ہم شاہ جہاں کے زمانے میں ہیں!
یہ کیسا شور ہے؟ کیا کوئی نئی بات ہوئی ہے؟ اگر کچھ ہوا ہے تو کیا پہلی بار ہوا ہے؟ اُس خرچ کو تو چھوڑیے جو شاہ جہاں نے نیا دارالحکومت (شاہ جہاں آباد) بنانے پر کیا تھا۔ صرف اُس دس روزہ جشن کی بات کر لیتے ہیں جو اس کی تکمیل پر منایا گیا تھا۔ اس موقع پر جو کینوپی بنوائی گئی اس کے نیچے دس ہزار افراد بیٹھ سکتے تھے۔ اسے بنانے میں ایک مہینہ لگا تھا۔ تین ہزار مزدور اس کام پر لگے تھے۔ اس پر ایک لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔ یہ 1640ء کے لگ بھگ کی بات ہے۔ اُس وقت کے ایک لاکھ آج کے کتنے کروڑ ہوں گے‘ قطعیت کے ساتھ کچھ کہنا مشکل ہے۔ میرے دادا جان نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ گاؤں کے فلاں شخص سے پندرہ روپے میں گائے خریدی اور یہ 1920ء یا 1930ء کا زمانہ تھا۔ آج گائے کی کیا قیمت ہے؟ اکبر کی پیدائش کے دنوں میں ہمایوں عمرکوٹ میں تھا۔ یعنی 1542ء میں! اس کے کسی مصاحب نے لکھا ہے کہ وہاں ایک روپے کی چار بکریاں مل رہی تھیں۔ ایک سو سال بعد‘ شاہ جہاں کے زمانے میں‘ روپے کی دو بکریاں تو ہوں گی! اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اُس وقت کے ایک لاکھ روپے کوئی معمولی رقم نہ تھی۔ تختِ طاؤس جو موصوف نے بنوایا...