Home | Columns | Poetry | Opinions | Biography | Photo Gallery | Contact

Friday, May 20, 2016

دیکھتا کیا ہے مرے منہ کی طرف

وسطی بھارت کا کوئی شہر تھا۔ وزیراعظم مودی تقریر کر رہا تھا۔ ایک لمحہ کے لیے مسلسل بدلتے چینل روک دیئے۔ ہاتھ جوڑ کر عوام سے درخواست کر رہا تھا کہ بھگوان کا واسطہ ہے، صفائی کا خیال رکھو،کوڑا ہر جگہ نہ پھینکو، وہاںپھینکو جہاں پھینکنے کی جگہ ہے۔ گلیاں صاف ہوں گی، شاہراہیں صاف ہوں گی تو شہر بھی صاف ستھرے ہوں گے۔
مہینوں گزر گئے یہ تقریر، یہ منت سماجت، عوام کے سامنے ہاتھ جوڑنا، عرض گزاری کرنا، بھولتا نہیں! مسلمانوں کا دشمن ہے پاکستان کا ویری ہے۔ گجرات میں ہزاروںکلمہ گوئوں کو شہید کرایا۔ گھر اُجڑ گئے، آر ایس ایس کا کٹر پیروکار ہے۔ مگر جہاں تک بھارت کا تعلق ہے وژن رکھتا ہے۔ کچھ کرنا چاہتا ہے۔ گجرات کی معاشی حوالے سے حالت بدل ڈالی۔ وزیراعظم بننے کے بعد جس تیزی سے ملک ملک گیا، بھارت کے معاملات پر بات چیت کی، دفاعی پیداوار کے منصوبوں میںدلچسپی لی، بیرون ملک بھارتیوں سے، دوروں کے درمیان رابطہ کیا اور بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح سرگرم کار ہے اور کچھ کرکے دکھانا چاہتا ہے!
لیڈر کون ہوتا ہے؟ جو محض یہ جوڑ توڑ کر سکے کہ الیکشن کس طرح جیتنا ہے؟ ایوان صدرمیں یا وزیراعظم ہائوس میں اپنے قیام کو کیسے یقینی بنانا ہے؟ اپنے حواریوں کوسرسبز چراگاہوں میں کھلا کیسے چھوڑنا ہے؟ اپنے ذاتی اثاثوں میں کیوں کر اضافہ کرنا ہے؟ یا اسے معلوم ہو کہ ملک کی ترقی سے مراد کیا ہے؟
ملک کی ترقی چند مواصلاتی منصوبوں کا نام نہیں! یہ ان چند سرگرمیوں کا نام نہیں جو بچپن سے دل و دماغ پر چھائی ہوئی ہیں اور ہٹنے کا نام نہیں لیتیں! ملک کی ترقی میں اولین ترجیح افرادی قوت کی ہے! یعنی اس سرمایہ کاری کی جو عوام پر کی جاتی ہے۔ تعلیم صحت اور شہری شعور 
(Civic Sense) 
ہیومن کیپٹل میں سرفہرست ہیں! دوسرے نمبر پر خارجہ تعلقات ہیں۔ لیڈر کے لیے لازم ہے کہ اس میدان میں وسیع نہ سہی، بنیادی علم تو رکھے۔ دفاع اور بین الاقوامی تجارت کے ضمن میں  حقائق سے آگاہ ہو یا اس کے پاس ایسے ماہرین ہوں جن کی قابلیت اور خلوص دونوں قابل رشک ہوں۔ تیسرے نمبر پر مجموعی اقتصادی پیش رفت ہے جس کے تقاضوں سے وہ باخبر ہو! چوتھا اور اہم ترین عنصر لیڈر شپ کا یہ ہے کہ قانون پر ایک سو ایک فیصد عمل کرنے والا ہو۔ اپنا خاندان، اپنا بزنس، اپنا گروہ، اپنی قومیت، اپنی برادری، اپنا علاقہ اس قانون پسندی کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے!
فوجی حکمرانوں کے ادوار ہمارے قومی جسد پر رستے ہوئے وہ زخم ہیںجن سے ہم انکار نہیں کر سکتے۔ مگر ایک بدقسمتی ہماری تاریخ میں اس سے بھی بدتر ہے! اور وہ ہے آصف زرداری اور میاں محمد نواز شریف جیسے لیڈروں کو زمام اقتدار ملنا! آپ تصور کیجیے، کوئی شخص زرداری صاحب سے یا وزیراعظم صاحب سے پوچھتا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ یا زرعی اصلاحات کا کیا نقشہ آپ کے ذہن میں ہے؟ یا تعلیم عام کرنے کے لیے آپ نے کیا سوچا ہے؟ یا بیورو کریسی کو موثر بنانے کے لیے اگر تین تجاویز لی جائیں تو آپ کیا کہیں گے؟ یا میرٹ کا اصول قومی سطح پر نافذ کرنے کے لیے فوری اقدام کیا ہوگا؟ آپ کا کیا خیال ہے آپ کی چشم تصور کیا دکھائے گی؟ زرداری صاحب کو تو بالکل ہی چھوڑ دیجیے کہ ان کے نزدیک اس زمین و آسمان کی تخلیق کا مقصد محض دولت کا حصول ہے اور ڈاکٹر عاصم اور 
ایان علی کی کشتیوںکو گرداب سے نکالنا! مگر وزیراعظم ان موضوعات پر کتنی دیر گفتگو کرسکیں گے؟
ایک سادہ سا ٹیسٹ لے لیجیے۔ کیا وزیراعظم صاحب کو معلوم ہے کہ پرویز مشرف کا لایا ہوا  
Devolution 
کیا فوائد رکھتا تھا اورضلعی حکومتوں کا قتل اور باڑ کے دونوں اطراف ہمیشہ پھدکتی بیوروکریسی کو انگریز کے زمانے کے اختیارات دوبارہ دے دینے سے ملک برسوں نہیں عشروں پیچھے چلا گیا ہے!
ایسے افراد کا لیڈر بن جانا‘ حکومتوں اورریاستوںکا سربراہ ہو جانا المیہ ہے! ایسا المیہ ایسی ٹریجڈی جس کے نتائج قوموں کو نسلوں تک بھگتنے ہوتے ہیں! اسی لیے عمران خان، اپنی ساری کمزوریوں کے باوجود جب اسمبلی میں للکارتا ہے کہ وزیراعظم تو لکھی ہوئی تقریر بھی نہیں پڑھ سکتے تو سناٹا چھا جاتا ہے تو یہ سناٹا عوام کے ذہنوں پر گہرا نقش چھوڑتا ہے!
بنگلہ دیش کے رہنما مطیع الرحمن کی پھانسی کا واقعہ لے لیجیے۔ وزیرخارجہ کا تو وجود ہی نہیں! وزیراعظم کی اس معاملے میں مکمل خاموشی ان کے وژن کا پتہ دیتی ہے! وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ پاکستان نے اگر عالم اسلام کی رہنمائی کرنی ہے تو ان مواقع پر وزیراعظم کا ایک کردار ہے جس کی توقع نہ صرف پاکستانی بلکہ دنیا بھر کے مسلمان کرتے ہیں! اس کے مقابلے میں ترکی کے صدر طیب اردوان کا وژن دیکھیے! ان کی نظر سلطنت عثمانیہ کے عروج و زوال پر بھی ہے اور ہم عصر عالم اسلام کی تاریخ پر بھی! وہ نہ صرف بنگلہ دیش سے ترکی کے سفیر کو واپس بلاتے ہیں بلکہ یورپ کے رہنمائوں پر بھی کڑی تنقید کرتے ہیں! ٹیلی ویژن پر انہوں نے یورپ کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ’’اگر تم سیاسی قتل کے خلاف ہو تومطیع الرحمن نظامی کے سیاسی قتل پر تمہیں سانپ کیوں سونگھ گیا ہے؟ اس سے پہلے صدر مرسی کو جب سزائے موت ملی اس وقت بھی صدر اردوان نے ترکی کا نقطۂ نظر موثر انداز میں پیش کیا!
وزارت خارجہ جس انداز میں چلائی جا رہی ہے صرف اس کو بیرومیٹر بنا کر صورت حال کو جانچا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ ہم ملک کی حیثیت سے کہاں کھڑے ہیں! احسن اقبال ہی کو وزیرخارجہ بنا دیتے! اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ فائلیں خود پڑھتے ہیں۔ مافی الضمیر اردواور انگریزی دونوں زبانوں میںادا کرسکتے ہیں یا یونیورسٹی کے کسی پروفیسر کو، کسی اچھے سکالر کو سینٹ کا رکن بنوا کر وزارت خارجہ کی زمام
سونپ دیتے! کوئی سمت تو متعین ہوتی! کرسی پر کوئی بیٹھا تو ہوتا! مگر ترجیحات کا معاملہ
ہے  ۔
لاہور ایئرپورٹ کی مرمت 

(Renovation) 
کے لیے بلائے گئے اجلاس کی صدارت وزیراعظم خود کرتے ہیں! روس سے واپس آتے ہی! جب ان کا مدمقابل مودی، منزلوں پر منزلیں مارتا وسط ایشیا کے دارالحکومتوں میں درجنوں دو طرفہ معاہدے کر رہا ہوتا ہے!
دنیا ٹی وی نے کل ہی بتایا ہے کہ گزشتہ برس سندھ کی حکومت نے ایک سو منصوبوں کے لیے پچھتر ارب روپے مختص کیے تھے، سال ختم ہونے کو ہے۔ ایک منصوبہ بھی شروع نہیں ہوا۔ سوال جوکسی بھی باشعور پاکستانی کے ذہن میں اٹھتا ہے کہ اس معاملے میں وفاق نے کیا کیا ہے؟ لیکن وفاق اس وقت کچھ کرے جب اقتصادی ترقی، وفاق کا ہدف ہو! وفاق کا ہدف کیا ہے؟ صرف اور صرف یہ کہ اقتدار قائم رہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی سے مفاہمت برقرار رہے۔ اس کے عوض سندھ کے معاملات سے وزیراعظم مکمل طور پر بے غرض  اور
 ( un-cocerned)
رہیں گے۔ فرض کیجیے، ان کی جگہ طیب اردوان ہوتے؟ مہاتیر ہوتا! یا چلیے مودی ہی ہوتا! اجلاس بلا کر قائم علی شاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھتا۔ کیوں ایک منصوبہ بھی نہیں شروع ہوا؟ کراچی کے عوام نے کیا قصور کیا ہے؟ مگر جس وزیراعظم کے وفاقی وزیر ہفتہ بھر میں صرف ایک دن دفتر آئیں اور یہ ایک دن برملا مقرر کردیا جائے، اس وزیراعظم کی قومی معاملات میں تشویش کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے!!
ایک ہفتہ ہوا وزیراعظم تاجکستان کے دورے پر تشریف لے گئے۔ وزیرخارجہ کا خالی خانہ ’’معاون خصوصی برائے امور خارجہ‘‘ نے بھرا جو ایک سرکاری ملازم تھے اوروہیں سے ریٹائر ہوئے۔ ایک سیاست دان کے اور ایک سرکاری ملازم کے ذہن میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ سیاست دان فائلوں، پی یو سی، اور 
Under Submission 
کے پس منظر سے آزاد ہو کر معاملات کو وسیع تناظر میںدیکھتا ہے اور نڈر ہو کر فیصلے کرتا ہے۔ چالیس سال یس سر کہنے والا سرکاری ملازم، خارجہ پالیسی کا سٹیئرنگ کیا سنبھالے گا! 
دیکھتا ہے کیا مرے منہ کی طرف
قائداعظم کا پاکستان دیکھ!

No comments:

Post a Comment

 

powered by worldwanders.com