Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Monday, April 24, 2017

تو پھر شہزادی بھی ہم پر حکومت کرکے دیکھ لے !!


2000
ء تک واضح ہو چکا تھا کہ جمال مبارک اپنے باپ کا جانشین ہو گا۔ نائب صدر کا عہدہ موجود ہی نہیں تھا۔ عملاً جمال ہی نائب صدر تھا۔ سرکاری جماعت نیشنل ڈیموکرٹیک پارٹی55 کا ڈپٹی سیکرٹری جنرل وہی تھا اور پالیسی کمیٹی55 کا طاقت ور منصب بھی اُسی کی جیب میں تھا۔ حُسنی مبارک نے ربڑ نما پارلیمنٹ سے آئین میں ترمیم بھی کروائی کہ جمال کا راستہ صاف ہو جائے اور وہ اگلا حکمران بنے۔ مگر ساری ترکیبیں، سارے منصوبے دھرے رہ گئے۔ تختہ الٹ دیا گیا۔ پھر کرپشن کے الزامات لگے۔ جیل کی سلاخیں، فوٹو گرافروں کے چبھتے کیمرے، دنیا بھر کے میڈیا میں تذلیل ! کوئی ہے جو عبرت پکڑے۔ کہاں ہے حسنی مبارک اور کہاں ہے ولی عہد جمال مبارک ؟؟
2012ء کا موسم گرما قذافی کے بیٹے محمد قذافی نے لندن کی خنک ہوائوں میں گزارنا تھا مگر بھاگ کر الجزائر میں چھپنا پڑا۔ سیف الاسلام ، قذافی کے دوسرے بیٹے کو جیل جانا پڑا۔ تیسرے بیٹے موسیٰ کو نائجر میں پناہ لینا پڑی۔ نائجر، جہاں اس کے جانور بھی رہنا پسند نہ کرتے۔ ہنی بال، ایک اور بیٹا، جو پیرس کی شاہراہوں پر نشے میں دھند کاریں چلاتا تھا آج کسی کو نہیں معلوم ، نہ پرواہ ہے، کہ کہاں ہے؟
یہ مثالیں، ہمارے سامنے مثالیں کیا بتاتی ہیں؟ یہ واقعات اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ جانشینی کے خواب بکھر جایا کرتے ہیں۔ ملکوں کو جاگیر اور رعایا کو غلام سمجھنے والے، ایک نہ ایک دن ضرور مٹی چاٹتے ہیں! جس خاک کو وہ پیروں تلے پامال کرنے کے عادی ہوتے ہیں، وہی خاک لوہا بن کر ان کی کلائیوں کے لئے ہتھکڑی ہو جاتی ہے۔
ایک گروہ اگر یہ سمجھ رہا ہے کہ بادشاہ کے بعد شہزادی اقتدار سنبھالے گی تو وہ اُن طاقتوں سے آگاہ نہیں، جو مستقبل میں پوشیدہ ہیں! کسی کو نہیں معلوم کہ شہزادی، جو سارے مقدمے کا مرکزی کردار تھی، محفوظ کیسے قرار دے دی گئی!اور اب اس منصوبے پر کام شروع ہو گیا ہے کہ تخت کی وارث وہ ہو گی!
نہیں ! ایسا نہیں ہو گا! جس خاندان کے سربراہ کو دو منصفوں نے نااہل اور دروغ گو قرار دیا ہے اور تین منصفوں نے عدم اطمینان کا اظہار کرکے مزید تفتیش کا حکم دیا ہے، اس خاندان کے دوسرے افراد کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط ہونے کا حق نہیں دیا جاسکتا! اگر ایسا ہو گیا تو یہ قائد اعظم کے بنائے ہوئے ملک کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا۔ پناہ مانگنی چاہئے خدا کی ! وہ یہ دن کبھی نہ دکھائے!
نہیں! یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں! شاہی خاندان کا جانا ٹھہر گیا ہے! صبح گیا یا شام گیا! یہ تو غیر ملکی ہیں جو کلائیو، کرزن اور ولزلے کی طرح باہر سے ہم پر حکومت کرنے آتے ہیں! ان کا اس وطن سے، اس وطن کی مٹی سے، اس وطن کی کچی گلیوں میں اڑتی گرد سے، تعلق ہی کیا ہے! انہوں نے تو اپنے محلات کے جھنڈ کا نام تک بھارت کی اس بستی کے نام پر رکھا ہے جسے یہ چھوڑ آئے مگر چھوڑ نہیں سکتے!
حجاز میں رہنے والے ہر پاکستانی کو معلوم ہے اور سب گواہی دیتے ہیں کہ وہاں ان کے کارخانوں میں ترجیح کس ملک کے باشندوں کو دی جاتی ہے اور پاکستانیوں کو درخور اعتنا نہیں گردانا جاتا! آصف زرداری، دولت جمع کرنے میں، اس خاندان سے ذرا سا ہی آگے پیچھے ہو گا مگر ایک معاملے میں وہ جاتی امرا کے حکمرانوں سے بازی لے گیا۔چند دن پہلے اُس نے بلوچستان کے عوام کو بھارت کا اصل چہرہ دکھایا۔55جو بلوچ بھائی بھارتی بہکاوے میں آکر آزادی کی باتیں کر رہے ہیں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ انٹرنیٹ پر بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار دیکھ لیں۔ وہاں گائے ذبح کرنے پر پھانسی دی جاتی ہے۔ کیا ہم نے بھی بیل کاٹنے پر پھانسی چڑھنا ہے؟ بنیا کہتا ہے پانی بند کردوں گا! بنیے کو کہتا ہوں تم ہمارا پانی بند نہیں کر سکتے۔
بحرالکاہل سکڑ کر ایک جوہڑ تو بن سکتا ہے، مائونٹ ایورسٹ، عرب کے صحرا میں تو منتقل ہو سکتی ہے مگر جاتی امرا کے بادشاہ، بھارت کے بارے میں ایسی بات کبھی نہیں کر سکتے! انہیں تو اس بات پر فخر ہے کہ بھارتی پنجاب میں بھی آلو گوشت کھایا جاتا ہے اور پاکستان میں بھی !! سبحان اللہ ! کیا فلسفہ ہے جو اشیائے خورد و نوش کے گرد ہی گھومتا ہے!
یہ ملک ہمارا ہے! انہیں کیا معلوم اس ملک کی سرحد کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں تک جاتی ہے۔ پانچ اضلاع سے باہر نہ نکلنے والوں کو کیا معلوم کہ سندھ کے صحرائوں میں کیا ہو رہا ہے اور بولان کے باسی کس حال میں ہیں، انہیں تو یہ بھی معلوم نہ ہو گا کہ وزیرستان سے لے کر باجوڑ تک خلق خدا کس طرح رہ رہی ہے!
یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم نے کراچی کے ساحلوں سے لے کر خنجراب کے پتھروں تک اسے اپنایا ہے۔ ہم اس وطن کے رہنے والے ہیں۔ ہماری دولت جدہ میں نہیں پڑی ہوئی۔ہماری جائیدادیں لندن میں نہیں بکھری ہوئیں! ہماری کلائیوں پر تین تین کروڑ کی گھڑیاں ہیں نہ ہمارے پینے کا پانی فرانس کے چشموں سے آتا ہے۔ ہمارے جسموں پر اسی وطن کی دھول ہے۔ ہم اس کے کھیتوں میں چلتے ہیں۔ ہم وہ نہیں جو اقتدار ختم ہو تو کلائیو، کرزن اور ولزلی کی طرح جہاز پر بیٹھ کر اپنے اصلی 55 وطن کو لوٹ جاتے ہیں!
کیا اس ملک میں کبھی کوئی پختون وزیر اعظم نہیں بنے گا؟ کیا یہاں سندھی وزیر اعظم پھانسیوں پر لٹکتے رہیں گے، گولیاں کھا کر گرتے رہیں گے اور پنجابی وزیر اعظم ہمیشہ انصاف کی بارگاہوں سے ریلیف پاتے رہیں گے؟ کیا اقتدار پر صرف ایک مخصوص پٹی کے مخصوص خاندان کی اجارہ داری رہے گی؟ کیا کراچی اور بلوچستان، کیا گلگت بلتستان سے کبھی کوئی حکمران نہیں بنے گا؟
کیا اس ملک میں قہقہے ہمیشہ محلات سے بلند ہوں گے؟ کیا محنت کشوں کے خون سے بھرے ہوئے ساغر چند خاندان ہی نوش کرتے رہیں گے؟ یہ نازک کلائیاں کب تک بچیں گی؟ یہ سر سے لے کر گردن تک اور ہاتھ سے لے کر پائوں تک زیورات میں لدی شہزادیاں کب تک اپنی وراثت کی دھونس جماتی رہیں گی؟ آخر ہماری ہڈیاں کب تک ان کے محلات کی بنیادوں میں اینٹوں کا کام دیں گی؟
اَلَیْسُ الصبح بقریب ؟ کیا صبح قریب نہیں آچکی!کیا سوہار تو کا خاندان، جو سارے کا سارا حکمران تھا، تاریخ کے کوڑے دان میں نہیں پھینک دیا گیا۔ کیا تیس برس کا عرصہ ایک خاندان کے کلی اقتدار کے لئے کم ہوتا ہے؟ کیا کم و بیش اتنا ہی عرصہ نہیں تھا جس کے بعد قذافی، حسنی مبارک کئی اور غروب ہو گئے! کیا رومانیہ کاچی شسکو تاحیات صدر رہ سکا!
مجید امجد نے کہا تھا ؎
سیل زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی
قصرو کلاہ و تخت کے سب سلسلے گئے
غرور و تکبر سے لتھڑے ہوئے خاندان دائمی اقتدار کے منصوبے باندھتے ہیں مگر ہوا اپنا رخ تبدیل کر لیتی 
ہے سب کچھ دھرا رہ جاتا ہے۔ وہ تدبیریں کرتے ہیں اور اللہ بھی تدبیریں کرتا ہے اور اللہ کی تدبیریں، ان کی تدبیروں پر حاوی ہو جاتی ہے!
اس قوم نے کوئی ایسا گناہ نہیں کیا کہ اسے ایسے حکمران کبھی نہ ملیں جو دولت سمیٹنے کی خواہش نہیں رکھتے! بھارتی صدر عبدالکلام جن دو ٹرالی بیگوں کے ساتھ ایوان صدر میں داخل ہوا تھا انہی کے ساتھ نکلا۔ سنگاپور کالیؔ قرا تو وصیت کر گیا کہ اس کا مکان، جو اس کا واحد اثاثہ تھا، منہدم کر دیا جائے تاکہ اس کی نگہداشت پر قوم کا خزانہ نہ خرچ ہو۔ من موہنی سنگھ وزارت عظمیٰ سے ہٹتا ہے تو اس کی الماری سے کپڑوں کے دو جوڑے برآمد ہوتے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم اپنی بیوی کے لئے پرانی گاڑی خریدتا ہے اور ٹیکس ، ڈاکخانے کی کھڑکی میں خود کھڑا ہو کر ادا کرتا ہے۔ وزارت عظمیٰ ختم ہوتی ہے تو اپنا سامان خود پیک کرتا ہے۔ اوبامہ قطار میں کھڑا ہو کر برگر خریدتا ہے(جی ہاں! کچھ حکمران ایسے بھی اس کرہ ارض پر پائے جاتے ہیں جو کھانے میں صرف ایک برگر یا اتنی ہی مقدار کی کوئی اور شے کھانے پر اکتفا کرتے ہیں!)
کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ اس ملک میں، جہاں جمہوریت، خاندانوں کی کنیز ہے، وقت کے وزیر اعظم کو ایک نہیں ، دو جج معزول کرنے کا حکم دیں گے اور بآواز بلند کہیں گے کہ یہ صادق ہے نہ امین! 
تو اگر یہ ہو سکتا ہے تو پھر شہزادی بھی ہم پر حکومت کرکے دیکھ لے!! ؎
وادی قیس سلامت ہے تو انشاء اللہ
سربکف ہو کے جوانانِ وطن نکلیں گے

No comments:

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com