Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Thursday, March 17, 2022

…………کوئی مار ہے یا بد دعا!


آپ کیوں ہنس رہے ہیں؟ اس میں ہنسنے کی کیا بات ہے؟
آپ اس لیے ہنس رہے ہیں کہ پارلیمنٹ میں ووٹ ڈالنے کے بجائے حزب اقتدار ڈی چوک پر دس لاکھ افراد اکٹھے کرنا چاہتی ہے۔ آپ اس لیے ہنس رہے ہیں کہ ایک وفاقی وزیر صاحب نے چیلنج کیا ہے کہ کس مائی کے لعل میں کلیجہ ہے کہ 10 لاکھ کے مجمع سے گزر کر وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ووٹ ڈالے۔ آپ کا موقف یہ ہے کہ اگر تحریک عدم اعتماد پیش کی جا رہی ہے تو یہ ایک جمہوری عمل ہے۔ آپ اس لیے ہنس رہے ہیں کہ مغرب میں ایسا نہیں ہوتا۔ ہمارے وزیر اعظم جب مغرب کو دوسرے ملکوں سے زیادہ جانتے ہیں تو مسئلہ پارلیمنٹ کے اندر حل کرنے کے بجائے پارلیمنٹ کے باہر کیوں حل کرنا چاہتے ہیں؟
مجھے آپ کے ہنسنے پر اعتراض ہے! اس لیے کہ آپ امریکہ یا فرانس یا سوئٹزرلینڈ میں نہیں پیدا ہوئے۔ آپ اسی پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں۔ یہیں کے جم پل ہیں۔ یہیں بڑے ہوئے ہیں۔ آپ عمران خان اور ان کی پارٹی سے کیوں توقع کر رہے ہیں کہ وہ امریکیوں والا یا انگریزوں والا یا فرانسیسیوں یا جرمنوں والا رویہ اپنائیں؟ کیا وہ پاکستانی نہیں؟ کیا پاکستان میں ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا آیا؟ کیا یہاں کسی نے کبھی ہار مانی ہے؟ سرحد کے اُس طرف راہول گاندھی نے پانچ ریاستوں میں کانگرس کی شکست فوراً تسلیم کر لی ہے اور عوام کے فیصلے کے سامنے سر جھکا دیا ہے! مگر یہ پاکستان ہے! یہاں اگر کوئی شکست تسلیم کر لے تو کرشمے سے کم نہیں! تو پھر تحریک انصاف کیوں قانون کے سامنے سر جھکا دے؟ اگر اسے یہ امکان نظر آ رہا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے گی تو جان بوجھ کر کیوں ایسا ہونے دے؟ حزب اقتدار بھی اتنی ہی پاکستانی ہے جتنے ہم سب پاکستانی ہیں!
آپ اب یہ دلیل دیں گے کہ خان صاحب دوسروں سے مختلف تھے! یا کم از کم ان کا دعویٰ یہی تھا۔ وہ ہمیں امریکہ، یورپ، جاپان اور جنوبی کوریا کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ آپ یہ توقع کر رہے تھے کہ وہ بھی مغربی ممالک کی روایت پر عمل کرتے ہوئے اعلان کریں گے کہ تحریک عدم اعتماد پیش کرنا اپوزیشن کا جمہوری حق ہے اور یہ کہ اگر تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو میں اقتدار چھوڑ دوں گا‘ مگر آپ کی یہ دلیل نہ صرف کمزور ہے بلکہ بودی بھی ہے! آپ بھول گئے کہ تحریک انصاف والے بھی پاکستانی ہیں اور پاکستانی صرف دعوے کرتے ہیں، دعووں پر عمل نہیں کرتے!
آپ روزمرہ کی زندگی دیکھ لیجیے۔ کیا ہمارے ہاں غلطی تسلیم کرنے کا رواج ہے؟ ہمارے بھائی کا کسی سے جھگڑا ہو جائے تو کیا ہم یہ دیکھتے ہیں کہ حق پر کون ہے؟ ہم تو ہر صورت میں بھائی کا ساتھ دیتے ہیں بے شک اس کی غلطی ہی کیوں نہ ہو۔ ہم اُسی قبائلی مائنڈ سیٹ میں گرفتار ہیں جس میں جاہلانہ دور کے عرب محصور تھے جو اپنے قبیلے کے رکن کی ہر حال میں حمایت کرتے تھے اور جنگ کرتے تھے۔ ہمارا یہ رویہ خاندان سے نکل کر اداروں تک پہنچ گیا ہے۔ ہم نے اداروں کو قبیلے سمجھ لیا ہے۔ قبیلے کا ایک رکن غلطی کرتا ہے تو ہم اندھادھند اس کی حمایت کرتے ہیں۔ دکاندار جرم کرتا ہے۔ پولیس آکر اسے گرفتار کرتی ہے تو پورا بازار اس کی حمایت میں بند کردیا جاتا ہے۔ تاجروں کی انجمن حکومت کو بلیک میل کرتی ہے۔ کیا آپ کو یاد نہیں جب قانون کے محافظوں نے ہسپتال پر حملہ کیا تھا؟ یہاں ججوں کو تھپڑ مارے جاتے ہیں۔ عدالتیں مقفل کر دی جاتی ہیں۔ ڈاکٹروں کا تازہ ترین قبائلی کارنامہ ملاحظہ کیجیے۔ ایک بہت بڑے سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر حضرات احتجاج کر رہے تھے اور اپنا احتجاج ہسپتال کے مختلف شعبوں میں دکھا رہے تھے۔ عین اُس وقت ہسپتال کے ایک شعبے میں یونیسیف کا غیر ملکی وفد موجود تھا۔ ڈاکٹروں نے نہ صرف ان کے سامنے احتجاج کیا بلکہ ہسپتال کے کہنے کے مطابق شیشے اور دروازے بھی توڑے۔ وفد اُٹھ کر چلا گیا۔ انتظامیہ نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی اور احتجاج کے ذمہ دار ڈاکٹروں کو کہا کہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوں۔ آپ کا کیا خیال ہے‘ ڈاکٹروں کو‘ جنہیں ہم ملک کی کریم کہتے ہیں‘ کیا کرنا چاہیے تھا؟ ظاہر ہے انہیں کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کرنا چاہیے تھا اور تسلیم کرنا چاہیے تھا کہ وہ پورے ملک کے لیے شرمندگی کا باعث بنے‘ مگر نہیں! اس اعلیٰ تعلیم یافتہ گروہ نے قبائلی طرز اختیار کیا۔ ہڑتال کر دی۔ او پی ڈی کے شعبے بند کر دیے اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ کوئی ڈاکٹر کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہو گا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس کے بعد کیا ہوا۔ مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ غلطی ماننے کا کلچر یہاں مفقود ہے۔ یہ ہے وہ دروازہ جو لاقانونیت کی طرف کھلتا ہے۔ ہم لاقانونیت کی اُس انتہا تک پہنچ گئے ہیں جہاں حکومت خود للکار رہی ہے کہ کس کا کلیجہ ہے کہ ہمارے خلاف ووٹ ڈالے!
قواعد و ضوابط کی کتاب میں سب کچھ درج ہے۔ تحریک عدم اعتماد کس طرح پیش ہو گی۔ ووٹنگ کا کیا طریق کار ہو گا؟ اس کے بعد کا لائحۂ عمل کیا ہو گا؟ مگر ہم ہر کام کرتے ہیں سوائے اس کے جو قانون کی کتاب میں لکھا ہے! میں، آپ، ہم سب اس حمام میں ننگے ہیں! کوئی مار ہے جو ہم پر پڑ رہی ہے۔ کوئی بد دعا ہے جو ہمیں قانون پر نہیں چلنے دیتی۔ میڈیکل میں داخلے کے لیے جتنے نمبر درکار ہیں‘ ہمارے بچے کے نمبر اس سے کم ہیں‘ مگر ہم اس قانون کو پاؤں کے نیچے روند کر ہر حال میں بچے کو میڈیکل میں داخل کرانا چاہتے ہیں۔ مکان کا نقشہ منظور ہو چکا ہے۔ ہم نقشے کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ پھر جب جرمانہ ہوتا ہے تو سفارش ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں کتنے ہی مشہور پلازے خلاف قانون بنے۔ عدالوں میں شہرت ہوئی۔ کہیں زمین زیادہ گھیر لی گئی۔ کہیں منزلیں زیادہ تعمیر کر لی گئیں۔ امتحان کی تاریخ مقرر ہے، ہم احتجاج کریں گے کہ اسے آگے کیا جائے! سرکاری دفتروں پر نظر ڈالیے۔ سنیچر اور اتوار کی چھٹی ہے‘ مگر جمعہ کے دن دوپہر سے پہلے آدھے دفاتر خالی ہو جائیں گے۔ پھر یہ حضرات پیر کے دن دوپہر کے بعد نظر آئیں گے۔ آپ ہفتے میں چار چھٹیاں دے کر دیکھ لیجیے۔ یہی کچھ ہو گا۔ وقفہ برائے نماز کے بورڈ پر وقفہ شروع ہونے کا وقت درج ہو گا، وقفہ ختم کب ہو گا؟ اس کا ذکر نہیں ہو گا۔ قانون کی کتاب میں لکھا ہے کہ فٹ پاتھ سرکاری ملکیت ہے۔ اسے خالی رہنا چاہیے تا کہ چلنے والوں کو تکلیف نہ ہو، مگر ہم اپنی دکان کا آدھا مال فٹ پاتھ پر رکھیں گے بلکہ سڑک کا کچھ حصہ بھی قابو کر لیں گے۔ ہماری کوئی تقریب وقت پر نہیں شروع ہوتی کیونکہ جو وقت دعوت نامے پر لکھا ہے ہم نے اس کی خلاف ورزی کرنی ہے۔ ہماری نفسیات میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ ہر حال میں قانون کو تاراج کرنا ہے۔ اس نفسیات کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ جب تک قانون کے آگے سر جھکانے کا کلچر عام نہیں ہو گا ہم ڈی چوک پر حکومتی جلسوں اور حزب اختلاف کے احتجاجی جلوسوں کے درمیان پِستے رہیں گے! ہم دنیا میں اپنی تضحیک اور تذلیل کا باعث بنتے رہیں گے!
بشکریہ روزنامہ دنیا

No comments:

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com