Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, April 23, 2020

وبا کے دنوں میں ٹرالی بیگ کی یاد


‎ٹرالی بیگ ڈھونڈ رہے تھے۔ ہم دونوں میاں بیوی ایک ایک بازار میں، ایک ایک دکان میں! چھوٹے سائز کا ٹرالی بیگ جو ایک تین سالہ بچے کے لیے موزوں ہو، مل نہیں رہا تھا!
‎ٹرالی بیگ کا شوق موصوف کا، اُس وقت سے ظاہر تھا جب مشکل سے دو سال کے تھے۔ جب بھی ایئر پورٹ پر جاتے، کسی نہ کسی مسافر کے ٹرالی بیگ کو دھکیلنا شروع کر دیتے۔ کچھ ماہ اور گزرے تو ہینڈل سے پکڑ کر کھینچنا شروع ہو گئے۔ سفر کے ارادے سے ہم گھر والے نکلنے لگتے تو ایک نہ ایک ٹرالی بیگ کے در پے ہو جاتے کہ اسے میں لے کر جائوں گا۔ ہلکا ہوتا تو کھینچ لیتے۔ بھاری ہوتا تو خوب زور لگاتے۔ ایئر پورٹ پر ایک بار یہ بھی ہوا کہ ایک مسافر کا ٹرالی بیگ پکڑا اور اسے چلاتے چلاتے کافی دور نکل گئے۔ مسافر کو پتہ چلا نہ ہم گھر والوں کو۔ جیسے ہی نظر پڑی، واپس لے آئے۔ مسافر سے معذرت کی تو وہ ہنس پڑا۔
‎یہ شوقِ فراواں دیکھ کر ایک دن ہم دونوں نے باہمی مشورہ کیا کہ حمزہ کے لیے ایک چھوٹا ٹرالی بیگ ہونا چاہئے جو اس کا اپنا ہو، آسانی سے اِدھر اُدھر لے جا سکے۔ یوں شوق بھی پورا ہو اور ایک اعتبار سے اس کے کام بھی آئے! 
‎اس ارادے سے اُن دن گھر سے چلے۔ کہاں ملے گا؟ کوئی آئیڈیا نہ تھا۔ اس کے ماں باپ سے رہنمائی لیتے تو معاملہ سہل ہو جاتا مگر یہ ممکن نہ تھا۔ انہوں نے ایک تقریر جھاڑنا تھی کہ پہلے ہی اس کے اتنے کھلونے اور بے ہنگم سامان جمع ہو چکا ہے۔ اور پھر اس کے اپنے الگ ٹرالی بیگ کے آئیڈیا کو انہوں نے غلط قرار دینا تھا کہ کیا کرے گا، چار دن بعد اس کی طرف دیکھے گا ہی نہیں! اور اس قسم کی اور بہت سی باتیں!
‎یہ بھی ایک عجیب دائرہ ہے جو نسل در نسل گھومتا ہے اور گھومتا ہی رہتا ہے۔ سیاروں کی طرح! یوں کہ مدار سے باہر نہیں نکلتا۔ عورت جوان ہوتی ہے تو ہر برائی ساس میں نظر آتی ہے۔ وہی جب ساس بنتی ہے تو پورے کا پورا PARADIGM شفٹ ہو جاتا ہے۔ برائیاں ساس سے بہو میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ بالکل یہی دائرہ ماں باپ کا ہے۔ اپنے بچوں کے ساتھ جس طرح کا برتائو کرتے ہیں، جس طرح ڈسپلن سکھاتے ہیں‘ جس انداز میں سختی کرتے ہیں، دادا دادی یا نانا نانی بننے پر وہ سب کچھ بدل جاتا ہے۔ ایک سو اسّی ڈگری کے زاویئے پر گھوم جاتے ہیں۔ جو کچھ خود کرتے تھے، پوتے یا نواسی کے ساتھ بالکل وہی ہوتا دیکھ کر اعتراض کرتے ہیں، کبھی بیٹی کو، کبھی بہو کو تلقین ہوتی ہے کہ بچوں کو سمجھانے کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں! ڈانٹو مت، کھیلنے دو! چھوٹے ہیں۔ بڑے ہوں گے تو سیکھ جائیں گے! آج سکول نہ جانے کی ضد کر رہا ہے تو چھٹی کر لینے دو۔ کون سا پی ایچ ڈی کر رہا ہے۔ دوسری طرف ماں باپ کا مؤقف یہ ہوتا ہے کہ دادا، دادی نے نانا ، نانی نے بچے کو بگاڑ دیا ہے۔ اس کے لیے فرنگی زبان کا لفظ استعمال کرتے ہیں کہ Spoil کر دیا ہے! پھر یہی ماں باپ، دادا دادی بنتے ہیں تو ع
‎تھا جو نا خوب، بتدریج وہی خوب ہوا
‎ایک بچے نے دادا دادی پر مضمون لکھا جو کچھ اس طرح کا تھا۔
‎''نہیں معلوم دادا دادی کہاں رہتے ہیں۔ ہم انہیں ایئر پورٹ سے لاتے ہیں اور وہیں چھوڑتے ہیں۔ ہماری وہ باتیں سنتے ہیں جو امی ابو نہیں سنتے۔ ہمیں ہمارے کھلونے ڈھونڈ کر دیتے ہیں۔ ہمارے ساتھ باتیں کرتے ہیں۔ وہ ہمیں کبھی نہیں کہتے کہ خاموش ہو جائو۔ ہماری خاطر ہمارے امی ابو سے جھگڑا بھی کرتے ہیں!‘‘
‎دوسرا پہلو بھی عجیب ہے۔ پوتوں، نواسوں کی ذمہ داری نہیں ہوتی صرف لطف اندوزی ہوتی ہے۔ شاید یہ وہ تلافی ہے جو قدرت بڑھاپے کے بدلے میں عطا کرتی ہے۔ کسی نے کہا تھا کہ اگر معلوم ہوتا کہ پوتے ، نواسے اتنے مزیدار ہوتے ہیں تو اپنے بچوں کے بجائے پہلے انہیں حاصل کرتے۔ یہ محاورہ بھی مشہور ہے کہ دروازے سے جیسے ہی دادا، نانا داخل ہوئے، ڈسپلن کھڑکی سے باہر کود گیا۔ یا یہ کہ وہی ماں باپ ترقی کر کے دادا، دادی بنتے ہیں جو اس قابل ہوں! ایسے ماں باپ تو ہوتے ہیں جو اپنے بچوں سے پیار نہیں کرتے مگر ایسے دادا، دادی، نانا، نانی کا کوئی وجود نہیں جو پوتوں، نواسوں سے پیار نہ کریں۔ ایک عجیب منظر ہوتاہے جب بچے اس بات پر جھگڑ رہے ہوں کہ کس نے دادا یا دادی کے پاس سونا ہے۔ پھر جھگڑا ختم کرنے کے لیے باریاں مقرر کی جاتی ہیں، جنہیں کوئی بچہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اس کالم نگار کی ایک عزیزہ ایک سکول کی پرنسپل ہیں۔ بتاتی ہیں کہ ماں باپ شکایت کرنے آئیں تو ہم مطمئن کر کے انہیں واپس بھیجنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر دادا، دادی یا نانا، نانو کو سنبھالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ذرا سی غلطی بھی سکول والوں سے بچے کے حق میں ہو جائے تو معاف کرنے کو تیار نہیں ہوتے اور بہت زیادہ فساد ڈالتے ہیں۔
‎ایک حیران کن حقیقت یہ ہے کہ اکثر چیزوں کی نوعیت اور ماہیت ہم بتا سکتے ہیں کہ کیا ہیں‘ مگر کسی ایسے شخص کو جو عملی طور پر ابھی دادا یا نانا نہیں بنا، کبھی بھی نہیں سمجھا سکتے کہ پوتے یا پوتی یا نواسی سے زندگی کیسی ہو جاتی ہے، کتنا لطف آتا ہے‘ اور یہ تجربہ کیسا ہے‘ بالکل اسی طرح جیسے ماں کے پیٹ میں جو بچہ ہے اسے نہیں سمجھایا جا سکتا کہ باہر دنیا کیسی ہے اور ریل یا جہاز کیا ہے۔
‎ایک دوست نے، جو معروف کالم نگار ہیں، بہت عرصہ ہوا ایک واقعہ لکھا تھا کہ غالباً کوئی سابق بیورو کریٹ تھا۔ اسے وائٹ ہائوس سے فون آیا کہ آنے والے اتوار کو امریکی صدر اس سے مل کر کسی مسئلے پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ سابق بیورو کریٹ نے معذرت کر دی کہ اتوار کو وہ مصروف ہے۔ صدر کے سٹاف افسر نے مصروفیت کی نوعیت پوچھی کہ آخر ایسا کون سا کام ہے جو امریکی صدر کے ساتھ ملاقات سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اس نے بتایا کہ پوتی کو چڑیا گھر لے جانا ہے۔ سٹاف افسر بے اختیار ہنس پڑا کہ یہ کون سا ایسا ضروری کام ہے! دادا نے جواب دیا کہ یہ کئی گنا زیادہ ضروری ہے۔ امریکی صدر ملاقات کے چند گھنٹے بعد مجھے بھول چکا ہوگا مگر پوتی ساری زندگی یاد رکھے گی کہ دادا ابو مجھے چڑیا گھر لے کر گئے تھے!!
‎ہم گھر میں کسی کو بتائے بغیر کہ کس کام کے لیے باہر جا رہے ہیں، نکلے۔ ٹرین پر بیٹھ کر ''سنٹرل میلبورن‘‘ کے سٹیشن پر اترے۔ کئی سپر سٹوروں، دکانوں میں گئے، ایسا ٹرالی بیگ نہیں مل رہا تھا جو تین سالہ مسافر کے لیے موزوں ہو! ایک جگہ ملا مگر وہ سرخ رنگ کا تھا۔ ان ملکوں میں ضروری ہے کہ رنگوں کے فرق کو ملحوظ رکھا جائے۔ گلابی یا سرخ رنگ لڑکیوں کے لیے اور نیلا، کالا یا سفید لڑکوں کے لیے! بڑے بڑے مال بھی جھانکے‘ کہیں نہ ملا۔ پھر ایک دکاندار نے مشورہ دیا کہ Southern-cross جا کر دیکھو۔ یہ ایک ریلوے سٹیشن ہے۔ اس کے ساتھ بہت بڑا بازار ہے۔ وہاں گئے۔ صندوقوں اور بیگوں کی بہت سی دکانیں تھیں۔ شام ہو چلی تھی۔ پانچ ساڑھے پانچ بجے بازار بند ہو جانے تھے۔ دل میں قائل ہو چکے تھے کہ مہم ناکام گئی۔ بالآخر ایک دکان میں نیلے رنگ کا ننھا منا ٹرالی بیگ مل گیا۔ ایک لمحہ تاخیر کیے بغیر یوں قابو کیا جیسے کئی دوسرے گاہک اس کے درپے ہوں‘ حالانکہ ہمارے علاوہ اس کا خریدار کوئی نہ تھا۔
‎گھر پہنچے تو حمزہ سویا ہوا تھا۔ صبح اٹھا اور ٹرالی بیگ پا کر جو خوشی اسے ہوئی، ظاہر ہے اس کا اظہار اس کے لیے نا ممکن تھا۔ 
‎کِھلتا ہوا چہرہ کچھ کچھ بتاتا تھا۔ کئی بار زِپ کھولی اور بند کی۔ پھر اس میں الم غلّم اپنا سامان ڈالا۔ کھلونے،بلاکس،پرفیوم کی خالی بوتل، وغیرہ وغیرہ۔ اب یہ گویا اس کے جسم کا حصہ ہو گیا۔ جہاں جاتا، اس کا ہینڈل ہاتھ میں ہوتا اور چلاتا جاتا۔ صبح اپنی خواب گاہ سے نکلتا تو ٹرالی بیگ لیے۔ کسی بھی کمرے میں، طعام گاہ میں، کچن میں، لائونج میں، یا باہر صحن میں، ٹرالی بیگ ساتھ ہوتا۔ ایک رات، بہت دیر ہو چکی تھی، اس کے ماں باپ اپنی خواب گاہ میں سو چکے تھے، یہ ٹرالی بیگ چلاتا، ہمارے بیڈ روم میں آیا۔ ٹرالی بیگ چار پائی کے ساتھ لگایا اور میرے پاس لیٹ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اٹھا، میں نے کہا کہ دیر ہو چکی ہے، میرے پاس ہی سو جائیے، کہنے لگا : نہیں، میں ممی کے پاس جا رہا ہوں۔ ہاتھ میں ٹرالی بیگ کا ہینڈل سنبھالا، اور چل پڑا۔ میں بھی ساتھ ہی اٹھا اور ساتھ ہی کمرے سے باہر نکلا۔ ٹرالی بیگ کے ساتھ ہی خواب گاہ میں داخل ہوا۔
‎اب نو برس کا ہے۔ وہ آسٹریلیا میں کورونا کا قیدی ہے اور دادا، دادی پاکستان میں نظر بند!! رمضان اس کے ساتھ گزارنا تھا مگر قدرت کو منظور نہ تھا۔ دو دن پہلے کمپیوٹر پر بات ہو رہی تھی۔ اچانک مجھے ٹرالی بیگ یاد آیا۔ پوچھا: کہاں ہے! کیا چھوٹے بھائی کو دے دیا ہے؟ کہنے لگا: نہیں! میرے پاس ہے۔ اس میں میرا سامان پڑا ہوا ہے!!

No comments:

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com