Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, October 04, 2012

صرف زکوات اور صدقات ؟

یہ قطار جو میں نے دیکھی، ایوان صدر سے صرف چار کلومیٹر دور تھی۔

ایوان صدر جہاں ہر روز دو کالے بکرے ذبح کئے جاتے ہیں۔ جس کے مکین سنگ و آہن کی بنی ہوئی ناقابل عبور رکاوٹوں کے پار رہتے ہیں۔ لندن ہو یا نیویارک، آکسفورڈ ہو‘ پیرس یا دبئی۔ ان کے لئے وہاں جانا ایسا ہے جیسے ہم آپ گلی کی نکڑ تک جاتے ہیں۔ دریاست کہ صحرا ست، تہہ بال و پر ماست۔ ہر جگہ ان کے محلات ہیں۔ ایک عام پاکستانی ان کے طرز زندگی کا تصور تک نہیں کر سکتا۔

یہ قطار جو میں نے دیکھی، پارلیمنٹ لاجز سے صرف پونے چار کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔ اگر آپ کو معلوم نہیں کہ پارلیمنٹ لاجز کسے کہتے ہیں تو یہ جان لیجئے کہ یہ  وہ خصوصی رہائش گاہیں ہیں جو پارلیمنٹ کی بغل میں عوامی نمائندوں کے لئے تعمیر کی گئی ہیں۔ ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم کے بعد پورے ملک میں یہ اہم ترین محلات ہیں۔ ان کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے زمانے میں زیر زمین راستوں یعنی سرنگوں کی تعمیر کا سوچا گیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ عوامی نمائندے خفیہ راستوں کے ذریعے، زمین کے نیچے نیچے، پارلیمنٹ لاجز سے نکل کر پارلیمنٹ پہنچ جائیں۔

ان پارلیمنٹ لاجز میں رہنے والے عوامی نمائندے ٹیکس نہیں ادا کرتے۔ ان پر کسی قاعدے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔ یہ جعلی ڈگریوں کے ذریعے وہ سب کچھ کر سکتے ہیں جو ایک عام پاکستانی اصلی ڈگری کے ساتھ بھی نہیں کر سکتا۔ ان پارلیمنٹ لاجز میں رہنے والے چاہیں تو پندرہ کروڑ روپے لے کر کسی کو سینیٹر بنوا دیں۔ کسی کو کسی بڑے ادارے کا سربراہ مقرر کرا دیں۔ کسی کو بیرون ملک تعینات کرا دیں۔ وہ نہ صرف کالے شیشوں والی گاڑیاں چلا سکتے ہیں، بلکہ اسلحہ کی سربازار نمائش کر سکتے ہیں۔

ہاں! اسی ایوان صدر اور انہی پارلیمنٹ لاجز سے چار، پونے چار کلومیٹر کے فاصلے پر میں نے وہ قطار دیکھی۔

آب پارہ دارالحکومت کا سب سے قدیم بازار ہے۔ اس کے ایک طرف دو رویہ شاہراہ ہے جو زیرو پوائنٹ سے ڈپلومیٹک اینکلیو تک جاتی ہے۔ دوسری طرف پچاس سالہ پرانے سرکاری کوارٹر ہیں جو بوسیدگی کی انتہا کو پہنچ چکے۔ لیکن وفاقی ملازمین کے لئے نعمت سے کم نہیں۔ ان کوارٹروں اور آب پارہ کی دکانوں کے درمیان ایک انتہائی مصروف سڑک ہے۔ یہاں گاڑی کی پارکنگ مشکل سے ہاتھ آتی ہے۔ میں نے اسی سڑک پر گاڑی پارک کی۔ بہو اپنے ایک ماہ کے بچے کو لئے گاڑی ہی میں بیٹھی رہی۔ میں اور میری بیوی نکلے کہ جلدی سے ایک دو ضروری چیزیں خرید لیں۔ میں دکان کی طرف بڑھ رہا تھا کہ میں نے وہ قطار دیکھی۔ تقریباً پندرہ کے قریب افراد کھڑے تھے۔ میں نے آج تک اتنے خاموش اور اتنے معصوم افراد کی قطار نہیں دیکھی۔ تقریباً وہ سب کے سب سفید پوش تھے۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ لوگ دوسروں سے مختلف کیوں لگ رہے ہیں۔ ”یہاں کوئی بنک تو نہیں“ یہ فقرہ میں نے اپنے آپ سے کہا لیکن آواز اس قدر اونچی تھی کہ بیوی نے سن لی اور بتایا کہ یہاں لنگر ہے۔ وہ کھانا لینے کے لئے کھڑے ہیں۔ میں نے قطار کے سب سے اگلے شخص کو دیکھا۔ اس کے قریب ایک شخص زمین پر بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے ایک بہت بڑا دیگچہ تھا۔ بس اتنی ہی جھلک میں نے دیکھی‘ پھر ہم نے سودا سلف خریدا اور بھاگم بھاگ واپس گاڑی میں جا بیٹھے۔ رش بہت تھا۔ اس بات کا امکان تھا کہ ہماری گاڑی کے پیچھے کوئی دوسری
گاڑی یا موٹرسائیکل پارک ہو جائے۔

وہ سارا منظر وہیں رہ گیا لیکن وہ قطار، وہ دیگچہ اور دیگچے کے پاس زمین پر بیٹھا ہوا وہ شخص‘ مسلسل میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ وہ بھکاری نہیں تھے۔ پیشہ ور گداگر نہیں۔ وہ یقینا محنت مزدوری کرنے والے ہوں گے۔ کہیں کوئی گارڈ ہوگا۔ چار پانچ ہزار مہینے کی تنخواہ لینے والا۔ ہو سکتا ہے کچھ بچے بھی ہوں جو کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں سے کاغذ چنتے ہیں اور پھر انہیں بیچتے ہیں۔ ان میں کچھ ایسے مزدور بھی ہوں گے جنہیں کئی دن سے مزدوری نہ ملی ہوگی۔ یک دم میرے ذہن میں ایک چنگاری اٹھی اور اس نے آگ لگا دی۔ مجھے اللہ کے کتاب کی وہ آیتیں یاد آئیں جن میں مسکین کو کھانا کھلانے کی تلقین ہے۔ اس کے بعد آنکھوں کے سامنے سے حجابات اٹھتے گئے اور ذہن کی پرتیں ایک ایک کرکے ہٹتی گئیں۔ اللہ نے اپنی کتاب میں زکوٰة کا الگ ذکر کیا۔ صدقات کی الگ تلقین کی۔ انفاق فی سبیل اللہ یعنی اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی ترغیب دینے والی آیتیں الگ اتاریں۔ ان سب کے علاوہ ”طعام المسکین“ کا ذکر کیا اور مسکین کو پکا پکایا کھانا کھلانے کا حکم دیا۔ مجھے یہ سوچ کر تعجب ہوا کہ میں نے آج تک جمعہ کے کسی خطبے میں، کسی تبلیغی جلسے میں‘ کسی عالم دین سے، کسی واعظ سے یہ نہیں سنا کہ زکوٰة، صدقات اور خیرات کے احکام الگ ہیں اور طعام المسکین کی آیات ان کے علاوہ ہیں۔ مسکین کو کھانا نہ کھلانا.... یا کھلانے کی ترغیب نہ دینا‘ اتنا بڑا جرم ہے کہ آخرت کو جھٹلانے کے ساتھ بیان کیا گیا۔ ”کیا تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے۔ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا۔“ گویا کھانا مسکین کا اپنا ہے اور دینے والا مسکین کو مسکین کا اپنا کھانا کھلا رہا ہے۔

کیا یہ ایک معمولی حکم ہے؟ کیا یہ ایک عام سی بات ہے؟ نہیں! ہرگز نہیں! ذرا تیور دیکھئے

 ”پکڑو اسے اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو۔ پھر اسے جہنم میں جھونک دو پھر اسے ستر ّ ہاتھ لمبی زنجیر میں پرو دو۔ یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔“

ہمیں اندازہ ہی نہیں کہ ہم کس قدر کھانا ضائع کر دیتے ہیں۔ ہمارے دسترخوانوں پر کئی قسم کے سالن ہوتے ہیں۔ ہمارے ریفریجریٹروں میں بچے ہوئے سالن، الگ الگ برتنوں میں، کئی کئی دن پڑے رہتے ہیں۔ تنگ آ کر خاتون خانہ انہیں پھینک دیتی ہے۔ ہم ہوٹلوں ریستورانوں میں جاتے ہیں اور ہزاروں روپے خرچ کرکے وہ سب کچھ کھاتے ہیں جس کی ہمیں ضرورت نہیں۔ واپس آتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ ہم جو کھانا بچا آئے ہیں اور جسے ریستوران والے پھینک دیں گے۔ اس سے کم از کم دو تین بھوکے افراد کا پیٹ بھر سکتا۔ ایسے بھوکے افراد ہمیں گھر جانے تک راستے میں ضرور ملیں گے!

کیا یہ ناممکن ہے کہ ہم میں سے ہر شخص، اپنے محلے کے ایک بھلے مانس کو ایک مقررہ رقم ادا کرے۔ بے شک وہ رقم تھوڑی ہی کیوں نہ ہو.... اور وہ بھلے مانس، ہر روز نہ سہی، ہفتے میں ایک یا دو بار کھانا تیار کرا کے ان محنت کشوں کو کھلا دے‘ جن کی آمدنی میں ان کا گزارا نہیں ہو رہا۔ کیا یہ ناممکن ہے؟

سبزی منڈی میں ٹوکرا اٹھانے والا

پھل بیچنے والا جس کی ریڑھی پر تین چار سو روپے سے زیادہ کا مال ہی نہیں!

دور دراز کے گاﺅں سے آ کر اپنے مریض کا علاج کرانے والا جو رات کو ہسپتال میں برآمدے کے فرش پر سوتا ہے۔

گھروں میں جھاڑو دینے اور برتن مانجھنے والی وہ بڑھیا جسے اس کا بیٹا اور بہو کچھ نہیں دیتے۔

زیر تعمیر محل کا چوکیدار جسے تیس دن بعد سات ہزار روپے ملتے ہیں۔ اس میں سے پانچ ہزار وہ پس ماندگان کو بھیج دیتا ہے۔

بخیل اور بدبخت سرکاری افسر کا وہ ڈرائیور۔ جسے صبح سے شام تک روٹی کا نوالہ ملتا ہے نہ چائے کا گھونٹ۔

ہوٹل کی پارکنگ میں کھڑا ہوا وہ مشقتی جو ہر ایک منٹ بعد آنے والی کار کے لئے رسی کھینچ کر رکاوٹ ہٹاتا ہے اور پھر دوبارہ رسی کھینچ کر رکاوٹ کو اپنی جگہ واپس لاتا ہے۔

اور جم خانہ کے باہر گھاس پر بیٹھی ہوئی وہ خادمہ جسے انگریز کی کالی اولاد جم خانہ کے اندر جانے کی اجازت نہیں دیتی۔ یہ سب اور ایسے کتنے ہی لوگ ہیں جو طعام المسکین کے حقدار ہیں!

طعام المسکین! اللہ کے بندو! طعام المسکین! لوگوں کو کھانا کھلاﺅ! ان سفید پوش مسکینوں کو کھانا کھلاﺅ جو بھیک بھی نہیں مانگ سکتے۔ کہیں اس غلط فہمی میں نہ رہنا کہ زکوٰة اور صدقات دے کر تم سبکدوش ہو چکے!!

facebook.com/izharulhaq.net

4 comments:

Aamna said...

Jazak Allah khair for yuor writing. It was hard for me to read without while controlling tears.
May Allah give us all hidayat to start the fix from ourselves first. Aameen!

Muhammad Shakir Aziz said...

سیلانی ٹرسٹ کراچی، اور ایدھی لنگر ایسے لوگوں کے کھانے کے لیے ہی قائم کیے گئے ہیں۔ اگر خود انتظام نہیں کر سکتے تو ایسے اداروں کو کچھ نہ کچھ دیتے رہنا چاہیئے۔

افتخار اجمل بھوپال said...

صاحب ۔ میں افسانے نہیں پڑھتا اسلئے میری سمجھ میں نہیں آیا کہ افسانوی رنگ میں ایک حقیقت جو ہمارے ملک کا معمول بن چکا ہے کو پیش کر کے آپ نے کیا حاصل کیا ۔ اسلام آباد میں عوامم کا مال اُڑانے والے رہتے ہیں اور اللہ سے ڈرنے والے بھی ۔ ایدھی تڑسٹ تو مشہور ادارہ ہے ۔ بہت سے لوگ بغیر نام کے کام کرتے ہیں

Anonymous said...

Jab log ALLAH ka hukm nahi mantay to aap ka kehna kia sunain gy.

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com