گھر اپنا، چوکیاں کسی اور کی!!
دبئی ایک طرب گاہ تھی۔ دبئی ایک پناگاہ تھی۔ دبئی ایک سیر گاہ تھی۔ دبئی ایک پکنک سپاٹ تھا۔ دبئی ایک ٹکسال تھا جہاں سونے اور چاندی کے سکے ڈھلتے تھے۔ دبئی ایک ارضِ موعود (Promised Land) تھا جہاں گورے‘ کالے‘ گندمی‘ زرد سب رہ رہے تھے اور آئے جا رہے تھے۔ دبئی ایک جنکشن تھا جہاں منٹ منٹ جہاز اترتے تھے اور لمحہ لمحہ جہاں سے اڑتے تھے۔ دبئی دنیا کا جغرافیائی مرکز نہ سہی‘ سنہری مواقع کا مرکز تھا۔ مگر آج وہی دبئی ایک ہولناک صحرا میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جگہ جگہ سے دھواں اُٹھ رہا ہے‘ لوگ وہاں سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ مستقبل تاریک نظر آرہا ہے۔ کل کی دلربا نازنین آج چڑیل دکھائی دے رہی ہے۔ خوبصورت زلف سانپ بن چکی ہے۔ شہد زہر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جہاں ہُن برستا تھا وہاں آگ اور نوکیلا لوہا برس رہا ہے۔ جو آسمان ہر وقت دھنک دکھاتا تھا اب میزائلوں سے بھرا ہے۔ ''اور باقی صرف تمہارے پروردگار کی ذات رہے گی جو بڑی شان اور عظمت والا ہے‘‘۔ یہ لکھنے والا ایک بار یورپ سے پاکستان واپس آرہا تھا۔ جہاز کی منزل دبئی تھی جہاں سے دوسرے جہاز میں بیٹھنا تھا۔ جہاز میں مسافروں ک...