Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Monday, June 21, 2021

ہم شریف لوگ ہیں



پیڑ ہوں تو ان پر پھل بھی لگتے ہیں۔ پھل لگیں تو پتھر بھی آتے ہیں۔ اسی طرح جہاں بیٹیاں ہوں وہاں رشتے بھی آتے ہیں۔ بخت اچھا ہو تو اچھے رشتے آتے ہیں۔ کبھی کبھی ماں باپ خود ہی راستے کی دیوار بن جاتے ہیں۔ بہت زیادہ چھان بین! کُرید! عقل مند ماں باپ شرافت دیکھتے ہیں۔ اس کے بعد روزگار! باقی سب چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں!
ہمارے دوست چوہدری رشید بھی ایک بیٹی کے باپ ہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو بیٹی کو قدرت کا انعام سمجھتے ہیں اور اللہ کی رحمت! کیا بد قسمتی ہے کہ ابھی تک اس معاشرے میں کچھ بد قسمت بیٹی کو بوجھ گردانتے ہیں اور لڑکوں سے کم تر! وراثت میں بیٹی کو حصہ دینے کا وقت آئے تو کہیں گے: اس طرح تو جائیداد غیروں میں چلی جائے گی۔ بیٹی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہے تو کہیں گے: تم نے کون سی نوکری کرنی ہے۔ جدید سنگا پور کے معمار لی کوان ییو نے سنگا پور کے لوگوں سے کہا تھا: تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو، میں تمہیں بلند پایہ قوم دوں گا۔ جو بد نہاد، بیٹی کو اعلیٰ تعلیم نہیں دلاتے کہ کون سی نوکری کرنی ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم اس لیے نہیں دلوانی چاہیے کہ انہوں نے ملازمتیں کرنی ہیں۔ خدا کے بندو! اعلیٰ تعلیم اس لیے ضروری ہے کہ وہ اچھی مائیں بن سکیں۔ ملازمت ضروری نہیں مگر اچھی ماں بننا ضروری ہے۔ کتنی ہی ایسی مثالیں ہمارے ارد گرد پائی جاتی ہیں جن میں سگے بھائیوں کی اولادوں میں اس لیے زمین و آسمان کا فرق پایا جاتا ہے کہ ایک کے گھر میں بیوی تعلیم یافتہ تھی اور دوسرے کے گھر میں بیوی ان پڑھ تھی یا نیم تعلیم یافتہ! سعدی نے کہا تھا: ؎
باران کہ در لطافتِ طبعش خلاف نیست
در باغ لالہ روید و در شورہ بوم خس
بارش کی فیاضی میں تو کوئی شک نہیں‘ مگر یہ دیکھنا ہو گا کہ بارش برستی کہاں ہے؟ وہی بارش باغ میں پھول اگاتی ہے مگر بنجر زمین میں جھاڑ جھنکار!
اب یہ ہماری سوچ کا معاملہ ہے کہ ہم اپنے مستقبل کو پھولوں سے بھر رہے ہیں یا خس و خاشاک سے!
کچھ عرصہ ایک بہت معتبر اور با حیثیت کلب کے انٹرویو بورڈ میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا۔ کلب کی ممبرشپ کے سلسلے میں میاں بیوی دونوں انٹرویو کے لیے پیش ہوتے تھے۔ ایسے انٹرویو صرف ملاقات کی خاطر ہوتے ہیں جن میں دیکھا جاتا ہے کہ طور اطوار کیسے ہیں اور رنگ ڈھنگ کیسا ہے۔ کچھ جوڑے ایسے تھے کہ آنکھوں کو یقین نہیں آتا تھا۔ بیوی ڈاکٹر تھی تو نیم تعلیم یافتہ میاں زمینیں اور جائیداد بیچنے کا کام کرتا تھا۔ بیوی پروفیسر تھی تو میاں جی محض فیوڈل! کمرے میں داخل ہوئے تو فاتح کی طرح! کرسی پر بیٹھے تو ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر نیم دراز ہونے کی کوشش کی اور پھر چھت کی طرف دیکھنے لگے۔ رشتہ داری کی ترجیح اور ذات برادری کا التزام بہت سی لڑکیوں اور بہت سے لڑکوں کی زندگیاں تباہ کر دیتا ہے۔ ہمیں ہدایت تو یہ کی گئی تھی کہ رشتے کُفو میں کرو۔ (یہ لفظ وہی ہے جو ہم سورہ اخلاص میں بھی پڑھتے ہیں)۔ اس کا مطلب ہے برابری یعنی مناسبت یا موافقت یا مطابقت! اسے سازگاری بھی کہہ سکتے ہیں‘ مگر ہم نے کفو کو محض ذات برادری تک محدود کر دیا۔ اس ضمن میں جامعہ اشرفیہ کا ایک فتویٰ نظر سے گزرا جس میں بہت متوازن اور مناسب رہنمائی کی گئی ہے کہ... کفو کے معنی یہ ہیں کہ مرد، پیشے، ذہن، دیانت اور مال میں بیوی کے برابر ہو... اب لڑکی اگر اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور چچا زاد ہل چلاتا ہے تو کیا شادی مناسب ہو گی؟ ایک ہی خاندان کے دو گھروں کے ماحول میں زمین آسمان کا فرق ہو سکتا ہے۔ لڑکے نے ڈاکٹر کے گھر میں پرورش پائی۔ لڑکی نے مستری کے گھر میں! مستری ہونا کوئی عیب نہیں۔ مستری بھی کسبِ حلال کرتا ہے اور اللہ کو محبوب ہے‘ مگر دونوں گھروں کے ماحول، رہن سہن، معاشرت اور معیارِ زندگی میں بہت فرق ہو گا۔ زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے، رشتے داری کی وجہ سے لڑکے کو یہاں باندھ دینا اسے زندگی بھر صحبت نا جنس میں قید کر دینے کے مترادف ہو گا۔ اسی طرح یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ملازمت پیشہ (سروس سیکٹر کے) لوگوں اور کاروباری طبقے میں موافقت، عام طور پر، نہیں ہوتی۔ دونوں طبقوں کی نفسیات میں بہت فرق ہے اور سوچنے کا انداز الگ لگ ہے۔ عسکری خاندان ایک دوسرے کو زیادہ راس آتے ہیں۔ ایک کرنل صاحب، ان کے سمدھی، اور سمدھی کا بیٹا یعنی کرنل صاحب کا داماد، تینوں ایک ہی یونٹ سے تھے اور یہ ان کے لیے بجا طور پر ایک خوش آئند عامل تھا۔ سول اور خاکی بیوروکریٹ میں بہت فرق ہے۔ سول بیوروکریٹ کا اپنے ماتحت کے ساتھ جذباتی تعلق کم ہی دیکھنے میں آتا ہے مگر ایک ہی یونٹ کا جرنیل اور سپاہی آپس میں مضبوط بندھن رکھتے ہیں۔ اس کالم نگار نے کئی بار دیکھا کہ جرنیل، سپاہی کے کام کے لیے کوشش کر رہا ہے کیونکہ دونوں کی مادری یونٹ ایک ہی تھی۔
چوہدری رشید کی طرف واپس آتے ہیں۔ صنعت کار! اعلیٰ تعلیم یافتہ!! ٹیکس پورا دیتے ہیں۔ اپنے ملازمین کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔ بچوں کو دیانت کا سبق پڑھایا۔ آداب اور تمیز سکھائی۔ اکل حلال کے فوائد اور اکل حرام کے مضمرات سمجھائے۔ بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلائی۔ صنعتی امور میں وہ بھائی کے شانہ بشانہ پورے اعتماد اور کامیابی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ اس کے لیے رشتے بہت آئے مگر ان میں سے اکثر چوہدری صاحب کو بے جوڑ لگے۔ بیٹی سے بھی اس سلسلے میں ضرور مشورہ لیتے۔ انہیں اس کی پسند، نا پسند کا پورا خیال تھا اور بیٹی کو باپ کے انتخاب پر پورا اعتماد! کچھ خاندان مالی لحاظ سے ہم مرتبہ تھے مگر تعلیم کے حوالے سے پیچھے تھے۔ کچھ لڑکے اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے مگر خاندانی پس منظر موافق نہ تھا۔ کچھ کی مالی حیثیت بہت کمزور تھی۔ ایسے داماد احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں اور قسم قسم کے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ ان میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے۔ بالآخر ایک ایسا پروپوزل آیا جو ہر لحاظ سے مناسب معلوم ہوا۔ ذات برادری بھی ایک ہی تھی۔ مالی لحاظ سے بھی برابری تھی۔ لڑکا اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا۔ لڑکی سے تھوڑا زیادہ ہی! یہ فرق بھی مناسب تھا۔ چوہدری صاحب جہاندیدہ انسان تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اس معاشرے میں، شوہر زیادہ تعلیم یافتہ ہو تو بیوی تو برداشت کر لیتی ہے مگر بیوی زیادہ تعلیم یافتہ ہو تو مرد کو، اکثر و بیشتر، سبکی کا احساس رہتا ہے جس کے نتائج بیوی کے حق میں زیادہ خوش گوار نہیں ثابت ہوتے۔ تمام کوائف سے مطمئن ہو کر، چوہدری صاحب نے، رشتہ لانے والے دوست کو تجویز پیش کی کہ لڑکے والے آئیں تا کہ بات چیت اور ملاقاتوں کا سلسلہ آگے چلے۔ مقررہ دن آیا تو چوہدری رشید نے بہت فراخ دلی کے ساتھ، استقبال اور دعوت کا لمبا چوڑا بند و بست کر رکھا تھا جو دونوں خاندانوں کے شایان شان تھا۔ قریبی دوست ہونے کے وجہ سے میں بھی مدعو تھا۔ بات چیت ہو رہی تھی۔ باتوں باتوں میں لڑکے کے باپ نے ذکر کیا کہ ان کا بیٹا اسمبلی کا ممبر بھی ہے۔ یہ سننا تھا کہ چوہدری رشید کے چہرے پر ایک سایہ سا پڑا۔ وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر کہا: معاف کیجیے گا‘ ہم شریف لوگ ہیں! یہ رشتہ نہیں ہو سکتا!
پسِ نوشت: اس کہانی کے کردار فرضی ہیں۔ کسی شخص یا واقعے سے مماثلت محض اتفاق ہو گا ۔

No comments:

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com