<?xml version='1.0' encoding='UTF-8'?><?xml-stylesheet href="http://www.blogger.com/styles/atom.css" type="text/css"?><feed xmlns='http://www.w3.org/2005/Atom' xmlns:openSearch='http://a9.com/-/spec/opensearchrss/1.0/' xmlns:georss='http://www.georss.org/georss' xmlns:gd='http://schemas.google.com/g/2005' xmlns:thr='http://purl.org/syndication/thread/1.0'><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939</id><updated>2012-01-30T15:30:09.907+05:00</updated><category term='2009'/><category term='JULY    22'/><title type='text'>Izhar ul Haq: Columns</title><subtitle type='html'></subtitle><link rel='http://schemas.google.com/g/2005#feed' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/posts/default'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default?max-results=100'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/'/><link rel='hub' href='http://pubsubhubbub.appspot.com/'/><link rel='next' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default?start-index=101&amp;max-results=100'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><generator version='7.00' uri='http://www.blogger.com'>Blogger</generator><openSearch:totalResults>230</openSearch:totalResults><openSearch:startIndex>1</openSearch:startIndex><openSearch:itemsPerPage>100</openSearch:itemsPerPage><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-6260928437028956189</id><published>2012-01-24T08:08:00.003+05:00</published><updated>2012-01-25T08:18:38.684+05:00</updated><title type='text'>پیٹ اور دماغ کی بجھارتیں</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;آج تک کوئی نہیں بوجھ سکا!&lt;br /&gt;سائنس نے اتنی ترقی کر لی، سمندر کی گہرائیوں اور خلا کی لا محدود وسعتوں سے انسان ہو آیا۔ انٹرنیٹ کے عجوبے نے ہفتوں مہینوں برسوں کے فاصلے ثانیوں میں طے کر لئے لیکن افسوس! کچھ سربستہ راز ایسے ہیں جو آج تک نہیں کُھل سکے۔ کچھ پہیلیاں ایسی ہیں جن کا آج تک کوئی جواب نہیں دے پایا اور کچھ بجھارتیں ایسی ہیں جو پڑنانی بوجھ سکی نہ نانی نہ ماں نہ نواسی!&lt;br /&gt;مثلاً یہی سربستہ راز لے لیجئے کہ بڑھیا جو چاند پر بیٹھی چرخہ کات رہی ہے، وہاں کیسے پہنچی؟ اور چرخہ کیا ساتھ لے کر گئی یا چاند کی مقامی سہولیات میں یہ شامل تھا؟ کیا کاتی جانےوالی روئی چاند پر اُگنے والی کپاس سے نکلی یاچاند والوں نے زمین سے درآمدکی؟ ان سوالوں کے جواب آج تک کوئی نہیں دے پایا اور وہ گائے جس نے اپنے سینگ پر زمین کو اٹھایا ہوا ہے۔ کھاتی کیا ہے؟ آج تک کسی کو اس کا چارہ لے جاتے نہیں دیکھا گیا اور ان دو مکھیوں نے بالآخر کیا فیصلہ کیا جو سنیما دیکھ کر باہر نکلیں۔ ایک کی رائے تھی کہ ہم اپنے پروں سے اڑکر گھر پہنچیں لیکن دوسری کہتی تھی کہ ہم تھکی ہوئی ہیں کیوں نہ کتا کر لیں! اور یہ جو کہتے ہیں کہ فلاں کی نانی یاد آ گئی تو آخر دادی کیوں نہیں یاد آتی ؟ اور یہ جو کہتے ہیں کہ یہ خالہ جی کا گھر نہیں ہے تو یہ کیوں نہیں کہتے کہ یہ پھوپھی جان کا گھر نہیں ہے اور یہ جو بہت اچھل کود کرنے والے کو کہتے ہیں کہ تم کیا مامے لگتے ہو؟ تو یہ کیوں نہیں کہتے کہ تم کیا چاچے لگتے ہو؟&lt;br /&gt;لیکن سربستہ راز جن کا جواب کوئی نہیں دے سکا صرف یہی تو نہیں! ہر دن جو طلوع ہوتا ہے اپنے دامن میں نئے راز لےکر آتا ہے اور نئی بجھارتوں کو جنم دیتا ہے مثلاً یہی بجھارت دیکھ لیجئے کہ پرسوں راولپنڈی میں جو دفاع پاکستان کانفرنس منعقد ہوئی، اس میں اعجاز الحق کی تقریر کے دوران ”امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے“ کے نعرے لگائے گئے۔ یہ صفحات گواہ ہیں کہ ہم نے اعجاز الحق پر ہمیشہ تنقید کی۔ ہم دیانت داری سے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اداروں کی شکست و ریخت اور قومی خزانے سے غلط بخشیوں کا جو کام ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا تھا اسے جنرل ضیاءالحق نے عروج پر پہنچایا لیکن خدا کے آگے جان ہم نے بھی دینی ہے، اعجاز الحق نے بھی اور دفاع پاکستان کانفرنس کے اصحابِ قضا و قدر نے بھی۔ بات سچی اور انصاف کی کرنی چاہئے بجھارت یہ ہے کہ امریکی غلامی کےخلاف دفاع پاکستان کانفرنس کا انعقاد کرنے والے بزرگوں کو یہ کیوں نہیں معلوم ہوا کہ امریکی غلامی کا طوق گلے میں ڈالنے والے پرویز مشرف کے دست راست تو انکے ساتھ سٹیج پر موجود تھے! بلکہ روایت یہ ہے کہ کانفرنس کے میزبان بھی وہی تھے۔ جو لوگ مشرف کو سید پرویز مشرف کہتے تھے اور امریکی غلامی کا طوق گلے میں ڈالنے سے لے کر لال مسجد کی شہادتوں تک پرویز مشرف کےساتھ تھے۔ انکے بارے میں دفاع پاکستان کانفرنس والے کیوں لاعلم ہیں؟ اور پھر سترہویں ترمیم پرویز مشرف کو پلیٹ میں رکھ کر دینے والی مذہبی (سیاسی) جماعت بھی دفاع پاکستان کانفرنس میں شامل ہو گئی ہے۔ ہو سکتا ہے دفاع پاکستان کے کسی اگلے جلسے میں جنرل راشد قریشی اور بیرسٹر سیف بھی سٹیج پر بیٹھے نظر آئیں بلکہ میزبانی کرتے دیکھے جائیں۔&lt;br /&gt;اب ایک اور پہلی دیکھئے ۔ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والی ایک سیاسی جماعت کی موجودہ حکومت سے اتنی شدید وابستگی ہے کہ انکے معزز لیڈر نے اعلان کیا ہے کہ جیل تک ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔ اپنی اس وابستگی کا ثبوت دینے کےلئے وہ سپریم کورٹ بھی تشریف لے گئے۔ پہیلی یہ ہے کہ جتنی وابستگی ان حضرات کو حکومت سے ہے، اس کا چوتھا حصہ بھی صوبے کے عوام سے نہیں! آخر کیوں؟ آپ بجا طور پر یہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ اتحادی تو اور بھی ہیں۔ ہم انہی کا ذکر کیوں کر رہے ہیں؟ تو جناب قصہ یہ ہے کہ دو اہم اتحادی ان کے علاوہ ہیں۔ قاف لیگ اور ایم کیو ایم۔ قاف لیگ اس لئے مرفوع القلم ہے کہ وہ صرف دو سیاسی شخصیات پر مشتمل ہے اور عملی طور پر بکھر چکی ہے۔ رہی ایم کیو ایم تو سارے اختلافات کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ اسکی اپنے ووٹروں سے وابستگی خیبر پختون خواہ والی جماعت سے کہیں زیادہ ہے۔ انکے ناظم نے کراچی کے حالات بدل کر رکھ دیئے۔ایک یا دو بار انکے احتجاج سے گیس پٹرول وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ بھی حکومت کو واپس لینا پڑا لیکن اس راز سے کوئی بھی پردہ نہیں اٹھا سکتا کہ اس علاقائی جماعت کو کیوں نہیں معلوم ہو رہا کہ گیس غائب ہے، پٹرول کی قیمتیں آسمان پر ہیں، ریلوے تباہ ہو چکی ہے۔ پی آئی اے آخری سانس لے رہی ہے۔ چلیں ریلوے کی تباہی تو اس جماعت کو اس لئے نظر نہیں آ رہی کہ ریلوے کی وزارت اسی&amp;nbsp; کےپاس ہے لیکن یہ نہیں سمجھ میں آتا کہ آج تک اس جماعت کے قائدین نے مہنگائی، پی آئی اے، سٹیل مل اور کرپشن کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ کیا صوبے کا نام بدلنے کے بعد عوام سے تعلق ختم ہو گیا۔ ہر غلط معاملے میں حکومت کی پیٹھ ٹھونکنے والی اس جماعت کو کیا معلوم ہے کہ خیبر پختون خواہ صوبے میں عوام کی حالت کیا ہے؟ بے روز گاری کتنی ہے؟ خواندگی کا تناسب کس قدر ہے؟ عوام دو وقت کی روٹی کس طرح پوری کر رہے ہیں؟ ٹرانسپورٹ کی صورتحال کیا ہے؟ اس صوبے میں ملتان اور سندھ سے بھی زیادہ گرمی پڑتی ہے، بجلی کے بغیر آخر گرمیاں کس طرح کٹتی ہیں؟ رہا صوبے کا نا م بدلنے کا کارنامہ تو اسکی حقیقت کا اندازہ یوں لگائیے کہ قبائلی علاقے اس صوبے میں شامل ہی نہیں ہونا چاہتے اور الگ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گویا پختون بھی آپ کےساتھ نہیں! اگر صوبے کا نام بدلنا سارے مسائل کا حل ہوتا تو قبائلی علاقوں کے عمائدین اور عوام خوشی سے آپکے ساتھ شامل ہو جاتے لیکن ایسا نہیں ہے!آخر کیوں؟&lt;br /&gt;بجھارتوں کا یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ پنجاب اسمبلی میں ارکان نے پنجاب پبلک سروس کمشن کی حالت زار کی دہائی دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی پنجاب کےلئے الگ پبلک سروس کمشن یا اسکی برانچ بنائی جائے۔ ارکان نے یہ بھی کہا&amp;nbsp;ہے کہ ”پنجاب پبلک سروس کمشن میں زیادہ تر ریٹائرڈ پولیس افسروں کی نمائندگی نظر آتی ہے“ نوائے وقت&amp;nbsp;کے ان صفحات میں&amp;nbsp;بہت پہلےہم نے &amp;nbsp;اس عدم توازن کی طرف اشارہ کر دیا&amp;nbsp;تھا ۔ بجھارت یہ ہے کہ آخر پولیس کے ریٹائرڈ افسر ہی کیوں پبلک سروس کمشن میں رکھے جاتے ہیں۔ کیا ایک مخصوص خاندان سے وفاداری کا حو الہ کام آتا ہے یا یہ سب کچھ ایک سینئر، بہت ہی سینئر ریٹائرڈ بیوروکریٹ کی مرضی سے ہوتا ہے جو تنخواہ تو پنجاب حکومت سے لیتا ہے لیکن کام کسی ایسی شخصیت کےساتھ کر رہا ہے جس کا حکومت سے سرکاری تعلق کوئی نہیں! اور آخری بجھارت! ایک سیاسی جماعت کے شہزادے نے ایک نئی فوڈ سٹریٹ کا افتتاح کیا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے یہ نئی فوڈ سٹریٹ کہاں واقع ہے؟ شاہی مسجد اور شاہی قلعے کے درمیان! فوڈ سٹریٹ میں کھانا تیار کرنےوالے چولہوں میں جلنے والی آگ کی حرارت کا اثر ان تاریخی عمارتوں پر بہت خوشگوار ہو گا لیکن اصل بجھارت یہ نہیں! اصل بجھارت یہ ہے کہ ہمارے سیاسی خاندانوں کے شہزادے لائبریریو ں کا افتتاح کیوں نہیں کرتے؟&lt;br /&gt;اس بجھارت کا جواب شاید یہ ہے کہ ہماری حکومتیں اور سیاسی پارٹیاں پیٹ کے بل بوتے پر چلتی ہیں اور لائبریریوں کا تعلق دماغ سے ہوتا ہے۔ سو دماغ کا یہاں کیا کام؟ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-6260928437028956189?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/6260928437028956189/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2012/01/blog-post_24.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/6260928437028956189'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/6260928437028956189'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2012/01/blog-post_24.html' title='پیٹ اور دماغ کی بجھارتیں'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-7853765709764996276</id><published>2012-01-17T13:27:00.000+05:00</published><updated>2012-01-17T13:27:27.729+05:00</updated><title type='text'>جو ہوتا ہے مسلمانوں کے گھر پیدا نہیں ہوتا</title><content type='html'>&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;فرشتے گڑ گڑا رہے تھے لیکن قدرت نہیں مان رہی تھی .... قدرت کا فیصلہ تھا کہ یہ امتحان ہے، اگر یہ لوگ اس امتحان میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ بچ جائےگی اور اگر یہ لوگ اس امتحان میں ناکام ہوتے ہیں تو پھر یہ اس قا بل نہیں کہ ارفع کریم جیسی نابغہ انکے درمیان رہے۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;قدرت نے ہمارا امتحان لیا اور افسوس! ہمیں اس میں عبرت ناک ناکامی ہوئی۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;دس سال کی عمر میں اسے بل گیٹس نے امریکہ بلایا اور وہ بل گیٹس جس کے ایک ایک سیکنڈ کی قیمت ہزار ہا ڈالر میں ہوتی ہے۔ اس بل گیٹس نےاس دس سالہ پاکستانی بچی سے تفصیلی ملاقات کی۔ وہ دنیا کی سب سے کم عمر مائکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;(MCP) &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;تھی۔ اس نے اس کمسنی میں دبئی اور ہسپانیہ میں منعقدہ بین الاقوامی کمپیوٹر کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور اپنی قابلیت اور ذہانت سے مندوبین کو انگشت بدنداں کر دیا۔ جہاز اڑانے کا خیال آیا تو دس سال کی عمر میں دبئی میں جہاز اڑایا اور ”پہلی کامیاب فلائٹ“ کا سرٹیفکیٹ لیا!&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;کیا کیا ارادے تھے اسکے! وہ ، وہ کچھ کرنا چاہتی تھی جو پاکستان کے حکمرانوں کے ذہن میں آ ہی نہیں سکتا! وہ بھارت کی سلی کان ویلی کی طرز پر پاکستان میں ڈیجیٹل ویلی بنانے کا خواب دیکھ رہی تھی۔ اس ویلی میں وہ ایک ایسا ادارہ بنانا چاہتی تھی جہاں مستحق اور لائق طلبہ کمپیوٹر اور سائنس کی تعلیم مفت حاصل کریں اور ذہین لوگوں کیلئے وسائل مہیا ہوں۔ یہ سارے خواب خواب ہی رہے، دسمبر کے تیسرے ہفتے میں اس پر دل کی بیماری کا حملہ ہوا اور پھر پیچیدگی بڑھتی&amp;nbsp; گئی، وہ بے ہوش ہو گئی ۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;دنیا کی سب سے کم عمر کمپیوٹر کی نابغہ.... نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کا قیمتی اثاثہ .... ارفع.... چھبیس دن موت و حیات کی کشمکش میں پڑی رہی۔ چھبیس دنوں میں اگر چار دن اور جمع کیے جائیں تو پورا ایک مہینہ بن جاتا ہے۔ &lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اس سارے عرصہ میں حکومت پاکستان کا کوئی نمائندہ ،کوئی وزیر اعظم، کوئی صدر، سائنس ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کا کوئی وزیر اس کے پاس نہ آیا۔ چھپن مسلمان ملکوں میں سے کسی ملک کی حکومت کو خیال نہ آیا کہ ایک مسلمان لڑکی کے،&amp;nbsp;جس نے بھارت اور آئی ٹی میں ترقی یافتہ کئی ملکوں کو ششدر کر دیا ہے، علاج کیلئے سارے امکانات بروئے کار لائے جائیں۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ہاں! فکر تھی تو اس ”کافر“ بل گیٹس کوتھی جس نے اس کے ماں باپ سے مسلسل رابطہ رکھا اور امریکہ میں مکمل علاج کی پیشکش کی۔ لیکن ارفع تو مشینوں نلکیوں ٹیوبوں اور آلات میں جکڑی ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ اس حالت میں وہ کسی دوسرے ملک میں آخر کس طرح منتقل ہو سکتی ہے! اس کا ایک ہی حل تھا، ایئر ایمبولینس! یعنی ایسا ہوائی جہاز جس میں علاج کی سہولتیں موجود ہوتی ہیں، اس میں مریض کو مشینوں ٹیوبوں نلکیوں اور آلات سمیت لٹایا جاتا ہے۔ &lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;پیر پگاڑا کو حال ہی میں ایئر ایمبولینس ہی کے ذریعے برطانیہ منتقل کیا گیا تھا۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;لیکن ارفع کریم کو ایئر ایمبو لینس کہاں سے ملتی؟ ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم کی بیٹی۔ اور ایئر ایمبولینس! یہ کس طرح ممکن تھا! وہ سیاست دان تھی نہ جاگیردار،&amp;nbsp;&amp;nbsp;گدی نشین&amp;nbsp;تھی نہ جرنیل۔ اور لڑکا بھی نہیں تھا۔ وہ تو لڑکی تھی، جس ملک میں لڑکیوں کے سکول جلا دیئے جاتے ہوں اور جلانے والوں کو ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہو، جس معاشرے میں لڑکیوں کو زندہ، صحرا میں گاڑ دیا جائے اور ایسا کرنے والے وزارتوں پر براجمان کیے جائیں، جس سوسائٹی میں قاتل کی جان بچانے کیلئے اس کی کم سن بہن یا بیٹی مقتول خاندان کے کسی بڈھے کی ”بیوی“ بنا دی جائے اور جس عالم اسلام کے معتبر ترین ملک میں خواتین کو گاڑی چلانے کے ”جرم“ میں گرفتار کر لیا جائے، وہاں ایک لڑکی کیلئے ایئر ایمبولینس! آخر یہ کس طرح ممکن ہے!&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;چھبیس دن ارفع کریم موت و حیات کی کشمکش میں رہی، عالم اسلام کی کسی حکومت نے بشمول حکومت پاکستان اس کو دبئی یا امریکہ منتقل کرنے کے انتظامات نہ کیے، انتظامات تو دور کی بات ہے، کسی صدر، کسی وزیر اعظم، کسی بادشاہ، کسی وزیر اعلیٰ کو اتنی توفیق بھی نہ ہوئی کہ وہ آ کر اس نابغہ کو، اس جینیئس کو، اس ہیرے کو، اس موتی کو، اس زندہ معجزے کو.... دیکھ ہی لیتا، بیمار پرسی ہی کر لیتا!&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;جہاں بات بات پر مذہب کے نام لیوا دھرنے دیتے ہیں اور عوام کی روزمرہ زندگی کو آئے دن غارت کرتے ہیں، جہاں مقدس لوگ جلوس نکالنے کیلئے لاکھوں ڈالر کے معاوضے لیتے ہیں، جہاں چھینک، کھانسی اور زکام کیلئے صوبوں کے حکمرانوں اور پارٹیوں کے سربراہ لندن جاتے ہیں، جہاں ملک کا صدر پورے ملک کے ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کو حقارت سے مسترد کرتے ہوئے علاج کے لیے&amp;nbsp;دوسرے ملک میں جاتا ہو، وہاں ارفع کریم کو ایئر ایمبولینس کون مہیا کرتا؟ اسے ہسپتال کون دیکھنے آتا؟ اسکے علاج کی کون فکر کرتا؟ یہ تو ترجیحات کا معاملہ ہے!&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ارفع کریم! تم چلی گئیں، اس لیے کہ تمہیں معلوم تھا ہم لوگ تمہارے قابل نہیں! ہمارے پاس تمہارے لیے وقت ہی کہاں تھا! ہم ابھی زمینیں خرید رہے ہیں، ہم اپنے نجی ہوائی جہاز اڑا رہے ہیں، ہم ایئرکنڈیشنڈ&amp;nbsp; پولٹری فارموں &amp;nbsp; کی بڑی بڑی &amp;nbsp; سلطنتیں بنا رہے ہیں۔ ہم رباط سے لیکر کراچی تک اور دبئی سے لیکر جدہ تک محلات اور بُرج اور مینار بنا رہے ہیں۔ ہم جزیرے خرید رہے ہیں۔ ہماری ایک ایک یاچ(کشتی جس میں محل ہوتا ہے) کروڑوں اربوں ڈالروں کی ہے، لندن کا قیمتی سٹور ہمارے لیے اتوار کو نہ کھلے تو ہم پورا سٹور خرید لیتے ہیں۔ ہمیں ہوٹل کا کمرہ نہ ملے تو ہم پورا ہوٹل خرید لیتے ہیں۔ ہمارے باتھ روموں کے واش بیسن، ہمارے کمروں کے کنڈے اور تالے خالص سونے کے ہیں، ہمارے محلات اور فیکٹریاں پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہم تو اس قدر مصروف ہیں! ہمارے پاس اتنا وقت ہی کہاں تھا کہ ہم ارفع کریم کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے بیرون ملک کے کسی ہسپتال میں منتقل کر دیتے!&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;پانچ سو سال سے مسلمانوں کے دامن میں کوئی قابل ذکر ایجاد نہیں، ہم نے کوئی نیوٹن، کوئی ایڈیسن، کوئی گراہم بیل، کوئی آئن سٹائن نہیں پیدا کیا۔ پولیو اور ہیپاٹائٹس بی کے ویکسین سے لیکر پینسلین، موتیے کے آپریشن اور&amp;nbsp;ڈیالیسیس کی مشین تک اور مصنوعی گھٹنوں سے لیکر دل کے بائی پاس اور جگر کے ٹرانس پلانٹ تک سب کچھ دوسروں نے کیا ہے۔&amp;nbsp; ہر دس لاکھ مسلمانوں میں سے&amp;nbsp;صرف دو سو تیس سائنسدان ہیں جب کہ ہر دس لاکھ امریکیوں میں سے چار ہزار اور ہر دس لاکھ جاپانیوں میں سے پانچ ہزار سائنس دان ہیں۔ شنگھائی کی غیر جانبدار جیاﺅ تانگ یونیورسٹی نے دنیا کی بہترین پانچ سو یونیورسٹیوں کی فہرست تیار کی ہے۔ اس میں مسلمان اکثریت والے کسی ایک مسلمان ملک کی یونیورسٹی&amp;nbsp; بھی جگہ نہیں پا سکی۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اس لیے کہ ہماری ترجیحات مختلف ہیں، ہماری ترجیحات میں محلات، بینک بیلنس، ذاتی جہاز، یا چیں، چینی کے کارخانے، ، زیورات، جاگیریں، اور قیمتی کاریں شامل ہیں۔ ہم سیاست یا گدی نشینی کے ذریعے ان پڑھ عوام پر حکومت کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں سائنسدانوں کی ضرورت ہے نہ یونیورسٹیوں کی، انجینئروں کی نہ ٹیکنالوجی کی۔ ارفع کریم اگر ایکٹریس ہوتی یا کھلاڑی یا کسی مقتدر خاندان کی چشم و چراغ ہوتی تو عیادت کرنےوالوں میں مشرق وسطیٰ کے شیوخ بھی شامل ہوتے اور ہمارے اپنے حکمران بھی۔ اور ایئر ایمبولینسوں کی قطار لگ جاتی۔ ضمیر جعفری کا یہ شعر مزاحیہ نہیں بلکہ ماتمی ہے:&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;بڑی مدت سے کوئی دیدہ ور پیدا نہیں ہوتا&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;جو ہوتا ہے مسلمانوں کے گھر پیدا نہیں ہوتا &lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-7853765709764996276?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/7853765709764996276/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2012/01/blog-post_17.html#comment-form' title='12 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/7853765709764996276'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/7853765709764996276'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2012/01/blog-post_17.html' title='جو ہوتا ہے مسلمانوں کے گھر پیدا نہیں ہوتا'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>12</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-500033465276061213</id><published>2012-01-10T14:45:00.001+05:00</published><updated>2012-01-10T14:47:10.304+05:00</updated><title type='text'>جو تڑکے شہر میں داخل ہو</title><content type='html'>&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;پرسوں پاکستان میں دو اہم واقعات رونما ہوئے، ایک شمال میں اور ایک جنوب میں.... تاہم اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ان دو واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔ شمال میں یہ ہوا کہ کتوں کی لڑائی کے مقابلے ہوئے، جن پر مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے ے زائد کا جوا کھیلا گیا، جیتنے والے ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے رہے، اس موقع پر تیسری صنف کے نمائندے بھی وافر مقدار میں موجود تھے جو ٹھمکے لگاتے رہے اور پیسے اکٹھے کرتے کرہے۔ سیالکوٹ میں ہونے والے ان زبردست مقابلوں میں مقامی کتوں کے علاوہ گجرات، جہلم، منڈی بہاﺅالدین، نارووال، شیخوپورہ یہاں تک کہ راولپنڈی تک سے کتوں کو لایا گیا۔ 22 کتوں کے گیارہ مقابلے ہوئے اور ہر مقابلے پر قمار بازی ہوئی۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;دوسرا اہم واقعہ ملک کے جنوبی حصے میں پیش آیا، یہاں ہم ایک بار پھر متنبہ بھی کرتے ہیں اور وضاحت بھی کہ شمال اور جنوب میں پیش آنے والے ان دو واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، کراچی میں زور و شور سے جلسہ ہوا جس میں ہمارے ہیرو پرویز مشرف نے دھواں دھار تقریر کی، یہ تقریر ٹیلی فون پر ہوئی، ٹیلی فون پر تقریروں کا سلسلہ لندن سے شروع ہوا تھا۔ یہ تقریریں سیاسی تھیں، پھر وہ وقت آیا کہ ٹیلی فون کے ذریعے مذہبی تقریریں بھی ہونے لگیں، ایک معروف عالم دین ملک چھوڑ کر کینیڈا جا بسے، پچھلے دنوں انہوں نے راولپنڈی کے ایک جلسہ میں کینیڈا سے ٹیلی فون پر خطاب کیا اور مغرب کے خلاف اعلان جنگ پر زور دیا یعنی وطن اور اہل وطن کو اس مشکل گھڑی میں چھوڑ کر جس مغرب کی گود میں جا بیٹھے ہیں، اسی مغرب کے خلاف اعلان جنگ ہے! میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب۔ لگتا ہے کہ ٹیلی فون یا ویڈیو کے ذریعے جو تقریر بھی ہو گی، بس اسی&amp;nbsp;طرح کی ہو گی!&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;خیر، پرویز مشرف صاحب نے ٹیلی فون کے ذریعے دھواں دھار تقریر کی، لیکن اس تقریر سے پہلے ان کی اس گفتگو کا ذکر ضروری ہے جو گزشتہ ہفتے انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں کی۔ اس میں انہوں نے تین اہم نکات بیان کیے، اوّل یہ کہ پاکستان کے مسائل ”میں ہی حل کر سکتا ہوں، مجھ سے زیادہ کوالیفائیڈ کوئی نہیں“۔ دوم ”میرے آنے سے اگر فوج پر دباﺅ آتا ہے تو آنے دیں، میں آرمی چیف رہا ہوں“ اور سوم ”میں چھوٹا آدمی نہیں ہوں“۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یعنی پرویز مشرف صاحب جو کچھ بطور صدر کرتے رہے، اس کی ذمہ داری بھی فوج پر ڈال رہے ہیں، شاید وہ یہ چاہتے ہیں کہ فوج ان کے اور قانون کے درمیان خم ٹھونک کر کھڑی ہو جائے اور اگر قانون پرویز مشرف صاحب سے پوچھے کہ دبئی، لندن اور امریکہ کے بنکوں میں آپ کے درجنوں اکاﺅنٹس میں کروڑوں اربوں درہم، ڈالر اور پاﺅنڈ کہاں ے آ گئے تو فوج انہیں اس جواب طلبی سے بچا لے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی مقدس فوج.... جس کے افسر اور جوان ملک کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو جاتے ہیں۔ پرویز مشرف جیسے انتہائی مشکوک افراد کا دفاع کرے گی؟ پاکستان کی فوج سے محبت کرنے والے پاکستانی عوام اپنی فوج سے اس کی توقع بالکل نہیں رکھتے۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;رہا پرویز مشرف صاحب کا یہ دعویٰ کہ ”میں چھوٹا آدمی نہیں ہوں“ تو دنیا میں آج تک کسی بڑے آدمی نے یہ نہیں کہا کہ میں چھوٹا آدمی نہیں ہوں۔ عمر فاروق اعظمؓ اپنے آپ کو مخاطب کرکے فرمایا کرتے تھے کہ تم اپنے باپ کے اونٹ چرایا کرتے تھے (مفہوم یہی ہے)۔ یوں بھی گیڈر کی موت آتی ہے تو شہر کا رُخ کرتا ہے۔ جب بھی کسی متکبر شخص نے بڑائی کا یا اپنی طاقت کے دوام کا زعم کیا، اسے زوال ہی آیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اسمبلی میں کہا تھا کہ یہ کرسی بہت مضبوط ہے، اسے کرسی سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اس ملک کے اداروں کو مکمل تباہی سے دو چار کرنے والے آمر جنرل ضیاءالحق نے وزارت خزانہ اسلام آباد میں ایک اجلاس کے دوران دعویٰ کیا کہ میرا جانے کا کوئی ارادہ نہیں، اس کے کچھ عرصہ بعد اسے جانا پڑ گیا۔ اب پرویز مشرف نے دعویٰ کیا ہے کہ میں چھوٹا آدمی نہیں ہوں۔ دیکھیے، کیا ہوتا ہے، عقل مندوں نے تو کہا تھا کہ.... ع&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;نہد شاخِ پُر میوہ سر بر زمین&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;جتنا کسی ٹہنی پر پھل ہو گا اتنا ہی وہ جھکے گی، جو جتنا بڑا ہوتا ہے، جس کا خاندانی پس منظر جتنا نجیب اور شریف ہوتا ہے، اتنا ہی وہ عجز و انکسار کا مالک ہوتا ہے۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;رہی پرویز مشرف صاحب کی کراچی کی ویڈیو تقریر تو اس میں انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ”اللہ نے مجھے عزت دی ہے، چھ مرتبہ خانہ کعبہ کے دروازے میرے لیے کھولے گئے“۔ دونوں ہاتھوں میں دو کتے پکڑنے والے، اور سرکاری اجلاسوں میں سارا دن جمائیاں لینے والے پرویز مشرف صاحب کو کاش ڈاکٹر شیر افگن صاحب ہی بتا دیتے کہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول کیلئے ہے۔ کعبہ کے دروازے اگر کھولے گئے تو پاکستان کے صدر کیلئے کھولے گئے، پرویز مشرف کیلئے نہیں کھولے گئے اور یہ بھی کہیں نہیں لکھا ہوا کہ کعبہ کا دروازہ کھلنا، کسی کی بڑائی، نیکی یا عزت کی گارنٹی ہے۔ کیا مشرکین مکہ خانہ کعبہ کا احترام نہیں کرتے تھے؟ اور کیا وہ کعبہ کے اندر اور اس کی چھت پر نہیں جاتے تھے؟ لگتا ہے کہ پرویز مشرف صاحب کا تصور اسلام بس یہیں تک محدود ہے۔ اگر باعزت ہونے کا تصور سرکاری خرچ پر پانچ پانچ لاکھ روپے کے سوٹ پہننے پر مبنی ہے تو ان کا فہم اسلام کا تصور بھی اسی سے ملتا جلتا ہو گا!&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اس میں شک بھی کیا ہے کہ پاکستان کے مسائل حل کرنے کیلئے صرف وہی کوالیفائیڈ ہیں۔ اپنے دور اقتدار میں انہوں نے ایسے ہی ”کوالیفائیڈ“ حضرات کا ایک گروہ بنایا تھا جو شام کے شغل کے دوران اس بدقسمت ملک کے اہم امور کے فیصلے کرتا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس گروہ کے معزز ارکان کے نام سامنے آئیں۔ دس سال تک سیاہ و سفید کا مالک رہ کر آخر مسائل کیوں نہیں حل کیے؟ بیسیوں دفعہ کالا باغ ڈیم بنانے کا دعویٰ کیا، کیوں نہیں بنایا؟ وزیر اعظم بنایا تو ایسے شخص کو جس کا پاکستان سے تعلق ہی کوئی نہیں تھا۔ امداد آکاش نے یہ خوبصورت شعر شاید شوکت عزیز ہی کیلئے کہا تھا:&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;مجھ میں مقیم شخص مسافر تھا دائمی&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;سامان ایک روز اٹھایا نکل گیا&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل کا ادراک پرویز مشرف صاحب کو ہے نہ تھا، ان کی سوچ عامیانہ اور مسائل کا فہم نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستان میں ملکیت زمین کا ڈھانچہ کیا ہے؟ سرداری نظام کیسے ختم ہو سکتا ہےءنظام تعلیم میں کیا خرابیاں ہیں؟ ہمارے پنجاب سے رقبے میں کہیں کم بھارتی پنجاب کئی گنا زیادہ غلہ کیوں پیدا کر رہا ہے؟ اس کے اسباب کیا ہیں؟&lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ہمارے صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کیوں عنقا ہے؟ یہ اور اس قبیل کے کئی دوسرے مسائل پرویز مشرف جیسے گملوں میں لگے ہوئے جعلی درختوں کی سمجھ سے بالا تر ہیں۔ گملے میں اس لیے کہ دھرتی سے اور دھرتی کی جڑوں سے ان کا آخر تعلق ہی کیا ہے؟ جب تک صدر رہے، سرکاری پروٹوکول، سرکاری اخراجات، ناقابل عبور حصار کے اندر۔ بدبختی کی انتہا یہ کہ جب بھی کراچی جاتے، ٹریفک بارہ بارہ گھنٹوں کیلئے جام ہوتی اور ہر دفعہ کئی اموات واقع ہو جاتیں۔ صدارت سے اترے تو لندن، امریکہ اور دبئی، وہاں بھی حفاظتی حصار۔ ڈالر اور پاﺅنڈ پانی کی طرح بہائے جا رہے ہیں۔ اب واپسی کی خبر ہے تو وہ بھی اس شرط پر کہ امریکہ بھی حفاظت کا ذمہ لے، سعودی عرب بھی گارنٹی دے اور فوج بھی تحفظ کرے۔&lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;سبحان اللہ! کیا عوامی لیڈر ہے اور کیا مسائل کا ادراک ہے! لیکن اس عجیب و غریب ملک میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ کل وردی میں دس بار منتخب کروانے والے موجود تھے۔ کیا عجب آج وردی بغیر منتخب کروانے والے میسر آ جائیں۔ اس لیے کہ:&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہاں تاج اسکے سر پر ہو گا جو تڑکے شہر میں داخل ہو&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہاں سایہ ہما کا نہیں پڑتا یہاں کوہِ قاف نہیں ہوتا &lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-500033465276061213?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/500033465276061213/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2012/01/blog-post_10.html#comment-form' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/500033465276061213'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/500033465276061213'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2012/01/blog-post_10.html' title='جو تڑکے شہر میں داخل ہو'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-2012286394275592007</id><published>2012-01-03T12:53:00.001+05:00</published><updated>2012-01-03T13:06:44.145+05:00</updated><title type='text'>گھوڑوں کے لیے الگ انتظام</title><content type='html'>&lt;div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;پاکستان اس وقت جس گھمبیر مسئلے&amp;nbsp;میں &amp;nbsp;پھنسا ہوا ہے، آپ کو اس کا اندازہ ہی نہیں!&lt;br /&gt;آپکو اپنی سیاسی بصیرت پر ناز ہے تو آپ یقینا میمو گیٹ کی طرف اشارہ کرینگے، اس وقت اس مسئلہ نے پوری قوم کو نفسیاتی مریض بنا کر رکھ دیا ہے، آپ کا ہاتھ اگر عوام کی نبض پر ہے تو آپ سی این جی اور گھروں میں استعمال ہونےوالی گیس کی طرف اشارہ کرینگے، گاڑیاں کھڑی ہو گئی ہیں، اور چولہے بجھ گئے ہیں، اگلے وقتوں میں چولہے بجھتے تھے تو کم از کم راکھ تو ہوتی تھی، اب تو وہ بھی نہیں ہے، یعنی یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ....ع&lt;br /&gt;کریدتے ہو جو اب راکھ، جستجو کیا ہے؟&lt;br /&gt;بہت زیادہ ذہانت کا ثبوت دینگے تو آپ یہ رونا روئیں گے کہ ریلوے کی موت واقع ہو رہی ہے اور پی آئی اے عالم نزع میں ہے لیکن افسوس! آپکا جواب درست نہیں ہے، یہ مسائل بھی اہم ہیں بلکہ زندگی اور موت کے درمیان عوام کو لٹکانے والے مسائل ہیں، تاہم ان میں سے کوئی مسئلہ بھی اہم ترین کہلانے کا مستحق نہیں!&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اطلاعاً عرض ہے کہ اس وقت پاکستان جس مسئلے میں گھرا ہوا ہے اور جاپان کی پشت پر واقع جزائر ہوائی سے لیکر بحر اوقیانوس تک پوری دنیا جس مسئلے کی وجہ سے سراسیمہ ہے، اس مسئلے کی جڑ قصور میں ہے، خورشید محمود قصوری اور سردار آصف احمد علی میں ٹھنی ہوئی ہے، دونوں ایک دوسرے کےخلاف صف آرا ہیں، ایک کہتا ہے میں ٹکٹ لوں گا، دوسرا کہتا ہے، یہ میری سیٹ ہے، انگریزی محاورے کےمطابق دونوں اپنے اپنے گندے کپڑے گھر سے نکال کر تحریک انصاف میں لے گئے ہیں اور وہاں دھو رہے ہیں، خورشید محمود قصوری، پرویز مشرف کے پورے دور اقتدار میں شریک اقتدار رہے ہیں، اس عرصہ میں انہوں نے جو کام علاقے کیلئے بقول انکے اپنے، کیے ہیں، ان کی دہائی دیکر ٹکٹ پر اپنا حق جتا رہے ہیں، یوں بھی نیکی کرکے جتانے کا تعلق تحریک انصاف سے کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے۔ جاوید ہاشمی نواز لیگ چھوڑ کر تحریک انصاف میں گئے ہیں، تو انہیں یہ احسان جتایا جا رہا ہے کہ بھائی جان! کل جب آپ جیل میں تھے تو کھانا تو ہمارے ہاں سے آ رہا تھا! جاوید ہاشمی بہت تجربہ کار اور گرم و سرد زمانہ چشیدہ سہی، بہرحال یہاں مار کھا گئے اور حکماءکی یہ نصیحت انہوں نے یاد نہ رکھی کہ کھانا انکے ہاں سے نہ کھانا جو بعد میں جتائیں! اس لیے کہ صرف ”اعلی“ ظرف والے ہی ایسے احسانات جتایا کرتے ہیں!&lt;br /&gt;ذکر&amp;nbsp;خورشید محمود قصوری اور آصف احمد علی کا ہو رہا تھا،اب یہ نہیں معلوم کہ اہل قصور انکے احسانات جتانے سے رقیق القلب ہوتے ہیں یا پلٹ کر فراق گورکھپوری کا یہ شعر سناتے ہیں کہ:&lt;br /&gt;جان دے بیٹھے تھے اک بار ہوس والے بھی&lt;br /&gt;پھر وہی مسئلئہ سود و زیاں ہے کہ جو تھا&lt;br /&gt;اسمبلیوں کی نشستیں وراثت کا حصہ ہیں، آخر یہ کس طرح ممکن ہے کہ خورشید محمود قصوری اور آصف احمد علی کے علاوہ بھی اس وراثت کا کوئی حقدار ہو؟ دل چاہتا ہے کہ اہل قصور سے پوچھا جائے:&lt;br /&gt;”الیس منکم رجل الرشید؟“&lt;br /&gt;کیا ان دو کے علاوہ پورے علاقے میں اور کوئی تمہاری نمائندگی کا اہل نہیں؟ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;دوسری طرف راوی لکھتا ہے کہ شاہ محمود قریشی ”اپنی“ نشست کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ”تین پشتوں سے ہمارے پاس“ ہے! ہم چونکہ سیانے ہیں اس لیے موروثی نشستیں زندہ ہیں، ہم بھارت کی طرح بے وقوف نہیں ہیں، جس نے 1951ءمیں زرعی اصلاحات متعارف کیں او&lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ر سیاست میں وراثت کے قصے کو ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا۔&lt;br /&gt;تحریک انصاف کے حوالے سے ایک اور بات یاد آ گئی، اگر تحریک انصاف اس خیال میں ہے کہ بلی کی طرح بار بار گھر بدلنے والے اس کے سایہ عاطف میں آئے ہیں تو بس اب پوتر ہو گئے ہیں تو یہ اس کی غلط فہمی بلکہ ناپختگی ہے۔ اقبال نے یوں ہی تو نہیں کہا تھا کہ: &lt;br /&gt;براہیمی&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &amp;nbsp;نظر &amp;nbsp;پیدا &amp;nbsp;مگر&amp;nbsp; مشکل &amp;nbsp;سے&amp;nbsp; &amp;nbsp;&amp;nbsp;ہوتی &amp;nbsp;ہے&lt;br /&gt;ہوس سینوں میں چھپ چھپ کر بنا لیتی ہے تصویریں&lt;br /&gt;اس کی مثال جناب خورشید محمود قصوری کا تازہ دورہء یو۔اے۔ای ہے جہاں انکی ملا قات پرویز مشرف سے ”اچانک“ ہو گئی، اخبار کی خبر کےمطابق عمران خان نے قصوری صاحب کو آئندہ محتاط رہنے کا مشورہ (یا حکم؟) دیا ہے! ایک روایت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ قصوری صاحب اپنی&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;پارٹی (یعنی اپنی نئی پارٹی) کی طرف سے باقاعدہ مذاکرات کیلئے گئے تھے، اور محتاط رہنے کا مشورہ محض عوام کی تسلی کیلئے ہے! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;بہرحال جو کچھ بھی ہے، یہ طے ہے کہ پرویز مشرف اپنی ”مستقل مزاجی“ کی وجہ سے سیاست میں آنے پر تلے ہوئے ہیں اور مصر ہیں کہ ملک کو مسائل سے نجات وہی دلوا سکتے ہیں۔ مسائل کے بارے میں انکی سمجھ بوجھ کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اپنے عہد اقتدار میں انہوں نے فخر سے کہا کہ ملک میں کاروں کی تعد اد زیادہ ہو گئی ہے اور یہ ترقی کی علامت ہے! حالانکہ ترقی کی علامت ذاتی کاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نہیں ہوتی بلکہ عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام ہوتا ہے اور پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ نام کی کوئی شے اس وقت موجود نہیں! مجبوراً ہر شخص کو گاڑی رکھنا پڑ رہی ہے اور سڑکیں کاروں کی اس بڑھتی ہوئی تعداد کا ساتھ نہیں دے پا رہیں۔ آج اگر اسلام آباد، لاہور، اور کراچی میں زیر زمین ریلوے ہوتی تو اسلام آباد سے پنڈی صدر، ڈیفنس لاہور یا ملتان روڈ سے مال روڈ اور ناظم آباد کراچی سے آئی آئی چندریگر روڈ اور بندرگاہ تک شاید ہی کوئی اپنی کار استعمال کرتا۔ دلی میں اس وقت انڈر گراﺅنڈ ریلوے، دنیاکے بہترین نظاموں میں شمار ہوتی ہے۔ آلودگی اور آمدورفت، دونوں مسائل کو انہوں نے ایک تیر سے شکار کیا ہے۔&lt;br /&gt;پبلک ٹرانسپورٹ نظام کی بربادی کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان میں کاروں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر ہوائی سفر کا نظام تباہ ہو جائے تو آپ کا کیا خیال ہے کہ کیا نتیجہ برآمد ہو گا؟ آپ کے ذہن نے اس سوال کا جو جواب سوچا ہے، وہ سو فیصد درست ہے! جس کی مالی استطاعت ہو گی وہ پی آئی اے کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے بجائے اپنا ذاتی جہاز رکھے گا، یہی تو وہ تازہ ترین خبر ہے جس پر ماتم کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔ خبر کے مطابق&amp;nbsp; کھرب پتی حضرات میں نجی طیاروں کا مقابلہ شروع ہو گیا ہے، ان نجی طیاروں میں سات یا دس کی تعداد تک مسافر بیٹھ سکتے ہیں، یہ پرائیویٹ طیارے ملک کے اندر ہی نہیں، باہر بھی جا رہے ہیں۔ یہاں مزہ یہ بھی ہے کہ بہاول پور، سکھر اور نواب شاہ جیسی چھوٹی جگہوں سے بین الاقوامی پرواز پر جانے والے سیٹھ حضرات کو امیگریشن، کسٹم یا پاسپورٹ کے محکموں والے بھی نہیں دکھائی دیتے۔ جہازوں کی پارکنگ کے اخراجات بھی نہیں لیے جا رہے۔ سبحان اللہ! مزے ہی مزے ہیں، کہاں کی رباعی کہاں کی غزل، یعنی کون سی ریاست اور کون سے امیگریشن اور کسٹم کے قوانین!....&lt;br /&gt;ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں&lt;br /&gt;جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے&lt;br /&gt;رہے عوام.... تو پی آئی اے اور ریلوے کی تباہی کے بعد اب وہ قافلوں کی شکل میں سفر کریں۔ مخیر حضرات کو چاہیے کہ گلگت سے لیکر کراچی تک مناسب فاصلوں پر کنوئیں کھدوائیں اور سرائیں بنوائیں۔ سرائے میں بھٹیارن ہو۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;گھو ڑوں کیلئے الگ انتظام ہو ....&lt;br /&gt;دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو&lt;br /&gt;ہاں دکھا دے پھر وہی نظارہ صبح و شام تو &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-2012286394275592007?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/2012286394275592007/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2012/01/blog-post.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2012286394275592007'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2012286394275592007'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2012/01/blog-post.html' title='گھوڑوں کے لیے الگ انتظام'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-4063156659048533501</id><published>2011-12-27T05:36:00.000+05:00</published><updated>2011-12-27T05:36:57.451+05:00</updated><title type='text'>ہم کم از کم اتنا تو کریں</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;قصور اعجاز الحق کا بھی اتنا نہیں، انصاف کی بات یہ ہے کہ شروعات جناب وزیراعظم نے خود کیں۔ قائداعظم کے یوم ولادت کے سلسلے میں ادارہ ثقافتِ پاکستان اسلام آبادمیں تصویری نمائش کا انعقاد تھا۔ وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی تشریف فرما تھے۔ ملٹی میڈیا پر تصویریں دکھائی جا رہی تھیں۔ قائداعظم کی زندگی کے مختلف ادوار ایک ایک کر کے سامنے آ رہے تھے، اچانک سکرین پر جنرل ضیاالحق فوجی وردی میں ملبوس نمودار ہو گئے۔ نوائے وقت کی اطلاع کے مطابق وزیراعظم برہم ہو گئے، منتظمین پر برس پڑے، کابینہ ڈویژن کی سیکرٹری سے بازپُرس کی اور پھر اسی پر بس نہیں کیا، خطاب کے دوران برہمی ہی میں پوچھا کہ قائداعظم کی تصاویر کے ساتھ ضیاالحق کا کیا تعلق ہے؟ &lt;br /&gt;یوں تو یہ خبر پڑھتے ہوئے ہر شخص کے ذہن میں یہ بات آئی ہو گی کہ آخر ضیاالحق کے زمانے میں بھی تو&amp;nbsp; یوسف رضا گیلانی اقتدار ہی میں تھے، تاہم جنرل ضیاالحق کے صاحبزادے جناب اعجازالحق اس خبر کو کس طرح پی سکتے تھے۔ یوں بھی وہ ان دنوں اقتدار سے باہر ہیں اور میڈیا کے حوالے سے پس منظر میں ہیں، اس لئے ایسا موقعہ اللہ دے اور بندہ لے۔ چنانچہ حسبِ توقع انہوں نے وزیراعظم کی برہمی کا نوٹس لیا اور باقاعدہ بیان جاری کیا۔ جناب اعجازالحق کا کہنا یہ ہے کہ وزیراعظم وہ وقت بھول گئے جب ’مردِ مومن مردِ حق ضیاالحق ضیاالحق‘ کے نعرے لگاتے تھے اور یہ نعرے لگاتے وقت ضیاالحق کی تصویریں بھی اٹھائے ہوئے ہوتے تھے۔ اس وقت جناب یوسف رضا گیلانی ضلع کونسل ملتان کے چیئرمین تھے، انہوں نے ضیاالحق کے ریفرنڈم کےلئے بھرپور مہم بھی چلائی تھی۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;لیکن اصل بات جو جناب اعجازالحق نے کی وہ اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ دلچسپ اگر نہیں تو چشم کشا ضرور ہے۔ اعجازالحق صاحب نے جناب وزیراعظم کو یاد دلایا ہے کہ وہ وفاقی وزیر بننے کےلئے اُن کے پاس یعنی اعجازالحق کے پاس آئے تھے اور اُنہی کی سفارش پر انہیں وفاقی وزیر بنایا گیا تھا۔ &lt;br /&gt;ہمارا جناب اعجازالحق اور جناب وزیراعظم کے باہمی تنازعے سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم اس ضمن میں مکمل غیر جانبدار ہیں، بات وزیراعظم کی بھی غلط نہیں۔ آخر قائداعظم کی تصویروں کے درمیان باوردی ضیاالحق کی تصویر کا کیا جواز تھا؟ لیکن اس سارے جھگڑے میں عبرت کا پہلو جو نکلتا ہے وہ ایک اور ہی ہے۔ ذرا میرٹ کا نظام ملاحظہ کیجئے۔ مردِ مومن مردِ حق نے وزیر بنایا تو کس کی سفارش پر؟ اور اب بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ ضیاالحق کے دور اقتدار میں اُسکے بیٹے نظر نہیں آتے تھے۔ صاحبزادے خود تو اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ اُس زمانے میں باقاعدہ ”وزیر گر“ تھے۔ &lt;br /&gt;لگے ہاتھوں قوم کو یہ بھی بتا دیتے کہ سفارش انہوں نے کس میرٹ پر کی تھی؟ جناب یوسف رضا گیلانی نے انہیں کس طرح قائل کیا تھا اور اپنے والد محترم سے سفارش کرتے وقت جناب اعجازالحق نے وہ کون سی دلیل دی تھی جس سے جنرل ضیاالحق سفارش ماننے پر مجبور ہو گئے تھے؟ اگر جناب اعجازالحق ظفراللہ جمالی کی طرح بہادر ہوں تو کہہ اُٹھیں کہ آخر جنرل ضیاالحق خود کون سے میرٹ پر آئے تھے؟ ظفراللہ جمالی صاحب کا قصہ یہ ہے کہ قاضی حسین احمد نے جمالی صاحب کو، جب وہ وزیراعظم تھے، نصیحت کی کہ میرٹ پر کام کیا کریں۔ اس پر صدق گو جمالی صاحب نے برملا کہا کہ میں خود کون سے میرٹ پر رکھا گیا ہوں!&lt;br /&gt;آخر عالم اسلام ہی میں یہ کیوں ممکن ہے کہ وزیر بننے کے لئے حاکم وقت کے بیٹے کو پکڑا جائے؟ کیا برطانیہ، امریکہ، سنگاپور یا آسٹریلیا میں سیاست دان وزیر بننے کےلئے وزیراعظم یا صدر کی آل اولاد کے پاس&amp;nbsp; جاتے ہیں؟ لیکن ستم ظریفی تو یہ ہے کہ عالم اسلام میں ایسے بہت سے کام ہو رہے ہیں جن کا ترقی یافتہ یا مغربی ممالک سوچ بھی نہیں سکتے۔ دو دن پہلے اس کالم نگار نے ٹیلی ویژن پر خبر دیکھی کہ تبوک سے کوئٹہ آنے والے طیارے کے پہیے نہیں کُھل رہے اس لئے ایمرجنسی لینڈنگ کےلئے طیارے کا رُخ کراچی کی طرف کر دیا گیا ہے۔ کالم نگار خوش ہُوا کہ چلیں، اپنے زوال کے زمانے میں بھی پی آئی اے اتنا تو کر رہی ہے کہ تبوک میں محنت مزدوری کرنے والے پاکستانیوں کو کراچی یا لاہور لانے کے بجائے کوئٹہ لا رہی ہے۔ ظاہر ہے یہ لوگ کوئٹہ کے اور کوئٹہ کے قرب و جوار کے ہوں گے، یوں انہیں سہولت بہم پہنچائی جا رہی ہے، لیکن بعد میں منکشف ہُوا کہ یہ تو قصہ ہی اور تھا۔ جہاز پی آئی اے کا تھا نہ مسافر پاکستانی تھے&amp;nbsp;۔ اخبار کی خبر کے مطابق جہاز تبوک کے گورنر کی ملکیت تھا۔ [ ملکیت کا لفظ قابل غور ہے ]&amp;nbsp;اس میں ”شکار کا سامان، خیمے اور ذاتی ملازمین“ سوار تھے اور ان سواروں کی تعداد 72 تھی۔ اگر جہاز کے عملے کے پانچ چھ افراد اس تعداد سے منہا کر لیں تو پھر بھی خدام کی تعداد پینسٹھ چھیاسٹھ سے کم نہیں! کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ امریکہ کے صدر یا برطانیہ کے وزیراعظم کے ذاتی ملازموں کی تعداد ساٹھ ستر کے لگ بھگ ہو گی؟ بی بی مارگریٹ تھیچر تو کھانا بھی اپنے ہاتھوں سے بناتی تھی۔ &lt;br /&gt;ہماری ہر تقریر اور ہر تحریر میں اہل مغرب پر لعن طعن ہوتی ہے۔ مثالیں ہم خلفائے راشدینؓ کی دیتے ہیں۔ کبھی ہم دنیا کو بتاتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیزؓ نے ذاتی کام کرتے وقت سرکاری چراغ بُجھا دیا۔ کبھی ہم یہ تذکرہ کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ کو اپنی قمیض بنانے کےلئے اپنے بیٹے سے کپڑا لینا پڑا اور پھر برسرِ منبر اس کی وضاحت بھی کرنا پڑی، لیکن حالت ہماری یہ ہے کہ ہمارے صدر بیماری کے دوران دبئی میں قیام پذیر تھے تو اُن کا سرکاری سٹاف کئی قسطوں میں اسلام آباد سے دبئی گیا، حالانکہ ملک میں قائم مقام صدر موجود تھے اور صرف صدر ہی کا تذکرہ کیوں؟ جو لوگ حزبِ اختلاف میں ہیں اُن کا انداز بھی اس سے مختلف نہیں۔&amp;nbsp; میاں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دونوں ادوار ملا کر اگر حساب لگایا جائے کہ اُن کے لاہور آنے جانے پر سرکاری خزانے کا کتنا حصہ صرف ہُوا تو جو اعداد و شمار سامنے آئیں گے حیران و پریشان کرنے کے لئے کافی ہوں گے۔ گھٹ کوئی بھی نہیں&amp;nbsp; کر رہا۔حسبِ توفیق سب لگے ہوئے ہیں اور چُھریاں کانٹے ہاتھوں میں پکڑ کر لگے ہوئے ہیں۔ اگر ہم اپنے آپ کو بدل نہیں سکتے تو کم از کم پوری دنیا کو نصیحتیں کرنا&amp;nbsp; تو چھوڑ دیں۔! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-4063156659048533501?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/4063156659048533501/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/12/blog-post_27.html#comment-form' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/4063156659048533501'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/4063156659048533501'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/12/blog-post_27.html' title='ہم کم از کم اتنا تو کریں'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-3532039094261077221</id><published>2011-12-20T16:25:00.000+05:00</published><updated>2011-12-20T16:25:30.814+05:00</updated><title type='text'>ہوم ورک! عمران خان! ہوم ورک</title><content type='html'>&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://2.bp.blogspot.com/-Qouc91yMxkY/TvBwUKMrWfI/AAAAAAAAAUA/6hRkxAWFo9c/s1600/p11-8_8_1.gif" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" src="http://2.bp.blogspot.com/-Qouc91yMxkY/TvBwUKMrWfI/AAAAAAAAAUA/6hRkxAWFo9c/s1600/p11-8_8_1.gif" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-3532039094261077221?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/3532039094261077221/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/12/blog-post_20.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/3532039094261077221'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/3532039094261077221'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/12/blog-post_20.html' title='ہوم ورک! عمران خان! ہوم ورک'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><media:thumbnail xmlns:media='http://search.yahoo.com/mrss/' url='http://2.bp.blogspot.com/-Qouc91yMxkY/TvBwUKMrWfI/AAAAAAAAAUA/6hRkxAWFo9c/s72-c/p11-8_8_1.gif' height='72' width='72'/><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-2725187277824545898</id><published>2011-12-06T16:30:00.000+05:00</published><updated>2011-12-06T16:30:27.090+05:00</updated><title type='text'>عظیم ترین ائر لائن</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;دنیا کی تمام بڑی بڑی ائر لائنوں نے مجھے اپنے جہازوں میں سفر کرنے کی پیشکش کی ان میں روانڈا، گھانا، نائجر، چاڈ، صومالیہ اور افغانستان کی ائر لائنیں نمایاں تھیں۔ ان ائر لائنوں نے گارنٹی دی تھی کہ ان کے جہازوں میں سفر آرام دہ ہوگا، کسی معاملے میں تاخیر نہیں ہوگی اور معیار عالمی سطح کا ہوگا لیکن میں نے ان کی پیشکش ٹھکرا دیں، میں نے دنیا کی عظیم ترین ائر لائن سے ٹکٹ خریدا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;دنیا کی عظیم ترین ائر لائن کے عظیم جہاز سے جب میں بنکاک کےلئے کئی گھنٹوں کی تاخیر سے روانہ ہوا تو اس جہاز کا لاہور رُکنے کا کوئی پروگرام نہ تھا لیکن جب یہ جہاز لاہور سے گزر رہا تھا تو کچھ مسافروں نے راستے میں کھڑے ہو کر زور زور سے ہاتھ ہلائے اور جہاز کو رُکنے کا اشارہ کیا، جہاز نے جواب میں زور زور سے ہارن بجائے اور انہیں راستے سے ہٹ جانے کےلئے کہا لیکن گٹھڑیاں سروں پر لادے اور تھیلے ہاتھوں میں پکڑے مسافر کہاں ماننے والے تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ جی ٹی ایس کی اس بس کو، نہیں، معاف کیجئے، میرا مطلب ہے عظیم ترین ائر لائن کے اس جہاز کو لاہور رکنا پڑا۔ یہ اسلام آباد سے کئی گھنٹے تاخیر سے چلا تھا۔ دو گھنٹوں کی تاخیر مزید جمع ہوگئی۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ہانگ کانگ جانے والا یہ جہاز بنکاک رُکا تو کئی مسافر نیچے اترے۔ ان مسافروں نے بنکاک سے سنگاپور، ملائیشیا، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور کئی دوسرے ملکوں کےلئے جہاز پکڑنے تھے۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ سارے جہاز جا چکے ہیں، ان گستاخ جہازوں نے عظیم ترین ائر لائن کے جہاز کا انتظار ہی نہیں کیا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ان واماندہ مسافروں کو بنکاک کے ہوائی اڈے کے ملازمین دیکھتے تھے اور روتے تھے۔ دیکھتے اس لئے تھے کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کے ملک کی ائر لائن دنیا کی عظیم ترین ائر لائن ہے اور روتے اس لئے تھے کہ عظیم ترین ائر لائن کا کوئی نمائندہ ان کی رہنمائی کے لئے موجود نہیں تھا۔ بالآخر ایک تھائی بی بی نمودار ہوئی اُس نے عظیم ترین ائر لائن کا نام لے کر قہقہہ بلند کیا اور کہا کہ اس ائر لائن کے جہاز ہمیشہ تاخیر سے آتے ہیں اور اس کے مسافر ہمیشہ بدحال اور خراب ہوتے ہِیں۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ان مسافروں کو پورے چوبیس گھنٹے بنکاک رُکنا پڑا، دوسرے دن یہ مختلف جہازوں مےں بیٹھ کر سنگاپور اور دوسرے شہروں میں پہنچے۔ نیوزی لینڈ، ملائیشیا اور دوسرے ملکوں کو جانے والے جہاز بھی جا چکے تھے چنانچہ انہیں کئی شہروں میں کئی بار رُکنا پڑا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;عظیم ترین ائر لائن کا جہاز جب بنکاک سے اُڑا تو یہ گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں کے حساب سے تاخیر کا شکار ہو چکا تھا۔ اسکی منزل ہانگ کانگ تھی، یہ ہانگ کانگ اُترا تو اسکے مسافروں کی شکلیں بدل چکی تھیں۔ عورتیں بوڑھی ہو چکی تھیں، مرد کبڑے ہوگئے تھے۔ بچے شادی کی عمر کو پہنچ چکے تھے لیکن مصیبت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ہانگ کانگ اتر کر کچھ مسافروں نے جاپان کا جہاز پکڑنا تھا اور کچھ نے کوریا کا، معلوم ہوا کہ یہ سارے جہاز بھی جا چکے ہیں، چنانچہ ان مسافروں کو کئی گھنٹے، ہانگ کانگ میں رُکنا پڑا۔ جب یہ مسافر ہانگ کانگ کے ہوائی اڈے پر، بنچوں پر بیٹھے، اپنی قسمت کو رو رہے تھے تو عظیم ترین ائر لائن کے افسر اور ملازمین ہانگ کانگ کے بازاروں میں سیر اور شاپنگ کر رہے تھے۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;میں پچھتا رہا ہوں کہ کاش روانڈا یا صومالیہ کی ائر لائن سے سفر کر لیتا۔ سنا ہے کہ رونڈا، گھانا، چاڈ اور صومالیہ کی ائر لائنوں میں بھرتی سفارش سے نہیں ہوتی۔ وزارت دفاع چلانے والے جرنیل ان ائر لائنوں کے انچارج نہیں ہوتے۔ انکے جہاز وقت پر روانہ ہوتے ہیں اور اگر تاخیر ہو جائے تو مسافروں کو ٹیلی فون پر باقاعدہ مطلع کیا جاتا ہے کہ فلاں وقت کے بجائے فلاں وقت پر پہنچیں۔ عظیم ترین ائر لائن نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی مسافر کو ٹیلی فون پر تاخیر کی اطلاع نہیں دی۔ ہاں! اُن شخصیات کو ضرور اطلاع دی جاتی ہے جو منیجنگ ڈائریکٹر کا تبادلہ کر سکتی ہیں۔! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;روانڈا، گھانا، چاڈ اور صومالیہ کی ائر لائنوں میں کام کرنے والی میزبان خواتین کے چہرے جھریوں سے اَٹے ہوئے نہیں ہوتے، نہ ہی ان کے عملہ کے مرد حضرات ریش ہائے دراز اور ریش ہائے سفید کے مالک ہوتے ہیں، ان ائر لائنوں کے ملازمین خوش اخلاق ہوتے ہیں اور جس سے بات کریں اُس کے پیٹ میں سات ٹیکے نہیں لگانے پڑتے۔ گھنٹی بجانے پر ان ائر لائنوں کی ائر ہوسٹسیں کہیں نہ کہیں سے ضرور ظاہر ہوتی ہیں اور آکر یہ نہیں کہتیں کہ بار بار کیوں بلاتے ہو، ہمیں بھی تو پرواز کے دوران آرام کرنا ہوتا ہے! سنا ہے کہ یہ ائر لائنیں مسافروں کو تازہ کھانا فراہم کرتی ہےں جسے کھا کر قے ہوتی ہے نہ اُبکائی آتی ہے! ان ائر لائنوں کے ملازمین سمگلنگ کر کر کے ارب پتی بھی نہیں ہوئے۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;روانڈا، گھانا، چاڈ اور صومالیہ کے ہوائی جہازوں میں ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ ان کا عملہ بین الاقوامی اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہوتا ہے، مثلاً بین الاقوامی فضائی اصول یہ ہے کہ ہر تین مسافروں کے استعمال کرنے کے بعد بیت الخلا کو صاف کیا جائےگا۔ آپ حیران ہوں گے کہ ان ائر لائنوں کے جہازوں میں بیت الخلا پورے سفر کے دوران صاف ستھرے رہتے ہیں، پانی ختم ہوتا ہے نہ فرش پر کھڑے ۔ہونے سے ٹخنے پانی میں ڈوبتے ہیں! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;میں نے تو عہد کیا ہے کہ آئندہ روانڈا، گھانا، چاڈ یا صومالیہ کی ائر لائن سے سفر کروں گا۔ آپ کا کیا ارادہ ہے؟ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-2725187277824545898?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/2725187277824545898/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/12/blog-post.html#comment-form' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2725187277824545898'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2725187277824545898'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/12/blog-post.html' title='عظیم ترین ائر لائن'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-406009731053581010</id><published>2011-11-29T14:14:00.001+05:00</published><updated>2011-12-06T14:20:40.177+05:00</updated><title type='text'>فال اور اُلّو</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اُس سے تعارف اُس وقت ہوا جب چھ سال پہلے میں کچھ عرصہ کیلئے انگلستان کے ایک خوبصورت قصبے گلو سٹر میں مقیم تھا۔پہلی دفعہ اسے مسجد میں دیکھا۔سفید فام انگریز! جسے ہم پاکستانی عام طور پر گورا کہتے ہیں۔وہ بہت انہماک سے نماز پڑھ رہا تھا۔ میں اسے ملا اور چند دنوں میں ہم دوست بن چکے تھے۔اکثر اسکی سفیدفام بیوی بھی مسجد میں اسکے ساتھ ہوتی۔اس نے بتایا کہ دونوں ایک ساتھ اسلام کی پناہ میں داخل ہوئے تھے۔ بیوی ڈاکٹر تھی اور وہ خود بزنس مین۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ایک ماہ پہلے اس کا فون آیا کہ وہ دارالحکومت کے فلاں ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہے۔میں نے اپنے گھر کا پتہ بتایا اور فوراَ &amp;nbsp;آنے کی فرمائش کی لیکن اس کا اصرار تھا کہ میں اسکے ہوٹل آﺅں کیونکہ اس کے پاس وقت کم تھا۔ شام کو اس کی فلائٹ تھی۔ وہ گلوسٹر واپس جارہا تھا۔میں تین گھنٹے اسکے پاس بیٹھا ۔ ہم نے دنیا جہان کی باتیں کیں۔ جب میں نے پوچھا کہ وہ پاکستان کیوں آیا تو پہلے تو وہ طرح دے گیا لیکن جب میں نے اصرار کیا اور اس نے&amp;nbsp; لگی لپٹی رکھے بغیر وجہ&amp;nbsp;بتائی تو سچی بات یہ ہے کہ میرے ہوش اُڑ گئے ۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کہوں۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اس نے بتایا کہ وہ پاکستان مستقل رہنے کےلئے آیا تھا۔ لیکن چھ ماہ یہاں گذارنے کے بعد اپنا ارادہ بدل کر واپس جا رہا ہے۔ ا سکی تفصیل یہ تھی کہ وہ کئی سال سے کسی مسلمان ملک میں آباد ہونے کا سوچ رہا تھا۔ اسکی نگاہِ انتخاب پاکستان پر اس لئے پڑی کہ یہ واحد مسلمان ملک تھا جو ایٹمی طاقت تھی۔ اس کا خیال تھا کہ اسلامی دنیا میں یہ ملک سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہو گا ۔ یہ ترقی اسکے اندازے کےمطابق ذ ہنی بھی ہوگی اور معاشی بھی۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;وہ یہاں آگیا۔ اس نے اپنا کاروبار بھی شروع کیا لیکن افسوس اسکے سارے اندازے غلط اور سارے خواب جھوٹے نکلے۔ جب وہ اپنی ناکامی کی داستان سنا رہا تھا تو مجھے نظیری نیشا پوری کا شعر یاد آرہا تھا :&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یک فالِ خوب راست نہ شُد بر زبانِ ما&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;شومئی چغد ثابت و یُمنِ ہما غلط&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یعنی کوئی ایک فال بھی درست نہ نکلی۔ اُلّو کی نحوست تو ثابت ہو گئی لیکن ہما کی برکت والی بات غلط تھی !&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;پہلا بڑا جھٹکا اُسے اُس وقت لگا جب اس نے اپنی بیوی کی ہمراہی میں لاہور سے پشاور تک سفر کیا۔ مسلمان ہونے کے بعد دونوں میاں بیوی ترکی ، سعودی عرب اور چند دوسرے مسلمان ملکوں میں سیر و تفریح اور مشاہدے کیلئے گئے تھے۔ لیکن پاکستان میں یہ سفر ان کیلئے ایک عجیب و غریب تجربہ تھا جو دلچسپ تو خیر کیا ہونا تھا، خوفناک ضرور تھا جو انہی کی زبانی کچھ یوں تھا :&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;” ہم جس مسلمان ملک میں بھی گئے ، وہاں میری بیوی کو&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;نماز پڑھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔ ترکی اور سعودی عرب میں میری بیوی مسجد ہی میں نمازیں پڑھتی تھی۔ دوسری خواتین بھی ہر نماز میں موجود ہوتی تھیں۔ برطانیہ کی مسجدوں میں بھی یہی معمول تھا۔ یہاں تک کہ قرطبہ اور غرناطہ کی مسجدوں میں بھی میری بیوی دوسری خواتین کےساتھ نمازیں ادا کرتی رہی۔ پاکستان میں جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا اس سے ہم سخت خوف زدہ ہو گئے۔ ہم نے لاہور سے پشاور تک جی ٹی روڈ پر سفر کیا۔ ہم یہ تاریخی شاہراہ دیکھنا چاہتے تھے اور ساتھ ساتھ اپنے بزنس کیلئے کچھ مشاہدہ اور تجزیہ بھی کرنا چاہتے تھے۔ ظہر کی نماز کا وقت ہوا اور ہم ایک مسجد میں رکے ۔ معلوم ہوا کہ مسجد میں خواتین کی نماز کا تصوّر ہی نہیں۔ وضو والی جگہ مردوں سے بھری ہوئی تھی۔ یہاں کسی عورت کا وضو کرنا ناممکن تھا۔ ہم یکے بعد دیگرے راستے میں سات مسجدوں میں رکے۔ کسی ایک میں بھی خواتین کیلئے نماز پڑھنے کی سہولت نہیں تھی ۔ ترکی میں خواتین مسجد کے ہال ہی میں مردوں کے پیچھے صفیں بنا لیتی ہیں لیکن یہاں وہ بھی ممکن نہ تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے ان مسجدوں میں سالہا سال سے کوئی عورت داخل نہیں ہوئی اور اگر ہو جائے تو یہ ایک عجوبہ ہو گا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;رہے ریستورانوں کے باتھ روم تو وہ اس قدر گندے اور عفونت زدہ تھے کہ وہاں وضو کرنے کے تصور ہی سے روح کانپ جاتی تھی۔ اکثر باتھ روموں کے فرش پانی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ فلش ٹوٹے ہوئے تھے اور جو سلامت تھے ان میں پانی نہیں تھا۔ کموڈ جن پر بیٹھا جانا تھا ان پر جوتوں کا کیچڑ لگا تھا۔ صاف معلوم ہو رہا تھا کہ ان پر پاﺅں کے بل بیٹھا جاتا رہا ہے حالانکہ اس مقصد کیلئے دیسی سٹائل کی ڈبلیو سی موجود تھیں ۔ دنیا کی واحد ایٹمی اسلامی طاقت میں صفائی کے اس ماتمی معیار پر ہمارا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ راولپنڈی گذری تو کچھ دیر کے بعد ہم نے اٹک کا پُل پار کیا۔ اٹک پُل سے لے کر پشاور تک میری بیوی کہیں بھی وضو نہ کر سکی اور تیمّم کر کے نماز گاڑی میں سیٹ پر بیٹھ کر پڑھتی رہی۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یوں تو سارے سفر ہی کے دوران میری بیوی کو ہر جگہ انتہائی ” غور “ سے دیکھا جاتا رہا تاہم اٹک کے پار اس سرگرمی میں اضافہ ہو گیا۔ پشاور سے واپس ہم نے ہوائی جہاز سے آنا تھا۔ پی آئی اے کے ایک اہلکار سے ہم کوئی بات کر رہے تھے۔ آن کی آن میں ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ وہ سب میری بیوی کو اور اسکے لباس کو اس قدر غور سے دیکھ رہے تھے کہ وہ سخت خوفزدہ ہوگئی۔ ایک سمجھ دار اہلکار کا بھلا ہو وہ اس صورت حال میں ہمارا خوف بھانپ گیا اور جلدی سے ہمیں ایک دفتر نما کمرے میں لے گیا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ہمیں انگلینڈ میں اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی ایک بات رہ رہ کر یاد آرہی تھی ۔ ہم نے جب اسلام قبول کیا تو بہت سوں نے کہا کہ ٹھیک ہے تم نے اسلام قرآن پڑھ کر قبول کیا ہے لیکن جب تم مسلمان ملکوں میں جاﺅ گے تو اکثر میں تمہارا تجربہ افسوسناک ہو گا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;افسوس انکی یہ بات صحیح نکلی۔ ہم اپنا بزنس سنٹر اسلام آباد میں قائم کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے ایک عمارت اس مقصد کیلئے کرائے پر لی۔ اسکے بعد جو کچھ ہوا وہ اس قدر عجیب و غریب ہے کہ کبھی کبھی تو خود ہم میاں بیوی کو ناقابل یقین لگتا ہے۔ اگر ایک جملے میں اسے بیان کرنا پڑے تو وہ یہ ہے کہ کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملا جو وعدہ پورا کرتا ہو یا سچ بولتا ہو۔ ہم نے اپنی عمارت میں جن لوگوں سے فرنیچر کا کام کرایا وہ وعدہ کرنے کے باوجود کئی کئی دن غائب ہوتے رہے۔ گارنٹی زبانی تھی۔ یہاں لکھ کر کوئی نہیں دیتا۔ فرنیچر کو چند ہفتوں میں ہی کیڑا لگ گیا۔ وہ لوگ کہتے رہے کہ آکر ٹھیک کر دینگے یا تبدیل کر دینگے لیکن کچھ بھی نہ ہوا۔ تنگ آ کر ہم نے کہنا ہی چھوڑ دیا۔ جس پارٹی نے لوہے کا کام کیا وہ مشہور لوگ ہیں اور ان کا بہت بڑا سیٹ اپ ہے۔ تینوں باپ بیٹے متشرّع ہیں۔ لیکن سارا کام ناقص نکلا۔ گیٹ، بل کھاتی سیڑھیاں، ریلنگ، کچھ بھی اسکے مطابق نہ تھا جو طے ہواتھا۔ پانچ بار آنے کا وعدہ کیا گیاکہ آ کر دیکھیں گے اور نقائص دور کرینگے ۔ لیکن نہ آئے۔ آخری بار میں خود انکے پاس گیا صرف یہ پوچھنے کہ کیا ان کا اس حدیث پر یقین ہے کہ لا ایمانَ لمن لا عہدَ لہُ۔ جو وعدہ خلافی کرے اس کا کوئی ایمان نہیں۔ مجھے تعجب ہوا کہ میری بات کو سنجیدگی سے سننے کے بجائے وہ لوگ صرف یہ کہتے رہے کہ کوئی بات نہیں دیر سویر ہو ہی جاتی ہے۔ جن ڈسٹری بیوٹرز نے ہمیں مال پہنچانا تھا ان میں سے سوائے ایک کے، کوئی بھی طے شدہ وقت پر نہیں آیا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;گیس اور بجلی والے، کارپٹ والے، ائر کنڈیشننگ والے، کسی کے ہاں وقت کی پابندی کا تصور ہے نہ وعدہ ایفا کرنے کا۔ یہاں تک کہ نناوے فیصد لوگ ٹیلیفون کرنا بھی گوارا نہیں کرتے کہ وہ طے شدہ وقت پر نہیں آئینگے اس لئے ان کا انتظار نہ کیا جائے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ جھوٹ بولنے والے اور وعدہ پورا نہ کرنےوالے ان لوگوں نے اپنی دکانوں کے اوپر کلمہ اور قرآنی آیات لکھ کر لٹکائی ہوئی ہیں اور ہاتھوں میں تسبیحیں پکڑی ہوئی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ جمعہ کے خطبات میں ان لوگوں کو معاملات اور حقوق العباد کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا جاتا۔ سارا زور اس بات پر ہے کہ ظاہری شکل و صورت اور لباس کیسا ہو۔ہمیں اس بات پر بھی سخت حیرت ہوئی کہ یہاں بھاری اکثریت مذہب کے معاملے میں سخت پُرجوش اور جذباتی ہے لیکن تقریباَ پچانوے فیصد لوگ قرآن پاک کے مطلب اور مفہوم سے مکمل طور پر نابلد ہیں بلکہ اکثریت پانچ وقت کی نماز میں جو کچھ پڑھتی ہے اس کا مطلب بھی نہیں سمجھتی ! “&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;میں نے کھانے کی دعوت دی لیکن اس نے ایک المناک اداسی کے ساتھ معذرت کر دی۔ ان کی پرواز کا وقت ہو رہا تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ جن کے اسلام میں صرف ظا ہر پر زور ہو اور باطن اسلام سے مکمل طور پر محروم ہو ان کے ہاں کھانا کھانا جائز ہی نہیں! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-406009731053581010?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/406009731053581010/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/11/blog-post_29.html#comment-form' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/406009731053581010'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/406009731053581010'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/11/blog-post_29.html' title='فال اور اُلّو'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-6182168484975730678</id><published>2011-11-22T22:23:00.000+05:00</published><updated>2011-11-22T22:23:59.138+05:00</updated><title type='text'>گٹھری اور تھیلا</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;کار نئی تھی اور چلانے والا جوان تھا۔اس کم عمری میں وہ کمپنی کا ایگزیکٹیو ڈائرکٹر تھا اور یہ قیمتی گاڑی اسے آج ہی کمپنی نے دی تھی۔ اسے چلاتے ہوئے وہ یوں محسوس کر رہا تھا جیسے آسمان پر اُڑ رہا ہو۔ ایک گلی سے گذرتے ہوئے اسے احتیاط کرنا پڑی۔ دائیں بائیں گاڑیاں کھڑی تھیں اور ان کے پیچھے سے کوئی کھیلتا ہئوا بچہ نکل کر سامنے آسکتا تھا۔ پھر بھی اس کی رفتار خاصی تیز تھی۔ اتنے میں زور کی آواز آئی اور اس کی گاڑی جیسے لرزی۔ وہ گاڑی روک کر باہر نکلا۔ ایک اینٹ اس کی گاڑی کو آ کر لگی تھی۔ دایاں دروازہ تقریباَ ٹوٹ چکا تھا۔ ایک سراسیمہ بچہ پاس ہی کھڑا تھا۔ اس نے اسے پکڑ کر جھنجھوڑا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;” کیا تمہیں معلوم ہے یہ گاڑی کتنی قیمتی ہے ؟ میں تم سے ایک ایک پائی وصول کرونگا۔ “ بچّہ کانپ رہا تھا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;مجھے معاف کر دیجیے لیکن مجھے مجبوراَ آپ کی گاڑی کو اینٹ مارنا پڑی۔ سب لوگ اتنی تیز رفتاری سے جا رہے ہیں کہ کوئی رک ہی نہیں رہا تھا۔ شکر ہے آپکی گاڑی کو میری اینٹ لگی اور آپ رک گئے۔ میرا معذور بھائی وِیل چیئر سے گر گیا ہے اور میں اکیلا اسے اُٹھا کر ویل چیئر پر دوبارہ نہیں بٹھا سکتا۔ کیا آپ میری مدد کریں گے؟ “&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;وہ کبھی اپنی نئی گاڑی کا ٹوٹا ہوا دروازہ دیکھتا اور کبھی بچے کو دیکھتا ۔ بالآخر اس نے بچے سے پوچھا “ کہاں ہے تمہا را بھائی ؟ “ بچہ اسے گاڑیوں کے پیچھے لے گیا ۔ ایک نوجوان جو ٹانگوں سے معذور تھا بے بسی سے زمین پر پڑا تھا۔اس نے اور بچے نے ملکر اسے اٹھایا اور ویل چیئر پر بٹھایا۔ بچے نے اس کا شکریہ ادا کیا اور گاڑی کے ٹوٹے ہوئے دروازے کی طرف دیکھے بغیر ویل چیئر کو دھکیلتا ایک طرف چلا گیا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہ کہانی ایک دوست نے ای میل کے ذریعے بھیجی ہے۔ ممکن ہے بہت سے قارئین کو یہ پہلے ہی معلوم ہو لیکن اصل مسئلہ کہانی کا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ وہ ہے جو اس کہانی سے نکلتا ہے اور ہم میں سے اکثر اسے سمجھنے کیلئے تیار نہیں۔ ہم سب تیز رفتاری کا شکار ہیں۔نئی گاڑیاں ہیں۔ تازہ جوانیاں ہیں۔ ترقی کرنے کے ہدف ہیں۔ آگے بڑھنے کی خواہشات ہیں۔دولت کمانے کی دھن ہے۔ شہرت پانے کی آرزو ہے۔ بڑے سے بڑا منصب حاصل کرنے کیلئے تگ و دو ہے۔ اولاد کیلئے بہت کچھ چھوڑنے کی منصوبہ بندی ہے۔ زمین ، محلات ،گاڑیاں ، زیورات ، جواہرات اور ساز و سامان اکٹھا کرنے کی فکر ہے۔ یہ سب کچھ تیز رفتاری کے بغیر نہیں حاصل ہو سکتا۔ اس لیے ہم بگٹٹ بھاگ رہے ہیں۔ ہمیں کسی چیز کا ہوش نہیں۔ خدا کا نہ مخلوقِ خدا کا۔دوسروں کے حقوق کا نہ اپنے فرائض کا۔ یہاں تک کہ کہیں سے ایک زور کی اینٹ آتی ہے ۔ کار کا دروازہ ٹوٹتا ہے ۔ تب ہم رکتے ہیں اور اس ویل چیئر کی طرف دیکھتے ہیں جو ہمارا انتظار کر رہی ہوتی ہے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم اینٹ لگنے سے پہلے رُک جائیں ۔ یا کم از کم اپنی رفتار ہی کم کر دیں؟ کیا ہم اس ناقابلِ تردید حقیقت کا ادراک نہیں کر سکتے کہ دنیا میں دولت، منصب ، شہرت اور چکا چوند کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جو ہماری توجہ کا محتاج ہے۔ آخر ہم اینٹ ہی کا کیوں انتظار کرتے ہیں ؟&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یوں لگتا ہے کہ پاکستان اس وقت تیز رفتار لوگوں کے پنجے میں بلکہ شکنجے میں پھنسا ہوا ہے۔ یہ لوگ سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔ گٹھڑیاں انکے سروں پر ہیں۔ تھیلے ان کے ہاتھوں میں ہیں۔ یہ گٹھڑیاں ، یہ تھیلے سونے اور جواہرات سے بھرے ہیں۔ یہ لوگ مزید سونے اور مزید جواہرات کیلئے بھاگے جا رہے ہیں۔ انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ ایک اینٹ زور سے لگنے والی ہے جس کے بعد انہیں ہر حال میں رُکنا پڑےگا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;لیکن صورتحال اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ عام طور پر ہمارا تائثر یہ ہوتا ہے کہ تیز رفتاری کا شکار یہ لوگ دنیا دار ہیں ، دنیا پرست ہیں اور دین کے نام لیوا ان میں شامل نہیں ۔ کاش ایسا ہوتا لیکن افسوس ایسا نہیں ہے۔ گٹھڑیاں سروں پر اُٹھائے اور تھیلے ہاتھوں میں پکڑے ان لوگوں میں سیاست دان ہیں، بیوورو کریٹ ہیں ،جرنیل ہیں، تاجر ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ان میں وہ لوگ بھی باقاعدہ شامل ہیں جو اپنے آپ کو دیندار کہتے ہیں، صالحین ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام چلانے کی بات کرتے ہیں اور بزعمِ خود ان لوگوں سے مختلف بلکہ برتر ہونے کا گمان رکھتے ہیں جن کا شمار بقول ان کے سگانِ دنیا میں ہے۔اس المیے کی ایک ہلکی سی جھلک دیکھیے۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہ جنرل ضیا کا زمانہ تھا۔ 1981ءکا سال تھا۔ دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے کو جنرل ضیا کا فرمان وصول ہوتا ہے : ”میں نے منظوری دےدی ہے کہ ”آئی پی ایس “ کو، جو اس وقت F-6/1&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;میں واقع ہے ، ایک مناسب عمارت بنانے کیلئے متعلقہ سائز کا پلاٹ دیا جائے۔ یہ وہی سائز چاہتے ہیں جو تعلیمی اداروں کو دیا جاتا ہے کیونکہ یہ اُس اعلیٰ کام کو مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں جو انسٹی ٹیوٹ پہلے سے کر رہا ہے اور سہولیات بڑھانا چاہتے ہیں۔ پلاٹ اس طرح کی الاٹمنٹوں کی نارمل قیمت کی ادائیگی پر دیا جا ئےگا &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہ ” تحقیقاتی" ادارہ [ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز]ایک ایسے پروفیسر&amp;nbsp;صا حب کا ہے جو ایک سیاسی مذہبی پارٹی کے ممتاز رہنما ہیں اور طویل عرصہ سے اسکی نمائندگی سینیٹ میں بھی کر رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو پلاٹ سیکٹر ایچ ۔ نائن میں دئیے جاتے تھے۔ یہ پلاٹ لیز پر ہوتے ہیں اور ترقیاتی ادارے کے قوانین کےمطابق ناقابل فروخت اور ناقابلِ انتقال ہوتے ہیں۔ اس ادارے کو بھی پلاٹ ایچ نائن سیکٹر ہی میں دیا جا رہا تھا لیکن جنرل ضیا نے ایک بار پھر مداخلت کی اور دو کنال کا یہ پلاٹ جناح سپر مارکیٹ میں دیا گیا جہاں کوئی اور تعلیمی یا تحقیقاتی ادارہ کام نہیں کر رہا تھا کیونکہ یہ مارکیٹ تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے مختص تھی۔ پھر یوں ہوا کہ تعلیمی مقاصد کیلئے ملنے والے اس پلاٹ پر تین منزلہ پلازہ بن گیا جس میں مشہور بین الاقوامی برانڈز کی دکانیں کھُل گئیں۔ اسکے بعد جو کچھ ہوا وہ اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز تھا ۔ 2009ءمیں ترقیاتی ادارے نے اپنے ہی قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے تحقیقاتی ادارے کو اجازت دے دی کہ پلاٹ پر بنے ہوئے عالیشان پلازے کو ایک نجی تعمیراتی کمپنی کے نام منتقل کر دیا جائے۔ اور یہ انتقال ہو بھی گیا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یعنی ملکی قوانین صرف پیپلز پارٹی، نون لیگ، قاف لیگ یا جرنیلوں ہی کیلئے نہیں بدلتے۔ یہاں گٹھری سر پر رکھے اور تھیلا ہاتھ میں پکڑے بھاگنے والوں میں ماشا ءاللہ وہ بھی حسب توفیق شامل ہیں جو اقامت دین کے دعویدار ہیں۔ پہلے تو صدارتی طرفداری سے پلاٹ وہاں الاٹ کرایا گیا جہاں تعلیمی مقاصد کے لیے مل ہی نہیں سکتا تھا۔ پھر عمارت کا ایک حصّہ خالص منافع آور استعمال میں رکھ دیا گیا۔ پھر اس پلاٹ کو جو لیز پر ہے اور ناقابلِ فروخت اور ناقابلِ انتقال ہے بیچ دیا گیا۔ اس ” تحقیقاتی “ کار و بار سے کتنے ارب روپے کا منافع ہوا اس کا اندازہ وہ لوگ بخوبی لگا سکتے ہیں جو جناح سپر مارکیٹ کی قدر و قیمت سے واقف ہیں۔ کہا یہ جائےگا کہ یہ سب کچھ ترقیاتی ادارے کی اجازت سے کیا گیا۔ اب یہ کس کی مجال ہے کہ پوچھے کہ ترقیاتی ادارے نے یہ غیر قانونی اجازت کیوں دی اور کس کے دباو پر دی؟ اگر ترقیاتی ادارہ یہی حرکت کسی اور کیلئے کرتا تو سینیٹ میں قانون شکنی کےخلاف ایک دھواں دھار تقریر کی جاتی اور ترقیاتی ادارے کو چھٹی کا دودھ یاد آ جاتا !&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;معاملے کا ایک مضحکہ خیز پہلو اور بھی ہے۔ اس پر بھی غور فرما یئے ۔ جب جنرل ضیا نے ترقیاتی ادارے کو پلاٹ دینے کا حکم دیا تھا تو اُس وقت یہ ادارہ ایف سکس سیکٹر میں واقع تھا ۔ اب پلاٹ اور پلازہ فروخت کر کے یہ ادارہ اسی سیکٹر یعنی ایف سکس میں دوبارہ واپس چلا گیا ہے ! ! ! ناصر کاظمی نے کیا خوب کہا تھا ....&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;سادگی سے تم نہ سمجھے ترکِ دنیا کا سبب&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ورنہ وہ درویش پردے میں تھے دنیا دار بھی&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;تو جناب ہنگامہ برپا ہے۔ لوگ بھاگے جا رہے ہیں۔ کان پڑی آواز نہیں سنائی دے رہی ....&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;صبح ہو تے ہی نکل آتے ہیں بازار میں لوگ&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;گٹھڑیاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اور اس میں سب شامل ہیں۔ کسی ایک پر الزام نہ لگائیے۔ دنیا کے پیچھے صرف وہی نہیں بھاگ رہے جنہیں ہم آپ دنیا دار سمجھتے ہیں ! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-6182168484975730678?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/6182168484975730678/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/11/blog-post_22.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/6182168484975730678'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/6182168484975730678'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/11/blog-post_22.html' title='گٹھری اور تھیلا'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-4095137629847119940</id><published>2011-11-15T20:05:00.000+05:00</published><updated>2011-11-15T20:05:09.169+05:00</updated><title type='text'>صرف دو قومیتیں</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;تلخ نوائی&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;بزرگ پڑھا رہے تھے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;وہ عالم بھی بہت بڑے تھے اور استاد بھی کمال کے تھے۔دور و نزدیک سے علم کے شائقین آتے اور فیض یاب ہوتے۔اُس دن وہ ذرا بے تکلّفی کے مُوڈ میں تھے۔ انہوں نے دستار اتار رکھی تھی۔ دیوار سے ٹیک لگا کر ٹانگیں لمبی کر لی تھیں۔شاگرد عبارت پڑھتا۔ وہ تشریح کرتے۔ تشریح کیا کرتے، علم اور حکمت کے موتی رولتے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اسی حالت میں انہوں نے دیکھا کہ ایک دراز قد وجیہ شخص مسجد میں داخل ہئوا۔اس کی شخصیت بارعب تھی۔لباس سے بہت بڑا عالم لگتا تھا۔سفید دستار،اس پرطُرّہ۔ بزرگ محتاط ہو گئے۔اتنا بڑا عالم غلطی بھی نکال سکتا ہے، اعتراض بھی کر سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی پھیلی ہوئی ٹانگیں سمیٹ لیں۔ پگڑی سر پر رکھ لی اور زیادہ توجّہ سے پڑھانے لگ گئے۔ دراز قد بارعب شخص نے وضو کیا اور مسجد کے اندر آ گیا۔پڑھنے والے طالب علم خاموش ہو گئے۔قریب آیا تو پڑھانے والے بزرگ نے بہت احترام سے پوچھا&amp;nbsp; ” جناب کا اسم گرامی ؟ “ اس پر اُس نے اپنی بتیسی کی نمائش کی اور کہا ” مجھے آپ کی بات سمجھ میں نہیں آئی “ اب کے بزرگ نے پوچھا ” آپ کا نام کیا ہے ؟ “ اس پر اس نے پھر بتیسی کی نمائش کی اور بتایا ” جی میرا نام محمد جوسف ہے “ استاد نے پگڑی اتار کر ایک طرف رکھی ، ٹانگیں پھر پھیلا لیں اور شاگردوں سے فرمایا ” تم سبق پڑھنا جاری رکھو بھئی ۔ یہ تو جوسف ہے “&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہ واقعہ ہمیں اُس سیاسی پارٹی نے یاد دلایا ہے جو زور و شور سے تبدیلی کی بات کر رہی ہے۔اس کا دعویٰ ہے کہ پٹواری کا کلچر بھی بدلے گی تھانیدار کا کلچر بھی بدلے گی اور اُس کی حکومت میں فوج اور آئی ایس آئی بھی وزیر اعظم کو جوابدہ ہو ںگی۔ اس پر سب محتاط ہو گئے۔ پھیلی ہوئی ٹانگیں سمٹ گئیں۔ لوگ پگڑیاں سروں پر رکھ کر با ادب ہو گئے۔ لیکن جب ایک خفیہ ادارے کے سابق سربراہ نے اس سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی اور اس بات کو اتنی اہمیت دی گئی کہ پارٹی کے سربراہ نے اس نووارد کے ہمراہ با قاعدہ پریس کانفرنس کی تو معلوم ہئوا کہ یہ سای احتیاط بیکار تھی ۔ اندر سے وہی بات نکلی کہ جی میرا نام جوسف ہے! یہ صاحب پیپلز پارٹی میں ضرور تھے لیکن انہوں نے کوئی الیکشن جیتا نہ ان کی کسی اور حوالے سے کوئی اہمیت ہے۔ اگر کوئی ایسی سیاسی شخصیت ہو جو پیروکاروں کا حلقہ رکھتی ہو یا کوئی دانشور ہو یا قومی اہمیت کا حامل فرد ہو تو اس کی شمولیت پر ایک بھرپور تقریب کا انعقاد تو سمجھ میں آتا ہے لیکن ایک جاسوسی ادارے کے سابق سربراہ کی شمولیت پر اتنا ہنگامہ ! یہ تو وہی بات ہوئی کہ بقول ظفر اقبال &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;دیکھ رہ جائے نہ حسرت کوئی دل میں تیرے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;شور کر اور بہت ، خاک اُڑا ا ور بہت&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;رہا اثاثوں کا مسئلہ تو یہ ایک خوش آیند امر ہے۔ آخر کسی نے تو اسے اہمیت دی ہے۔ آخر کچھ لوگوں نے تو سوچنا شروع کیا ہے کہ یہ ایک بنیادی اور فیصلہ کن امر ہے۔ آخر کچھ لوگوں نے تو ڈرنا شروع کیا ہے۔اب تک تو اس غریب ملک کے بدقسمت عوام نے یہی دیکھا ہے کہ جس کسی کے ڈالر، محلات، اور فیکٹڑیاں بیرون ملک جتنے زیادہ ہیں وہ اتنا ہی ملک وقوم کا بڑا خادم ہے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;لیکن ایک ضمنی سوال اس سلسلے میں اور بھی ہے۔ کیا اثاثے صرف سیاست دانوں ہی کے باہر ہیں؟اور کیا صرف سیاست دان ہی ناجائز اثاثوں کے مالک ہیں؟ کیا سرکاری ملازم ، کیا سول اور کیا خاکی ، سارے کے سارے ، دُھلے دھلائے ہیں؟ ایک انگریزی معاصر میں ایک مغربی خاتون صحافی نے کس کے بارے میں لکھا تھا کہ اس کا معیارِ زندگی جنوبی امریکہ کے ڈکٹیٹروں کو ماند کرتا ہے ؟ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;1988&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;اور 1991 کے درمیانی عرصہ میں کراچی میں منعقد ہونے والا شادی خانہ آبادی کا وہ فنکشن بے شمار لوگوں کو یاد ہو گا جس کی وسعت اور ہمہ گیری کا مقابلہ شاید ہی کوئی تقریب کر سکے اور جس میں بڑے بڑے صالحین کچّے دھاگے سے بندھے چلے گئے تھے! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;دلچسپ سوالات اور بھی ہیں۔ شہرِ ” عدل و انصاف “ اسلام آباد میں چودہ محلات کس کے بنے تھے؟ سونے سے بنے ہوئے جوتے کس نے تحفے میں دیے تھے؟ جنوب کے کس شہر میں ایک گھر کے اندر سے اربوں روپے نکلے تھے؟ وہ کون تھا؟ یہ اور اس قبیل کے کئی مقدس معززین ابھی تک اتنے ہی معزز ہیں اور اقتدار بدستور ان کے اور ان کے خاندانوں اور ان کی نسلوں کی دہلیز پر سر بسجود ہے۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ہماری جذباتی قوم سوالات اٹھانے والوں کو دھمکیاں تو دے سکتی ہے لیکن سوالات دلوں سے کھرچ تو نہیں سکتی ! اس ملک کے لوگ جانور تو نہیں جنہیں کچھ بھی پتہ نہ ہو ! کیا وہ نہیں جانتے کہ سائنس دان عبد الکلام کے پہلے کیا اثاثے تھے اور اور اب اس کے پاس کیا کچھ ہے؟ وہ تو ایوان صدارت میں بھی کئی سال گذار کر آچکا!&amp;nbsp; کیا محسنِ پاکستان سے اثاثے پوچھے جا سکتے ہیں؟&amp;nbsp;عبدالکلام &amp;nbsp;نے یقینا ایسا کوئی دور نہیں دیکھا جب تعیناتیاں ، ترقیاں ، تبادلے سب کچھ اس کی مرضی سے ہوتا تھا۔ کاش اس ملک کے سادہ دل پرستاروں کو معلوم ہوتا کہ اس نے تعلیم کے میدان میں کیا کیا کام کیے ہیں؟ بات اثاثوں کی ہو رہی تھی۔ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں! سیاست دان فرشتے نہیں ، ان کے جرائم ریت کے ذرّوں سے زیادہ ہیں لیکن وہ جو سیاست دان نہیں ، اور تقدیس کے ریشمی پردوں کے پیچھے چھُپے بیٹھے ہیں ان کا حساب کیسے ہو گا اور کون کرے گا؟&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اثاثوں کا ہنگامہ اُ ٹھا تو اس سے لطیفے بھی نکلے۔ جو عوام عزتِ نفس رکھتے ہیں وہ انہیں لطیفے نہیں کہتے۔ وہ ایسے لطیفوں کو اپنے چہرے پر تھپّڑ کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ اور پھر ایسے تھپڑوں کو یاد بھی رکھتے ہیں۔ کیا عزت نفس رکھنے والے عوام ایسا مذاق برداشت کر لیتے ہیں کہ ہمارے نام پر تو کوئی اثاثہ ہے ہی نہیں اور یہ کہ ہم نے تو سب کچھ اپنے بچوں کے نام منتقل کر دیا ہے۔ یہ تو اتنا دردناک مذاق ہے کہ اس پر ہنسا بھی نہیں جا سکتا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ویسے یہ خوب ہے کہ خونی انقلاب کا نعرہ بھی لگتا رہے اور اثاثے بھی اولاد کے نام منتقل ہوتے رہیں۔ انقلابی شاعروں کی نظمیں بھی گائی جائیں اور سیکنڈری بورڈ پر ایسے ” دیانت دار “ کارندوں کو بھی مسلط کیا جائے جو یونی ورسٹی میں اپنی ” دیانت “ کی دھاک بٹھا چکے ہوں۔ اس سے پہلے ڈاکٹر بھی ڈسے گئے۔ اس لیے کہ ان کی قسمت ایسے ذاتی خدمت گاروں کے حوالے کر دی گئی جو اس کے اہل ہی نہیں تھے۔ اگر سرکاری ڈیوٹی سے طویل رخصت لے کر اپنے سرپرستوں کی فیکٹریوں میں ملازمت کی جائے تو بعد میں انعام و اکرام تو ملتا ہی ہے۔ اس چکر میں اگر چند ہزار ڈاکٹروں کے ساتھ ظلم ہو جائے تو اسے برداشت کر لینا چاہیے!&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہاں کئی دلچسپ معاملے اور بھی ہیں ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو خلق خدا نے سکھ کا سانس لیا سوائے ان کے جن کے ذاتی مقدر ملوّث تھے ! اصل بات یہ ہے کہ کچھ لوگ ذہنی لحاظ سے نمو نہیں پا سکتے۔ وہ اسی سطح پر رہتے ہیں جس پر سال ہا سال پہلے تھے۔ سنٹرل لندن لندن کا ایسا حصّہ ہے جو دل کو موہ لیتا ہے ۔ جو وہاں کا باسی ہو اسے کوئی اور جگہ کبھی پسند نہیں آسکتی۔ فرض کیجیے سنٹرل لندن کا کوئی باسی پورے انگلینڈ کا صوبیدار بن جائے۔ لیکن بدقسمتی سے ذہنی طور پر پر وہ سنٹرل لندن سے باہر ہی نہ نکلے۔ وہ ترقی کی طرف جو قدم بھی اُٹھائے سنٹرل لندن ہی سے متعلق ہو۔ سڑکیں، پُل، پارک ، مواصلات اطلاعات سب کچھ اسی حوالے سے ہو تو آپ کا کیا خیال ہے انگلینڈ کے باقی شہروں کا رد عمل کیا ہو گَ َا؟ آج وزیر اعلی&amp;nbsp;پنجاب عملی طور پر وزیر اعلی&amp;nbsp; لاہور بنے ہوئے ہیں۔ لوگ الگ صوبے نہ مانگیں تو کیا کریں&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;لیکن بے زبان ملکوں میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں جو کام بھی کیا جائے اس کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملانے والے میسّر آ جاتے ہیں۔ اس ملک میں خدمت گار کثرت سے ملتے ہیں اور ہر قبیل کے ملتے ہیں۔ مجموعی طور پر دو قومیتیں ہی یہاں آباد ہیں : خدمت گار اور خدمت لینے والے۔ باقی جو کچھ ہے حشو و زوائد میں آتا ہے۔ ہاں اگر کوئی خدمت گار کہلانا پسند نہیں کرتا تو جو نام بھی رکھ لے رہے گا خدمت گار ہی ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-4095137629847119940?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/4095137629847119940/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/11/blog-post_15.html#comment-form' title='7 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/4095137629847119940'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/4095137629847119940'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/11/blog-post_15.html' title='صرف دو قومیتیں'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>7</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-6433137175252798671</id><published>2011-11-01T21:43:00.000+05:00</published><updated>2011-11-01T21:43:08.957+05:00</updated><title type='text'>اذانیں دینے کا وقت</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اس کے سر میں ایک سو آنکھیں ہیں&lt;br /&gt;مونہہ میں اڑتالیس دانت ہیں&lt;br /&gt;جسم میں تین دل ہیں۔&lt;br /&gt;ناک کے اندر چھ چاقو ہیں اور ہر چاقو کا استعمال مختلف ہے۔ جسم کے دونوں طرف تین تین پَر ہیں۔ اسی جسم میں جدید ترین ایکس رے مشین نصب ہے۔&lt;br /&gt;یہ کوئی سمندری بلا نہیں، نہ کسی عفریت کی داستان ہے۔ نہ جادو پری کا قصّہ ہے۔ یہ اُس مچھر کا ذکر ہے جو ہمارا خون چوستا ہے لیکن ابھی حیرت کے دروازے بند نہیں ہوئے۔&lt;br /&gt;مچھر کے جسم میں ایک خاص دوا ہے جو انسانی بدن کے اُس حصّے کو سُن کر دیتی ہے جہاں یہ اپنے دانت گاڑتا ہے تاکہ جس کا خون چوسا جا رہا ہے اسے کم سے کم احساس ہو! اسکے اس ذرا سے جسم میں خون ٹیسٹ کرنے کی ایک جدید مشین بھی لگی ہوئی ہے تاکہ یہ انسانی خون کو ٹیسٹ کرے اور اپنی پسند کا خون پی سکے۔ پھر یہ خون پینے کے عمل کو تیز تر بھی کر سکتا ہے تا کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ خون پی سکے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;یہ آ ج مچھروں کی خصوصیات کے بارے میں ہم آپ کو کیوں بتانے بیٹھ گئے۔ اس کا جواب تھوڑی دیر میں عرض کرتے ہیں لیکن پہلے ایک ایسی خبر سنیے جو عبرت کا مرقّع ہے۔&lt;br /&gt;ملک میں کرائے کے بجلی گھروں کے ضمن میں کرپشن کا جو بازار گرم ہے اور جس طرح بجلی کے صارفین کو دن دہاڑے لوُٹا جا رہا ہے اس کا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا۔ اور اسی حکومت کے ایک وفاقی وزیر نے اپنی حکومت کےخلاف کروڑوں اربوں کے کرپشن کے نہ صرف الزامات لگائے بلکہ ان الزامات کے بارے میں ثبوت پیش کر کے الزامات کو درست بھی ثابت کردیا۔&lt;br /&gt;وفاقی وزیر فیصل صالح حیات نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ ”نیپرا سمیت متعلقہ اداروں نے منصوبوں میں شفافیت کیلئے بنائے گئے رولز کو فالو نہیں کیا ۔ جو دعوے کیے گئے کہ ان منصوبوں میں بین الاقوامی نیلامی رولز کو فالو کیا گیا وہ غلط موقف ہے “ وفاقی وزیر نے عدالت عظمیٰ کو یہ بھی بتایا کہ ”نیپرا ریگولیٹری اتھارٹی ہے۔ اس نے آٹھ کمپنیوں کے ٹیرف طے کیے تو کوئی اشتہار شائع نہیں کیا۔ اسکی وجہ بھی معلوم ہونی چاہیے۔ “&lt;br /&gt;بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ نیپرا کس چڑیا کا نام ہے؟ در حقیقت یہ چڑیا نہیں بلکہ ہاتھی ہے اور وہ بھی سفید ہاتھی ! یہ وفاقی حکومت کا ایک محکمہ ہے جو واپڈا اور وفاقی وزارتِ بجلی سمیت تمام اداروں سے بالا تر ہے اور بجلی کے تمام معاملات طے کرتا ہے۔ اس کی اپنی وضع کردہ تعریف کے مطابق ”یہ ایسا تنظیمی ڈھانچہ مہیا کرےگا جو پاکستانی صارفین کو قابل اعتماد ، محفوظ اور مناسب قیمت پر بجلی میسر کرنے کا انتظام کرےگا “&lt;br /&gt;آ پکا کیا خیال ہے کہ اتنے اہم اور ٹیکنیکل ادارے کا سربراہ کون ہے؟ &lt;br /&gt;ایک بار پھر اپنے ذہن میں یہ بات جاگزین کر لیجیے کہ یہ ادارہ پورے ملک کی بجلی کا مائی باپ ہے۔ بجلی پیدا کرنےوالی کمپنیوں کو کنٹرول کرنا، قوانین بنانا ،ان قوانین پر عمل کرانا ، بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا اور قیمت کو متوازن رکھنا ۔ یہ سب اس ادارے کا یعنی نیپرا کا کام ہے۔&lt;br /&gt;آپ کہیں گے کہ اس ادارے کا سربراہ یقینا کوئی انجینیر ہو گا جو بجلی کے سارے تکنیکی معاملات کا ماہر ہو گا۔ اس ٹیکنو کریٹ کی ساری زندگی بجلی کے امور سر کرنے میں گذری ہو گی اور وہ یقینا اتنا علم اور تجربہ رکھتا ہو گا کہ رینٹل پاور منصوبے چلانے والے خرّانٹ انجینئروں اور سائنسدانوں سے معاملات مہارت سے طے کرے!&lt;br /&gt;کاش ایسا ہوتا !&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;لیکن ایسا نہیں ہے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;آپ کا اندازہ سراسر غلط ہے۔ آپ بھول گئے ہیں کہ آپ کس ملک میں رہ رہے ہیں۔ یہ وہ ملک نہیں جو امانتوں کو انکے سپرد کرے جو انکے اہل ہیں۔ یہاں تو مناصب ان کو دیے جاتے ہیں جو نہ صرف نا اہل ہیں بلکہ متعلقہ شعبے سے کوئی سروکار ہی نہیں رکھتے۔&lt;br /&gt;نیپرا کا سربراہ ایک ایسا شخص ہے جس نے زندگی نوکرشاہی میں گذاری۔ یہ صاحب پلاسٹک کے وزیراعظم شوکت عزیز کے سیکرٹری تھے۔ شوکت عزیز کے ذاتی معاون ہونے کے ناطے اختیارات انکے سامنے بچھے ہوئے تھے۔ ریٹائر ہونے کا وقت آیا تو ان صاحب نے اپنے آپ کو ورلڈ بنک میں تعینات کرا دیا ۔ اتنے میں پیپلز پارٹی کی حکومت آگئی اور ورلڈ بنک کی اُس گھی سے چُپڑی پوسٹ پر کسی اور کو بھیج دیا گیا۔ یہ صاحب نیپرا کے سربراہ بن گئے۔ مقصد یہ نہیں تھا کہ نیپرا چلے اور بجلی کے مسائل حل ہوں۔ مقصد یہ تھا کہ ریٹائر ہو کر بھی یہ پانچ سال کیلئے ٹیکس دہندگان کے خرچے پر پرورش پاتے رہیں۔ اہل پاکستان گرانی کے سیلاب میں غوطے کھا رہے ہیں۔ بجلی ناپید ہے۔ کئی کئی گھنٹے شہر ،قصبے اور گاوں اندھیروں میں ڈوبے رہتے ہیں اور بجلی کے ادارے ، یعنی نیپرا ، کا سربراہ وہ شخص ہے جس کا اس شعبے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ کیا ٹیکس دینے والے عوام کو بتایا جائےگا کہ نیپرا کے سربراہ کو اب تک خزانے سے کتنی رقم بطور تنخواہ، اور کتنی رقم بطور سفر خرچ ادا کی گئی ہے؟ کیا کیا مراعات مل چکی ہیں اور بدستور مل رہی ہیں؟ اور انکی وہ کون سی اہلیت اور خصوصیت تھی جس کی بنیاد پر اس ٹیکنیکل اسامی پر انہیں تعینات کیا گیا؟&lt;br /&gt;اب آئیے مچھر کی اُن ”صفات “ کی طرف جو ہم نے اس تحریر کے آغاز میں بیان کی ہیں۔ اگر آپ غور کریں اور انصاف سے کام لیں تو یہ ساری صفات آپ کو نوکرشاہی میں ملیں گی۔جی۔ او ۔ آر کے کئی کئی ایکڑوں پر مشتمل محلات میں مستقل رہنے والے اور ریٹائر ہو کر بھی پانچ پانچ سال جونک کی طرح ریاست کا خون پینے والے نوکر شاہی کے ان اہلکاروں کو غورسے دیکھیے۔ انکے دہانوں میں اڑتالیس اڑتالیس دانت ہیں۔ انکے ایک ایک نتھنے میں چھ چھ چاقو ہیں۔ یہ انسانی کھال کو خوب پہچانتے ہیں اور اس کھال کو اتارنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انکے جسموں کے اندر خون ٹیسٹ کرنے کی جدید ترین مشینیں نصب ہیں جن کی مدد سے یہ اپنی پسند کا خون پیتے ہیں۔ میٹھا ، گاڑھا اور لذیذ خون ! کوئی نیپرا میں بیٹھا ہے ، کوئی پیمرا میں بھنبھنا رہا ہے، کوئی زندگی کے آخری سانس تک اسلام آباد کے حکومت خانوں میں بیٹھ کر اپنی ”مہارت “ کو ”استعمال“ کرنا چاہتا ہے اور کچھ پیرانِ تسمہ پا لاہور اور کراچی کے بابو خانوں میں&amp;nbsp; بےزبان ٹیکس دہندگان کی گردنوں پر بیٹھے بیٹھے ملکِ عدم کو سدھارنا چاہتے ہیں۔ ان کا بس چلے تو قبروں کے اندر میز کرسیاں لگوا لیں !&lt;br /&gt;ان&amp;nbsp;&amp;nbsp; موذیوں پہ &amp;nbsp;قہرِ الٰہی&amp;nbsp; کی شکل &amp;nbsp;میں &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;نمرود سا بھی خانہ خراب آئے تو ہے کم&lt;br /&gt;اسی لیے تو یہ ملک ایڑیاں رگڑرہا ہے۔ بین الاقوامی حوالے سے ہم پستی کی اُس انتہا پر پہنچ چکے ہیں کہ آئے دن ہماری عزت نیلام ہو رہی ہے۔ ابھی چند دن پہلے جاپانی سرمایہ کاروں نے ہمارے رخساروں پر زنّاٹے کا تھپڑ رسید کیا ہے۔ پاکستان نے انہیں کراچی میں دو ہزار ایکڑ پر مشتمل معاشی زون کی پیشکش کی تھی لیکن اسے مسترد کرتے ہوئے وہ بھارت پہنچ گئے ہیں جہاں وہ چھ بڑے شہروں میں کاروبار کرینگے۔ دو سال میں جاپان کی پاکستان میں سرمایہ کاری131 ملین ڈالر سے کم ہو کر 26 ڈالر رہ گئی ہے۔ پانی گیس بجلی کا بحران، انفرا سٹرکچر کا نہ ہونا اور بے پناہ کرپشن ! ایسے میں سرمایہ کاری وہی کرےگا جو اندھا بھی ہو اور بہرا بھی۔ جاپان کو تو چھوڑیے اُس پاکستانی کا عزم صمیم دیکھیے جس نے بریڈ فورڈ میں اعلان کیا ہے کہ اب وہ کبھی بھی پاکستان نہیں آئےگا۔ وہ اپنے ملک آیا تھا کہ راولپنڈی سے اسے اغوا کر لیا گیا۔ بیس دن تک اسے زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا اور پندرہ ہزار پائونڈ لے کر چھوڑا گیا۔ اگر پولیس کا کام صرف حکمرانوں کا باڈی گارڈ بننا ہے تو اغوا کنندگان تاوان دے کر ہی چھوٹیں گے !&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;اڑتالیس اڑتالیس نوکیلے دانت،&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;چھ چھ چاقو اور پسند کا خون تلاش کرنے کیلئے دہانوں کے اندر لیبارٹریاں ! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;چھتوں پر چڑھ کر اذانیں دینے کا وقت ہے۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-6433137175252798671?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/6433137175252798671/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/11/blog-post.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/6433137175252798671'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/6433137175252798671'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/11/blog-post.html' title='اذانیں دینے کا وقت'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-2212944595927522906</id><published>2011-10-25T01:00:00.001+05:00</published><updated>2011-10-28T01:05:23.597+05:00</updated><title type='text'>مگر اک بات جو دل میں ہے</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہ رباط تھا۔ مراکش کا خوبصورت خوابیدہ دارالحکومت۔ ہم کاسا بلانکا کے ہوائی اڈے پر اترے تھے۔ کاسا بلانکا جو مراکش کا نیویارک ہے۔ پرتگالی میں کاسا بلانکا کا مطلب سفید محل ہے۔ عرب اسے دارالبیضا کہتے ہیں۔&lt;br /&gt;محل نما مکان کے ساتھ بہت بڑا لان تھا۔ لان کے درمیان ایک شخص آلتی پالتی مارے زمین پر بیٹھا گھاس سے جھاڑ جھنکار نکال رہا تھا۔ مناسب فاصلے پر ایک خاتون بیٹھی یہی کام کر رہی تھیں۔ یہ قاضی رضوان الحق تھے۔ مراکش میں پاکستان کے سفیر۔ خاتون ان کی بیگم تھیں۔ یہی ہمارے میزبان تھے۔ میرے یارِ دیرینہ قاضی عمران کے برادر خورد۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;قاضی رضوان تغلقوں کے دارالحکومت دیپالپور کے اس خاندان سے ہیں جسے ترکوں اور مغلوں نے قاضی مقرر کیا تھا۔ قاضی تو اب یہ لوگ نہیں رہے لیکن درویشی باقی ہے۔ قاضی عمران بھی بڑے بڑے عہدوں پر رہے مگر ہر رمضان کے آخری دس دن دیپالپور کی مسجد کے سخت فرش پر گزارتے تھے۔&lt;br /&gt;میری بیگم بھی لان کی صفائی پر لگ گئیں اور میں آڈیٹر جنرل آف مراکش سے ملنے چلا گیا۔ ایک سال پہلے میکسیکو میں دنیا بھر کے ملکوں کے آڈیٹر جنرل اکٹھے ہوئے تھے۔ اپنے ملک کی ٹوٹی پھوٹی نمائندگی میں کر رہا تھا۔ وہیں ڈاکٹر احمد المداوی سے ملاقات رہی تھی۔ خدا میرے والد کی قبر کو اپنے نورِ رحمت سے بھر دے‘ میں ان سے عربی میں گفتگو کرتا اور وہ خصوصی شفقت سے پیش آتے۔ ان کا اصرار تھا کہ مراکش جب بھی آوں ملاقات ضرور ہونی چاہئے۔ اب جب میں ان کے دفتر میں داخل ہوا تو انہیں خوشگوار حیرت ہوئی۔ شیشے کے خوبصورت گلاس نما مراکشی پیالوں سے پودینے کا قہوہ پیتے ہوئے ہم گفتگو کرتے رہے۔ جب انہوں نے میرے مراکش کے قیام کے دوران اپنے ایک سینئر افسر کو میرا معاون مقرر کیا اور گاڑی بھی مختص کرنے کا حکم دیا تو میں نے معذرت کی کہ میں سرکاری دورے پر نہیں‘ ذاتی حوالے سے سفر کر رہا ہوں۔ لیکن احمد المداوی آڈیٹر جنرل ہونے کے ساتھ ساتھ عرب بھی تھے۔ میرے احتجاج کو ان کی عرب مہمان نوازی نے قطعی طور پر نامنظور کر دیا۔&lt;br /&gt;رباط سے فاس تک کے سفر کے دوران یوں محسوس ہوا جیسے یورپ میں سفر کر رہے ہیں۔ وہی صفائی‘ وہی نظم و ضبط‘ ویسے ہی صاف ستھرے ریستوران‘ حدِ نگاہ تک زیتون کے باغات جو بہت کچھ یاد دلا رہے تھے۔ فاس وہی شہر ہے جسے انگریزی میں فیز (FEZ) کہتے ہیں۔ پرانا فاس دنیا کے ان معدودے چند شہروں میں سے ایک ہے جس کے گلی کوچوں اور ثقافت میں گذشتہ بارہ سو سال سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہزاروں تنگ گلیاں ایک دوسرے کو کاٹتی ہوئیں‘ چمڑے کی مختلف مراحل سے ہوتی ہوئی صفائی اور کاروبار‘ کہیں اونٹ کا گوشت بِک رہا ہے‘ کہیں گدھے پر سامان لادا جا رہا ہے۔ کہیں کھجوروں کے ڈھیر لگے ہیں۔ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی‘ جو مسلسل چل رہی ہے‘ یہیں ہے۔ مدرسوں کی پرشکوہ عمارات جابجا راستہ روکتی ہیں۔ فاس کی وجہ شہرت پھُندنے والی وہ سرخ ٹوپی بھی ہے جسے ترکی ٹوپی کہتے ہیں۔ عربی میں اسے تربوش کہا جاتا ہے۔ اگرچہ بعد کے زمانے میں یہ ٹوپی یورپ سمیت مختلف مقامات پر بننے لگی لیکن اس کا اصل وطن فاس ہی ہے اور اس کا رنگ فاس کے ارد گرد پائے جانے والے ایک خاص قسم کے بیری کے درخت سے نکالا جاتا تھا۔ تاہم میرے لئے زیادہ اہم کام اس گھر کو تلاش کرنا تھا جہاں ابنِ خلدون نے زندگی کے بہت سے سال گزارے تھے۔ کئی لوگوں سے پوچھتے اور کئی چھوٹی بڑی گلیوں میں کئی گھنٹے چلنے کے بعد ہم نے وہ گھر تلاش کر لیا۔ یہ آج تک اسی حالت میں ہے۔ درمیان میں چھوٹا سا صحن اور اس کے ارد گرد تین منزلہ عمارت جس میں بہت سے کمرے تھے۔&lt;br /&gt;میں سوچ رہا تھا کہ یہیں اس نے فلسفہ تاریخ پر وہ معرکہ آرا کتاب تصنیف کی ہو گی جو دنیا میں آج بھی اس موضوع پر معتبر ترین حوالہ ہے۔ اس تاریخی مکان کا موجودہ مالک ایک چھوٹا موٹا تاجر تھا۔ اس کی آنکھیں باہر نکلی ہوئی تھیں اور پہلی نظر میں ڈراونا لگتا تھا۔ مکان کے باہر‘ بازار کے ایک کنارے پر اس نے دستکاریوں اور تحائف نما اشیاءکا سٹال لگایا ہوا تھا۔ ہم نے اس سے چند تحائف خریدے۔ وہ قیمت ذرا بھی کم کرنے پر تیار نہ تھا۔ میں نے اسے رام کرنے کیلئے کہا کہ وہ ابنِ خلدون کے گھر میں رہتا ہے اسلئے کچھ تو رعایت کرے۔ اس سے اس کی شانِ ملکیت پر زد پڑی اور وہ جلال میں آ گیا۔ تب اس نے وہ فقرہ کہا جو مجھے زندگی بھر نہیں بھولے گا۔ ”ابن خلدون کا تو کبھی رہا ہو گا۔ اس وقت اس مکان کا مالک میں ہوں“&lt;br /&gt;مراکش شہر جو ملک کے جنوبی صحرا میں واقع ہے‘ سرخ شہر کہلاتا ہے کیونکہ اس میں ساری عمارتیں سرخ رنگ کی ہیں۔ یوسف بن تاشفین کا مزار اسی شہر میں ہے۔ اصل میں مراکش اس شہر کا نام ہے۔ ملک کیلئے مراکش کا لفظ صرف ہمارے ہاں ہی استعمال ہوتا ہے ورنہ عرب اس ملک کو المغرب اور دوسرے لوگ مراکو کہتے ہیں۔&lt;br /&gt;طنجہ اور اس میں واقع ابن بطوطہ کے مزار پر اس سے پہلے ایک کالم&amp;nbsp; لکھا جا چکا ہے۔ طنجہ سے بحرِ روم پار کرنے میں آدھ گھنٹہ لگتا ہے۔ ہم نے مسجد قرطبہ میں نوحہ خوانی کی‘ غرناطہ میں الحمرا کے محلات میں کھڑے ہو کر دل ہی دل میں سینہ کوبی کی اور جبرالٹر (جبل الطارق) کے کہیں نزدیک ہی سے بحرِ روم کو دوبارہ پار کر کے مراکش پلٹ آئے۔&lt;br /&gt;رباط پہنچے تو قاضی رضوان صاحب نے بتایا کہ ان کا تبادلہ ہو چکا ہے اور چند دنوں میں وہ ہسپانیہ کے دارالحکومت میڈرڈ میں سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے چلے جائیں گے۔ اس رات ہم دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ صبح سویرے ہماری روانگی تھی۔ پراسرار طور پر گم ہو جانے والے شبیر شاہد کے اشعار یاد آ رہے تھے&lt;br /&gt;مئے فراغت کا آخری دور چل رہا تھا&lt;br /&gt;سبو کنارے وصال کا چاند ڈھل رہا تھا&lt;br /&gt;نگاہیں دعوت کی میز سے دور کھو گئی تھیں&lt;br /&gt;تمام ذہنوں میں ایک سایہ سا چل رہا تھا&lt;br /&gt;میں نے رضوان سے کہا کہ وہ اپنے کیریئر کے عروج پر ہے اور بڑے بڑے ملکوں میں پاکستان کی سفارت کاری کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ اس عروج کے بعد ظاہر ہے ریٹائرمنٹ ہو گئی۔ کیا اتنے خوبصورت ملکوں اور پرامن شہروں کو چھوڑ کر وہ پاکستان واپس جائے گا یا بہت سے دوسرے سفیر حضرات کی طرح باہر ہی آباد ہو گا۔ میرا سوال سن کر وہ خاموش ہو گیا۔ اس خاموشی میں بہت کچھ تھا۔ غم اور افسوس‘ واپسی کی خواہش اور محبت۔ بے بسی اور ارادے کی پختگی بھی۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;جب رضوان بولا تو یوں لگا جیسے اس کی آواز کہیں دور سے آ رہی ہے۔ اظہار بھائی! پوری دنیا دیکھ لی‘ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا۔ ترقی یافتہ شہروں میں ہر جدید سہولت آزمائی لیکن اصل بات وہی ہے جو آپ ہی کے شعر میں بیان ہوئی ہے&lt;br /&gt;مزے سارے تماشا گاہِ دنیا میں اٹھائے&lt;br /&gt;مگر اک بات جو دل میں تھی جس کا غم بہت تھا&lt;br /&gt;میں اب شامِ غریباں کے اس طلسم سے رہائی چاہتا ہوں اور ان گھروندوں ان محلوں اور ان مکانوں میں واپس جانا چاہتا ہوں جہاں میں نے اپنی زندگی کے پہلے پندرہ برس گزارے۔ جہاں میرے بچپن کے دوست ہیں‘ جہاں ہم نئے کپڑے پہن کر عید کی نماز پڑھا کرتے تھے اور کوئی نہیں پرواہ کرتا تھا کہ شیعہ کون ہے اور سنی کون۔ جہاں میں نے کبھی کہیں اپنی سائیکل کو تالہ نہیں لگایا تھا۔ جہاں ہم بے خطر بازاروں میں گھومتے تھے جہاں ماں باپ جب یہ نصیحت کرتے تھے کہ مغرب کی اذان کے ساتھ گھر واپس آنا ہے تو اس کی وجہ جان کا خطرہ نہیں ہوتا تھا بلکہ یہ تہذیبی تربیت کا ایک جزو ہوتا تھا۔ میرے خواب انہی گلیوں میں گردش کر رہے ہیں‘ جہاں میرے اجداد کی قبریں ہیں اور جہاں میرا خاندان سینکڑوں سال سے رہتا چلا آ رہا ہے۔ جہاں ہاتھاپائی کرنے کا تصور بھی ناپید تھا۔ جہاں بحث ہوتی تھی لیکن کوئی ناراض ہوتا تھا نہ جھگڑتا تھا۔&lt;br /&gt;اب وہاں گولیاں چل رہی ہیں‘ دھماکے ہو رہے ہیں‘ بارودی جیکٹس فیشن بنتی جا رہی ہیں‘ کبھی مذہب کے نام پر‘ کبھی امریکہ کی حمایت میں‘ کبھی امریکہ کی مخالفت کے حوالے سے اور کبھی اپنی ذاتی رائے کو اسلام قرار دیتے ہوئے ہماری زندگیوں میں زہر گھولا جا رہا ہے۔ امن و امان قصہ پارینہ بنتا چلا جا رہا ہے۔ میرے بچے وہاں جانے سے خوفزدہ ہیں لیکن میں وہیں جاوں گا اور وہیں رہوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ ہم ان دہشت گردوں کو‘ اسلام کے ان نام نہاد علم برداروں کو اور امریکہ کے گھٹنوں کو ہاتھ لگانے والوں کو شکست دیں گے۔ میرا اور کوئی ٹھکانہ نہیں! میں نے انہی گلیوں میں واپس جانا ہے اور وہیں اپنے بڑھاپے کی چاندی بکھیرنی ہے! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-2212944595927522906?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/2212944595927522906/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/10/blog-post_25.html#comment-form' title='2 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2212944595927522906'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2212944595927522906'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/10/blog-post_25.html' title='مگر اک بات جو دل میں ہے'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>2</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-5909607251826023591</id><published>2011-10-18T17:15:00.001+05:00</published><updated>2011-10-19T17:24:42.157+05:00</updated><title type='text'>بوجھو تو جانیں</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;میرا کوئی ارادہ نہیں کہ آپ سے ”بوجھو تو جانیں“ کھیلوں لیکن کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ میرا آئیڈیل کون لوگ ہیں؟مجھے یقین ہے کہ آپ نہیں بوجھ سکیں گے۔ آپ کا خیال ہو گا کہ دانشور، ادیب، سائنسدان یا فنکار میرا آئیڈیل ہیں۔ نہیں۔ ہرگز نہیں!&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;میرا آئیڈیل اِس ملک کے تاجر ہیں اس لئے کہ انکے اعصاب مضبوط ہیں۔ یہ گروہ ارادے کا پکا ہے۔ جو چاہے، حاصل کر کے رہتا ہے۔ کسی سے ڈرتا ہے نہ کسی کی پرواہ کرتا ہے۔ ملک میں سیلاب آئے یا زلزلہ، طوفان آئے یا آندھی، عید ہو یا رمضان، خوشی ہو یا غم، تاجر برادری پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ اپنے اہداف ہر حال میں جیت کر رہتے ہیں۔ یہ ناک کی سیدھ میں چلتے ہیں اور اپنے مقصد کے حصول میں اِدھر اُدھر دیکھتے ہیں نہ کسی رکاوٹ ہی کو خاطر میں لاتے ہیں۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;آپ دکانیں صبح جلد کھولنے اور سرِشام بند کرنے ہی کی مثال لے لیجئے۔ جن ملکوں میں بجلی کی کمی کا مسئلہ نہیں اور خوشحالی کا دور دورہ ہے، وہاں بھی دکانیں صبح نو بجے کھُل جاتی ہیں اور شام پڑتے ہی بند ہو جاتی ہیں۔ میں اِن دنوں آسٹریلیا میں ہوں۔ حال ہی میں گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی گئی ہیں۔ سورج پونے آٹھ بجے غروب ہو رہا ہے لیکن دکانیں ساڑھے پانچ بجے بند ہو جاتی ہیں۔ یعنی غروبِ آفتاب سے دو گھنٹے پہلے۔ کسی تاجر نے احتجاج نہیں کیا کہ میں سہ پہر ہی کو کیوں دکان بند کر دوں۔ یہ لوگ صبح نو بجے دکانیں کھولتے ہیں۔ آبادی کا وہ حصہ جس نے دوپہر کو اپنے کام پر جانا ہے، یا وہ لوگ جو چھٹی پر ہیں، یا خواتین خانہ، سب صبح صبح بازار جاتے ہیں اور سودا سلف خرید کر دس گیارہ بجے تک فارغ ہو جاتے ہیں۔ آپ اسکے مقابلے میں پاکستان کی تاجر برادری کا ”انصاف“ ملاحظہ کیجئے اُنکے پاس صبح دکان نہ کھولنے کی کوئی دلیل نہیں، سوائے دھاندلی کے۔ یہ ”خدا ترس“ لوگ دن کے بارہ بجے دکانیں کھولتے ہیں اور وہ بھی بصد مشکل۔ آپ نے اگر دفتر سے چھٹی لی ہے کہ بچوں کو جوتے یا کپڑے دلانے ہیں یا نئے سال کی کتابیں خریدنی ہیں یا پورے مہینے یا ہفتے کا سودا سلف لینا ہے تو بارہ بجے تک آپ کو انتظار کرنا پڑے گا اور یوں آپ کا نصف دن ضائع ہو جائےگا۔ جو خریداری ظہر کے وقت شروع ہو گی وہ شام کے بعد تک جاری رہے گی۔ آپ بازار سے دس گیارہ بجے رات کو لوٹیں گے۔ یہ ایک خرابی کئی خرابیوں کو جنم دےگی۔ کھانا دیر سے کھائینگے۔ بچے تھکے ہوئے ہونگے۔ سب لوگ دیر سے سوئیں گے۔ صبح دیر سے اٹھیں گے۔ اس طرح ایک دائرہ بن جائےگا۔ خرابی ¿ اوقات۔ تصنیعِ اوقات کا دائرہ۔ جس سے باہر نکلنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو گا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اس برادری میں جو لوگ خواتین سے لین دین کر رہے ہیں وہ اخلاق میں ”بہترین“ ہیں۔ سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، کام طے شدہ معاہدے کےمطابق کرنا، یہ سب کچھ ان لوگوں کی لغت میں مکمل ناپید ہے۔ اُن تاجروں کو دیکھ لیجئے، جن سے خواتین شادی بیاہ کا کام.... بالخصوص ملبوسات کا کام کراتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے کلچر میں شادی بیاہ کی تیاری ایک عذاب سے کم نہیں اور یہ عذاب خواتین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مرد حضرات رقم دے کر فارغ ہو جاتے ہیں اسکے بعد ان کا ایک ہی کام ہے کہ خواتین کو ڈانٹتے رہیں کہ تم نے فضول خرچی کی۔ انہیں تصور ہی نہیں کہ خواتین کس عذاب سے دوچار ہوتی ہیں۔ اس شعبے کے ننانوے فیصد تاجر کھُلی وعدہ خلافی کے مرتکب ہوتے ہیں اور اس کھلی وعدہ خلافی کو وہ کوئی برائی نہیں سمجھتے۔ یہ ظالم لوگ خواتین کو کئی کئی پھیرے ڈالنے پر مجبور کرتے ہیں۔ وہ تاریخ جو یہ کاغذ یا رسید پر لکھ کر دیتے ہیں، اُسے مذاق سمجھتے ہیں، پھر ان میں اتنا اخلاق بھی نہیں کہ ٹیلی فون کر کے اطلاع دےدیں کہ آپ فلاں تاریخ کے بجائے فلاں تاریخ کو آئیں۔ ہمارے خاندان میں ایک شادی تھی۔ خواتین اس قدر زچ ہوئیں کہ انہوں نے مجھے ساتھ آنے کو کہا۔ یہ ایک بہت بڑے حاجی صاحب کی دکان تھی۔ وہ کئی پھیرے ڈلوا چکے تھے اور ہر بار کام اُس تخصیص سے مختلف کرتے تھے جو کاغذ پر لکھ کر دیتے تھے۔ میں نے بلند آواز سے کہنا شروع کیا کہ آپ اتنی بار وعدہ خلافی کر چکے ہیں، کیا آپکی آمدنی جائز ہے؟ پہلے تو منت کی کہ آہستہ بولئے، باقی گاہک سُن لیں گے، پھر دبک کر اُوپر والی منزل پر چھپ گئے۔ آتے ہوئے میں نے انہیں دس روپے اضافی دئیے، پوچھنے لگے، یہ کیوں؟ میں نے کہا، میرے بعد جس گاہک سے وعدہ خلافی کریں گے، اُسے کم از کم فون کر کے بتا دیجئے گا کہ فلاں تاریخ کو آئے۔ یہ اسی ٹیلی فون کے پیسے ہیں! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اِس معاشرے میں جہاں مرد غالب اور حاوی ہیں، خواتین.... یہاں تک کہ تعلیم یافتہ خواتین بھی.... ان تاجروں کی بداخلاقی کا شکار ہیں اور احتجاج کا رویہ شاذ و نادر ہی نظر آتا ہے۔ ”حاجی“ صاحبان، اُس حدیث سے لگتا ہے ناواقف ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں، بات کرے تو جھوٹ بولتا ہے۔ وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرتا ہے اور امانت اسکے سپرد کی جائے تو خیانت کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس کسوٹی پر پرکھیں تو ہم سب منافق ہیں۔ خاص طور پر تاجر اور سیاستدان.... حیرت اور افسوس اس بات پر ہے کہ جنہیں ہم کافر عیسائی اور یہودی کہتے ہیں وہ معاملات میں جھوٹ بولتے ہیں نہ وعدہ خلافی کرتے ہیں، آپ نے اکثر اپنے بڑوں سے سنا ہو گا کہ ہندو دکاندار بچے کو بھی وہی بھاﺅ دیتا تھا جو بڑے کو دیتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہوتا، تاجروں کی اکثریت شکل صورت سے متشرع ہے۔ نمازی ہیں اور حج کر کے حاجی کہلواتے بھی ہیں لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی، ناجائز نفع خوری، کم تولنا اور کم ماپنا عام ہے۔ جعلی دوائیں، جعلی غذائیں ۔ اور پھر بیچتے وقت مال کا نقص نہیں بتایا جاتا اور ہوس اس قدر کہ رمضان آتے ہی قیمتیں دوچند بلکہ کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہیں۔ پوچھنے پر جواب ملے گا کہ پیچھے سے ہی مہنگی آ رہی ہیں۔ حالانکہ جو مال حاجی صاحب نے پرانی قیمت پر خرید کر رکھا ہوا ہے، اسکی قیمتِ فروخت بھی بڑھا دی ہے۔ اقبال نے شیخِ حرم کے بارے میں کہا تھا ....&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتا ہے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;گلیمِ بوذر&amp;nbsp; &amp;nbsp;و&amp;nbsp;&amp;nbsp; دَلقِ اویس&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; و چادرِ زہرا&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;شیخِ حرم میں اب شیخِ تجارت کو بھی شامل کر لیجئے!&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;پوری مہذب دینا میں یہ ایک معمول کی بات ہے کہ آپ خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل کر سکتے ہیں۔ اکثر و بیشتر یہ پالیسی لکھ کر لگا دی جاتی ہے۔ بہت سے ملکوں میں آپ تین ماہ تک مال واپس یا تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ اعزاز صرف پاکستانی صارفین کو حاصل ہے کہ وہ ”خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل“ نہیں کر سکتے۔ آپ تاجر کو اکثر یہ کہتے ہوئے سنیں گے کہ جناب لے جائیے اس مال کی کوئی شکایت نہیں آئی ۔ بھائی جان&amp;nbsp; شکایت کیسے آئے گی ؟پاکستان میں تو صارف اس قدر دب چکا ہے اور اتنا مظلوم اور خوفزدہ ہے کہ شکایت کرنے کا سوچ ہی نہیں سکتا۔ جس معاشرے میں ایک تاجر کا جرم۔ کھُلا جرم بخشوانے کےلئے سارے تاجر ہڑتال کر دیں اور گاہکوں اور انتظامیہ کو دھمکیاں دیں وہاں شکایت کون مائی کا لال کرےگا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اور آخری بات.... کیا ہماری تاجر برادری ٹیکس ادا کر رہی ہے اور کیا اتنا ہی ادا کر رہی ہے جتنا کرنا چاہئے؟ اس سوال کا جواب آپ کو بھی معلوم ہے اور مجھے بھی! رہا یہ اعتراض کہ حکومت ٹیکس کی رقم کو غلط خرچ کرتی ہے تو یہ اعتراض اُسی وقت کیوں اٹھتا ہے جب ٹیکس پورا جمع کرنے کی مہم چلتی ہے؟ آپ دیانتدار نمائندے اسمبلیوں میں بھیجئے تو ٹیکس صحیح جگہ خرچ ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ انکم ٹیکس اور محصولات جمع کرنےوالے اہلکاروں کو کرپشن کون سکھاتا ہے؟ بوجھو تو جانیں! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-5909607251826023591?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/5909607251826023591/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/10/blog-post_18.html#comment-form' title='5 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/5909607251826023591'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/5909607251826023591'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/10/blog-post_18.html' title='بوجھو تو جانیں'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>5</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-2670506495445846986</id><published>2011-10-11T16:40:00.003+05:00</published><updated>2011-11-03T22:38:54.489+05:00</updated><title type='text'>وہ میرا شعلہ جبیں موجئہ ہوا کی طرح</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اکتوبر کی تیسری صبح تھی جب تعمیلِ حکم کےلئے فرشتہ گھر میں داخل ہوا اور زندگی پروں کو پھڑپھڑاتی دریچے سے باہر نکل گئی۔ فاروق گیلانی اپنے پروردگار کے حضور پہنچ گئے۔ سب سے بے نیاز۔ جیسا کہ رومی نے کہا تھا ....&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;بروزِ مرگ چو تابوتِ من رواں باشد&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;گماں مبر کہ مرا فکرِ این و آن باشد&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;مرگ کے دن جب میرا تابوت جا رہا ہو گا تو یہ نہ سوچنا کہ مجھے اِدھر اُدھر کی فکر ہو گی۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;وہ اِس عصر میں اُن اہلِ کمال کی تصویر تھے جن کے گزرے زمانوں کو لوگ یاد کر کے حیران ہوتے ہیں۔ 36 سال سروس کے اعلیٰ عہدوں پر یوں رہے جیسے بتیس دانتوں میں زبان۔ تلوار کی طرح تیز اور کھرے۔ کتنی ہی دفعہ سزا کے طور پر او ایس ڈی بنائے گئے لیکن کبھی اتنی مصلحت کیشی بھی پسند نہ کی جسے بڑے بڑے صالحین بھی جائز سمجھتے ہیں۔ نصف درجن کے قریب کتابیں آغازِ جوانی ہی میں تصنیف کر چکے تھے۔ گفتگو ایسی کہ ادب اور تاریخ کا، دانش اور حکمت کا مرقع۔ شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ انکے سامنے فارسی یا اردو کا کوئی مصرع یا قرآن پاک کی کسی آیت کا حصہ پڑھا گیا اور انہوں نے اسے مکمل نہ کر دیا۔ اردو اور انگریزی پر یکساں مہارت۔ خیال کو پوشاک پہنانے کا ارادہ کرتے تو لفظ غلاموں کی طرح حاضر ہونا شروع ہو جاتے۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;پشاور کے سرکاری تربیتی ادارے میں لیکچر دینے گئے تو معروف شاعر ڈاکٹر وحید احمد نے، جو وہاں تعینات تھے، بتایا کہ انہوں نے زیر تربیت افسروں کو مٹھی میں لے لیا۔ آج کے کئی سیاستدان اور قلم کار اُنکے بابِ دانش سے فیض یاب ہوئے لیکن گیلانی صاحب نے کبھی ذکر کیا نہ جتایا۔ استغنٰی کا یہ عالم تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کئی ساتھی بیورو کریٹ ”قندِ مکرر“ کےلئے دوڑ دھوپ میں لگ گئے لیکن فاروق گیلانی نے دامن جھاڑا، گھر کو روانہ ہو گئے اور پلٹ کر نہ دیکھا۔ کئی بار کہا کہ شاہ جی! اداروں کو آپ جیسے شخص کی ضرورت ہے۔ ہر بار ایک ہی بات کہتے ”لیکن اظہار بھائی! مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں“۔ شام کو اسلام آباد کلب میں دوستوں کی بزم برپا کرتے۔ جہاں بیٹھتے ملاقاتی آنا شروع ہو جاتے۔ ہر جا کہ رفت، خیمہ زد و بارگاہ ساخت! لامحدود دستر خوان۔ گھر ہو یا کلب۔ مہمانوں کا ہجوم۔ خود کم کھانے والے فاروق گیلانی کی وسعتِ قلب پر حیرت ہوتی۔ دوست تو دوست تھے، واقف کاروں کو بھی پکڑ کر لاتے اور ضیافتوں میں شریک کرتے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;جب تک مکان زیرِ تعمیر &amp;nbsp;رہا &amp;nbsp;ہر ہفتے مزدوروں اور کاریگروں کی دعوت کرتے اور دوستوں کو بھی شریک کرتے۔ خوشحالی اللہ نے جتنی دی اُس سے زیادہ ہی خرچ کیا۔ اس میں رمق بھر مبالغہ نہیں کہ ہر قدم پر بٹوہ کھولتے اور خسروانہ بخشش کرتے۔ انکے جانے سے کتنے ہی ملازم، کتنے ہی دربان اور کتنے ہی سفید پوش سرپرستی سے محروم ہو گئے۔ مال کو بکری کی چھینک سمجھنے کا محاورہ پڑھا تو تھا لیکن خدا کی قسم! فاروق گیلانی کو دیکھنے اور انکے ساتھ رہنے سے سمجھ میں آیا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;آسٹریلیا میں اُس وقت شام کا سرد دھندلکا پھیل رہا تھا جب سکائپ پر میرا بیٹا معاذ نمودار ہوا۔ اُس کا چہرہ دیکھ کر میرا ماتھا ٹھنکا اور جب اس نے بتایا تو جو کیفیت ہوئی اُس کیفیت کا کوئی نام نہیں تھا۔ سکتہ نہ ہوش نہ بے ہوشی۔ ہر ہفتے طویل فون کرتے اور ہر بار واپسی کی تفصیل پوچھتے۔ دو سال پہلے جب بیٹے کے اصرار پر میں کچا پکا بیرون ملک منتقل ہوا تو سخت ناخوش تھے۔ چھ ماہ بعد واپس آیا تو ہر شام اکٹھی گذرتی اور جب بھی موقع ملتا باہر نہ جانے کی ترغیب دیتے۔ اب خبر ملی تو احساسِ جرم، صدمے کے علاوہ تھا۔ اُن کے گھر، ظاہر ہے، فون اٹھانے کا ہوش کسے ہونا تھا! مشترکہ دوستوں کو فون کرنے شروع کئے۔ آکہ وابستہ ہیں اس حُسن کی یادیں تجھ سے۔ ہارون الرشید فون اٹھا نہیں رہے تھے۔ پروفیسر معظم منہاس ملے تو بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہے تھے۔ اپنے گھر فون کیا تو حسان سسکیاں بھر رہا تھا۔ پھر دوستوں کی میلز آنا شروع ہو گئیں۔ جاوید علی خان نے لکھا کہ اسلام آباد اب کبھی پہلے جیسا نہیں ہو گا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے سعید صاحب نے اطلاع دی۔ یہ سانحہ ہر شخص کے لئے ذاتی المیہ تھا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;نماز کی پابندی تو تھی ہی، نمازِ باجماعت کی حرص شدید تھی۔ یہ فقرہ آج بھی میرے کانوں میں گونج رہا ہے ”اظہار بھائی! جماعت کے ساتھ پڑھنے میں پچیس گنا زیادہ ثواب ہے“۔ اسلام آباد کلب کے اندر گراﺅنڈ فلور پر مردوں کےلئے اور بالائی منزل پر خواتین کےلئے نماز کی جگہ بنوائی۔ بیٹیوں کو پڑھاتے تو سبھی ہیں انہوں نے تربیت بھی کی۔ تینوں کو انگریزی ادب میں ماسٹر کرایا اور نماز کا پابند بھی بنایا۔ مدتوں پہلے میں نے مریم کا کالم پڑھا اور مبارک دی تو فون نمبر لکھایا کہ بھتیجی کو خود مبارک دو۔ پھر وہ سول سروس کے لئے منتخب ہو گئی۔ ریلوے میں سیاسی اور ذاتی بنیادوں پر بھرتی کی کوشش ہوئی تو مریم متعلقہ شعبے کی انچارج تھی۔ پہاڑ کی طرح رکاوٹ بن گئی۔ اکثریت۔ مجھ سمیت۔ اپنے بچوں کےلئے گوشہ عافیت تلاش کرتی ہے لیکن فاروق گیلانی نے بیٹی کو ڈٹ جانے کےلئے کہا۔ وہ دن سخت آزمائش اور ابتلا کے تھے۔ معطلی ہوئی۔ پھر برطرفی ہو گئی۔ گیلانی صاحب ایک لمحہ کےلئے بھی پریشان نہ ہوئے۔ ایک ہی بات زبان پر رہتی تھی کہ انشاءاللہ آخر کار مریم کی جیت ہو گی۔ اسعد گیلانی کی پوتی اور فاروق گیلانی کی بیٹی نے عدالت اور ٹریبونل میں اپنے مقدمے کی پیروی زیادہ تر خود کی۔ دھمکیاں ملیں تو سید زادی نے بندوق چلانا سیکھ لی۔ آخر کار اس کا موقف درست مان کر اُسے بحال کر دیا گیا۔ چند ہفتے پیشتر گیلانی صاحب نے فون کر کے بتایا۔ مبارک دی تو مسلسل اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اپنی شریکِ حیات کےساتھ فاروق گیلانی کا سلوک دیکھ کر وہ حدیث مبارکہ یاد آ جاتی تھی کہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کےساتھ اچھا ہے۔ فرزانہ بھابھی کےساتھ جو تعلق تھا وہ شرکتِ حیات اور دوستی سے کہیں آگے کا تھا۔ سفر و حضر میں اکٹھے رہے۔ ہمیشہ اکٹھے۔ ملک میں بھی اور بیرون ملک بھی۔ کسی ضروری کام سے تھوڑی دیر کےلئے بھی کراچی لاہور یا پشاور جانا ہوتا تب بھی اکیلے نہ جاتے۔ سب کچھ خواب و خیال ہو گیا ....&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;خوش بود لبِ آب و گُل و سبزہ و نسرین&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;افسوس کہ آن گنجِ روان رہگذری بود&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;فاروق گیلانی پکے اور سچے پاکستانی تھے۔ پاکستان کی بقا پر پختہ یقین تھا۔ ہم کئی دوست بلوچستان کے حالات سے پریشان ہو کر وسوسوں کا شکار ہوتے اور ہمیں مشرقی پاکستان کا حادثہ یاد آ تا تو گیلانی صاحب دلائل کا انبار&amp;nbsp; لگا کر&amp;nbsp; ثابت کرتے کہ&amp;nbsp; مشرقی پاکستان کے ساتھ تطابق غیر منطقی ہے۔ انہیں سیاسی حرکیات&amp;nbsp; کا قابل رشک ادراک تھا۔اور اسے پیش کرنے کا اس سے بھی زیادہ قابل رشک فن رکھتے تھے۔ وہ اختلاف رائے کو برداشت کرنے کا حیرت انگیز حوصلہ رکھتے تھے۔ سخت پابند صوم&amp;nbsp; و صلوٰۃ ہونے کے باوجود ان کے قریبی حلقئہ احباب میں دوسرے مذہب اور دوسرے مسالک رکھنے والے احباب شامل تھے اور مہمان نوازی، قربت اور محبت ان کے ساتھ بھی غیر مشروط تھی۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اسلام آباد میں دو قبرستان ہیں۔ ایک میں میرے والد گرامی&amp;nbsp; اور میرا&amp;nbsp; چار ماہ کا بیٹامحو استراحت ہیں&amp;nbsp;۔ اب دوسرے میں فاروق گیلانی نے ڈیرہ&amp;nbsp;&amp;nbsp; ڈال لیا ہے۔ وہ ہر روز فون کرکے پوچھتے&amp;nbsp; اظہار بھائی&amp;nbsp; کلب کس وقت آرہے ہیں؟ مجھے لگتا ہے اب بھی پوچھیں گے اظہار بھائی آج میرے پاس چکر لگائیں گے؟ شاہ جی&amp;nbsp; آپ چھ ماہ فون کر کر کے واپسی کاپوچھتے رہے ۔اور واپسی سے چودہ دن پہلے خود وہاں چلے گئے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ آپ نے خوب سزا دی۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اِذا&amp;nbsp; زُرتُ ارضاَ َ بعدَ طولِ اجتنابا بہا&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;فَقدتُ&amp;nbsp; صَدیقی &amp;nbsp; و البلادُ &amp;nbsp; کما&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; ھیا&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;میں طویل غیر حاضری کے بعد وطن واپس آیا تو&amp;nbsp; شہر تو وہی تھے لیکن میرا دوست غائب تھا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;وہی مکاں&amp;nbsp; وہی گلیاں&amp;nbsp; مگر وہ لوگ نہیں&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہی&amp;nbsp; مراد &amp;nbsp;تو&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; ہے بستیاں اجڑنے سے&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&amp;nbsp;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;فاروق گیلانی چلے گئے۔ ہائے صادق نسیم مرحوم کا شعر یاد آ رہا ہے ....&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;وہ میرا شعلہ جبیں موجہ ہوا کی طرح&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;دیے بجھا بھی گیا اور دیے جلا بھی گیا &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-2670506495445846986?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/2670506495445846986/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/10/blog-post_11.html#comment-form' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2670506495445846986'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2670506495445846986'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/10/blog-post_11.html' title='وہ میرا شعلہ جبیں موجئہ ہوا کی طرح'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-5530658615021219188</id><published>2011-10-04T17:36:00.003+05:00</published><updated>2011-10-05T17:53:52.778+05:00</updated><title type='text'>پاگل لڑکے سے ٹاکرہ</title><content type='html'>&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;" trbidi="on"&gt;&lt;br /&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;میں جب کسی کام کا بیڑہ اٹھاتا ہوں تو پھر محنت ، احساسِ ذمہ داری اور کار کردگی کی انتہا پر پہنچ کر دم لیتا ہوں۔ اب کُل جماعتی کانفرنس [ اے پی سی ] ہی کو لے لیجیے، میں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ جہاں تک میرا بس چلے گا ہر پاکستانی کو اس کانفرنس کی اہمیت سے آگاہ کروں گا۔ آخر ملک کا مستقبل اسی کُل جماعتی کانفرنس ہی پر تو منحصر ہے۔ &lt;br /&gt;یہی احساس ذمہ داری تھا جس نے مجھے اس نوجوان لڑکے سے گفتگو کرنے پر مجبور کیا جو سخت گرمی میں مکان کے باہر تھڑے پر بیٹھا تھا۔ میں نے گاڑی ایک طرف پارک کی اور اُس گندی چھوٹی گلی کے دوسری طرف اُس کے پاس باقاعدہ چل کر گیا۔ پسینے سے اس کی قمیض اس کے بدن کے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔ اس سے بو آرہی تھی۔ پھر بھی میں اس کے نزدیک ہئوا اور پوچھا ۔" نوجوان تمہیں معلوم ہی ہو گا کہ کُل جماعتی کانفرنس ہو رہی ہے جو ملک کی سلامتی کی طرف ایک اہم قدم ہے۔"&lt;br /&gt;اُس نے قمیض کے بازو کے ساتھ ماتھا پونچھا اور عجیب ہونق انداز میں کہنے لگا " کون سی کُل جماعتی کانفرنس؟"&lt;br /&gt;پوچھنے پر اس نے بتایا کہ گیارھویں جماعت کا طالب علم ہے۔ مجھے حیرت ہوئی کہ پھر بھی اسے کانفرنس کے بارے میں کچھ علم نہیں&lt;br /&gt;" کیا اخبار نہیں پڑھتے ؟ ٹیلی ویژن پر خبریں نہیں سنتے؟"&lt;br /&gt;" چاچا اخبار ہمارے ہاں نہیں آتا۔ اتنے پیسے نہیں ہوتے کہ اب اخبار کا بل بھی ادا کرنا شروع کر دیں۔ رہا ٹیلی ویژن تو تمہارا کیا خیال ہے کہ میں اس شدید گرمی میں باہر کیوں بیٹھا ہوں ؟ دو گھنٹوں سے بجلی غائِب ہے۔ اور دن میں کئی بار ایسا ہوتا ہے۔ جب ٹی وی چلتا ہی نہیں تو خبریں کیسے دیکھیں اور سنیں۔ لیکن یہ بتائو کہ کل جماعتی کانفرنس میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے بارے میں کیا فیصلہ ہئوا ہے؟ مہنگائی کم کرنے کے کے متعلق ہمارے رہنمائوں نے کیا کہا ہے؟ اور یہ جو دن دہاڑے چوریاں ہو رہی ہیں اور ڈاکے پڑ رہے ہیں اس کا کل جماعتی کانفرنس نے کیا حل سوچا ہے؟"&lt;br /&gt;مجھے اس پر غصّہ آیا۔ ایک تو اس نے مجھے چاچا کہہ کر مخاطب کیا جو عجیب سا لگا۔ میرے بچوں کے دوست تو مجھے انکل کہہ کر مخاطب ہوتے ہیں۔ چاچا ماما خالہ ماسی کے الفاظ پڑھے لکھے لوگ نہیں استعمال کرتے۔ اوپر سے وہ کُل جماعتی کانفرنس کو لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی سے جوڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔&lt;br /&gt;میں نے اُس سے مغز ماری جاری رکھی۔&lt;br /&gt;" یہ جو کانفرنس ہو رہی ہے یہ امریکی دھمکیوں اور ممکنہ امریکی حملے کے پیش نظر منعقد کی جا رہی ہے۔ کیا تم امریکی دھمکیوں سے پریشان نہیں۔؟"&lt;br /&gt;اس نے میری طرف یوں دیکھا جیسے میں دنیا کا احمق ترین انسان ہوں۔&lt;br /&gt;" چا چا امریکہ کا دماغ نہیں خراب جو ہم پر حملہ کرے حملہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ ملک کو تباہ کر دیا جائے ۔ تو تباہ تو ہم امریکی حملے کے بغیر ہی ہو رہے ہیں۔ رہی کل جماعتی کانفرنس تو اس کا فاِئدہ صرف یہ ہئوا کہ کچھ امیر لوگوں کو اپنی خوش پوشی دکھانے کا موقعہ مل گیا۔ سنا ہے کہ وزیر اعظم کے ایک ایک سوٹ کی قیمت لاکھوں روپے میں ہے۔کیا کانفرنس میں دعوت اڑانے والے "عقل مند" رہنمائوں کو نہیں معلوم کہ ملک کی کیا حالت ہے؟ کیا ہمارے ملک کا مسئلہ نمبر ون امریکہ ہے؟ ریلوے موت کے گھاٹ اتر رہی ہے۔ پی آئی اے بد عنوانی اور نا اہلی کا گڑھ ہے۔ واپڈا کا کام صرف یہ رہ گیا ہے کہ اپنے ملازمین کو مفت بجلی فراہم کرے۔ سیلاب زدگان جانوروں کی سی زندگی گذار رہے ہیں۔ ہر سال سیلاب آتا ہے اور سیلاب آنے سے پہلے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے ۔ڈینگی سے لوگ مر رہے ہیں۔ سپرے جعلی ہو رہے ہیں۔ رہائشی علاقے گائے بھینسوں اور ان کے گوبر پیشاب سے معمور ہیں۔ دنیا کے مہذب ملکوں میں مویشی شہروں سے باہر مخصوص علاقوں میں رکھے جاتے ہیں۔ اور جانوروں کو ذبح کرنے کے لیے بھی مخصوص علاقے ہیں۔ یہاں ہر گھر کے سامنے گوبر ہے اور آنتیں اور اوجھڑی بھی پڑی ہے۔ یہ مسخرے جو امریکہ کا نام لے کر آئے دن جلوس نکالتے ہیں اور شاہراہیں بند کر کے رہگیروں کو اذیت پہنچاتے ہیں ان مسائل کے حل کے لیے کوئی پروگرام کیوں نہیں پیش کرتے؟ اور حکومت سے اس ضمن میں بات کیوں نہیں کرتے؟ ایک عام پاکستانی کا مسئلہ امریکہ ہے نہ طالبان۔ اس کا مسئلہ بجلی اور گیس ہے ۔ روٹی ہے ۔ امن و امان ہے اور انصاف ہے۔"&lt;br /&gt;اب میں اس پاگل لڑکے سے جان چھڑانا چاہتا تھا اور وہ خاموش ہی نہیں ہو رہا تھا۔ وہ سانس لینے کو رکا تو میں نے اس سے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے اور میں جا رہا ہوں۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیااور کہنے لگا " مجھ سے تو تم پوچھ رہے ہو کہ کیا مجھے کل جماعتی کانفرنس کا علم ہے یا نہیں۔ تو کیا تمہیں بھی معلوم ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے بنکوں میں حرام کھانے والے پاکستانیوں کے ستانوے ارب ڈالر جمع ہیں؟"&lt;br /&gt;میں نے اس خبر سے بے علمی کا اظہار کیا تو تو اس نے تقریباَ َ میرا مونہہ چڑاتے ہوئے کہا کہ قیمتی لباس پہننے والے مسخروں کی کانفرنسوں سے اگر فرصت مل جائے تو وہ خبریں بھی پڑھ لیا کرو جن کا اس ملک کی تباہی سے براہ راست تعلق ہے۔ سئوٹزر لینڈ کے بنکوں کے ڈائرکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ سوئس بنکوں میں پاکستانیوں کے ستانوے ارب ڈالر پڑے ہیں۔ &lt;br /&gt;اس رقم سے تیس سال تک پاکستان کا ٹیکس فری بجٹ بنایا جا سکتا ہے۔ چھ کروڑ پاکستانیوں کو ملازمتیں دی جا سکتی ہیں۔ پورے ملک کے گائوں سڑکوں کے ذریعے اسلام آباد سے جُڑ سکتے ہیں۔ سینکڑوں عوامی منصوبوں کو مفت بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔ اور پاکستان کے ہر شہری کو ساٹھ سال تک ہر ماہ بیس ہزار روپے دیے جا سکتے ہیں۔"&lt;br /&gt;اس نے بات جاری رکھی " چاچا میں نے اور میرے دوستوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم آدھی رات کو اُٹھ کر وضو کر کے خدا کے حضور سر بسجود ہوں گے اور دعا کریں گے کہ اگر یہ ڈاکو ملک کی یہ رقم واپس ملک میں نہیں لاتے تو یہ اس رقم کو استعمال کرنے سے پہلے ہلاک ہو جائیں، ان کی قبریں آگ ، دھوئیں ، بچھئووں اور سانپوں سے بھر جائیں اور آخرت میں ان کے ناپاک جسموں کو انہی ڈالروں سے داغا جائے۔ چاچا تم اپنے اخبار میں لکھو کہ سب پاکستانی رات کو اُٹھ کر خدا کے حضور یہی دعا کریں۔"&lt;br /&gt;میں نے عافیت اسی میں جانی کہ وہاں سے بھاگوں۔ میں گلی پار کرنے ہی والا تھا کہ وہ پیچھے سے تقریباَ َ چیخ کر بولا &lt;br /&gt;" اور ہاں چاچا میں تمہارے دل کی بات جان گیا تھا۔ اپنے بچوں کو بتائو کہ آنکلوں اور آنٹیوں کے علاوہ چاچوں ماموں ماسیوں اور پھپھیوں کے رشتے بھی ہوتے ہیں"&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-5530658615021219188?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/5530658615021219188/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/10/blog-post.html#comment-form' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/5530658615021219188'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/5530658615021219188'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/10/blog-post.html' title='پاگل لڑکے سے ٹاکرہ'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-2420028919793885394</id><published>2011-09-27T09:05:00.001+05:00</published><updated>2011-09-28T09:18:25.436+05:00</updated><title type='text'>انوری کا گھر کہاں ہے؟</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;مشہور شاعر انوری نے کہا تھا کہ ہر بلا آسمان سے اترتے ہوئے میرے گھر کا پتہ پوچھتی ہے۔ لگتا ہے انوری بیچارے کا گھر بھی پاکستان جیسا تھا۔ جب بھی شمعِ حوادث کی لَو تھرتھراتی ہے مصیبتوں کا ایک نیا سلسلہ پاکستان پر ٹوٹتا ہے۔ غریب کی جورو.... طالبان کا زور بھی پاکستان پر ہے، امریکہ بھی اپنی شکست کا غصہ پاکستان پر اتارنا چاہتا ہے۔ کرپٹ انسانوں کا ایک مکروہ طائفہ لوٹ کھسوٹ کے مال سے دنیا بھر میں جائیدادیں خرید رہا ہے، کارخانے لگا رہا ہے اور بنکوں کی تجوریاں بھر رہا ہے، طبقہء علماءکے بڑے حصے کو&amp;nbsp; بھی اقتدار کا ذائقہ راس آگیا ہے! &lt;br /&gt;آپ پاکستان اور اہل پاکستان کی بدقسمتی کا اندازہ لگائیے کہ پرویز مشرف جیسے شخص میں بھی یہ حوصلہ ہے کہ وہ برملا پاکستان واپس آکر اقتدار سنبھالنے کا دعویٰ کر رہا ہے اور اس سے بھی بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس نے عمران خان کو اپنا حلیف قرار دیا ہے۔ کہا تو اس نے یہ بھی ہے کہ ایم کیو ایم بھی اس کا ساتھ دے گی لیکن ایم کیو ایم کے ماضی اور ہر لحظہ موقف بدلتے حال کے پیش نظر، اس کا پرویز مشرف کی حمایت کرنا حیرت انگیز بالکل نہیں ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پرویز مشرف نے عمران خان کو بھی اپنا حلیف ظاہر کیا ہے اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ عمران خان نے (تادم ایں تحریر) اس کی کوئی تردید نہیں کی۔ گویا خاموشی نیم رضا!&lt;br /&gt;پرویز مشرف 8 سال تک اس مجبور، مظلوم اور مقہور قوم کی گردن پر پیرِ تسمہ پا کی طرح سوار رہے، شام اور شب کے ”مشاغل“ کا خرچ قومی خزانے سے چلتا رہا، کراچی جب بھی جاتے، شاہراہیں بند ہونے کی وجہ سے اموات واقع ہوتیں اور سکولوں کے بچے رات تک پھنسے رہتے اور کراچی کے ٹھیکیدار چوں تک نہ کرتے۔ پرویز مشرف نے 8 سال شہنشاہوں کی طرح گزارے، مزے سے ٹینس کھیلتے رہے، چار چار لاکھ کے سوٹ پہن کر دنیا کی سیر کرتے رہے، ریس کھیلنے والے قمار باز سرکاری بابوﺅں کو ملک کی تقدیر سے کھیلنے پر مامور کئے رکھا اور اعصاب کی مضبوطی دیکھئے کہ اب پاکستان واپسی پر ایک لاکھ افراد کے استقبال کی توقع کر رہے ہیں۔ قوم کے احسانات کا بدلہ چکانے کا یہ طریقہ خوب ہے کہ ایک بار پھر قوم پر سواری کی جائے۔ خیر، احسان فراموشی کا تو یہ عالم ہے کہ موصوف نے ایک بار بھی میاں نواز شریف کے اس احسان کا ذکر تک نہیں کیا کہ انہوں نے میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اسے آرمی چیف بنایا حالانکہ ڈاکٹر قدیر خان کہتے ہیں کہ انہوں نے پرویز مشرف کی ”نیک نام“ شہرت کے پیش نظر (غالباً بڑے میاں صاحب مرحوم کے ذریعے) منع کیا تھا۔ پرویز مشرف نے نواز شریف کے اس احسان کا شکریہ ادا کیا نہ نواز شریف ہی نے قوم سے آج تک اس جرم کی معافی مانگی کہ انہوں نے جانتے بوجھتے، لوگوں کے منع کرنے کے باوجود، میرٹ کُشی کر کے پرویز مشرف کو عالمِ اسلام کی سب سے بڑی فوج کا سالار مقرر کیا حالانکہ پرویز مشرف کے ”مشاغل“ اور ”روز و شب“ کا چرچا اس وقت بھی چار دانگِ عالم میں تھا!&lt;br /&gt;آپ اس قوم کی بدقسمتی کا اندازہ لگائیے کیسے کیسے لوگ کیا کیا لبادے اوڑھ کر اسکی"" خدمت"" کر رہے ہیں۔ پرویز مشرف سے حال ہی میں کسی پاکستانی صحافی نے پاکستان کی ایک مذہبی سیاسی جماعت کے سابق رہنما کے بارے میں پوچھا اور اس نے یہ کہا کہ میں ان سے نہیں ملا تو اس سابق رہنما نے (جو بہرحال کسی نہ کسی طرح، ریٹائرمنٹ کے باوجود ”اِن“ رہنا چاہتے ہیں) ایک اخبار میں زور و شور سے مضمون لکھ کر پرویز مشرف کو یاد دلایا کہ میں تو آپکے اقتدار کے اوائل میں آپ کو اڑھائی اڑھائی گھنٹے تک ملا تھا۔ یہ سابق رہنما ترکی اور عرب دنیا سے لےکر، پرویز مشرف تک ہر موضوع پر لکھتے ہیں لیکن حسرت ہی رہی کہ انکی کوئی تحریر پاکستان کے عوام کے مسائل پر بھی نظر آ جائے۔ یوں لگتا ہے کہ جاگیردارانہ نظام، ملکیت&amp;nbsp;زمین کے فرسودہ ڈھانچے ،تعلیمی نظام اور عوام کی معاشی بدحالی پر لکھنا قابل دست اندازیء &amp;nbsp;پولیس ہے!&lt;br /&gt;”جمہوریت پسندی“ کا یہ عالم ہے کہ پرویز مشرف نے جب جمہوریت پر شب خون مار کر منتخب وزیراعظم کو قید کر دیا تو یہ سابق رہنما پرویز مشرف کو اسکے محل میں تنہا ملے یعنی اپنی&amp;nbsp; جماعت&amp;nbsp;کا کوئی فرد بھی ساتھ لے جانا مناسب نہ سمجھا۔خود لکھتے ہیں....”میں وزیراعظم ہاﺅس کے اسی میٹنگ روم میں اکیلا بیٹھا ہوا چیف آف آرمی سٹاف ا ور ان دنوں چیف ایگزیکٹو پرویز مشرف کی آمد کا منتظر تھا“۔ &lt;br /&gt;اس خفیہ ملاقات کا ذکر جماعت کے&amp;nbsp;سابق رہنما اب بھی نہ کرتے‘ وہ تو پرویز مشرف نے کہہ دیا کہ میں ان سے نہیں ملا تو&amp;nbsp;انہیں اس ملاقات کا ذکر کرنا پڑا تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ وہ تو اس سے ملے تھے! ورنہ دس سال تک یہ طویل ملاقات پردہ راز میں رہی اس لئے کہ ا نکے اپنے الفاظ میں ”میٹنگ کے اختتام پر باہر نکلتے ہوئے انہوں نے (یعنی پرویز مشرف نے) دبی آواز میں خواہش ظاہر کی کہ میں پریس میں اس کا ذکر نہ کروں۔ اس ملاقات کو اب دس سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے“۔ &lt;br /&gt;اس خفیہ ملاقات کا سبب بھی سابق رہنما خود ہی بتاتے ہیں۔”جب انکی ٹیم کےساتھ مذاکرات کے دوران ہم نے ان سے فوجی عہدہ ترک کرنے کا مطالبہ کیا تو انکی ٹیم نے کہا کہ تم خود ان سے مل کر بات کرو “۔ سیاق و سباق سے یہ تاثر واضح ہے کہ ”ٹیم کےساتھ مذاکرات“ یہ سابق رہنما تنہا نہیں کر رہے تھے۔ اور لوگ بھی ہوں گے لیکن جب پرویز مشرف کی ٹیم نے کہا کہ تم خود ان سے مل کر بات کرو تو یہ تن تنہا ہی ملاقات کیلئے محل میں پہنچے، اکیلے بیٹھ کر ”چیف ایگزیکٹو“ کی آمد کا انتظار کرتے رہے اور اڑھائی کھنٹے تک ”ملاقات“ کرتے رہے۔ یہ سابق رہنما اقبال کے اشعار بہت سناتے ہیں۔ اقبال نے تو یہ بھی کہا تھا ....&lt;br /&gt;قوموں کی تقدیر وہ مرد درویش&lt;br /&gt;جس نے نہ ڈھونڈی سلطاں کی درگاہ&lt;br /&gt;اگر پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کا خفیف سا امکان بھی ہے تو اسے یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ میں تو آپ سے ملا تھا۔ یوں بھی اگرمنتخب اداروں کےلئے خواتین کی نامزدگی کا وقت آئے تو اپنی لخت جگر کو نامزد کرنا عین جمہوریت ہے حالانکہ&amp;nbsp; جماعت&amp;nbsp;میں ایسی ایسی خواتین موجود ہیں جنہوں نے ساری زندگی دین کی جدوجہد میں گزار دی اور اب بھی فقیری اور مسلسل خدمت اور دعوت و تبلیغ میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں لیکن&amp;nbsp; جماعت&amp;nbsp;کے ارباب قضا وقدر کی نظر جب بھی پڑی اپنے ہی کنبوں پر پڑی۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;سادہ لوح اور مخلص ارکان پر مشتمل اس مذہبی سیاسی&amp;nbsp; جماعت&amp;nbsp;کے رہنماﺅں کی رفاقت لشکریوں کے ساتھ قدیم ہے۔ یحییٰ خان کے زمانے میں مشرقی پاکستان کی قتل و غارت میں جرنیلوں کا ساتھ دیا۔ ضیاءالحق کے پورے دور میں یک جان دو قالب رہے اور ماموں بھانجا جالندھری نیٹ ورک پر کھل کر کھیلے۔ پرویز مشرف کو سترھویں ترمیم پلیٹ میں رکھ کر پیش کی جو اب تاریخ کا حصہ ہے۔ اس پرانی رفاقت پر ایک معتبر صحافی نے بھی گواہی دی ہے۔ ہوا یوں کہ اس سابق رہنما نے کچھ عرصہ قبل ایک تھنک ٹینک نما مجلس برپا کی۔ صحافی اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں....”اگلے روز اخبارات میں جو تصویر شائع ہوئی اس میں ان کے ساتھ ریٹائرڈ جرنیل ہی نظر آ رہے تھے تصویر دیکھ کر میری زبان پر یہ شعر آیا کہ.... میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب۔ اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں۔ ساتھ بیٹھے ہوئے ایک صاحب ادراک بولے میر ہرگز سادہ نہیں۔ پچاس سالہ رفاقت ہے۔ میر ا ور عطار کا ایک دوسرے کے بغیر وقت ہی نہیں گزرتا“۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;بات پرویز مشرف کے دوبارہ اقتدار میں آنے کی خواہش سے چلی تھی۔ پاکستان بھی انوری کا گھر بن گیا ہے&lt;br /&gt;ہر بلائی&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &amp;nbsp;کز آسمان آید&lt;br /&gt;گرچہ بردیگری قضا باشد&lt;br /&gt;برزمین نارسیدہ می پرسد&lt;br /&gt;خانہء &amp;nbsp;انوری&amp;nbsp;&amp;nbsp; &amp;nbsp;کجا باشد&lt;br /&gt;یعنی جو بلا بھی آسمان سے اترتی ہے۔ راستے ہی میں پوچھنے لگتی ہے کہ انوری کا گھر کہاں ہے؟ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-2420028919793885394?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/2420028919793885394/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/09/blog-post_27.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2420028919793885394'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2420028919793885394'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/09/blog-post_27.html' title='انوری کا گھر کہاں ہے؟'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-8170949542037658437</id><published>2011-09-20T16:12:00.000+05:00</published><updated>2011-09-20T16:12:02.269+05:00</updated><title type='text'>میں پرتھ یونیورسٹی سے متاثر کیوں نہیں ہوا؟</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اٹھانوے برس پہلے جب یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کا پرتھ میں آغاز ہوا تو اُسکے طلبہ کی تعداد صرف 184تھی۔ یونیورسٹی کی عمارت کیا تھی، دیواریں لکڑی کی تھیں اور چھتیں ٹین کی چادروں کی تھیں۔ یونیورسٹی کی قسمت اچھی تھی۔ علی گڑھ یونیورسٹی کی طرح پرتھ یونیورسٹی کو بھی ایک سرسید میسر آگیا۔ اس کا نام وِن تھراپ تھا۔ سَر جان ونتھراپ روزنامہ ویسٹ آسٹریلیا کا مالک اور مدیر تھا۔ اس نے یونیورسٹی کےلئے دن رات ایک کر دئیے۔ یہ بانی چانسلر بھی تھا۔ اس نے اپنی جیب سے سوا چار لاکھ پاﺅنڈ کا عطیہ دیا جو آج کے تین کروڑ ڈالر بنتے ہیں! آج یونیورسٹی کے طلبہ کی تعداد اکیس ہزار ہے جن میں تقریباً پانچ ہزار غیر ملکی ہیں۔ اساتذہ کی تعداد ایک ہزار چار سو ہے لیکن یونیورسٹی کی وجہ شہرت تحقیق اور تحقیقی کام کی تربیت ہے۔ آسٹریلیا میں تحقیق کے حوالے سے یونیورسٹی دوسرے نمبر پر ہے۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;مجھے گذشتہ ہفتے یونیورسٹی میں منعقد کی جانےوالی کانفرنس اور سمپوزیم کےلئے مدعو کیا گیا تھا۔ یہ سرگرمیاں تین دنوں پر محیط تھیں۔ کانفرنس نائن الیون کے حوالے سے تھی اور سمپوزیم آسٹریلیا کے مسلمانوں کے مسائل کے بارے میں تھا جس میں اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی تھی۔ ملائیشیا سے سابق وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر کی بیٹی مرینہ مہاتیر آئی ہوئی تھیں اور کینبرا سے فارسی کی ایرانی پروفیسر ڈاکٹر زہرہ طاہری بھی تھیں۔ زہرہ کو دیوان حافظ ازبر ہے۔ کوئی شعر پڑھا جائے، پوری غزل سنا دیتی ہیں۔ خدا میرے والد گرامی کی لحد پر نور کی بارش کرے، میری فارسی کی گفتگو سن کر پوچھنے لگیں ”ایران میں رہے ہو؟“ میں نے جواب دیا کہ ہاں! لیکن یہ ایران میرے گھر میں تھا!&lt;br /&gt;کانفرنس سے جب امریکی خاتون علیشہ نے خطاب کیا جو پرتھ میں امریکی کونسلر ہیں تو ردِعمل دیکھ کر حیرت ہوئی۔ سب سے زیادہ سوالات عراق اور افغانستان پر امریکی حملے کے بارے میں تھے اور سوالات کرنےوالے سب سفید فام اور غیر مسلم تھے۔ کیا عراق اور افغانستان نائن الیون کے ذمہ دار تھے؟ اب تک دونوں ملکوں میں کتنے لوگ ہلاک ہو چکے ہیں؟ امریکی پالیسیوں کا کیا جواز ہے؟ امریکہ نے نائن الیون کے ردِعمل میں جو کچھ کیا، کیا آج دنیا اسکی وجہ سے زیادہ محفوظ ہے یا زیادہ خطرناک؟ امریکی کونسلر کے پاس ان سوالات کا کوئی جواب نہیں تھا سوائے اسکے کہ وہ گفتگو کو اِدھر اُدھر لے جاتی تھی۔ مرینہ مہاتیر کی لکھی ہوئی تقریر، اعتدال اور حسنِ بیان کی خوبصورتی سے لبریز تھی۔ اس نے امریکہ پر بھرپور تنقید کی اور شائستگی سے کی۔ ملائیشیا میں اسلام اور مسلمانوں کے حال اور مستقبل پر اس نے سوالوں کے جواب حیران کن مہارت اور علم سے دئیے۔ اُس شام جب ایک چرچ میں تینوں مذاہب کے لوگ اکٹھے ہوئے اور مسلمان عالمِ دین جب کلامِ پاک کی تلاوت کر رہے تھے تو میرے ساتھ بیٹھی ہوئی مرینہ مہاتیر رو رہی تھیں۔ پوچھا تو کہنے لگیں میں نے زندگی میں پہلی دفعہ چرچ میں قرآن پاک کی تلاوت سنی اس لئے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی۔ &lt;br /&gt;تین دن کے قیام میں سب سے زیادہ جس چیز نے متاثر کیا وہ یونیورسٹی کی مجموعی فضا تھی۔ علم، متانت، برداشت، بے خوفی، شائستگی، دھیما پن، یہ اِس فضا کے اجزا تھے۔ میں نے کسی طالب علم کو بلند آواز میں بات کرتے ہوئے، کسی کو چیخ کر بلاتے ہوئے، کسی سے مذاق میں بھی ہاتھا پائی کرتے ہوئے اور کیفے اور کینٹین میں ہنگامہ برپا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ سمپوزیم میں جب آسٹریلوی مسلمانوں کے مسائل پر بحث مباحثہ ہوا تو سوال کرنےوالے طلبہ کا ڈسپلن قابلِ دید تھا۔ ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ دو طلبہ بیک وقت بولے ہوں۔ اِن دنوں نقاب پر پابندی کا موضوع پورے ملک میں زیر بحث ہے۔ کئی غیر مسلم طلبہ نے پابندی کی مخالفت کی کہ یہ ذاتی پسند پر قدغن لگانے والی بات ہے۔ اکثر مسلمان طالبات کی رائے یہ تھی کہ مسلمان علما چہرہ چھپانے پر متفق نہیں ہیں۔ اور یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے اس لئے نقاب پر پابندی کی مخالفت ہم اسلام کے حوالے سے نہیں بلکہ ذاتی پسند کے حوالے سے کرینگی۔ پابندی کی حمایت کرنے والوں کی دلیل یہ تھی کہ پبلک مقامات پر سیکورٹی کے لحاظ سے چھُپے ہوئے چہرے کی شناخت کس طرح ہو گی؟ یہ نکتہ بھی زیر بحث آیا کہ آخر پچپن سے زیادہ مسلمان ملکوں میں سے ایک ملک بھی ایسا کیوں نہیں جہاں مسلمان اِس طرح ہجرت کر سکیں جس طرح امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دوسری مغربی ملکوں میں ہجرت کر رہے ہیں۔ آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر کروڑوں مسلمان اِن غیر مسلم ممالک میں رہنے پر مجبور ہیں؟ یہ صرف اقتصادیات کا مسئلہ نہیں، بہت سے مسلمان اپنے اپنے ملک کو چھوڑ کر اِن ملکوں میں اس لئے آئے ہیں کہ یہاں شخصی اور مذہبی آزادی ہے، امن و امان ہے، انصاف ہے، معیارِ تعلیم بلند ہے اور زندگیاں محفوظ ہیں؟ یہ سب کچھ مسلمان ملکوں میں کیوں نہیں میسر آ رہا؟ آج آسٹریلیا میں لاکھوں ترک، لبنانی، مصری اور ایرانی آباد ہیں، انکی اپنی مسجدیں ہیں، اپنے سکول ہیں اور اپنے بازار ہیں، آخر تیل برآمد کرنےوالے امیر مسلمان ملک اپنے دروازے دوسرے مسلمانوں کےلئے اس طرح کیوں نہیں کھولتے جس طرح مغربی ملکوں نے کھولے ہوئے ہیں؟ &lt;br /&gt;پاکستانی نژاد ڈاکٹر ثمینہ یاسمین یونیورسٹی کے اساتذہ میں ممتاز مقام رکھتی ہیں اور اسلامی تعلیمات کے حوالے سے یہ پابندِ صوم و صلوٰة خاتون طلبہ میں اپنا حلقہ اثر رکھتی ہیں۔ لشکرِ طیبہ (جماعت الدعوة) کے ماہانہ رسالہ سے لے کر جاوید غامدی صاحب کی کتابوں تک .... سب کچھ ڈاکٹر یاسمین کے زیرِ مطالعہ ہے۔ کلکتہ میں پیدا ہونےوالی منحنی سی ڈاکٹر کرشنا سین فیکلٹی آف آرٹس کی ڈین ہیں اور انڈونیشیا کے مسلمانوں کی ثقافتی زندگی پر طویل تحقیق کر چکی ہیں۔ &lt;br /&gt;لیکن جب میں نے یونیورسٹی آف پرتھ کا موازنہ اپنے ملک کی یونیورسٹیوں سے کیا تو ایک کھرا اور سچا پاکستانی ہونے کے ناطے سے میں اِس یونیورسٹی سے بالکل بھی متاثر نہیں ہوا۔ مجھے پرتھ کے طلبہ پر رحم آیا۔ یہ بے چارے اتنے پِسے ہوئے ہیں کہ جلوس نکال کر امتحان کی تاریخ تک نہیں بدلوا سکتے۔ آپ آسٹریلیا کی اس دوسری بڑی یونیورسٹی کی بے بسی کا اندازہ لگائیے کہ داخلے کی تاریخ، انٹرویو کی تاریخ، امتحان کا دن، نتیجے کا اعلان، سب کچھ مقرر ہے اور ملک کا وزیراعظم بھی ایک دن کی تاخیر و تقدیم نہیں کر سکتا! یونیورسٹی کی ایک اور بدقسمتی یہ ہے کہ کسی سیاسی یا مذہبی پارٹی کا سٹوڈنٹ وِنگ یہاں موجود نہیں! کتاب میلے کے پردے میں یونیورسٹی پر کسی گروپ کا قبضہ نہیں۔ آج تک کسی پروفیسر پر حملہ نہیں ہوا نہ کسی وائس چانسلر کے دفتر کا گھیراﺅ کیا گیا۔ کسی سیاسی جماعت کے کارکن طلبہ کا روپ دھار کر کسی ہوسٹل پر قابض نہیں نہ ہوسٹلوں کے وارڈن طلبہ کے ہاتھوں میں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ کوئی جلوس ہے نہ ہڑتال، نعرے ہیں نہ کلاسوں کا بائیکاٹ، نئے طلبہ آتے ہیں تو ”رہنمائی“ کے پردے میں کوئی انہیں قابو کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ آپ اس یونیورسٹی کی بدقسمتی کا اندازہ لگائیے کہ آج تک اِسے کسی جرنیل وائس چانسلر کے نیچے زندگی گزارنے کا اعزاز حاصل نہیں ہوا۔ آج تک کوئی واقعہ ایسا نہیں ہوا کہ پولیس کو کیمپس کے کسی حصے یا کسی ہوسٹل کا محاصرہ کرنا پڑے۔ کسی سیاسی جماعت میں یہ ہمت نہیں کہ وہ اپنے حامیوں کو لیکچرر بھرتی کروائے یا مخالف لیکچراروں کو قتل کروا دے۔ اس یونیورسٹی نے ایسا کوئی سٹوڈنٹ لیڈر بھی نہیں پیدا کیا جس کی مہارت تو پراپرٹی کی خرید و فروخت میں ہو لیکن رہنما وہ سیاسی جماعت کا ہو۔ اس یونیورسٹی کے اجتماعات میں ایسے دانشور، صحافی اور اہلِ قلم بھی نہیں مدعو کئے جاتے جنہوں نے کسی یونیورسٹی میں تعلیم تو کیا حاصل کی، یونیورسٹی کی شکل بھی کبھی نہیں دیکھی۔ &lt;br /&gt;مجھے فخر ہے کہ یہ یونیورسٹی مجھے متاثر نہیں کر سکی۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا سے میری درخواست ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے حامی ”طلبہ“ کو اس یونیورسٹی میں درآمد کیا جائے!! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-8170949542037658437?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/8170949542037658437/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/09/blog-post_20.html#comment-form' title='9 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/8170949542037658437'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/8170949542037658437'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/09/blog-post_20.html' title='میں پرتھ یونیورسٹی سے متاثر کیوں نہیں ہوا؟'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>9</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-183017628551862169</id><published>2011-09-14T06:38:00.000+05:00</published><updated>2011-09-14T06:38:34.719+05:00</updated><title type='text'>اور ہم نیلام ہوجائیں گے....</title><content type='html'>&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="separator" style="clear: both; text-align: center;"&gt;&lt;a href="http://3.bp.blogspot.com/-eUJTHE3Twus/TnAFN_dur3I/AAAAAAAAATw/pPTpZGJspLc/s1600/p10-10_10+copy.gif" imageanchor="1" style="margin-left: 1em; margin-right: 1em;"&gt;&lt;img border="0" src="http://3.bp.blogspot.com/-eUJTHE3Twus/TnAFN_dur3I/AAAAAAAAATw/pPTpZGJspLc/s1600/p10-10_10+copy.gif" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;&lt;br /&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-183017628551862169?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/183017628551862169/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/09/blog-post_14.html#comment-form' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/183017628551862169'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/183017628551862169'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/09/blog-post_14.html' title='اور ہم نیلام ہوجائیں گے....'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><media:thumbnail xmlns:media='http://search.yahoo.com/mrss/' url='http://3.bp.blogspot.com/-eUJTHE3Twus/TnAFN_dur3I/AAAAAAAAATw/pPTpZGJspLc/s72-c/p10-10_10+copy.gif' height='72' width='72'/><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-5035331355661626</id><published>2011-09-07T16:39:00.002+05:00</published><updated>2011-09-08T16:47:57.486+05:00</updated><title type='text'>مائینڈ سیٹ</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اس کالم نگار کی جاوید ہاشمی سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی‘ ظاہر ہے کہ ایک سست الوجود اور عافیت پسند شخص کسی بھی سیاست دان سے ملنے کا شرف نہیں حاصل کر سکتا۔ سیاست دانوں کو ملنے کیلئے تو بہت دوڑ دھوپ کرنا پڑتی ہے‘ یا پھر کالم نگاری اس ”پائے“ کی ہو کہ سیاست دان خود آکر ملیں‘ وقتاً فوقتاً فون کریں اور بعض مواقع پر ڈھونڈتے بھی رہیں لیکن اس ”پائے“ کی کالم نگاری ہر کہہ و مہ نہیں کر سکتا۔ یہاں بنیادی شرط ”پائے“ کی ہے‘ مشتاق احمد یوسفی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ یہ جو پائے کھائے جاتے ہیں‘ بکری کے یا گائے کے‘ تو ان سب میں صرف چارپائی کے پائے صاف ستھرے ہوتے ہیں۔ پائے کے حوالے سے اپنا ہی ایک شعر بھی یاد آرہا ہے....&lt;br /&gt;کسی سے شام ڈھلے چھن گیا تھا پایہء تخت&lt;br /&gt;کسی نے صبح ہوئی اور تخت پایا تھا&lt;br /&gt;جاوید ہاشمی نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ چند سالوں بعد لاہور کا حال بھی کراچی جیسا نہ ہو جائے۔ جاوید ہاشمی کو اس وقت بھی پارٹی ترجمان قسم کی مخلوقات نے غیردانشمند قرار دیا تھا‘ جب اٹھارہویں ترمیم منظور ہوتے وقت اس نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر سیاسی جماعتوں میں موروثی بادشاہت کی مذمت کی تھی۔ ہو سکتا ہے لاہور کے بارے میں اسکے خدشے کو بھی تنقید یا مذاق میں اڑا دیا جائے لیکن اگر حکومت کے گردن بلندوں میں ذرا بھی وژن ہو تو ہاشمی کی یہ تنبیہہ ایک سنجیدہ مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے....ع&lt;br /&gt;بارہا گفتہ ام و بارِد گرمی گویم &lt;br /&gt;کہ کراچی اس وقت جس سرطان کا شکار ہے‘ اسکی ایک وجہ وہاں مختلف لسانی گروہوں کی الگ الگ آبادیاں بھی ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان کے کچھ حصوں سے لوگ مسلسل نقل مکانی کرتے رہتے ہیں اور وسطی پنجاب یا کراچی کی طرف یہ ہجرت جاری رہتی ہے۔ یہ رجحان کئی سو سال سے چلا آرہا ہے‘ شمالی ہندوستان میں روہیل کھنڈ اور رامپور کی ریاستیں نقل مکانی کے اسی رجحان کی وجہ سے وجود میں آئی تھیں اور ان علاقوں کے لوگ جنہیں آج اردو سپیکنگ کہا جاتا ہے‘ شروع میں ایک اور زبان بولتے تھے۔ شیرشاہ سوری جدی پشتی سہسرام کا نہیں تھا‘ اس کا خاندان نقل مکانی کرکے وہاں آباد ہوا تھا‘ نقل مکانی کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے‘ اسکے عوامل تاریخی بھی ہیں اور اقتصادی بھی‘ اسے روکا جا سکتا ہے نہ روکنا درست ہے۔ لیکن یہ تو کیا جا سکتا ہے کہ لاہور جیسے عظیم الجثہ شہر میں نقل مکانی کرکے آنیوالوں کو لسانی بنیاد پر کسی ایک جگہ یا چند مخصوص جگہوں پر آباد ہونے سے روکا جائے۔ نئے آنیوالوں کو بسانے کیلئے سائنسی بنیادوں پر حکمت عملی اور اس کا نفاذ ہونا چاہیے۔ اگر کراچی کے رہنماﺅں اور حکام میں کل وژن ہوتا تو آج وہاں لیاری یا سہراب گوٹھ جیسے علاقے ایک زبان بولنے والوں کا گڑھ نہ ہوتے۔ اس تناظر میں جاوید ہاشمی کی تنبیہہ سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے‘ ہم اس موضوع پر تفصیل سے اظہار رائے کرتے لیکن سرطان کی جڑ اور ہے‘ ہم اس کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ &lt;br /&gt;کل صبح اخبار پڑھ کر ہم قہقہے لگا رہے تھے کہ سب گھر والے پریشان ہو کر پوچھنے لگے کہ اخبارات پڑھ کر رویا جاتا ہے‘ تم ہنس کیوں رہے ہو اور وہ بھی اس فیاضی سے؟ چین میں ایشیائی ملکوں کی سیاسی جماعتوں کی ایک کانفرنس ہو رہی ہے‘ اس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ قاف کی نمائندگی مشاہد حسین کر رہے ہیں‘ چین روانہ ہونے سے پہلے مشاہد حسین صدر پاکستان سے ملے‘ (ملاقات میں انکے ساتھ حسب معمول چودھری شجاعت بھی تھے) اخبار کی خبر کے مطابق ملاقات کے دوران جناب صدر نے مشاہد حسین کو حکم دیا (یافرمائش کی) کہ کانفرنس کے دوران وہ بلاول کی سیاسی تربیت کرنا نہ بھولیں۔ کالم نگار یہ سوچ رہا تھا کہ اگر مونس الٰہی قید میں نہ ہوتے تو کیا عجب قاف لیگ کی قیادت وہ کرتے۔ اسکے ساتھ ہی اخبار نے یہ دلچسپ خبر بھی دی کہ مشاہد حسین کے فرزند ارجمند بھی کانفرنس میں ان کا ساتھ دینگے۔ یہاں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں اور کئی زاویے سامنے آتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ پیپلز پارٹی کے وفد میں جہانگیر بدر جیسے رہنماءبھی شامل ہیں‘ جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں‘ کوڑے کھائے لیکن پارٹی سے اپنی وفاداری پر کوئی داغ نہ لگنے دیا۔ صدر پاکستان‘ جہانگیر بدر کو بھی تو یہ حکم دے سکتے تھے کہ نوجوان رہنماءکی تربیت کا خیال رکھیں لیکن پھر یاد آیا کہ جہانگیر بدر میں جتنی خصوصیات بھی ہوں‘ ایک چیز کا تجربہ انہیں بالکل نہیں ہے اور وہ ہے وفاداریاں بدلنا۔ ظاہر ہے تربیت وہی کر سکتا ہے جس کا تجربہ زیادہ ہو گا اور تجربہ اس کا زیادہ ہو گا جس نے ”مختلف“ حالات میں کام کیا ہو گا۔ پہلے نوازشریف کے ساتھ‘ پھر پرویز مشرف کے ساتھ اور پھر آصف علی زرداری کے ساتھ۔ یہاں ایک سوال یہ بھی ذہن میں اٹھتا ہے کہ کیا قاف لیگ کے نوخیز سیاسی رہنماﺅں کی تربیت کا کام بھی بزرگوں نے شاہ صاحب ہی کے سپرد کیا تھا؟ اس موضوع پر بھی ہم خواہش کے باوصف زیادہ نہیں لکھ رہے کیونکہ سرطان کی جڑ اور ہے اور ہم اس کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ &lt;br /&gt;یہ 29 اگست کا واقعہ ہے‘ یعنی آج سے آٹھ دن پہلے کا۔ دارالحکومت کے ہوائی اڈے سے قومی ایئرلائن کی پرواز دن کے تین بجے کراچی کیلئے روانہ ہونا تھی‘ ساری تیاری مکمل تھی‘ بریفنگ ہو چکی تھی کہ جہاز کے عملے کو ایک وفاقی وزیر کے عملے کا حکم پہنچا کہ جب تک وزیر موصوف نہیں پہنچتے‘ پرواز کو روانہ نہ کیا جائے۔ اسکے ساتھ دوسرا حکم یہ تھا کہ تاخیر کا سبب سیکورٹی کا مسئلہ قرار دیا جائے‘ طیارہ رکا رہا‘ مسافر انتظار کرتے رہے‘ یہاں تک کہ وزیر صاحب پہنچے اور جہاز تین بجے کے بجائے ساڑھے تین بجے روانہ ہوا۔&lt;br /&gt;یہ ہے وہ اصل سرطان جو اس ملک کو چاٹ رہا ہے اور سرطان پھیلانے والے وہ لوگ ہیں‘ جو کندھے اچکا کر کہہ دیتے ہیں کہ کوئی بات نہیں۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔ یہ مسئلہ اس لئے بڑا ہے کہ اس سے ذہنی سطح کا‘ سوچ کا اور مائنڈ سیٹ کا پتہ چلتا ہے۔ اہل پاکستان کو جو چند بڑی بیماریاں لاحق ہیں‘ ان میں سے ایک بڑی بیماری یہی ہے۔ آپ نے بہت دفعہ دیکھا ہو گا کہ جہاں بھی ٹریفک کا حادثہ ہو‘ آناً فاناً لوگ جمع ہو جاتے ہیں اور جس کی غلطی ہو‘ فوراً اس کا دفاع شروع کر دیتے ہیں۔ سب سے بڑی دلیل یہی ہوتی ہے کہ کوئی بات نہیں‘ ایسا ہو جاتا ہے۔ آپ کسی ترقی یافتہ ملک میں جا کر دیکھیں‘ چھوٹی سے چھوٹی قانون شکنی کا دفاع بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صرف یہاں ہوتا ہے‘ ہمارے ایک دوست کے بھائی کو ڈاکٹر نے پرانی دوائیں دیں‘ اس کا انتقال ہو گیا‘ ڈاکٹر کی ایک ہی دلیل تھی کہ تقدیر میں یہی لکھا تھا۔ پورا محلہ غم زدہ خاندان کو سمجھانے آگیا کہ مقدمہ نہ کریں۔ تقدیر میں یہی لکھا تھا۔ اگر ڈاکٹر صاحب کو ہر جانے میں ایک کروڑ روپیہ دینا پڑتا تو پاکستان میں کوئی ڈاکٹر اگلے دس سال تک اتنی ظالمانہ لاپروائی نہ کرتا۔ یہ رویہ جب منتخب اداروں اور سرکاری محلات میں پہنچتا ہے تو اس کا نقصان بھی اسی حساب سے کئی گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ سفارش سے حقداروں کی حق تلفی ہوتی ہے لیکن وزیر یا ایم این اے کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ کوئی بات نہیں۔ آخر ہم نے ووٹروں کو جواب دینا ہوتا ہے اور یہ کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ &lt;br /&gt;دنیا کے کسی مہذب ملک میں وزیر تو کیا‘ وزیراعظم یا صدر کیلئے بھی پرواز کو لیٹ نہیں کیا جاتا۔ ایک منٹ کی تاخیر بھی ناممکن ہوتی ہے‘ اگر ایسا کیا جائے تو ایئرلائن ہر مسافر کو لاکھوں روپے کا ہرجانہ دیتی ہے‘ عدالتیں ایسے معاملات میں ملزم کمپنیوں کا جینا محال کردیتی ہیں‘ پی آئی اے یوں بھی ایک بیمار کمپنی ہے‘ جو ملک کی معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہے۔ کھانے سے لے کر مسافروں کےساتھ برتاﺅ تک‘ ہر معاملے میں اسکی کارکردگی صفر ہے۔ یہ ان چند بدقسمت اداروں میں سے ہے‘ جس میں بھرتیاں ہمیشہ سیاسی بنیادوں پر ہوتی رہیں‘ اسکی فضائی میزبانوں کو دیکھ کر خالائیں اور دادیاں یاد آتی ہیں اور دوسرے عملے کو دیکھ کر خدا یاد آتا ہے۔ کتنی بڑی بدبختی ہے کہ خود پاکستانی پی آئی اے سے گریز کرتے ہیں‘ اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہر جہاز تاخیر سے روانہ ہوتا ہے اور اگلی منزل پر مربوط (Connected) پرواز چھوٹ جاتی ہے۔ &lt;br /&gt;پی آئی اے نے اگر اپنے آپ کو اس شرمناک اور عبرتناک صورتحال سے نکالنا ہے تو آغاز اسی واقعہ سے کرے اور وزیر صاحب کے عملے کا فون سن کر جن لوگوں نے پرواز کو موخر کیا‘ انہیں نشانِ عبرت بنائے ورنہ یہ کہنا بے محل نہ ہو گا کہ یہ نام نہاد قومی ایئرلائن ہماری پست سوچ کا نشان ہے۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-5035331355661626?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/5035331355661626/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/09/blog-post.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/5035331355661626'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/5035331355661626'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/09/blog-post.html' title='مائینڈ سیٹ'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-2407719800251627862</id><published>2011-08-30T14:51:00.000+05:00</published><updated>2011-08-30T14:51:17.624+05:00</updated><title type='text'>سفید چادرِ غم تھی</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div closure_uid_3u2au6="94" dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_3u2au6="122" style="font-size: x-large;"&gt;میں ہملٹن کے جزیرے میں ہوں۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_3u2au6="94" dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_3u2au6="122" style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;میلبورن سے اڑھائی ہزار کلو میٹر شمال کی طرف--- تین میل لمبا اور دو میل چوڑا یہ جزیرہ صرف اور صرف سیاحت کےلئے ہے اور گنتی کے چند لوگ یہاں مستقل رہائش پذیر ہیں۔ جزیروں کی ایک قطار ہے جو سمندر میں دور تک نظر آتی ہے۔ بادل نیلے پانیوں کو چُھو رہے ہیں اور جزیرے کی شفاف سڑکوں پر اُڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ آلودگی سے بچنے کےلئے کاریں چلانے کی اجازت نہیں۔ بجلی سے چلنے والی بگھیاں ہیں جو سیاح خود چلاتے ہیں۔ صفائی کا یہ عالم ہے کہ تنکا بھی کہیں نظر نہیں آتا۔ تنظیم، قانون کی حکمرانی اور شہریت کا شعور۔ ان&amp;nbsp; تین چیزوں نے اس جزیرے کو جنت کا ٹکڑا بنا رکھا ہے۔ دنیا بھر سے سیاح آ رہے ہیں۔ آسٹریلیا اربوں ڈالر کا سالانہ زرمبادلہ کما رہا ہے۔ جزیرے میں کوئی پولیس کا افسر، کوئی فوجی، کوئی داروغہ نہیں دکھائی دیتا۔ گورنر ہاوس ہے نہ وزیراعظم کےلئے کوئی مخصوص رہائش، نہ کسی کےلئے کوئی مفت کھاتہ ہے نہ کوئی وی آئی پی ہے اور سچ پوچھئے تو ہر شخص وی آئی پی ہے۔ دُھند، ساحل کی ریت، شفاف نیلگوں پانی، دلرُبا ہَوائیں، سکیورٹی اور دھیما پن، اس قدر کہ کسی شخص کا چیخنا تو درکنار، بلند آواز سے بات بھی کوئی &amp;nbsp;نہیں کرتا۔ احمد ندیم قاسمی نے شاید کسی ایسے ہی جزیرے کےلئے کہا تھا &lt;br /&gt;اتنا مانوس ہوں سناٹے سے &lt;br /&gt;کوئی بولے تو بُرا لگتا ہے &lt;br /&gt;میں بندرگاہ کی طرف جا نکلتا ہوں۔ دخانی کشتیوں کے جھنڈ کے جھنڈ کھڑے ہیں۔ پوری دنیا کے سیاح جمع ہیں۔ میں ایک ریستوران میں کافی کا ایک کپ لے کر بیٹھتا ہوں۔ رش اس قدر ہے کہ خالی میز کوئی نہیں،&amp;nbsp; سامنے والی کرسی پر ایک نوجوان رنگ اور چہرے کے نقوش سے پاکستانی یا ہندوستانی لگتا ہے۔ میں اس سے گفتگو شروع کر دیتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ وہ کہاں کا ہے؟ وہ بتاتا ہے کہ سنگاپور کا ہے۔ اگر وہ چینی ہوتا تو میں اس کے جواب سے مطمئن ہو جاتا لیکن میں اب اُس کی ”اصل“ دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ مخصوص پاکستانی سٹائل کا سوال۔ ”پیچھے سے کہاں کے ہیں؟“ اب کے اس نے جواب دیا کہ وہ پیچھے سے بھی سنگاپور کا ہے۔ میرے چہرے پر عدم اطمینان کا اضطراب دیکھ کر اُس نے مہربانی کی اور یہ خبر بہم پہنچائی کہ اُس کے ماں باپ نے مدراس (موجودہ چنائی) سے اُس وقت سنگاپور کو ہجرت کی تھی جب وہ پرائمری سکول میں پڑھتا تھا، لیکن&amp;nbsp; اس نے ایک بار پھر کہا”میں سنگاپور کا ہوں۔ میرا ہندوستان سے کوئی تعلق نہیں۔“ &lt;br /&gt;یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، مجھے بنگلہ دیش اور بھارت کے کئی لوگ ملے جو اپنے آپ کو سنگاپور یا فجی کے شہری کہتے ہیں اور تو اور ملائشیا میں بسنے والے چینی بھی اپنے آپ کو ملائشین کہتے ہیں! آج تک کوئی ایک چینی مجھے ایسا نہیں ملا جس نے اپنے آپ کو ہانگ کانگ کا یا بیجنگ کا یا شنگھائی کا کہا ہو۔ ملائشیا ہی ان کا وطن ہے۔ &lt;br /&gt;اسکے مقابلے میں آپ کراچی کے باشندوں کا جائزہ لیجئے، سالہا سال سے کراچی میں رہ رہے ہیں۔ پانی کراچی کا پی رہے ہیں، ہَوا کراچی کے ساحلوں کی ہے جس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، دھوپ کراچی کے سورج کی ہے جو ان کےلئے زندگی کا سامان بہم پہنچا رہی ہے لیکن ان میں سے کوئی اپنے آپ کو کراچی کا نہیں کہتا۔ کوئی پٹھان ہے، کوئی ہزارے کا ہے، کوئی مہاجر ہے اور کوئی شکارپور سے تعلق رکھتا ہے، چند دن پہلے ایک کالم نگار دوست کی تحریر نظر سے گزری کہ وہ ”شاہی سیّد“ سے ملنے ”مردان ہاوس“ پہنچے۔“ مردان ہاوس یا لاہور ہاوس نام رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اگر ہمیں مردان یا لاہور اتنے ہی عزیز ہیں تو ہم مردان یا لاہور ہی میں کیوں نہیں رہتے؟ ہم اپنے آپ کو کراچی ہی کا کیوں نہیں کہتے؟ فیس بُک پر ایک خاتون کا تعارف یوں تھا : پیدائش کراچی، تعلیم کراچی، تعلق (FROM) حیدر آباد، آندھرا پردیش! بندہ پوچھے&amp;nbsp; بی بی آپ نے آندھرا پردیش تو دیکھا ہی نہیں، اُس سے آپ کا کیا تعلق؟&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_3u2au6="94" dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_3u2au6="122" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;کراچی کے مسئلے کا حل فوج ہے نہ رینجرز، یہ سب عارضی حل ہیں۔ یہ ڈسپرین سے بخار کو چند گھنٹوں کےلئے دبانے والی بات ہے۔ اصل علاج اینٹی بیاٹک ہے اور وہ یہ کہ کوئی مردان کا ہو نہ آندھرا پردیش کا، مانسہرے کا ہو نہ اٹک کا، شکار پور کا ہو نہ لاڑکانے کا نہ لاہور کا، سب کراچی کے ہوں۔ اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے کہ اے این پی میں سارے پٹھان ہیں اور ایم کیو ایم میں سارے لوگ ایک اور لسانی پس منظر سے ہیں! کراچی کو ایسی سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے جو لسانی اور علاقائی حوالوں سے اپنا تعارف نہ کرائیں۔ ایسی سیاسی جماعتوںکی ضرورت ہے جن میں ساری زبانوں اور ساری قومیتوں کے لوگ شامل ہوں۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span closure_uid_3u2au6="122" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div closure_uid_3u2au6="94" dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;ایک بار پھر سنگاپور کا ذکر کرنا پڑ رہا ہے۔ اِس کالم نگار نے کئی سال پہلے تجویز پیش کی تھی کہ کراچی کے ہر محلے اور ہر حصے میں ملی جُلی زبانوں اور نسلوں کے لوگ رہائش رکھیں۔ سنگاپور میں آج تک نسلی فسادات نہیں ہوئے اسکی وجوہ بہت سی ہیں لیکن ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ شہر کے ہر حصے میں یہاں تک کہ ہر بلاک میں مختلف نسلوں کی رہائش لازم ہے۔ آپ بھارتی تامل ہیں تو آپ کا پڑوسی بھارتی تامل نہیں ہو سکتا۔ وہ چینی ہو گا یا ملائے، یہ قانونی تقاضا ہے اور اسکی خلاف ورزی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔&lt;br /&gt;چنانچہ سنگا پور میں کوئی علاقہ ایسا نہیں جو چینیوں کا ہو یا تامل کا یا ملائے کا! کوالالمپور کی مثال لے لیجئے، 1969ءمیں وہاں چینیوں اور مقامی باشندوں (ملائے) کے درمیان نسلی فسادات ہوئے۔ ملائشیا کی سیاسی قیادت سرجوڑ کر بیٹھی، قیادت میں اتنا وژن تھا اور ایسی صلاحیت تھی کہ اُس نے اپنے فیصلوں سے ملک کی قسمت بدل ڈالی۔ بیالیس سال ہو گئے ہیں کہ نسلی فسادات کا شائبہ تک نہیں گزرا۔ صرف دو فیصلے دیکھئے۔ چینیوں اور ملائے کے درمیان باہمی شادیاں رچانے کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کی گئی۔ مالی فائدے پہنچائے گئے اور یوں دونوں نسلیں ایک دوسرے میں ضم ہوتی جا رہی ہیں۔ دوسرا فیصلہ یہ تھا کہ چینی کارخانہ دار، مقامی لیبر کے لئے منافع میں حصہ رکھیں گے۔ &lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_3u2au6="94" dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;غالباً اصلی اور بڑا پاکستانی وہ ہوتا ہے جو دوسروں کی تاریخ سے تو کیا، اپنی تاریخ سے بھی کوئی سبق نہ سیکھے۔ مشرقی پاکستان میں یہ ہولناک غلطی کی گئی کہ اردو بولنے والے اصحاب مقامی آبادیوں میں گھل مل کر رہائش پذیر نہ ہو سکے۔ محمد پور اور میرپور کے نام سے الگ بستیاں بسائی گئیں۔ جب فسادات ہوئے تو ان الگ بستیوں کو تباہ و برباد کرنا بہت آسان ثابت ہوا! اب یہ غلطی کراچی میں دہرائی جا رہی ہے۔ سہراب گوٹھ فلاں کا ہے، کٹی پہاڑی فلاں کی ہے اور ناظم آباد فلاں کا ہے۔ کراچی کے حکام میں وژن ہوتا تو لیاری کے باشندوں کی مالی مدد کر کے انہیں پورے شہر میں پھیلا دیتے۔ یوں لیاری پر ایک مخصوص چھاپ نہ رہتی، لیکن جو قیادتیں لوٹ کھسوٹ اور اقربا پروری کے علاوہ کوئی اور ایجنڈا نہ رکھتی ہونے، اُن سے کس وژن کی توقع رکھی جا سکتی ہے؟ آج کراچی کا ہر مظلوم باشندہ زبانِ حال سے دعا مانگ رہا ہے کہ &lt;br /&gt;اِن ظالموں پہ؛پ۰قہرِ الٰہی کی شکل میں &lt;br /&gt;نمرود سا بھی خانہ خراب آئے تو ہے کم &lt;br /&gt;نمرود کی شکل میں آئے یا کسی اور صورت میں۔ قہرِ الٰہی نے آنا ہے اور ضرور آنا ہے۔ کراچی سے اربوں کھربوں کے حساب سے سرمایہ باہر منتقل ہو رہا ہے۔ کاروبار کرنےوالے ملائشیا اور کینیڈا کو ہجرت کر رہے ہیں اور ملک کے وزیراعظم کا ارشاد ہے کہ میں تو اتنے سال سے کراچی میں لاشیں گرتی دیکھ رہا ہوں! !&lt;br /&gt;ہملٹن کے جزیرے پر بادل اُتر آئے ہیں۔ سمندر دھند میں گم ہو گیا ہے۔ کشتیوں کے سفید بادبان برآمدے کے سامنے سے گزر رہے ہیں۔ میری بیوی مصرع پڑھتی ہے.... ع&lt;br /&gt;سفید صبح کو منظر وہ بادبانوں کا &lt;br /&gt;اور پوچھتی ہے ”تمہارے اس شعر کا پہلا مصرع کیا ہے؟ “ &lt;br /&gt;لیکن میں تو ہملٹن کے ساحل پر بیٹھا کراچی کیلئے رو رہا ہوں اور دور سے۔ بہت دور سے۔ پہلا مصرع پڑھ کر اور زور سے رونے لگتا ہوں.... ع &lt;br /&gt;سفید چادرِ غم تھی۔ سفید طائر تھے! &lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-2407719800251627862?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/2407719800251627862/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/08/blog-post_30.html#comment-form' title='1 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2407719800251627862'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2407719800251627862'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/08/blog-post_30.html' title='سفید چادرِ غم تھی'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>1</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-6496702423007140988</id><published>2011-08-23T13:42:00.000+05:00</published><updated>2011-08-23T13:42:52.399+05:00</updated><title type='text'>مگر مچھ</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_iayhx3="123" style="font-size: x-large;"&gt;سامنے جھیل تھی درختوں میں گھری ہوئی۔ جھیل کے پار آسٹریلیا کی پارلیمنٹ کی عمارت تھی جس پر اس 223 سالہ پرانے ملک کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ بائیں طرف قومی لائبریری تھی۔ لائبریری کے بالکل ساتھ جھیل کے کنارے ارغوانی رنگ کے پیڑوں کی قطار تھی۔ منظر ایسا تھا کہ بس جان نکال کر ہتھیلی پر رکھ دیتا تھا۔ دارالحکومت کینبرا میں پہلی بار آمد پر جس اپارٹمنٹ میں ٹھہرا ہوا تھا، یہ جاں فزا منظر اُس کی کھڑکیوں سے نظر آ رہا تھا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_iayhx3="133" dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_iayhx3="123" style="font-size: x-large;"&gt;کینبرا کےلئے جگہ کا انتخاب 1908ءمیں ہو گیا تھا۔ تعمیر کا کام 1913ءمیں شروع ہوا۔ پارلیمنٹ 1927ءمیں ”عارضی“ عمارت میں منتقل ہو گئی لیکن اسکے بعد ساٹھ سال تک کام ہوتا رہا۔ موجودہ پارلیمنٹ کی عمارت 1988ءمیں آباد ہوئی۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_iayhx3="133" dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_iayhx3="123" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;کینبرا کے دوستوں نے جب پوچھا کہ پارلیمنٹ ہاﺅس کس وقت جانا پسند کرو گے تو جیسے میری چیخ ہی تو نکل گئی۔ کہاں میں اور کہاں آسٹریلیا کی پارلیمنٹ! مجھے اپنے ملک کی پارلیمنٹ کی عمارت یاد آ گئی۔ اُسکے اندر جانا تو دور کی بات ہے، تین تین میل تک پولیس یوں پھیلی ہوئی ہوتی ہے جیسے ایٹمی اثاثے یہیں رکھے ہیں۔ اس علاقے میں پائے جانےوالے پاکستانیوں کے گُردے، انتڑیاں، پھیپھڑے، جگر اور تلی باہر نکال کر خردبین سے دیکھے جاتے ہیں اور پھر انہیں آگے جانے کی اجازت دےکر یوں احسان جتانے کا تاثر دیا جاتا ہے جیسے گرین کارڈ دیا گیا ہے! اس پس منظر میں جب میں آسٹریلیا کی پارلیمنٹ کے اندر جانے کے خیال پر پہلے ہنسا اور پھر رویا تو دوست اصل معاملہ سمجھ گئے۔ انہوں نے تسلی دی کہ نہیں! ان بے وقوفوں نے ہر شخص کےلئے پارلیمنٹ کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ &lt;br /&gt;پولیس تھی نہ رکاوٹیں، پہریدار تھے نہ تلاشیاں۔ صرف صدر دروازے پر سکینر لگا تھا جس میں سے عام ملاقاتی کو بھی گزرنا پڑ رہا تھا اور دونوں ایوانوں (بالا اور زیریں) کے ارکان کو بھی! مجھے بتایا گیا کہ کچھ عرصہ قبل ایک پاکستانی ایم این اے تشریف لائے تو انہوں نے سکینر سے گزرنے سے انکار کر دیا۔ اُن کا اصرار تھا کہ مجھے اس ”بے عزتی“ سے بچایا جائے لیکن جس قانون سے خود آسٹریلیا کے ارکان پارلیمنٹ کو استثنا نہیں تھا، اُس سے ہمارے ایم این اے کو کیسے مستثنٰی کیا جاتا؟&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_iayhx3="133" dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_iayhx3="123" style="font-size: x-large;"&gt;طلبہ کے گروہوں کے گروہ آ رہے تھے۔ معلوم ہئوا کہ یہ روز کا معمول ہے۔پارلیمنٹ کی کارروائی کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔ میں پارلیمنٹ کے وسیع و عریض برآمدوں میں گھوم رہا تھا۔ دیواروں پر&amp;nbsp; تصویروں کے ذریعے پوری تاریخ دکھائی گئی تھی۔ معلومات عام فہم انداز میں درج تھیں۔&amp;nbsp; سیاحوں کے غول آرہے تھے اور جا رہے تھے۔ کیفے میں رش تھا۔ جب میں سینیٹ ہال دیکھ کر دوسری طرف نکلا تو تب میں نے وہ چیز دیکھی جس نے مجھے سکتے کی کیفیت کی ڈال دیا۔&lt;br /&gt;برآمدوں کے درمیان ، ایک بہت ہی نمایاں مقام پر، ایک چوڑے ستون پر، بائبل کی تصویر تھی۔ اور اس پر لکھا ہوا تھا THE BOOK THAT CHANGED THE WORLD یعنی یہ ہے وہ کتاب.... جس نے دنیا کو تبدیل کر دیا!&lt;br /&gt;میں نے دیکھا اور دیکھتا رہ گیا.... کیا اس سے زیادہ خلاف واقعہ.... اس سے زیادہ غلط.... بات لکھی جا سکتی ہے؟ نہیں! بائبل! بائبل کے کسی ایک نسخے پر تو آج تک اتفاق ہی نہیں ہو سکا۔ تاریخ میں کوئی ایک انسان بھی ایسا نہیں گزرا جسے بائبل حفظ ہو۔ اور پھر بائبل نے کون سی دنیا کو تبدیل کیا ہے؟ کون سے قوانین دئیے ہیں؟ کیا اس میں معاشرت کے طریقے سکھائے گئے ہیں یا حکومت کرنے کے اسالیب موجود ہیں؟ میں مسلسل ستون کی طرف دیکھ رہا تھا۔&amp;nbsp; میں ایک صدمے سے گزر رہا تھا۔ اچانک میرے کاندھے پر ایک نرم ہاتھ آ لگا اور پھر لگا رہ گیا۔ میں نے دائیں طرف دیکھا۔ یہ گوری رنگت کا ادھیڑ عمر&amp;nbsp; آسٹریلوی تھا۔ کھچڑی بال، نیلا سوٹ، سفید سلک کی قمیض پر دھاری دار نکٹائی۔ &lt;br /&gt;”میں تمہیں بہت دیر سے دیکھ رہا ہوں، تم تناﺅ کی کیفیت میں ہو۔ مجھے معلوم ہے تمہیں کس بات سے دھچکا لگا ہے؟“&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_iayhx3="133" dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_iayhx3="123" style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;میں خاموش تھا! میں کیا کہتا! اُس کا ہاتھ بدستور میرے کاندھے پر تھا! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_iayhx3="133" dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_iayhx3="123" style="font-size: x-large;"&gt;”کیا تم کیفے تک چل کر میرے ساتھ کافی کی ایک پیالی پی سکتے ہو؟“&lt;br /&gt;میں چل پڑا۔ اُس نے اپنا ہاتھ میرے کاندھے سے نہ ہٹایا۔ کیفے میں پہنچ کر اُس نے مجھے ایک ٹیبل پر بٹھایا۔ اور خود قطار میں کھڑے ہو کر کافی کے دو کپ لے آیا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_iayhx3="133" dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_iayhx3="123" style="font-size: x-large;"&gt;”میں فلاں یونیورسٹی میں تاریخ کا استاد ہوں۔ پروفیسری کرتے بیس سال ہو گئے ہیں۔ ان بیس سالوں میں سے پندرہ سال میں نے صرف مسلمانوں کی تاریخ پڑھائی ہے۔ یہ مسلمانوں کی وہی تاریخ ہے جسے تم اسلامی تاریخ کہتے ہو۔ خیر‘ یہ ایک اور موضوع ہے۔ اس وقت تو ہم وہ باتیں کریں گے جن سے تم تناﺅ کی اس شدید کیفیت سے باہر آ سکو۔ &lt;br /&gt;”بائبل نے کونسی دنیا....&lt;br /&gt;اُس نے میرا فقرہ پورا ہی نہ ہونے دیا۔ &lt;br /&gt;”تم درست کہتے ہو۔ بائبل کے کسی ایک نسخے پر آج تک اتفاق نہیں ہو سکا۔ دوسری طرف تمہاری مقدس کتاب قرآن ایک ناقابل تردید معجزہ ہے۔ وہ جو ہیوسٹن میں قرآن پڑھ رہا ہے اور وہ جو فجی میں اور وہ جو ناروے میں اور وہ جو جنوبی افریقہ میں پڑھ رہا ہے، ان سب کے ایک لفظ میں زیر زبر پیش تک کا فرق نہیں ہے۔ دنیا کو تبدیل کرنے میں جو کردار قرآن کا ہے، بائبل اس کا دسواں حصہ بھی نہیں ادا کر سکی۔ یہ ساری باتیں درست ہیں لیکن اس ستون پر پھر بھی بائبل ہی کی تصویر ہو گی!&lt;br /&gt;”کیوں؟“ میں نے جارحانہ لہجے میں پوچھا۔&lt;br /&gt;”اس لئے کہ دنیا کا ایک اصول ہے۔ وہ یہ کہ ثقافت اُس کی چلے گی جس کا زور ہو گا! جب تمہارا زور تھا تو ملٹن کی تصنیف سے لےکر سسلی کے باغات تک.... تمہارے ادب اور تمہارے کلچر کی ہر جگہ اور ہر شے پر چھاپ تھی۔ اور اب جس مغرب کا زور ہے بائبل اُس کی ثقافت ہے اور یہی ثقافت نمایاں ہو گی! تم غصہ تو کر سکتے ہو، حقائق بھی تمہارے ساتھ ہیں لیکن دنیا میں تہی دست کو کبھی کچھ نہیں ملا۔ &lt;br /&gt;اب تم پوچھو گے کہ مغرب کا&amp;nbsp; زور کیوں&amp;nbsp;ہے؟ اسکی وجہ بہت آسان ہے۔ دنیا میں زور اور طاقت اُسکے پاس ہو گی جو قرآن پر عمل کرےگا۔ مغرب کو اس حقیقت کا علم ہو گیا۔ افسوس! تم مسلمانوں کو اس حقیقت کا پتہ نہ چل سکا۔ تم خود دیکھ لو.... قرآن میں لکھا ہے، جھوٹ نہ بولو۔ ہم اہل مغرب جھوٹ نہیں بولتے۔ ہمارے دکاندار، ہمارے بچے، ہمارے ٹیکس دینے اور لینے والے، ہمارے کارخانہ دار، ہمارے زمیندار۔ کوئی بھی جھوٹ نہیں بولتا۔ تمہارے ہاں صبح سے شام تک سب جھوٹ بولتے ہیں۔ قرآن میں لکھا ہے کہ وعدہ ایفا کرو۔ ہم اس پر عمل کرتے ہیں تم نہیں کرتے۔ قرآن میں لکھا ہے ماپ تول میں کمی نہ کرو۔ تم کرتے ہو ہم نہیں کرتے۔ قرآن میں علم پر اور تسخیرِ کائنات پر زور دیا گیا&amp;nbsp; ہے۔ ہمارا ہر مرد اور ہر عورت خواندہ ہے۔ اور تسخیرِ کائنات &amp;nbsp;کےلئے یونیورسٹیوں میں رات دن پڑھائی اور تحقیق ہو رہی ہے۔ تمہارے رسول نے کہا تھا کہ علم سیکھنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے لیکن تمہارے ہاں خواندگی بیس فیصد سے زیادہ نہیں۔ تمہاری یونیورسٹیاں بدعنوانی سفارش اور سیاست کے غلیظ گڑھ ہیں‘ ہماری یونیورسٹیوں میں چار چار سو سال سے داخلے اور امتحانوں کی مقررہ تاریخوں میں تبدیلی نہیں ہوئی۔ تمہارے قرآن میں ہے کہ مشورے سے حکومت کرو۔ ہم نے اسکی روشنی میں ایسا نظام بنایا ہے کہ ہمارے صدر اور وزرائے اعظم پارلیمنٹ کے سامنے اور ہماری پارلیمنٹ عوام کے سامنے بے بس ہے۔ تمہارے اٹھاون ملکوں میں سے تین کو چھوڑ کر ہر جگہ آمریت اور بادشاہت ہے۔ تمہارے خلیفئہ راشد نے عوام سے کہا تھا کہ میں غلط چلوں تو مجھے سیدھا رکھو۔ خدا کی قسم! ہماری حکومتیں غلط چلیں تو ہم انہیں تکلے کی طرح سیدھا کر دیتے ہیں۔ ہمارے&amp;nbsp;حکمران ایک پائی کی بددیانتی نہیں کر سکتے اور کریں تو بچ نہیں سکتے۔ قرآن میں .... لکھا ہے کہ امانتیں ان کو دو جو اہل ہیں۔ لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ ملازمتیں۔ جو سب سے بڑی امانت ہیں۔ چودھریوں شریفوں گیلانیوں اور قائم شاہوں کی سفارش سے ملتی ہیں اور امین فہیم کی صاحبزادی کو بغیر کسی امتحان کے فارن سروس میں تعینات کیا جاتا ہے۔&amp;nbsp; ہمارے ہاں&amp;nbsp; کوئی چوہدری ہے نہ امین فہیم۔ اسی لیے تو مسلمان ملکوں سے&amp;nbsp; ہزاروں لاکھوں&amp;nbsp; اعلا تعلیم یافتہ لوگ آ کر ان ملکوں میں با عزت &amp;nbsp;روزگار حاصل کر رہے ہیں۔ قرآن میں لکھا ہے کہ کوئی مالک ہے نہ غلام۔ صرف&amp;nbsp; نیکی&amp;nbsp; بڑا یا چھوٹا ہونے کا معیار ہے۔ لیکن&amp;nbsp;تمہارے ہاں بلوچستان میں آج 2011ءمیں بھی چھ بڑے نواب ہیں جن کے سامنے بلوچستان کا ہر باشندہ غلام سے بھی کم تر حیثیت کا مالک ہے۔ تم کاریں اور ٹی وی، کمپیوٹر اور موبائل فون، جہاز اور آبدوزیں، ٹرینیں اور لائف سیونگ ادویات۔ ہر چیز ہماری ایجاد کردہ استعمال کر رہے ہو، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ثقافت تمہاری نمایاں ہو؟ &lt;br /&gt;جس دن تم قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر سچائی دیانت اور علم کو اپنا لو گے تو پھر اس ستون پر بھی تمہاری مرضی کی تصویر لگ جائےگی لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ تم جھوٹ اور خیانت میں ڈوبی ہوئی زندگی گزارو، تمہارے دراز ریش&amp;nbsp;تاجر ٹیکس چوری کریں اور ملاوٹ کریں، تمہارے رہنما سرمایہ کاری کےلئے ہمارے ملکوں کو ترجیح دیں، تمہارے علما مذہب کو سیڑھی کے طور پر استعمال کریں، تمہاری یونیورسٹیاں سیاسی بونوں کا گڑھ ہوں اور اساتذہ کو وہاں باقاعدہ پیٹا جائے، خلافت کا نعرہ وہ لوگ لگائیں جو اپنی چھوٹی چھوٹی تنظیموں میں بھی اپنی اولاد ہی کو اپنا جانشین بنائیں اور منتخب ایوانوں میں اپنی غیر منتخب بیٹیوں ہی کو بھیجیں، تمہارے ہاں دنیا کا قدیم ترین فیوڈل اور سرداری نظام ہو۔ اور یہ سب کچھ کرتے ہوئے۔ تم قرآن کےلئے آنسو بھی بہاﺅ۔ معاف کرنا۔ یہ مگرمچھ کے آنسو تو ہو سکتے ہیں، درد کے آنسو نہیں ہو سکتے! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-6496702423007140988?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/6496702423007140988/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/08/blog-post_23.html#comment-form' title='7 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/6496702423007140988'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/6496702423007140988'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/08/blog-post_23.html' title='مگر مچھ'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>7</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-1371604150843666483</id><published>2011-08-16T14:52:00.003+05:00</published><updated>2011-08-17T15:02:49.718+05:00</updated><title type='text'>گھوڑے کی کھال</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div dir="rtl" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_imlp3w="112" closure_uid_spey1q="103" style="font-size: x-large;"&gt;آخر آپ اسے کیا کہیں گے؟&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span closure_uid_imlp3w="112" closure_uid_spey1q="103" style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;ناشائستگی ؟&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span closure_uid_imlp3w="112" closure_uid_spey1q="103" style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;ایک خاص مائنڈ سیٹ؟&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span closure_uid_imlp3w="112" closure_uid_spey1q="103" style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;ایک خاص ذہنی سطح ؟&amp;nbsp;وہی ذہنی سطح جو پٹواری اور تھانیدار سے اوپر نہیں اُٹھ سکتی&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span closure_uid_imlp3w="112" closure_uid_spey1q="103" style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;یا کوئی اور الفاظ جو اسے بیان کر سکیں؟&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span closure_uid_imlp3w="112" closure_uid_spey1q="103" style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;آخر آپ اسے کیا کہیں گے؟ جو کچھ قومی اسمبلی میں ہو رہا تھا اور جس طرح رحمن ملک نے بھرے ایوان میں وزیراعظم کو ٹوکا اور منع کیا، اُس سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span closure_uid_imlp3w="112" closure_uid_spey1q="103" style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;خدا کی قسم! کوئی تعلیم یافتہ شخص، کوئی سنجیدہ اور متین پاکستانی، اُن لوگوں سے متاثر نہیں ہو سکتا جو منتخب ایوانوں میں بیٹھے ہیں، مستثنیات کی بات دوسری ہے لیکن وہ بہت کم ہیں، بہت ہی کم۔ کوئی سنجیدہ اور متین پاکستانی ان لوگوں سے متاثر کیا ہو گا، وہ انکے نزدیک سے بھی گزرنا پسند نہیں کرےگا۔ جو کچھ رحمن ملک نے وزیراعظم سے کہا، اُس سے یہ حقیقت دوپہر کے سورج کی طرح واضح ہو گئی ہے کہ یہ لوگ بہت ہی افسوسناک ذہنی سطح کے مالک ہیں!&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span closure_uid_imlp3w="112" closure_uid_spey1q="103" style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;یہ چار دن پہلے کا واقعہ ہے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا۔ وزیر داخلہ رحمن ملک کراچی کی صورتحال پر تقریر کر رہے تھے۔ اس قصے کو فی الحال رہنے دیجئے کہ رحمن ملک کس قسم کے وزیر ہیں۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ زیر بحث کراچی کی صورتحال تھی ۔ الم ناک اور خون کے آنسو رُلانے والی صورتحال! اور اس تقریر کے دوران ارکان اسمبلی کی اس موضوع میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ اپنی فائلوں، درخواستوں اور عرضیوں کو ہاتھوں میں پکڑے اپنی نشستوں سے اُٹھ کر، ایوان میں چل پھر کر وزیراعظم کے پاس جا رہے تھے تاکہ ان عرضیوں، ان درخواستوں اور ان سفارشی چٹھیوں پر وزیراعظم کے دستخط کرا سکیں یا اُنکے حوالے کر دیں۔ کوئی فائل اٹھائے وزیراعظم کی نشست کی طرف جا رہا تھا تو کوئی کاغذ پکڑے وہاں سے واپس آ رہا تھا۔ رحمن ملک نے کچھ دیر تو یہ صورتحال برداشت کی لیکن پھر وزیر داخلہ کو اپنے ہی وزیراعظم سے کہنا پڑا کہ ”آپ مجھے ڈسٹرب کر رہے ہیں، جب تک میری تقریر ختم نہیں ہوتی ایسا نہ کریں۔“ &lt;br /&gt;آپ کا کیا خیال ہے کہ انتہائی نازک اور دل کو بوجھل کر دینے والی کراچی کی صورتحال کیا اسی توجہ کی محتاج تھی؟ اور اگر ارکان اسمبلی کی ذہنی سطح ایسی نہیں ہے کہ صورتحال کا ادراک کر سکے تو کیا وزیراعظم کو بھی اپنے وزیر داخلہ کی تقریر میں کوئی دلچسپی نہیں تھی؟ اس سوال کا جواب آپ اپنے آپ سے پوچھیئے! &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span closure_uid_imlp3w="112" closure_uid_spey1q="103" style="font-size: x-large;"&gt;یہ کس قسم کے لوگ ہیں جو منتخب ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ہیں؟ کیا یہ تعلیم یافتہ ہیں؟ تعلیم کو بھی چھوڑئیے، کیا ان کی اکثریت دیانت دار ہے؟ اور کیا ان میں سے زیادہ تر شائستہ اور متین ہیں؟ تازہ ترین اطلاعات کےمطابق ان ارکان اسمبلی نے گذشتہ تین سال کے دوران 25کروڑ 26 لاکھ روپے کے ہوائی ٹکٹ استعمال کئے۔ قاعدے کی رُو سے استعمال شدہ ٹکٹ قومی اسمبلی کے دفتر میں جمع کرائے جانے تھے لیکن نہیں کرائے گئے۔ صرف پچھلے ایک سال کے دوران 33 لاکھ روپے کا کوئی حساب نہیں مل رہا۔ وزیر حضرات اپنے محکموں سے بھی سفر خرچ لے رہے ہیں اور قومی اسمبلی سے بھی ہوائی ٹکٹ لے رہے ہیں۔ اس سارے قصے میں سب سے زیادہ عبرت ناک بات یہ سامنے آئی ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ارکان بھی ہوائی ٹکٹ لیتے رہے ہیں! کیا آپکے ذخیرہء الفاظ میں ایسی لغت موجود ہے جسے آپ اس موقع پر استعمال کر سکیں یا ان حضرات کے اس رویہ کو بیان کرنے کےلئے الفاظ کم پڑ رہے ہیں؟ عابد علی عابد نے شاید کسی ایسے ہی موقع پر کہا تھا &lt;br /&gt;مری زباں پہ لغت بولتی ہے اور مجھے &lt;br /&gt;ملا نہ لفظ تری آنکھ کے فسوں کے لئے &lt;br /&gt;یہ وہ حضرات ہیں جن میں سے 53 کی ڈگریاں مشکوک پائی گئیں اور اگر صوبائی اسمبلیوں کو بھی شامل کریں تو ساڑھے پانچ سو سے زیادہ ارکان وہ ہیں جن کی ڈگریوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ان میں سے 61 فی صد وہ ”غربا“ اور ”مساکین“ ہیں جو انکم ٹیکس ہی نہیں ادا کر سکتے! اور یہ خبر تو سارے اخبارات میں چھپی تھی کہ فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے سینٹ کے امیدواروں سے پندرہ کروڑ روپے فی کس یا فی نشست وصول کئے تھے۔ دینے والوں کے نام بھی شائع ہوئے تھے اور لینے والوں کے بھی۔ اسی سال یعنی 2011ءکی فروری میں ایک شخص نے سپریم کورٹ میں ایک ایم این اے کےخلاف مقدمہ دائر کیا کہ ایم این اے نے ٹیلی ویژن پر تسلیم کیا ہے کہ سینٹ کے الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے عوض اُس نے رشوت وصول کی تھی!&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div closure_uid_imlp3w="116"&gt;&lt;span closure_uid_imlp3w="112" closure_uid_spey1q="103" style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;جب اتنے نہائے دھوئے ہوئے، صاف شفاف، افراد اسمبلیوں میں تشریف فرما ہونگے تو وہی ہو گا جو ہو رہا ہے، فاٹا (قبائلی علاقوں) کے سیکرٹریٹ کا افسر ان ارکان اسمبلی کو صاف کہتا ہے کہ میں خرچ ہونےوالی رقوم کا حساب نہیں دوں گا۔ جب ارکان اسمبلی اُسے کہتے ہیں کہ فاٹا میں جعلی ڈگریوں والوں کو ملازمت کےلئے بھرتی کیا گیا ہے تو افسر آگے سے جواب دیتا ہے کہ جعلی ڈگریاں تو ارکان اسمبلی کی بھی ہیں! فاٹا کا افسر اگر باذوق ہوتا تو جواب میں وہی کچھ کہتا جو مسولینی نے اپنے حریفوں سے کہا تھا بقول اقبال &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span closure_uid_imlp3w="112" closure_uid_spey1q="103" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div closure_uid_imlp3w="116"&gt;&lt;br /&gt;پردہء&amp;nbsp;&amp;nbsp; &amp;nbsp;تہذیب&amp;nbsp;&amp;nbsp; میں&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; غارت گری، آدم کُشی &lt;br /&gt;کل روا رکھی تھی تم نے، میں روا رکھتا ہوں آج &lt;br /&gt;یہ کتنی دلچسپ اور مضحکہ خیز صورتحال ہے کہ ہمارے ارکان اسمبلی کسی کو جعلی ڈگری کا طعنہ نہیں دے سکتے، انکم ٹیکس کے کسی چور کو نہیں کہہ سکتے کہ تم نے انکم ٹیکس نہیں ادا کیا، کسی کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم نے مالی معاملات میں خیانت کی ہے۔ سید عطااللہ شاہ بخاری نے اس مفہوم کی بات کی کہ کسی کی ماں بہن دیکھی تو اپنی ماں بہن یاد آ گئی، اس موقع پر شاہ صاحب نے غالب کا شعر پڑھا اور اپنی بات سے ایسی مناسبت پیدا کی کہ آج تک واہ واہ ہو رہی ہے &lt;br /&gt;ہم نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد &lt;br /&gt;سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا &lt;br /&gt;ہمارے ارکان اسمبلی کسی مجرم پر کیا سنگ اٹھائیں گے کہ مجرم کو بھی ارکان اسمبلی کے بارے میں سب کچھ معلوم ہے &lt;br /&gt;بھرم کھل جائے ظالم! تری قامت کی درازی کا &lt;br /&gt;اگر اس طرّہء&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &amp;nbsp;پُرپیچ و خم کا پیچ و خم نکلے &lt;br /&gt;یہ ارکان اسمبلی، کیا مرکزی اور کیا صوبائی، وہ بیج ہیں جو اہل پاکستان نے زمین میں ڈالے ہیں۔ گندم کے بیج سے گندم اور جو کے بیج سے جو پیدا ہوتے ہیں، یہ بیج جو اسمبلیوں میں ڈالے گئے، دیکھئے ان سے درخت کیسے نکل رہے ہیں۔ ڈی آئی خان والے سرائیکی صوبے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ بہاولپور والے ملتان سے برسر پیکار ہیں۔ سندھ کے اندر سندھ کارڈ والوں کےخلاف ہڑتال ہے، ہزارہ والے پختون خوا کے نام سے بیزار ہیں‘ جیسے ارکان اسمبلی‘ ویسی ہی صورتحال!&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_imlp3w="116"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_imlp3w="116"&gt;&amp;nbsp;اُس زمانے میں جب وسط ایشیا کے ترک کئی کئی ہفتے اور مہینے گھوڑوں پر سوار ہو کر یا پیدل سفر کرتے تھے، تازہ خوراک کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ وہ خوبانیوں کا ملیدہ بناتے تھے۔ پھر اُسے خشک کرتے تھے۔ پھر پھیلا دیتے تھے یہاں تک کہ وہ چادر کی طرح ہو جاتا تھا۔ اب وہ اسے تہہ کر کے محفوظ کر لیتے تھے۔ اسکا رنگ اور سختی گھوڑے کی کھال کی طرح ہو جاتی تھی۔ اس کا نام عربی میں یہی پڑ گیا یعنی جِلدُ الفرس۔ گھوڑے کی کھال۔ اسے دوران سفر پانی میں گھولتے تو یہ سالن کی طرح ہو جاتا۔ اس سے روٹی کھا لی جاتی تھی! پاکستان کے عوام کا مالیدہ بنایا گیا، پھر اسے خشک کیا گیا، پھر اسے پھیلایا گیا، اب وہ گھوڑے کی کھال بن گئے ہیں اور اہل اقتدار اور اہل سیاست کے سامان میں پڑے ہیں۔ جب ان لوگوں کو بھوک لگتی ہے تو روٹی کے ساتھ اسے چٹ کر جاتے ہیں! &lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-1371604150843666483?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/1371604150843666483/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/08/25-26-33-53-61-2011.html#comment-form' title='5 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/1371604150843666483'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/1371604150843666483'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/08/25-26-33-53-61-2011.html' title='گھوڑے کی کھال'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>5</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-5339341967618230175</id><published>2011-08-09T13:24:00.000+05:00</published><updated>2011-08-09T13:24:18.400+05:00</updated><title type='text'>جرنیل‘ ملائشیا اور پاسپورٹ</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ہے تو یہ بھی ریٹائرڈ جرنیل ۔۔ لیکن دوسروں سے الگ ....&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ازان کہ پیروی خلق گمرہی آرد&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;نمی رویم براہی کہ کاروان رفتست&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اس نے کسی غیر ملکی تھنک ٹینک میں ملازمت اختیار کی نہ اپنا تھنک ٹینک بنایا اور نہ ہی اپنے آپ کو منظرعام پر لانے اور اپنی تشہیر کرنے کا سامان برپا کیا۔ بہت مدت پہلے مقتدرہ قومی زبان میں ایک بزرگ تھے۔ نواح اسلام آباد میں انکے مرغی خانے تھے۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن حضرت کو تقاریب کی صدارت کا اتنا شوق تھا کہ مسمریزم سے لےکر مرغیاں پالنے تک جس موضوع پر بھی کوئی تقریب ہوتی تو صدارت ضائع نہ ہونے دیتے۔ جس جرنیل کا ہم ذکر کر رہے ہیں۔ وہ ان ریٹائرڈ معززین سے مختلف ہے جو ناشتہ اخبارات میں اپنی تصویر سے شروع کرتے ہیں۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;مردان میں پیدا ہونےوالے جنرل احسان الحق مسلح افواج کے بلند ترین منصب سے سبکدوش ہوئے تو متانت کےساتھ گوشہ سکوت میں چلے گئے لیکن گذشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں پہلی بار گفتگو کی اور کچھ حساس غلط فہمیوں کا ازالہ کیا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ہم پاکستانی بنیادی طور پر جذباتی قوم ہیں۔ ہماری ذہنی خوراک کا زیادہ انحصار سنی سنائی باتوں پر ہے۔ دلیل اور ثبوت۔ جو مسلمانوں کے ہتھیار تھے۔ آج اغیار کے پاس ہیں۔ ہم نے اپنا طرہ امتیاز یہ بنا لیا ہے کہ بات کرتے وقت دلیل کی نہیں‘ دھونس کی ضرورت ہے اور بات سنتے وقت ثبوت نہیں‘ صرف جذبات کی مناسبت درکار ہے۔ ثبوت کے علاوہ ہم کسی بھی شے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ کبھی کسی کا سوٹ اور انگریزی‘ کبھی کسی کا جبہ اور دستار‘ کبھی کسی کے منہ میں ٹھنسا ہوا پائپ اور کبھی کسی کے ہاتھ میں لٹکتی ہوئی تسبیح! آج ہم عدم برداشت کے جس عذاب سے دوچار ہیں اسکی ایک وجہ یہ رویہ بھی ہے کہ ہم جذبات کے غلام ہیں یا شخصیات کے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;جنرل احسان الحق نے اس عام تاثر کو غلط قرار دیا کہ نائن الیون کے بعد پاکستان نے اچانک یو ٹرن لیا اور طالبان کو چھوڑ دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے پوری کوشش کی کہ جنگ طویل نہ ہو اور درمیانی راستہ نکل آئے۔ اس وقت جنرل احسان الحق آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔ حکومت نے انہیں سعودی عرب بھیجا‘ پاکستان نے یہ تجویز کیا کہ طالبان کو اگر کابل چھوڑنا پڑے تو شمالی اتحاد اس پر قبضہ نہ کرے اور شہر کو اقوام متحدہ کے سپرد کر دیا جائے۔ طالبان کی مرکزی قیادت تو امریکی حملے کے اوائل ہی میں تتر بتر ہو گئی تھی۔ بہرطور جو ذمہ دار افراد بھی میسر آئے پاکستان نے انہیں اس تجویز سے آگاہ کیا ۔ جنرل احسان سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل کو ساتھ لےکر پیرس اور لندن گئے اور بات آگے بڑھائی لیکن جب واشنگٹن پہنچے تو معلوم ہوا کہ طالبان نے کابل خالی کر دیا ہے۔ شمالی اتحاد کابل کے دروازوں پر تھا۔ یوں کھیل ختم ہو گیا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;جنرل نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ پاکستان اور طالبان کی گاڑھی چھنتی تھی اور یک جان دو قالب کا سماں تھا! نائن الیون سے پہلے بھی طالبان کی پالیسیوں سے پاکستان کو اختلاف تھا اور اندرون خانہ‘ نواز شریف کے دور میں اور پھر پرویز مشرف کے دور میں بھی،&amp;nbsp;پاکستان طالبان کو کہتا رہا کہ تم دنیا سے کٹ رہے ہو‘ اپنی پالیسیوں میں توازن پیدا کرو لیکن بین الاقوامی تعلقات کی نزاکتیں اور پیچیدگیاں طالبان کی ہٹ کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔ مومن کا تدبر‘ انکی لغت میں یہ لفظ ہی نہیں تھا۔ نائن الیون کے بعد بھی پوری کوشش کی گئی۔ کئی وفود ملا عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے‘ انہیں عالمی صورتحال سمجھانے کی کوشش کی۔ روس‘ چین‘ ایران‘ شمالی کوریا سب اس معاملے میں امریکہ کےساتھ تھے۔ لیکن ملا عمر نے ایک نہ سنی۔ جنرل احسان الحق کی اس بات کی تصدیق ایک اور ذریعہ سے بھی ہوتی ہے۔ طالبان کے اہم حمایتی اور ہمدرد۔۔ قاضی حسین احمد نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ۔۔۔ ”ملا عمر نے جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو امریکیوں کے سپرد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ جس مزاج کا آدمی ہے اس سے اگر مذاکرات کئے جائینگے تو وہ آج بھی کسی درمیانی راستے کی طرف آنے کے بجائے اپنے اس موقف پر اصرار کرےگا کہ افغانستان کے تمام فریق اسے بلا شرکت غیرے امیر المومنین تسلیم کرکے اسکی بیعت کریں۔“&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;جنرل احسان الحق نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ عافیہ صدیقی کو پاکستان کے کسی ریاستی ادارے نے اغوا کیا نہ امریکہ کے حوالے کیا۔ جنرل نے وضاحت کی کہ عافیہ صدیقی 2007ءتک پاکستان ہی میں تھیں۔ اس سال انہیں اسلام آباد میں دیکھا گیا جہاں وہ اپنے رشتہ دار کے ہاں تھیں۔ اسی طرح سیف اللہ پراچہ کو بھی کسی ریاستی ادارے نے نہیں پکڑا۔ اسے تو یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ امریکی سفارت خانے یا قونصل خانے جانے سے احتراز کرے اور ملک ہی میں رہے لیکن وہ کسی وجہ سے تھائی لینڈ گیا۔ جہاں سے امریکیوں نے اسے اٹھا لیا۔ اس سوال پر کہ پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں جہاں ہر جرنیل کا ذکر کیا ہے وہاں احسان الحق کا ایک بار بھی ذکر نہیں کیا۔ جنرل نے مسکراتے ہوئے پرویز مشرف کا شکریہ ادا کیا! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;پاکستان تیزی سے عالمی تنہائی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ تازہ ترین دھچکا ہمیں چین سے لگا ہے۔ کاشغر میں علیحدگی پسندوں نے ہلاکت آفریں کارروائیاں کی ہیں۔ چین نے الزام لگایا ہے یا یوں کہئے کہ شکوہ کیا ہے کہ کارروائی کرنےوالے لوگ پاکستان سے تربیت لے کر آئے تھے۔ پہلی بار چین نے کسی لگی لپٹی کے بغیر کہا ہے کہ مشرقی ترکستان کی تحریک اسلامی نے پاکستان کے قبائلی علاقے میں پڑائو کیا ہوا ہے اور دھماکہ خیز مواد کی تربیت بھی وہیں دی جا رہی ہے! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;فوجی ساز و سامان سے لےکر بندرگاہوں کی ترقی تک ہر معاملے میں چین ہمارا ساتھ دے رہا ہے۔ کئی چینی ماہرین زندگیوں کی قربانی بھی دے چکے ہیں۔ کیا ہم اپنا ملک اپنے دوستوں کو (جو چند ہی ہیں) ناراض کرنے کیلئے استعمال ہونے دینگے؟ پوری اسلامی دنیا کا مرکز سعودی عرب ہے۔ کیا سعودی عرب ایسی تحریکوں کو اپنے ہاں پڑائو ڈالنے کی اجازت دےگا؟ کبھی نہیں! سعودی عرب میں تو ان جماعتوں پر بھی مکمل پابندی ہے جن کے بارے میں پاکستان میں بات بھی کی جائے تو قیامت آجاتی ہے! اسکے باوجود سعودی عرب میں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں! قصہ یہ ہے کہ ہر ملک کو اپنی سالمیت عزیز ہے اور کوئی ملک کسی فرد‘ کسی گروہ یا کسی تنظیم کو اجازت نہیں دیتا کہ اسکے قوانین کو پامال کرے چہ جائیکہ دوسرے ملکوں سے اسکے تعلقات میں زہر گھولے۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ہمیں رومانی جذباتیت سے باہر نکل کر حقیقت پسندی کا سامنا کرنا ہو گا۔ &lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;حقیقت یہ ہے کہ ہمارے جذباتی رویوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام تو فہم‘ تدبر‘ ادراک‘ عقل اور حقیقت سے تعلق رکھنے والا دین ہے۔ رومان پرستی اور جذباتیت کی ایک مثال دیکھئے‘ ملائیشیا نے اپنے ہاں سرمایہ کاری کو فرغ دینے کےلئے 2002ءمیں ایک پروگرام شروع کیا جسے ملائیشیا میرا دوسرا گھر کا نام دیا گیا۔ اس پروگرام کی رو سے پچاس سال سے کم عمر کا کوئی بھی غیر ملکی تین لاکھ ڈالر کی ملائیشیا میں سرمایہ کاری کرکے دس سال کےلئے ملائیشیا میں رہائش اختیار کر سکتا ہے۔ ملائیشیا کے قونصل جنرل نے کراچی میں کچھ دن پہلے بتایا کہ تقریباً سات سو پاکستانیوں نے اس پروگرام کے تحت ایک سو اسی ارب روپے ملائیشیا منتقل کئے ہیں۔ ان پاکستانیوں کی اکثریت کا تعلق کراچی سے ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم سرمائے کے اس اخراج پر افسوس کرتے اور یہ ہمارے لئے کراچی کی بدامنی کے نکتہ نظر سے لمحہ فکریہ ہوتا لیکن ہم نے اس سے بھی رومان نکال لیا اور ہمارے کچھ دوستوں نے اس سے ”آفاقیت“ نکال کر یہ کہنا شروع کر دیا کہ پاسپورٹ اور ویزے ہونے ہی نہیں چاہیں۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ ملائیشیا نے یہ پروگرام خالص ملکی ترقی کےلئے نکالا ہے اور اس کی کڑی شرائط ہیں۔ اسکے تحت ملائیشیا جانے والوں کی بڑی تعداد غیر مسلموں پر مشتمل ہے اور پاکستان اس سے فائدہ اٹھانے والے ملکوں میں دسویں نمبر پر آتا ہے۔ ملائیشیا نے اس میں کسی مذہب یا نسل کی تخصیص نہیں رکھی نکتہ جو ہم یہاں بیان کرنا چاہتے ہیں یہ ہے کہ کوئی ملک بھی کسی کےلئے اپنے دروازے رات کو کھلے نہیں رکھتا۔ ا&lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;فغان مہاجرین ایران گئے تو انہیں کیمپوں سے باہر نکلنے نہیں دیا گیا۔ چنانچہ وہ نتائج جو آج ہم بھگت رہے ہیں۔ ایران ان سے محفوظ رہا ہے۔ آج پاکستان میں زندگی کٹھن دور سے گزر رہی ہے بجلی اور گیس ناپید ہیں اور خوراک کا قحط عفریت بن کر سامنے آنے والا ہے۔ کیا اتنے خوشحال اسلامی ملکوں میں سے کوئی ہمارے لئے اپنے دروازے کھول رہا ہے؟&amp;nbsp; نہیں۔کوئی ایک بھی&amp;nbsp;نہیں! رہی یہ بات کہ پاسپورٹ نہیں ہونے چاہئیں تو حقیقت کچھ اور ہے! پاسپورٹ کا تو تصور ہی اسلامی خلافت کے زمانے میں مسلمانوں نے دیا ہے۔ اس وقت اسلامی مملکت کے اندر ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں جانے کیلئے ایک اجازت نامہ دکھانا ضروری تھا جس پر سفر کرنے والے کے بارے میں اندراج ہوتا تھا کہ اس نے زکوٰة یا ٹیکس یا جزیہ ادا کر دیا ہے۔ اسے عربی میں ”برا“ کہتے تھے یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا۔ تجارتی مال کی نقل و حرکت پر بھی پابندی تھی۔ سرحد پر تاجر کو اجازت نامہ دکھانا پڑتا تھا جسے ”تعارف“ کہا جاتا تھا۔ کوئی عام سی ڈکشنری کھول کر دیکھ لیجئے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;ٹیرف (TARIFF)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;کا لفظ اسی ”تعارف“ سے نکلا ہے!&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ہم پاکستان میں ساری اسلامی دنیا کے مسلمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن ہماری سرحدوں اور ہمارے قوانین کا احترام اسی طرح کیا جائے جیسے سعودی عرب‘ ملائیشیا ترکی‘ متحدہ امارات اور دوسرے ملکوں میں کیا اور کرایا جاتا ہے! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-5339341967618230175?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/5339341967618230175/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/08/blog-post_09.html#comment-form' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/5339341967618230175'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/5339341967618230175'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/08/blog-post_09.html' title='جرنیل‘ ملائشیا اور پاسپورٹ'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-8359462305210953361</id><published>2011-08-02T12:25:00.001+05:00</published><updated>2011-08-03T05:15:53.107+05:00</updated><title type='text'>چیخیں ۔ لاشیں ۔ اور تیز ہَوا</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_oak96x="118" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_oak96x="124" closure_uid_tesxhf="109" style="font-size: x-large;"&gt;ہَوا تیز چل رہی ہے۔ میلبورن شدید سردی کی آہنی گرفت میں ہے۔ 176 سال پہلے جب اس شہر کی بنیاد پڑی تو یہ ایک گائوں تھا۔ دور افتادہ گائوں، چند جھونپڑیوں کا مجموعہ۔ ایک سو چھہتّر سال کے عرصہ میں گروہِ کفار نے اس گائوں کو دنیا کے تین بہترین شہروں میں شامل کرا لیا۔ بہترین یونیورسٹیوں کے لحاظ سے یہ دنیا کے دس اولین شہروں میں ہے۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span closure_uid_oak96x="124" closure_uid_tesxhf="109" style="font-size: x-large;"&gt; &lt;br /&gt;ہَوا تیز چل رہی ہے۔ میرے گھر والے ”داستان“ ڈراما دیکھ رہے ہیں جو حال ہی میں کسی پاکستانی چینل پر چلا ہے۔ تقسیم کے وقت سکھوں نے مسلمانوں پر جو ظلم کئے، وہ اس میں دکھائے گئے ہیں۔ میلبورن کی اس چار دیواری میں سوگ برپا ہے۔ مسلمان لڑکی کو سکھوں نے پکڑ لیا ہے اور وہ ایک بچے کی ماں بن گئی ہے۔ ایسی ہزاروں مسلمان عورتیں مشرقی پنجاب میں رکھ لی گئیں۔ ہزاروں نے کنووں میں چھلانگیں&amp;nbsp;لگا کر&amp;nbsp;موت کو گلے سے لگا لیا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_oak96x="118" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_oak96x="124" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;پاکستان کےلئے کتنی قربانیاں دی گئیں۔ لاکھوں لاشیں، ہزاروں عورتوں کا اغوا، کس لئے؟ تاکہ مسلمان ،ہندوئوں اور سکھوں کے ظلم سے بچ کر الگ رہ سکیں ۔ تاکہ انصاف مل سکے۔ &amp;nbsp;تاکہ میرٹ کا بول بالا ہو۔ تاکہ مسلمانوں کے غریب بچوں کا ہندوئوں کے ہاتھوں استحصال نہ ہو۔ میرے گھر والے سکھوں کے مظالم پر افسردہ ہیں۔ میں پاکستانی اخبارات پڑھتا ہوں۔ لاکھوں مسلمانوں کی قربانیاں، شہیدوں کا لہو، مسلمان بیٹیوں اور بہنوں سے اٹے ہوئے اندھے کنوئیں، سکھوں کے گھروں میں سسک سسک کر جبراً رہنے والی مسلمان عورتیں، کیا اس لئے کہ آج ہم پر یوسف رضا گیلانی جیسے قانون پسند اور دیانت دار گدی نشین حکمرانی کریں؟ میرٹ! کون سا میرٹ؟ انصاف، کون سا انصاف؟ غریب بچوں کےلئے یکساں مواقع۔ کون سے مواقع؟&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span closure_uid_oak96x="124" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;میں انٹرنیٹ پر اخبارات دیکھتا ہوں۔ میرے کانوں میں مسلمان عورتوں کی چیخیں گونج رہی ہیں۔ میری آنکھیں آج کا پاکستان دیکھ رہی ہیں۔ وزیراعظم کے دفتر کو سرکاری خزانے سے ایک رقم مہیا کی گئی تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ غیر ملکی مہمانوں کو مناسب تحفے دئیے جائیں اور مستحق غربا کو امداد دی جائے۔ خزانے کی اس مد کا نام&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_oak96x="118" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_oak96x="124" style="font-size: x-large;"&gt;ID-2008 &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_oak96x="118" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_oak96x="124" style="font-size: x-large;"&gt;تھا۔ اسے ہیڈ آف اکائونٹ کہتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم نے اس میں سے ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے اپنے دفتر میں کام کرنے والے تنخواہ دار افسروں اور سٹاف کے کھانوں پر خرچ کر دیے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان ملازمین کو مفت ناشتہ، مفت دوپہر کا کھانا اور مفت عشائیہ مہیا کیا جائے گا۔ اس کےلئے انہوں نے اپنی جیب سے نہیں، عوام کے ٹیکس سے رقم نکالی۔ اوسطاً روزانہ تیس ہزار روپے اس عیاشی پر لگے۔ یاد رہے کہ ان کے دفتر میں کام کرنے والے ملازمین کو تنخواہ کے علاوہ خصوصی الائونس، اور ان کے گھروں میں خرچ ہونے والی بجلی اور گیس کےلئے الگ رقم دی جاتی ہے۔ گویا اگر باقی ملازم چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں تو وزیراعظم کے دفتر میں کام کرنے والوں کے دن اور راتیں زیادہ لمبی ہیں! جب پبلک اکائونٹس کمیٹی نے اعتراض کیا تو خزانے کے صالح افسروں نے اس مقصد کےلئے نئی مد یعنی حسابات میں نئی گنجائش رکھ دی! سوال یہ ہے کہ وہ سارے سرکاری ملازم جو وزیراعظم کے سیکرٹریٹ میں کام نہیں کر رہے کیا بھارت کے ملازم ہیں؟ کس انصاف اور کس میرٹ کے تحت وزیراعظم کے دفتر میں تیس ہزار روزانہ کھانے پر خرچ ہو رہا ہے؟صوبوں اور نیم خود مختار اداروں میں لاکھوں دیانت دار ملازمین مغرب کے بعد تک کام کرتے ہیں!&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span closure_uid_oak96x="124" style="font-size: x-large;"&gt; &lt;br /&gt;قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے چیئرمین ایاز صادق نے کہا ہے کہ انہوں نے ریلوے کو موت سے بچانے کے لئے مفصل تجاویز پیش کی تھیں لیکن ”نااہل وزیراعظم اور ان کی کابینہ نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔“ ایاز صادق نے الزام لگایا ہے کہ کمیٹی نے بھیانک صورت حال سے ریلوے کو نکالنے کےلئے ایک قابل عمل منصوبہ دیا لیکن وزیراعظم نے کمیٹی کو کوئی اہمیت نہ دی حالانکہ کمیٹی پارلیمنٹ کی نمائندگی کر رہی تھی اور اس میں پیپلز پارٹی سمیت ساری سیاسی جماعتیں شامل تھیں! حکومت کی ”اہلیت“ کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ کابینہ کا منظور شدہ گیارہ ارب روپے، وزارت خزانہ سے نکلوایا ہی نہ جا سکا! ایاز صادق نے ریلوے کی موت کی تین وجوہات بتائیں، اول : حکومت کا سوتیلا سلوک، دوم : بے پناہ کرپشن اور سوم : بدعنوان افسروں اور بدعنوان عملے کا مکمل عدم احتساب! حرام کھانے کی سطح اتنی پست ہو چکی ہے کہ ملاوٹ والے تیل کی وجہ سے ایک سو اٹھانوے انجن بیکار ہو چکے ہیں، ملاوٹ کرنے والے کھلے عام دندنا رہے ہیں!&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span closure_uid_oak96x="124" style="font-size: x-large;"&gt; &lt;br /&gt;سرکاری ہسپتالوں کے سربراہوں کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے سیکرٹریٹ میں طلب کیا گیا ہے اور انہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ بھرتی اُس فہرست کے مطابق ہونی چاہئے جو فہرست وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ سے ”مہیا“ کی گئی ہے۔ یہ خبر اخبارات میں کھلے عام شائع ہوئی ہے کہ بچوں کے ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر احسن وحید راٹھور کو بتا دیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے پارٹی کے پسندیدہ امیدواروں کو ملازمت نہ دی تو انہیں او ایس ڈی بنا دیا جائے گا۔ ڈاکٹر راٹھور نے یہ گستاخی کی تھی کہ نااہل امیدواروں کو مستقل اسامیوں پر بھرتی کرنے سے معذرت کی تھی۔ لیڈی ولنگڈن ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر افضل اور جناح ہسپتال کے ڈاکٹر افضل شاہین نے بھی وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں یہی کہا کہ جن امیدواروں کےلئے دبائو ڈالا جا رہا ہے وہ نااہل ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے پاس جب فریادی گئے کہ بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر ہو رہی ہیں تو ہائی کورٹ نے فیصلہ آنے تک بھرتیوں سے منع کر دیا لیکن اس کا حل قانون کے صوبائی حکیموں نے یہ نکالا ہے کہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے احکام کے مطابق بھرتی کے خطوط جاری کر دئیے جائیں اور ہائی کورٹ کو آنکھ مارنے کے لئے اُن پر لکھ دیا جائے کہ &lt;br /&gt;These orders are issued subject to the final decision of the writ petition No 15815/2011&lt;br /&gt;گویا عدالتی احکام سے بچنے کےلئے دائرے کے اندر گھومنے کی مضحکہ خیز حرکت صرف وفاقی حکومت نہیں کر رہی۔ حسبِ توفیق سب لگے ہوئے ہیں۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span closure_uid_oak96x="124" style="font-size: x-large;"&gt; &lt;br /&gt;آپ نے سُنا ہو گا کہ مرکز کی وزارتوں کے کام صوبوں کو سونپ دیے گئے ہیں۔ لیکن اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ مرکز کے وزیروں کی تعداد&amp;nbsp;کم ہو جائے گی&amp;nbsp;اور اخراجات گھٹ جائیں گے تو آپ غلط فہمی میں ہیں۔ پہلے ڈاکخانے کے محکمے کےلئے الگ سیکرٹری اور وزیر&amp;nbsp;رکھے گئے تھے۔ اب تین مزید وزارتیں ”پیدا“ کی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ دو دن پہلے ہُوا ہے۔ ایک وزارت افرادی قوت کی، ایک قومی یکجہتی کی اور ایک پیشہ ورانہ تربیت کی۔ شنید یہ ہے کہ ان اہم نئی وزارتوں پر قاف لیگ کے جمہوری مجاہدوں کو فائز کیا جائے گا۔ مزید ”بچت“ کرنے کےلئے اور بھی بہت کچھ کیا جا رہا ہے۔&amp;nbsp;ایک ریٹائرڈ بیورو کریٹ کو کھپانے کےلئے ایک اور نئی اسامی نکالی گئی ہے۔ اس پوسٹ کا نام ”کوآرڈی نیٹر“ رکھا گیا ہے۔ تنخواہ لاکھوں میں ہو گی جسے ایم پی ون سکیل کہتے ہیں۔ کیا عجب کل اس قسم کی ”ضروری“ اسامیاں باقی وزارتوں میں بھی پیدا کر لی جائیں۔ ایک اور ریٹائرڈ ملازم کو وزیراعظم کا پریس سیکرٹری مقرر کیا گیا ہے۔ یہ اور بات کہ سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ ملازمین کو دوبارہ رکھنے سے منع کیا ہوا ہے۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_oak96x="118" style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_oak96x="124" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;باہر ہَوا زور سے چل رہی ہے۔ میلبورن شدید سردی کی لپیٹ میں ہے اندر ڈرامہ ”داستان“ چل رہا ہے۔ سکھوں کے نرغے میں آئی ہوئی مسلمان عورتوں کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں۔ ڈرامہ دیکھنے والا ایک بچہ غصے سے مُٹھیاں بھینچ کر چیختا ہے ”میں سکھوں کو قتل کر دوں گا“ ہزاروں لاکھوں مسلمان عورتوں نے .... فرشتے جن کی عصمت پر گواہی دیتے تھے .... پاکستان کےلئے قربانیاں دیں۔ انصاف کےلئے، میرٹ کےلئے! &lt;br /&gt;انصاف؟ ہاں انصاف! سہیل احمد کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے کیوں کہ اُس نے عدالتِ عظمیٰ کا حکم مانا تھا۔ حسین اصغر کو گلگت بھیج دیا گیا ہے کیوں کہ اس نے حج کرپشن کیس میں وزیراعظم کے فرزند ارجمند سے پوچھ گچھ کرنے کی گستاخی کی تھی۔ ایک سینئر وزیر کے اکائونٹ میں چار کروڑ روپے آئے جو واپس کر دیے گئے، کیوں آئے تھے؟ یہ معلوم کرنے کےلئے کسی سہیل احمد کسی حسین اصغر کو اجازت نہیں دی جائے گی۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span closure_uid_oak96x="124" style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;انصاف، میرٹ........&lt;br /&gt;مسلمان عورتوں کی چیخیں....&lt;br /&gt;لاکھوں لاشیں، لہو ، قربانیاں....&lt;br /&gt;وہ دیکھو .... باہر تیز ہوا&amp;nbsp;چل رہی ہے! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-8359462305210953361?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/8359462305210953361/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/08/blog-post.html#comment-form' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/8359462305210953361'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/8359462305210953361'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/08/blog-post.html' title='چیخیں ۔ لاشیں ۔ اور تیز ہَوا'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-2170553234755408041</id><published>2011-07-26T10:41:00.001+05:00</published><updated>2011-07-26T17:47:53.916+05:00</updated><title type='text'>سفید لٹھّا  اور کافور</title><content type='html'>&lt;div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;جیسے لوڈشیڈنگ کافی نہیں تھی! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_85qv6t="124" closure_uid_bdx977="95" style="font-size: x-large;"&gt;جیسے سی این جی کےلئے میلوں لمبی قطاریں بے بس پاکستانیوں کو اذیت دینے کےلئے کم&amp;nbsp; تھیں۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div closure_uid_85qv6t="123" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;جیسے امن و امان کا لفظ اہل پاکستان کی ڈکشنری سے ختم ہو جانا کافی نہیں تھا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اب بتایا جا رہا ہے کہ ریلوے کی قبر تیار ہے ریلوے کے وزیر نے جنازے کے وقت کا تقریباً اعلان کر دیا ہے۔ لٹھا خریدنے کےلئے ہرکارہ بازار جا چکا ہے۔ کافور منگوا لیا گیا ہے۔ مولوی صاحب نے صفوں کی تعداد طاق رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_6uoek4="104" style="font-size: x-large;"&gt;قیام پاکستان کے وقت ایک ہزار ریلوے انجن ہمارے حصے میں آئے تھے۔ آج صرف پانچ سو بیس ہیں۔ ان میں سے بھی تین سو سے کم ایسے ہیں جو استعمال میں پھینکے جانے کےلئے انتظار کر رہے ہیں یا کچرے میں پھینکے جانے کےلئے دن گن رہے ہیں۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_85qv6t="125" style="font-size: x-large;"&gt;پونے دو سو کے قریب پل اسقدر مخدوش ہو چکے ہیں کہ&amp;nbsp;انکے اوپر سے ریل کو گزارنا ہی نہیں چاہئے لیکن یہ پل‘ موت کے یہ پل‘ مسلسل استعمال ہو رہے ہیں کیوں کہ ہمارے صدر ہمارے وزیراعظم‘ ہمارے وزیر‘ ہمارے عوامی نمائندے‘ ہمارے جرنیل‘ ہمارے بیوروکریٹ اور ہمارے سیاستدان ان پلوں سے نہیں گزرتے۔ وہ تو جہازوں اور جہازی سائز کی کاروں میں سفر کرتے ہیں۔ رہے عوام‘ جن کے خون پسینے کی کمائی سے یہ صدر‘ یہ وزیراعظم‘ یہ عوامی نمائندے‘ یہ جرنیل اور یہ بیورو کریٹ‘ مغل شہزادوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں‘ تو یہ عوام ہی تو ان پلوں پر سے گزرتی ٹرینوں میں سوار ہیں‘ اس لئے کہ یہ عوام وہ یتیم ہیں جن کا والی وارث کوئی نہیں۔ اٹک کے علاقے میں ایسے موقعوں پر ایک محاورہ بولا جاتا ہے۔ مَا پِنے تے پتر گھوڑے گھنے‘ ماں بھیک مانگ رہی ہے اور بیٹا گھوڑوں کی خریداری کرتا پھر رہا ہے۔ آہ و زاری ہے ایسی ماں کےلئے اور تف ہے ایسے بیٹے پر! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div closure_uid_6uoek4="125" style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;تو کیا ریلوے ایک دن میں ایسی حالت کو پہنچی ہے کہ اسے آکسیجن کی نالی لگی ہوئی ہے؟ ایک مہینے میں؟ یا ایک سال میں؟ نہیں‘ ریلوے کو ایک منصوبہ بندی کے تحت‘ ایک ارادے کے تحت اور ایک باقاعدہ منظم پروگرام کے تحت اس قبر تک پہنچایا گیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں سچ کہنے کا رواج ہے نہ سچ سننے کا‘ اگر آپ کو کسی کی بات پسند نہیں آرہی تو گھبرائیے بالکل نہیں۔ اسے وطن دشمن کہہ دیجئے‘ ہو سکے تو یہودیوں کا ایجنٹ بلکہ اندر سے مکمل یہودی کہہ دیجئے‘ مجال ہے کہ وہ آئندہ آپ کی مرضی کےخلاف کچھ کہہ جائے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ریلوے کے وزیر غلام احمد بلور جو متاثر کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے اور بے چارے بات کریں تو قابل رحم لگتے ہیں۔ ایک سچ بول گئے ہیں لیکن ایسا شخص سچ بھی بولے تو کوئی نہیں توجہ دیتا۔ گذشتہ سال ایک انگریزی معاصرے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریلوے کو اس حالت تک پہنچانے کی ذمہ داری این ایل سی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی ریلوے نے بے پناہ منافع کمایا ہے اس لئے کہ بھارت نے این ایل سی جیسی کوئی تنظیم نہیں بنائی!&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_85qv6t="126" style="font-size: x-large;"&gt;کوئی مانے یا نہ مانے‘ کسی کی رعونت والی رگ پھڑکے یا سوئی رہے‘ کوئی اس گستاخی پر میان سے تلوار کھینچ کر اٹھ کھڑا ہو یا بیٹھے بیٹھے ہی تالی بجا دے‘ سچی بات یہ ہے کہ ریلوے کو زندہ درگور کرنے کی سب سے زیادہ ذمہ داری این ایل سی (نیشنل لاجسٹک سیل) پر عائد ہوتی ہے! یہ ادارہ اگست 1978ءمیں بنایا گیا۔ اس وقت ایک خاص صورت حال تھی۔ کراچی کی بندرگاہ پر سامان اتنا زیادہ جمع ہو گیا تھا کہ بحری جہازوں کو سامان اتارنے کےلئے ایک ایک مہینہ انتظار کرنا پڑتا تھا اور حکومت کو لاکھوں روپے جرمانہ ادا کرنا پڑ رہا تھا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ریلوے کی مدد کی جاتی۔ نئے انجن خریدے جاتے نئی پٹڑیاں بچھائی جاتیں یا کوئی اور عارضی بندوبست کیا جاتا۔ لیکن حکومت فوجی آمر کی تھی۔ یہ کام فوج کے سپرد کر دیا گیا۔ این ایل سی بنائی گئی جو بظاہر تو منصوبہ بندی کمیشن کے تحت تھی لیکن عملی اختیار فوجی افسروں کے ہاتھ میں تھا۔ ظلم یہ کیا گیا کہ اس ادارے میں کام کرنےوالے ہر شخص کو تنخواہ کے علاوہ آدھی تنخواہ کے برابر الائونس بھی دئیے گئے۔ پھر یہ بھی نہ ہوا کہ ایمرجنسی ختم ہونے کے بعد اس ادارے کو ختم کر دیا جاتا۔ اسے مستقل کر دیا گیا۔ مرسڈیز ٹرکوں کی فوجی ظفر موج درآمد کی گئی اور این ایل سی کے حوالے کر دی گئی۔ جو جرنیل اس ادارے کا سربراہ تھا۔ مرد مومن مرد حق نے ریلوے بھی اس کے ماتحت کر دی۔ گویا بلی کو دودھ کی رکھوالی پر&amp;nbsp;لگا دیا گیا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_85qv6t="127" style="font-size: x-large;"&gt;این ایل سی کو مضبوط تر کرنے کےلئے ریلوے کی ایسی تیسی کر دی گئی اور سالہا سال تک کی جاتی رہی۔ جب قوی ہیکل ٹرکوں نے شاہراہوں کو توڑنا شروع کر دیا تو مرمت کا کام اور سڑکیں بنانے کا کام بھی این ایل سی کو دےدیا گیا اور یوں این ایل سی انجینئرز کے نام سے ایک اور سفید ہاتھی وجود میں آگیا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_85qv6t="127" style="font-size: x-large;"&gt;این ایل سی کے ادارے کا اس بھوکی ننگی قوم پر تازہ ترین احسان یہ ہے کہ اس نے غیر قانونی طور پر‘ اس وقت کے وزیراعظم کے منع کرنے کے باوجود‘ چار ارب روپے سٹاک ایکسچینج کی ”سرمایہ کاری“ میں جھونک دئیے۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ان چار ارب میں سے دو ارب روپے قرض لے کر یہ شوق پورا کیا گیا تھا؟ اور اس ”سرمایہ کاری“ میں ملازمین کا پنشن فنڈ بھی ڈال دیا گیا تھا۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی اور اسکے صدر چودھری نثار علی خان کے بے پناہ شور مچانے کے باوجود اس نقصان کے &amp;nbsp;ذمہ دار یا تو گالف کھیل رہے ہیں یا اعلیٰ سے اعلیٰ تر ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span closure_uid_85qv6t="128" style="font-size: x-large;"&gt;این ایل سی ریلوے کو بدستور کھا رہی ہے۔ دو ہفتے پہلے کراچی کی خشک گودی (ڈرائی پورٹ) کا انتظام بھی ریلوے سے لےکر این ایل سی کو دےدیا گیا ہے۔ ریلوے اس گودی سے فی ٹرین ایک کروڑ روپے منافع کما رہی تھی۔ یہ درست ہے کہ ریلوے کے پاس انجنوں کی کمی تھی لیکن کیا اس کا حل یہ نہیں تھا کہ ریلوے کو نئے انجن خرید کر دئیے جاتے؟ جس&amp;nbsp; این ایل سی&amp;nbsp;نے قوم کو چار ارب روپے کا نقصان پہنچایا ہے‘ اسے بند کرنے کے بجائے ریلوے کا مزید کام بھی اسے سونپا جا رہا ہے!&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ریلوے کےساتھ یہ کھیل بھی کھیلا گیا کہ اس کا بزنس زیادہ کرنے کے بجائے لاہور میں اسکی اربوں کی زمین پر گالف کلب بنانے کا پروگرام بنایا گیا۔ پرویز مشرف کا زمانہ تھا۔ ایک ریٹائرڈ جرنیل ریلوے کا وزیر تھا۔ ایک سو اکتالیس ایکڑ ریلوے کی زمین کلب بنانے کےلئے دے دی گئی۔ نرخ جو ہونا چاہئے تھا وہ باون روپے فی مربع گز تھا لیکن چار روپے فی مربع گز پر یہ سونے سے زیادہ قیمتی زمین دےدی گئی۔ اس ”فیاضی“ سے سرکاری خزانہ چار ارب بیاسی کروڑ روپے سے محروم ہو گیا۔ قانون توڑنے پر غرور اس قدر زیادہ تھا کہ آڈیٹر جنرل کا محکمہ دستاویزات مانگتا رہا لیکن خطوں اور یاد دہانیوں کا جواب تک نہیں دیا گیا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ریلوے پوری دنیا میں ”کارگو“ سے یعنی سامان برداری سے نفع کماتی ہے۔ مسافروں والا شعبہ کبھی بھی نفع آور نہیں ہوتا۔ جب کارگو کا یعنی سامان ڈھونے کا کام این ایل سی کو دے دیا گیا اور کئی دوسرے ٹرک مافیا کو فائدے پہنچائے گئے تو ریلوے کی مال گاڑیاں زمین بوس ہو گئیں۔ اندھے کو بھی معلوم تھا کہ مسافر گاڑیاں بند ہو جائیں گی۔ چنانچہ بند ہو رہی ہیں۔ ریلوے قبر کے دہانے ایک دن میں نہیں پہنچی۔ نہ ایک ماہ نہ ایک سال میں‘ اس میں پورے 33 سال لگے ہیں۔ سفید لٹھا خریدنے کےلئے ہرکارہ بازار جا چکا ہے۔ آپ بھی جنازے میں شرکت کیجئے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-2170553234755408041?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/2170553234755408041/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/07/blog-post_26.html#comment-form' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2170553234755408041'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2170553234755408041'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/07/blog-post_26.html' title='سفید لٹھّا  اور کافور'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-7825408884004721398</id><published>2011-07-19T12:31:00.000+05:00</published><updated>2011-07-19T12:31:53.530+05:00</updated><title type='text'>دولہا کی تلاش</title><content type='html'>&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;امریکی مافیا کے سربراہ نے اپنی دختر نیک اختر کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں اور دولہا تلاش کرنے کےلئے وہ میری منت سماجت کر رہا ہے۔ &lt;br /&gt;مافیا کا تعارف کراتا چلوں۔ انیسویں صدی میں جنوبی اٹلی میں، خاص طور پر سسلی کے جزیرے میں، مجرموں نے اپنے اپنے گروہ بنا لئے تھے۔&amp;nbsp; ان سب گروہوں نے باہم متحد ہو کر ایک انجمن سی بنا لی۔ اسی کو مافیا کہتے ہیں۔ یہ مافیا اتنا طاقتور ہو گیا کہ کاروباری افراد، کارخانہ دار، کرنسی کا کام کرنے والے، باغات کے مالک، سب انکے محتاج ہو کر رہ گئے۔ جو مافیا سے&amp;nbsp;”معاملہ“ طے نہیں کرتے تھے اُنکی حفاظت کی کوئی گارنٹی نہیں تھی اور ان کا کاروبار ٹھپ ہو جاتا تھا۔ دو بہادر مجسٹریٹوں&amp;nbsp; جوانی فالکن&amp;nbsp; اور&amp;nbsp; پائولو برسلی نو &amp;nbsp;نے مافیا پر ہاتھ ڈالا لیکن 1990 کی دہائی میں دونوں کو قتل کر دیا گیا۔ &lt;br /&gt;اٹلی سے امریکہ کی طرف ہجرت کی لہر چلی تو مافیا کی شاخ امریکی ساحلوں پر بھی پہنچ گئی۔ وقت گزرنے کےساتھ ساتھ امریکی مافیا کی جو دراصل اطالوی ہی تھے ایک آزاد تنظیم بن گئی۔ یہ اور بات کہ سسلی کے جرائم پیشہ گروہوں کےساتھ یہ تعاون کرتی تھی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ امریکہ کے چھبیس شہر مافیا کا شکار ہو کر رہ گئے۔ شکاگو، بوسٹن، پٹس برگ، فلاڈلفیا، نیو جرسی، نیویارک، میامی، لاس ویگاس اور کئی دوسرے شہروں میں جرائم کی زیر زمین تنظیموں نے پولیس کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ صرف نیویارک ہی میں پانچ جرائم پیشہ خاندان کام کر رہے ہیں۔ یہ اور دوسرے خاندان مافیا کی نگرانی میں ہوتے ہیں۔ خاندان کا سربراہ مافیا کے اجلاس اٹنڈ کرتا ہے۔ سربراہ کو باس یا ڈان کہا جاتا ہے۔ خاندان کا جو رکن بھی واردات کرےگا اس میں سے باس کا ”حصہ“ باس کو پہنچایا جائےگا۔ باس کا انتخاب ووٹوں سے ہوتا ہے لیکن عام طور سب کو معلوم ہی ہوتا ہے کہ اگلا باس کون ہو گا۔ باس کے بعد دوسری طاقتور شخصیت کو ”انڈر باس“ کہا جاتا ہے۔ یہ جرائم پیشہ خاندان کے روزمرہ کے معاملات کی نگرانی کرتا ہے۔ باس کے بعد اس کا بھی ہر واردات یا کاروبار میں مقررہ حصہ ہوتا ہے۔ &lt;br /&gt;مافیا کے قوانین دلچسپ ہیں اور ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے۔ اہم ترین قانون ”اُمرتا“ ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ کسی صورت میں بھی قانون نافذ کرنےوالے اداروں کو کچھ نہیں بتانا۔ دوسرا قانون یہ ہے کہ مکمل رکن ہونے کیلئے اطالوی نسل سے ہونا لازمی ہے۔ ہاں، رفیق یا پارٹنر کوئی بھی سکتا ہے۔ ایک اصول یہ بھی ہے کہ کسی دوسرے خاندان سے اپنے خاندان کے کاروبار کا ذکر نہیں کیا جائےگا۔ ارکان ایک دوسرے سے لڑائی نہیں کرینگے۔ قتل کی صورت میں باس کی اجازت کے بغیر بدلہ نہیں لیا جائےگا۔ سب سے زیادہ دلچسپ اصول یہ ہے کہ خاندان کے اندر، کوئی ممبر، کسی دوسرے ممبر کی بیوی کو بُری نظر سے نہیں دیکھے گا۔ مونچھیں یا داڑھی رکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ ہم جنسی کا ارتکاب کرنے والے کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ مافیا کی سزائیں بھیانک ہوتی ہیں۔ قتل کرنے کے بعد کبھی کبھی ہاتھ کاٹ دیے جاتے ہیں۔ ایک بار نیویارک کے مافیا نے اپنے ایک دشمن کو قتل کیا تو اُسکے منہ میں مردہ فاختہ ٹھونس دی۔ ایک ممبر کو، جو وارداتوں میں سے باس کو حصہ نہیں دے رہا تھا، قتل کر کے اسکے جسم میں تین سو ڈالر ٹھونسے گئے، اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ شخص لالچی تھا&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;! &lt;br /&gt;مافیا کے جرائم پر کئی ناول لکھے گئے جو بہت مشہور ہوئے۔ بے شمار فلمیں اس موضوع پر بنیں۔ سب سے زیادہ مشہور ناول ”گاڈ فادر“ ہوا۔ اس کا مصنف شہرہء آفاق ادیب ”ماریو پوزو“ ہے۔ اس ناول پر فلم بھی بنی۔ اس فلم کا نام بھی گاڈ فادر ہی تھا اور یہ بہت مشہور ہوئی۔ آج تک اسے شوق سے دیکھا جاتا ہے۔ اس میں افسانہ کم اور حقیقت زیادہ ہے۔&lt;br /&gt;ماریو پوزو اس کالم نگار کے پسندیدہ مصنفین میں سے ہے، اس کی تین اور کتابوں (دی سسلین، لاسٹ ڈان، اُمرتا) میں بھی مافیا کی کہانی ہے۔ ماریو پوزو 1999ءمیں انتقال کر گیا اُس کا آخری ناول (دی فیملی) نامکمل رہ گیا تھا۔ اسے اسکی دوست کارل گینو نے مکمل کیا اور یہ 2001ءمیں شائع ہوا۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;معافی چاہتا ہوں بات دور نکل گئی۔ مقصد یہ تھا کہ اپنے پڑھنے والوں کو اصل بات بتانے سے پہلے کسی حد تک پس منظر سے آگاہ کر دوں۔ میری بدقسمتی ملاحظہ کریں کہ مافیا کے سربراہ نے اپنی دختر نیک اختر کےلئے دولہا تلاش کرنے کا کام میرے سپرد کیا ہے۔ یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔ اتنا ہی آسان ہوتا تو مافیا کا سربراہ ہارورڈ سے فارغ التحصیل کسی بھی نوجوان کو پسند کر لیتا۔ مسئلہ تو بہادری کا ہے۔ نڈر اور بے خوف ہونے کا ہے۔ اب ذرا لڑکی والوں کی یعنی مافیا کی&amp;nbsp;&amp;nbsp;شرائط بھی سُن لیجئے۔ &lt;br /&gt;&lt;span id="goog_403598525"&gt;&lt;/span&gt;&lt;span id="goog_403598526"&gt;&lt;/span&gt;دولہا بہادر ہو۔ اس قدر بہادر کہ قانون کو&amp;nbsp; پائوں کے نیچے روندتا پھرے۔ &lt;br /&gt;اُسکی ڈگری اصلی نہ ہو بلکہ جعلی ہو۔ اصلی ڈگریاں اُن لوگوں کی ہوتی ہیں جو ڈرپوک ہوتے ہیں۔ &lt;br /&gt;اُسکے پاس بغیر لائسنس کے اسلحہ ہو اور بہت سا ہو۔ &lt;br /&gt;اسکے ساتھ ہمہ وقت اسکے محافظ رہتے ہوں جو مسلح ہوں۔ یہ اسلحہ بھی بغیر لائسنس کے ہو۔ &lt;br /&gt;اسکے پاس بہت زیادہ دولت ہو، زرعی زمین، کارخانے، قیمتی گاڑیاں، بنک بیلنس، سونا، ہیرے جواہرات!&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;لیکن جب اثاثے ظاہر کرنے کا وقت آئے تو وہ اپنے آپ کو غریب یا مڈل کلاس ظاہر کرے۔ بالخصوص اثاثوں میں اُسکی گاڑیوں کا ذکر بالکل نہ ہو۔ &lt;br /&gt;وہ ٹیکس چوری کرے اور ڈنکے کی چوٹ چوری کرے۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;جب وہ سفر کر رہا ہو تو اُسکی پجارو پر ایک خاص قسم کی پلیٹ نصب ہو، جسے دیکھ کر پولیس، ائر پورٹ حکام، ٹریفک والے، سب اُسے سلام کریں۔ &lt;br /&gt;جب اس نے امتحان دینا ہو تو اُسکی جگہ اُس کا بھتیجا کمرہء امتحان میں بیٹھے۔ &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اگر کسی کالج کا پرنسپل اسکی سفارش نہ مانے تو وہ پرنسپل کی پھینٹی لگا سکے۔ &lt;br /&gt;زمین اور پلاٹوں کے فراڈ کے سلسلے میں اگر پولیس اُسے پکڑ لے تو ”عوام“ پولیس کی گاڑی پر حملہ کر کے اُسے چُھڑا لے جائیں! &lt;br /&gt;وہ ائر پورٹ پر کسٹم کے اہلکاروں کو بھی آنکھیں دکھاتا ہو اور کریڈٹ کارڈ چوری کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہو۔ &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;افسر وں، اُستانیوں، ٹیچروں لیکچراروں ، پٹواریوں، تھانیداروں اور تحصیل داروں کے تبادلے، خاص طور پر اُسکے اپنے علاقے میں، اُسکی مرضی سے ہوں۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;آپ میری حالتِ زار کا اندازہ لگائیے، ایک طرف مافیا اور دوسری طرف ۔۔۔ کیا&amp;nbsp;بتائوں کون ہیں &lt;br /&gt;ایک سب آگ، ایک سب پانی &lt;br /&gt;دیدہ و دل عذاب ہیں دونوں&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;کیا آپ میری مدد کریں گے؟&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-7825408884004721398?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/7825408884004721398/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/07/blog-post_19.html#comment-form' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/7825408884004721398'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/7825408884004721398'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/07/blog-post_19.html' title='دولہا کی تلاش'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-6943045407930392257</id><published>2011-07-12T14:22:00.000+05:00</published><updated>2011-07-12T14:22:38.999+05:00</updated><title type='text'>عمران خان سے کوئی خطرہ نہیں</title><content type='html'>&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہ دانشوروں کا اجتماع تھا۔ سیکورٹی سخت تھی۔ سکینر لگے ہوئے تھے۔ صرف تین ملکوں کے دانشور اندر آ سکتے تھے۔ مجھے اپنا حُلیہ بدلنا پڑا۔ واسکٹ پہنی ماتھے پر راکھ ملی۔ دھوتی پیچھے سے اُڑسی ۔ ہاتھ میں مالا پکڑی اور رام رام رام جپتا پہنچ گیا۔ دروازے سے گزرتے وقت مالا کے منکے تیزی سے چلانے شروع کر دیے اور آنکھیں بند کر لیں۔ اندر سے ڈر بھی رہا تھا۔ بہر طور خیریت گزری اور ہال میں داخل ہو گیا۔ &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہ منظر میں زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ اسرائیل اور بھارت کے خفیہ گٹھ جوڑ کا ذکر اپنے ملک میں بارہا سنا تھا لیکن دیکھنے کا اتفاق یہاں ہوا، جس طرح بھارتی مندوب اسرائیل کے نمائندوں کےساتھ بے تکلفی سے مل رہے تھے، حیرت انگیز تھا۔ صاف پتہ چل رہا تھا کہ یہ لوگ برسوں سے ایک دوسرے سے مل رہے ہیں۔ تعارفی خطاب ایک امریکی دانشور نے کیا۔ اس کا لبِ لباب یہ تھا کہ اب تک ہم پاکستان کے حالات سے مطمئن تھے۔ جو کچھ ہو رہا تھا، ہماری خواہشات کے عین مطابق ہو رہا تھا، تین چیزیں پاکستان کو مسلسل کھائی کی طرف دھکیل رہی تھیں، کرپشن ، اقربا پروری اور ٹیکس چوری اور یہی ہمارے لئے اطمینان کا باعث تھیں۔ ہم امداد اس لئے دیتے تھے کہ بس پاکستان رینگ رینگ کر چلتا رہے، جاں بلب رہے، مرے نہ جیئے‘ ہم نے جب بھی امداد کے لئے شرطیں لگائیں، ان میں کبھی یہ نہیں کہا کہ اقربا پروری نہیں ہو گی، وزیراعظم کے صوابدیدی اختیارات ختم کرنے ہونگے یا کرپٹ لوگوں سے دولت واپس لینا ہو گی، ہم مطمئن تھے۔ ایک اور وجہ ہمارے اطمینان کی یہ تھی کہ عوام کو متحرک کرنے میں علماءبہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔ کروڑوں لوگ جمعہ کے خطبات سُن کر متاثر ہوتے ہیں لیکن ہماری خوش قسمتی کہ ٹیکس چوری، اقربا پروری اور اکِل حرام کےخلاف اس ملک کے علما نے کبھی تحریک چلائی نہ منظم کوشش کی۔ رہیں سیاسی جماعتیں، تو وہ تو جاگیریں ہیں۔ ایک ایک پارٹی ایک ایک خاندان کی ملکیت ہے۔ باپ کے بعد بیٹا تیار ہے۔ پارٹیوں کے اندر انتخابات کا کوئی امکان نہیں۔ پرویز مشرف نے سترھویں ترمیم میں ایک شق اسکے متعلق رکھی تھی۔ وہ اٹھارھویں ترمیم میں ختم کر دی گئی۔ جاوید ہاشمی، سعد رفیق اور کشمالہ بی بی نے اس پر احتجاج کیا تھا لیکن انہیں اپنی اپنی پارٹی کی طرف سے مناسب سرزنش کر دی گئی تھی! قصہ کوتاہ ۔ سب کچھ اسی طرح ہو رہا تھا جیسا ہم چاہتے تھے۔ لیکن اب ہمیں خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔ اس کی تفصیل ایک اور مندوب بیان کریں گے۔ &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ہال میں بیٹھنے کی ترتیب یوں تھی کہ سامنے سٹیج تھا۔ سٹیج کے دائیں طرف اسرائیلی تھے، بائیں طرف بھارتی اور سامنے امریکی۔ میں بھارتیوں کے حصے میں سب سے پیچھے بیٹھا، آنکھیں بند کئے مسلسل مالا جپ رہا تھا۔ کنکھیوں سے سب کچھ دیکھتا تھا۔ کارروائی کا ایک ایک لفظ غور سے سُن رہا تھا اور کوشش کر رہا تھا کہ سب کچھ ذہن میں محفوظ ہوتا جائے! جس خطرے کی نشان دہی تعارفی خطاب میں کی گئی، اس کی تفصیل بتانے کےلئے اسرائیلی مندوب سٹیج پر پہنچا۔ &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;”ہمارے لئے عمران خان خطرہ بن کر ابھر رہا ہے۔ اسکی تحریک زور پکڑ رہی ہے۔ نوجوان کثیر تعداد میں اسکے گرد جمع ہو رہے ہیں، اُس نے جو منصوبہ بندی پیش کی ہے اس میں تین باتیں ایسی ہیں جن سے یہ ملک نشیب سے مزید نیچے جانے کے بجائے واپس پلٹ سکتا ہے۔ اول، وہ کرپشن کے سخت خلاف ہے۔ باتیں تو کرپشن کےخلاف دوسری جماعتیں بھی کرتی ہیں لیکن وہ تو خود کرپشن میں گلے گلے تک ڈوبی ہوئی ہیں۔ عمران خان کبھی حکومت میں نہیں رہا۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ آ کر کرپشن کا خاتمہ کر دے۔ دوم، اس کا خطرناک ترین ارادہ ٹیکس چوری کا خاتمہ ہے۔ آپ اندازہ لگائیے، اس وقت پاکستان میں صرف دو فی صد آبادی ٹیکس ادا کر رہی ہے یعنی سرکاری ملازم، وہ بھی اس لئے کہ انکی تنخواہوں سے ٹیکس کٹتا ہے اور وہ اس کٹوتی کو روک نہیں سکتے۔ باقی ساڑھے سترہ کروڑ لوگ کوئی ٹیکس نہیں دے رہے۔ جھوٹ اور بدعنوانی کی حد دیکھئے کہ منتخب نمائندے جو اثاثے ظاہر کرتے ہیں انکی رُو سے انکے پاس گاڑیاں تک نہیں۔ ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ نے پانچ ہزار روپے ٹیکس دیا۔ یہ لوگ عوام کو دھوکہ دیکھنے کےلئے بتاتے ہیں کہ اُنکی فیکٹریوں نے اتنا زیادہ ٹیکس دیا حالانکہ وہ ٹیکس تو فیکٹریوں کی پیدا کردہ مصنوعات کی قیمتوں میں جمع کر کے خریداروں کی جیب سے نکلوایا جاتا ہے‘ اگر عمران خان تاجروں، صنعت کاروں اور زمینداروں سے ٹیکس لینے میں کامیاب ہو گیا تو یہ ملک اتنا امیر ہو جائےگا کہ غیر ملکی امداد سے بے نیاز ہی ہو جائے گا اور پھر اسکی پالیسیاں بھی آزاد ہو جائینگی۔ اس شخص کا تیسرا خطرناک ارادہ اقربا پروری کا خاتمہ ہے۔ اس وقت سب سیاسی جماعتیں اقربا پروری کا شکار ہیں۔ آپ اندازہ لگائیے سرحد کا وزیر اعلیٰ اور کراچی میں اس سیاسی جماعت کا سربراہ، دونوں پارٹی چیف کے بھانجے بھتیجے ہیں۔ پنجاب کی بڑی سیاسی جماعت میں نمایاں اصحاب سارے کے سارے ایک ہی خاندان سے ہیں۔ بھائی، داماد، بھتیجا، یا پھر ایک ہی برادری سے ہیں۔ پبلک سروس کمیشن ہر صوبے میں سفارشیوں کا دارالامان ہے۔ ایسے میں عمران خان اگر اقربا پروری کے انسداد میں کامیاب ہو گیا تو یہ ملک سنگا پور بن سکتا ہے، جاپان بن سکتا ہے اور کچھ بھی بن سکتا ہے۔ ہمیں اس کا تدارک کرنا ہو گا۔“ &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اب بھارتی مندوب کی باری تھی۔ وہ آیا، دھوتی کو ٹھیک کیا، ہاتھ باندھ کر سامنے، دائیں بائیں آداب بجا لایا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ اُسکے چہرے پر اطمینان تھا۔ &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;”حضرات! اس خطے کا باسی بھارت ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نہیں۔ یہاں کی نفسیات سے ہم واقف ہیں اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ خطرے کی کوئی بات نہیں!“ &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;سب چوکنے ہو گئے، اسرائیلی اور امریکی دانشوروں کے چہروں سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ بھارتی دانشور کی اس بڑ کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن بھارتی مندوب مسلسل مسکرا کرائیں بائیں دیکھ رہا تھا۔ وہ پھر گویا ہوا ”حضرات! کیا عمران خان نے آج تک زرعی اصلاحات کی بات کی ہے؟ کیا اس نے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں سرداری نظام کے خاتمے کا کبھی ذکر کیا ہے، میرے سوال کا جواب دیجئے۔“ &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;شرکا نے اپنے سامنے پڑے ہوئے کاغذات کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔ سب نے جواب نفی میں دیا۔ بھارتی دانشور نے اپنا خطاب جاری رکھا۔ &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;”حضرات، امریکی اور اسرائیلی دانشور برصغیر کی تاریخ، نفسیات اور سماجیات سے بے بہرہ ہیں۔ 1951ءمیں جب ہم نے بھارت میں زرعی اصلاحات نافذ کیں تو ہمیں ڈر تھا کہ پاکستان بھی کہیں زرعی اصلاحات کی طرف قدم نہ بڑھا دے۔ ہم سخت اضطراب میں تھے۔ بالآخر ہماری امید بر آئی اور پاکستان میں ایسا نہ ہوا۔ ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ تقسیم سے عین پہلے جاگیردار مسلم لیگ میں جوق در جوق یوں ہی تو نہیں&amp;nbsp;داخل ہوئے تھے&amp;nbsp;۔ مسلم لیگ کے منشور میں زرعی اصلاحات کا ذکر تک نہ تھا۔ بھٹو نے یہ اصلاحات کیں لیکن وقت گزر چکا تھا۔ جاگیرداروں نے یہ کوشش سبوتاژ کر دی۔ زمینیں نوکروں کے نام کر دی گئیں، آج صورتِ حال یہ ہے کہ سارا جنوبی پنجاب، سندھ کا سارا اندرونی حصہ اور&amp;nbsp;بلوچستان سارا جاگیرداروں اور سرداروں کی مٹھی میں ہے۔ عمران خان ان علاقوں سے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ کروڑوں ہاری، مزارع اور کارندے صرف ٹھپہ لگاتے ہیں، وہ بھی وہاں جہاں حویلیوں والے بتاتے ہیں، عمران خان فردِ واحد ہے اسکے پاس&amp;nbsp;اپنی پارٹی کو دوسری پارٹیوں سے مختلف انداز میں چلانے کا &amp;nbsp;کوئی میکانزم نہیں۔ اسکی پارٹی میں بے شمار عہدہ دار تو وہ ہیں جو دوسری جماعتوں میں منہ مار کر آئے ہیں اور جن کی شہرت مجہول ہے۔&amp;nbsp;آپ عمران خان کی ”بصیرت“ کا اندازہ اس سے لگائیے کہ اُس نے ایک ایسے ریٹائرڈ سرکاری ملازم کو پارٹی میں شمولیت کےلئے کہا جس کی اخلاقی دیانت کا یہ عالم ہے کہ وہ جب ایک محکمے کا سربراہ بنا تو اس نے سب سے پہلے ایک قریبی عزیز کو بیرون ملک تعینات کیا۔ دیگ کے باقی چاولوں کا حساب اسی سے لگا لیجئے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ عمران خان کے گرد جو لوگ جمع ہیں ان میں سے کسی کو ادراک ہی نہیں کہ ملکیتِ زمین کا موجودہ ڈھانچہ&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;land ownership pattern&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;ملک میں کسی بنیادی تبدیلی کو آنے ہی نہیں دےگا۔ وہی جدی پُشتی نمائندے اسمبلیوں میں آئینگے اور اقربا پروری کےخلاف ہر کوشش کو سبوتاژ کر دینگے۔ شہروں سے لی گئی چند نشستیں عمران خان کو کچھ بھی نہیں کرنے دینگی!&amp;nbsp; رہے عمران خان کے ارادے دہشت گردی کے خلاف&amp;nbsp; توجب تک سندھ اور جنوبی پنجاب میں جاگیرداری ہے اور قبائلی علاقوں میں رشوت خور خان موجود ہیں، نوجوان دہشت پسند تنظیموں کے پاس جانے کے علاوہ کر بھی کیا سکیں گے۔!“ &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;میں نے دیکھا کہ سب شرکائے اجلاس بھارتی مندوب سے گلے مل رہے تھے اور مبارکیں دے رہے تھے۔ &lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-6943045407930392257?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/6943045407930392257/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/07/blog-post_12.html#comment-form' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/6943045407930392257'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/6943045407930392257'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/07/blog-post_12.html' title='عمران خان سے کوئی خطرہ نہیں'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-4161129506293021192</id><published>2011-07-05T09:22:00.000+05:00</published><updated>2011-07-05T09:22:35.711+05:00</updated><title type='text'>نائب سفیر کا قتل</title><content type='html'>&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;2010ءکا مارچ تھا یا شاید اپریل....میں کئی دن بعد اسلام آباد کلب آیا تھا۔ شام ڈھل رہی تھی۔ یوں لگا جیسے ادا سی کی زرد چادر ہر طرف تنی ہے۔ میں اپنے دوستوں کی منڈلی میں جا کر بیٹھ گیا۔ سب چُپ تھے۔ ایک ویٹر تفصیل بتا رہا تھا۔ یہ دو دن پہلے کا واقعہ تھا۔ مشتاق رضوی لاﺅنج میں اپنی مخصوص نشست پر بیٹھے تھے۔ انہوں نے چائے منگوائی۔ ویٹر چائے لےکر پہنچا تو وہ سو رہے تھے۔ اس نے آواز دی۔ پہلے آہستہ، پھر اونچی....لیکن رضوی صاحب بہت دور جا چکے تھے۔ وہاں، جہاں پرویز مشرف کو بھی جانا پڑےگا۔ اس جرنیل کو بھی جس کے جرم پر پردہ ڈالنے کےلئے پرویز مشرف نے مشتاق رضوی کو دس سال اذیت میں رکھا اور نوکر شاہی کے اُن تین کارندوں کو بھی جو قوم کے خرچ پر ”انکوائری“ کرنے جکارتہ گئے اور مجرم کو بچا کر، بےگناہ مشتاق رضوی کے پیچھے پڑ گئے۔ ان کارندوں نے اس دنیا میں تو ”خدمت“ کا صلہ پا لیا لیکن مشتاق رضوی پُل کے اُس پار ان کا انتظار کر رہا ہے!&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;مشتاق رضوی سے میری پہلی ملاقات وزارت خارجہ میںاپنے دوست زاہد سعید کے دفتر میں ہوئی تھی۔ شگفتہ چہرہ، دھیمی آواز، اتنی دھیمی کہ سننے کیلئے ہمہ تن گوش ہونا پڑتا تھا۔ ہم چائے پی رہے تھے اور زاہد سعید مجھے رضوی صاحب کی کہانی سنا رہا تھا۔ چائے کے گھونٹ میرے حلق سے نیچے نہیں اُتر رہے تھے۔ میں نے پیالی رکھ دی اس رات میں بستر پر کروٹیں بدلتا رہا۔ میں خوف زدہ تھا۔ جس ملک میں اتنا کھلا، اتنا واشگاف، اور اتنا بڑا ظلم ہو رہا ہو اس ملک کا کیا بنے گا؟ کوئی آفت تو ضرور آئےگی۔ آسمان سے پتھر برسیں گے۔ مینڈکوں، بچھوﺅں اور سانپوں کی بارش ہو گی۔ سیلاب آئینگے۔ کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا ....&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;موت آئے گی کہ تو آئے گا کچھ ہو گا ضرور&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ہجر کی شب چاند کا چہرہ کبھی ایسا نہ تھا&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;زاہد سعید مجھے پیچھے لے گیا۔ یہ 2002ءکی بات تھی۔ مشتاق رضوی جکارتہ کے پاکستانی سفارت خانے میں نائب سفیر تھے۔ وہ بہت سینئر تھے۔ تیس سال کا وزارت خارجہ کا تجربہ تھا لیکن پھر بھی نائب سفیر تھے اس لئے کہ سفیر ایک ریٹائرڈ جرنیل تھا۔ ریٹائرڈ جرنیل ہونا بھی کچھ کم نہ تھا اس پر مستزاد یہ کہ وہ پرویز مشرف کا انتہائی قریبی دوست بھی تھا اور پرویز مشرف ملک کے سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ مسلم لیگ قاف اسکے آگے سجدہ ریز تھی جب اتنی طاقتیں یکجا ہو جائیں تو مشتاق رضوی جیسے ہنر مند بے چارے نائب سفیر ہی لگ سکتے ہیں!&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;حکومت پاکستان جکارتہ میں خوشحال تھی اس لئے کہ تیس سال پہلے اچھے وقتوں میں اس نے سفارت خانے کےلئے اپنی عمارت خرید لی تھی۔ جرنیل سفیر نے فیصلہ کیا کہ یہ عمارت فروخت کر دینی چاہیے۔ قاعدے کےمطابق وزارت خارجہ سے اجازت لینا ضروری تھی۔ اگر فروخت کرنے کی اجازت مل جاتی تو اخبار میں اشتہار دےکر زیادہ سے زیادہ قیمت لینے کی کوشش کی جانی تھی اور فروخت کی صورت میں ادائیگی ڈالروں میں ہونا چاہیے تھی لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ ریٹائرڈ جرنیل صاحب نے مشتہر کیے بغیر عمارت اونے پونے داموں بیچ ڈالی اور قیمت مقامی کرنسی میں وصول کی۔ نائب سفیر نے اعتراض کیا جو ظاہر ہے سفیر صاحب نے مسترد کر دیا۔ مشتاق رضوی قاعدے قانون کا آدمی تھا۔ وہ اتنی بڑی بے قاعدگی، جس میں حکومت پاکستان کو نقصان ہی نقصان تھا، کیسے ہضم کرتا۔ اس نے وزارت خارجہ کو اطلاع دی کہ یہ سب کچھ ہو رہا ہے اور غلط ہو رہا ہے‘ اسے روکا جائے‘ اس نے اپنا فرض پورا کیا۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اگر کوئی عام سفیر ہوتا تو وزارت خارجہ خود ہی تحقیق کر سکتی تھی لیکن یہ تو ایک ریٹائرڈ جرنیل کا معاملہ تھا اور وہ بھی پرویز مشرف کا خاص آدمی۔ اس خاص آدمی کو بہرحال چھونا بھی نہیں تھا اور ہمت بھی کس کی تھی کہ اسے چھو سکے! چنانچہ انکوائری کا کام بھی چیف ایگزیکٹو کے دفتر نے سنبھال لیا۔ (ان دنوں پرویز مشرف چیف ایگزیکٹو کہلاتا تھا)۔ وزارت خارجہ یوں ایک طرف کر دی گئی۔ جیسے دودھ سے مکھی نکال کر ایک طرف پھینک دی جاتی ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی کا سربراہ اس وقت کے سیکرٹری کابینہ کو مقرر کیا گیا جو پرویز مشرف کا براہ راست ماتحت تھا۔ دو اور افسر کمیٹی میں ”ڈالے“ گئے اور یہ کمیٹی جکارتہ پہنچ گئی۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;دنیا کی اس عجیب و غریب تحقیقاتی کمیٹی نے تین سفارشات پیش کیں۔ اوّل یہ کہ اس سارے سودے میں بے قاعدگی ہوئی ہے۔ دوم یہ کہ سودے کی منظوری دے دی جائے۔ سوم یہ کہ نائب سفیر مشتاق رضوی کےخلاف کارروائی کی جائے۔ اِنّا لِلّٰہ وَ اِنّا الیہِ راجِعون۔ کمیٹی واپس آئی‘ اس کا اجلاس ہوا‘ اجلاس کی صدارت خود پرویز مشرف نے کی اور تینوں سفارشات منظور کر لی گئیں۔ ایک بار پھر اِنّا لِلّٰہ وَ اِنّا الیہِ راجِعون۔ &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;قانون توڑنے والا جرنیل سفیر صاف بچ گیا۔ حکومت پاکستان نقصان کو پی گئی۔ تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان کو ترقیاں ملیں۔ ایک صاحب تو پرویز مشرف کے پرنسپل سیکرٹری لگ گئے اور اسکے سارے کارناموں میں شریک رہے لیکن سزا نائب سفیر مشتاق رضوی کو ملی۔ اسے فوراً واپس ملک بلا لیا گیا اور پھر اسکے ساتھ وہ سلوک ہوا جو تاریخ میں کسی سے نہیں ہوا تھا۔ اس سے عہدہ و منصب سب کچھ چھین لیا گیا۔ اسے وزارت خارجہ ہی سے نکال دیا گیا۔ اسے کہا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرو۔ &lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یاد رہے کہ وزارت خارجہ کے ملازمین اگر عہدے کے بغیر (او۔ایس۔ڈی) بھی ہوں تو وزارت خارجہ ہی میں رہتے ہیں۔ یہ پہلی بار ہوا کہ وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھیج دیا گیا۔ ایک ماہ یا دو ماہ نہیں۔ ایک سال یا دو سال نہیں۔ پورے چھ سال اسے بے یارو مددگار رکھا گیا۔ جس دیانت دار شخص نے ساری ملازمت قاعدے قانون کےمطابق کی۔ ملک کی خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی، اسے بغیر کسی جرم کے سزا دی گئی۔ اسکے ماتحت ترقیاں لیتے رہے، سفیر لگتے رہے، وہ چھ سال بیکار بیٹھا رہا۔ ذہنی اذیت میں مبتلا رہا۔ خون کے آنسو روتا رہا۔ اس نے پرویز مشرف کے دوست کی لاقانونیت پر اعتراض کیا تھا۔ پورے ملک میں کوئی نہیں تھا جو اسے پرویز مشرف کے عتاب سے بچا سکتا۔ دن رات اسی طرح آتے اور جاتے رہے۔ یہاں تک کہ 2008ءمیں مشتاق رضوی وزارت خارجہ واپس گئے بغیر ہی ریٹائر ہو گیا! اگر اسکی ریٹائرمنٹ نہ ہوتی تو سزا نے تو ختم نہیں ہونا تھا۔ رہائی تو کیا ہونی تھی، وہ قید خانہ ہی ساتھ اٹھا لایا۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اس نے وکالت شروع کر دی، شام کو اسلام آباد کلب آ جاتا۔ میری اس سے ملاقات اکثر کلب کی لائبریری میں ہوتی۔ وہی دھیما انداز گفتگو، لیکن میں صاف دیکھ رہا تھا کہ وہ اندر سے کھوکھلا ہو رہا ہے۔ کبھی لائنج میں بیٹھا خلا کو گھور رہا ہوتا، کبھی لائبریری میں اخبار یا رسالہ دیکھ رہا ہوتا لیکن وہ دیکھتا تو کیا دیکھتا، اس کا ذہن ، اس کی آنکھوں کا ساتھ نہیں دیتا تھا۔ اس نے صبر کیا اور صبر ہی میں موت کا پیالہ پی لیا۔ اس شام وہ کلب ہی میں تھا۔ چائے منگوائی اور چائے آنے سے پہلے وہاں چلا گیا، جہاں مشرف نے بھی جانا ہے، اس کے جرنیل دوست نے بھی تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان نے بھی اور اس رکن نے بھی جو بعد میں پرویز مشرف کا دست راست بن گیا۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;آج سے چار دن پہلے یعنی یکم جولائی کو یہ سارا معاملہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے سامنے پیش ہوا۔ کمیٹی کے ارکان نے ظلم کی یہ داستان سنی تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ نائب سفیر نیم پاگل ہو کر موت کے گھاٹ اتر گئے اور اب انکی بیوہ کا بھی بُرا حال ہے تو وہ جیسے اندر باہر سے ہل گئے۔ کمیٹی کے رکن ندیم افضل چن کا تو کہنا تھا کہ مشتاق رضوی کا قتل ہوا ہے۔ ایم این اے ایاز صادق نے نام نہاد تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کو کہا کہ تم پر مشرف کا دباﺅ تھا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ یعنی نوکر شاہی کے اس ریٹائرڈ رکن نے افسوس کا اظہار کیا ہو گا اور ظلم پر پچھتایا ہو گا؟ نہیں! اس نے کہا کہ میں نے کبھی دباﺅ قبول نہیں کیا۔ اس پر ندیم افضل چن نے کہا کہ تمہاری صرف انگریزی ٹھیک ہے۔ کچھ اور ٹھیک ہوتا تو ملک ترقی کر چکا ہوتا۔ ایاز صادق نے کہا کہ لگتا ہے کہ یہ جائیداد جو اونے پونے بیچ دی گئی، پرویز مشرف کے والد کی جائیداد تھی! سردار ایاز صادق کا خیال تو یہ بھی ہے کہ نام نہاد تحقیقاتی کمیٹی اس سارے معاملے میں ملوث تھی! پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا موقف یہ ہے کہ مشتاق رضوی کے قاتل کون ہیں، اس کا تعین ہونا چاہیے۔&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی یہ بھی چاہتی ہے کہ وازارت خارجہ نائب سفیر کی بیوہ سے معافی مانگے۔ کاش یہ انصاف مشتاق رضوی کی زندگی میں ہو سکتا:&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;آخر شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;صبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;وزارت خارجہ کو محکمانہ رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی ملک کی پارلیمنٹ کی نمائندہ ہے۔ کیا پارلیمنٹ اس سفیر کو سزا دے سکے گی جس نے یہ غلط کام کیا؟ اور کیا ان لوگوں کو بھی سزا ملے گی جنہوں نے مجرم کو چھوڑ دیا اور نائب سفیر کو پکڑ لیا؟ &lt;/span&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-4161129506293021192?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/4161129506293021192/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/07/blog-post.html#comment-form' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/4161129506293021192'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/4161129506293021192'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/07/blog-post.html' title='نائب سفیر کا قتل'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-8288917556984870086</id><published>2011-06-28T15:51:00.003+05:00</published><updated>2011-06-28T17:19:06.573+05:00</updated><title type='text'>شدّت  پسند مسلمانوں کو کیوں قتل کرتے ہیں ؟</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;”طالبان دہشت گردی کی کسی کارروائی میں ملوث نہیں۔&lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اگر&lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;ہیں تو اسکی پشت پناہی امریکہ بھارت اور اسرائیل کر رہے ہیں۔“&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;یہ بیان ایک معروف مذہبی سیاسی جماعت کے&amp;nbsp; سابق&amp;nbsp;امیر نے گزشتہ ہفتے دیا ہے۔ &lt;br /&gt;طالبان پر یہ الزام پہلی بار نہیں لگا۔ نادان دوست یہ کام ایک عرصہ سے کر رہے ہیں۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ آپ طالبان کے طریقِ کار سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ انکے فہمِ اسلام کو غلط قرار دے سکتے ہیں لیکن یہ کہنا کہ امریکہ اسرائیل اور بھارت ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں، طالبان کےساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ &lt;br /&gt;یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ اس موضوع کی کئی تہیں ہیں اور یہ تہیں نظر آتی ہیں اور نہیں بھی آتیں۔ بنیادی سوال اس ضمن میں یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم جن کارروائیوں کو دہشت گردی کہتے ہیں،&amp;nbsp; کیا طالبان یا شدت پسند بھی اسے دہشت گردی ہی سمجھتے ہیں؟ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;آپ نے عوام میں سے بہت سوں کو، بلکہ اکثر کو، یہ کہتے سُنا ہو گا کہ یہ جو بازاروں میں یا مزاروں پر یا مسجدوں میں دھماکے کرتے ہیں تو یہ لوگ مسلمان نہیں ہو سکتے کیونکہ کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو یوں بے دریغ نہیں ہلاک کر سکتا۔ ایک عام آدمی، جس کی مسلمانوں کی تاریخ سے زیادہ واقفیت نہیں، یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ مسلمانوں میں ایسے شدت پسند شروع سے چلے آ رہے ہیں جو بہت سے مسلمانوں کو مسلمان مانتے ہی نہیں۔ وہ جن لوگوں کو ہلاک کر رہے ہوتے ہیں، وہ انکی دانست میں مسلمان نہیں ہوتے۔ ہم اگر اس سارے مسئلے کو اس تناظر میں دیکھیں تو بہت سی گرہیں کھلنے لگ جائیں گی۔ &lt;br /&gt;یہ پہلی بار نہیں ہو رہا کہ اسلامی شدت پسندوں پر امریکی ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ حالیہ تاریخ میں ایسے الزام الجزائر کے اسلامی شدت پسندوں پر بھی لگائے گئے۔۱۹۹۱ء میں &lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;میں جب اسلام پسند الجزائر میں انتخابات جیت گئے تو انہیں اقتدار سے روکنے کےلئے فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ یہ ایک کھلی دھاندلی تھی۔ اسلام پسندوں کی جماعت پر پابندی لگا دی گئی اور ہزاروں ارکان کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کا نتیجہ عسکری مزاحمت کی شکل میں سامنے آ یا۔ دھاندلی اور ظلم کا منطقی نتیجہ یہی تھا اور ایسے مواقع پر ہی توازن برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ الجزائر کے اسلامی مزاحمت کار یہ توازن برقرار نہ رکھ سکے۔ شروع میں تو پولیس اور فوج حملوں کا ہدف تھی لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا، سول آبادیاں بھی ان حملوں کا نشانہ بننے لگیں۔ 1992 ء&amp;nbsp; اور&amp;nbsp; 1997 ء کے&lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt; درمیانی عرصہ میں، جعلی انتخابات کرائے گئے۔&lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;اسلام پسند مزید مشتعل ہوئے اور پورے کے پورے گائوں ہلاک کئے جانے لگے۔ پیرس اور یورپ کے دوسرے مقامات پر بم دھماکے انکے علاوہ تھے۔ انہی دنوں کی بات ہے لندن میں ابو حمزہ نامی ایک خطیب نے جو الجزائری مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیا کرتے تھے، ٹیلی فون پر شدت پسندوں کے ایک کمانڈر سے گفتگو کی اور اس سے پوچھا کہ جی آئی اے (الجزائری مسلمانوں کی مسلح جماعت) سول آبادیوں کو کیوں ہلاک کر رہی ہے۔ حاضرین مجلس کے سامنے ٹیلی فون کی آواز بلند کی گئی۔ کمانڈر کا کہنا تھا کہ جو سول آبادیاں سرکاری جماعت کی حمایت کرتی ہیں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتی ہیں کیوں کہ ”صرف جی آئی اے اصل اسلام کی نمائندگی کرتی ہے۔“ &lt;br /&gt;یہ ہے شدت پسندوں کا نکتئہ نظر! اُنکے نزدیک امریکہ کی حمایت کرنےوالی حکومت اور اسکے ملازم سزا کے مستوجب ہیں۔ فوجیوں اور پولیس کے خاندان بھی سزا کے مستحق&amp;nbsp; ہیں اور وہ عوام جو امریکہ کےخلاف جدوجہد نہیں کرتے وہ بھی گردن زدنی ہیں۔ یہ شدت پسندوں کا نکتئہ نظر ہے۔ اس سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے لیکن یہ کہنا کہ شدت پسند جو دھماکے کر رہے ہیں، ان کی پشت&amp;nbsp; پر امریکہ ہے عجیب سی بات ہے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہ درست ہے کہ مسلمان&amp;nbsp; مسلمان کو ہلاک نہیں کر سکتا لیکن اگر کوئی کسی کو مسلمان سمجھے ہی نہیں&amp;nbsp; تو پھر ؟ آخر وہ گروہ جو امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہ کو چھوڑ کر الگ ہو گیا تھا، دوسرے مسلمانوں کو کافر سمجھ کر&amp;nbsp; ہی تو قتل کرتا تھا۔ جب حضرت علی کرم اللہ وجہ&amp;nbsp; شام کی&amp;nbsp;طرف تشریف لے جا رہے تھے تو خبر ملی کہ یہ گروہ&amp;nbsp; مسلمان عورتوں اور بچّوں کو بے دریغ قتل&amp;nbsp; کر رہا ہے۔ آپ کو ان کی سرکوبی کے لیے اپنے سفر کا رُخ&amp;nbsp;&amp;nbsp; بدلنا پڑا۔ آپ کی وارننگ سے بہت سے افراد اس گروہ کو چھوڑ گئے لیکن اٹھارہ سو افراد ایسے تھے جو&amp;nbsp; ہر حال میں آپ سے جنگ چاہتے تھے۔ ناچار آپ کو ان پرتلوار اٹھانا پڑی&amp;nbsp;۔ روایات کے مطابق ان میں سے صرف نو افراد بچ سکے۔ یہ لوگ انتہا پسندتھے۔مسلمانوں کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے قتل کو جائز قرار دیتے تھے اور اختلاف ان کے لیے ناقابل&amp;nbsp; برداشت تھا۔&lt;br /&gt;اسلام اپنے ماننے والوں سے توازن اور انصاف کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ فرد سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ سخت غصے کی حالت میں توازن برقرار رکھے اور گروہ سے تقاضا کرتا ہے کہ جنگ کے دوران توازن پر قائم رہے۔ جنگ کے جو اصول اللہ کے آخری رسول نے وضع فرما دئیے وہ قیامت تک کےلئے ہیں‘ اگر کفار مسلمانوں پر ظلم کریں تو اسکے جواب میں مسلمان ظلم نہیں کر سکتے۔ کفار سے مسلمانوں کی سرزمین خالی کرانے کےلئے جنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ جنگیں مسلمانوں کو لڑنا پڑیں گی لیکن جنگ کے اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر! یہی تو وہ اصول ہیں جو مسلمانوں کو امریکیوں سے اور فرانسیسیوں سے اور انگریزوں سے اور روسیوں سے الگ کرتے ہیں! غیر مسلم ہر مرد عورت بوڑھے بچے کو بلا امتیاز قتل کر دیتے ہیں۔ وہ شہروں پر ایٹم بم تک گراتے رہے ہیں، کبھی&amp;nbsp; لوگوں کو گیس چیمبرز میں بند کر کے اور کبھی قصبوں اور بستیوں کو نذرِ آتش کر کے آبادیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ یہ صدیوں سے ایسا کر رہے ہیں لیکن ایک سچا مسلمان اس طرح نہیں کر سکتا۔ مسلمانوں کے رسول نے مسلمانوں پر پابندیاں عائد کی ہیں اور یہ پابندیاں کوئی شخص نہیں تبدیل کر سکتا۔ عورتیں اور بچے؟؟ اللہ کے رسول نے تو درختوں اور کھڑی فصلوں کو بھی جنگ کے دوران چھیڑنے سے منع فرما دیا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;آخر ایک عام پاکستان امریکہ کےخلاف کر بھی کیا سکتا ہے؟ وہ امریکہ سے شدید نفرت کرتا ہے لیکن وہ تو اپنی حکومت تک کو سیدھے راستے پر نہیں لا سکتا! وہ بجلی اور پانی سے محروم ہے اُس کا سب سے بڑا مسئلہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانا ہے۔ ریاست اُسے نہ سکیورٹی فراہم کر رہی ہے نہ اُسکی بنیادی ضروریات کی ریاست کو فکر ہے۔ عوام کی اکثریت کے پاس ذاتی چھت تک نہیں، ایک چھوٹا سا طبقہ ملک کے وسائل پر قابض ہے اور ظلم پر ظلم ڈھا رہا ہے۔ اس طبقے میں حکومت اور حزب اختلاف دونوں شامل ہیں۔ ان مجبور، مظلوم اور مقہور عوام کو امریکہ کے جرم کی سزا دینا کہاں کا انصاف ہے! &lt;br /&gt;ہم کہاں کے دانا تھے کس ہُنر میں یکتا تھے &lt;br /&gt;بے سبب ہُوا غالب دشمن آسماں اپنا &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-8288917556984870086?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/8288917556984870086/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/06/blog-post_28.html#comment-form' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/8288917556984870086'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/8288917556984870086'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/06/blog-post_28.html' title='شدّت  پسند مسلمانوں کو کیوں قتل کرتے ہیں ؟'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-1054697014571474809</id><published>2011-06-21T15:55:00.003+05:00</published><updated>2011-06-21T16:32:38.699+05:00</updated><title type='text'>وہ کافر بچّہ</title><content type='html'>&lt;div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; ڈاکٹر نے اتنا بھی نہ سوچا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں!&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &lt;br /&gt;وزیراعظم ہسپتال کے دورے پر تھے‘ انکے ساتھ وزیر صحت بھی تھے‘ وزیراعظم وارڈ میں ایک مریض کے پلنگ کےساتھ کھڑے اسکی عیادت کر رہے تھے‘ ٹیلی ویژن کی ٹیم بھی موجود تھی‘ وزیراعظم کے دورے کو فلمایا جا رہا تھا‘ اتنے میں سرجن اندر داخل ہوا‘ اس نے دیکھا کہ ہسپتال کے قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے‘ اس نے وزیراعظم سمیت سب کو ڈانٹا کہ پوری آستینوں کے ساتھ اور نکٹائیوں کےساتھ یہ لوگ وارڈ میں کیوں داخل ہوئے ہیں۔ یہ طریقہ جراثیم کے نکتئہ نظر سے نقصان دہ ہے۔ سرجن باقاعدہ دھاڑ رہا تھا‘ وزیراعظم نے ٹیلی ویژن والوں کو باہر جانے کا اشارہ کیا اور سرجن کو آہستگی سے بتایا کہ ہم نے تو نکٹائی اتاری ہوئی ہے‘ اس پر سرجن وزیراعظم کو کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وزیراعظم نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور کہا کہ ٹھیک ہے‘ ٹھیک ہے۔ میں آپکی بات مانتا ہوں اور وزیراعظم وارڈ سے نکل گئے۔ &lt;br /&gt;اسکے مقابلے میں برطانیہ میں کیا ہوا‘ سنیئے! وزیراعظم برطانیہ نے اپنے قریبی عزیز کو گریڈ اکیس سے بائیس میں ترقی دیکر قومی اسمبلی میں سپیشل سیکرٹری مقرر کردیا ہے‘ یہ صاحب اس سے پہلے قومی اسمبلی میں گریڈ بیس کے افسر تھے‘ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئرمین انکی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے‘ اس پر وزیراعظم نے انہیں گریڈ اکیس میں ترقی دی اور ڈویژن کا سیکرٹری انچارج مقرر کردیا! اس اقربا پروری پر برطانیہ میں کسی نے چوں تک نہیں کی۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;آپ پریشان ہو رہے ہیں تو ازراہِ کرم خاطر جمع رکھیے۔ یہ دونوں خبریں درست نہیں‘ اصل خبریں اس طرح ہیں۔ &lt;br /&gt;برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون لندن کے ایک ہسپتال میں گئے‘ انکے&amp;nbsp; ڈپٹی پرائم منسٹر&amp;nbsp; اور وزیر صحت بھی ہمراہ تھے‘ وزیراعظم اور انکے دونوں ساتھی مریضوں کے ساتھ تصویریں بنوا رہے تھے کہ متعلقہ سرجن آیا اور دھاڑا کہ وارڈ کے قوانین کی خلاف ورزی کیوں ہو رہی ہے؟ اس نے یہ تک کہا: &lt;br /&gt;I am not having it, now out &lt;br /&gt;”میرے لئے یہ ناقابل برداشت ہے‘ تم لوگ یہاں سے چلے جاﺅ“۔ &lt;br /&gt;اور برطانیہ کا وزیراعظم‘ اپنے نائب اور اپنے وزیر صحت کے ساتھ اور ٹیلی ویژن کی پوری ٹیم کے ساتھ باہر نکل جاتا ہے۔ &lt;br /&gt;آپ کاکیا خیال ہے کہ یہ واقعہ اگر پاکستان میں پیش آتا تو کیا ہوتا؟ اول تو کوئی ڈاکٹر ایسی قانون پسندی کا سوچ بھی نہیں سکتا اور اگر بفرض محال کوئی بہادر ڈاکٹر ایسا کر گزرتا تو شام سے پہلے‘ اگر گرفتار نہ بھی ہوتا تو ملازمت سے ضرور فارغ ہو جاتا۔ &lt;br /&gt;اب دوسری خبر بھی درست کر لیجئے‘ وزیراعظم پاکستان نے اپنے بہنوئی کو ترقی دیکر قومی اسمبلی میں خصوصی سیکرٹری لگا دیا ہے‘ خصوصی اس لئے کہ ایک سیکرٹری پہلے سے وہاں موجود ہے‘ لیکن اس خبر کے ساتھ اخبار نے جو ایک اور خبر دی ہے‘ اس کا جواب نہیں&lt;span style="background-color: #fff2cc;"&gt;۔&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;span&gt;&lt;br /&gt;”اس سے قبل وہ قومی اسمبلی میں پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے گریڈ بیس میں جوائنٹ سیکرٹری تھے‘ تاہم چیئرمین پی اے سی چودھری نثار علی خان انکی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے‘ جس پر وزیراعظم نے انہیں گریڈ 21 میں ترقی دیکر وزارت کلچر کا سیکرٹری انچارج مقرر کر دیا تھا اور وہ ان 54 افسران میں بھی شامل تھے‘ جن کو وزیراعظم کی طرف سے ترقی دی گئی تھی اور سپریم کورٹ نے ان ترقیوں کو کالعدم قرار دیا تھا۔&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;“ &lt;br /&gt;آپ کا کیا خیال ہے‘ اگر برطانیہ کا وزیراعظم اس طرح کرتا تو کیا ہوتا؟ اول تو وہ اقرباپروری کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا‘ بفرض محال اگر ایسا ہوتا تو قیامت آجاتی۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن وزیراعظم کا حکم ماننے سے انکار کر دیتا‘ اپوزیشن اسے اتنا بڑا معاملہ بناتی کہ وزیراعظم کو مستعفی ہونا پڑتا‘ ان ”کافر“ ملکوں میں ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ آسٹریلیا میں ایک وزیر کو اس لئے استعفیٰ دینا پڑا کہ اس نے ذاتی سفارش کیلئے سرکاری لیٹر پیڈ استعمال کیا تھا۔ ڈنمارک کی ایک وزیر نے رات کے وقت سائیکل پر گھر جاتے ہوئے چوک کی سرخ بتی کا خیال نہ کیا‘ کیمرے نے یہ ”غیرقانونی“ حرکت محفوظ کرلی‘ دوسرے دن دوپہر تک موصوفہ کو وزارت چھوڑنا پڑی۔ &lt;br /&gt;یہ ہے ترقی یافتہ اور غیرترقی یافتہ ملکوں کا اصل فرق۔ دولت اور آسائش میں مشرق وسطیٰ کے مسلمان ممالک مغربی ملکوں سے کسی طور پیچھے نہیں‘ لیکن مساوات‘ قانون کی حکمرانی اور حکمرانوں کا محاسبہ.... یہ ہیں وہ صفات جو مغربی ملکوں کو صحیح معنوں میں ترقی یافتہ بناتی ہیں۔ آپ ذرا موازنہ کیجئے‘ ایک طرف برطانیہ کا وزیراعظم چوں کئے بغیر سرجن کے سامنے سرتسلیم خم کردیتا ہے‘ اس لئے کہ قانون اور ادارے وزیراعظم سے بالاتر ہیں‘ دوسری طرف پاکستان کا وزیراعظم ملک کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا چیئرمین.... جو ایک منتخب رکن اسمبلی ہے‘ ایک افسر کی کارکردگی سے مطمئن نہیں‘ وزیراعظم اسے وہاں سے صرف ہٹاتے نہیں‘ ہٹاتے وقت ترقی بھی دے دیتے ہیں اور کوئی چوں نہیں کرتا‘ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا سیکرٹری جو 35 سال ملازمت کرنے کے بعد اس اعلیٰ عہدے پر پہنچا ہے‘ ایک غلام کی طرح حکم کی تعمیل کرتا ہے اور اگر وہ اس حکم کی تعمیل سے انکار کر دیتا تو اسے سزا ملتی اور پورے سرکاری سیٹ اپ میں کوئی اسکی مدد کو نہ پہنچتا۔ &lt;br /&gt;یہ ہے وہ صورتحال جو اس ملک کو گھن کی طرح کھا رہی ہے‘ ایک طبقہ جو قانون سے ماورا ہے‘ اس ملک کی تباہی کا ذمہ دار ہے اور اس طبقے میں بدقسمتی سے حکومت کے عمائدین اور منتخب ارکان سرفہرست ہیں۔ قانون کو لونڈی سمجھنے کی یہ روایت جب تک ختم نہیں ہوتی‘ کوئی ترکیب کارگر نہیں ہو گی۔ آپ پورے ملک کو کوٹ‘ پتلون پہنا دیں یا اٹھارہ کروڑ کو لمبے کُرتے اور ٹخنوں سے اوپر شلواریں پہنا دیں‘ آپ دھماکے کریں‘ امریکہ کو للکاریں‘ یہود و ہنود کو تباہ کرنے کا اعلان کریں‘ ملک وہیں کا وہیں رہے گا اور جب تک برطانوی وزیراعظم ایک معمولی سرجن کا حکم مانتا رہے گا اور جب تک امریکی صدر ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہے گا‘ کوئی ان ملکوں کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ آپ اس ملک میں قانون کی بے بسی دیکھئے کہ وزیر خزانہ ارکان پارلیمنٹ کی منت سماجت کر رہے ہیں کہ وہ ایمانداری سے ٹیکس ادا کریں‘ جبکہ وزیر خزانہ کی ماتحتی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو جیسا عظیم الجثہ ادارہ موجود ہے اور اس ادارے کو اور وزیر خزانہ کو بھی معلوم ہے کہ ارکان کی اکثریت ٹیکس نہیں ادا کررہی‘ آپ وزیر خزانہ اور انکی وزارت کی بے بسی دیکھئے کہ نجکاری کمیشن وزیراعظم کے سیلاب فنڈ میں ستائیس کروڑ روپے دیتا ہے اور اس میں سے چھبیس کروڑ اشتہار بازی پر خرچ کر دیتا ہے اور وزیر خزانہ کچھ نہیں کرسکتے۔ آپ وزارت خزانہ کی بے بسی دیکھئے کہ اسکے ایک ماتحت ادارے نیشنل بنک میں ویلفیئر فنڈ کے دو ارب روپے خردبرد کرلئے جاتے ہیں اور سپریم کورٹ اس معاملے میں پڑتی ہے‘ گویا فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وزارت خزانہ کا وجود ہی نہیں ہے۔ اور وزیرخزانہ اتنے بڑے منصب پر بیٹھ کر مراعات یافتہ طبقے کے سامنے بے بس ہیں اور جو کام انہیں کرنا چاہیے تھا‘ وہ سپریم کورٹ کر رہی ہے۔ &lt;br /&gt;کاش! اس کافر بچے ڈیوڈ کیمرون ہی سے ہم کچھ سیکھ لیتے! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-1054697014571474809?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/1054697014571474809/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/06/blog-post_21.html#comment-form' title='5 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/1054697014571474809'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/1054697014571474809'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/06/blog-post_21.html' title='وہ کافر بچّہ'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>5</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-4750044431213602516</id><published>2011-06-14T17:50:00.001+05:00</published><updated>2011-06-14T18:12:33.213+05:00</updated><title type='text'>The cap of my boy is missing</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;"&gt;&lt;span style="font-family: Cambria; font-size: x-large;"&gt;In response to an article of mine recently published in the Australian “Eureka Street”, many readers and friends (including my nephew) have responded with emphasis on the niqab or burqa.&lt;span style="mso-spacerun: yes;"&gt;&amp;nbsp; &lt;/span&gt;The central theme of the article has been completely ignored.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;"&gt;&lt;span style="font-family: Cambria; font-size: x-large;"&gt;I must clarify here that the title of the article was originally “Tragic Farce” which was changed into “Islam in denial of burqa” by the journal.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;"&gt;&lt;span style="font-family: Cambria; font-size: x-large;"&gt;The issue is not whether niqab is must or not. As my article states, full face veil has always been a controversial issue. But even if we agree that full face veil is mandatory, still the point raised in the article looms large in the foreground. But first let me narrate a story. &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;"&gt;&lt;span style="font-family: Cambria; font-size: x-large;"&gt;Akram was living in a big city and his friend Arshad was living in a village.&lt;span style="mso-spacerun: yes;"&gt;&amp;nbsp; &lt;/span&gt;Arshad requested his friend Akran to accommodate his son in his house so that he could study and avail the facilities available in the city.&lt;span style="mso-spacerun: yes;"&gt;&amp;nbsp; &lt;/span&gt;Akram allocated a room in his home for Arshad’s son and pointed out certain norms.&lt;span style="mso-spacerun: yes;"&gt;&amp;nbsp; &lt;/span&gt;He would have to be back to the house before dusk and would have to take off his shoes outside the entrance.&lt;span style="mso-spacerun: yes;"&gt;&amp;nbsp; &lt;/span&gt;After some time, the son started violating these norms and protested. The owner told him to either observe the norms of the house or leave.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;"&gt;&lt;span style="font-family: Cambria; font-size: x-large;"&gt;Similar is the situation here. We protest against the French law, but we never discuss why Muslims had to go to France and other Western countries. The newspapers of Western countries were flooded by the comments of their readers in which they asked the Muslims to go back to their own countries. What sort of dignity and self-respect we Muslims have, if any? Ok niqab is mandatory but please think for a while why millions of Muslims have migrated to non-Muslim countries? Why can’t Muslim countries provide what these immigrants find in their new countries? &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;"&gt;&lt;span style="font-family: Cambria; font-size: x-large;"&gt;We do not realize that these countries are providing personal and religious freedom, educational facilities, democratic norms, security, self-respect and above all, rule of the law which the immigrants could not have in their own countries.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;"&gt;&lt;span style="font-family: Cambria; font-size: x-large;"&gt;Why doesn’t Jamaat Islami and others who hold protesting rallies ask Muslim rulers to provide what the Western countries are providing immigrants? If we Muslims think that beggars have choice, we are mistaken. When we condemn host-countries, we are behaving like the naïve woman whose drowning son was rescued by a kind person, but she was condemning him because her son’s cap was missing. &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="MsoNormal" style="margin: 0in 0in 10pt;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-4750044431213602516?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/4750044431213602516/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/06/cap-of-my-boy-is-missing.html#comment-form' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/4750044431213602516'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/4750044431213602516'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/06/cap-of-my-boy-is-missing.html' title='The cap of my boy is missing'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-1991879345165457630</id><published>2011-06-14T17:32:00.000+05:00</published><updated>2011-06-14T17:32:42.110+05:00</updated><title type='text'>صبح  ہونے میں دیر ہی کتنی ہے</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اٹھو۔ خدا کےلئے یہاں سے نکلو۔ ابھی رات کا کچھ حصہ باقی ہے۔ ابھی وقت ہے۔ تباہی کےلئے صبح کا وقت مقرر ہے اور صبح ہونے میں دیر ہی کتنی ہے!&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ساری حدیں پھلانگی جا چکی ہیں۔ ساری حجتیں تمام ہو چکی ہیں۔رسی جتنی ڈھیلی ہو سکتی تھی کی جا چکی اس سے زیادہ وقت نہیں دیا جا سکتا۔ اس سے زیادہ وقت کبھی کسی کو دیا بھی نہیں گیا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ فرشتوں کے پر ایک افق سے دوسرے افق تک پھیل چکے ہیں۔ کیا تم پھڑ پھڑاہٹ کی آوازیں نہیں سن رہے؟ تمہاری زمین اور آسمان کے اس ٹکڑے کے درمیان جو تمہاری زمین کے اوپر ہے‘ سارا خلا بھر چکا ہے۔ فرشتے آرہے ہیں اور جا رہے ہیں۔ تباہی کےلئے صبح کا وقت مقرر ہے۔ اٹھو‘ خدا کےلئے نکلو‘ صبح ہونے میں دیر ہی کتنی ہے! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;خلق خدا کی گردنوں پر سوار ان قزّاقوں نے اس لکیر پر پائوں رکھ دیا ہے جس پر نہیں رکھنا تھا۔ انہوں نے چادر اور احرام کو لوٹا۔ لوٹنے والوں کے ڈانڈے جس شہر سے ملے‘ سب نے دیکھا اور سنا‘ لوٹنے والوں کا سرپرست کون تھا اور کہاں تھا‘ سب کو معلوم تھا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;لوگوں کے حقوق چھین کر اقربا کو دے دئیے گئے‘ ریاست میں روزگار کے جتنے مواقع تھے‘ وہ سب ایک مخصوص طبقے کو سونپ دئیے گئے۔اللہ کی مخلوق کو مزارع اور کرسی کو جو امانت تھی گدی سمجھا گیا۔ فرشتوں نے گرز اٹھا لئے لیکن انہیں روک دیا گیا کہ ہو سکتا ہے یہ سمجھ جائیں‘ ہو سکتا ہے بدحال مخلوق ہمت سے کام لے اور انہیں اپنی گردنوں سے اتار پھینکے!&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;صرف ایک ادارے پورٹ قاسم اتھارٹی میں چھ سو اٹھاسی غیر قانونی بھرتیاں اور ناجائز تعیناتیاں! اور وہ بھی صرف کراچی کے دو حلقوں سے‘ سپریم کورٹ کہتی ہے کہ خدا کےلئے مغل بادشاہوں والا رویہ نہ اپنائو اور اٹارنی جنرل کہتا ہے کہ وزیراعظم سے رابطہ ہوا ہے اور ہم انکوائری کمیشن قائم کرنے کو تیار ہیں۔ کیا چھ سو اٹھاسی مستحق خاندانوں کےساتھ ہونےوالی ناانصافی پر یہی ردعمل ہونا چاہئے تھا؟ اس ننگی بھوکی بلکتی قوم کے منہ سے تین ارب روپے چھین کر پارلیمنٹ کے ارکان کی ایک سو چھ رہائش گاہوں پر لگانے کا حکم دےدیا گیا ہے۔ پونے تین کروڑ روپے فی رہائش گاہ! ان لوگوں کےلئے جو ٹیکس چوری کرتے ہیں! اور عام آدمی کے ساتھ تکبر کا رویہ اپناتے ہیں۔ جو قانون کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں اور انصاف کا مذاق اڑاتے ہیں۔ انکی ایک ایک رہائش گاہ پر تین تین کروڑ روپے! ساڑھے سات کروڑ روپے ان کےلئے حفاظتی انتظامات پر جبکہ عوام کے جسموں کے پرخچے اڑ رہے ہیں۔ پشاور سے کوئٹہ تک اور کراچی سے لاہور تک انسانی گوشت کی بوٹیاں ہوا میں تیر رہی ہیں۔ ایک کروڑ اسی لاکھ روپے ان گردن بلندوں کےلئے ائرکنڈیشننگ کے انتظامات پر‘ جبکہ ٹیکس دینے والے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے برقی رو کے بغیر‘ آسمان کی طرف منہ اٹھائے بددعائیں دے رہے ہیں‘ یہ سب کچھ یہ بے پناہ جرائم بھی برداشت کئے جا رہے تھے لیکن انہوں نے اس لکیر پر پائوں رکھ دیا جس پر نہیں رکھنا تھا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;تکبر‘ آسمان کو چھوتا تکبر‘ انہیں ”سردار“ کہہ کر نہ خطاب کیا جائے تو انکی تیوریاں چڑھ جاتی ہیں اور اگر انکے قبیلے کے عام آدمی کو سردار کہہ دیا جائے اگرچہ وہ گورنر ہی کیوں نہ ہو‘ تو انکی پیشانیاں شکن آلود ہو جاتی ہیں۔ سردار قوم کو سینہ تان کر بتاتا ہے کہ محلات کا شہر کاغذوں میں فارم ہائوس ہے اور فارم ہائوس پر ٹیکس نہیں دیا جا سکتا! اس فارم ہائوس پر&amp;nbsp;سرکاری تنخواہ وصول کرنےوالے سینکڑوں سپاہی پہرا دے رہے ہیں۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;دیواروں سے سر ٹکراتی خلق خدا آٹے کے ایک ایک تھیلے اور چینی کے ایک ایک پیکٹ کو ترس رہی ہے۔ دال اور بینگن ایک سو روپے کے ایک کلو بھی نہیں مل رہے۔ اسی فیصد آبادی سیب اور انڈا کھانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ سی این جی کے چند بلبلوں کےلئے اور پٹرول کے چند قطروں کےلئے پوری پوری رات قطار میں کھڑے لوگ اس طبقے کا منہ نوچنا چاہتے ہیں جو کبھی اقتدار اور کبھی حزب اختلاف کا چولا پہن کر ان کا خون پی رہا ہے لیکن انکے اعصاب کی مضبوطی دیکھئے کہ یہ ایک دوسرے کو ولایتی کتوں کے پلے تحفوں میں دے رہے ہیں۔ عوام کی ثقافت کےساتھ اس ملک کی ثقافت کےساتھ ذرا انکی ہم آہنگی دیکھئے‘ ایک نے کروڑوں اربوں کا فارم ہائوس بنایا ہے‘ دوسرے نے پہاڑی کی چوٹی پر چار سو کنال کا ”گھر“ تعمیر کیا ہے جس میں مبینہ طور پر کتوں کی تعداد نوکروں سے زیادہ ہے۔ صرف تحفہ ہی نہیں‘ اس مبارک پلے کے حسب و نسب پر باقاعدہ بحث ہوتی ہے۔ پہلے یہ کہا جاتا ہے کہ کتے کا یہ بچہ ڈکٹیٹر کو جرمن چانسلر نے دیا تھا۔ پھر عوام کو یہ خوش خبری دی جاتی ہے کہ نہیں‘ یہ پلا‘ ڈکٹیٹر کی کتاب لکھنے والے صحافی کی ملکیت میں تھا لیکن اس کی ”رہائش“ ڈکٹیٹر کے فارم نما محل میں تھی!&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;مسخروں اور کارٹونوں کی یہ ساری حرکتیں دیکھی جا رہی تھیں اور رسی بدستور ڈھیلی تھی لیکن انہوں نے اس لکیر پر پائوں رکھ دیا جس پر نہیں رکھنا چاہئے تھا۔ ان کے ملازموں نے اپنے ہی لوگوں کو گلیوں اور چوراہوں پر مارنا شروع کر دیا ہے‘ جیسے انسان نہ ہوں کتے بلے ہوں۔ ہاتھ جوڑتے نہتے بندوں کو جس طرح بندوقوں سے قتل کیا جا رہا ہے‘ اس طرح تو روسی چیچنیا کے مسلمانوں کو‘ بھارتی کشمیریوں کو‘ اسرائیلی فلسطینیوں کو اور امریکی عراقیوں کو بھی نہیں مارتے لیکن جب ایوان میں اس پر کچھ لوگ ماتم کناں ہوتے ہیں تو انہیں کہا جاتا ہے کہ ماتم کی لو اونچی نہ کرو اور احتجاج کی آواز آہستہ رکھو۔اس سے پہلے کہ پکی ہوئی مٹی کے پتھر تابڑ توڑ برسنا شروع ہو جائیں‘ اٹھو اور یہاں سے نکل چلو‘ وہ جو اس ملک کو اپنی جاگیر اور یہاں کے لوگوں کو بے وقعت سمجھتے ہیں‘ ان سے جس قدر جلد فاصلے پر ہو سکتے ہو‘ ہو جائو‘ ان کی تباہی کےلئے صبح کا وقت مقرر ہے۔ الیس الصبح بقریب۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-1991879345165457630?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/1991879345165457630/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/06/blog-post_14.html#comment-form' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/1991879345165457630'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/1991879345165457630'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/06/blog-post_14.html' title='صبح  ہونے میں دیر ہی کتنی ہے'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-5485319005838785316</id><published>2011-06-07T10:07:00.001+05:00</published><updated>2011-06-07T11:00:31.230+05:00</updated><title type='text'>افسوس اے حجاج! افسوس!</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;حجاج! تو نے یہ کیا کیا؟ افسوس! تو نے کیا کر دیا!&lt;br /&gt;ایک خاتون کے دہائی دینے پر اتنا طوفان کھڑا کیا۔ کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا، سری لنکا سے آنےوالے جہاز کو قزاقوں نے لوٹا، کچھ کو قیدی بنایا، ایک عورت نے دہائی دی۔ یا حجاج! اور تم نے بصرہ سے لےکر دیبل تک.... عراق سے لےکر سندھ تک.... زمین کو اس بے یارو مددگار عورت کی دہائی سے بھر دیا۔ تم نے جواب میں ”لبیک“ کہا اور پھر سینکڑوں ہزاروں کوس پر پھیلے ہوئے کوہ و دشت اور صحرا و دریا پر اور آبادیوں اور ویرانوں پر اپنے لبیک کی گواہی کو چادر کی طرح تان دیا۔ ایک تنی ہوئی چادر، افق تا افق، شہر تا شہر--- ہر اس عورت کو ڈھانپتی ہوئی جو دہائی دے اور حجاج لبیک کہتا ہوا، لشکروں کو روانہ کر دے!&lt;br /&gt;ضائع کیا تم نے اپنے لشکروں کو اے حجاج! ریاست کے لاکھوں درہم اور دینار خرچ کر ڈالے، راجہ کی حکومت کو موت کے گھاٹ اتار دیا، صرف ایک عورت کی فریاد پر! افسوس ہے حجاج! تم پر افسوس ہے!&lt;br /&gt;اور تمہاری تشویش--- اور بے تابی--- اور راتوں کی بے خوابی اور دنوں کا پیچ و تاب--- یوں کہ لشکر دیبل روانہ ہوا تو ایک ایک کوس کی رپورٹ طلب کی، ایک ایک پڑاﺅ کا محاسبہ کیا، ہراول دستے بھیجے اور معلوم کیا کہ وہاں کا پانی کیسا ہے اور کھجور کس معیار کی ہے اور گھوڑے کیسے ہیں؟&lt;br /&gt;حجاج! تم نے یہ سب ایک عورت کی فریاد پر کیا؟ افسوس حجاج! افسوس!&lt;br /&gt;کاش تم آج ہوتے تو تمہیں معلوم ہوتا کہ عورتوں کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری نہیں! ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ عوتیں ذلیل و رسوا ہوں۔ عورت جس کے بارے میں اللہ کے آخری رسول نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں تلقین کی تھی کہ ان کا خیال رکھنا--- عورت --- ریاست کی ذمہ داری نہیں! ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ عورت کو یہ باور کرائے کہ مملکت خداداد میں اس کےلئے کوئی جگہ نہیں!&lt;br /&gt;وہ عورت تو ان پڑھ بھی نہیں تھی لیکن پھر بھی اس کےساتھ معاملہ اسی طرح کیا گیا جیسے ان پڑھ عورتوں کےساتھ ونی کی جاتی ہے اور اسوارہ کیا جاتا ہے اور کاروکاری کی جاتی ہے۔ وہ ایک یونیوسٹی میں پروفیسر تھی۔ اپنی گاڑی پر جا رہی تھی۔ اسے ایک مرد نے غلط اوورٹیک کیا اتنا غلط کے اس عورت نے مشکل سے اپنی گاڑی کو اور اپنے آپ کو بچایا۔ اس نے مرد ڈرائیور سے احتجاج کیا اور بحث کی۔ اس گستاخی کی سزا اسے یوں ملی کہ پوری رات تھانے میں گذارنا پڑی، اسے کسی ایف آئی آر--- کسی مقدمے کسی جرم کے بغیر رات بھر محبوس رکھا گیا۔یہ سب کچھ جائز تھا‘ اس لئے کہ یہ اقلیم ان حکمرانوں کی ہے جو ملک میں خونیں انقلاب کی نوید سناتے ہیں جو اپنے لئے محلات نہیں، محلات کے شہر بساتے ہیں۔ جو اپنی کھانسی، اپنے زکام اور اپنی چھینک کے علاج کےلئے بھی سات سمندر پار جاتے ہیں جہاں انکے سرمائے ہیں اور انکی سلطنتیں ہیں۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;جب پولیس آفیسر سے پوچھا جاتا ہے کہ تم نے غیر قانونی طور پر خاتون کو رات بھر کیوں محبوس رکھا تو اخباری رپورٹ کے مطابق وہ مسکراتا ہے اور جواب میں صرف اتنا کہتا ہے کہ مجھے حساس ادارے کے اہلکار نے کہا تھا سبحان اللہ کیا منطق ہے اور کیا اختیار ہے!&lt;br /&gt;ہاں، درست ہے کہ حساس ادارے کے افسر اور اہلکاروں نے غلط کام کیا‘ انہوں نے اپنے دائرے سے تجاوز کیا۔ حساس اداروں کے اصحاب قضا و قدر کو یہ امر یقینی بنانا چاہئے کہ کسی فرد واحد کے ذاتی جھگڑے یا ذاتی انا کےلئے شعبے کا استعمال بند ہو لیکن کیا ایک پولیس افسر اتنا چھوئی موئی، اتنا بے بس اور اتنا ڈرپوک ہوتا ہے کہ کسی بھی حساس ادارے کے اہلکار اس سے جو چاہیں کروا سکتے ہیں؟ کیا وہ اپنے افسر اعلیٰ کو بھی صورتحال سے آگاہ نہیں کر سکتا تھا؟ تو پھر کل کو رینجرز، ایف سی، سکاﺅٹ اور ملیشیا بھی تھانوں میں اپنی مرضی چلائیں گے پھر پرسوں واپڈا تھانوں کو دھمکی دے گا کہ اگر اس کے کہنے پر فلاں عورت کو محبوس نہ کیا گیا تو وہ تھانے کی بجلی کاٹ دینگے۔ واہ! کیا اسلوب حکمرانی ہے۔ سچ کہا تھا اہل دانش نے کہ جب صوبوں کے سربراہ اداروں کو پامال کر کے ہر کام اپنے ہاتھ میں لے لیں گے اور مجوزہ طریق کار کے بجائے ”حکم“ چلے گا اور ہر بازار سے نظر گھنٹہ گھر ہی پر پڑے گی تو اہلکار کام کرنا چھوڑ دیں گے اور ادارے خاک کا ڈھیر بن جائیں گے اور پوری مشینری صرف ایک شخص کا امیج تعمیر کرنے میں لگ جائےگی۔&lt;br /&gt;جب صورتحال ایسی ہو جائے تو پھر لوگ قانون کے محافظوں پر تین حرف بھیج کر طالبان کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ لاقانونیت کے اس جنگل میں خلق خدا کو دہشت گرد بھی بھلے لگنے لگتے ہیں۔ خدا کی قسم! جب اعلیٰ تعلیم یافتہ عورتوں کو بھی بغیر کسی جرم کے رات رات بھر تھانوں میں رکھا جائےگا۔ تو لوگ وفاداریاں بدل لیں گے۔ وہ اپنی حفاظت کےلئے اپنی عزت بچانے کیلئے پگڑیوں اورداڑھیوں والوں کو بھی خوش آمدید کہیں گے اور سفید چمڑی والوں کو بھی نجات دہندہ سمجھنے لگ جائینگے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;کہاں کی سیاست اور کہاں کے تجزیے! کون سے بجٹ اور کیسی فی کس شرح آمدنی! خدا کے بندو، ایک بڑے، بہت بڑے شہر میں ایک بے گناہ خاتون کو رات بھر پولیس سٹیشن میں بند رکھا جاتا ہے اور تم اسمبلیوں میں اپنے استحقاق کی تحریکیں جمع کراتے پھرتے ہو۔ بس گنے جا چکے تمہارے دن&amp;nbsp;&amp;nbsp; او ر&amp;nbsp;&amp;nbsp; ہو چکا فیصلہ تمہاری کھڑپینچی کے بارے میں .... جعفر برمکی نے آنکھوں کو خیرہ کرنےوالا محل بنوایا اور اس میں داخل ہونے کیلئے ستارہ شناسوں سے مبارک گھڑی پوچھی۔ ایک راہ گیر نے سنا تو اس نے ساری ستارہ پرستی اور دولت کا گھمنڈ چٹکی میں اڑا دیا۔ اس نے کہا ....&lt;br /&gt;تدبر بالنجومِ ولست تدری&lt;br /&gt;و رب النجم یفعل ما یشائ&lt;br /&gt;تو ستاروں کی مدد سے تدبیریں کرتا ہے لیکن تجھے معلوم نہیں کہ ستاروں کو پیدا کرنےوالا جو چاہے کر لیتا ہے! افسوس ہے حجاج! تم پر تم نے ایک عوت کی فریاد پر دھرتی ہلا ڈالی اور جواب میں ایسی لبیک کہی کہ آسمانوں نے سنی، تم زندہ ہوتے تو مملکت خداداد میں خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک سے سبق سیکھتے۔ ہائے حافظ شیرازی کہاں یاد آ گیا....&lt;br /&gt;خون ما خوردند، ایں کافر دلان&lt;br /&gt;ای مسلمانان! چہ درماں الغیاث&lt;br /&gt;یہ کافر دل تو ہمارا خون بھی پی چکے ۔ اے مسلمانو! آخر علاج کیا ہے؟ الغیاث--- الغیاث۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-5485319005838785316?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/5485319005838785316/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/06/blog-post.html#comment-form' title='8 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/5485319005838785316'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/5485319005838785316'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/06/blog-post.html' title='افسوس اے حجاج! افسوس!'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>8</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-2896215828327135321</id><published>2011-06-05T16:23:00.000+05:00</published><updated>2011-08-17T16:43:32.504+05:00</updated><title type='text'>Tragic Farce</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;They were furious. They were chanting slogans. They were swearing to crush the conspiracy being hatched against Islam. They were cursing the Western 'flawed' way of life. The rally was organised to condemn the banning of the burqa (full face veil) in France.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_lae7i6="176" style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;Paradoxically, hardly any of the protesters had actually read the text of the French enactment banning, from April, the full face veil. In countries like Pakistan, the nucleus of present Muslim extremism, where literacy is not more than 15 to 20 per cent and centuries old feudalism has been successfully forestalling education, who'd bother to find out and go through the text of the legislation?&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;The intellectual decline which has engulfed the Muslim world has thrown it into a dangerous state of denial. Everything that other, especially advanced countries, do is perceived and analysed in the light of 'conspiracy theories'. The majority of Muslims are suffering from a devastating persecution complex, which, in turn, is begetting and aggravating militant extremism. Such has been the reaction to the French burqa ban.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;Every Muslim knows that wearing the burqa has never been irremissible in Islam. A considerable number of Islamic jurists do not support it. Millions of Muslim women, while reaping crops in agricultural fields, picking cotton in plantations of central Pakistan, handling herds in Central Asian pasturelands, teaching in universities, working in banks and elsewhere do not wear the burqa.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;Billions of Muslim women have never, and will never, cover their faces while performing the pilgrimage to holy Mecca. They are not allowed by Islam to do so during pilgrimage.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;In France, as elsewhere, only a handful of Muslim women cover their faces. Yet fanatics are making the French enactment an issue and presenting it as anti Islamic sentiment. The full face veil is being jumbled up with the hijab (head-covering). France has not prohibited covering of head. Interestingly, Saudi Arabia has made wearing of abaya (robes) mandatory for all women who visit that country or live there, irrespective of their religion.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;This brings us to another issue being thrown into oblivion by protesting Muslims. Millions of Muslims have migrated to the developed world where 'flawed secular' values are at variance with Islamic, or so called Islamic, requirements. There are more than 50 Muslim countries, some of which (such as Saudi Arabia, Libya, Qatar) are fabulously wealthy. Why it is that not one of all these countries can accommodate Muslim immigrants?&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;Statistics are mind-blowing. According to 2009 figures, 365,000 Muslims have made Australia their home, 281,000 live in Belgium, 657,000 in Canada, 3,554,000 in France, 4,026,000 in Germany, 946,000 in Netherlands, 650,000 in Spain, 1,647,000 in UK, and 2,454,000 in USA.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;Millions are ensconced in Italy, Greece, Scandinavia, Switzerland, Austria, Japan and New Zealand. Millions more are struggling to follow. There are long queues in front of the embassies of Western countries. Asylum seekers are setting ashore from boats and cargo vessels. Many manage to land with tourist visas and vanish.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div closure_uid_lae7i6="164" style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;Economics is not the only catalyst. The unemployed destitute and the affluent lucky-one are equally enthusiastic to reach these promised lands. The rule of law, democratic norms, equal opportunities, better education prospects, and religious, political and personal freedom attract them to these countries. None of these is available in their homelands.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;A strange Kafalah (sponsorship) system is prevailing in oil rich Middle Eastern citadels of Islam. Every migrant worker needs, by law, a guarantor who must be a local citizen. The guarantor legally owns the business and all movable and immovable property of the migrant, and documents are held in his custody. Nothing belongs to the migrant, whether he is entrepreneur or employee, except his passport, which he must carry wherever he goes.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;'When employers have near total control over migrants' ability to change jobs, and sometimes to leave the country, workers can get trapped in exploitative situations in which they are forced to work without wages, get beaten or face other abuse,' says a Human Rights Watch (HRW) report.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;Outrage over slights such as the burqa ban in France are a distraction from these more important issues. Look at the protests against this backdrop. Isn't it a farce? Albeit a tragic farce!&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: left;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-2896215828327135321?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/2896215828327135321/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/06/islam-in-denial-over-burqas.html#comment-form' title='4 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2896215828327135321'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2896215828327135321'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/06/islam-in-denial-over-burqas.html' title='Tragic Farce'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>4</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-9059300060975694576</id><published>2011-05-31T13:39:00.001+05:00</published><updated>2011-06-06T15:36:01.698+05:00</updated><title type='text'>کاش! مولانا فضل الرحمن ایسا کر دیں</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;لاکھ مخالفت کے باوجود، یہ ایک حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے ایسی بات کہی ہے جو متوازن ہے اور جس بات کی بنیاد توازن پر ہو، اسے سننا چاہئے اور اس پر غور بھی کرنا چاہئے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;بدقسمتی سے ہم آج دو انتہاﺅں کا شکار ہیں اور سچائی ان دو انتہاﺅں کے درمیان چھپ گئی ہے۔ ایک طرف وہ فریق ہے جو امریکہ پر کئے جانےوالے کسی اعتراض کو تسلیم نہیں کرتا، ہر خرابی کا ذمہ دار مذہبی حلقوں کو گردانتا ہے اور یہ ماننے کےلئے تیار نہیں کہ اگر ہم امریکہ کی چند باتیں مانتے اور اکثر باتیں نہ مانتے تو اس میں کوئی برائی نہیں تھی۔ وہ یہ بھی تسلیم نہیں کرتے کہ جنرل مشرف اور مسلم لیگ ق کی مشترکہ حکومت نے امریکہ کے وہ مطالبات بھی تسلیم کر لئے جن کی توقع خود امریکی بھی نہیں کر رہے تھے۔ دوسرا فریق ایک اور انتہا پر کھڑا ہے۔ اسکے نزدیک دھماکے کرنےوالے سب کے سب بھارتی اور اسرائیلی ہیں۔ وہ ایک لمحے کےلئے بھی اس موضوع پر بات کرنا تو درکنار، سوچنا بھی گوارا نہیں کر رہے کہ اگر اسامہ سے لےکر عمر خالد شیخ تک سب کے سب مطلوب افراد پاکستان سے برآمد ہونگے تو دنیا پاکستان کے بارے میں منفی رائے ضرور قائم کرےگی اگر اس فریق سے کہا جائے کہ دہشتگرد بے گناہ پاکستانیوں کو آخر کیوں مار رہے ہیں تو ان کا ایک ہی جواب ہے کہ آخر امریکہ بھی تو ڈرون حملے کر رہا ہے۔ &lt;br /&gt;مولانا فضل الرحمن بوجوہ کسی سنجیدہ اور متین تعلیم یافتہ پاکستانی کو کبھی اچھے نہیں لگے۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ فارمولا زبان زد عام و خاص تھا کہ جے یو آئی وہ مچھلی ہے‘ جو اقتدار کے پانی سے باہر زندہ نہیں رہ سکتی، اقتدار کا پانی جتنا بھی ٹھہرا ہوا, متعفن اور سڑاند والا&amp;nbsp;ہو اس نے اسکے اندر ہی رہنا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے اقتدار سے نکل کر اور واپس نہ آ کر اپنے ناقدین کو حیران کر دیا۔ خیر یہ تو ایک جملہ، معترضہ تھا۔ ہم بات مولانا کے اس بیان کے بارے میں کر رہے تھے جو انہوں نے دو دن پیشتر علما کنونشن پشاور میں تقریر کی صورت میں دیا اور ایک بار پھر اپنے مخالفین پر (جن میں یہ کالم نگار بھی شامل ہے) ثابت کر دیا کہ وہ سیاسی حرکیات &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;Dynamic &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;کو بروئے کار لاتے ہوئے تجزیہ کرنا جانتے ہیں اور خوب جانتے ہیں۔ مولانا نے جہاں حکومت کی امریکہ نوازی پر کڑی تنقید کی اور جہاں امریکی عزائم کو بے نقاب کیا، وہاں یہ بھی کہا کہ :&lt;br /&gt;-1&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;ملک میں حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ داڑھی اور پگڑی پہننے والے بھی محفوظ نہیں رہے۔&lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;۲&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;چونکہ دہشت گردی کی کارروائیاں اسلامی مدارس سے جوڑی جا رہی ہیں اس لئے عسکریت پسندی اور لاقانونیت کی موجودہ لہر کے اثرات، مذہبی حلقوں پر براہ راست پڑ رہے ہیں۔ &lt;br /&gt;-3&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;مولانا نے مسلح اور عسکری جدوجہد کے بجائے سیاسی جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا اور &lt;br /&gt;-4&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;یہ دعویٰ کیا کہ چونکہ ان کی جماعت صرف سیاسی اور&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;پارلیمانی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اس لئے اس نے مسلح جدوجہد کو ہمیشہ غلط قرار دیا۔&lt;br /&gt;گویا مولانا نے یہ تسلیم کیا کہ ملک میں ایک مسلح جدوجہد جاری ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ زمینی حقیقت برملا کہتی ہے کہ مسلح جدوجہد جاری ہے، دوسرا یہ کہ اسی مسلح جدوجہد کے وقوع پذیر ہونے پر غور اسی وقت ہو سکتا ہے۔ جب ایک چیز کے وجود کا اعتراف کیا جائے۔ مولانا نے اس حقیقت کو تسلیم کر کے ذہنی بلوغت کا ثبوت دیا ہے۔ اسکے مقابلے میں جب حقائق کا ادراک کرنےوالا طبقہ ان مسخرہ نما رہنماﺅں کی دھواں دار تقریریں سنتا ہے جو سامنے نظر آنےوالے حقائق کا بھی انکار کرتے ہیں تو وہ سوائے ہنسنے اور ان سے ہمدردی کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتا۔رہا مولانا کا یہ دعویٰ کہ انکی جماعت نے ملک کے اندر ہونےوالی مسلح جدوجہد کو ہمیشہ غلط قرار دیا ہے تو یہ ایک متنازعہ بات ہے۔ اسکی وجہ ہماری یادداشت کا ناقص ہونا بھی ہو سکتا ہے لیکن مولانا یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اکثر و بیشتر ذو معنی الفاظ اور سیاسی ابہام ہی انکی شناخت رہے ہیں اور بہت کم مواقع پر وہ بات کو برملا انداز میں بیان کرتے ہیں اور چونکہ وہ عربی کے عالم ہیں اسلئے یہ بھی جانتے ہیں کہ الشّاذُ کالمعدوم! یعنی جو بہت ہی کم ہو، وہ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے! &lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;انتہائی اہم نکتہ جو مولانا نے بیان کیا یہ ہے کہ موجودہ دہشت گردی کے اثرات مذہبی حلقوں پر پڑ رہے ہیں اس لئے کہ عسکریت پسندی کے ڈانڈے مدرسوں سے ملائے جا رہے ہیں۔ یہ ہے وہ اصل بات جس سے مولانا اور انکے مکتب فکر کے دوسرے رہنما اب سے پہلے بے نیاز رہے ہیں اور تجاہل عارفانہ کی پالیسی اختیار کئے رہے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ عسکریت پسند ایک خاص مکتب فکر سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ اس مکتب فکر نے ہمیشہ سکوت سے کام لیا اور اپنے آپ کو&amp;nbsp; ان کارروائیوں سے بری الذمہ نہ قرار دیا۔ یہاں تک کہ ایک معروف مذہبی سکالر سے جب دہشت گردی&amp;nbsp; کی کارروائیوں کے بارے میں سوال کیا&amp;nbsp; گیا&amp;nbsp;تو انہوں نے ٹیلی ویژن پر جواب میں یہ کہا کہ یہ فتنوں کا زمانہ ہے&amp;nbsp; اور اس زمانے میں سکوت ہی بہتر ہے۔لیکن کراچی کا جوڑیا بازار&amp;nbsp; دہشت گردی کا شکار ہئوا تو سکوت کی پالیسی بھک سے اُڑ گئی اور دھئواں دار پریس کانفرنسیں کی گئیں۔ ستم ظریفی کا ارتکاب یہاں تک کیا&amp;nbsp;گیا کہ جب سوات میں قبروں سے لاشیں نکال کر&lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;لٹکائی گئیں تب بھی مذمت کی&amp;nbsp; گئی نہ یہ وضاحت کی گئی کہ مکتب فکر&amp;nbsp; کا اس سے کوئی تعلق نہیں&amp;nbsp;ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ مولوی فضل اللہ جیسے عسکریت پسند&amp;nbsp; عالم دین نہیں تھے۔لیکن اس قسم کے لوگ&amp;nbsp;ایک مکتب فکر کے&amp;nbsp;علم بردار بن کر اُس مکتب فکر کو بدنام کرتے رہے۔ دہشت گردی کی کارروائیاں&amp;nbsp; اس مکتب فکر کے ساتھ اس حد تک وابستہ ہو&amp;nbsp;گئیں کہ&amp;nbsp; حریف مکتب فکر بھی منظم ہو کر اور خم ٹھونک کر&amp;nbsp; باہر نکل پڑا اور اس نےمطالبہ کیا کہ مزاروں پر حملےکرنے والے مکتب فکر کو روکا جائے۔&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp;کستان کسی ایک مکتب فکر کا ملک نہیں، سارے مکاتب فکر کو اس میں رہنے کا حق ہے۔ یہ مکاتب فکر، ایک دوسرے کو الزام دینے کے بجائے یہ بھی سوچیں کہ پاکستان کی سلامتی سب سے زیادہ ضروری ہے۔ پاکستان ہے تو ہم سب بھی ہیں اور ہمارے مکاتب فکر بھی ہیں۔مسلّح جدو جہد کرنے والے عسکریت پسند پورے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ چند بندوق بردار&amp;nbsp; ہاتھوں کی وجہ سے&amp;nbsp; سارے مدارس بدنام ہو رہے ہیں۔ مولانا&amp;nbsp; نے مسئلے&amp;nbsp; کی نشاندہی&amp;nbsp; کی ہے&amp;nbsp; لیکن انکی ذمہ داری یہاں ختم نہیں ہو جاتی۔ لازم ہے کہ مولانا اپنی اس نشاندہی کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ مولانا اپنے مکتب فکرکے تمام بڑے بڑے رہنماﺅں اور علماءکو اکٹھا کریں اور انہیں اس حقیقت کا احساس دلائیں کہ چند عسکریت پسندوں کی کارروائیوں اور چند غیر سند یافتہ نیم علماءکے اقدامات کی وجہ سے پورا مکتب فکر بدنام ہو رہا ہے اور زد مدارس پر پڑ رہی ہے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے&amp;nbsp; فرقہ وارانہ منافرت میں کمی واقع ہو گی۔&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-9059300060975694576?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/9059300060975694576/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/05/blog-post_31.html#comment-form' title='15 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/9059300060975694576'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/9059300060975694576'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/05/blog-post_31.html' title='کاش! مولانا فضل الرحمن ایسا کر دیں'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>15</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-3410619505108595712</id><published>2011-05-24T18:09:00.001+05:00</published><updated>2011-05-26T18:17:16.069+05:00</updated><title type='text'>کیا وزیر اعظم گیلانی ایسا کریں گے ؟؟</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;صدر تو ایک حادثے کے نتیجے میں سیاست میں در آئے، سوال یہ ہے کہ مصیبت کے اس موسم میں کیا وزیراعظم عوام کے دکھ میں شریک ہیں؟ نہیں! بالکل نہیں! وزیراعظم کو اُس مصیبت کے دسویں تو کیا ہزارویں حصے کا بھی احساس نہیں جس میں ٹیکس ادا کرنےوالے بے بس عوام مبتلا ہیں! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;سوٹ اور نکٹائی‘ سوٹ اور نکٹائی‘ اسکے بعد پھر سوٹ نکٹائی اور صرف اور صرف سوٹ اور نکٹائی! دنیا کے تمام ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان اگر سوٹوں اور نکٹائیوں کا مقابلہ ہو تو پاکستان کے وزیراعظم کم از کم اس مقابلے میں فرسٹ پوزیشن ضرور حاصل کر لیں گے! حد سے بڑھے ہوئے اس شوق کی تہہ میں کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے یا کچھ اور؟ یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن جو وزیراعظم سوٹ اور نکٹائی کے بغیر خواب میں بھی نظر نہ آئے اُسے کیا معلوم کہ چالیس سے بڑھے ہوئے درجہ حرارت میں کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ عوام پر کیا قیامت ڈھا رہی ہے! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;کوئی مانے یا نہ مانے، لوڈشیڈنگ سے نجات پانے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ وزیراعظم ہائوس، ایوانِ صدر اور وفاقی وزیروں کی رہائشی کالونی میں بھی اتنی ہی لوڈشیڈنگ ہو جتنی پاکستان کے عوام کےلئے ہے۔ ان مراعات یافتہ افراد کو صرف ایک جون اور ایک جولائی لوڈشیڈنگ کےساتھ گزارنے دیجئے پھر دیکھئے کہ یہ پرویز اشرفوں اور نوید قمروں کےساتھ کیا سلوک کرتے ہیں اور بجلی کی کمی پوری ہوتی ہے یا نہیں۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;دنیا کے باقی ملکوں میں کیا ہوتا ہے؟ پڑوسی ملک بھارت کے روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی ایک عام سی خبر پڑھئے۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;”گول مارکیٹ کی رہائشی آشا کماری نے بتایا کہ دوپہر کے ڈیڑھ بجے کے بعد بجلی بند رہی۔ ہم لوگوں نے بجلی کے محکمے میں اپنی شکایات رجسٹر کروائیں۔ محکمے نے بتایا کہ پاور سپلائی میں کوئی مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ اُدھر نئی دہلی میونسپل کمیٹی کے ایک سینئر اہلکار کا بیان ہے کہ وزیراعظم ہائوس سے بھی دو شکایات موصول ہوئیں اور دونوں شکایتیں متعلقہ محکمے کو بھیج دی گئیں۔ بجلی منقطع ہونے کی وجہ غالباً یہ تھی کہ علاقے میں کھدائی کا کام ہو رہا تھا!“ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;بھارت میں یہ اس لئے ممکن ہے کہ وہاں کے ”بدلباس“ وزیراعظم کے پاس نصف درجن سے بھی کم کُرتے، پاجامے اور شیروانیاں ہیں۔ اسکی بیوی بازار سے سودا سلف خود لاتی ہے۔ دہلی میں جب خواتین نے مہنگائی کے خلاف جلوس نکالا&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;تو اس میں وزیر اعظم کی بیوی بھی شامل تھی۔&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;فرانس کی مثال دیکھئے۔ ایوانِ صدر کے تمام اخراجات کی تفصیل آڈیٹر جنرل آف فرانس کو پیش کی گئی۔ آڈیٹر جنرل نے کچھ ایسے اخراجات پر اعتراض کیا جو صدر کو ذاتی جیب سے ادا&amp;nbsp;کرنے چاہئیں تھے لیکن حکومت کے ذمے ڈال دئیے گئے۔ صدر نے یقین دلایا کہ یہ انکے علم میں نہیں تھا چنانچہ صدر سرکوزی نے چودہ ہزار ایک سو تئیس یورو کی رقم قومی خزانے میں اپنی جیب سے جمع کرائی۔ آڈیٹر جنرل نے صدر کو تنبیہ کی کہ خرچ کم کیا جائے۔ کھانا فراہم کرنے والی کمپنیوں سے ازسرنو معاہدے کر کے نرخ کم کرائے جائیں۔ پھولوں اور سجاوٹ کی دیگر اشیاءکم خریدی جائیں۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ایوان صدر نے گیس اور بجلی کے بل تاخیر سے جمع کرائے اور یوں جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ اس پر بھی اعتراض کیا گیا۔ عوام سے سیاسی مسائل پر رائے لینے کےلئے ایوانِ صدر نے سروے کرایا۔ اس پر جو رقم صرف ہوئی آڈٹ نے وہ بھی منظور نہ کی۔ فرانس کے صدر نے ان سارے اعتراضات کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا اور یقین دلایا کہ وہ محتاط ہو جائینگے۔ انہوں نے سینئر اہلکاروں اور افسروں کا دوپہر کا سرکاری کھانا بند کرا دیا اور صدارتی جہاز میں صدر کےساتھ سفر کرنےوالے صحافیوں کو پیش کئے جانےوالے مہنگے مشروبات بھی بند کرنے کا حکم دیا! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہ تو بھارت اور فرانس کی مثالیں ہیں۔ ایک وقت وہ بھی تھا کہ یہ سب کچھ پاکستان میں بھی ہو رہا تھا۔ قائداعظم ہر ماہ گورنر جنرل ہائوس کے اخراجات کا خود جائزہ لیتے تھے۔ بہت سے سرکاری اخراجات وہ اپنی جیب سے ادا کر دیتے تھے۔ انہوں نے سٹاف کو ذاتی طور پر ہدایت کی کہ بجلی اور پانی کے استعمال میں حد درجہ احتیاط سے کام لیں۔ وہ صرف ایک روپیہ ماہانہ تنخواہ، علامتی طور، لیتے تھے۔ گورنر جنرل کے طور پر وہ اپنی ذاتی گاڑی پیکارڈ استعمال کرتے جسے وہ بمبئی سے ساتھ لائے تھے۔ یہ انہوں نے پندرہ سال پہلے خریدی تھی۔ ڈرائیور بھی انکا ذاتی ملازم تھا جو اُنکے ساتھ ہی بھارت سے آیا تھا۔ گورنر جنرل گاڑی کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔ جب وزارت خارجہ اور محکمہ پروٹوکول نے اصرار کیا کہ گورنر جنرل کےلئے سرکاری کار اور جہاز ہونا چاہیے تو قائداعظم نے رپورٹ طلب کی کہ دولتِ مشترکہ کے باقی ممالک کا اس ضمن میں کیا عمل ہے جب انہیں بھارت میں وائسرائے اور اس کے اہل خانہ پر خرچ کئے جانےوالے بھاری بجٹ کا علم ہوا تو وہ حیران ہوئے۔ انہوں نے وزیراعظم سے کہا ”ہمارا نیا ملک اس سب کچھ کا متحمل نہیں ہو سکتا، میرا بجٹ کم سے کم رکھو، میں اپنے ذاتی خرچ پر آرام سے رہ سکتا ہوں۔ ہمیں کشمیری اور مہاجرین کی آبادکاری کےلئے رقم درکار ہے۔ مجھے نئی کار کی کوئی ضرورت نہیں، میری اپنی کار پیکارڈ ٹھیک ٹھاک چل رہی ہے۔ رہے لمبے سفر .... تو میں عام پروازوں سے یا ائر فورس کے جہازوں پر جا سکتا ہوں!“ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;قحط پڑا تو عمر فاروق اعظمؓ نے گھی کا استعمال ترک کر دیا، آپ خشک روٹی کھانے لگے اور کئی مہینے یوں ہی گزر گئے۔ یہاں تک کہ ان کا سرخ و سفید چہرہ سیاہ پڑنے لگا اور لوگوں کو گمان ہوا کہ امیر المومنین اپنی جان سے گزر جائیں گے۔ لیکن جب تک قحط ختم نہ ہو گیا اور عام لوگ گھی خریدنے کے قابل نہ ہو گئے آپ نے یہ مشقت جاری رکھی۔ حضرت علیؓ کی خدمت میں عید کے دن ملاقاتی حاضر ہوا۔ اُس نے دیکھا کہ آپ خشک روٹی تناول فرما رہے تھے! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ملک جہنم بنا ہوا ہے کہیں درجہ حرارت 46 ہے اور کہیں اس سے بھی زیادہ ۔ لوگ بے ہوش ہو کر گر رہے ہیں اور مر رہے ہیں۔ لوڈشیڈنگ اس قدر زیادہ کہ تاریک براعظم افریقہ کے ملکوں میں بھی ایسا نہ ہوتا ہو گا۔ اس میں شک نہیں کہ وزیراعظم کچھ بھی نہیں کر سکتے، ان میں وژن ہے نہ ادراک ۔ لیکن وہ اتنا تو کر سکتے ہیں کہ اپنے دفتر....اپنے گھر.... ایوانِ صدر.... اور اپنے وزیروں کے سرکاری محلات میں لوڈشیڈنگ کے دوران بجلی کی سپلائی بند کروا دیں! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-3410619505108595712?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/3410619505108595712/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/05/blog-post_24.html#comment-form' title='0 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/3410619505108595712'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/3410619505108595712'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/05/blog-post_24.html' title='کیا وزیر اعظم گیلانی ایسا کریں گے ؟؟'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>0</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-3069779997328001780</id><published>2011-05-17T19:37:00.000+05:00</published><updated>2011-05-17T19:51:08.774+05:00</updated><title type='text'>اصل چہرہ</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr" style="text-align: left;" trbidi="on"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ہم پاکستانی عوام مزے میں ہیں۔ اُس خوش قسمت شخص کی طرح جسکے دل کی شریانیں بند ہو رہی تھیں لیکن اُسے معلوم ہی&amp;nbsp;نہ تھا۔ وہ بکرے کے مغز سے لےکر بھینس کے پائے تک اور شیرے سے لبالب بھری ہوئی جلیبی سے لےکر گھی میں تیرتے سوہن حلوے تک سب کچھ کھا رہا تھا اور ڈٹ کر کھا رہا تھا اور وہ جسے اپنے دل کی بیماری کا علم تھا وہ علاج بھی کرا رہا تھا، پرہیز بھی کر رہا تھا اور ڈر بھی رہا تھا۔اس لیے کہ&amp;nbsp;آگہی عذاب ہوتی ہےاور بے خبری میں عیش ہی عیش ہے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;ہم پاکستانی عوام کو معلوم ہی نہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ ایک تو خواندگی کا تناسب پندرہ بیس فی صد سے زیادہ نہیں اور اس پندرہ بیس فی صد میں بھی اُن لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جن کی بین الاقوامی میڈیا تک رسائی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا سے مراد&amp;nbsp; صرف وہ ذرائع نہیں جو امریکہ کے نکتہ نظر کا پرچار کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے اب اُن ذرائع ابلاغ تک بھی پہنچا جا سکتا ہے جو امریکی استعمار کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم پاکستانی عوام کو اس کا اندازہ ہی نہیں کہ دوسرے ملکوں میں بڑے سے بڑا شخص بھی جرم کر کے بچ نہیں سکتا۔ ہمارے اخبارات اُن جرائم سے بھرے ہوئے ہیں جن کا ارتکاب کرنےوالے ہمارے ملک میں مزے سے صرف رہ ہی نہیں رہے بلکہ عزت سے رہ رہے ہیں!&lt;br /&gt;&amp;nbsp;آپ یہ دیکھیے &amp;nbsp;کہ 197 ملکوں کی معیشت کو ”درست“ کرنےوالے آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ) کے سربراہ سٹراس کاہن&amp;nbsp; کو بھی ان اہل مغرب نے قانون کے حوالے کر دیا۔۔ فرانس سے تعلق رکھنے والے کاہن باسٹھ سال کے ہیں۔ دو دن پہلے وہ نیویارک سے فرانس جا رہے تھے کہ امریکی پولیس نے انہیں جہاز سے اتارا اور جیل میں ڈال دیا۔ موصوف ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ تین ہزار ڈالر یعنی پونے تین لاکھ روپے ایک دن کا کمرے کا کرایہ تھا لیکن انسانیت کا معیار ہوٹل کے معیار سے مختلف ہے۔ کاہن نے کمرے کی صفائی کرنےوالی ملازمہ پر حملہ کر دیا اور اسے گھسیٹ کر بیڈ روم میں لے جانے کی کوشش کی، ملازمہ نے مقابلہ کیا اور بھاگنے میں کامیاب ہو گئی۔ کاہن نے فوراً کمرہ چھوڑا اور جہاز میں بیٹھ کر بھاگنے ہی والے تھے کہ پولیس پہنچ گئی۔ آنےوالے انتخابات میں وہ فرانس کی صدارت کے بھی امیدوار بننے والے تھے۔ آپ پوری دنیا کی رہنمائی کرنےوالے ان حضرات کی اخلاقی حالت دیکھئے، لیکن ہمارے لئے یہاں ایک اور سبق بھی ہے۔ آئی ایم ایف کا سربراہ وہی بنتا ہے جو امریکہ کا خاص آدمی ہو، اسکے باوجود امریکی پولیس نے کاہن کا لحاظ نہیں کیا، جہاز سے اتارا اور قانون کے سپرد کر دیا!&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;ہم پاکستانی مزے میں ہیں، اس لئے کہ ہمیں پاکستان سے باہر کے حالات کا علم تو نہیں ہے، یہ بھی نہیں معلوم کہ پاکستان کے اندر کیا ہو رہا ہے، ورنہ ہمیں اُن انکشافات کا ضرور علم ہوتا جن کے بارے میں پوری دنیا جان چکی ہے۔ شکاگو ٹرائی بیون امریکہ کا صف اول کا اخبار ہے اور کِم بارکر اس سے منسلک معروف صحافی خاتون ہے۔ اخبار نے اُسے پاکستان اور افغانستان میں تعینات کیا۔ اس قیام کے دوران اُسکے ساتھ جو واقعات پیش آئے اُن پر مشتمل اس کی کتاب شائع ہو کر تلاطم پیدا کر چکی ہے لیکن ہم مزے میں ہیں کہ ہمیں اس کا پتہ ہی نہیں۔ کِم بارکر نے: &lt;br /&gt;THE TALIBAN SHUFFLE - STRANGE DAYS IN AFGHANISTAN AND PAKISTAN &lt;br /&gt;نامی کتاب میں پاکستان کے ایک چوٹی کے &amp;nbsp;سیاست دان کے بارے میں ناقابل یقین باتیں لکھی ہیں، انٹرویو کے دوران یہ سیاست دان اس صحافی خاتون کو کہتا ہے کہ اپنا ٹیپ ریکارڈر بند کر دے۔ اُسکے بعد کی گفتگو اس امریکی صحافی کے بقول کچھ اس طرح کی ہے &lt;br /&gt;”کِم! کیا تمہارا کوئی دوست ہے؟“ &lt;br /&gt;میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اُن کا کیا مطلب ہے۔ میں نے جواب دیا کہ ہاں، میرے بہت سے دوست ہیں! .... &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;”نہیں، کوئی دوست بھی ہے؟“ .&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;... تب میں سمجھی ۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;”آپکی مراد بوائے فرینڈ سے ہے؟“ ...&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;. میں نے اُنکی طرف دیکھا۔ میرے پاس دو راستے تھے، سچ کہوں یا جھوٹ بولوں۔ پھر یہ سوچ کر کہ دیکھوں تو سہی، یہ سوال کس طرف جا رہے ہیں، سچ بولنے کا فیصلہ کیا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;”ہاں میرا بوائے فرینڈ تھا لیکن حال ہی میں ہمارا تعلق ختم ہو گیا“ ۔&lt;br /&gt;”کیوں؟ کیا وہ بہت بور تھا؟ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;NOT FUN ENOUGH?“....&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;”نہیں، بس بات بنی نہیں“&lt;br /&gt;”اوہ! مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تمہارا دوست کوئی نہیں! اگر تم چاہو تو میں تمہیں تلاش کر دوں؟“ &lt;br /&gt;یہاں پہنچ کر کِم بارکر لکھتی ہے ”افغانستان کی سرحد پر عسکریت پسند زور پکڑ رہے تھے، شہروں میں حملوں کی تعداد زیادہ ہو رہی تھی، درہ خیبر سے گزرنا ہی خطرناک ہو رہا تھا، مُلک ہچکولے کھا رہا تھا، کوئی سمت ہی نہیں تھی، جیسے بغیر کٹے ہوئے سر والی مرغی ہو، ایک طرف یہ حال تھا، اور دوسری طرف یہ صاحب مجھے ”دوست“ ڈھونڈ دینے کی پیشکش کر رہے تھے۔ خدا کا شکر ہے پاکستان کے رہنمائوں کی ترجیحات ”واضح“ تھیں!“ &lt;br /&gt;اس دلچسپ گفتگو اور اپنے تبصرے کے بعد کِم بارکر بتاتی ہے کہ اسی سیاستدان نے اُسے اجمل قصاب کے بارے میں معلومات دیں جس پر بھارت ممبئی کی دہشت گردی کا الزام لگا رہا تھا۔ کِم بارکر کے الفاظ میں ”اس سیاستدان نے مجھے ”صحیح“ فرید کوٹ کے بارے میں بتایا جو ضلع اوکاڑہ میں ہے۔ اُس نے مجھے صوبائی پولیس کے سربراہ کا فون نمبر بھی دیا۔ اُس نے مجھے وہ باتیں بھی بتائیں جو بھارتی اور پاکستانی حکام نے اُسے زندہ بچ جانےوالے واحد عسکریت پسند کے بارے میں بتائی تھیں، ہمارے لئے یہ بہت بڑی خبر تھی۔ ایک سینئر پاکستانی اُس بات کی تصدیق کر رہا تھا جس کا حکومت پاکستان نے انکار کیا تھا یعنی یہ کہ حملہ آور پاکستان کے تھے!“ &lt;br /&gt;اُسکے بعد صحافی کے بقول کیا ہوا، سُنئے :&lt;br /&gt;”انٹرویو ختم ہوا تو ”انہوں“ نے میری طرف دیکھا اور کہا ”کیا تم اپنے مترجم کو باہر بھیج سکتی ہو؟ میں نے کوئی بات کرنی ہے“ مترجم نے پریشان ہو کر میری طرف دیکھا۔ میں نے اُسے کہا کہ کوئی حرج نہیں۔ وہ باہر چلا گیا۔ پھر انہوں نے ٹیپ ریکارڈر بند کروایا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;“ مجھے جانا ہے۔ مجھے اپنے اخبار کےلئے سٹوری لکھنی ہے“ میں نے کہا۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;انہوں نے میری بات کی طرف کوئی دھیان نہ دیا اور کہا ”میں نے تمہارے لئے آئی فون خریدا ہے“ ....&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;اسکے بعد صحافی لکھتی ہے : ....”آخرکار وہ مطلب کی بات پر آئے۔“ .... ”کِم! مجھے افسوس ہے کہ میں تمہارے لئے ”دوست“ نہیں ڈھونڈ سکا۔ میں نے کوشش کی لیکن ناکام رہا، وہ ”پراجیکٹ“ میں ناکامی کی وجہ سے واقعی مغموم نظر آ رہے تھے۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;“ کوئی بات نہیں“ میں نے جواب دیا۔ مجھے اس وقت فی الواقع کسی دوست کی ضرورت نہیں، میں دوست کے بغیر بالکل خوش ہوں، میں دوست کے بغیر رہنا چاہتی ہوں“ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اس کے بعد پنجاب کے شیر نے جھپٹا مارا&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;۔ ”میں تمہارا دوست بننا چاہتا ہوں“ ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;ابھی اُن کی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ میں نے کہا ”نہیں، ہرگز نہیں، یہ نہیں ہو سکتا“ ۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;انہوں نے مجھے خاموش کرنے کےلئے ہاتھ لہرایا ۔ ”میری بات سُنو ۔ مجھے معلوم ہے کہ میں اتنا لمبے قد والا نہیں جتنا تم پسند کرو، میں اتنا فِٹ بھی نہیں، میں موٹا ہوں اور بوڑھا بھی ہوں لیکن اسکے باوجود میں تمہارا دوست بننا چاہونگا“ &lt;br /&gt;”نہیں“ ۔ میں نے کہا ۔ ”ہرگز نہیں“ &lt;br /&gt;پھر انہوں نے مجھے اپنے ہسپتال میں&amp;nbsp;ملازمت کی پیشکش کی کہ کہ میں یہ ہسپتال چلائوں۔ ظاہر ہے&amp;nbsp;میں اس کام کے لیے بالکل اہل نہیں تھی۔"۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہ ہے ہمارے رہنمائوں اور لیڈروں کا اصل چہرہ&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-3069779997328001780?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/3069779997328001780/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/05/blog-post_17.html#comment-form' title='16 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/3069779997328001780'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/3069779997328001780'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/05/blog-post_17.html' title='اصل چہرہ'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><uri>http://www.blogger.com/profile/12137301450500607444</uri><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>16</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-2907142395135813983</id><published>2011-05-10T16:54:00.000+05:00</published><updated>2011-05-10T16:54:26.968+05:00</updated><title type='text'>پاکستان کی سرحدیں  مقدس ہیں</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;پو پھٹنے سے لے کر سورج نکلنے تک کا وقت عجیب و غریب ہوتا ہے۔ سکوت، سکوت میں پرندوں کی چہچہاہٹ،&amp;nbsp; دروازوں پر کرنوں کی &amp;nbsp;دستک ۔ اُس نے تلاوت ختم کی تو آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔ حج کی مٹھاس ابھی تک دل کی زبان پر تھی۔ اُس نے ایک سرد آہ کھینچی ”میرا دل کر رہا ہے کہ میں عمرہ کروں“ وہ قریب ہی بیٹھا تھا، بیوی کی سرد آہ اُس نے سُنی اور حسرت بھی۔ اُسی دن دوپہر کو وہ ٹریول ایجنٹ کے پاس پہنچ گیا۔ ”مجھے عمرہ کےلئے دو ٹکٹ چاہئیں، اپنا اور بیوی کا۔ ہم کل ہی روانہ ہونا چاہتے ہیں۔“ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;”کیا آپکے پاس عمرہ کے ویزے ہیں؟“ ٹریول ایجنٹ نے پوچھا۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;اُسے غصہ آ گیا۔ ”ہمیں کسی ویزے کی ضرورت نہیں، ہم نے اللہ کے گھر میں جانا ہے اور رسول کی چوکھٹ پر حاضری دینا ہے۔ یہ ہمارا حق ہے۔ اس میں ویزے کہاں سے آ گئے؟“ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;ٹریول ایجنٹ نے بات سُنی اور مسکرایا، اُس نے چائے منگوائی اور آرام اور پیار کے ساتھ سمجھانے لگا ”چودھری صاحب! آپکی بات بالکل صحیح ہے لیکن اس کے باوجود صحیح نہیں۔ دنیا کے سارے ملک قانون کے سہارے چل رہے ہیں، یہ درست ہے کہ آپ کو اللہ کے گھر جانے سے کوئی نہیں روک سکتا لیکن سعودی قانون کی رو سے آپ کو ویزا درکار ہو گا، اگر میں آپ کو ویزے کے بغیر ٹکٹ دے بھی دوں اور جہاز آپکو لے بھی جائے تو آپ کو جدہ ائر پورٹ سے واپس بھیج دیا جائےگا۔ ہو سکتا ہے کچھ عرصہ جیل میں بھی رکھیں، پھر ویزا لےکر بھی آپ ایک مخصوص مدت کےلئے ہی جا سکتے ہیں اور عمرہ یا حج کے ویزا پر آپ وہاں کوئی ملازمت بھی نہیں کر سکیں گے۔ صرف یہی نہیں، سعودی قانون یہ بھی ہے کہ آپ انفرادی طور پر عمرہ کےلئے نہیں جا سکتے، آپ کو گروپ کےساتھ جانا ہو گا اور وہاں گروپ کےساتھ ہی رہائش رکھنا ہو گی۔ اگر آپ وہاں الگ اپنی مرضی کی رہائش لینا چاہتے ہیں تب بھی گروپ والی رہائش کا کرایہ ادا کرنا پڑے گا اور روانہ ہونے سے پہلے یہیں ادا کرنا پڑےگا۔“ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;آپ کا کیا خیال ہے کیا مسلمانوں پر انکے مقدس ترین مقامات کی زیارت کے حوالے سے پابندیاں عائد کرنا انصاف ہے؟ شاید دنیا بھر میں کوئی ایک مسلمان بھی ایسا نہ ہو جو ان پابندیوں کو زیادتی قرار دے، اس لئے کہ ہر ملک کے اپنے قوانین ہیں، اُن قوانین کی پابندی باہر سے آنےوالوں کےلئے لازم ہے۔ بُرے سے بُرا سعودی بھی ائر پورٹ پر کسی کو ویزے اور پاسپورٹ کے بغیر اندر جانے دےگا‘ نہ ایسے شخص کو اپنے گھر پناہ دےگا! یہی حال دوسرے ملکوں کا ہے۔ متحدہ عرب امارات سے لےکر مصر تک اور ملائیشیا سے لےکر مراکش تک کوئی ایک اسلامی ملک بھی ایسا نہیں جہاں مسلمان اسلام کا نام لےکر ویزے اور پاسپورٹ کے بغیر داخل ہو جائیں اور سالہا سال تک رہیں، یہاں تک کہ وہاں جائیدادیں خرید لیں، شادیاں کر لیں اور ہر وقت مسلح رہیں۔! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;تو پھر کیا پاکستان ہی ایسا لاوارث اور گیا گزرا ملک ہے کہ یہاں لاکھوں غیر ملکی غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں! اس میں کوئی شک نہیں کہ اس صورتحال کی سب سے زیادہ ذمہ داری اُن اداروں پر ہے جو سرحدوں اور ہَوائی اڈوں پر کاغذات کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ ظلم اُن اداروں نے اس ملک پر کیا ہے جو چند سکوں کے عوض غیر پاکستانیوں کو لاکھوں کی تعداد میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کر دیتے ہیں۔&lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اخبارات نے بارہا ایسی خبریں شائع کی ہیں کہ پڑوسی ملکوں کے مسلمان، پاکستانی دستاویزات پر حج اور عمرے کرتے ہیں، حج کے موقع پر آپ کو حرمین شریفین میں اکثر و بیشتر ایسے لوگ ملتے ہیں (اور اس کالم نگار کو بھی ملے ہیں) جو پاکستانی نہیں ہوتے لیکن پاکستانی دستاویزات پر تضحیک کےساتھ پھبتیاں کس کس کر دکھاتے ہیں، خیبر پی کے میں پاکستانی بے روزگاری کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں لیکن غیر ملکی، پاکستان کے&amp;nbsp;شناختی کارڈوں کےساتھ مزے سے ملازمتیں کر رہے ہیں اور ٹھسّے سے رہ رہے ہیں! تُف ہے اُن راشی اور بدقماش پاکستانی اہلکاروں پر جو چند سکوں کے عوض اپنے وطن کے شناختی کارڈ اور یاسپورٹ بیچ رہے ہیں!&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;پاکستان کی سرحدیں مقدس ہیں! اگر امریکی ہیلی کاپٹر ہماری سرحدوں کا تقدس پامال کر کے آئے اور خیریت سے واپس چلے گئے تو یہ ہمارے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ بالکل اسی طرح کسی سعودی، کسی برطانوی، کسی مصری، کسی مراکشی، کسی چیچن اور کسی ازبک کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہماری سرحدوں کا تقدس اپنے پیروں تلے روندے، ہمارے وطن میں رہے اور وہ بھی مسلح ہو کر! اگر کسی ضیا ءالحق&amp;nbsp;نے مردِ مومن مردِ حق ہونے کے زعم میں غیر ملکی مداخلت کاروں پر اپنی سرحدیں کھولیں تو اُس نے ملک کےساتھ بے وفائی کی اور اگر کسی مشرّف&amp;nbsp;نے دونوں ہاتھوں میں دو کتے پکڑ کر.... امریکیوں کو بغیر کاغذات کے اندر آنے دیا تو اُس نے بھی ملک کےساتھ غداری کی۔ اسی طرح اگر کوئی پاکستانی، غیر قانونی طور پر آئے ہوئے امریکیوں کے ساتھ تعاون کرتا ہے تو وہ بھی پاکستان کا غدار ہے اور اگر کوئی غیر قانونی طور پر اندر گُھسے ہوئے دوسرے غیر ملکیوں کو خواہ وہ برطانوی ہیں یا عرب، ازبک ہیں یا مصری یا بھارتی.... تحفظ فراہم کرتا ہے تو وہ بھی مادرِ وطن کی بے حرمتی کا ارتکاب کر رہا ہے۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;آج&amp;nbsp; قاضی حسین احمد&amp;nbsp; فخر کے ساتھ یہ تو کہہ رہے ہیں کہ&amp;nbsp; ""عرب ممالک نے پاکستان کی حکومت کو &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;CONDUIT&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;(پائپ) بنا کر افغان مجاہدین کی مدد شروع کی تھی اور یہ کہ اس دوران بڑی تعداد میں عرب مجاہدین اور عرب شیوخ مذہبی لباس میں اور مخیر تاجروں کے لباس میں پاکستان آئے تھے۔&amp;nbsp;""&amp;nbsp; لیکن&amp;nbsp;قاضی حسین احمد اور ان جیسے""محبّان&amp;nbsp;وطن""&amp;nbsp;یہ نہیں سوچتے کہ یہ لوگ یہاں سے واپس نہیں گئے۔ فارن باڈی &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;(FOREIGN BODY)&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;انسانی جسم برداشت کر سکتا ہے نہ انسانی آبادیاں.... ہاں اگر کوئی غیر ملکی، صحیح دستاویزات کے ساتھ، ہمارے قوانین کا احترام کرتے ہوئے یہاں رہتا ہے تو سر آنکھوں پر۔ وہ ہمارا مہمان ہے اور اُس کا احترام ہمارا اخلاقی اثاثہ ہے۔&lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;لیکن اگر کوئی غیر قانونی طور پر ہماری سرحدی علاقوں میں مشکوک انداز سے رہتا ہے، مسلح ہے، ہماری حکومت اور ہمارے شہریوں کےلئے تکلیف کا سبب بنتا ہے اور ریاست کے اندر ریاست بنانے کا خواب دیکھتا ہے تو وہ امریکی ہے یا عرب، ہمارے لئے قابل برداشت نہیں ہونا چاہیے! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;یہ وہ دور ہے جو پاکستانی عوام کےلئے ان کی تاریخ کا بدترین حصہ ہے۔ گرانی آسمان تک جا پہنچی ہے۔ دیانت دار پاکستانی دو وقت کی روٹی کےلئے ہاتھ پاوں مار رہے ہیں۔ زرعی ڈھانچہ فرسودہ ہے، صدیوں پرانا جاگیر دارانہ نظام جاتا نظر نہیں آ رہا، سرداروں نے ملک کے ایک بڑے صوبے پر قبضہ کیا ہوا ہے اور عام آدمی کو غلام بنایا ہوا ہے۔ اسلام آباد میں اقتدار کی بندر بانٹ ہو رہی ہے، امریکی ہر طرف دندنا رہے ہیں، دہشت گردوں کے سرغنے کبھی ایک شہر سے پکڑے جاتے ہیں کبھی دوسرے سے، دھماکوں سے پاکستانی گاجر مولی کی طرح کٹ رہے ہیں اور دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنےوالے علانیہ نقل و حرکت کرتے پھرتے ہیں۔&lt;/span&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;مولانا حسن جان، مولانا نعیمی، ڈاکٹر فاروق احمد اور کئی دوسرے عالم اور دانشور شہید کئے جا چکے ہیں۔ دُکھ کی بات یہ ہے کہ ان حالات میں بھی ہمارے کچھ&amp;nbsp; کوتاہ اندیش رہنما پاکستان کے عوام سے زیادہ ارد گرد کے ملکوں میں دلچسپی لیتے ہیں اور یہی ان کی سوچوں کا محور ہے۔ آج کے مجبور، مقہور اور مظلوم پاکستانیوں ہی کےلئے تو غنی کاشمیری نے کہا تھا &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;غنی روزِ سیاہِ پیرِ کنعاں را تماشہ کُن &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;کہ نورِ دیدہ اش روشن کند چشمِ زلیخا را &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;کنعان کے بوڑھے کی حالتِ زار دیکھو، اُسکی آنکھوں کا نور، زلیخا کی آنکھوں کو روشن کرتا پھر رہا ہے! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-2907142395135813983?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/2907142395135813983/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/05/blog-post_10.html#comment-form' title='7 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2907142395135813983'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/2907142395135813983'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/05/blog-post_10.html' title='پاکستان کی سرحدیں  مقدس ہیں'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>7</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-4735893811570625825</id><published>2011-05-03T14:44:00.000+05:00</published><updated>2011-05-03T14:44:11.835+05:00</updated><title type='text'>خضاب ،    پلاسٹک سرجری  اور  فائبر گلاس  کی  ٹانگیں.</title><content type='html'>&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;وہ دیکھتی تھی اور خون کے آنسو روتی تھی۔&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;اُسے ہر طرف اندھیرا&amp;nbsp;&amp;nbsp;&amp;nbsp; &amp;nbsp;نظر آرہا تھا۔یوں لگتا تھا اُس کی آنکھیں رو رو کر بینائی کھو دیں گی۔اس کا جُھریوں سے اٹا چہرہ آنکھوں سے بہتے پانی کی گذر گاہ بن کر رہ گیا تھا۔ہاتھ مُڑ گئے تھے۔بال جو کسی زمانے میں ریشم کے لچھے تھے۔اب اس طرح ہوگئے تھے جیسے شاعر نے انہی کے بارے میں کہا تھا....&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;برگد کی جٹائیں بال اس کے&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;زنبورِ سیاہ خال اس کے &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;وہ دیکھتی تھی اور روتی تھی۔ حالات دگرگوں تھے۔ہر آنے والا دن، گذرے ہوئے دن سے بدتر تھا۔ ملک تھا یا غارت گردی کا عشرت کدہ تھا۔کبھی خبر آتی تھی کہ حکومت نے حاجیوں کی رقم سے سینکڑوں معززین کو حج کرایا ہے۔کبھی خبر آتی تھی کہ ڈاکوﺅں نے ناکہ لگا کر درجنوں شہریوں کو لوٹ لیا۔کسی کے گھر سے سولہ لاکھ، کہیں سے ستر لاکھ اور کسی فیکٹری سے کروڑوں روپے کا سامان&amp;nbsp;، کبھی بیس گاڑیوں اور دس موٹر سائیکلوں کی چوری کی خبر آتی اور کبھی دن دیہاڑے بسوں کو لوٹ کر مسافروں کو نذرِ آتش کردینے کے واقعات رپورٹ ہوتے۔چالیس ارب روپے کی سرکاری املاک چند کروڑ میں فروخت کی جارہی تھیں۔مہنگائی کا یہ عالم تھا کہ کرائے ہفتہ وار بڑھ رہے تھے۔پٹرول سو روپے فی لٹر تک پہنچنے کے قریب تھا۔عوام کی اکثریت دو یا تین کلو سے زیادہ آٹا ایک وقت میں خرید ہی نہیں سکتی تھی۔ نوجوان ڈاکٹروں کی ہڑتال سے الگ افراتفری مچی ہوئی تھی اور مریض چوہے بلیوں کی طرح مر رہے تھے، امن و امان کی حالت جنگل سے بدتر تھی۔بسوں سے مسافروں کو اتارا جاتا شناختی کارڈ دیکھے جاتے اور گولی ماردی جاتی۔بلوچستان میں غیر مقامی افراد کوچُن چُن کر مارا جارہا تھا کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ دھماکے روزمرہ کا معمول تھے، کبھی مسجدوں میں، کبھی مزاروں پر، کبھی درس گاہوں میں اور کبھی لوگوں سے چھلکتے ہوئے بازاروں اور چوراہوں میںدھماکے ہوتے، بم چلتے، لاشیں گرتیں، جنازے اٹھتے، کہرام مچتے اور سرکاری بیان ہر موقع پر دہشت گردی کو ختم کرنے کے عزم پر مشتمل ہوتا!&amp;nbsp;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;وہ یہ سب کچھ دیکھتی تھی اور خون کے آنسو روتی تھی۔ لیکن کب تک! آخر اُس نے ملک کی تقدیر بدلنے کا فیصلہ کیا۔اُس نے نے انگڑائی لی، اُٹھی، بالوں کو خضاب لگایا، انہیں شیمپو سے دھویا، کنگھی کی، خوشبو لگائی، گلے کے لٹکے ہوئے گوشت اور اندر دھنسے ہوئے رخساروں کو پلاسٹک سرجن کی مہارت سے تازہ اور سڈول بنوایا۔ پلاسٹک کے خوبصورت ہاتھ اور فائبر گلاس سے بنی ہوئی طاقت ور ٹانگیں لگوائیں، اصلی ڈائمنڈ سے چمکتے ہوئے زیورات پہنے، بنارسی ساڑھی باندھی، اٹلی سے درآمد کیے ہوئے خالص چمڑے کے ہائی ہیل جوتے پاﺅں میں ڈالے اور یوں بن ٹھن کر۔ جوان ہوکر۔ حُسن کو چار چاند لگا کر۔ قاف لیگ نے پیپلز پارٹی کے شانہ بشانہ اقتدار میں شرکت کی! اس لیے کہ ملک کو تباہی کے کنارے سے واپس موڑنے کی اور کوئی صورت ہی نہیں تھی۔ اگر قاف لیگ اسی طرح بیٹھی رہتی تو ملک کا کیا بنتا؟ خدانخواستہ، میرے منہ میں خاک، کچھ ہوجاتا تو قاف لیگ خود اپنے آپ کو معاف کرتی نہ عوام اسے بخشتے!&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/div&gt;&lt;/span&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;سو، اے بھوکے ننگے عوام! شکر کا سجدہ ادا کرو، جشن مناﺅ، مٹھائیاں بانٹو! پھول بکھیرو، بھنگڑے ڈالو، رقص کرتے کرتے بے حال ہوجاﺅ، آسمانوں سے تمہاری دعاﺅں کا جواب آگیا ہے۔اندھیرے کا پردہ چاک ہوا ہے،سورج کی کرنیں زمین کا رُخ کر رہی ہیں،قاف لیگ نے اقتدار میں شرکت کرلی ہے،تمہارے دن بدلنے کو ہیں،مقدر جاگ اٹھا ہے۔ حاسد لاکھ کہیں کہ قاف لیگ نے یہ انقلابی قدم دراصل اپنے پیاروں کو جیل سے نکلوانے کیلئے اٹھایا ہے لیکن ایسانہیں ہے۔قاف لیگ تو دانشوروں اور دردمندوں پر مشتمل ایک مخلص گروہ ہے۔اس میں ایسے ایسے عظیم دماغ ہیں جنہوں نے ” لُٹو&amp;nbsp; تے پُھٹو“ (لوٹو اور بھاگو) جیسی طبع زاد پھبتیاں ایجاد کی تھیں۔ قاف لیگ میں کوئی ایک سیاست دان بھی ایسا نہیں جس نے اپنی زندگی میں کسی پارٹی سے بے وفائی کی ہو اور ایک پارٹی کو خیر باد کہہ کر دوسری پارٹی میں شرکت اختیار کرلی ہو۔ سب سے بڑا مژدہ اہلِ وطن کو یہ ہے کہ قاف لیگ ساری کی ساری مڈل کلاس پر مشتمل ہے،یہ لوگ عام محلوں میں چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں۔انکم ٹیکس پورا دیتے ہیں۔ اکثریت مزدوروں پر مشتمل ہے۔اس میں لوٹے ہیں نہ لُوٹنے والے ہیں۔نیکو کاروں اور مخلصین کا ایک صاف شفاف گروہ ہے جو صرف اور صرف عوام کے مفاد میں شریکِ اقتدار ہوا ہے۔ ان کے ایجنڈے پر ایک اور صرف ایک پوائنٹ ہے۔ عوام کی حالت میں تبدیلی! چنانچہ اے اہلِ وطن! مبارک ہو، اب یہ کوئی دن کی بات ہے کہ تبدیلی صاف نظر آنے لگے گی۔ ڈرون حملے رکنے کو ہیں۔ بم دھماکے ماضی کا قصہ سمجھو، پٹرول پچاس روپے فی لٹر اور سی این جی بیس روپے ہونے کو ہے، امن و امان کی حالت یہ ہوگی کہ ایک عورت زیورات سے لدی پھندی، دونوں ہاتھوں میں کرنسی سے بھرے ہوئے بریف کیس اٹھائے، تن تنہا، رات کو گجرات سے روانہ ہوگی اور جھنگ سے ہوتی ہوئی کراچی پہنچ جائے گی لیکن اُس کی طرف کوئی ٹیڑھی آنکھ سے نہیں دیکھے گا۔ لوڈشیڈنگ اس طرح ختم ہوگی کہ یُو پی ایس کا کاروبار کرنے والے خودکشیاں کر رہے ہوں گے۔ انکم ٹیکس نہ دینے والوں کو قاف لیگ شاہراہوں کے کنارے جلتے ہوئے تنوروں میں زندہ بھسم کرڈالے گی۔&lt;/span&gt; &lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;&amp;nbsp;رہے بین الاقوامی معاملات تو قاف لیگ نے اس پہلو سے بھی پورا پورا انتظام کیا ہوا ہے۔یہ معجزہ بھی دنیا دیکھے گی کہ صدر اوباما حکومت پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری سے بات کر رہے ہونگے ۔من موہن سنگھ دہلی میں متعین ہمارے سفیر سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کرینگے ۔ مشرقِ وسطی کے امیر ممالک ہمارے معاملات میں آئے دن خل اندازی کا سوچ بھی نہیں سکیں گے۔افغانستان سے بھارت یوں بھاگے گا جیسے گیدڑ شہر سے بھاگتا ہے۔ بلوچستان میں ہر قریہ خوشحالی کا ہنستا بستا باغ بن جائے گا۔ سرکاری ملازم کوئٹہ میں تعینات ہونے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے اور صنعت کار پورے ملک سے بلوچستان کا رُخ کر رہے ہونگے! &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: right;"&gt;&lt;span style="font-size: x-large;"&gt;قاف لیگ نے عزم کررکھا ہے کہ دو ماہ کے اندر اندر زرعی اصلاحات نافذ کرکے جاگیرداری کا خاتمہ کردےگی، تعلیمی اصلاحات سے مدرسہ اور کالج کا درمیانی فاصلہ پاٹ دےگی۔ مسجدیں اور امام بارگاہیں محبت اور اخوت کے مراکز میں بدل جائیں گی۔غرض کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں جس سے قاف لیگ غافل ہو۔ اے اہلِ وطن! مژدہ ہوکہ قاف لیگ نے صرف اور صرف تمہارے لئے، تم بدبخت عوام کیلئے،اس عمر میں خضاب لگایا ہے، پلاسٹک سرجری کرائی ہے، فائبر گلاس کی ٹانگیں لگوائی ہیں۔ صرف اور صرف تمہارے لئے، بدبختو! اس کا شکریہ ادا کرو۔ &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div class="blogger-post-footer"&gt;&lt;img width='1' height='1' src='https://blogger.googleusercontent.com/tracker/6273083051636343939-4735893811570625825?l=columns.izharulhaq.net' alt='' /&gt;&lt;/div&gt;</content><link rel='replies' type='application/atom+xml' href='http://columns.izharulhaq.net/feeds/4735893811570625825/comments/default' title='Post Comments'/><link rel='replies' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/05/blog-post.html#comment-form' title='3 Comments'/><link rel='edit' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/4735893811570625825'/><link rel='self' type='application/atom+xml' href='http://www.blogger.com/feeds/6273083051636343939/posts/default/4735893811570625825'/><link rel='alternate' type='text/html' href='http://columns.izharulhaq.net/2011/05/blog-post.html' title='خضاب ،    پلاسٹک سرجری  اور  فائبر گلاس  کی  ٹانگیں.'/><author><name>Muhammad Izhar ul Haq</name><email>noreply@blogger.com</email><gd:image rel='http://schemas.google.com/g/2005#thumbnail' width='16' height='16' src='http://img2.blogblog.com/img/b16-rounded.gif'/></author><thr:total>3</thr:total></entry><entry><id>tag:blogger.com,1999:blog-6273083051636343939.post-2411897364061525800</id><published>2011-04-27T17:06:00.011+05:00</published><updated>2011-05-19T18:05:40.841+05:00</updated><title type='text'>Muddling the Issues</title><content type='html'>&lt;div dir="ltr"&gt;&lt;a href="http://pakbanker.newspaperdirect.com/epaper/showarticle.aspx?article=a89514b6-ec88-4ec2-8ec4-b1dd33d89e70&amp;amp;key=5TacY22eL1PrQrn%2folmCQQ%3d%3d&amp;amp;issue=71672011042700000000001001" style="background-color: #e5e5e5; color: #003399; display: block; float: left; font-family: Verdana, Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: 12px; line-height: 19px; margin: 0px 10px 10px 0px; padding-bottom: 4px; padding-left: 4px; padding-right: 4px; padding-top: 4px; text-decoration: none;"&gt;&lt;img src="http://thumbnails1.pressdisplay.com/pressdisplay/docserver/getimage.aspx?regionguid=46b6ec56-0621-47b9-a251-d8bfc4db2cb1&amp;amp;scale=400&amp;amp;file=71672011042700000000001001&amp;amp;regionKey=qMMZaSUf2LxOrq8OD6L3ig%3d%3d" style="border-bottom-width: 0px; border-left-width: 0px; border-right-width: 0px; border-top-width: 0px; height: 96px;" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;a href="http://pakbanker.newspaperdirect.com/epaper/showarticle.aspx?article=a89514b6-ec88-4ec2-8ec4-b1dd33d89e70&amp;amp;key=5TacY22eL1PrQrn%2folmCQQ%3d%3d&amp;amp;issue=71672011042700000000001001" style="background-color: #e5e5e5; color: #003399; display: block; float: left; font-family: Verdana, Arial, Helvetica, sans-serif; font-size: 12px; line-height: 19px; margin: 0px 10px 10px 0px; padding-bottom: 4px; padding-left: 4px; padding-right: 4px; padding-top: 4px; text-decoration: none;"&gt;&lt;img src="http://thumbnails1.pressdisplay.com/pressdisplay/docserver/getimage.aspx?regionguid=81e83720-1f2a-4e0e-9b71-991717f645bb&amp;amp;scale=181&amp;amp;file=71672011042700000000001001&amp;amp;regionKey=c8T69RQ0SYO%2bAdsSxxxtHQ%3d%3d" style="border-bottom-width: 0px; border-left-width: 0px; border-right-width: 0px; border-top-width: 0px; height: 96px;" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;h1 style="font: 3.4em/1.1em Georgia, &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;, Times, serif; letter-spacing: -1px; margin: 0px 0px 0.3em; padding-bottom: 0px; padding-left: 0px; padding-right: 0px; padding-top: 0px;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #333333; font-family: Georgia, &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;, Times, serif; font-size: small;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: 12px; line-height: 19px;"&gt;&lt;i&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Verdana, Arial, Helvetica, sans-serif; font-style: normal;"&gt;&lt;ul class="art-meta" style="color: #333333; font-family: Georgia, &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;, Times, serif; font-size: 12px; font-style: italic; letter-spacing: normal; line-height: 19px; list-style-type: none; margin: 0px 0px 0.4em; overflow-x: hidden; overflow-y: hidden; padding-left: 0px; zoom: 1;"&gt;&lt;li style="border-left: rgb(204,204,204) 1px solid; float: left; left: -6px; margin: 0px 5px 0px 0px; padding-bottom: 0px; padding-left: 6px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; position: relative;"&gt;Article rank&amp;nbsp;&lt;span class="art-rank-0" style="background-clip: initial; background-image: url(http://pakbanker.newspaperdirect.com/res/v577/images/pd-theme.png); background-origin: initial; background-position: -279px -1090px; display: inline-block; font-size: 0px; height: 7px; line-height: 0; overflow-x: hidden; overflow-y: hidden; position: relative; vertical-align: middle; visibility: visible; width: 21px;" title="Still gathering data" tooltipid="common.art_rank_0"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/li&gt;&lt;li style="border-left: rgb(204,204,204) 1px solid; float: left; left: -6px; margin: 0px 5px 0px 0px; padding-bottom: 0px; padding-left: 6px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; position: relative;"&gt;27 Apr 2011&lt;/li&gt;&lt;li style="border-left: rgb(204,204,204) 1px solid; float: left; left: -6px; margin: 0px 5px 0px 0px; padding-bottom: 0px; padding-left: 6px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; position: relative;"&gt;The Pak Banker&lt;/li&gt;&lt;li style="border-left: rgb(204,204,204) 1px solid; float: left; left: -6px; margin: 0px 5px 0px 0px; padding-bottom: 0px; padding-left: 6px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; position: relative;"&gt;Muhammad Izhar ul Haq&lt;/li&gt;&lt;li style="border-left: rgb(204,204,204) 1px solid; float: left; left: -6px; margin: 0px 5px 0px 0px; padding-bottom: 0px; padding-left: 6px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; position: relative;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/li&gt;&lt;li style="border-left: rgb(204,204,204) 1px solid; float: left; left: -6px; margin: 0px 5px 0px 0px; padding-bottom: 0px; padding-left: 6px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; position: relative;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/li&gt;&lt;li style="border-left: rgb(204,204,204) 1px solid; float: left; left: -6px; margin: 0px 5px 0px 0px; padding-bottom: 0px; padding-left: 6px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; position: relative;"&gt;Muhammad Izhar ul Haq is a free lance writer. www.izharulhaq.net&lt;/li&gt;&lt;li style="border-left: rgb(204,204,204) 1px solid; float: left; left: -6px; margin: 0px 5px 0px 0px; padding-bottom: 0px; padding-left: 6px; padding-right: 0px; padding-top: 0px; position: relative;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-style: normal;"&gt;&lt;i&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Verdana, Arial, Helvetica, sans-serif; font-style: normal;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #6aa84f;"&gt;________________________________________________________________________&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/i&gt;&lt;/span&gt;&lt;/li&gt;&lt;/ul&gt;&lt;/span&gt;&lt;/i&gt;&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;/h1&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="color: #333333; font-family: Georgia, &amp;quot;Times New Roman&amp;quot;, Times, serif; font-size: small;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-size: 12px; line-height: 19px;"&gt;&lt;i&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Verdana, Arial, Helvetica, sans-serif; font-style: normal;"&gt;&lt;/span&gt;&lt;/i&gt;&lt;/span&gt;&lt;/span&gt;&lt;br /&gt;&lt;div&gt;&lt;div style="text-align: justify;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Verdana, sans-serif;"&gt;The recent ban on the niqab (full face veil) in France has created a furor in almost entire Muslim world. Most of the reaction that has appeared in Print as well as electronic media has condemned the French enactment. It is unfortunate that the Muslim world, more or less, has lost the propensity to analyse issues in their true perspective. Reaction on ban on niqab is a typical example. France has, in fact, has banned niqab and not hijab (covering head with scarf). Full face veil has never been an uncontroversial issue among Muslims. Interestingly, during Haj and Umra (pilgrimage to Mecca) no Muslim woman is supposed to veil her. The ban on niqab should have provided food for thought to Muslims.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: justify;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Verdana, sans-serif;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: justify;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Verdana, sans-serif;"&gt;They should have analysed the reasons of their massive immigration to non-Muslim countries. I remember last year, Arab women organised a rally in Sydney. The speakers attacked on "flawed western secular values" and termed Australia too decadent for Muslims. The pitiable paradox is that not a single Muslim country, out of fifty-four, offers what the countries with "flawed secular values" provide to Muslim immigrants. The figures are eye opening: There are 36,500 Muslim immigrants in Australia, 28,000 in Belgium, 65,700 in Canada, 3,554,000 in France, 4,026,000 in Germany, 946,000 in Netherlands, 650,000 in Spain, 1,647,000 in the UK and 2,454,000 in USA. Millions are living in Italy, Greece, Scandinavia, Switzerland, Austria, Japan and New Zealand. Millions more are struggling to follow. There is hardly any Muslim country which is not witnessing long queues in front of embassies of western countries. The irony is that economic forces are not the only factor behind this great wave of transfer of population. Many have left their birthplaces in search of personal and intellectual freedom, democratic rule, law abiding society and better educational prospects for their next generations.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: justify;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Verdana, sans-serif;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: justify;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Verdana, sans-serif;"&gt;It is pathetic that there is lot of hue and cry against ban on niqab but there is no soul searching as to why Muslims are constrained to Blasphemy law, currently a major controversy in Pakistan, is yet another example of muddling the matters and obscuring the truth by confusing the issues. This law, introduced in Zia regime, requires no evidence if a person is accused of blasphemy. Scores of personal enmities are settled with this law. A medical practitioner declined to meet a representative of a pharmaceutical company. The agent barged in and thrust his visiting card. The doctor, obviously annoyed, threw the card away. He is now in jail because the card contained a sacred name. There are numerous examples of such high handedness. Many are rotting in jails without committing any blasphemy. Those who demand amendment in this law maintain that those who accuse falsely should also be punished. Unfortunately the man made law is defended by the bigots as if it is part of a divine revelation. It may not be out of place to emphasize that no Pakistani in general and no Muslim in particular can even think of disrespecting the sacred personalities of any religion.&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: justify;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Verdana, sans-serif;"&gt;&lt;br /&gt;&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="text-align: justify;"&gt;&lt;span class="Apple-style-span" style="font-family: Verdana, sans-serif;"&gt;Will Muslims ever analyse the factors behind th
