اشاعتیں

کالم

خاتون حاوی ہے تو تعجب کیسا؟

لگتا ہے کہ ملکہ کو تاریخ سے واقفیت بھی ہے اور تاریخ کا شعور بھی! اسے معلوم ہی ہوگا کہ التمش کی بیٹی رضیہ سلطانہ کس بہادری سے دہلی کے تخت پر بیٹھ کر حکومت کرتی رہی۔ اسے معلوم ہی ہوگا کہ احمد نگر کی چاند بی بی نے اکبر کے عہد میں مغلوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اسے معلوم ہی ہوگا کہ واجد علی شاہ کی بیگم حضرت محل نے کس طرح 1857ء کی جنگ آزادی میں سرگرم حصہ لیا۔ انگریز دشمن نے بھی ان کی بہادری کی تعریف کی۔ ہتھیار ڈالنے کے بجائے نیپال جانے‘ ایک مشقت بھری زندگی اور پھر گمنامی کی موت کو ترجیح دی۔ اسے معلوم ہی ہوگا کہ رانی جھانسی (لکشمی بائی) نے کس طرح فرنگی دشمن کا مقابلہ کیا۔ غنیم سے جھانسی واپس لی۔ جب کوئی چارہ نہ رہا تو ایک فقیر سے کہہ کر اپنے آپ کو نذرِ آتش کروا دیا۔ راکھ بن گئی مگر اپنا پاک جسم مر کر بھی دشمن کے حوالے نہ کیا۔ اسے معلوم ہی ہوگا کہ سلطنت کا تمام کاروبار ملکہ نور جہاں کے ہاتھ میں تھا یہاں تک کہ شاہی مُہر بھی! جہانگیر نے کہا تھا کہ اُسے تو بس آدھا کلو گوشت اور کچھ شراب چاہیے! اسے معلوم ہی ہوگا کہ چار عقلمند خواتین نے بھوپال پر حکومت کی اور اس توازن کے ساتھ حکومت کی کہ ایسٹ انڈیا...

اٹھاون سال والا چُھرا

لنکا سے جو بھی نکلا‘ سو باون گز کا! اعلان کیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمت کی ریٹائرمنٹ عمر ساٹھ سال سے گھٹا کر اٹھاون سال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ غیر مقبول ہونے کے لیے بھی حکومتیں کیا کیا کوششیں کرتی ہیں! پڑھنے والوں کی توجہ پہلے بھی اس کتاب کی طرف مبذول کرنے کی کوشش کی ہے جس کا نام  The March of Folly  ہے۔ مصنفہ کا نام  Barbara Tuchman  ہے۔ حکومتوں کی حماقتیں سمجھنے کے لیے یہ کتاب اکسیر ہے‘ خاص طور پر ہمارے جیسے ملکوں کی حماقتیں! افسوس! کتابیں پڑھنے کا رجحان کم ہو رہا ہے۔ بہت سی ڈھنگ کی کتابیں جن کا پڑھنا لازم ہے‘ یہاں دستیاب ہی نہیں! آپ کا کوئی عزیز یا دوست امریکہ یا برطانیہ سے آ رہا ہے تو شرٹ یا ٹائی یا چاکلیٹ منگوانے کے بجائے کتابیں منگوائیے اور یہ کتاب تو ضرور منگوائیے۔ اس کتاب میں مصنفہ نے تاریخ سے ثابت کیا ہے کہ حکومتوں کے اقدامات احمقانہ ہوتے ہیں جبکہ فرد اپنے فیصلے سوچ سمجھ کر‘ دانائی سے کرتا ہے۔ دانائی سے فیصلے کرنے کی تعریف یہ ہے کہ فیصلہ تین بنیادوں پر کیا جائے۔ اوّل‘ ماضی کے تجربات اور نتائج۔ دوم‘ ماضی کے تجربوں اور مشاہدوں کی بنیاد پر کیے گئے مستقبل کے...

حسد‘ رشک اور بنکاک

رشک اور حسد میں فرق ہے مگر بہت نازک فرق! یوں سمجھیے رشک حسد کی مثبت شکل ہے‘ اور حسد رشک کی منفی‘ بے حد منفی صورت! حسد میں انسان آگ میں جلتا ہے! اپنی آگ میں! رشک میں کسی کی ترقی دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے! پروردگار کا شکر ہے جس نے حسد سے بچائے رکھا۔ اس لیے کہ یہ سبق اچھی طرح پڑھا دیا گیا تھا کہ جو دیتا ہے‘ خدا دیتا ہے اور اس نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے! جہاں تک رشک کا تعلق ہے‘ ذاتی حوالے سے ایک زمانے میں اُن افراد پر رشک آتا تھا جو بظاہر زیادہ کامیاب نظر آتے تھے مگر ایک دو بار ایسے سبق ملے کہ اب کسی پر رشک نہیں آتا۔ سکول میں اکمل ہم جماعت تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں سرکاری ملازمت میں آیا تو وہ نجی شعبے میں گیا۔ ادھر میں سرکاری ملازمت میں سینئر ہوتا گیا اُدھر وہ اپنے ادارے میں ترقی کی منزلیں طے کرتا رہا۔ ریٹائرمنٹ سے بہت پہلے اس نے لاہور میں اس وقت بہت اچھا گھر بنا لیا جب میں گھر بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور بظاہر اس کا امکان بھی نہیں تھا۔ پھر اس کی کمپنی نے اسے باہر بھیج دیا۔ کئی سال سنگاپور رہا۔ پھر یورپ! اس پر رشک آیا کہ ہم سرکاری ملازمت کے دوران خواہش کے باوصف ایک بھی پ...

قوم اور قومی پرچم

جشن تھا اور ایسا جشن کہ مغل عہد کو مات کر رہا تھا۔ جشن کیوں منایا جا رہا تھا؟ اس ضمن میں کسی کو کچھ معلوم نہ تھا۔ اندازے ہی لگائے جا رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کسی بادشاہ یا نواب کے بیٹے یا بیٹی کی شادی تھی یا کوئی جشنِ تاجپوشی تھا یا سلطنت کے ولی عہد کی پیدائش تھی یا کسی شہزادے کی سالگرہ تھی۔ یا وقت کے فرمانروا نے دشمن کو جنگ میں شکست دی تھی اور مفتوحہ علاقہ مملکت میں شامل ہوا تھا۔ یا تیل کے اتنے بڑے ذخائر ملے تھے کہ ایران‘ عرب اور عراق رشک کر رہے تھے۔ یا سونے کی کانیں دریافت ہوئی تھیں۔ جو بھی تھی‘ اتنے عظیم الشان جشن کے انعقاد کی یقینا کوئی بہت بڑی وجہ تھی۔ پورے ملک سے سیاستدان‘ عمائدین‘ عسکری شخصیات‘ منتخب ایوانوں کے معزز ارکان‘ سردار‘ جاگیردار‘ صنعتکار‘ غیر ملکی سفیر اور دوسری مملکتوں کے نمائندے تقریب میں مدعو تھے۔ خوشی کے اس موقع پر قیدی رہا کر دیے گئے تھے۔ سزائے موت کے مجرم چھوڑ دیے گئے تھے۔ تین دنوں پر مشتمل اس جشن کی کوریج کیلئے عالمی میڈیا کے نمائندے بھی بلائے گئے تھے۔ پہلے دن ملک کے حکمران نے تمام مہمانوں کیلئے ایک ایسی ضیافت کا اہتمام کیا تھا جس کی نظیر ماضی میں تھی نہ حال...

میلبورن‘ جگر گوشے اور اردو سوسائٹی

14 سالہ حمزہ کو اس کی ماں جگاتی رہی مگر نہ جاگا۔ دیر سے اُٹھا۔ ناشتہ کرنے ہی لگا تھا کہ سکول لے جانے والی گاڑی آگئی۔ وہ ناشتہ کیے بغیر چلا گیا اور یہ بات میرے لیے سوہانِ روح بن گئی! بیگم کو بتایا کہ سخت پریشان ہوں‘ حمزہ ناشتہ کیے بغیر سکول چلا گیا‘ اسے بھوک لگے گی۔ انہوں نے تسلی دی کہ لنچ تو لے کر گیا ہے۔ مگر میری پریشانی اسی طرح رہی۔ لنچ سے پہلے تو بھوک لگے گی۔ اس کے سکول کا نام معلوم تھا نہ لوکیشن۔ معلوم ہوتا تو ٹیکسی پر جا کر ناشتہ دے آتا۔ اس کے ابا یا اماں سے سکول کا ایڈریس پوچھتا تو انہوں نے ایڈریس دینے کے بجائے کہنا تھاکہ اسے سمجھائیے وقت پر جاگا کرے۔ دو بار اسے ٹیلی فون کال کی مگر اس نے نہیں اٹھائی۔ میں پورا دن لکھنے پڑھنے کا کام کر سکا نہ آرام! واک پر نکلا مگر دل نہ لگا اور ایک دو فرلانگ کے بعد واپس آگیا۔ خدا خدا کرکے چھٹی کا وقت ہوا اور وہ واپس آیا۔ پہلے تو اسے سینے سے لگایا پھر پوچھا کہ دن بھر بھوکے رہے؟ ہنس کر کہنے لگا: نہیں کیونکہ جاتے ہوئے بسکٹ ساتھ لے گیا تھا۔ پوچھا: فون کیوں نہیں اٹھایا؟ کہنے لگا: ابو! میں اُس وقت کلاس میں تھا۔ ایک دن اسے کہا کہ چلو بازار چلتے ہیں‘ ...

ایک کالم کا ردعمل

کالم نگاری کے بتیس برسوں میں شاید ہی کسی قاری کامکتوب کالم میں نقل کیا ہو۔مگر اب کے‘ ایک ایسا رد عمل موصول ہوا ہے جسے قارئین کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہے تا کہ سِکّے کا دوسرا رُخ بھی دیکھا جا سکے۔یہ ایک پروفیسر صاحب کا ای میل نما خط ہے۔ان سے خط کے مندرجات نقل کرنے کی اجازت چاہی تو انہوں نے اجازت دی مگر اس شرط پر کہ ان کا نام اور ان کے تعلیمی ادارے کا نام نہ لکھا جائے۔ اختصار کی خاطر ان کی طویل ای میل کو ایڈٹ کرنا پڑا ہے۔ کالم نگار کا ان خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ '' آپ کا انیس نومبر2024ء کا کالم ( سولہ لاکھ پاکستانیوں کی ہجرت ) مایوسی پھیلانے کے علاوہ کسی کام کا نہیں۔ آپ نے تصویر کا ایک رخ دکھا یا ہے۔ آپ نے ملک کی ایسی تصویر کھینچی ہے جو ایک طرف تو حقیقت پسندانہ نہیں اور دوسری طرف بے شمار پاکستانیوں کو اپنے ملک سے بد دل کر سکتی ہے۔ یہ جو ہر طرف مہنگائی کا ہا ہا کار مچا ہوا ہے‘ یہ صرف شور ہے۔ اس کا زمینی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر قیمتیں چڑھی ہیں تو دوسری طرف آمدنیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ باورچی اور ڈرائیورجن کی دو تین سال پہلے ماہانہ اجرت پندرہ اور بیس ہزار کے درمیان تھی ا...

ایک سو بتیس برسوں پر پھیلی ہوئی کہانی …(2)

فتح دین کا بیٹا عبد المجید واپس پرتھ پہنچ گیا۔اب وہ بیس سال کا تھا۔ آتے ہی اس کے اپنے والد سے اختلافات پیدا ہو گئے۔قصور باپ کا تھا‘ نہ بیٹے کا! فتح دین اس اثنا میں ایک سفید فام عورت سے شادی کر چکا تھا۔ اُس وقت کے قوانین کی رُو سے دوسری شادی کی آسٹریلیا میں اجازت تھی بشرطیکہ پہلی بیوی اجازت دے دے۔فاطمہ بی بی کو تا دمِ مرگ میاں کے عقدِ ثانی کا علم ہی نہ تھا۔عبد المجید جو پہلے ہی ماں کی جدائی سے غمزدہ تھا‘ سوتیلی ماں کے ساتھ نہ نبھا سکا۔ روز روز کے جھگڑوں سے تنگ آکر اس نے مغربی آسٹریلیا کو خیر باد کہا اور جنوب کا رُخ کیا۔ ایڈیلیڈ سے ہوتا ہوا میلبورن پہنچا۔ یہ صوبہ وکٹوریہ کہلاتا ہے۔ اسی میں ایک خوبصورت علاقہ وادیٔ لاٹروب ہے۔ عبد المجید نے اس وادی کو مسکن بنایا اور بہت سے دوسرے پردیسیوں کی طرح پھیری کا کام شروع کر دیا۔ گھوڑا گاڑی اور ایک وفادار کتا اس کی کل متاع تھی۔ اس کام میں سرمائے کی ضرورت نہ تھی۔ آج کی طرح اُس زمانے کا آسٹریلیا بھی منتشر آبادیوں پر مشتمل تھا۔ سپر سٹوروں کا رواج نہ تھا۔ بڑی بڑی کمپنیاں تھوک فروشوں کو مال ادھار پر دیتیں۔ یہ تھوک فروش چینی ‘ لبنانی اور ہندوستانی ہ...

جوائنٹ فیملی سسٹم اچھا نہ بُرا !

ایک ضروری کام کے لیے اپنے دوست حامد کو فون کیا۔ صبح آٹھ بجے کا وقت تھا۔ میرا خیال تھا سو رہا ہو گا اور میری بات سننے سے پہلے میری شان میں نازیبا کلمات کہے گا کہ جگا کیوں دیا۔ مگر فون کا جواب بھابی نے دیا۔ کہنے لگیں: حامد پوتے اور پوتی کو سکول چھوڑنے گئے ہیں اور فون ساتھ نہیں لے کر گئے۔ دوپہر تک میں اپنے مسائل میں الجھا رہا۔ ظہر کے بعد پھر حامد کو فون کیا۔ پوچھا: کہاں ہو؟ کہنے لگا: یار پوتے پوتی کو سکول سے لینے جا رہا ہوں۔ میں ہنسا اور کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد یہ نئی ڈیوٹی سنبھال لی ہے کیا؟ کہنے لگا: یار! بیٹا اور بہو دونوں صبح ساڑھے سات بجے اپنے اپنے کام پر چلے جاتے ہیں۔ بجائے اس کے کہ بچوں کے لیے وین لگوائیں‘ میں خود ہی انہیں چھوڑنے اور لینے جاتا ہوں۔ وقت اچھا گزر جاتا ہے ان کے پاس۔ بیگم کو اور مجھے کھلونے مل گئے ہیں۔ ورنہ یہ لوگ ملک سے باہر تھے تو ہم سارا دن گھر میں بور ہوتے رہتے تھے۔ شام کو ایک قریبی عزیز ملنے آ گئے۔ بہت پریشان تھے اور مشورہ چاہتے تھے۔ ان کی بیگم اور بہو کی آپس میں بن نہیں رہی تھی۔ روز روز کی چخ چخ سے تنگ آ گئے تھے۔ بہو زبان سے نہیں کہتی تھی مگر چاہتی تھی کہ الگ ...

ہم کب سدھریں گے؟

خدا کی پناہ!! جو خبر بھی آتی ہے‘ شرمناک ہی آتی ہے۔ متحدہ عرب امارات نے جو وجوہ پاکستانیوں کے ویزے بند کرنے کی بتائی ہیں‘ ایسی ہیں کہ ہم پاکستانیوں میں ذرہ برابر بھی عزتِ نفس ہو تو ڈوب مریں۔ تازہ ترین خبر کی رُو سے یہ وجوہ سرکاری سطح پر پاکستانی سفیر کو بھیج دی گئی ہیں۔ اولین وجہ جو بھی سنے گا اسے ہماری بے وقوفی پر ترس بھی آئے گا اور ہنسی بھی! وہ یہ کہ ہمارے ہم وطن‘ جو متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں‘ وہ متحدہ عرب امارات ہی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں! اس تنقید کا سب سے بڑا ذریعہ سوشل میڈیا ہے۔ دنیا میں جو ''استعمال‘‘ سوشل میڈیا کا ہم پاکستانیوں نے کیا ہے‘ شاید ہی کسی اور قوم نے کیا ہو گا۔ پاکستانی ایک بات بڑے مزے سے کہتے ہیں کہ جاپانیوں نے جو سوزوکی پک اَپ بنا کر بھیجی ہے‘ آکر اس کا استعمال دیکھیں تو بے ہوش ہو جائیں۔ 20‘ 30سواریاں اندر اور آٹھ‘ دس باہر لٹکی ہوئیں! سوشل میڈیا کا استعمال ہمارے ہاں اس سے بھی زیادہ بھرپور ہوا ہے۔ سب سے بڑی وجہ اس کی ہمارا ویلا ہونا ہے۔ ویلا پنجابی میں اُسے کہتے ہیں جس کے پاس وقت ہی وقت ہو۔ اس میں تھوڑی سی تضحیک بھی شامل ہے۔ ہم شاید دنیا میں سب...

ایک سال میں سولہ لاکھ پاکستانیوں کی ہجرت

کیا ریاست کو معلوم ہے؟ کیا حکومت کے علم میں ہے؟ گزشتہ سال‘ 2023ء کے دوران‘ سب سے زیادہ تعداد میں جس ملک سے لوگوں نے ہجرت کی‘ وہ پاکستان ہے۔ پاکستان سے باہر بھاگنے والوں کی تعداد سولہ لاکھ سے زیادہ تھی۔ دوسرے نمبر پر سوڈان تھا جہاں سے ساڑھے تیرہ لاکھ سوڈانیوں نے ہجرت کی۔ بھارت تیسرے نمبر پر تھا۔ پونے دس لاکھ بھارتی ہجرت کر کے ملک سے باہر چلے گئے۔ ان اعداد وشمار کا علم ہونے سے پہلے میرا خیال تھا کہ جتنے لوگ پاکستان سے گئے ہیں یا جا رہے ہیں‘ اتنے ہی بھارت سے بھی جا رہے ہیں۔ اور اس کی وجہ آبادی کا دباؤ ہے۔ اس تاثر کی وجہ یہ تھی کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران بھارت سے آسٹریلیا آنے والوں کی تعداد بہت زیادہ رہی ہے۔ اس سے میں نے یہ نتیجہ نکالا کہ صرف پاکستان سے نہیں‘ دوسرے ملکوں سے‘ خاص طور پر بھارت سے بھی لوگ نکل رہے ہیں۔ اپنے اس تاثر کی بنیاد پر ایک کالم بھی لکھا۔ مگر جب عالمی اعداد وشمار دیکھے تو معلوم ہوا کہ اصل معاملہ اور ہے۔ یہ آبادی کا دباؤ نہیں‘ ملکی حالات سے مایوسی ہے جو لوگوں کو بھاگنے پر مجبور کر رہی ہے۔ سوال وہی ہے جو اوپر پہلی سطر میں کیا ہے۔ کیا اس ملک کے حکمرانوں کو اس صورتحال...