Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Friday, September 01, 2017

مغلوں کی نشات ثانیہ


‎بکھر گئے،مغل تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئے۔
‎کسے معلوم تھا کہ ان کا احیا 2017میں ہوگا۔وسطِ ایشیا میں نہیں!پاکستان میں 
‎زمانے کی چکی چلتی ہے،صدیوں سے حکومت کرتے خانوادوں کو پیس کر رکھ دیتی ہے۔ 
‎پیستی جاتی ہے اک اک کو ظہور
‎آسیائے گردشِ لیل و نہار!
‎فرغانہ سے نکلے تو پالکیاں تھیں نہ تخت و طاؤس،گھوڑوں کی پیٹھیں تھیں ننگی سخت پیٹھیں،دشمن آگے بھی،دشمن پیچھے بھی۔ مدتوں سے بابر کو چین سے کھانا نصیب ہوا نہ سونا۔
‎حالتِ جنگ میں آدابِ خورو نوش کہاں 
‎اب تو لقمہ بھی اٹھاتا ہوں میں تلوار کے ساتھ!
‎ترکی کی زبان کی سیڑھی پر پاؤں رکھ کر مغل فارس کے چبوترے پر چڑھے،ازبکستا ن والے اس ترکی کو ازبک کہتے ہیں۔واہ رے زمانے واہ!تو نے زبانوں کو بھی چھوڑا،ترکی زبان بھی سامراج نے قومیتوں میں تقسیم کردی۔ 
‎بنے گا کوئی تو تیغ ِ ستم کی یاد گاروں میں 
‎مرے لاشے کے ٹکرے دفن کرنا سومزاروں میں 
‎وہی ترکی ازبکستان میں ازبک بن گئی۔ ترکمانستان میں ترکمانی،قازقستان میں اور نام،چینی ترکستان یغور،آذر بائیجان میں آذری،رداغستان میں بھی یہی زبان ہے۔شمالی افغانستان کے ازبک بھی ترکی بولتے ہیں اور ظاہر ہے ترکی میں بھی۔ 
‎رسم الخط کا معاملہ زیادہ عبرتناک ہے۔سوویت استعمار نے وسطِ ایشیا کے ترکوں کو استنبول سے کاٹنے کے لیے،بندوق کے زور پر رسم الخط بدل کر لاطینی کردیا۔کچھ عرصہ بعد کمال اتاترک نے ترک میں سب کچھ بدل دیا۔اور وہاں بھی ترکی کو لاطینی میں لکھا جانے لگا۔اب سوویت چکرائے۔ بلآخر وسط ایشیا کے ترکوں کو روسی رسم الخط اپنانے کا حکم صادر ہوا۔اب صورتِ حال یہ ہوئی کہ ترکی میں ترکی لاطینی میں لکھی جانے لگی۔شمالی افغانستان میں وہی قدیم عربی فارسی رسم الخط!
‎روسی وسطِ ایشیا میں روسی حروفِ تہجی، اور سنکیانگ میں اور۔۔۔۔۔سب ایک دوسرے کو سمجھ لیتے ہیں۔ مگر ایک دوسرے کا لکھا ہوا پڑھ نہیں پاتے۔ یہ ریاستیں آزاد ہوئیں تو ابتدا میں پاکستان کے ساتھ سرگرم تجارتی روابط تھے۔ایک وفد آیا۔اس کالم نگار کے ازبک کے استاد جناب اسد اللہ محقق ان کے ترجمان بنے،لیکن محقق صاحب ان کے کاغذات وغیرہ پڑھ سکتے تھے۔ نہ وفد ان کی تحریر کردہ ازبک پڑھ سکتا تھا۔
‎جیسے حائل دیوار نہ ہو،پردہ ہو
‎ترکی زبان کی سیڑھی پر پاؤں رکھ کر مغل فارسی کے چبوترے پر چڑھے۔وہا ں سے اردو کے گنگ و جمن میں چھلانگ لگائی،پیراکی کے وہ جوہر دکھائے کہ ایک نئی تہذیب لے کر ابھرے،جیحوں (آمو)کا پانی جمنا کے پانی سے مل گیا۔دہلی کا شہرہ چار دانگ عالم میں ہوا،پھر لکھنؤ اور حیدر آباد دکن اس تہذیب کے مرکز بنے۔ 
‎تاریخ کی عجیب ستم ظریفی ہے اور 
paradox
‎کہ زوال کے عہد میں ثقافت خوب رنگ اچھالتی ہے شاید یہ دیے کی وہ لو ہے جو بجھنے سے پہلے ایک بار بھڑکتی ہے۔ یہ لکھنؤ اور حیدر آباد میں خوب بھڑکی۔ پھر بجھ گئی کہ جو سمندر پار سے آئے تھے عسکری اور معاشی طاقت ان کے پاس تھی اور عسکری اور معاشی طاقت جن کے پاس ہوتی ہے،کلچر اور ثقاف انہی کی غالب آتی ہے۔ عسکری اور معاشی طاقت مسلمانوں کے پاس تھی،تو ان کی زبان چھائی ہوئی تھی۔ پھر برطانویوں اور امریکیوں نے دھوم مچائی، شاید ہی دنیا کا کوئی گوشہ ہو جہاں ان کی لائبریریاں نہیں کھلیں۔
‎آج معاشی طاقت چین کے ہاتھ میں ہے۔ سی پیک ہے یا ون بیلٹ ون روڈ کا عالمی منصوبہ ،چینی ایک افق سے دوسرے افق تک اپنا پرچم لہرا رہے ہیں۔جس سی پیک کا ہار حکومت اپنے گلے میں ڈال کر دھمال ڈالتی رہی، اور ڈال رہی ہے۔ اس میں کرنے کا کام چینی کررہے ہیں۔ سی پیک کر علاوہ وہ نجی شعبے میں بھی بخت آزمائی کے لیے آرہے ہیں،گزشتہ سال ستر ہزار چینی آئے،اخبار ان کا نکلنا شروع ہوگیا ہے۔ دکانوں اور شاہراہوں پر سائن بورڈ چینی زبان میں نظر آنے لگے ہیں،ثقافتی یلغارکی ابتدا اسی طرح ہوتی ہے۔آہستہ آہستہ،نرم روی کے ساتھ، غیر محسوس طریقے سے۔ اب حکومتی ادارے سو چ رہے ہیں کہ ان کی بستی الگ بسائی جائے کہ کھانے کے اطوار مقامی اور ہیں،چینیو ں کے مختلف۔بعدالمشرقین ہے۔ لگتا ہے کہ ایک چائنہ ٹاؤن بنے ہی بنے،آئیڈیا برا نہیں، دنیا کے اکثر شہروں میں چائنہ ٹاؤن موجود ہیں۔ اس سے سماجی "غیر مناسبت"کچھ حد تک قابو میں آجائے گی۔
‎مگر تشویشناک خبر یہ ہے کہ یہ زرد اشخاص گاڑیاں لائسنسوں اور کاغذات کے بغیر چلا رہے ہیں، اور ٹریفک کے داروغے یہ کہہ کر کہ۔۔۔"آپ ہمارے دوست ہیں "۔۔چشم پوشی کررہے ہیں۔واہ رے پاکستان کی قسمت!ہر حال میں اس نے تھلے ہی لگنا ہے۔معذرت خواہانہ ہی رہنا ہے۔ شکست خوردگی ہی دکھانی ہے،پہلے یہ خبر یں عام تھیں کہ امریکی گاڑی چلاتے ہوئے کسی سے الجھ پڑا،ٹریفک کی رکاوٹ سے جا ٹکرایا،قانون توڑا،داروغوں نے انہیں بھی ہمیشہ معاف ہی کیا۔اب وہی شکست خوردہ فراغ دلی چینیوں سے دکھائی جا رہی ہے،اس طرزِ عمل کو لگام ڈالنے کی ضرورت ہے۔اور سخت ضرورت ہے!کہیں بھی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا، پاکستانی چین میں قانون شکنی کرکے دکھائیں،کیا سعودیہ عرب نے کسی پاکستانی کی غلطی یہ کہہ کر معاف کی ہے کہ اپنے دوست ہیں۔۔۔زندانوں میں شکلیں تک بدل جاتی ہیں۔سر قلم ہوجاتے ہیں،یو اے ای سے لے کر سنگا پور تک۔۔۔ہر ملک میں ترقی کا ایک ہی راز ہے،قانون کی نظرمیں سب کی برابری،یہا ں ایم این اے،شاہی خاندن اور وزیر کے لیے مختلف رویہ ہے۔۔اور گامے اور پھجے کو مختلف لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے۔ پولیس کمزور پر چڑھ دوڑتی ہے اور زبردست کے سامنے رکوع میں چلی جاتی ہے۔
‎موضوع سے بھٹک کر ہم دور نکل گئے۔۔بات مغلوں کی ہو رہی تھی،بہادر شاہ ظفر نے ہمایوں کے مقبرے میں پناہ لی،پھر مغل بکھر گئے۔تاش کے پتوں کی طرح۔کسے معلوم تھا کہ ان کی نشاطِ ثانیہ 2017کے موسم ِ گرما میں ہوگی فرغانہ کے تاکستانوں میں نہیں،پاکستان کے میدانوں میں!
‎مردم شماری کے نتائج ظاہر ہوچکے ہیں۔مغل تعداد میں سب سے زیادہ نکلے۔ جاٹ،اعون،راجپوت سب پیچھے رہ گئے۔رنگون میں آسودہ خاک مغل تاجدار نے کروٹ بدلی ہوگی، مگر یہاں مردم شماری ایک اور سیاپا لے کر آئی ہے،کراچی سے لے کرشکار پور تک سندھی،کیا نئے کیا پرانے سیخ پاء ہیں کہ جہاں دوسرے صوبوں کی آبادی بڑھی،ان کو گھٹا کے دکھائی گئی۔ویسے انصاف کی بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان دونوں کی شکایت بجا ہے،اس شکایت میں وزن ہے۔ کراچی اور حیدر آباد ہی کو لیجئے، دوسرے شہروں کے مقابلے یہاں اضافے کی شرح اس قدر کم ہے کہ ذہن میں سوالات ضرور اٹھتے ہیں،موازنہ کر لیجئے!
‎لاہور اضافہ۔75فیصد
‎گوجرانوالہ اضافہ۔84فیصد
‎اسلام آباد اضافہ۔88فیصد
‎کوئٹہ اضافہ۔77فیصد
‎فیصل آباد۔60فیصد
‎راوالپنڈی اضافہ۔60فیصد
‎مگر حیدر آبادکی آبادی صرف 48فیصد اور کراچی کی 57فیصد بڑھ پائی۔اس سارے عرصے میں کراچی میں بے شمار افغان آئے،کے پی سے نقل مکانی ہوئی۔قبائلی علاقے سے لوگ آئے،پنجاب،شمالی علاقہ جات اوراندرون سندھ سے خاندانوں کے خاندان آکر بسے۔خود کراچی کے رہنے والوں کی آبادی بھی بڑھی۔ذمہ داروں کو اس سوالیہ نشان پر توجہ دینا ہوگی۔
‎مگر مغلوں کے احیا سے ہماری مراد یہ نہیں کہ مردم شماری نے انہیں سرِ فہرست قرار دیا ہے۔اصل اور بڑی خبر اور ہے،مغلِ اعظم کا ظہور ہو چکا ہے، قد چھ فٹ سے نکلتا ہوا،گوری رنگت،گہری سیاہ آنکھیں،پیشانی فراخ،موتیوں کی طرح چمکتے دانت،توانا چست، مجموعی جسامت حد درجہ صحت مند،لوگ سیلفیاں اور تصویریں بنوانے کے لیے ٹوٹے پڑتے ہیں،دودھ مربے اور پھل حاضر کیے جاتے ہیں۔خشک میوہ جات اس کے علاوہ ہیں۔تین سے پانچ کلو دودھ روز نوشِ جان کرتا ہے، صبح شام مالش کراتا ہے،خوشبو میں بسا رہتا ہے،سردیوں میں حلوہ اس کی غذا کا لازمی جزو ہے، ہر روز حمام کرتا ہے، عمر ساڑھے تین سال ہے۔ مغلِ اعظم کا وزن سترہ من ہے ملتان سے آئے ہوئے "مغلِ اعظم "نے دارالحکومت کی منڈٰی مویشیاں میں دھومیں مچا دی ہیں۔ 


No comments:

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com