اشاعتیں
کالم
Long Live مرزا یار
- لنک حاصل کریں
- X
- ای میل
- دیگر ایپس
میرؔ کا شعر ہے ؎ چھڑا جو قصہ کہیں رات ہیر رانجھے کا ہم اہلِ درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا ہیر رانجھے کے علاوہ بھی پنجاب کی عشقیہ روایات بہت ہیں۔ان میں سے ایک کہانی مرزا اور صاحباں کی ہے۔ اس حوالے سے پنجابی کے یہ اشعار تعارف کے محتاج نہیں ؎ میں بکرا دیاں نیاز دا جے سر دا سائیں مرے ہٹی سڑے کراڑ دی جتھے دیوا نت بلے کُتی مرے فقیر دی جہیڑی چوئوں چوئوں نت کرے پنج ست مرن گواہنڈناں تے رہندیاں نوں تاپ چڑھے گلیاں ہو جان سنجیاں، وچ مرزا یار پھرے مرزا یار کے راستے میں جتنی رکاوٹیں ہیں،اس کی محبوبہ انہیں ہٹانا چاہتی ہے۔ سب سے پہلے تو اس کا شوہر ہے جو کباب میں ہڈی بنا ہوا ہے۔ اگر وہ مر جائے تو شکرانے کے طور پر وہ بکرا ذبح کرے گی۔ پھر بنیے کی دکان ہے جو رات گئے تک کھلی رہتی ہے اور جہاں دیوا یعنی چراغ جلتا رہتا ہے۔ یہ دکان بھی نذرِ آتش ہو جائے تو کیا ہی کہنا! پھر کٹیا والے فقیر کی کتیا مرے جو ہر وقت بھونکتی یعنی پہرے پر رہتی ہے۔محبوب کے وصال میں حائل، ان سارے ’’دشمنوں‘‘ کا صفایا ہو بھی جائے تو پڑوسنوں کا کیا بنے گا؟ یہ بدبخت ہر وقت کان لگائے بیٹھی ہوتی ہیں کہ گلی میں کون...