اشاعتیں

فروری, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کالم

قیدی سے ملاقات

پہلی بار معلوم ہوا کہ کسی قیدی سے ملنا کتنا مشکل ہے! اس لیے کہ اس سے پہلے یہ تجربہ ہوا ہی نہ تھا۔ کہا گیا درخواست دیجیے۔ درخواست دی۔ پھر کہا گیا ملاقات کی وجہ کیا ہے‘ یہ بھی لکھیے۔ جواب میں لکھا کہ قیدی کی خیریت اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ پھر ایک لمبا انتظار! ایک دن پیغام آیا کہ کل آپ کی ''ملاقات‘‘ ہے۔ میں تڑکے ہی زنداں کی فصیل کے باہر پہنچ گیا۔ صدر دروازے پر پہرہ تھا مگر صاحب! کوئی ایسا ویسا پہرہ! توپ تک نصب تھی۔ کئی تنومند داروغے کلاشنکوفیں اٹھائے کھڑے تھے۔ بالکل ساکت‘ بے حس و حرکت! مجسموں کی طرح! کسی کی بندوق کا منہ شمال کی طرف تھا تو کسی کی گن کی نالی جنوب کی سمت!! ایک داروغہ میری طرف آیا۔ اس کے ہاتھ میں میری تصویر تھی۔ مجھے دیکھا‘ پھر تصویر کو۔ پھر اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ صدر دروازے سے اندر داخل ہوئے تو حیرت ہوئی کہ سامنے وسیع میدان تھا۔ دور بہت دور‘ ایک عمارت نظر آرہی تھی۔ داروغے کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے بہت دیر بعد اس عمارت تک پہنچا۔ یہاں پھر وہی منظر! ویسا ہی صدر دروازہ۔ ویسے ہی اسلحہ بردار داروغے۔ یہاں ایک اور داروغہ ...

اچکزئی صاحب کی خدمت میں احترام کے ساتھ

ہم بیرونِ ملک تھے اور ایک پٹھان دوست کے گھر مدعو تھے۔ اس کے والد صاحب بھی‘ جو کچھ دنوں کیلئے پاکستان سے تشریف لائے ہوئے تھے‘ محفل میں موجود تھے۔ کمال کی دعوت تھی۔ پٹھانوں کی دعوت تو پھر دعوت ہوتی ہے۔ سول سروس کے میرے ایک بیچ میٹ‘ ضیا الدین محسود‘ جن کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے‘ ایک زمانے میں پی او ایف واہ میں مشیر مالیات تھے۔ انہوں نے ہم دوستوں کی دعوت کی۔ جب ہم کمرۂ طعام میں داخل ہوئے تو ٹھٹھک گئے۔ ایک طویل ڈائننگ ٹیبل پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک گوشت کے مختلف پکوان سجے تھے۔ چکن‘ مٹن اور بیف کی طرح طرح کی ڈشیں رکھی تھیں۔ قسم قسم کے تکے‘ کباب‘ روسٹ رانیں‘ چانپیں‘ پائے‘ مغز اور بہت کچھ اور بھی۔ اتفاق سے مہمانوں میں ایک صاحب سبزی خور (Vegetarian) تھے۔ گوشت کے انبار اور اقسام دیکھ کر ان پر کپکپی طاری ہو گئی۔ واپس اُس دعوت کی طرف چلتے ہیں جو بیرون ملک‘ پٹھان دوست کے گھر تھی۔ پاکستان کی اندرونی سیاست پر باتیں ہو رہی تھیں۔ ایک پاکستانی تارکِ وطن نے پاکستان کے حوالے سے ایک بات ایسی کہہ دی جو غلط تھی اور نازیبا تھی۔ ہم سب ...

فبای الاء ربکما تکذبن

''لائبریری میں جاؤ ‘‘۔ میں نے حمزہ سے کہا۔ ''میں آ گیا ہوں لائبریری میں ابو!‘‘۔ حمزہ نے ایک منٹ کے بعد جواب دیا۔ ''اب وڈیو پر آ جاؤ!‘‘۔ میں نے اسے کہا۔ وہ وڈیو پر آ گیا۔ میں نے کہا: یہ جو پہلی الماری ہے‘ اس کی اوپر والی شیلف میں دیکھو‘ یہ جو موٹی سی کتاب ہے اس کے ساتھ کون سی کتاب رکھی ہے؟‘‘۔ ''یہ کلیلہ دمنہ ہے ابو‘‘۔ کلیلہ دمنہ کے اندر دیکھو‘ تمہاری اس مہینے کی پاکٹ منی پڑی ہے۔ حمزہ نے اوراق اُلٹے پلٹے‘ پھر چہک کر بولا ''مل گئے‘ ...ڈالر کا نوٹ ہے۔ شکریہ ابو!‘‘۔ آسٹریلیا میں مقیم پوتوں میں حمزہ سب سے بڑا ہے۔ پہلی بار جب میں اور بیگم 2010ء میں آسٹریلیا گئے تو حمزہ کا ورودِ مسعود ہوا۔ بنیادی زبان اس کی انگریزی ہے مگر اردو اور پنجابی میں رواں ہے۔ بولنا شروع کیا تو جو پہلا مکمل فقرہ پنجابی میں بولا وہ تھا ''اے چنگی گَل نئیں‘‘۔ اب ماشاء اللہ سولہ برس کا ہے۔ اس کی ضروریات دوسرے چھوٹے بچوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں اس لیے اسے اُس ...

فریاد! کہ ہم مارے گئے!

وحشت کے اس زمانے میں بھی ایک اچھی خبر مل گئی۔ مگر افسوس! ساتھ ہی ایک غمزدہ کرنے والی خبر بھی ہے۔ شاید یہ نظر بٹو ہے تاکہ نظر نہ لگے! اچھی خبر یہ ہے کہ ڈپٹی وزیراعظم جناب اسحاق ڈار کے فرزند ارجمند جناب علی مصطفی ڈار کو وزیراعلیٰ پنجاب کا مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جناب علی مصطفی ڈار صوبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال‘ ڈیجیٹل گورننس کے فروغ اور خصوصی ترقیاتی منصوبوں میں وزیراعلیٰ کو مشاورت فراہم کریں گے۔ ماشاء اللہ! حق بحقدار رسید!! شریف خاندان کا ایک خاص وصف مجھے اور ساری قوم کو بہت پسند ہے۔ وہ یہ کہ یہ خاندان میرٹ سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کرتا۔ ابھی حال ہی میں بڑے میاں صاحب کے ایک پرانے‘ وفادار ساتھی کا انتقال ہوا تو ان کے فرزند ارجمند کو بھی پنجاب حکومت کا مشیر لگایا گیا۔ افسوس کی بات ہے کہ اس وقت صرف پنجاب حکومت بڑے میاں صاحب کی میرٹ افزا فرمائشیں پوری کر نے میں لگی ہے۔ یہ ناانصافی ہے! میاں صاحب پورے ملک کے حکمرانِ اعلیٰ رہے ہیں۔ ایک بار نہیں‘ دو بار نہیں‘ تین بار! ان کا حق آج بھی پورے ملک پر ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ‘ کے...

پاکستان 2050ء

ایک زمانہ تھا کہ جب کوئی لشکر دشمن پر فتح پاتا تو وہ شہروں کو ملیا میٹ کرتا‘ آبادیوں کو تہس نہس کرتا‘ کھیتوں اور باغوں کو تاراج کرتا‘ تہذیبی آثار منہدم کرتا‘ ہر طرف بربادی پھیلاتا جاتا تھا۔ ہر زمانے میں‘ ہر قوم نے‘ ہر مذہب کے پیروکاروں نے فتح کے بعد یہی کچھ کیا۔ آپ کا کیا خیال ہے وہ زمانہ گزر گیا؟ کیا اب سرحدیں مکمل طور پر مؤثر ہیں؟ کیا اب اقوام متحدہ ملکوں اور قوموں کی حفاظت کرتی ہے؟ کیا آج کی جنگ محض ہوائی جہازوں سے لڑی جاتی ہے؟ کیا اپنے اپنے ملک کے اندر ہی سے دشمنوں پر حملے کیے جاتے ہیں؟ نہیں! ایسا نہیں! بالکل نہیں! مسئلہ یہ ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی غلط فہمی کا شکار ہیں! آپ سمجھ رہے ہیں کہ بربادی لانے والے لشکر صرف انسانوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ بربادی لانے والے لشکر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو قدرت کی طرف سے آتے ہیں۔ سیلاب! طوفان! آندھیاں! گزشتہ قوموں پر خون‘ ٹڈیاں‘ جوئیں اور مینڈک برسائے گئے۔ یہ سب تاریخ کی باتیں ہیں یا صحیفوں کی۔ دوسرے تباہ کُن لشکر وہ ہیں جو معاشرے کے کچھ طاقتور اور بااختیار افراد تیار کرتے ہیں اور پھر عوام پر چ...

خود نوشت یا ہماری تاریخ کا ایک معتبر ورق!!!

''اُس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ کے چیف آف سٹاف نے اپنے ایک قریبی دوست کو بتایا کہ فیصلے سے چند روز پہلے چیف جسٹس آف پاکستان کا فون آیا کہ وہ آرمی چیف سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ جنرل وحید کاکڑ ایک پروفیشنل سولجر تھے اور سیاست میں مداخلت کے خلاف تھے اس لیے انہوں نے ایک حساس فیصلے سے پہلے چیف جسٹس سے بات کرنے سے گریز کیا۔ فیصلے سے ایک دو روز پہلے جب چیف جسٹس کے بار بار فون آئے تو آرمی چیف نے اپنے سٹاف افسر سے کہا: چیف جسٹس سے پوچھ لیں کہ وہ کس سلسلے میں بات کرنا چاہتے ہیں؟ آرمی چیف کا یہ پیغام سننے کے بعد بھی شاہ صاحب نے عزتِ سادات بچانا مناسب نہ سمجھا اور دل کی بات کہہ دی کہ کل ہم نے حکومت کو بحال کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ سنانا ہے۔ اس سلسلے میں آرمی چیف صاحب کیا چاہتے ہیں؟ آرمی چیف نے یہ پیغام سن کر عدالت عظمیٰ کے سربراہ کو یہ پیغام بھیجا کہ ہم کیسوں میں دخل دینا پسند نہیں کرتے۔ آپ اپنی مرضی سے فیصلہ کریں‘‘۔ ہماری تاریخ کا یہ عبرتناک واقعہ معروف‘ نیک نام‘ ریٹائرڈ اعلیٰ پولیس افسر ذوالفقار احمد چیمہ نے اپنی خود نوشت ''جہدِ مسلسل...

سیالکوٹ یونیورسٹی برائے خواتین اور خواجہ صاحب

آخر خواجہ محمد آصف صاحب کا قصور کیا ہے؟ ڈاکا تو نہیں ڈالا‘ چوری تو نہیں کی ہے! خدا کے بندو! خواجہ صاحب نے صرف اتنا ہی کہا ہے نا کہ سیالکوٹ میں جس 200 ایکڑ زمین پر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی برائے خواتین قائم ہے اس میں سے 140 ایکڑ زمین یونیورسٹی سے لے لی جائے گی تو اس میں برائی ہی کیا ہے۔ خواجہ آصف صاحب کا تعلق سیالکوٹ ہی سے ہے۔ وہ سیالکوٹ کے پانی‘ سیالکوٹ کی دھوپ اور سیالکوٹ کی چاندنی ہی میں پلے بڑھے ہیں۔ وہ اپنی جنم بھومی سے‘ اپنی مٹی سے بے وفائی کیسے کر سکتے ہیں؟ اگر وہ یونیورسٹی سے اس کی 70 فیصد زمین لے لینا چاہتے ہیں تو اس میں سیالکوٹ اور اہلِ سیالکوٹ کا فائدہ ہی تو ہو گا۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ خواتین یونیورسٹی سے زمین کس مقصد کیلئے لی جا رہی ہے؟ یہ مقصد نیک ہے یا برا؟ تو یہ مقصد بھی محترم خواجہ صاحب نے بتا دیا ہے۔ سیالکوٹ کی واحد یونیورسٹی برائے خواتین کی 70 فیصد زمین اس لیے لی جا رہی ہے کہ اس پر عدالتیں‘ پولیس لائنز اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر بنائے جائیں۔ کیا اعتراض کرنے والے خواجہ صاحب کو بچہ سمجھ رہے ہیں؟ خواجہ صاحب ایک جہاندیدہ‘ باراں دیدہ‘ سرد و گر...