Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Sunday, October 07, 2012

گرجنے والے اور برسنے والے

دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو دنیا نے فیصلہ کیا کہ جو ہوا‘ اسے بھلا دیا جائے اور زندگی کا قافلہ آگے کی طرف بڑھے۔ خاص طور پر امریکہ چاہتا تھا کہ مغربی جرمنی میں جلد از جلد حالات معمول پر آ جائیں تاکہ اس ملک کو روسی بلاک کے خلاف بننے والے اتحاد کا حصہ بنایا جائے۔ لیکن یہودی جنگجوﺅں کے خیال میں ابھی امن کا وقت نہیں آیا تھا۔ ابھی انہوں نے ان نازی جرمنوں سے انتقام لینا تھا جو بقول ان کے‘ یہودیوں کے قتلِ عام میں ملوث تھے۔

اس وقت‘ شکست کھانے کے بعد‘ جرمن اپنی حیثیت کھو چکے تھے۔ یہودی اگر چاہتے تو پورے جرمنی میں نازیوں کے خلاف جلوس نکال سکتے تھے۔ جلسے کر سکتے تھے۔ انتقام انتقام کے نعرے لگا لگا کر آسمان میں شگاف ڈال سکتے تھے۔ ہر روز شاہراہوں پر رکاوٹیں رکھ کر آبادیوں کا جینا حرام کر سکتے تھے۔ اتحادیوں کی حکومت کے خلاف ہڑتالیں کر سکتے تھے اور مطالبہ کر سکتے تھے کہ ایک ایک نازی کو پھانسی دی جائے۔ وہ ہر سنیچر کے دن‘ جو ان کا مقدس دن  ہے‘ شہروں اور قصبوں میں‘ بازاروں اور کارخانوں میں‘ سکولوں اور دفتروں میں چلتی ہوئی زندگی کا پہیہ روک سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ انہوں نے انتہائی رازداری سے ”انتقامی دستے“ تیار کیے۔ ان دستوں کا کام نازیوں سے انتقام لےنا تھا اور اس انتقام کے بارے میں کسی سے کوئی بات نہیں کرنا تھی۔ جرمنی کو امریکی‘ فرانسیسی اور برطانوی فوجی کنٹرول کر رہے تھے۔ یہودی انتقامی دستوں کے ارکان نے ان فوجیوں کی وردیاں پہنیں اور ان نازی ”مجرموں“ کو تلاش کرنا شروع کیا جو سول آبادیوں کے ہجوم میں گھُل مل کر گم ہو چکے تھے۔ وہ انہیں گرفتار کر کے لے جاتے۔ کچھ کو گلا گھونٹ کر مار دیتے۔ کچھ کو پھانسی دے دیتے اور کچھ کو اس طرح موت کے گھاٹ اتارتے کہ موت خودکشی لگتی۔ وہ ”مجرم“ کو گیراج میں کار کی چھت پر کھڑا کرتے۔ گلے میں رسی ڈال کر‘ رسی کا دوسرا سرا چھت کی کڑی سے باندھ دیتے۔ پھر کار کو گیراج سے باہر نکال لیا جاتا ا ور نازی شکار چھت سے لٹک جاتا۔ کچھ نازی سڑکوں کے کنارے مردہ پائے گئے۔ یوں لگتا جیسے انہیں کسی شرابی ڈرائیور نے گاڑی کی ٹکر ماری ہو۔ کچھ کی گاڑیوں کے انجن میں ”پراسرار“ نقائص پیدا ہو گئے اور گاڑیاں حادثوں کا شکار ہو گئیں! گسٹاپو (ہٹلر کی خفیہ فوجی تنظیم) کا ایک رکن ہسپتال میں داخل تھا۔ اس کا ایک چھوٹا سا آپریشن ہونا تھا۔ لیکن اسے مٹی کے تیل کا انجکشن لگا دیا گیا۔ کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ انجکشن لگانے والا کون تھا۔ یہ انتقامی دستے ہسپانیہ اور پھر پورے یورپ میں پھیل گئے۔ پھر انہوں نے بحرِ اوقیانوس پار کیا اور جنوبی امریکہ اور کینیڈا جا پہنچے۔ جن نازیوں نے اپنی شناخت تبدیل کر کے نئی زندگی شروع کی تھی‘ انہیں بھی ڈھونڈ نکالا گیا۔ کینیڈا میں انہوں نے ایک مجرم الیگزنڈر لاک کو جا لیا۔ اس کی بیوی جیسے ہی کسی کام کو نکلی‘ انتقامی دستے نے اسے اس کے گھر میں پکڑا اور بزور گلے میں رسی ڈلوا کر خودکشی کرائی۔
یہ سلسلہ سالہا سال جاری رہا۔ ایک ایک نازی ”مجرم“ کو تلاش کیا گیا اور قتل کیا گیا خواہ اس میں کتنے ہی سال کیوں نہ لگ گئے۔ دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ انتقامی دستوں کے ارکان نے اپنا بھید کسی پر نہ کھولا۔ اپنا منہ بند رکھا حتیٰ کہ ان کی موت کے بعد بھی کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ کس نے کس کو قتل کیا تھا!

تاہم پوری دنیا کو معلوم ہو گیا کہ یہودی انتقام لیتے ہیں اور کسی صورت بھی اپنے مجرموں کو معاف نہیں کرتے۔

افشائے رازِ عشق میں گو ذلتیں ہوئیں

لیکن  اسے  جتا   تو دیا  جان  تو  گیا

نتیجہ یہ نکلا کہ کسی یہودی فرد یا یہودی ادارے یا یہودی ریاست کے خلاف کچھ کرنے والا کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچنے پر مجبور ہو گیا!

اس کے برعکس‘ مسلمانوں کا طرزِ عمل کھوکھلا‘ غیر موئثر اور شکست خوردہ ہے! انہوں نے یہ محاورہ سچ ثابت کردکھایا کہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔ ملعون سلمان رشدی ہی کی مثال لے لیجئے۔ اس کے خلاف جلوس نکالے گئے‘ جلسے کئے گئے۔ دھمکیاں دی گئیں۔ اسے قتل کرنے کا فتویٰ صادر کیا گیا۔ لیکن کسی مسلمان تنظیم یا مسلمان حکومت سے یہ نہ ہو سکا کہ اسے قتل کرنے کے لئے کوئی خفیہ منصوبہ بناتی اور شور و غوغا برپا کئے بغیر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو کسی کو آئندہ توہین کی جرءات نہ ہوتی۔ لیکن عملی طور پر جو کچھ ہوا‘ اس سے سلمان رشدی ملعون کی لاٹری نکل آئی۔ اس کی غیر معیاری کتابیں شہرت کے آسمان پر پہنچ گئیں۔ اسے ”سر“ کا خطاب مل گیا۔ وہ پورے مغرب میں وی آئی پی بن گیا اور آج تک وی آئی پی ہے!

اسی طرح گستاخانہ خاکوں کا معاملہ دیکھیے۔ یہ خاکے کسی کی توجہ حاصل نہ کر سکے۔ قریب تھا کہ یہ اپنی موت آپ مر جاتے کہ ڈنمارک کے ایک عرب امام مسجد نے مشرقِ وسطیٰ آ کر ان خاکوں کی تشہیر شروع کردی۔ یہ امام مسجد ایک طویل عرصہ سے ڈنمارک میں تھا لیکن کوئی نمایاں مقام حاصل نہ کر سکا تھا۔ خاکوں کی تشہیر سے اس کا اصل مقصد کیا تھا؟ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن اس کے بعد دو چیزیں رونما ہوئیں۔ وہ مشہور ہو گیا اور گستاخانہ خاکے ان تک بھی پہنچ گئے جو ان سے مکمل بے خبر تھے۔ یہاں تک کہ جرمنی اور دوسرے ملکوں کے اخبارات نے انہیں کئی بار شائع کیا! حرمتِ رسول کا تقاضا تو یہ تھا کہ خاکے بنانے والے کو قتل کردیا جاتا۔ یوں کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی!

گستاخانہ فلم مکمل طور پر ناکام ہو گئی تھی۔ فلم بنانے والے مردود نے اشتہار لگائے۔ پوسٹر بانٹے لیکن کسی نے فلم پر توجہ نہ دی۔ پھر اس نے اسے یوٹیوب پر چڑھایا لیکن کسی نے نوٹس نہ لیا۔ مہینے گزر گئے۔ کچھ بھی نہ ہوا۔ پھر کسی ملعون نے نیا طریقہ سوچا۔ اس کا عربی ترجمہ یوٹیوب پر لگایا اور لِنک مصر کے کچھ صحافیوں کو بھیج دیا۔ سب سے پہلے ایک مصری سیاست دان نے اس کی مذمت کی پھر معاملہ علما کے ہاتھ آ گیا۔ فیس بُک اور ٹوئٹر کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو احتجاج کے لئے کہا گیا۔ لیبیا میں امریکی سفارت خانے پر حملہ ہوا۔ سوڈانی مسلمانوں نے برطانوی اور جرمن سفارت خانے پامال کر دیے۔ مصر میں ہالینڈ کے سفارت خانے پر حملہ کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ناپاک فلم کو ایک ارب سے زیادہ افراد نے دیکھا اور فلم بنانے والے اس طرح محفوظ جیسے بتیس دانتوں میں زبان!! یہ فلم اگر یہودیوں کے خلاف ہوتی تو اسرائیل میں کوئی جلوس نکلتا نہ کوئی نعرہ لگتا نہ ہی واشنگٹن یا نیویارک میں کوئی یہودی اس کا تذکرہ کرتا۔ بس ایک خفیہ دستہ لاس اینجلس پہنچتا اور فلم کے مصنف‘ ڈائریکٹر اور پروڈیوسر‘ تینوں پراسرار موت مر چکے ہوتے۔ کوئی غسل خانے میں مردہ پایا جاتا اور کوئی ناشتے میں کافی کا کپ پی کر ڈھیر ہو جاتا۔

دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ جو کچھ کیا‘ یہودیوں کے مذہبی طبقات نے اسے اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کے لئے بالکل استعمال نہیں کیا۔ یاد رکھیے جب احتجاج کا ہتھیار ایسے مذہبی گروہوں کے ہاتھ میں آ جاتا ہے جو انتخابات میں ہمیشہ ہارتے آئے ہیں تو وہ احتجاج کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پھر ٹریفک تو بند ہو جاتی ہے۔ مریض ہسپتالوں میں اور طلبہ امتحان گاہوں میں تو نہیں پہنچ پاتے لیکن گستاخانہ خاکے اور گستاخانہ فلم بنانے والے ملعونوں کو کوئی کچھ نہیں کہتا!!

Facebook.com/izharulhaq.net

2 comments:

آوارہ فکر said...

بالکل درست عکاسی کی ہے اظہار بھائی۔ مگر بدقسمتی یہ کہ ایسی باتوں کو یہاں سنتا کون ہے۔ یہاں مولانا ڈیزل اور حافظ سعید جیسوں کا نقارہ بجتا ہے اور خوب رش لیتا ہے۔
آپ کی مزید تحاریر کا انتظار رہے گا۔
خوش رہیں

Anonymous said...

"حرمتِ رسول کا تقاضا تو یہ تھا کہ خاکے بنانے والے کو قتل کردیا جاتا۔ "

تو پھر امريکی ڈرون حملوں پہ کيا اعتراض ہے اگر دوسرے ملکوں ميں جاکے کسی کو مارنا جائز ہے؟

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com