ایک دن گاؤں میں
اب کے گاؤں کئی ماہ بعد جانا ہوا۔ تیل کے کئی کنویں کامیابی سے چل رہے ہیں۔ گاؤں کے بالکل پاس‘ کھیتوں کے درمیان‘ ایک فلک بوس‘ مینار نما مشین دیکھ کر معلوم ہوا کہ مزید کھدائیاں اور تلاش جاری ہے۔ یہ ساٹھ باسٹھ سال پہلے کی بات ہے۔ میں گیارہویں بارہویں جماعت میں پڑھتا تھا اور گرما کی تعطیلات میں گاؤں آیا ہوا تھا۔ میں اور وہ عمر رسیدہ‘ تہمد پوش شخص‘ جو میرے دادا تھے اور جن کی زندگی فقہ اور فارسی ادب کی تدریس میں گزری تھی‘ گاؤں سے باہر ایک پہاڑی پر کھڑے تھے۔ سامنے گاؤں تھا اور گاؤں کے پار دور حدِ نظر تک ایک وسیع و عریض منظر! ان کی نظر اس منظر پر تھی۔ انہوں نے ایک بات کہی‘ آہستہ‘ نرم جیسے مجھ سے نہیں اپنے آپ سے کہہ رہے ہوں ''یہ ساری زمین کشتی نما ہے‘ اس کے نیچے تیل ہے‘ جو منطقہ کشتی نما ہو‘ وہاں تیل ہوتا ہے‘‘۔ چند برس بعد وہ دنیا سے اٹھے اور سعدی اور نظامی سے جا ملے۔ میں تعلیم سے فارغ ہوا۔ ملازمت کے مراحل طے کیے۔ بچوں کی شادیاں کیں۔ ریٹائر ہوا۔ پوتوں‘ نواسوں‘ پوتیوں‘ نواسیوں کی نعمت سے...