اشاعتیں

کالم

خادم اعلیٰ۔ سیل زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی!!

دس سال!  پورے دس سال!  ایک دہائی! ایک عشرہ!  جو بچہ 2008ء میں اس دنیا میں آیا آج 2018ء میں دس سال کا ہو چکا ہے۔  یہ دس سال شہبازشریف ملک کے سب سے بڑے صوبے کے حکمران اعلیٰ رہے۔  پاکستانی پنجاب کا رقبہ سوئٹزرلینڈ سے زیادہ ہے اور بلجیم سے بھی۔ یوں شہبازشریف ایک ایسے صوبے کے حکمران اعلیٰ تھے جو آبادی اور رقبے کے اعتبار سے دنیا کے کئی ملکوں سے بڑا ہے۔  تو کیا وہ وزیراعلیٰ تھے؟ نہیں، اگر کوئی کہتا ہے یا سمجھتا ہے کہ وہ وزیراعلیٰ تھے تو اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے۔ وزیراعلیٰ ایک جمہوری اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب ہے پارلیمنٹ کی ہدایات اور کابینہ کے مشوروں کے مطابق حکومت چلانا۔ شہبازشریف کے نزدیک صوبائی اسمبلی میں آنا وقت کا ضیاع تھا۔ ان کے ماتحتوں نے کئی بار اسمبلی میں اعلان کیا کہ وہ مصروف ہیں اور اسمبلی میں نہیں آ سکتے۔ رہی کابینہ، تو رانا ثناء اللہ کے علاوہ کسی صوبائی وزیر کا نام کبھی سننے میں نہیں آیا، ہاں کبھی کبھی رانا مشہود صاحب کا نام میڈیا میں سنائی یا دکھائی دیتا تھا اور بس۔  تو پھر شہبازشریف کا طرز حکومت کیا تھا؟ ان کے طرز حکومت کو زیادہ س...

واہ رے پاکستان تیری بھی کیا قسمت ہے

‎سب سے پہلے تو قوم کو اس زبردست تبدیلی کی مبارک باد!  ‎افسر شاہی کے ایک مشہور  ‎ معروف کردار کو سول سروس اکیڈمی کا سربراہ بنا دیا گیا ہے! نگران حکومت کا یہ کارنامہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔  ‎جیسا کہ ہم میں سے ہر پڑھے لکھے پاکستانی کو معلوم ہے کہ سول سروس اکیڈمی میں مستقبل کے بیورو کریٹ تیار کیے جاتے ہیں۔ سی ایس ایس یعنی مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہونے والے نوجوانوں کو مختلف سروس گروپ الاٹ کیے جاتے ہیں۔ کچھ کو ضلعی انتظامیہ‘ کچھ کو فارن سروس‘ کچھ کو کسٹم اور انکم ٹیکس ‘کچھ کو پولیس ‘کچھ کو آڈٹ اینڈ اکائونٹس ‘کچھ کو اطلاعات اور کچھ کو دوسرے محکمے جیسے ریلوے اور کنٹونمنٹ بورڈ مختص کیے جاتے ہیں۔ ا اپنے مختص کردہ محکموں میں عملی کام کے لیے تعیناتی سے قبل مستقبل کے ان معماروں کو ایک سال سول سروس اکیڈمی میں تربیت دی جاتی ہے۔ اس تربیتی عرصہ کے دوران یوں تو بہت سے مضامین جیسے اقتصادیات‘ پبلک ایڈمنسٹریشن‘ تاریخ پاکستان‘ بجٹ سازی‘ ملکی قوانین وغیرہ کی تعلیم دی جاتی ہے مگر اصل کام ذہن سازی ہوتا ہے۔ یعنی مستقبل کی سول سروس میں خدمات سرانجام دینے کے لیے ایک وط...

مجموعۂ وظائف کی تقسیم

نواز شریف نے احتساب عدالت میں جو کچھ کیا وہ ہمارے قومی مائنڈ سیٹ کی بھرپور نمائندگی کرتا ہے۔ ہمیں یہی بتایا گیا ہے کہ حج کرو گے تو ایسے ہو جائو گے جیسے بچہ ماں کے پیٹ سے نکلا ہوا معصوم ہوتا ہے۔ لیلۃ القدر ہاتھ آئی تو وارے نیارے ہو جائیں گے! اتنی بار یہ پڑھ لو تو جنت پکی ہے۔ یہی وہ مائنڈ سیٹ ہے جس کے تحت ٹخنے ننگے رکھنے والے حاجی صاحبان کھانے پینے کی اشیا میں دل کھول کر ملاوٹ کرتے ہیں۔ پھر سال بہ سال عمرہ کرتے ہیں۔ پاک صاف ہو کر واپس آتے ہیں اور نئی ملاوٹ نئی فریب دہی، نئی بے ایمانی پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ غالباً معروف اینکر اقرار حسین کا پروگرام تھا۔ اس نے گاڑیوں میں ڈالے جانے والے جعلی آئل تیار کرنے اور بیچنے والوں کو جا لیا۔ ماشاء اللہ، دیکھنے میں اکثر مجرم متشرع اور پارسا تھے۔ قارئین سے ایک بار پہلے بھی یہ واقعہ شیئر کیا ہے کہ ایک نوجوان ٹیکس افسر نے کسی کمپنی کے رجسٹروں پر چھاپا مارا۔ ڈائریکٹروں میں سے ایک اُس کے سامنے پیش ہوا۔ بیٹھا، مسلسل وظیفہ کر رہا تھا۔ اذان سنائی دی تو جیسے اُسے کرنٹ لگا، اٹھا اور مسجد کی طرف بھاگا نہیں تو تیز تیز قدموں سے ضرور چلا۔ واپس آیا تو ا...

خدا کے لیے تارکینِ وطن! خدا کے لیے

… واشنگٹن کے مکان میں بیٹھ کر‘ ایک سرد‘ ٹھٹھرتی شام‘ راشد اور راشد کی بیگم نے فیصلہ کر دیا۔  ستر کا عشرہ تھا۔ راشد نے بینک کی ملازمت چھوڑی۔ امریکہ پہنچ گیا۔ ڈش واشنگ سے ہوتے ہوتے اخبارات و رسائل کا سٹال لگایا پھر شہریت مل گئی۔ پھر سرکاری نوکری! امریکی سرکار کی ملازمت! وارے نیارے ہو گئے۔ کئی سال اس کی فیملی پاکستان میں انتظار کرتی رہی۔ کبھی کبھی میں اس کے گھر والوں سے پوچھ لیتا کہ رقم کی ضرورت تو نہیں؟ ہمیشہ ایک یہ جواب ملتا کہ رقم تو امریکہ سے مسلسل آ رہی ہے رقم کا تو ایشو ہی نہیں! ایشو تو راشد کے پاس پہنچنا ہے۔  پھر فیملی بھی پہنچ گئی۔ تینوں بچے دس بارہ سال سے کم عمر کے تھے۔ امریکہ ہی میں جوان ہوئے۔ وہیں پڑھا جو کچھ بھی پڑھا۔ اب بیٹی جوان تھی! واشنگٹن کے مکان میں بیٹھ کر اُس سرد ٹھٹھرتی شام راشد اور راشد کی بیگم نے فیصلہ کیا کہ بیگم کی بہن جو پاکستان میں ہے‘ اس کے بیٹے کے ساتھ شادی کریں گے۔ بیٹا پاکستان میں سرکاری افسر تھا! وہ لڑکی جو بیس سال سے امریکہ میں رہ رہی تھی۔ جسے پاکستان میں گزارے ہوئے بچپن کے چند سال مشکل سے یاد تھے۔ دلہن بنا کر پاکستان پہنچا دی گئی۔ ہنی مون ...

خوبصورت بہت ہو تم لیکن

تعجب نہیں کہ وسطی پنجاب سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی دانشور جب بھی پنجاب کا ذکر کرے گا تو اس کی مراد پنجاب سے وسطی پنجاب ہی ہو گا۔ اس میں شاید ہی کوئی استثنا ہو۔ حتیٰ کہ جناب سجاد میر جیسا منجھا ہوا جینوئن دانشور بھی پنجاب سے مراد وسطی پنجاب ہی لیتا ہے۔ اس بدقسمتی کا ایک مثبت پہلو بھی ہے۔ وہ ہے حقیقت پسندی کا۔ اس لیے کہ وسطی پنجاب والے کے لیے پنجاب کیا ہے‘ وسطی پنجاب ہی تو ہے! سجاد میر صاحب نے عمر عزیز کا ایک حصہ کراچی گزارا ہے۔ اس لیے وہ کراچی کا ذکر کرتے ہیں۔ وہاں کی سیاسی حرکیات سے اپنے پڑھنے والوں کو ایجوکیٹ کرتے ہیں وگرنہ لاہور کے دانشوروں کی بھاری اکثریت کا حال بقول شاعر اس سے زیادہ نہیں کہ ؎ مری داستانِ غم کی کوئی قید و حد نہیں ہے ترے سنگِ آستاں سے ترے سنگ آستاں تک معاف فرمائیے گا، یہ کہنا کہ نسل درنسل منتخب ہونا، اسے عصبیت کہیں یا غلامانہ ذہنیت‘ وسطی پنجاب میں کم ہے درست نہیں ہے۔ ایک تو وسطی پنجاب میں یہی عصبیت کیا کم ہے کہ جنوبی پنجاب‘ مغربی پنجاب اور شمالی پنجاب کو پنجاب صرف اس وقت سمجھا جاتا ہے جب پنجاب کو سب سے بڑا صوبہ ثابت کرنا ہو۔ یعنی جب گائے کو چارہ ڈا...

SPY CHRONICLES کا وہ باب جو حافظ سعید کے بارے میں ہے

جنرل اسد درانی سابق چیف آئی ایس آئی اور اے ایس دُلت سابق سربراہ ’’را‘‘ نے جو مشترکہ کتاب تصنیف کی ہے وہ انٹرنیٹ پر موجود ہے اس وقت یقینا لاکھوں نہیں تو ہزاروں افراد پاکستان کے اندر اور باہر اسے پڑھ رہے ہوں گے۔  کتاب کا عنوان ہے  SPY Chronicles- Raw-isi-and the Illusions of Peace.  یہ کتاب اس مکالمے پر مشتمل ہے جو 2016ء میں دونوں سابق سربراہوں کے درمیان ہوا۔ معروف صحافی ادیتا سنہا نے ‘ جو دہلی میں رہتے ہیں اس مکالمے میں رہنمائی اور مدد کی۔ یہ مکالمے استانبول بنکاک اور کھٹمنڈو میں ہوئے۔ موضوعات میں کشمیر‘ حافظ سعید‘ کلبھوشن جادیو‘ اسامہ بن لادن وغیرہ شامل ہیں۔  کتاب سات حصوں اور 33ابواب پر مشتمل ہے۔ آخری باب کا عنوان ’’دیوانگی ختم‘‘ ہے! کتاب کا اکیسواں باب حافظ سعید کے متعلق ہے اس کا عنوان’’حافظ سعید اور 26/11‘‘ ہے یہاں اس باب کا انگریزی سے ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اسد درانی۔میں نہیں سمجھتا کہ کارگل اور بمبئی حملے کے درمیان کوئی شے مشترک تھی۔ اگر یہ فرض کیا جائے کہ دونوں واقعات سویلین حکومت کے دوران پیش آئے تب بھی! لوگ مختلف تھے۔ اے ایس دُلت۔ سر...

عزتِ نفس! عزتِ نفس!!

میری لینڈ امریکہ میں چھ ایکڑ زمین،  مختلف کمپنیوں میں شیئرز۔  بھائی کو دو لاکھ ڈالر(دو کروڑ سے زائد) بیرون ملک بھجوائے۔  نیو گارڈن ٹائون میں گھر۔  سرگودھا کے گائوں میں 272کنال زمین۔  کوٹ مومن میں 20کنال زمین۔  دو سو تولے سونا،  ایل ڈی اے میں پلاٹ نمبر 701 ڈی  بینک الفلاح سوسائٹی میں دو پلاٹ۔  حافظ آباد میں ایک سو چودہ کنال زمین  ایمپلائز کواپریٹو ساسائٹی اسلام آباد میں پلاٹ۔  کرباٹھ لاہور میں تین کنال زمین۔  کرباٹھ ہی میں چودہ کنال کا پلاٹ۔  کرباٹھ ہی میں تین کنال 12مرلے کا ایک اور پلاٹ۔  گائوں ٹھیرا میں آٹھ کنال زمین بھائی کے نام منتقل کی۔  موضع ڈوھری میں 21کنال چار مرلے کی زمین۔  دو ٹریکٹر بھی نام پر ہیں۔  اسلام آباد میں ہِل لاک ویو میں فلیٹ نمبر 1004ملکیت میں ہے۔  ایف آئی اے سوسائٹی میں دو پلاٹ ہیں۔  اسلام آباد کی ایک اور سوسائٹی(ایف جی ای سی ایچ ہائوسنگ) میں دو پلاٹ بیگم کے نام پر۔  موضع جلکے میں 17کنال زمین۔  زیڈیم ڈی ویلیپر میں ...

مادھوری گپتا اور بھارت کا گلا سڑا بدبودار نظام

یہ پہلا اور آخری موقع نہیں کہ بھارتی انٹیلی جنس کو خاک چاٹنا پڑی … اُنی کرشنن انڈین پولیس سروس کا افسر تھا۔ وہ 1962ء  میں  مقابلے کا امتحان پاس کر کے بیوروکریسی کا حصہ بنا۔ اسی کے عشرے میں وہ سری لنکا میں تعینات ہوا۔ بیوی ساتھ نہیں تھی۔ ایک ایئرہوسٹس کے ساتھ ملوث ہو گیا۔ یہ تعلق اس کے لیے ’’شہد کا پھندا‘‘ ثابت ہوگیا۔ شہد کا پھندا یعنی ’’ہنی ٹریپ‘‘ جاسوسی کی دنیا کی مشہور اصطلاح ہے۔ جب راز حاصل کرنے کے لیے کسی کو خوبصورت عورت کے دام میں پھنسا کر بلیک میل کیا جائے تو اسے ’’ہنی ٹریپ‘‘ کہا جاتا ہے۔ امریکیوں نے انی کرشنن کی اس کمزوری کو معلوم کرلیا اور انتظار کرنے لگے کہ کب اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ 1985ء میں انی کرشنن ڈیپوٹیشن پر ’’را‘‘ میں تعینات کردیا گیا اور جنوبی بھارت میں را کی سرگرمیوں کا سربراہ مقرر ہوگیا۔ اب امریکیوں نے اسے بلیک میل کرنا شروع کردیا۔ انی کرشنن کی ایک کمزوری اور بھی تھی۔ اس کی بیٹی کو نشانہ بازی کا شوق تھا۔ چھرے اس زمانے میں بھارت میں عام ملتے نہیں تھے۔ سنگاپور سے منگوانے پڑتے تھے۔ یہ مہنگا شوق تھا۔ امریکی انٹیلی جنس نے اس کمزوری کا بھی فائدہ ...

کُھرچے ہوئے لفظوں کا وارث

یہ ایک اداس کرنے والی صبح تھی۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی مگر یوں لگتا تھا۔ جیسے دل کے اندر دن ڈھل رہا ہو اور سائے لمبے ہو رہے ہوں۔ ایک پارسل موصول ہوا یکدم فضا بدل گئی۔ یہ معین نظامی کی شعری کلیات تھی۔ پا کر‘ دیکھ کر اور ورق گردانی کر کے یوں لگا جیسے  ؎  بہت رونق ہے دل میں‘ بھاگتی پھرتی ہیں یادیں حلب سے قافلہ جیسے روانہ ہو رہا ہے  معین نظامی میرا پسندیدہ نظم گو ہے۔ معین نظامی‘ وحید احمد اور فرح یار۔ یہ جدید نظم کی تکون ہے اور کیا غضب کی تکون ہے! معین نظامی اورنٹیل کالج پنجاب یونیورسٹی میں فارسی کا صدر شعبہ رہا۔ سید علی ہجویریؒ چیئر کا بھی بھی سربراہ رہا۔ ان دنوں  LUMS میں علم و ادب کاشت کر رہا ہے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ’’دیوان سعید خان ملتانی‘‘ طبع ہوا تو اس کا انتساب اس نے مجھ بے بضاعت کے نام کیا۔1677ء میں وفات پانے والا سعید خان شاہ جہان اور اورنگزیب کے عہد کا شاعر اور سماجی‘ سیاسی اور ادبی شخصیت تھا۔ اس کی تعمیر کرائی ہوئی مسجد اور اس کا مقبرہ ملتان میں اب بھی اندرون دہلی گیٹ موجود ہیں۔  معین کی نظمیں ایک اور جہان میں لے...