اشاعتیں

کالم

مجیب الرحمان شامی کے اعترافات

تیس بتیس سال کے اس نوجوان کو دیکھیں تو یہی لگتا ہے کہ ہزاروں دوسرے لڑکوں کی طرح یہ بھی چودہ یا سولہ جماعتیں پاس کرکے کہیں ملازمت کر رہا ہوگا۔لیکن ایسا نہیں، اجمل شاہ دین نے اس بالی عمر یا میں بنکاری پر دنیا کا دوسرا اور پاکستان کا پہلا روزنامہ جاری کیا ہے۔اس انگریزی اخبار کا مالک تو وہ ہے ہی، ایڈیٹر بھی خودہے۔ پاکستانی صحافت میں پہلا Syndicate  (سنڈی کیٹ) بھی اسی نے شروع کیا اور کالم نگاروں کو کاپی رائٹ حقوق میسر آئے۔ اپنے مرحوم سسر مظفر محمد علی کی کتاب ” پاکستانی صحافت کے رازدان صحافی“ شائع کرکے اب اس نے ایک اور کارنامہ سرانجام دیا ہے۔مظفر محمد علی، خدا اُن کے درجات بلند کرے اور ان کی لغزشوں سے درگذر فرمائے۔ انٹرویو لینے کا ہنر جانتے تھے اور جس کا انٹرویو لیتے تھے، اُس کے اندر سے سب کچھ نکال لیتے تھے۔اس کتاب میں اثر چوہان، سعید آسی، حامد منیر سلیم بخاری، مجیب الرحمان شامی اور حسن نثار جیسے صفِ اول کے صحافیوں کے انٹرویو ہیں لیکن انہیں انٹرویوکہنا ایک سرسری بات ہے سچ تو یہ ہے کہ راز ہائے درونِ میخانہ پر مشتمل یہ کتاب پاکستان کی تاریخ ہے اور اس میں وہ تاریخ ہے جو تاریخ کی کتابوں ...

تم اگر خودکشی نہ کرتیں تو کیا کرتیں؟

تم ایک علامت ہو تم صدیوں کی غلامی کی علامت ہو تم علامت ہو اس حقیقت کی کہ جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات کے سوا کچھ  نہیں ہو سکتی تم اگر خودکشی نہ کرتیں تو کیا کرتیں؟ تمہارے ہم وطنوں کے پاس کوئی ایسی فوج نہیں تھی جو امریکہ پر حملہ کر سکتی‘انکے پاس ایئر کرافٹ کیریر تھے‘ نہ ڈرون‘ ڈیزی کٹر بم تھے‘ نہ کیمیائی ہتھیار۔ یہ سب تو دور کی باتیں ہیں‘ تمہارے ہم وطنوں کے پاس تو کچھ بھی نہیں‘ کھاد سے لے کر چینی تک‘ گندم سے لے کر دودھ تک‘ دواﺅں سے لے کر ہر قسم کی مشینری تک‘ کار سے لے کر ریفریجریٹر تک‘ جہاز سے لے کر آبدوز تک‘ ہر شے کیلئے وہ دوسروں کے دست نگر ہیں‘ جو قوم کبھی ڈالروں کیلئے جھولی پھیلاتی ہے اور کبھی یورو کیلئے‘ وہ تمہارے لئے کیا کر سکتی تھی! اچھا ہوا تم نے خودکشی کرلی۔ تم اگر خودکشی نہ کرتیں اور زندہ رہتیں تو یقین کرو تم ایسے ایسے دکھ اٹھاتیں کہ تمہارے چاہنے والے تمہیں دیکھ کر انگاروں پر لوٹتے‘ تم اس قوم کی بیٹی ہو جس کے رہنماءچھینک اور زکام کیلئے انگریزوں کے وطن میں جاتے ہیں‘ انکے کارخانے‘ انکے محلات‘ انکی اولاد‘ سب کچھ انہی گوروں کے پاس ہے‘ جن کے ظلم اور دھاندلی کیخلاف احتجاج کر...

غلیل اور لیپ ٹاپ

ہم  لوگ اتنے قنوطی ہو چکے ہیں کہ خدا کی پناہ   ہر معاملے میں ناشکری، ہر بات پر شکوہ اور شکایت، ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں نہ اپنی خوش قسمتی ہمیں نظر آتی ہے۔ ہم ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ آدھا گلاس خالی ہے۔ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ آدھا گلاس پانی سے بھرا ہے۔ ہماری حالت اُس مایوس شخص جیسی ہے جسے اُسکے بیٹے نے خوش ہو کر بتایا کہ ہمارا کتا پانی پر چل سکتا ہے۔ اُس نے بُرا سا منہ بنا کر کہا کہ کاش! وہ تیر سکتا!لیکن میں نے یہ رویہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں اب کُڑھنے اور جلنے کے بجائے ہر بات کا روشن پہلو دیکھا کروں گا۔ اس صحت مند رویے کا آغاز میں نے آج ہی سے کر دیا ہے۔ مجھے علی الصبح خبر ملی کہ بلوچستان کے ضلع جعفرآباد میں راکٹ کے حملے سے پورے کا پورا خاندان موت کے گھاٹ اتر گیا۔ یہ دو دن پیشتر کا واقعہ ہے۔ کچھ محب وطن افراد نے راکٹ چلائے جن میں سے ایک فلّو خان کے گھر کی چھت پر پھٹا۔ اسکی بیوی مائی خاتون اور چاروں بیٹیاں موقع ہی پر ہلاک ہو گئیں۔ دیکھئے اس خبر میں کتنا روشن پہلو ہے۔ خدا کا شکر ہے میں بلوچستان میں نہیں ہوں اور راکٹوں کے حملے سے بچا ہوا ہوں۔ کراچی کے علاقے کھارا...

غیب سے کوئی سوار

گزشتہ ہفتے عجیب خبر پڑھنے کو ملی‘ کویت کے قومی دن کی تقریب میں مہمان خصوصی ہمارے وزیر ریلوے تھے! اس میں عجیب پہلو یہ تھا کہ کویت میں ریلوے کا وجود ہی نہیں۔ کویت میں ریلوے نہ ہونے کا سبب نہیں معلوم لیکن پڑوسی ملک افغانستان میں ریلوے نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ وہاں برطانیہ کی حکومت نہیں رہی‘ جس طرح سانپ اور بچھو کو قدرت نے بلا سبب نہیں پیدا کیا اور ان میں بھی کچھ فوائد رکھے ہیں‘ اسی طرح استعمار کے بھی کچھ فوائد تھے۔ انگریز آئے تو اپنے ہمراہ ادارے بھی لائے‘ سب سے بڑا ”ادارہ“ محنت کا تھا۔ محنت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ کلائیو اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا تھا جبکہ سراج الدولہ سمیت ہندوستانی حکمران دلہنوں کی طرح پالکیوں پر سفر کرتے تھے اور میدان جنگ میں بیگمات کی رفاقت ازبس ضروری تھی۔ بہادر شاہ ظفر کے دور ”حکومت“ میں سر مٹکاف دہلی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا نمائندہ تھا‘ اس زمانے کے لکھے گئے روزنامچوں اور ڈائریوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سخت گرمی میں مٹکاف اور اسکے ماتحت ساڑھے سات بجے صبح اپنی اپنی ڈیوٹی پر پہنچ جاتے تھے۔ دوپہر سے پہلے یہ لوگ اپنے کام کا ایک حصہ ختم کر چکے ہ...

جنازہ گاہ اور لنڈن سکول آف اکنامکس

جنازہ گاہ لوگوں سے بھر چکی تھی۔ بہت سے ابھی تیز تیز قدموں سے آ رہے تھے۔ امام کے مصلے پر ایک نوجوان کھڑا تھا۔ مولوی صاحب نے شرکائے غم کو بتایا کہ یہ نوجوان مرحومہ کا پوتا ہے اور اپنی دادی کی نماز جنازہ خود پڑھائے گا۔ مرکزی حکومت کے سینئر بیوروکریٹ عبدالبصیر کا یہ سعادت مند فرزند ’نعمان‘ پیشہ ور نماز پڑھانے والا نہ تھا۔ وہ لندن سکول آف اکنامکس کا فارغ التحصیل ہے اور اعلیٰ عہدے پر فائز ہے۔ اس نے نماز جنازہ پڑھا کر یہ ثابت کیا کہ اس کام کیلئے کسی مخصوص فرد کی احتیاج قطعاً ضروری نہیں۔ یہ کام تو ہر وہ شخص کر سکتا ہے جو مسلمان ہے اور اپنے فرائض سے آگاہ ہے۔ مو لوی صاحب نے اس کا تعارف کراتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ اصولی طور پر جنازے کی نماز وارث کو پڑھانی چاہئے لیکن افسوس کی بات ہے کہ لوگوں نے خود ’’مو لوی‘‘ پر انحصار کیا ہوا ہے اور پھر لعن طعن بھی مولوی ہی کو سننا پڑتی ہے۔ اس انحصار بلکہ محتاجی ہی کا نتیجہ ہے کہ اب ان پڑھ قسم کے ملا یہ دھمکی عام دیتے ہیں کہ آخر مولوی سے بچ کر کہاں جائو گے؟ نکاح اور جنازہ تو مولوی ہی نے پڑھانا ہے! سنجیدہ علماء کرام نے ہمیشہ عوام کو یہی تلقین کی ہے کہ اپنے بچوں...

صدر اوباما شاہ پور میں

چار سال سے محراب خان روزگار کی تلاش میں تھا۔ لیکن چترال میں روزگار کہاں! جہاں زراعت ہے نہ تجارت! سال کا بڑا حصہ برف کی حکومت ہوتی ہے اور برف نہ بھی ہو تو کیا ہے؟ کارخانے نہ کھیت، یونیورسٹیاں نہ ادارے، ایک بار تو اس نے ادھار مانگا اور گرمیوں میں پشاور پہنچ گیا، لیکن نوکری کیلئے جہاں جاتا، آدھا درجن مہاجر پہلے موجود ہوتے، جوں توں کرتا، اٹک کے اس طرف آیا، اسلام آباد کی سبزی منڈی میں سر پر ٹوکرا رکھ کر کام کرتا رہا، لیکن ایک تو بڑھاپا تھا، دوسرے، جو چند سکے ملتے تھے اتنے نہ تھے کہ وہ چترال بھیج سکتا۔ بالآخر اس نے واپس چترال جانے کا فیصلہ کیا۔ بغیر کرائے کے اور بغیر کھائے پیئے وہ پنڈی سے چترال کس طرح پہنچا؟ یہ ایک الگ کہانی ہے اور کبھی اہل وطن کو سنائی جائیگی لیکن آج نہیں! چار سال کے بعد گزشتہ ماہ محراب خان کو اس کے ایک دور کے رشتہ دار نے راولپنڈی سے اطلاع دی کہ تمہارے لئے نوکری کا بندوبست ہو گیا ہے۔ فوراً پہنچو، چھ ہزار روپے ماہانہ، ساتھ رہائش اور تین وقت کا کھانا۔ محراب خان خوشی سے پاگل ہو رہا ہے۔ وہ کم از کم چار ساڑھے چار ہزار روپے ہر ماہ بال بچوں کو بھیج سکے گا لیکن یہ وہ بات نہیں جو ی...

مکھی کی تھوک

بزرگ فیض شناس اشفاق سلیم مرزا کا خیال تھا کہ فیض ساری زندگی کی رجائیت پسندی کے بعد عمر کے آخری حصے میں یاس کا شکار ہو گئے تھے۔ اس پر یہ فقیر بات کرنا چاہتا تھا لیکن خورشید ندیم نے اعلان کیا کہ وقت ختم ہو گیا ہے۔ ٹیلی ویژن کے پروگراموں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ پروگرام کرنیوالے کو ایک ایک لحظے کا حساب دینا پڑتا ہے۔ فیض صاحب اگر زندگی بھر رجائیت پسند رہے تو یہ ان کا اپنا قصور تھا۔ لیکن اصل مسئلہ فیض صاحب کا نہیں ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ کب پرامید تھے اور کب مایوسی انہیں آنکھ مارتی تھی اصل مسئلہ اور ہے …؎ نظر آتا ہے جو کچھ اصل میں ایسا نہیں ہے مگر تم نے میری جاں! مسئلہ سمجھا نہیں ہے سوال یہ ہے کہ کیا برصغیر میں انقلاب کی روایت موجود ہے؟ جب یہاں ایسی کوئی روایت ہی موجود نہیں تو رجائیت پسندی کی کیا بنیاد ہے؟ کچھ نہیں! کچھ بھی نہیں! مغل سلطنت اپنے عروج پر تھی۔ برما کے ساحلوں سے لے کر خراسان کے سلسلہ ہائے کوہ تک۔ بادشاہ اپنے پسندیدہ کفش برداروں کو سونے چاندی میں تولتے تھے۔ اس وقت پوری مغل سلطنت کی دولت کا ایک چوتھائی حصہ چھ سو افراد کی ملکیت میں تھا! چھ سو سے بھی کم! اکثریت لنگوٹی ...

Australia : Too decadent for Muslims ?

I am hurt.  When they talk of banning burqa, of course as a Muslim I am hurt. That wearing burqa has never been irremissible in Islam, is known to all and sundry. It has always been a controversial issue. A considerable number of Islamic jurists do not support it. Millions of Muslim women do not practice it. Millions of Muslim women, cutting crops in agricultural fields, picking cotton in South Pakistan, handling herds in Central Asian pasturelands, teaching in universities, working in banks and elsewhere do not wear burqa nor hijab. Billions of Muslim women, while performing pilgrimage in Holy Mecca, have never, and will never, cover their faces. Yet, when they talk of banning burqa, as a Muslim I am hurt. I hear that a rally is being organized to protest against the abortive bill, which was moved to ban burqa. The sense of allegiance sends me there. I hear speeches. The speakers, one after another, come and slate the flawed western secular values. There are two ...

غیرت اور موسمی پرندہ

وہ ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر لیٹی ہوئی تھی۔ بے پناہ درد سے اس کا منہ نیلا اور پھر پیلا ہو رہا تھا۔ پورے بدن پر کپکپی طاری تھی ارد گرد گاڑیوں کا سمندر تھا۔ کوئی گاڑی حرکت نہیں کر رہی تھی۔ باپ نے بے بسی سے اسے دیکھا۔ پھر رکی ہوئی گاڑیوں کے بے کنار سمندر کو دیکھا۔ ماں اسکی ہتھیلیاں مل رہی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ تھوڑی دیر بعد اس نے آخری ہچکی لی۔ سائرن کی آوازیں آئیں۔ کہیں دور سے تیز رفتار گاڑیوں کا طوفانی قافلہ گزر رہا تھا۔ خدا خدا کر کے ٹریفک کا ٹھہرا ہوا دریا رواں ہوتا ہے۔ ٹیکسی جناح ہسپتال پہنچتی ہے۔ ’’افسوس! آپ کچھ دیر پہلے پہنچتے تو جان بچ سکتی تھی‘‘ ڈاکٹر مظلوم اور مجبور باپ کو بتاتے ہیں۔ یہ دلخراش واقعہ 29 مارچ2006ء کو پیش آیا۔ ظل ہما کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کی ہونہار طالبہ تھی۔ اس دن کراچی شہر میں صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف آئے ہوئے تھے۔ انکی جان کی حفاظت کیلئے کراچی کے راستے بند کر دیئے گئے تھے۔ جو گاڑی جہاں تھی وہیں روک دی گئی تھی۔ ظل ہما کے پیٹ میں درد اٹھا اور اسکے ماں باپ اسے ٹیکسی میں لٹا کر ہسپتال کی طرف بھاگے لیکن راستے تمام بند تھے۔ وہ ...

کوئی ان کو بتائے

کوئی زین العابدین بن علی سے، حسنی مبارک سے، بشار الاسد سے، مراکش اور اردن کے بادشاہوں سے کہے کہ سادہ لوح حکمرانو! تم میں ذرا بھی عقل ہوتی تو آج تمہاری کشتیاں منجدھار میں نہ ہوتیں، تمہیں جان کے لالے نہ پڑے ہوتے اور تمہارے شہروں میں باغیوں کے جلوس نہ نکل رہے ہوتے۔  افسوس! تم طفلان مکتب نکلے۔ تم ’’سیاست‘‘ کی ابجد سے بھی نابلد ہو! ذہانت تمہارے دماغوں میں نہیں، ٹخنوں میں ہے تم میں اتنی بھی دور اندیشی نہیں جتنی پاکستانی سیاست دانوں کے پالتو جانوروں میں ہے۔ اے مشرق وسطیٰ کے تیرہ بخت حکمرانو! کاش تم پاکستان کے مقتدر طبقات کے سامنے زانوائے تلمذ تہہ کرتے اور سیکھتے کہ اقتدار کو دوام کس طرح بخشتے ہیں، بھوک سے بلکتی ’رعایا‘ کو مطمئن کس طرح کرتے ہیں اور جمہوریت کے نام پر بادشاہی کس طرح کرتے ہیں! اے حسنی مبارک! تمہیں تو صرف تیس سال ہوئے ہیں تخت پر بیٹھے، اے بشار الاسد! تم تو جمعہ جمعہ آٹھ دن کے لڑکے ہو، دس سال ہوئے ہیں تمہیں تاج پہنے اور اگر تیس سال تمہارے باپ کے بھی شامل کئے جائیں تب بھی یہ مدت چالیس سال سے زیادہ نہیں بنتی اور اے زین العابدین ابن علی! تمہاری قسمت توکتے والے کاف کے ساتھ ک...