر فائز رہنے کے بعد کوئی کسی ٹائیکون کی ملازمت کر رہا ہے اور کوئی کسی بادشاہ کی نوکری کر لیتا ہے! کوئی نہیں کہنے والا کہ بس کرو یار! اپنی عزت کا خیال نہیں تو ملک کے وقار ہی کا سوچ لو! اور یہ صاحب جو پلاسٹک کے بنے ہوئے وزیراعظم تھے‘ ساری زندگی بین الاقوامی سطح کے ٹاپ کلاس بینکوں میں اعلیٰ درجے کی نوکری کی‘ جہاں تنخواہیں آسمان کو چھوتی ہیں‘ مگر اتنے ندیدے‘ حریص اور فاقہ زدہ ثابت ہوئے کہ توشہ خانے سے تحائف کی گٹھریاں باندھ کر ساتھ لے گئے اور چھوٹی سے چھوٹی شے بھی نہ چھوڑی۔ پھر جن کے بارے میں سنتے آئے تھے کہ پیسے سے بے نیاز ہیں‘ ان کی باری بھی دیکھ لی۔ اپنے پیشروئوں سے مختلف نہ نکلے اور جس ٹائیکون کے خلاف تقریریں کرتے تھے‘ اسی سے گٹھ جوڑ کر لیا۔
اقبال نے کہا تھا:
یہ اتفاق مبارک ہو مومنوں کے لیے 
کہ یک زباں ہیں فقیہانِ شہر میرے خلاف
ہمیں بھی مبارک ہو کہ بطور قوم‘ ہم سب‘ کیا غریب‘ کیا امیر‘ کیا نچلا طبقہ‘ کیا اَپر کلاس‘ کیا عوام‘ کیا حکمران‘ حرص اور لالچ میں یکتا اور بے مثال ہیں! کوئی کھانے پر ٹوٹ پڑتا ہے تو کوئی خزانے پر!! جہاں تک بھی کسی کا ہاتھ پہنچ سکتا ہے‘ جو کچھ لے سکتا ہے‘ لے اُڑتا ہے!!

No comments:

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com