اشاعتیں

کالم

ہم احتجاج کرتے ہیں

معاف کیجیے گا۔ یہ 2014ء ہے۔ بارھویں تیرھویں صدی کا عہد تاریک نہیں کہ دوسرے ملک کے اختیارات پر قبضہ کر لیا جائے۔ شرق اوسط کے ایک ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے روکا جائے۔ ہم اہل پاکستان اس زیادتی پر احتجاج کرتے ہیں اور بین الاقوامی عدالت انصاف میں جانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارا ملک اسلام کا قلعہ ہے۔ اقوام متحدہ سے لے کر تاریخ کے‘ کیا کہنہ اور کیا نئے‘ اوراق بے شک چھان لیے جائیں‘ ثابت یہی ہو گا کہ یہ اعزاز کسی اور ملک کو نصیب نہیں ہوا۔ دوسری بات یہ ہے کہ پورے عالم اسلام میں ہم واحد ایٹمی قوت ہیں اور یوں ایک اعتبار سے پورے عالم اسلام کے انچارج۔ تیسری حقیقت یہ ہے کہ اسلامی دنیا ہم چلا رہے ہیں۔ عراق اور شام میں ہمارے لوگ برسر پیکار ہیں۔ افغانستان میں ہمارا عمل دخل ہے۔ طالبان کی پیدائش اور پرورش پر ہمارا دعویٰ ہے۔ خوست اور قندھار کے مسلمان، پاکستان میں ایک قدم دھرے بغیر، پاکستانی دستاویزات کی بنیاد پر حج کر آتے ہیں۔ چیچنیا سے لے کر بوسنیا تک، معاملات ہم نے سنبھالے۔ مغربی ملکوں میں قائم مدارس کو، جہاں شلوار قمیض کا ’’اسلامی لباس‘‘ پہننا لازمی ہے‘ ہم چلا اور چلوا ر...

چوک پر پڑتے جوتے

تصویر

کھڑائوں اور چھتری

برصغیر کی جوشاہراہیں تاریخ کی گواہ ہیں، ان میں ایک بڑی گواہ ، ایک معتبر گواہ ، وہ شاہراہ ہے جو ٹیکسلا اور حسن ابدال کے سامنے سے گزر رہی ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہاں سے گزرتے وقت تاریخ کے ہجوم نے گھیر نہ لیا ہو۔ افغانستان پر جب بھی فوج کشی کی، اورنگزیب نے یہاں کیمپ کیا۔ کابل جاتے ہوئے اور واپسی پر، اکبر ضرور ٹھہرتا۔ برطانیہ نے سرحدی علاقہ پر قبضہ کرنے کے لیے ہیڈ کوارٹر یہیں رکھا۔ لیکن یہ تو قریب کے زمانے کی تاریخ ہے۔ ٹیکسلا نام ہی تاریخ کا ہے۔ بخارا اور سمرقند کو ’’شہر کا شہر عجائب گھر‘‘ (سٹی میوزیم) کہا جاتا ہے اور دنیا بھر سے سیاحوں کے غول کے غول آتے ہیں۔ اس قلم کار نے سینکڑوں امریکی طلبہ کے قافلے وہاں اترتے دیکھے۔ اس لیے کہ سیاحت کا محکمہ اس ملک میں اور بہت سے دوسرے ملکوں میں سیاحت کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے۔ ہمارے ہاں سیاحت کا محکمہ مخصوص افراد کی مالی منفعت اور سیاست دانوں کی ’’ تالیف قلب‘‘ کے لیے کام کرتا ہے۔ اغوا برائے تاوان اور قتل کا دھڑکا اس کے علاوہ ہے۔ ورنہ ٹیکسلا کہ عجائب گھروں کا عجائب گھر ہے، سیاحوں کے قافلوں کا مستقل مستقر ہوتا! خدا مغفرت کرے افسانہ نویس اور ڈرامہ ن...

سنتا جا‘ شرماتا جا

شریف گھرانے کی لڑکی کو ورغلا کر‘ بہلا پھسلا کر‘ ڈرا دھمکا کر‘ خالی مکان میں لے گئے۔ نشہ آور دوائیں پلائیں۔ ڈانس کرنے پر مجبور کیا‘ پھر قابلِ اعتراض حالت میں تصویریں کھینچیں‘ یہ تصویریں لڑکی کے لیے اور اس کے شریف گھرانے کے لیے سوہانِ روح بن گئیں۔  بلیک میلنگ کی یہ قسم مکروہ ترین ہے اور پوری دنیا میں عام ہے‘ لیکن بلیک میلنگ کی جو اقسام ہمارے ہاں رائج ہیں اور بدقسمتی سے ’’مقبول‘‘ بھی ہیں‘ وہ عجیب و غریب ہیں۔ ان پر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔ متشرع شکل و صورت کا کوئی آدمی جھوٹ بولے یا دھوکا دے اور اسے کہا جائے کہ بھائی! اس شکل و صورت کے ساتھ دروغ گوئی اور فریب کاری کر رہے ہو تو وہ شور مچا دے گا کہ مذہبی شکل و صورت پر اعتراض کر رہے ہو؟ اس نکتے کو وہ اس قدر اچھالے گا کہ آپ کو معذرت کرنا پڑے گی۔ ایک صاحب بتا رہے تھے کہ ان کی والدہ بیمار تھیں اور بے خوابی سے تنگ۔ پڑوس میں مسجد تھی۔ لائوڈ سپیکر کی توپ کے دہانے کا رُخ عین مریضہ کے کمرے کی کھڑکی کی طرف تھا۔ ان صاحب نے ایک دن مولوی صاحب کو خوشگوار موڈ میں دیکھ کر عرضِ مدعا کیا کہ ازراہِ کرم توپ کے دہانے کا رُخ تھوڑا سا پھیر دیں۔ دو دن...

یہ بھی وہی ہے

’’شرم کرو بے غیرتو! ڈوب مرو‘‘  میں نے چیختے ہوئے کہا۔ جی چاہتا تھا ان کے چہرے نوچ لوں۔ ان کے جسم ٹکڑے ٹکڑے کردوں۔ ان کے گلے گھونٹ ڈالوں۔ انہیں دوبارہ زندگی ملے۔ دوبارہ مار دوں۔ انہیں قیامت تک کے لیے نشانِ عبرت بنا دوں۔ لیکن بے شرمی کی حد یہ تھی کہ آٹھوں کے آٹھوں ہنس رہے تھے۔ پیلے گندے دانت نمایاں نظر آ رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے باقی سات کو مخاطب کیا اور کہا۔ ’’اوئے! یہ بھی وہی ہے‘‘۔ باقی سات نے میری طرف دیکھا۔ پھر ایک دوسرے کو دیکھا۔ یوں لگتا تھا آنکھوں ہی آنکھوں میں یہ بدبخت بہت کچھ ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے۔ پھر سب نے مل کر قہقہہ لگایا۔ غلیظ قہقہہ‘ جو غنڈے‘ بدمعاش اور اوباش لگاتے ہیں۔ پھر سب نے بیک آواز کہا۔ ’’اوئے‘ یہ بھی وہی ہے‘‘۔  میرے ذہن میں فلم چلنے لگی۔ فلیش بیک۔ سِن اس وقت میرا چھوٹا تھا۔ گائوں کی گلیوں میں کھیلتا پھرتا تھا۔ دن کھیتوں کھلیانوں پہاڑیوں پر ہم جولیوں کے ساتھ گزرتا تھا اور رات کہانیاں سنتے سناتے۔ انہی دنوں گھر میں رشتے کی ایک دادی آئی ہوئی تھی۔ دادی کی رشتہ دار۔ ایک شام‘ جب جھٹپٹے کی ملگجی روشنی غائب ہو چکی تھی اور ستارے پوری چمک کو پہنچ کر اِت...

چارپائی پر پڑا مردہ

قمار بازی زوروں پر تھی۔ ایک طرف گائوں کا وہ شخص جس کی ذات برادری ،لطیفوں ،طعنوں اور ضرب الامثال کا باعث بنتی ہے، مثلاً یہ لطیفہ کہ چارپائی پر گائوں کا چودھری لیٹا ہوا تھا۔ نوکر اس کی ٹانگیں دبا رہا تھا۔ سامنے سے ایک میراثی گزرا۔ چودھری نے ٹانگیں دباتے نوکر کو حکم دیا کہ میراثی پر بھونکو۔ نوکر بھونکا تو میراثی نے کہا کہ مجھ پر کیوں بھونک رہے ہو، جو مردہ تمہارے سامنے چارپائی پر پڑا ہے، پہلے اسے تو کھالو۔قمار بازی ہورہی تھی۔ میراثی مسلسل ہار رہا تھا۔ پیسے ، غلہ ، مال مویشی، زمین سب دائو پر لگا دیے اور سب کچھ ہار گیا۔ آخر میں بیوی کو دائو پر لگادیا ۔بیوی نے سنا تو کہا ’’ بے غیرت ! ہار گئے تو یہ جیتنے والے مجھے لے جائیں گے‘‘۔ میراثی ہنسا۔ ’’میں ہارمانوں گا تو تب تمہیں لے جائیں گے! میں تو ہار مانوں گا ہی نہیں !‘‘۔ یہی کچھ ملتان کے ضمنی الیکشن کے بعد ہورہا ہے۔ پہلے تو یہ پیش گوئیاں تھیں کہ تاریخ کا اور کرۂ ارض کا سب سے عظیم باغی ہار ہی نہیں سکتا۔ باغی ہار گیا تو اب ایسی ایسی دلیلیں دی جارہی ہیں اور ایسے ایسے نادر نکتے نکالے جارہے ہیں کہ ہنسی تک نہیں آتی۔ ایک صاحب دور کی کوڑی لائے ہیں کہ...

ایک مختلف قسم کا قیدی

تصویر

2035ء یا 2135ء ؟

پستہ قد، جسمانی اعتبار سے بے بضاعت، ٹھیک سے انگریزی بول پاتے ہیں نہ سمجھ ہی سکتے ہیں‘ لیکن تھائی لینڈ کے ان بونوں نے کمال کردیاہے۔ ایسا عظیم الشان ایئرپورٹ بنایا ہے اور زبردست خوش انتظامی سے اس طرح چلا رہے ہیں کہ اسے آدھی دنیا کا مرکز بنادیا ہے۔ ہر چندمنٹ کے بعد ایک جہاز اڑان بھرتا ہے اور ایک اترتا ہے۔ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، جاپان، فلپائن، ملائشیا، انڈونیشیا، برونائی، ہانگ کانگ، چین، ویت نام، فجی اور ہوائی سمیت بحرالکاہل کے درجنوں جزیرے … ان تمام ملکوں میں جانے والے اور وہاں سے آنے والے بنکاک کو سلام کرنے پر مجبور ہیں۔ ہوائی اڈہ دکان ہوتا ہے اور ایئرلائنیں گاہک۔ گاہک وہیں جاتا ہے جہاں اسے سودا اچھاملے، جہاں دکاندار خوش اخلاقی سے معاملہ کرے اور دیانت دار بھی ہو۔ بنکاک یہ ساری ضروریات پوری کررہا ہے۔ یہی حال سنگاپور اور کوالالمپور کے ہوائی اڈوں کا ہے۔ کوالالمپور کا ایئرپورٹ تو پورا شہر ہے۔ ایک حصے سے دوسرے تک جانے کے لیے بسیں اور ٹرینیں چلائی گئی ہیں۔ ان ٹرینوں کو ایرو ٹرین کہا جاتا ہے۔ ہر ٹرین میں اڑھائی سو مسافر سوار ہوسکتے ہیں اور یہ ایک گھنٹے میں تین ہزار مسافروں کو اٹھاتی ہے۔ ایئ...

ایشوز

تصویر

تنویر ملک ہجرت کر جائو

تصویر