Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Wednesday, January 28, 2015

درانتیاں اور راکھے


شام لمحہ لمحہ اتر رہی تھی جب میں بستی میں داخل ہوا۔ یہ بستی اِرد گرد کی ساری بستیوں سے مختلف تھی۔ کوئی آواز تھی نہ حرکت۔ پیڑ دم سادھے کھڑے تھے۔ مکین سب سوئے ہوئے تھے۔ کچھ مٹی اور کچھ مرمر اوڑھے تھے۔ جھٹپٹے میں مرمر کی سفیدی جگہ جگہ جھلک رہی تھی۔ پہلوئوں میں مر مر کے تکیےسروں کی جانب مرمر کے کتبےکچھ ایستادہکچھ نیم درازمرمر میں کھدی ہوئی آیاتمرمر ہی پر لکھے گئے اشعار   ؎
یہ سنگِ مرمریہ شاخِ انگوریہ کنیزیں
مگر کوئی کھینچتا ہے مٹی کے گھر کی جانب
پختہ پگڈنڈی پر چلتا اُس قبر کے پاس پہنچا جس میں سویا ہوا شخص ساری زندگیزندگی گزارنے کے نہیںزندگی کرنے کے طریقے سکھانے کی کاوش کرتا رہا۔ صبح نماز کے لیے اٹھانا ہوتا تو کبھی بھیکرختگی یا درشتی تو دور کی بات ہےنرم آواز سے بھی ’’اٹھو‘‘ نہ کہابس وضو سےدھوئے ہوئے ٹھنڈے رخسار رخساروں سے لگا کر رگ رگ میں لطیف خنکی بھر دیتا۔ وہ لطیف خنکی آج بھی رگوں میں اور ہڈیوں میں اور ہڈیوں کے اندر گودے میں جیتی جاگتی چلتی محسوس ہوتی ہے۔ کیا کیا انداز تھے تربیت کے۔
ایک بڑے افسر کا میں نے دوسرے مہمانوں سے تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ یہ کالج میں میرے شاگرد رہےسب چلے گئے تو آہستگی سے بتایاشاگرد بڑا آدمی بن جائے تو استاد نہیں بتاتا کہ یہ شاگرد رہا ہے۔ وہ خود بتائے کہ یہ میرے استاد ہیں۔ نہ بتائے تو اس باب میں خاموشی بہتر ہے۔ بیوی سے جھگڑا ہوتا تو اتنا کہتےکمزوریوں ہی کو دیکھتے ہوخوبیاں کیوں نہیں نظر آتیں؟ اگر فلاں خامی ہوتی تو کیا کر لیتےنہیں ہے تو قدر کرو۔ بچوں کو ڈانٹتا تو یاد دلاتے کہ زجر و توبیخ کا زمانہ لد چکا۔ مار اور مکتب کا عہد گزر گیا۔ یہ دور اولاد سے دوستی کا دور ہے۔ بڑے دو پوتوں کو فارسی ادب کی شروعات خود کرائیں۔ تحدیثِ نعمت کہ ایک آج کارڈیالوجسٹ ہے اور دوسرا سول سروس میںاور فارسی ادب کی جھلکدادا کی براہ راست میراث نظر آتی ہے۔ مہمان آتے تو دسترخوان پر یہ شعر پڑھتے   ؎
درین خانہ ہر کس کہ پا می نہد
قدم بر سر و چشمِ ما می نہد
(اس گھر میں جو بھی پائوں دھرتا ہےہمارے سر اور آنکھوں پر دھرتا ہے)
اکلِ حلال کی تلقین کرتے تو بس اتنا یاد دلاتے کہ ایک سیر صاف شفاف دودھ کو گندا کرنے کے لیے غلاظت کا ایک قطرہ کافی ہے۔ کوئی مشکل وقت آن پڑتا تو سب خوابیدہ اہل خانہ کو صبحِ کاذب کے وقت جائے نماز سے ہچکیوں کی آواز آتیکبھی اقبال کا وہ شعر یاد دلاتے جو اس کے مزار کی اندرونی چھت پر مرقوم ہے   ؎
بیا بہ سجدہ و یاری ز خَسروان مطلب
کہ روزِ فقر نیاگانِ ما چنین کردند
(بادشاہوں سے مدد نہ مانگ۔ سجدہ کر کہ ہمارے اجداد نے مشکل وقت میں یہی کیا تھا)۔
سول سروس کا آخری درجہ طے نہیں ہو رہا تھا۔ ایک دوست نے کہااپنے والد کو دعا کے لیے کہوبتایا کہ کہا ہےکر رہے ہیںکہانہیںپھر عرض گزارو۔ کاغذ کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر اُس گردن بلند کا نام لکھا جو آڑے آ رہا تھا اور انہیں نواز رہا تھا جو ’’شام‘‘ کے وقت حاضر باش ہوتے۔ عرض کیا کہ یہ ہے رکاوٹ۔ پھر اسباب مہیا ہوتے گئےیہاں تک کہ ایک دوپہر کو اسی گردن بلند نے ٹیلی فون پر اطلاع بھی دی اور مبارک بھی!
مٹی کی چادر تھی۔ چادر کو خزاں زدہ خشک زرد پتوں نے ڈھانک رکھا تھا۔ یا کشیدہ کاری تھی! ایسی نادر اور دیدہ زیب کشیدہ کاری جو کوئی سوزن کر سکتی ہے نہ کوئی ہاتھ۔ فقط قدرت کا دستِ ہنر کر سکتا ہے! سر سے پائوں تک متانت تھینیند تھی اور خاموشی! جیب سے رومال نکالا اور سرہانے کے اُس پتھر کو صاف کیا جو اس عہد کے بڑے نظم گوپنجاب یونیورسٹی کے فارسی ادب  و زبان کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر معین نظامی نے لاہور سے بھیجا تھا اور خطاطی بھی اس پر وہیں سے کرائی تھی۔ ایک طرف نام اور تاریخ۔ دوسری طرف ان کے اشعار!
جو جانتا ہے وہ جانتا ہے اور خوش بخت ہے۔ جو نہیں جانتا وہ جان لے کہ دادرسی اس کے اپنے گھر کے ایک کونے میں پڑی ہے۔ اللہ کے بندوبھٹکتے کیوں ہو؟ وسیلے کی تلاش میں اِدھر اُدھر مارے کیوں پھرتے ہو؟ وسیلہ تمہاری بغل میں ہے۔ باپ سے بڑا بزرگ کون ہے؟ ہاتھ چومنے ہیں تو اس کے چوموسر رکھنا ہے تو اس کے پیروں پر رکھو۔ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا ہے تو اس کے سامنے کھڑے ہو جائو۔ جوتے پہنانے ہیں تو اپنے ہاتھوں سے اُسے پہنائو۔ کنگھی کرنی ہے تو اس کی کرو۔ دوا کھلانی ہے تو اپنے ہاتھ سے اُسے کھلائو۔ چومنا ہے تو اسے چومومعافی مانگنی ہے تو اس سے اپنی لغزشوںکوتاہیوں اور گستاخیوں کی مانگورونا ہے تو اس کی گود میں سر رکھ کر بلک بلک کر روئو۔ نذرانہ دینا ہے تو اس کی نذر کرو۔ حج کرانا ہے تو اسے کرائو۔ دعا کروانی ہے تو اس سے کروائو    ؎
ای قوم بہ حج رفتہ کجائید کجائید
معشوق ہمین جاست بیائید بیائید
دہ بار ازان راہ بدان خانہ برفتید
یک بار ازین خانہ برین بام بر آئید
اے حج پر گئے ہوئے لوگو! کہاں ہو؟ معشوق تو یہاں ہےاِدھر آئواُس راستے سے اُس گھر میں دس بار گئے ہو۔ ایک بار اِس گھر سے اِس بام پر بھی نکل کر دیکھو!!
اِدھر اُدھر دیکھا۔ سب خوابیدہ تھے۔ سر سے پائوں تک دراز۔ کوئی مٹی اوڑھے تھا اور کوئی مرمر! پیلے خشک پتوں کے انبارقبروں پر بھی اور راستوں پر بھی! اڑتی ہوئی خاک تھی جیسے رفتگاں کے غم میں رو رہی ہو۔ دم بخود شاخیں جھکائے درخت تھے جیسے محوِ دعا ہوں! شام اتنی آہستگی سے گہری ہو رہی تھی جیسے احتیاط کر رہی ہو کہ کسی قبر پر پائوں نہ پڑ جائے۔
ہاتھوں میں درانتیاں لیےراکھےپگڈنڈیوں پر اور قبروں کے درمیان کے پتلے راستوں پر پھر رہے تھے۔ جس قبر کے پس ماندگان ان کی جیب میں کچھ ڈالتےاسی قبر کی وہ دیکھ بھال کر لیتےورنہ نہیں! یہی وہ حقیقت ہے جسے قبر میں جانے والاقبر میں جانے سے پہلے یاد نہیں رکھتا۔ راکھا درانتی اٹھائےاس کے پاس سے گزر جائے گا اور وہ اسے اتنا بھی نہیں کہہ پائے گا کہ میری قبر سے گھاس پھونس جھاڑ جھنکاڑ ہٹاتے جائو!
کتنا جمع کر لو گے؟ کتنے محلات بنا لو گے؟ کل ہی کوہستانِ مری کے دامن میں بیس کنال کے محل کا افتتاح ہوا ہے اور عمائدینِ خاص کی دعوت! ایک اور محل۔ ایک اورایک اور ’’بھلا تم ہر اونچی جگہ عبث نشان تعمیر کرتے ہو اور محل بناتے ہو کہ شاید تم ہمیشہ رہو گے۔ و اذا بطشتم بطشتم جبارین۔ اور جب پکڑتے ہو تو ظالمانہ پکڑتے ہو!‘‘

دنیا بھی عجب جادو کا کھیل ہے۔ عجب خانۂ طلسمات ہے۔ کھوپڑیوں میں پرندے انڈے دیتے ہیں۔ جہاں آنکھ ہے وہاں سوراخ بن جاتا ہے اور حشرات الارض کی گزرگاہ! سکوں کی کھنک سانپ کی پھنکار میں تبدیل ہو جاتی ہے!!

No comments:

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com