Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, February 14, 2013

ٹھیکے پر دے دیجیے

غلط کہا ہے ریاستوں اور سرحدی امور کے نئے وفاقی وزیر نے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر قیام پزیر افغان مہاجرین معیشت پر بوجھ ہیں۔ افغان مہاجرین معیشت پر بوجھ نہیں، بوجھ وہ خونخوار مگرمچھ اور بھُوکے بھیڑیے ہیں جو سرکاری دفتروں میں بیٹھے ہیں۔ جن کی ناپاک تھوتھنیاں روپوں اور ڈالروں کی غلاظت میں لُتھڑی ہوئی ہیں اور جو غیر قانونی طور پر غیر ملکیوں کو اندر آنے دے رہے ہیں۔ ان میں صرف افغان نہیں، بنگالی، برمی اور دوسری قومیتوں کے مشکوک افراد بھی ہیں اور لاکھوں میں ہیں۔ وزیر صاحب ٹہنی پکڑ کر جھُول رہے ہیں۔ انہیں ادراک ہی نہیں کہ درخت کی جڑ کہاں اور کس حال میں ہے؟ وفاقی حکومت کا وزیر اُسی سانس میں کہہ رہا ہے کہ قانونی طور پر رہائش پزیر مہاجرین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے؟ کون سے قانونی مہاجرین؟ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کرنے والے اہلکار کرپٹ ہیں اور اتنے کرپٹ کہ مثال دینی مشکل ہے۔ اگر غیر قانونی مہاجرین بوجھ ہیں تو ’’قانونی‘‘ مہاجرین بوجھ کیوں نہیں؟ کیا اُن کے چھ چھ ہاتھ ہیں اور کیا غیر قانونی مہاجروں کے صرف دو، دو ہاتھ ہیں اور وہ کھانا دن میں بارہ دفعہ کھا رہے ہیں؟
حکومتِ پاکستان کے لیے، جی ہاں، پوری حکومتِ پاکستان کے لیے تیرہ فروری کو یعنی کل شائع ہونے والی یہ خبر باعثِ شرم ہونی چاہیے کہ ’’پاکستانی پاسپورٹوں پر بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر افغانیوں کی مختلف شہروں سے براہ راست برطانیہ آمد کا سخت نوٹس لیتے ہوئے برطانوی حکام نے پاکستانی قومی فضائی کمپنی کی براہ راست پروازیں بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ جب کہ معلوم ہوا ہے کہ حکومتِ پاکستان کے متعلقہ محکمے کا افسر اس میں براہ راست ملوث پایا گیا ہے اور برطانیہ میں مقیم اس کے اہلِ خانہ کے خلاف تحقیقات اور وہاں موجود اثاثوں کی چھان بین بھی شروع کر دی گئی ہے۔‘‘
حکومت پاکستان کو چاہیے کہ برطانوی یا دوسرے ملکوں کے حکام کو ٹھیکے پر درآمد کریں اور اُن سے عرض گزار ہوں کہ اُن مگرمچھوں اور بھیڑیوں کو پکڑنے میں مدد دیں جو غیر ملکیوں کو پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کر رہے ہیں۔ یہ کیسا اسلام کا قلعہ ہے جس میں دروغ گوئی، جعلسازی اور حرام خوری عروج پر ہے اور ’’کفّار‘‘ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ تم جعلی پاسپورٹوں پر افغانوں کو پاکستانی بنا کر ہمارے ملک میں لا رہے ہو، کیوں نہ ہم تمہاری شہرۂ آفاق ایئرلائن کا داخلہ اپنے ملک میں بند کر دیں۔؟
اس کالم نگار کو خوست کا وہ افغانستانی نہیں بھُولتا جو حرمِ کعبہ کے صحن میں ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور جس کی جائیداد راولپنڈی میں تھی۔ اُس سے پوچھا کہ خدانخواستہ افغانستان اور پاکستان میں جھگڑا ہو جائے تو تم کس کا ساتھ دو گے؟ اُس ملک کا جہاں پیدا ہوئے یا اُس ملک کا جس کا کھا رہے ہو؟ اور اُس بظاہر اَن پڑھ افغان نے اِس ہوشیاری سے موضوع بدلا کہ ’’پڑھا لکھا‘‘ کالم نگار حیران رہ گیا۔ یہ خبر اِسی ملک کے اخبارات میں شائع ہوئی تھی کہ افغانستان سے حاجی براہ راست سعودی عرب جاتے ہیں اور پاکستانی پاسپورٹوں پر حج کرکے براہ راست ہی واپس افغانستان آتے ہیں۔ اِن لوگوں کو افغانستان میں پاکستانی پاسپورٹ کون پہنچاتا ہے اور کون جاری کرتا ہے؟
یہ کیسا ملک ہے جس میں اسرار اللہ زہری کے فرزندوں کے گارڈ کراچی میں پولیس پر اسلحہ تان لیتے ہیں اور پولیس کا سربراہ اور پُورا محکمہ چُپ سادھ لیتا ہے۔ یہ کیسی حکومت ہے کہ رائے ونڈ سے لے کر کراچی تک ایک ایک ’’وی آئی پی‘‘ کی حفاظت کے لیے درجنوں پولیس کے اہلکار مامور ہیں اور ملک میں چور، ڈاکو، اغواء کنندگان، قاتل سرِعام دندناتے پھرتے ہیں، سرحدیں کُھلی ہیں، کیا کراچی اور کیا خیبر پختونخواہ، غیر قانونی طور پر آئے ہوئے غیر ملکی بھرے پڑے ہیں اور یوں محفوظ ہیں جیسے بتیس دانتوں کے درمیان زبان۔ وہ شہری جو صدیوں سے اس سرزمین پر رہ رہے ہیں‘ شناختی کارڈوں اور پاسپورٹوں کے لیے دھکّے کھا رہے ہیں، ذلیل ہو رہے ہیں، دفتروں کے باہر کھڑے کھڑے سُوکھ رہے ہیں، بدقماش اہلکاروں کی جھڑکیاں کھا رہے ہیں اور غیر ملکیوں کو پاکستانی دستاویزات پلیٹوں میں رکھ کر پیش کی جا رہی ہیں۔ پاکستان سے باہر پاکستانی سفارت خانوں میں بیٹھے سفارشی اہلکار پاکستانی سائلوں سے یوں بچتے ہیں جیسے اُن کے ساتھ جراثیم لگے ہوں۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک ہیں یا
برطانیہ، سکینڈی نیویا کی ریاستیں ہیں یا امریکہ اور یورپ، پاکستانیوں کا سروے کر لیجیے اور اندازہ لگا لیجیے کہ سفارت خانوں کے بارے میں کیا رائے ہے؟
ٹنوں کے حساب سے حرام کھانے والے اِن اہلکاروں کو کون پکڑے گا؟ اعلیٰ ترین منتخب اداروں میں بیٹھے ہوئے ٹیکس چور؟ وہ وزیر جن کے بنک اکائونٹس میں کروڑوں روپے ڈالے جاتے ہیں اور پھر انہیں پاک صاف ثابت کرنے کے لیے نکال لیے جاتے ہیں؟ وہ پولیس افسر جن کی ساری مدّتِ ملازمت ذاتی وفاداری میں گزرتی ہے اور جنہیں ریٹائرمنٹ کے چند ثانیے بعد پنجاب پبلک سروس کمیشن میں مزید ملازمت مل جاتی ہے؟ وہ وزرائے اعظم؟ جن کے فرزند دوسروں سے امتحان دلوا کر ’’تعلیم یافتہ‘‘ کہلواتے ہیں اور دھڑلے سے کہتے ہیں کہ میں ایسی بلٹ پروف کار ایک اور بھی لے سکتا ہوں اور جو وزیراعظم بننے کے بعد اپنے داماد کو ورلڈ بنک میں تعینات کرتے ہیں اور سپریم کورٹ نوٹس لیتی ہے تو راتوں رات بحرِ اوقیانوس عبور کروا دیتے ہیں؟وہ سیاسی رہنما جن کی جائیدادیں اور کارخانے جدّہ سے لے کر لندن تک اور فرانس سے لے کر ہسپانیہ تک بکھرے پڑے ہیں؟ایک ہی طریقہ ہے۔ ملک کو ٹھیکے پر دے دیجیے، عوام مٹھائی بانٹیں گے۔

1 comment:

Ajay Latif said...

Islam is beginning to show its real face. ( it's not yet fully implemented ). Can you imagine when it ill be fully implemented ? We will be a pure society like like Saudia . There will be no more Jews, Christian, Hindus, Shias, Ahmadis. This nation deserves what it's going through now.

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com