اشاعتیں

کالم

کم! بہت ہی کم!

کہیں ایسا تو نہیں کہ مذہبی طبقہ عدم برداشت کے لیے مفت میں بدنام ہے! اپنے اوپر تنقید کیا سیاست دان سننے کے لیے تیار ہیں؟ کم! بہت کم!  دنیا ٹی وی کے معروف اینکر پرسن کامران شاہد صاحب نے بحث کے دوران ٹیلی فون پر سوال پوچھا۔ موضوع وہی تھا جو آج کل ہے یعنی سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ اور کروڑوں کے بھائو تائو! جواب میں عرض کیا کہ یہ فقط ظاہر ہے۔ اصل بیماری اور ہے۔ اصل بیماری کا علاج پیناڈول اور پیراسٹامول سے نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ ہمارے عوامی نمائندوں کی کوالٹی ہے۔ ان میں پڑھے لکھوں کی تعداد حوصلہ افزا نہیں اور پھر دیانت کا یہ عالم ہے کہ اکثر ٹیکس تک نہیں دیتے۔ اس پر اہلِ سیاست نے جو بحث میں حصہ لے رہے تھے‘ شدید غیظ و غضب کا اظہار کیا۔ سب سے بڑی دلیل وہی تھی جو ہر ایسے موقع پر دی جاتی ہے کہ سیاست دانوں کو بدنام کیا جا رہا ہے!  حضور! اس میں شک ہی کیا ہے کہ ہمارے منتخب نمائندوں کی اکثریت ٹیکس نہیں ادا کرتی۔ کون سا پاکستانی اخبار ایسا ہے جس میں یہ خبریں تواتر کے ساتھ‘ اعدادو شمار کے ساتھ نہیں شائع ہوتیں؟ تو پھر ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیوں نہیں کی جاتی؟  ملک کے معروف انگر...

سیاست کا کوہِ نور

اگر انسان اس ایک بات ہی پر غور کر لے کہ کوہِ نور ہیرا کس کس کی ملکیت رہا‘ تو اپنی اوقات سمجھ جائے۔  یہ سات سو سال پہلے کا واقعہ ہے۔ علائوالدین خلجی نے اپنے خواجہ سرا جرنیل ملک کافور کو جنوبی ہند فتح کرنے بھیجا۔ اس کا خاص ہدف ورنگل کی ریاست (موجودہ تلنگانہ) تھی۔ ورنگل کے راجہ نے زبردست مقابلہ کیا۔ ایک خندق قلعے کے اور دوسری شہر کے گرد کھدوائی اور ان میں پانی بھر دیا۔ مگر ملک کافور جیت گیا۔ سات ہزار گھوڑوں اور سو ہاتھیوں کے ساتھ مالِ غنیمت کے انبار ہاتھ آئے۔ اس مال میں ایک ہیرا تھا جس کے بارے میں امیر خسرو نے لکھا ہے کہ وہ دنیا میں لاثانی تھا۔  ملک کافور نے یہ ہیرا سلطان علائوالدین خلجی کو پیش کردیا۔ دنیا کا سب سے بڑا ہیرا۔ مگر ہوا یہ کہ 1316ء میں خلجی مر گیا۔  خلجیوں سے یہ ہیرا تغلقوں کے ہاتھ لگا۔ ہوتے ہوتے ابراہیم لودھی کے پاس پہنچا۔ پانی پت کی پہلی لڑائی میں لودھی کھیت رہا اور ہیرا مغل سلطنت کے بانی بابر کی خدمت میں جلوہ گر ہوا۔ بابر نے اس کی قیمت کا اندازہ یوں لگایا کہ پوری دنیا میں رہنے والے انسانوں کے لیے دو دن کی خوراک مہیا کی جا سکتی ہے۔ ان دنوں اس کا نام ’’با...

برادر‘‘ اسلامی ممالک

’’ امریکی میڈیا ایک معمہ ہے۔ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ یا تو بدنیت ہے یا جاہل! جہالت کو ’’معصومیت‘‘ بھی کہتے ہیں۔ امریکی اس قدر ’’معصوم‘‘ ہیں کہ انہیں حیرت ہوتی ہے پوری دنیا کے افتادگان ان کے مخالف کیوں ہیں؟ نفرت کیوں کرتے ہیں؟ وہ جو کہتے ہیں کہ بدراہ عورت کا علم محلے میں ہر کس و ناکس کو ہوتا ہے سوائے اس کے بدقسمت میاں کے۔ تو پوری دنیا کو معلوم ہے کہ امریکی یورپ سمیت ہر جگہ نفرت کا ہدف کیوں ہیں سوائے خود امریکیوں کے۔  تازہ ترین فکر امریکی پریس کو بھارت کے ماحول کے حوالے سے لاحق ہے۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سانس کی بیماریوں سے مرنے والوں کی شرح بھارت میں سب ملکوں سے زیادہ ہے۔ پندرہ لاکھ اموات سالانہ! 2014ء کی بین الاقوامی صحت کے ادارے کی رپورٹ کہتی ہے کہ دنیا کے بیس آلودہ ترین شہروں میں سے 13 شہر بھارت میں واقع ہیں۔ بھارت مضر ترین ایندھن جلاتا ہے۔ جیسے کوئلہ‘ ڈیزل اور اُپلے! یہ وہ ذرائع ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ زیادہ خارج کرتے ہیں۔ اس سے کرۂ ارض کی فضا گرم ہوتی ہے۔ یوں‘ امریکیوں کے خیال میں مسئلہ صرف بھارت کا نہیں‘ پوری دنیا اس سے متاثر ہوتی ہے۔ آنے والے دسمبر میں پیرس میں ع...

وجوہات تلاش کرو

نظام الملک طوسی سلجوقی بادشاہوں کا وزیراعظم رہا۔ الپ ارسلان کے نو سال اور ملک شاہ کے بیس سال وہ سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ روایت ہے کہ تین دوست نظام الملک (اصل نام جس کا ابو علی حسن تھا)‘ عمر خیام اور حسن بن صباح مکتب میں ہم جماعت تھے۔ تینوں نے ایک دوسرے سے پیمان کیا کہ جو کوئی بھی کسی بلند مقام پر پہنچے گا‘ دوسرے دو کا خیال رکھے گا۔ ابو علی حسن وزیر بنا اور نظام الملک کا خطاب پایا۔ اس نے دونوں کو دربار میں عہدے پیش کیے۔ عمر خیام نے انکار کر کے پڑھائی کو ترجیح دی۔ نظام الملک نے اسے رصدگاہ تعمیر کرا دی۔ حسن بن صباح نے عہدہ قبول کر لیا مگر اپنے ہی دوست کے خلاف سازش کی۔ معاملہ کھلا تو بھاگ گیا۔ پھر اس نے فدائی کھڑے کیے۔ قلعہ الموت فتح کیا۔ ایک فدائی ہی نے نظام الملک کو خنجر سے اُس وقت قتل کیا جب وہ اصفہان سے بغداد جا رہا تھا۔  فتوحات اس کی بے شمار تھیں۔ غزنی سے لے کر شام تک پھریرا لہراتا رہا۔ جارجیا کو اس نے خراج دینے پر مجبور کیا لیکن اصل کارنامہ نظام الملک طوسی کا فتوحات نہیں تھیں‘ اصل کارنامہ تعلیمی اداروں کا جال تھا جو اس نے سلطنت کے طول و عرض میں پھیلا دیا۔ نیشاپور سے موصل تک او...

واہ! کیا ترجیحات ہیں!

جہازی سائز کی پجارو ہوٹل کے سامنے رکی۔ ہوٹل کے منیجر نے خود آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔ ہوٹل پانچ ستارہ نہیں‘ سیون سٹار تھا! منیجر وڈیرے کو ادب و احترام سے ریستوران میں لایا اور بٹھا کر‘ ویٹر کو بلا کر واپس اپنی سیٹ پر گیا۔ وڈیرے نے ویٹر سے پوچھا‘ کھانے میں کیا ہے۔ ویٹر نے ایک لمبی فہرست سنائی۔ تقریباً سارے ہی کھانوں کے نام اس نے انگریزی میں بتائے۔ ولایتی کھانے تھے۔ آخر میں سائیں کو بھنڈی کا لفظ سنائی دیا۔ یہ واحد ڈش تھی جو اس کی سمجھ میں آئی۔ چنانچہ اس نے بھنڈی کا آرڈر دے دیا!  پاکستانی عوام کی مثال اسی ان پڑھ وڈیرے کی ہے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان ہر شعبے میں پیچھے ہے۔ معیشت‘ جمہوریت‘ لا اینڈ آرڈر‘ تعلیم‘ ڈیموکریسی‘ الیکشن کمیشن کے اختیارات‘ درآمدات و برآمدات‘ آئی ٹی‘ ریورس برین ڈرین (یعنی اعلیٰ تعلیم یافتہ تارکینِ وطن کی بیرونِ ملک سے واپسی) مگر یہ وہ شعبے ہیں جو عوام کی بھاری اکثریت کی سمجھ سے باہر ہیں۔ انہیں اعداد و شمار کی خبر ہے نہ ان شعبوں کی نزاکتوں‘ باریکیوں اور پیچیدگیوں کی۔ کرکٹ واحد شعبہ ہے جس میں بھاری اکثریت کو دلچسپی ہے اور وہ اس کی جزئیات تک سے پوری طرح ب...

جو تڑکے شہر میں داخل ہو

قندھار کے نواح میں ڈھلتی عمر کے ساتھ چمٹتا میوہ فروش‘ غزنی کے مین بازار میں خریداروں کے انتظار میں اونگھتا کبابچی اور بامیان کی نامہربان چراگاہوں میں عناصر کی سختیاں سہتا گڈریا… تیس سال یورپ اور امریکہ کی عشرت گاہوں میں گزارنے والے حکمران کو کیا علم کہ یہ لوگ زندگی کس طرح بسر کر رہے ہیں۔ بسر کر بھی رہے ہیں یا نہیں! یا زندگی انہیں گزار رہی ہے۔ فراز صاحب یاد آ گئے   ؎  سلوٹیں ہیں مرے چہرے پہ تو حیرت کیسی  زندگی نے مجھے کچھ تم سے زیادہ پہنا  جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کا بخت عجیب ہے۔ اول تو ستارہ بن کر چمکتا ہی نہیں‘ دمکنا نصیب بھی ہو تو پیشانی تنگ ملتی ہے۔ جمہوریت آتی ہے تو ایسے حکمران گلے پڑتے ہیں جو ملک میں صرف راج کرنے آتے ہیں۔ زندگی کے زیادہ شب و روز انہوں نے باہر گزارے ہوتے ہیں۔ کچھ تو معین قریشی اور شوکت عزیز کی طرح بازار میں صرف خریداری کرنے آتے ہیں۔ معین قریشی کے مقابلے میں شوکت عزیز کا مذاق‘ زیادہ سنگدلی سے کھیلا گیا۔ موصوف فتح جنگ سے عوامی نمائندے ’’منتخب‘‘ ہوئے۔ اپنے حلقے کا‘ یعنی فتح جنگ کا نام سنتے ہی چہرہ سپاٹ ہو جاتا تھا۔ کسی بھی قسم کے تاثر سے عاری...

اوپر کی منزل والے

اس وقت موبائل فون تھا‘ نہ لینڈ لائن۔ فیکس تھا‘ نہ ای میل۔ انٹرنیٹ تھا‘ نہ ٹیلی ویژن‘ ہوائی جہاز تھے‘ نہ برق رفتار گاڑیاں۔ کچھ بھی نہ تھا۔ بس گھوڑے تھے‘ دوڑتے گھوڑے اور ان پر سوار ایلچی۔ ہاتھی تھے‘ آہستہ رو‘ لیکن تعجب تھا اور معجزہ تھا اور حریت تھی کہ اِدھر قتل ہوتا تھا‘ اُدھر خبر حکمران کو پہنچ جاتی تھی۔ ڈاکہ پڑتا تھا اور ہزاروں کوس دور بیٹھے ہوئے بادشاہ کو معلوم ہو جاتا تھا۔ مُکھیا تھر تھر کانپنے لگتا تھا۔ بدن کھال سے باہر آتا ہوا محسوس ہوتا۔ ڈاکہ پڑا کیسے‘ مُکھیا تو رات بھر گائوں میں خود پہرا دیتا‘ اس کے بیٹے پہرہ دیتے اس لیے کہ بیٹوں کو معلوم تھا کہ قتل ہوا اور قاتل نہ پکڑا گیا تو مُکھیا‘ اُن کا باپ‘ پھانسی پر چڑھ جائے گا۔ ڈاکہ پڑا‘ ڈاکو نہ پکڑا گیا تو سارا نقصان باپ کو بھرنا پڑے گا۔  شاہراہیں بھی بن رہی تھیں‘ سرائیں بھی تعمیر ہو رہی تھیں‘ شاہراہوں کے کنارے شجرکاری بھی ہو رہی تھی۔ ریونیو بھی اکٹھا ہو رہا تھا۔ مگر یہ سب کچھ ثانوی حیثیت رکھتا تھا۔ اولین ترجیح رعایا کی حفاظت تھی اور رعایا کے مال کی حفاظت۔ یہ واقعہ ہم سب نے بارہا پڑھا ہوا ہے کہ ایک مسافر کے قتل کا علم ہوا تو شی...

پیدائش کا حادثہ

گھر بیٹھے بیٹھے برس ہا برس گزر گئے۔ کتابیں پڑھتے‘ باورچی خانے میں کام کرتے‘ سویٹر بنتے ‘کشیدہ کاری کرتے جوانی ڈھل گئی   ؎  رنگ دکھلاتی ہے کیا کیا عمر کی رفتار بھی  بال چاندی ہو گئے سونا ہوئے رخسار بھی  رشتے آئے‘ نامنظور ہوتے گئے۔ لڑکی کی‘ جو کسی زمانے میں واقعی لڑکی تھی‘ بدقسمتی یہ ہوئی کہ ذات برادری سے رشتہ نہ آیا۔ ابا کا اٹل فیصلہ تھا‘ دوسری ذات میں شادی کرنے کا سوال ہی نہ تھا۔ انتظار کرتے کرتے ابا کو اجل نے آ لیا۔ مسائل پیچیدہ ہو گئے۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ لڑکی کو غیر شادی شدہ بڑھیا کہا جانے لگا۔  یہ ہماری معاشرتی زندگی سے ایک عام مثال ہے۔ اسے عصبیت کہتے ہیں۔ عصبیت ایک بیماری ہے۔ جو مثال اوپر دی گئی ہے‘ یہ اس بیماری کا نرم ترین حملہ ہے۔  اس سے زیادہ سخت حملہ یہ ہے کہ ذات برادری کی بنیاد پر فرائض منصبی ادا کرتے وقت بددیانتی کا ارتکاب کیا جائے۔ یہ اس معاشرے میں عام ہے۔ ایک دوست نے عرصہ ہوا‘ تجویز پیش کی تھی کہ ناموں سے سابقے اور لاحقے ہٹا دیے جائیں‘ لیکن ظاہر ہے تجویز قابلِ عمل نہ تھی۔ ہوتا یہ ہے کہ باجوہ صاحب یا اعوان صاحب یا مغل صاحب یا شاہ صاح...

کارٹون ، تصویر اور آنسو

تصویر

سراب کا بیوپار

یہ بارہ بھائی تھے۔ الگ الگ گھروں میں رہتے تھے۔ کوئی گھر کسی گلی میں تھا‘ کوئی کسی کوچے میں‘ کچھ کی دیواریں مشترک تھیں‘ مگر سب کی بجلی‘ گیس‘ پانی اپنا اپنا تھا۔ یہ سب آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے تھے۔ کبھی بیویوں کے کہنے سننے پر‘ کبھی بچوں کی وجہ سے‘ کبھی دو تین بھائیوں نے کسی مشترکہ کاروبار کا آغاز بھی کیا تو ابتدا ہی سے رخنے پڑنا شروع ہو گئے‘ جلد ہی کاروبار بھی ٹھپ اور بول چال بھی بند۔ اس صورت حال میں بھی بوڑھے والد کو ایک ہی دھن تھی کہ یہ سب بھائی ایک گھر میں اکٹھے رہیں۔ ان کا باورچی خانہ ایک ہو‘ ان کا بجلی‘ پانی‘ گیس‘ ٹیلی فون کا ایک بل ہو۔ ان کے بچے ایک صحن میں کھیلیں اور ان کے کنبے ایک ساتھ رہیں۔ بابے کو جب بھی کوئی مشورہ دیتا کہ بزرگو! ایک گھر میں یہ اکٹھے کیا رہیں گے‘ یہ تو الگ الگ گھروں میں رہ کر بھی ایک دوسرے کو برداشت نہیں کر پا رہے۔ پہلے یہ تو کرو کہ یہ اپنے اپنے گھروں میں رہتے ہوئے ہی آپس میں ملنا جلنا شروع کریں۔ عید محرم کے موقع پر ہی اکٹھے ہو جائیں۔ بیماری ہی میں ایک دوسرے کا خیال رکھ لیں۔ ان میں جو بھائی سب سے زیادہ غریب ہے‘ آسودہ حال بھائی اسی کی مدد کردیں۔ مگر بابا اس...