Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Monday, April 11, 2022

دھاندلی

ہم چار دوست تھے جن میں سے دو اب اس دنیا میں نہیں ہیں اور ہم دو ‘تا دمِ تحریر‘ اپنی سفید داڑھیوں اور گنجے سروں کے ساتھ ‘ زندہ ہیں۔ ہم میں سے دو شہر میں رہتے تھے اور دو گاؤں میں۔ جب گرمیوں کی چھٹیاں ہوتیں اور سکول کالج دو اڑھائی مہینوں کے لیے بند ہو جاتے تو ہم میں سے وہ دو بھی ‘ جو شہر میں رہتے تھے‘ گاؤں آجاتے۔ یہ دو اڑھائی ماہ ہمارے لیے پکنک کی طرح ہوتے۔ صبح سے لے کر شام ڈھلے تک ‘ پورا دن کھیل کود میں گزرتا۔ دو پہر کو دھوپ تیز ہوتی تو کمروں میں یا گھنے درختوں کی چھاؤں میںبیٹھ کر چار کانیاں کھیلتے۔ صبح شام ‘ دور ‘ کھیتوں‘ ڈھوکوں ‘ گوٹھوں میں نکل جاتے۔ گھڑ سواری ہوتی۔مویشیوں کو پانی پلانے لے جاتے۔ تالابوں میں تیرتے۔مگر اصل مزا گلی ڈنڈا کھیلنے میں تھا۔گاؤں کے جنوب میں‘ کھیتوں کے پار‘ ڈیڑھ دو میل کے فاصلے پر ایک میدان تھا۔ کبھی ہم وہاں میچ کھیلتے۔ اس سے آگے پہاڑ تھا۔ پہاڑ کے اوپر ایک اور میدان تھا جو پہلے میدان سے وسیع تر تھا۔ کبھی وہاں کا رُخ کرتے۔ پہاڑ کے اوپر واقع میدان میں کھیل کر ہمیں زیادہ خوشی حاصل ہوتی۔ ایک تو اونچائی کی وجہ سے وہاں ہر وقت ہوا چلتی رہتی۔دوسرے‘ پہاڑ کے ایک طرف دیکھتے تو نیچے نشیب میں ہمارا اپنا گاؤں نظر آتا۔ دوسری طرف دیکھتے تو دوسرے گاؤں دکھائی دیتے۔ یہ نظارے ہمیں بہت محبوب تھے۔ اس وقت موبائل تھا نہ موبائل کے کیمرے۔ عام کیمرہ بھی ہم میں سے کسی کے پاس نہ تھا۔ورنہ آج اُن ہوشربا مناظر کی تصویریں ہمارے پاس ہو تیں اور ہم یہ تصویریں اپنے بچوں اور پوتوں کو دکھاتے۔ دونوں میدان وسیع تھے۔ گْلّی کو جتنے زور سے مارا جاتا‘ میدان کی فراخی اسے خوشدلی سے قبول کرتی۔کھیلتے کھیلتے شام ہو جاتی۔ سورج غروب ہونے کے بعد‘ شفق کی لالی کے سائے میں ہم پہاڑ سے اترتے اور گاؤں واپس آتے۔ یہی وقت تھا جب چرواہے بھی واپس آرہے ہوتے۔ جانوروں کے گلوں میں لٹکتی گھنٹیوں کی آوازیں شفق کو اور بھی دلکش کرتیں۔ ہر ریوڑ کے ساتھ ایک کتاہو تا۔ چرواہوں کے سروں پر ایندھن کے گٹھے ہوتے یا بیری کی درختوں سے کٹی ہوئی ٹہنیاں جو بکریوں کا مرغوب کھانا تھا۔ اسے لاہنگی کہا جاتا۔
یہ دن‘ جس کی بات کی جا رہی ہے‘عام دنوں سے تھوڑا سا مختلف تھا۔ اس دن صبح سے بادل چھائے ہوئے تھے۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد بوندا باندی ہو رہی تھی۔ ہماری خوش قسمتی کہ یہ بوندا باندی بارش میں تبدیل نہیں ہو رہی تھی۔ گلی ڈنڈا کھیلنے کے لیے یہ ایک مثالی دن تھا۔جیسے ہی سہ پہر ہوئی ‘ ہم نے میدان کی راہ لی۔ ہم میں سے ایک کے پاس تازہ ترشی ہوئی گلّیاں بھی تھیں۔ڈنڈے بھی ایک نہیں دو تھے۔ جاتے ہی کھیل شروع ہو گیا۔ ہم میں سے دو ایک طرف تھے اور دو دوسری طرف۔ ہوا چل رہی تھی۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ‘ جس ٹیم کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا‘ اس نے گْلّی پر ضربیں لگانا تھیں۔ دوسری ٹیم نے گْلّی کو کیچ کرنا تھا یا جہاں گلی جا کر گرے وہاں سے نشانہ باندھ کر گْلّی کو اس طرح پھینکنا تھا کہ وہ ڈنڈے کو مَس کرے۔ دوسری ٹیم کے لیے یہ خوشگوار دن خاصا غیر خوشگوار ثابت ہوا۔ ایسی ایسی ضربیں لگائی گئیں کہ گْلّی دو دو فرلانگ دور جا کر گرتی۔ ٹیم کے ارکان بھی صرف دو تھے۔ زیادہ ہوتے تو فیلڈنگ بہتر ہو تی اور کیچ ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے۔مگر ایسا نہ تھا۔ ٹیم کے دونوں ارکان کا بھاگ بھاگ کر بُرا حال ہو رہا تھا۔ کبھی میدان کے دائیں کنارے کبھی بائیں کنارے۔ پسینہ سروں سے ایڑیوں تک بہہ رہا تھا۔ گْلّی کیچ ہو رہی تھی نہ ڈنڈے پر لگ رہی تھی۔ پاس ہی کسانوں کا ایک ڈیرہ تھا۔ دونوں تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہاں جا کر پانی پیتے اور پھر گْلّی کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتے۔خدا خدا کر کے گْلّی ‘ کھد ی ہوئی ناند کے قریب گری۔ فیلڈنگ والے نے گْلّی تاک کر ماری جو ٹھَک کر کے ڈنڈے پر لگی۔ ہانپتے کھلاڑیوں کی جان میں جان آئی۔ اب باریاں بدلنی تھیں۔تاہم یہ طے ہوا کہ کسانوں کے ڈیرے پر جا کر پانی یا لسی پی جائے ‘ اور وقفے کے بعد کھیل دوبارہ شروع کیا جائے۔
عصر کا وقت شروع ہو چکا تھا۔ دوسری ٹیم نے گْلّی ناند پر رکھی۔ ڈنڈا ہاتھ میں پکڑا۔مگر یہ کیا ؟ دوسری ٹیم کے دونوں ارکان جنہوں نے گْلّی کو کیچ کرنا تھا‘ سامنے کھڑے ہونے کے بجائے‘ آرام سے ‘ ایک طرف بیٹھے تھے۔ ان سے کہا گیا کہ آکر باری دیں مگر دونوں بیٹھے رہے۔ کہنے لگے: آج رہنے دیں ‘ باقی کھیل کل ہو گا۔ پہلے تو فریقِ اوّل کو یقین ہی نہ آیا کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ پھر انہوں نے حیران ہو کر پوچھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ دوگھنٹے انہیں بھگایا جاتا رہا۔ وہ پوری ثابت قدمی سے کھیلتے رہے۔ اور اب جب ان کا باری لینے کا وقت آیا تو دوسری ٹیم کھیلنے سے انکار کر رہی ہے! تکرار شروع ہو گئی۔ جھگڑا بڑھنے لگا۔ آوازیں اونچی ہوئیں تو ڈیرے سے کسان بھی آگئے اور پوچھا کہ کیا معاملہ ہے ؟ جب انہیں ساری صورت حال کا علم ہوا تو انہوں نے برملا کہا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ کھیل جاری رہنا چاہیے۔ جن کی فیلڈنگ کی باری ہے انہیں کھیلنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ مگر نہ کھیلنے کا فیصلہ کرنے والے اپنی بات پر اڑے رہے۔ انکار کرنے والوں میں سے ایک کی چادر ساتھ ہی سبزے پر رکھی تھی۔ تنگ آمد بجنگ آمد۔ دوسری ٹیم کا ایک رکن کسانوں کے ڈیرے سے ماچس لے آیا اور آؤ دیکھا نہ تاؤ‘ چادر کو آگ لگا دی۔ مگر انہوں نے نہیں کھیلنا تھا‘ نہ کھیلے۔
دادا جان کے سامنے تو بات کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ متاثرہ فریق نے دادی جان کے پاس جا کر فریاد کی۔ دوسرے فریق نے نذر آتش کی گئی چادر کے بچے کھچے حصے دکھائے۔ دادی جان بھی اپنی ذات میں اعلیٰ عدلیہ کی طرح تھیں۔ انہوں نے پہلی رولنگ یہ دی کہ کھیل سے انکار کرنے والے اور اپنی باری لے کر دوسرے کی باری نہ دینے والے غلطی پر ہیں۔ ایسا رویہ ناقابلِ قبول ہے۔ دوسرے دن کھیل وہیں سے شروع ہو گا جہاں اُس دن ختم ہوا تھا۔ رہا چادر کا جلانا تو اسے بھی انہوں نے زیادتی قرار دیا۔
کیا کھیل سے انکار کرنے والے دوسرے دن کھیلے ؟ کیا انہوں نے دادی جان کا فیصلہ تسلیم کیا؟ یہ بتانا ضروری نہیں ! یہ بتانا بھی لازم نہیں کہ کالم نگار کس ٹیم میں تھا؟ کھیلنے سے انکار کرنے والی ٹیم میں یا چادر کو نذر آتش کرنے والی ٹیم میں ؟ ضروری بات یہ ہے کہ ہم بچے تھے۔ بچے دھاندلی کرتے ہیں۔ کھیل میں روند مارتے ہیں۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں ! انوکھی بات اُس وقت ہوتی ہے جب بڑے دھاندلی پر اتر آئیں! جب بڑے روند مارنے پر آجائیں۔ اور جب بچے انہیں دھاندلی کرتے دیکھیں تو ہنس کر ان کا مذاق اڑائیں ! ایک آئین کھیل کا ہوتا ہے۔ اسے توڑا جائے تو کھیلنا ممکن نہیں رہتا۔ ایک آئین ملک کا ہوتا ہے۔ اسے توڑا جائے تو ملک چلانا نا ممکن ہو جاتا ہے۔بچے ہوں یا بڑے‘ آئین کو سامنے رکھ کر چلیں تو راستہ آسان ہو گا۔ کھیل ہو یا سیاست‘ کوئی ہار جائے تو اسے ہار مان لینی چاہیے! ہار نہ ماننے والے کو بالآخر میدان سے نکال دیا جاتا ہے !
بشکریہ روزنامہ دنیا

No comments:

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com