کم! بہت ہی کم!
کہیں ایسا تو نہیں کہ مذہبی طبقہ عدم برداشت کے لیے مفت میں بدنام ہے! اپنے اوپر تنقید کیا سیاست دان سننے کے لیے تیار ہیں؟ کم! بہت کم! دنیا ٹی وی کے معروف اینکر پرسن کامران شاہد صاحب نے بحث کے دوران ٹیلی فون پر سوال پوچھا۔ موضوع وہی تھا جو آج کل ہے یعنی سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ اور کروڑوں کے بھائو تائو! جواب میں عرض کیا کہ یہ فقط ظاہر ہے۔ اصل بیماری اور ہے۔ اصل بیماری کا علاج پیناڈول اور پیراسٹامول سے نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ ہمارے عوامی نمائندوں کی کوالٹی ہے۔ ان میں پڑھے لکھوں کی تعداد حوصلہ افزا نہیں اور پھر دیانت کا یہ عالم ہے کہ اکثر ٹیکس تک نہیں دیتے۔ اس پر اہلِ سیاست نے جو بحث میں حصہ لے رہے تھے‘ شدید غیظ و غضب کا اظہار کیا۔ سب سے بڑی دلیل وہی تھی جو ہر ایسے موقع پر دی جاتی ہے کہ سیاست دانوں کو بدنام کیا جا رہا ہے! حضور! اس میں شک ہی کیا ہے کہ ہمارے منتخب نمائندوں کی اکثریت ٹیکس نہیں ادا کرتی۔ کون سا پاکستانی اخبار ایسا ہے جس میں یہ خبریں تواتر کے ساتھ‘ اعدادو شمار کے ساتھ نہیں شائع ہوتیں؟ تو پھر ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کی جاتی؟ ملک کے معروف انگر...