Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Monday, July 27, 2020

کیا آپ نے باجرے کی روٹی کھائی ہے؟



یہ درست ہے کہ کھانے پینے کے لحاظ سے مزے بھی بہت تھے! دن کا آغاز ہم دہی‘ پراٹھوں اور انڈوں سے کرتے تھے۔ شہد ہمیشہ موجود رہتا۔ مکھن اور دودھ اپنی گائے بھینسوں کا ہوتا۔ بکری دوہے جانے کے بعد چھوٹے سائز کی بالٹی ہمارے منہ سے لگا دی جاتی۔ دودھ گائوں میں اس لیے نہیں ابالا جاتا تھا کہ پینا ہے‘ بلکہ اس لیے ابالا جاتا تھا کہ رکھنے سے خراب نہ ہو جائے۔ دن کا کھانا عام طور پر مکھن‘ گھی‘ شکر اور لسی سے کھایا جاتا۔ ان چھوٹے قریوں میں قصاب نہیں ہوتے تھے جو ہر روز گوشت مہیا کریں مگر گوشت کی کمی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ فارمی مرغی کا کوئی تصوّر نہ تھا۔ گھر گھر کبوتر خانے تھے۔ ایک روپے میں کبوتر مل جاتا تھا۔ یہ علاقہ شکار کے حوالے سے بہت امیر تھا۔ رشتے کے ایک ماموں افیون کا شوق رکھتے تھے۔ گوشت ان کی خوراک کا لازمی جزو تھا۔ شکار پر جاتے تو ہم ساتھ ہوتے۔ خرگوش اور ہرن کا شکار عام تھا۔ مزے مزے کا‘ پرندوں کا گوشت بھی بہت کھایا۔ بعد میں کچھ معروف افراد نے اس علاقے کو شکار کیلئے خوب خوب استعمال کیا۔ یہ افراد مقامی نہیں تھے مگر مقتدر اور زور آور تھے۔ ان میں سے کچھ اقتدار میں بھی آئے۔ پوری کوشش کی گئی کہ ہرن معدوم ہو جائے۔
تو یہ درست ہے کہ مزے بھی بہت تھے۔ مگر تصویر کا دوسرا رُخ بھی تھا۔ کچھ نہ میسر ہوتا‘ تب بھی بہت کچھ ہوتا۔ ہم لنگری میں پسی ہوئی لال مرچ ڈالتے‘ اس میں لسّی یا دہی مکس کرتے پھر اس کے ساتھ تنور کی چُپڑی ہوئی روٹی مزے سے کھاتے۔ چارپائی کے پائے پر رکھ کر پیاز مکّے سے توڑتے‘ ان سفید براق پھانکوں کے ساتھ روٹی کھاتے۔ رات کی بچی ہوئی دال‘ مٹی کی پلیٹ (صحنکی) میں‘ صبح پراٹھوں کے ساتھ خوشگوار لگتی۔ کبھی شہر سے آتے ہوئے ڈبل روٹی لے آتے تو بزرگ اسے جھاگ یا چھلکا (چھلڑ) کہہ کر مذاق اڑاتے۔ باہر کھیتوں میں ہوتے یا پہاڑ پر جاتے تو انڈا‘ پانی اور برتن کے بغیر ابالنے کا خاص طریقہ آزماتے۔ انڈوں کو ہر طرف سے گیلی مٹی سے لیپ دیتے پھر جھاڑیاں جلاتے اور انہیں آگ کے درمیان رکھ دیتے۔ کچھ ہی دیر میں انڈے بریاں ہو جاتے۔
ہم کھیتوں سے توڑ کر موٹھ کی تازہ پھلیاں کھاتے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سطح مرتفع کے ان علاقوں میں مونگ پھلی کی نقد آور فصل نہیں متعارف ہوئی تھی۔ خربوزے اور تربوز افراط سے ہوتے تھے۔ یہ خربوزے آج کل کے ''شیور‘‘ نما خربوزوں کی طرح ایک ہی رنگ کے نہیں ہوتے تھے۔ یہ ملٹی کلر تھے۔ پیلے‘ سبز اور دوسرے رنگوں کے۔ حدِّ نظر تک خربوزوں اور تربوز کے کھیت ہوتے۔ بیلوں میں چھپے خربوزے ڈھونڈنے کا اپنا لطف تھا۔ خربوزوں کے ساتھ روٹی کھا لیتے اور آم کی پھانکوں کے ساتھ بھی! آپ کے نزدیک کوئی بچہ یا لڑکا بیٹھا ہوا ہے تو اس سے پوچھ کر دیکھیے کہ خربوزے کا درخت کتنا بڑا ہوتا ہے۔ نوے فیصد امکان ہے کہ اسے معلوم نہیں ہوگا کہ یہ درخت نہیں‘ بیل پہ لگتے ہیں۔ گنے کے گٹھوں کے گٹھے آتے‘ انہیں کماد کہا جاتا تھا۔ اب گنڈیریاں بھی خال خال نظر آتی ہیں۔ آپ آخری بار گھر میں کب لائے؟ اور کیا آپ کے بچوں نے انہیں چکھّا؟ ہم ریوڑیاں کھاتے‘ مچھلی نما سنگتری! بتاشے‘ مکھانے اور پھُلیاں کھاتے! چنے کے دانوں پر چینی چڑھی ہوئی ہوتی اور یہ بچوں کا من بھاتا کھاجا تھا! کیا آپ نے بچوں کو نُگری (ٹانگری) کھلائی ہے؟ اور چاول کے مرونڈے؟؟
پھر خربوزے اور تربوز سطحِ مرتفع کے اضلاع سے غائب ہونا شروع ہو گئے۔ مونگ پھلی کی نقد آور فصل آ گئی۔ گوجر خان سب سے پہلے اس تبدیلی سے آشنا ہوا۔ ساٹھ کی دہائی سے پہلے یہاں مونگ پھلی آ چکی تھی۔ ہمارے دوست ملک فتح خان‘ جو زراعت کے معروف ماہر ہیں اور بہت عرصہ آباد (ایجنسی فار بارانی ایریاز ڈیویلپمنٹ) کے سربراہ رہے‘ کبھی کبھی تفصیل بتاتے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی میں حکومتی سطح پر تلہ گنگ‘ چکوال‘ فتح جنگ‘ پنڈی گھیب اور اٹک کے علاقوں میں کسانوں کی ذہن سازی شروع ہوئی۔ محکمۂ زراعت کے لوگ گائوں گائوں مونگ پھلی بونے کی ترغیب دیتے۔ دیواروں پر جابجا لکھ دیا گیا ''مونگ پھلی سونے کی ڈلی‘‘! ساٹھ کی دہائی کے اختتام اور سترکی دہائی کے آغاز تک مونگ پھلی پورے خطے پر چھا چکی تھی! 
ملک فتح خان صاحب کو ہم لوگ آمادہ کرتے رہتے ہیں کہ اپنی تفصیلی یادداشتیں ترتیب دیں تا کہ آج کی نسل کو معلوم ہو کہ کیسے یہ بارانی علاقے جو گندم ‘ کیکر اور بیر کے سوا کچھ نہ اُگاتے تھے‘ آج مونگ پھلی کے علاوہ مالٹے کے باغات 
سے بھر گئے ہیں۔ انگور کے کھیت بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ علاقہ بادام کی کاشت کے لیے بھی موزوں قرار دیا گیا ہے!

گزشتہ چالیس پچاس برس میں جو تبدیلیاں معاشرت میں آئی ہیں‘ اتنی پچھلے دو تین سو سالوں میں نہیں آئی تھیں۔ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور 1875ء میں بنا۔ اُس وقت اس کا نام میو سکول آف آرٹس تھا۔ جان لاک وُڈ کپلنگ جو اس کا پہلا پرنسپل تھا شہرۂ آفاق ادیب رڈیارڈ کپلنگ کا باپ تھا۔ این سی اے کی کچھ پرانی تصاویر‘ بیسویں صدی کے اوائل کی۔۔۔۔۔ کہیں کہیں نظر پڑتی ہیں۔ طلبہ نے پگڑیاں باندھی ہوئی ہیں جن کے لمبے شملے ان کی گردن سے کمر تک آتے ہیں۔ یہ پگڑی یا دستار‘ جو بھی کہہ لیجیے‘ آج سے پچاس سال پہلے بھی عام نظر آتی تھی اور کئی سو سال سے چلی آ ر ہی تھی‘ مگر گزشتہ نصف صدی میں جو تغیرات آئے‘ وہ سینکڑوں سال کی ایسی کئی روایات کو بہا لے گئے۔ مٹی کے برتن گائوں سے بھی غائب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ لگتا ہے آئندہ برسوں میں گائوں کے بچوں کو بھی نہیں معلوم ہو گا کہ تہمد کیا ہوتا ہے۔ آج اگر بچوں کو کہا جاتا ہے کہ ناشتے میں پراٹھا مکھن اور شہد یا شکر کھائو اور دودھ کا گلاس پیو تو حیرت سے پورا منہ کھول کر ایسے دیکھتے ہیں جیسے انہیں سر میں تیل ڈالنے اور آنکھوں میں سرمہ لگانے کا کہہ دیا ہے!
یہ تبدیلی ہر رُخ پر آئی ہے۔ پہلے ایک انتہا تھی کہ شادی کے بعد ماں باپ کے سامنے میاں بیوی ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اُن کی موجودگی میں باپ اپنے بچوں کو اٹھاتا تک نہیں تھا! ہمارے ایک بزرگ بتایا کرتے تھے کہ ان کی شادی ہوئی تو بیوی اپنے سسرال آ گئیں۔ یہ ملازمت کیلئے گھر سے دور تھے۔ والدین کو لکھا کہ ہوٹل سے کھانا کھانا پڑتا ہے جو تکلیف دہ ہے۔ مطلب ان کا یہ تھا کہ ان کی بیوی کو ان کے پاس بھیج دیا جائے مگر والدین نے بہن کو بھیج دیا کہ بھائی کو روٹیاں پکا کر دے! ہماری جو بزرگ خواتین‘ تقسیمِ ہند سے پہلے لڑکپن میں تھیں انہیں پڑھنا سکھایا جاتا تھا مگر لکھنے سے ناواقف رکھا جاتا تھا‘ سوئے ظن یہ تھا کہ لکھنا سیکھ گئیں تو پڑوسیوں کو محبت نامے لکھتی رہیں گی! یہ سب کچھ انتہا پسندانہ تھا اور غیر فطری! مگر توازن آج بھی نہیں! آج پنڈولم دوسری طرف جا لگا ہے۔ آج بزرگوں کے سامنے دلہن‘ میاں کا نام لے کر تحکمانہ لہجے میں بات کرتی ہے۔ رہی سہی کسر ٹیلی ویژن ڈراموں نے پوری کر دی ہے! وہ وقت بھی تھا جب خاندان کا بڑا‘ نومولود بچوں کے نام رکھتا تھا۔ آج بڑوں کو صرف مطلع کیا جاتا ہے کہ یہ نام رکھا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بے معنی ناموں کے ڈھیر لگ گئے ہیں۔ مطلب پوچھیں تو نوے فیصد ناموں کے مطلب اس قبیل کے ہوں گے۔ جنت کی چڑیا۔ جنت کا پھول۔ ماشاء اللہ کچھ نام تو ایسے بھی رکھے جا رہے ہیں کہ دنیا کی کسی زبان میں ان کا کوئی معنی نہیں! مگر پوچھیے تو فارسی ‘ عربی تو کیا اردو سے بھی نابلد پایا اور ماما فخر سے آپ کے علم میں اضافہ کریں گے کہ جنت میں ہُد ہُد کے پھڑپھڑاتے پروں سے جو آواز نکلتی ہے‘ اسے سن کر چڑیا ایک مخصوص لے میں گیت گاتی ہے‘ اس نام کا مطلب وہی گیت ہے۔ 

مجھے اجازت دیجیے‘ میں نے مکئی کی روٹی پکوائی ہے۔ ٹھنڈی ہو گئی تو مکھن اس پر رکھنے سے پگھلے گا نہیں! آپ بس یہ بتا دیجیے کیا آپ نے باجرے یا جوار کی روٹی کھائی ہے؟

No comments:

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com