اشاعتیں

کالم

غربت اطلس پہنے گی

تصویر

جزیرہ اور املی کے بیج

دوسری جنگ عظیم چھڑی تو وہ آٹھ سال کا تھا۔ وجہ پتہ نہیں کیا تھی لیکن ہوا یہ کہ املی کے بیج کی مانگ بڑھ گئی۔ وہ دن بھر املی کے بیج چن چن کر اکٹھے کرتا اور مسجد سٹریٹ میں واقع ایک دکان کے مالک کو بیچ آتا۔ ایک دن میں یوں وہ ایک آنہ کما لیتا۔ اُس چھوٹے سے گائوں میں‘ جو ایک جزیرے میں تھا‘ اُس نے نیوز پیپر ایجنسی والے کے ہاں مزدوری بھی کی اور اپنے بڑے بھائی کی دکان پر بیٹھ کر پیاز، تیل، چاول، سگریٹ اور بیڑی بھی بیچی۔ انجینئرنگ کالج میں داخلے کے لئے ایک ہزار روپے کی ضرورت تھی جو اُس کے باپ کی استطاعت سے باہر تھے۔ جس کیریئر کا خواب اس نے دیکھا تھا، وہ اس کی دسترس سے دور… بہت دور… دکھائی دے رہا تھا۔ اس نازک موڑ پر اُس کی بہن زہرا نے اس کی دستگیری کی اور اپنی سونے کی چوڑیاں اور ہار رہن رکھوا کر داخلے کی رقم کا بندوبست کیا۔ داخلہ تو ہو گیا، اس سے آگے کیا ہو گا؟ ایک ہی صورت تھی کہ اُسے سکالر شپ ملے۔ اس نے جان توڑ محنت کی اور سکالر شپ حاصل کر لیا۔ انجینئرنگ کے آخری سال کے دوران پانچ طلبہ کو ایک خصوصی پروجیکٹ دیا گیا۔ ایک جنگی طیارہ بنانا تھا۔ پانچوں نے کام آپس میں بانٹ لیا۔ اُس کے ذمے ڈیزائن کی ڈر...

سنگ اور سر

’’پاپا نے اجازت نہیں دی۔ کل تم ہسپتال نہیں جائو گی‘‘ یہ کہہ کر شوہر باہر نکل گیا۔  ڈاکٹر بننا اس کی زندگی کا سب سے بڑا خواب تھا۔ محلے کے غریب لوگوں کو عطائیوں‘ ٹھگوں‘ پیروں فقیروں کے پاس جاتا دیکھتی تو کُڑھتی۔ اس نے ان پڑھ عورتوں کو مزاروں کی مٹی پھانکتے دیکھا۔ میٹرک میں پہنچتے ہی فیصلہ کر لیا کہ ڈاکٹر بنے گی۔ ایف ایس سی میں سخت محنت کی۔ میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔ پانچ سال خونِ دل کو جیسے آنکھوں کی بینائی میں منتقل کرتی رہی۔ میڈیکل کی پڑھائی میں وقت کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ بقول عدمؔ ع  جاگ اٹھے تو چل دیے‘ تھک گئے تو سو لیے  کھانا پینا‘ اٹھنا بیٹھنا سب پڑھائی کے اردگرد گھومتا ہے۔ پھر وہ دن بھی آیا کہ وہ ڈاکٹر بن گئی۔ ہسپتال میں ملازمت بھی شروع کردی۔ غریب مریضوں کا خاص خیال رکھتی۔ اس کا کمرہ سب کے لیے کھلا تھا۔ بیماروں سے بھرا رہتا۔ ان پڑھ مریضوں کو ایک ایک بات آرام سے سمجھاتی۔ اسے یوں لگ رہا تھا۔ جیسے زندگی کسی کام آ رہی ہے۔ جیسے وہ کچھ حاصل کر رہی ہے۔ پھر رشتے آنے شروع ہو گئے۔ ماں باپ نے دیکھ بھال کر‘ سوچ سمجھ کر‘ ایک تعلیم یافتہ خاندان کے سمجھدار پڑھے لکھ...

اب ایسے چاک پر کوزہ گری ہوتی نہیں ہے

بیماری تھی اور ایسی کہ ناقابلِ بیان! شاہی ڈاکٹر عاجز آ گیا۔ بالآخر ڈاکٹروں کا بورڈ بٹھایا گیا، تشخیص پر بحث ہوئی اور پھر اس بات پر کہ دوا کون سی تجویز کی جائے! متفقہ فیصلہ اس پر ہوا کہ انسان کا پِتّہ ہی شفا دے سکے گا بشرطیکہ عام آدمی کا نہ ہو بلکہ صرف اُس شخص کا جس میں فلاں فلاں صفات ہوں۔ اب ڈھنڈیا پڑ گئی۔ سوال بادشاہ کا نہیں! سلطنت کی بقا کا تھا۔ بادشاہوں کے بغیر کیا سلطنت اور کون سے عوام، بادشاہ محفوظ ہے اور برسرِ اقتدار ہے تو سب کچھ ہے! ایک دہقان کا لڑکا ان مخصوص صفات کا حامل ملا۔ لڑکے کے ماں باپ کو سلطنت کی اہمیت سمجھائی گئی۔ وہ بادشاہ کی جان بچانے کے لئے بیٹے کی زندگی قربان کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ ہاں! کچھ قیمت اِس آمادگی کی انہوں نے ضرور وصول کی! لیکن اصل مسئلہ ماں باپ کی رضامندی کا نہ تھا، عدلیہ کا تھا! مسلمانوں کی تاریخ میں عدلیہ نے ہمیشہ حقیقت پسندی کا ثبوت دیا ہے۔ سعدی کی یہ حکایت جو ہم بیان کر رہے ہیں، ایک مثال ہے اُس تابناک کردار کی جو ہماری عدلیہ ہمیشہ سے ادا کرتی رہی ہے، ملک و قوم کے لئے، سلطنت کے لئے، بادشاہ کی سلامتی کے لئے، بادشاہ کے اقتدار کی بقا کی خاطر! اُس بادشاہ...

دو تصویریں

یہ دو تصویریں کافی ہیں۔  قوموں کے حا ل کو سمجھنے اور مستقبل کو جاننے کے لیے ہزاروں صفحات کی کتابیں پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ سالہاسال مشاہدہ کرنے کی۔ گہری تحقیق کے بعد حُمَقَاء اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں جس پر مجذوب ایک نظر ڈال کر پہنچ جاتے ہیں۔ وہ لطیفہ نما واقعہ خاصا پامال ہو چکا ہے ۔ سمندر کے کنارے ساحل کی نرم آسودہ ریت پر ایک چینی آنکھیں بند کیے مزے سے لیٹا تھا اور جانفزا ہوا کے جھکوروں سے لطف اندوز ہو رہا تھا ۔ ایک امریکی یہودی وہاں سے گزرا ۔ اسے افسوس ہوا کہ افیون زدہ چینی سونا سی عمر اور موتی سا وقت ضائع کر رہا ہے۔ اس کی پسلی کو پائوں سے ٹھوکر ماری اور کہا اُٹھو‘ بے وقوف‘ کچھ کام کرو۔ وقت ضائع کیوں کر رہے ہو۔ چینی نے نیم واآنکھوں سے اسے دیکھا اور پوچھا‘ کیا کروں؟ ’’یہ اتنی کشتیاں لانچیں اور سٹیمر کھڑے ہیں۔ ان میں کام تلاش کرو۔‘‘ ’’پھر کیا ہو گا؟‘‘ ’’تمہاری شہرت اچھے کارکن کی ہو جائے گی‘ تنخواہ بڑھے گی امیر ہو جائو گے۔ ’’پھر؟‘‘ ’’پھر تم اپنی ایک لانچ خرید لینا۔‘‘ ’’پھر؟‘‘ ’’پھر کئی لانچیں لے لینا‘‘ ’’پھر؟‘‘ ’’پھر تم بہت سے بحری جہازوں کے مالک ہو جائو گے۔...

آج کے واجد علی شاہ

تصویر

میڈیا کیا ثابت کرنا چاہتا ہے؟

یہ کڑوی سچائی تو ہم ذہنی طور پر قبول کر ہی چکے ہیں کہ بین الاقوامی میڈیا مسلمانوں کا‘ خاص طور پر ہم پاکستانیوں کا دشمن ہے!  ایک طویل عرصہ سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ مسلمان قومیتوں‘ زبانوں‘ علاقوں اور مسلکوں کی بنیاد پر ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں‘ حالانکہ حقیقت کا اس سے دور دور کا تعلق نہیں۔ ایران‘ ترکی‘ سعودی عرب آپس میں شیرو شکر ہیں۔ شام اور مصر میں گاڑھی چھنتی ہے۔ بنگلہ دیش اور پاکستان مل کر ایک کنفیڈریشن بنانے کا سوچ رہے ہیں اور وسط ایشیائی ریاستوں کو بھی ساتھ ملانے کا پروگرام بنا رہے ہیں!  بین الاقوامی میڈیا جو یہودیوں اور نصرانیوں کے آہنی پنجے میں جکڑا ہوا ہے‘ رات دن مذموم پروپیگنڈا کیے جا رہا ہے کہ مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ دروغ گوئی کی حد یہ ہے کہ بجلی کا بلب شیخوپورہ کے چودھری نصیر احمد نے ایجاد کیا تھا مگر پاکستان دشمنی کا شاخسانہ ملاحظہ ہو کہ کتابوں میں تھامس ایڈیسن کا نام لکھا جا رہا ہے۔ ہوائی جہاز ہی کو دیکھ لیجیے۔ تحصیل تلہ گنگ کے دو بھائیوں ملک سمندر خان اور ملک جمعہ خان نے جدید دنیا کو یہ تحفہ دیا مگر سہرا آرول رائٹ اور ولبر را...

اس عید پر

تدفین ہو چکی تھی۔ دوسری بستیوں اور شہروں سے آئے ہوئے مہمانوں کو گاؤں کے لوگ راستوں میں کھڑے، درخواست کر رہے تھے کہ کھانا تیار ہے، تناول فرما کر رخصت ہوں۔ کچھ گاڑیاں موڑ رہے تھے،اژدحام تو نہ تھا لیکن لوگ اتنے زیادہ تھے اور موٹریں اس قدر تھیں کہ گرد بہت تھی۔ مٹی اڑتی تھی تو ارد گرد کے چہرے چھپ چھپ جاتے تھے۔ میں اپنے عزیزوں کی اُس حویلی میں کھڑا تھا جہاں مرد حضرات کے بیٹھنے کا انتظام تھا۔ آمد و رفت لگی ہوئی تھی۔ اچانک شدید تھکاوٹ کا احساس ہوا۔ چوبیس گھنٹوں میں شاید ہی آنکھ لگی ہو۔ آنسو خشک اور آنکھیں بنجر تو ہو ہی چکی تھیں، جسم کے دوسرے اعضا بھی ناتوانی کا شکار لگنے لگے تھے۔ نہ جانے کیا ہوا‘ دفعتاً میرے منہ سے الفاظ نکلے، جن کا مخاطب میں خود ہی تھا۔ اظہار الحق، آج تمہیں کسی نے نہیں کہنا کہ ’’میرے بچے تھک گئے ہو، ذرا لیٹ جاؤ‘‘، پھر کسی کو آواز دیتیں، ’’جاؤ، اظہار کے لئے اندر سے تکیہ لے آؤ‘‘، محرومی کا احساس ہوا اور اتنا شدید کہ بے کسی سے، بقول محبوب خزاں، دنیا رگوں میں چلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ تھکے تھکے قدم آہستہ آہستہ اٹھائے، ایک خالی کمرے میں فرش پر بچھی ہوئی دری پر لیٹ گیا۔ تکیہ تھا نہ...

بہ احترام فراواں

مولانا طارق جمیل کو احسن الخالقین نے حسن بیان کی قابل رشک نعمت سے نوازا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس وقت مقبول ترین واعظ ہیں تو مبالغہ نہ ہو گا۔ ان کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی جماعت کے دیگر اکابر کی طرح آہنی پردے کے پیچھے نہیں رہے بلکہ مخصوص دائرے سے باہر نکلے ہیں۔ ان کے ارشادات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے لاتعداد مداح ان کی تقاریر التزام اور اہتمام سے لاکھوں لوگوں کو سنوا رہے ہیں۔ تبلیغی جماعت کی قابل تحسین پالیسی پر عمل پیرا، مولانا طارق جمیل فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے بھی کوشاں رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں مختلف مسالک اور مذاہب کے درمیان مناظرانہ، مجادلانہ اور معاندانہ ماحول جس طرح ہر وقت گرم رہتاہے اور آتشیں حدوں تک جا پہنچتا ہے، اس کے پیش نظر مثبت لہجے میں کام کرنے والی جماعتیں اور علما قابل قدر ہیں۔ مولانا نے حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن چینل پر تفصیلی انٹرویو دیا ہے جس کی خبر نما تلخیص پرنٹ میڈیا پر بھی عوام تک پہنچی ہے۔ حضرت مولانا کی عوام تک رسائی کی خوشگوار پالیسی سے حوصلہ پا کر ہم بھی کچھ طالب علمانہ اشکال پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ...

صبح جب دھوپ کے چشمے سے نہا کر نکلی

ان دنوں پورے گائوں میں ایک آدھ ہی ریڈیو ہوتا تھا۔ گرمیوں میں ایسا ٹرانزسٹر نما ریڈیو شام ڈھلے چھت پر ہوتا تو تقریباً پورا گائوں ہی مستفید ہوتا۔ ایسی ہی ایک ڈھلتی شام تھی۔ ہمارا پڑوسی نواب کشمیری دکان بند کر کے چھت پر ریڈیو سے دل بہلا رہا تھا میں کھیل کود کے بعد ہم جولیوں سے رخصت ہو کر ڈھور ڈنگروں والی حویلی سے ہوتا رہائشی مکان کی طرف آ رہا تھا۔ دروازے سے داخل ہوا تو ارد گرد کی خاموشی میں ریڈیو کی آواز گونج رہی تھی۔ اس وقت تو نہیں معلوم تھا لیکن اب معلوم ہے کہ مشاعرہ ہو گا۔ کوئی عجیب سی آواز کے ساتھ جیسے اسے کھانسنے کی ضرورت ہو، پڑھ رہا تھا   ؎ اور تو کوئی چمکتی ہوئی شے پاس نہ تھی تیرے وعدے کا دیا راہ میں لا رکھا ہے خاندان میں تعلیم کا آغاز فارسی شاعری سے ہوتا تھا، اس لیے سن کچا ہونے کے باوجود شعری ذوق کچا نہیں تھا۔ شعر فوراً حافظے پر نقش ہو گیا۔ یہ احمد ندیم قاسمی سے پہلا تعارف تھا۔ یوں کہ شاعر کا نام معلوم ہی نہ تھا! کالج پہنچنے تک احمد ندیم قاسمی پسندیدہ شعراء میں شامل ہو چکے تھے۔ ’’فنون‘‘ حرز جاں بن چکا تھا۔ انہی دنوں کسی ادبی مقابلے میں ان کا شعری مجموعہ ’’دشتِ و...