قیدی سے ملاقات
پہلی بار معلوم ہوا کہ کسی قیدی سے ملنا کتنا مشکل ہے! اس لیے کہ اس سے پہلے یہ تجربہ ہوا ہی نہ تھا۔ کہا گیا درخواست دیجیے۔ درخواست دی۔ پھر کہا گیا ملاقات کی وجہ کیا ہے‘ یہ بھی لکھیے۔ جواب میں لکھا کہ قیدی کی خیریت اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ پھر ایک لمبا انتظار! ایک دن پیغام آیا کہ کل آپ کی ''ملاقات‘‘ ہے۔ میں تڑکے ہی زنداں کی فصیل کے باہر پہنچ گیا۔ صدر دروازے پر پہرہ تھا مگر صاحب! کوئی ایسا ویسا پہرہ! توپ تک نصب تھی۔ کئی تنومند داروغے کلاشنکوفیں اٹھائے کھڑے تھے۔ بالکل ساکت‘ بے حس و حرکت! مجسموں کی طرح! کسی کی بندوق کا منہ شمال کی طرف تھا تو کسی کی گن کی نالی جنوب کی سمت!! ایک داروغہ میری طرف آیا۔ اس کے ہاتھ میں میری تصویر تھی۔ مجھے دیکھا‘ پھر تصویر کو۔ پھر اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ صدر دروازے سے اندر داخل ہوئے تو حیرت ہوئی کہ سامنے وسیع میدان تھا۔ دور بہت دور‘ ایک عمارت نظر آرہی تھی۔ داروغے کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے بہت دیر بعد اس عمارت تک پہنچا۔ یہاں پھر وہی منظر! ویسا ہی صدر دروازہ۔ ویسے ہی اسلحہ بردار داروغے۔ یہاں ایک اور داروغہ ...