اشاعتیں

مارچ, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کالم

ایک دن گاؤں میں

اب کے گاؤں کئی ماہ بعد جانا ہوا۔ تیل کے کئی کنویں کامیابی سے چل رہے ہیں۔ گاؤں کے بالکل پاس‘ کھیتوں کے درمیان‘ ایک فلک بوس‘ مینار نما مشین دیکھ کر معلوم ہوا کہ مزید کھدائیاں اور تلاش جاری ہے۔ یہ ساٹھ باسٹھ سال پہلے کی بات ہے۔ میں گیارہویں بارہویں جماعت میں پڑھتا تھا اور گرما کی تعطیلات میں گاؤں آیا ہوا تھا۔ میں اور وہ عمر رسیدہ‘ تہمد پوش شخص‘ جو میرے دادا تھے اور جن کی زندگی فقہ اور فارسی ادب کی تدریس میں گزری تھی‘ گاؤں سے باہر ایک پہاڑی پر کھڑے تھے۔ سامنے گاؤں تھا اور گاؤں کے پار دور حدِ نظر تک ایک وسیع و عریض منظر! ان کی نظر اس منظر پر تھی۔ انہوں نے ایک بات کہی‘ آہستہ‘ نرم جیسے مجھ سے نہیں اپنے آپ سے کہہ رہے ہوں ''یہ ساری زمین کشتی نما ہے‘ اس کے نیچے تیل ہے‘ جو منطقہ کشتی نما ہو‘ وہاں تیل ہوتا ہے‘‘۔ چند برس بعد وہ دنیا سے اٹھے اور سعدی اور نظامی سے جا ملے۔ میں تعلیم سے فارغ ہوا۔ ملازمت کے مراحل طے کیے۔ بچوں کی شادیاں کیں۔ ریٹائر ہوا۔ پوتوں‘ نواسوں‘ پوتیوں‘ نواسیوں کی نعمت سے...

خواب اور خواب کی تعبیر بتانے والے

بہت حسرتیں ہیں آپ کے دل میں! آپ کا دل چاہتا ہے اتنی استطاعت ہو کہ اپنے بے گھر ملازم کو چھوٹا سا گھر بنوا دیں۔ آپ کی تمنا ہے کہ ہر روز سینکڑوں مستحقین کو کھانا کھلائیں۔ آپ کی خواہش ہے کہ غریب بچوں کے لیے ایک معیاری سکول قائم کریں جہاں تعلیم مفت ہو۔ آپ کو حسرت ہے کہ بہت سے یتیم بچوں کو اپناکر ان کی بیچارگی کا مداوا کریں۔ آپ کا خواب ہے کہ دور افتادہ بستیوں میں جا کر کنوئیں کھدوائیں یا پانی کی سپلائی کا کوئی بندوبست کریں۔ مگر افسوس! آپ میں اتنی مالی سکت نہیں کہ ان سب خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کر سکیں! یہ تو وہ نیکیاں ہیں جو آپ کی پہنچ سے دور ہیں! سوال یہ ہے کہ جو کچھ آپ کی استطاعت میں ہے‘ کیا وہ آپ کر رہے ہیں؟ آپ آسمان پر جا کر کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ کیا زمین پر جو کام ممکن ہیں‘ کر چکے ہیں؟ پروردگار بندے کی طاقت‘ سکت اور استطاعت سے زیادہ اس پر بوجھ نہیں ڈالتا۔ ایک ارب پتی ‘ ہزار افراد کی دستگیری کر رہا ہے اور ایک مڈل کلاسیا ایک یا دو افراد کی مدد کر رہا ہے تو دونوں کو نیت کا بدلہ ملے گا جو برابر ہو گا۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم خواب بڑے بڑے دیکھتے ہیں اور جو ک...

لائبریریاں یا پروٹوکول؟؟

عارف صادق پرانے دوست ہیں۔ ایک مدت سے سڈنی میں مقیم ہیں۔ آسٹریلیا کی سرکار میں اچھے عہدے پر کام کرتے رہے۔ گپ شپ کے دوران انہوں نے ایک بار قصہ سنایا کہ ان کے محکمے کے وزیر ان کے دفتر کے معائنے کیلئے تشریف لائے۔ وزیر صاحب اپنی گاڑی خود ہی چلا کر آئے۔ نیچے پارکنگ میں ان کے استقبال کیلئے بندہ بشر کوئی بھی نہ تھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئے۔ دروازہ کھولا اور عارف صادق صاحب کے دفتر میں آ گئے۔ کوئی ماتحت‘ کوئی معاون‘ کوئی سیکرٹری‘ کوئی چپڑاسی ہمراہ نہ تھا۔ دفتر میں بیٹھ کر جو بھی معاملات طے کرنے تھے‘ کیے۔ جو امور ایجنڈے پر تھے‘ ان پر بات چیت کی۔ کام ختم ہوا تو اٹھے‘ ہاتھ ملایا اور رخصت ہو گئے۔ وزیر صاحب اور عارف صادق صاحب کو فی الحال ان کے حال پر چھوڑتے ہیں۔ ذرا لائبریریوں کی بات کرتے ہیں۔ جیلانگ آسٹریلیا کا چھوٹا سا شہر ہے۔ اس کی ایک لائبریری میں جانا ہوا۔ پانچ منٹ میں ممبر شپ کارڈ بن گیا۔ لائبریرین نے بتایا کہ جیلانگ میں 19 لائبریریاں ہیں‘ آپ یہ کارڈ کسی بھی لائبریری میں استعمال کر سکتے ہیں۔ کسی ایک لائبریری سے لی ہوئی کتابیں کسی بھی دوسری لائبریری...

ہے نا تماشے والی بات؟؟

اس جنگ میں کئی فریق ہیں۔ دو بڑے فریق تو ظاہر ہے وہ دو پارٹیاں ہیں جو جنگ لڑ رہی ہیں۔ ایک طرف ایران ہے جس پر حملہ کیا گیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل ہے اور امریکی حکومت‘ جو حملہ آور ہیں۔ امریکی حکومت اور اسرائیل ایک ہی فریق ہیں۔ یہ ایکتا ایسی حقیقت ہے جس سے اسرائیل انکار کرتا ہے نہ امریکی حکومت۔ بلکہ یہ کہنا مشکل ہے کہ حملہ امریکہ نے کیا ہے اور اسرائیل اس کا معاون ہے یا حملہ اسرائیل نے کیا ہے اور امریکہ اس کی پشتیبانی کر رہا ہے۔ گویا: پا بدستِ دگری‘ دست بدستِ دگری۔ یا انور مسعود صاحب کے بقول: تری باہیں مری باہیں‘ مری باہیں تری باہیں۔ تیسرا فریق اس جنگ میں شرقِ اوسط کی عرب حکومتیں ہیں جو اس جنگ کے دوران بری طرح پھنسی ہوئی ہیں۔ یہ حکومتیں امریکہ کی اتحادی ہیں۔ اس اتحاد کی متعدد وجوہ ہیں۔ سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان ریاستوں نے تعلیم اور سائنس کی طرف توجہ نہیں دی۔ چونکہ دولت بہت تھی اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ دفاع بھی خریدا جائے۔ دوسری وجہ امریکہ کا سہارا لینے کی وہ پالیسی تھی جو ایران نے انقلاب کے حوالے سے اپنائی۔ یہ ایک جارحانہ پالیسی تھی کہ انقلاب کو بر آمد کیا جائے گا۔ جنر...

ثقافت کا نقصان اور ملکیت کا جھگڑا

گھر کے پچھلے حصے میں ‘ ایک کمرہ بقیہ مکان سے الگ تھلگ ہے۔اس کمرے میں ایک طرف رائٹنگ ٹیبل ہے جس کے سامنے کرسی ہے۔ اس پر فرزند ارجمند بیٹھ کر اپنا کام کرتے ہیں۔ دوسری طرف ایک صوفہ ہے۔ دو نشستوں والا جسے ‘ فرنگی لغت میںTwo seater کہا جاتا ہے۔ یہ ٹُو سیٹر صوفہ اس فقیر کا رائٹنگ ٹیبل بھی ہے اور کرسی بھی۔ اس کے ساتھ میز کی ضرورت کبھی نہیں پڑی۔ کاغذ قلم بھی صوفے پر ہی رکھ دیے جاتے ہیں۔ ویسے اگر اس صوفے کے سامنے میز ہو بھی تو خالی کہاں رہے گا! یہی تو اہلیہ محترمہ کو شکوہ ہے کہ کوئی میز ہو ‘ الماری ہو‘ کافی ٹیبل ہو‘شیلف ہو‘ دیوان ہو‘ دیکھتے ہی دیکھتے کتابوں سے لد جاتا ہے اور پھر خالی کبھی نہیں ہوتا۔ یہ شکوہ کم از کم میں‘ بذات خود‘ بنفس نفیس‘ تین نسلوں سے سُن رہا ہوں۔ دادی جان یہی شکوہ ذرا کھردرے لفظوں میں کرتی تھیں۔ کتابوں اور رسالو ں کے لیے وہ ''پھڑکے‘‘ کا لفظ اور دادا جان کے لیے ''بھاگوان‘‘ کا لفظ استعمال کرتی تھیں۔ ''بھاگوان جدھروں آنا‘ پھڑکے گھِدی آنا‘‘ یعنی جدھر سے...

کھڑک سنگھ ہے یا نادر شاہ؟؟

تہران اور امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کا درمیانی فاصلہ دس ہزار دو سو کلو میٹر ہے۔ قریب ترین شہر نیویارک ہے جو مشرقی ساحل پر ہے۔ یہ تہران سے 9879کلو میٹر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کی لڑائی میں امریکی سرزمین محفوظ ترین مقام ہے۔ چند امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے علاوہ امریکہ کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ امریکہ شاد ہے‘ آباد ہے‘ زندگی معمول پر ہے‘ کوئی بمباری نہیں۔ کوئی میزائل نہیں‘ کوئی افراتفری نہیں۔ اشیائے خور و نوش کی قلت نہیں۔ کوئی سراسیمگی نہیں۔ منی سوٹا سے لے کر فلوریڈا تک‘ نیویارک سے لے کر لاس اینجلس تک‘ زندگی اپنی دلچسپیوں کے ساتھ پوری طرح رواں دواں ہے۔ سکول‘ کالج‘ کلب‘ ڈسکو‘ طرب گاہیں‘ بازار سب کھلے ہیں۔صدر ٹرمپ ان کے رشتہ دار‘ ان کے رفقائے کار‘ ان کے احبا‘ سب مزے میں ہیں۔ مالی نقصان کے علاوہ ایران امریکہ کا اب تک کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ امریکہ ایک بڑی معیشت ہے۔ عظیم الجثہ۔ قوی ہیکل۔ دیو نما۔ قرضوں کے باوجود اس کی معیشت کو کوئی دھچکا نہیں لگتا۔ ہم جذباتی قوم ہیں۔ شادیانے بجا رہے ہیں کہ ایک ایک ...

گھر اپنا، چوکیاں کسی اور کی!!

دبئی ایک طرب گاہ تھی۔ دبئی ایک پناگاہ تھی۔ دبئی ایک سیر گاہ تھی۔ دبئی ایک پکنک سپاٹ تھا۔ دبئی ایک ٹکسال تھا جہاں سونے اور چاندی کے سکے ڈھلتے تھے۔ دبئی ایک ارضِ موعود (Promised Land) تھا جہاں گورے‘ کالے‘ گندمی‘ زرد سب رہ رہے تھے اور آئے جا رہے تھے۔ دبئی ایک جنکشن تھا جہاں منٹ منٹ جہاز اترتے تھے اور لمحہ لمحہ جہاں سے اڑتے تھے۔ دبئی دنیا کا جغرافیائی مرکز نہ سہی‘ سنہری مواقع کا مرکز تھا۔ مگر آج وہی دبئی ایک ہولناک صحرا میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جگہ جگہ سے دھواں اُٹھ رہا ہے‘ لوگ وہاں سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔ کل کی دلربا نازنین آج چڑیل دکھائی دے رہی ہے۔ خوبصورت زلف سانپ بن چکی ہے۔ شہد زہر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جہاں ہُن برستا تھا وہاں آگ اور نوکیلا لوہا برس رہا ہے۔ جو آسمان ہر وقت دھنک دکھاتا تھا اب میزائلوں سے بھرا ہے۔ ''اور باقی صرف تمہارے پروردگار کی ذات رہے گی جو بڑی شان اور عظمت والا ہے‘‘۔ یہ لکھنے والا ایک بار یورپ سے پاکستان واپس آرہا تھا۔ جہاز کی منزل دبئی تھی جہاں سے دوسرے جہاز میں بیٹھنا تھا۔ جہاز میں مسافروں ک...

پیرِ تسمہ پا

رشید امریکہ میں رہتا ہے۔ وہ لبنانی نژاد ہے۔ امریکہ میں اس کا کاروبار وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کا بیٹا امریکی پولیس میں ملازم ہے اور بیٹی امریکی وزارتِ تعلیم میں کام کرتی ہے۔ شکیل کا تعلق پاکستان سے ہے۔ اسے برطانیہ میں مقیم ہوئے پچیس برس ہو چکے ہیں۔ وہ ایک اعلیٰ سرکاری پوسٹ پر کام کر رہا ہے۔ بیٹا لندن کے ایک کالج میں لیکچرر ہے۔ بیٹی مانچسٹر میں وکالت کرتی ہے اور مقامی سیاست میں فعال ہے۔ سلیمان ترکی سے ہے اور آسٹریلیا میں رہ رہا ہے۔ بیس برس پہلے آکر اس نے شہریت حاصل کر لی۔ وہ ترکی سے سنگ مرمر درآمد کرتا ہے۔ اس کے بیٹے اسی کاروبار سے منسلک ہیں اور کامیاب ہیں۔ ان تین افراد کا آپس میں کوئی تعارف‘ کوئی تعلق نہیں۔ تینوں اپنی اپنی دنیا میں مگن ہیں۔ تاہم تینوں میں دو قدریں مشترک ہیں۔ پہلی یہ کہ تینوں مسلمان ہیں۔ دوسری یہ کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل نے جو مشترکہ حملہ کیا ہے‘ جس کے نتیجے میں ایران کے لیڈر خامنہ ای شہید ہو گئے ہیں‘ تینوں کو اس پر شدید رنج ہے۔ مگر خون کے گھونٹ پینے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ مسلمان‘ کسی مسلک کا ہو‘ کہیں بھی رہتا ہو‘ اس...