اشاعتیں

کالم

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

    نہیں! یہ ایک اہم مسئلہ ہے اور جو اسے اہم نہیں گردانتے، غلطی پر ہیں۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ ہمیں اللہ نے اسلام کی دولت سے نوازا ہے‘ مغرب اس سے محروم ہے اور اس میں شک ہی کیا ہے! ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم خدا کے آخری رسولؐ کے ماننے والے ہیں۔ ہمارے پاس قرآن پاک کی نعمت ہے اور رسول خداﷺ کے فرامین ہمارے لیے مقدس ہیں۔ کیا یہ خدا کا احسان نہیں کہ ہم کسی پتھر کے بت کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوتے، کسی مندر میں بھجن نہیں گاتے‘ کسی پیغمبر کو خدا کا بیٹا نہیں کہتے۔ اس نعمت کے باوجود‘ اس دولت کے باوجود ہم مغرب سے پیچھے کیوں ہیں؟ ہم کثیر تعداد کے باوجود بھیڑ بکریوں کے گلّے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ کیوں؟ ہم پر دنیا اعتبار نہیں کرتی۔ ہمیں خلق خدا اس قابل نہیں سمجھتی کہ بلا کھٹکے ہم سے تجارت کرے۔ ہم جو کچھ کہتے ہیں، غیر ملکی سفارت خانے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ الگ سے جانچ پڑتال کرتے اور کراتے ہیں۔ ہمیں ہر کوئی شک کی نظروں سے دیکھتا ہے۔ آخر اسلام ہماری زندگیوں میں کیوں نظر نہیں آتا؟ یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔ معاملے کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے۔ ہم میں سے کچھ وہ ہیں جو کسی ...

پیرا سٹامول

    اس مریض کے لیے دعا ہی کی جاسکتی ہے جس کا علاج ظاہری علامات سے آگے نہیں بڑھ رہا۔ سر میں درد ہوتا ہے تو پیراسٹامول کی دوگولیاں دے دیتے ہیں۔ قے آتی ہے تو میکسولون تجویز کردیتے ہیں۔ یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ سر میں درد کیوں ہورہا ہے اور قے کیوں آرہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ معدے میں زہر بھرا ہے۔ انتڑیوں میں انفیکشن ہے۔ جگر کام نہیں کررہا، لبلبہ ضعیف سے ضعیف تر ہورہا ہے۔ سانس کی نالی میں سوزش دن بدن بڑھ رہی ہے۔ پِتّہ کنکریوں سے بھرچکا ہے۔ گردوں کی چھلنیاں خون چھاننے کا کام نہیں کررہیں۔ پھیپھڑوں کے پیندے میں پانی جمع ہونا شروع ہوچکا ہے۔ دل کی نالیاں روزبروز سکڑتی جارہی ہیں جبکہ علاج پیراسٹامول سے آگے نہیں بڑھ رہا ! سکندر ایک علامت ہے۔ یہ وہ قے ہے جو ہمارے قومی جسم نے کی ہے۔ زمردخان کے قصور کو اچھالا جارہا ہے۔ یہ محض سردرد ہے جو مرض کی ظاہری علامت ہے۔ وزیرداخلہ موقع پر نہیں تشریف لائے، تشریف لے آتے تو کیا ہوتا؟ اللہ کے بندو! ریاست کے تمام ادارے کام کرنا چھوڑ چکے ہیں۔ سکندر ہرجگہ گھس چکے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ ایک جگہ سکندر روک لیا گیا اور معاملہ روشنی میں آگیا۔ پولیس کو تو شاباش دینی...

طفلِ مکتب

  پانچ برس قصر صدارت میں مکمل کرنے پر صدر آصف زرداری کے بارے میں اجماع یہ ہے کہ سیاسی چالوں میں ان کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔دوسرے لفظوں میں وہ کامیاب ترین سیاست دان ہیں۔اس اجماع میں قوم کا ہر طبقہ شامل ہے۔عام آدمی سے لے کر کروڑ پتی اینکر حضرات تک اور قلم کار صحافیوں سے لے کر زبانی جمع خرچ کرنے والے تجزیہ کاروں تک ہر شخص یہی رائے دیتا ہے کہ سیاسی شطرنج میں زرداری صاحب کو کوئی مات نہیں دے سکتا۔وہ ایسی ایسی چالیں چلے کہ پیادے وزیراعظم بن گئے اور پارٹی کے مانے ہوئے دانشور چوبدار ہوکر دروازوں پر آکھڑے ہوئے۔ لیکن ساری کامیابیوں کے باوجود صدر آصف زرداری اتنی ہمت نہ کرسکے کہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کرکے اپنے آپ کو فرشتہ کہتے ،نہ ہی انہوں نے انقلاب کے نعرے لگاکر لینن بننے کی کوشش کی۔زیادہ سے زیادہ یہ کہتے رہے کہ لگائے گئے الزامات کا ثبوت کوئی نہیں اور یہ کہ استثنا حاصل ہے۔اس نکتہ نظر سے دیکھیں تو صدر آصف زرداری کامیابی کی چوٹی پر نہ پہنچ سکے اور چند میٹر نیچے ہی پڑائو ڈال دیا۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ ان کے مقابلے میں کامیابی کی بلند ترین چوٹی پر پہنچے ہیں۔یوں تو ان میں بے ش...

پاکستانی طالبان… غلبے کے اسباب --- -2-

طالبان کے غلبے کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ پاکستانیوں کی کثیر تعداد انہیں نجات دہندہ سمجھتی ہے۔ طالبان کے حامیوں کی ایک قسم وہ ہے جو نظریاتی حوالے سے انہیں اپنے قریب سمجھتی ہے لیکن ایسے حامیوں کی تعداد بھی کم نہیں جنہیں طالبان کے نظریات اور طرز حکومت سے کوئی دلچسپی نہیں مگر پاکستانی ریاست، پاکستانی حکومتوں اور بالائی طبقے کے ظلم و ستم سے وہ اس قدر عاجز آچکے ہیں کہ بالآخر انہیں طالبان جیسا نجات دہندہ بھی قبول ہے۔ پٹواری، تھانیدار، واپڈا اہلکار، سوئی گیس کے راشی ملازم، ملاوٹ کرنے والے بددیانت تاجر، تجاوزات کے ذریعے ماحول کو گندا کرنے والے دکاندار، راہگیروں کو کچلنے والے بدمست ڈرائیور، فرعونیت کے لہجے میں بات کرنے والے سرکاری عّمال، اقربا پروری ا ور دوست نوازی کرنے والے عوامی نمائندے ان عوام کو کمّی کمین سمجھتے ہیں۔ ایک ایک گلی پکی کرانے ا ور ایک ایک کنکشن لینے کے لیے شرفا کو برسوں پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ کوئی سیاسی جماعت، کوئی حکومت، کوئی مارشل لاء، عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکا۔ ہر نیا سال نئے ظلم لاتا ہے۔ مخصوص گروہوں کے کام کرانے والا ایک ٹولہ پارلیمنٹ سے نکلتا ہے تو دوسرا ٹولہ آ کر دوسرے ...

پاکستانی طالبان… غلبے کے اسباب

بنوں اور پھر ڈی آئی خان جیل کی مہمات کامیابی سے سر ہونے کے بعد اس حقیقت سے شاید ہی کوئی انکار کرسکے کہ پاکستانی طالبان غلبہ حاصل کرچکے ہیں اور جہاں چاہیں اپنی مرضی کی کارروائی کرسکتے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان مافوق الفطرت انسانوں پر مشتمل نہیں‘ نہ ہی اس کے پاس ہتھیاروں کی کوئی ایسی قسم ہے جو حکومت پاکستان کے لیے انوکھی ہو۔ اس کے غلبے اور حکومت پاکستان کی مسلسل ناکامیوں کے اسباب وہی ہیں جو دنیا میں ہمیشہ سے چلے آرہے ہیں۔ خدا کی سنت وہی ہے جو بیان کردہ اصولوں کے مطابق کچھ کو تفوق اور کچھ کو زیردستی سے ہم کنار کرتی ہے۔ اگر خدا کی سنت کے بجائے کچھ لوگ تاریخ کے پروسیس کا نام لیتے ہیں تو اس سے حقیقت حال تبدیل نہیں ہوتی! اس کالم نگار کے تجزیہ کے مطابق طالبان کی بالادستی کے پانچ اسباب ہیں۔ اول۔ وہ اپنے نصب العین اور نظریات کے بارے میں کسی ابہام یا ذہنی کشمکش کا شکار نہیں۔ ہم انہیں غلط سمجھیں یا صحیح، یہ اور بات ہے۔ مگر وہ جس بات کو درست گردانتے ہیں اس پر مجتمع ہیں اور اس پر انہیں شرحِ صدرحاصل ہے ۔ یہ ذہنی یکسوئی ان کی مادی قوت کو زیادہ موثر کردیتی ہے۔ جس راستے کو وہ جنت کا راستہ سمجھ رہ...

بندہ پروری

بھارت کے موجودہ صدر پرناب مکرجی کا سیاسی کیرئیر چالیس سال سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے اور اس قدر بھرپور ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ سیاست اور حکومت دونوں میں شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہے جس میں ان کا تجربہ نہ ہو۔ پچیس سال کا تجربہ صرف وفاقی وزارتوں کا ہے۔ وہ صنعتی ترقی، جہازرانی، بینکاری، محصولات، تجارت، سٹیل، معدنیات، مالیات، خارجہ امور اور دفاع کے شعبوں کے وزیر رہے۔ پانچ سال پلاننگ کمیشن کے سربراہ رہے۔ راجیہ سبھا میں لیڈر آف ہائوس رہے۔ مختلف وقتوں میں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور افریقی ترقیاتی بینک کے بورڈ آف گورنرز میں رہے۔ کانگریس کی انتخابی مہم کے سربراہ رہے۔ مغربی بنگال میں کانگریس کے چیئرمین رہے۔ سارک وزراء کونسل کے صدر رہے۔ آل انڈیا کانگریس کے جنرل سیکرٹری اور مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین رہے۔ آٹھ سال لوک سبھا میں لیڈر آف ہائوس رہے۔ پانچ کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں دو Emerging Dimensions of Indian Economy اور Challenge Before Nation خاصی معروف ہیں۔ پرناب مکھر جی سے پہلے پرتاب پٹیل صدر تھیں۔ یہ بھارت کی بارہویں صدر تھیں۔ یہ خاتون ستائیس سال کی عمر میں ریاست ...

سورہ کہف

اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ریلوے کے محکمے سے بھتہ مانگا گیا ہے اور یہ خبر خود ریلوے کے وزیر نے دی ہے۔ یہ کالم نگار کئی ہفتوں سے اس نقار خانے میں مسلسل چیخ رہا ہے کہ بھتہ اور اغوا برائے تاوان کا سرطان بڑے شہروں سے چھوٹے شہروں میں بھی پہنچ چکا ہے۔ حکمرانی کی اصل امن وامان ہے۔ باقی سب فروع ہیں۔ مریض کی سانس ہی بحال نہیں ہورہی تو زرق برق لباس پہنانے سے فائدہ ؟ بلٹ ٹرین کے بغیر گزارا ہوسکتا ہے لیکن پہلے اتنا تو ہوکہ لوگ خوف کے بغیر گھروں سے نکل سکیں اور معاشرے پر موت کی دہشت نہ طاری ہو۔ آج ریلوے کے محکمے سے بھتہ مانگا گیا ہے، کل پی آئی اے کی باری آئے گی۔ پھر ٹیلی فون کا محکمہ اور پھر وزارتیں براہ راست۔ خدا نہ کرے ایسا ہولیکن کیا کوئی سوچ سکتا تھاکہ ایک وفاقی محکمے سے جو ملک بھر میں پھیلا ہواہے بھتہ مانگا جائے گا اور اس کی خبر وفاقی وزیر خود دے   ع چمن تک آگئی دیوار زنداں! ہم نہ کہتے تھے؟ ریلوے کے وفاقی وزیر نے یہ بھی بتایا ہے کہ بھتہ مانگنے کی ٹیلی فون کال کا خفیہ ایجنسی نے سراغ لگایا تو وہ افغانستان کی نکلی گویا بقول مومن ؔ   ؎ کوئی تیر اس کا شاید رہ گیا تھا اپنی آنکھوں میں...

قلعہ

کینیڈا کے رچرڈ اور آئر لینڈ کی میری نے، جو میاں بیوی تھے، اسلام قبول کیا تو مسلمان ملکوں کی سیر کو چل نکلے۔ ان کے ذہنوں کے کسی دور افتادہ گوشے میں یہ پہلو بھی تھا کہ عالم اسلام کا کوئی حصہ بھایا تو وہاں مقیم بھی ہوجائیں گے۔  مشرقِ وسطیٰ کے کچھ ملکوں کی تقدیس مسلّم، مگر جو سلوک وہاں غیر ملکیوں سے ہوتا ہے، بے شک وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو، اس نے خاصی حوصلہ شکنی کی اور وہاں رہنے کا خیال انہوںنے جھٹک دیا۔ بحث و تمحیص اور تجربوں اور مشاہدوں کی چھلنی سے گزر کر فہرست دو ملکوں تک محدود ہو کر رہ گئی۔ مصر اور پاکستان۔ میری مصر میں آباد ہونا چاہتی تھی۔ بحیرہ روم کی آب و ہوا، عرب ثقافت اور یورپ کا قرب مگر رچرڈ کی سوئی پاکستان پر اٹکی ہوئی تھی۔ واحد مسلمان ملک جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا۔ واحد مسلمان ملک جو اسلام کا قلعہ کہلاتا ہے اور واحد مسلمان ملک جو نیوکلیئر طاقت ہے اور دنیائے اسلام کی طاقت ور ترین فوج رکھتا ہے! چند ماہ قاہرہ اور سکندریہ میں گزارنے کے بعد انہوں نے پاکستان کا رُخ کیا۔ کراچی اترنے کے بعد سب سے پہلا مثبت پہلو جو میری نے نوٹ کیا، انگریزی زبان کی مقبولیت تھی۔ دکانوں کے سائن بو...

چُوڑیاں

پیر ودھائی موڑ سے جیسے ہی میں راجہ بازار والی سڑک پر چڑھا نظر دائیں طرف ہجوم پر پڑی اور دفعتاً میں نے اسے پہچان لیا۔ اس کی جتنی تصویریں دیکھی تھیں، سب میں اس کے سر پر تاج تھا۔ اب اس نے چادر لپیٹی ہوئی تھی لیکن چہرے پر جلال اور آنکھوں میں غیر معمولی عقابی چمک نے میرے وجدان کی مدد کی اور مجھے یقین ہوگیا کہ یہ وہی ہے اور پھر چند ثانیوں میں اسے معلوم ہوگیا کہ کوئی اسے بغور دیکھ رہا ہے۔ یہی آسمانی ذہانت اس سے متوقع بھی تھی۔ یہی ذہانت تھی جس نے کئی بار اسے موت کے منہ سے نکالا۔ جس دن وہ کئی سو مہمانوں کے ساتھ باہر کے دسترخوان میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس کی پلیٹ میں گوشت کا ایک ٹکڑا سخت تھا۔ اس نے تلوار نکال لی اور اسے کاٹا۔ عین اسی لمحے بابر کی نظر اس پر پڑی۔ ساتھ بیٹھے ہوئے ایک کمانڈر سے بابر نے سرگوشی کی۔ ’’یہ شخص خطرناک ہے۔ کھانے کے بعد کسی بہانے اسے روک لو۔ ‘‘ وہ بھی دیکھ رہا تھا۔ اس پر دو اور دو چار کی طرح واضح ہوگیا کہ یہ سرگوشی اسی کے بارے میں ہے اور خیریت کی نہیں ہے۔ اولین موقع پاتے ہی وہ وہاں سے نکلا اور پھر جب آگرہ لوٹا تو شہر اس کے قدموں میں ڈھیر تھا! میں جیسے ہی قریب گیا، ایک دلآویز ...

ریموٹ کنٹرول

                  یہ سارا سلسلہ جوتم دیکھ رہے ہو، یہ بڑے بڑے دفتر، یہ کارخانے، یہ دوردورتک پھیلے کھیت، یہ انگریزوں کے متروکہ محلات جوکئی کئی سو ایکڑوں پر محیط ہیں، یہ سب میرے تصرف میں ہیں۔ بس یوں سمجھو یہ میری این جی او ہے۔  ایک بڑا حصہ تو میں نے اپنے بھائی کے سپرد کردیا ہے۔ اس کا انداز سربراہی بھی دلچسپ ہے۔ اسے کسی منیجر ، کسی نائب ناظم کی ضرورت نہیں پڑتی۔ سب کچھ وہ اپنی مٹھی میں رکھتا ہے۔ سوئی سے لے کر ہاتھی تک۔ نچلے ملازم سے لے کر چیف ایگزیکٹو تک ہر شے اس کے اختیار میں ہے۔  جو حصہ اس کے دائرہ کار میں ہے، وہ بھی باقی حصوں کی طرح، غیرمحفوظ ہے۔ کھیتوں سے بھیڑبکریوں کو درندے اٹھا لے جاتے ہیں ۔ کارخانے چلانے والوں سے ڈاکو سب کچھ چھین لیتے ہیں، لیکن بھائی کے اعصاب اس قدر مضبوط ہیں کہ اسے کچھ پروا نہیں۔ اس کے برعکس وہ ہرطرف ، ہرجگہ دوڑتا پھرتا ہے۔ یوں جیسے سخت مصروف ہو۔ تقریریں کرتا ہے تو ثابت کردیتا ہے کہ وہ کرۂ ارض کا بہترین منتظم ہے۔ ایک کام اور اس نے کمال کا کیا ہے۔ اپنے فرزند کو سینئر اور تجربہ کار منیجروں کے اوپر بٹھادیا ہے۔ کچ...